Baaghi TV

Tag: YouTube

  • شاہ رخ خان کی 4 سال سے  فلم ریلیز نہیں ہوئی پھر بھی دنیا کے امیر ترین اداکار

    شاہ رخ خان کی 4 سال سے فلم ریلیز نہیں ہوئی پھر بھی دنیا کے امیر ترین اداکار

    بالی وڈ کے کنگ شاہ رخ خان گزشتہ تیس برسوں شائقین کے دلوں پر راج کررہے ہیں‌. وہ کمرشل ، ماڈلنگ یا ایکٹنگ کا اچھا خاصا چارج کرتے ہیں. شاہ رخ خان نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں اب فلموں کا کم چارج کرتا لیکن باقی چیزیں کرنے کے اچھے خاصے پیسے لیتا ہوں . چاہے وہ ایوارڈ فنکشن میں ڈانس کرنا ہو ، ہوسٹنگ ہو یا کمرشل ہو. حال ہی میں ورلڈ آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک فہرست جاری کی گئی ہے اس فہرست میں‌بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کون سے آرٹسٹ امیر ترین ہیں اس فہرست کے مطابق شاہ رخ خان 770 ملین ڈالرز یعنی 6,306 کروڑ بھارتی روپے کی مجموعی مالیت کے ساتھ فہرست میں شامل واحد بھارتی اداکار ہیں۔اس فہرست میں پہلے نمبر

    پر امریکی کامیڈین اور اداکار جیری سین فیلڈ موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 1 بلین ڈالرز ہے۔یاد رہے کہ شاہ رخ خان کی فلم پٹھان اسی ماہ 25 جنوری کو ریلیز ہونے جا رہی ہے یہ فلم مسلسل تنازعات کا شکار ہے. فلم کا ٹریلر جہاں بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے وہیں اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہ رخ خان کی فلم کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں .

  • عثمان مختار کی اہلیہ سکرپٹ رائٹر بنیں گی؟‌

    عثمان مختار کی اہلیہ سکرپٹ رائٹر بنیں گی؟‌

    آج کل اداکار ہوں‌ یا ان کے فیملی ممبرز وہ لوگوں میں کافی مقبول ہیں‌، عثمان مختار اور ان کی اہلیہ بھی خاصے مقبول ہیں ، اداکار کی اہلیہ شوبز انڈسٹری سے نہیں‌ لیکن عثمان مختار کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے معروف ہیں . ان سے سوشل میڈیا پر حال ہی میں‌کسی صارف نے پوچھا کہ کیا آپ ایکٹنگ کی دنیا میں‌قدم رکھ رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں‌مجھے اداکارہ بننے میں دلچپسی نہیں ہے شاید میں‌سکرپٹ رائٹنگ میں اپنی قسمت آزمائوں‌، عثمان مختار کی اہلیہ زنیرہ انعام خان کو صارفین نے اداکاری میں‌قسمت آزمانے کے مشورے دئیے. لیکن زنیرہ اکرم خان نے صاف منع کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اداکاری کرنے کا شوق ہی نہیں‌ہے اور جس چیز کا شوق نہ ہو وہ نہیں‌کرنا چاہیے. مجھے لکھنے کا شوق ہے میں‌ اسی

    میں‌قسمت آزمائوں گی . یاد رہے کہ اداکار عثمان مختار زیادہ تر سنجیدہ کردار ہی کرتے ہیں اگر ان کی اہلیہ لکھنا شروع کرتی ہیں تو کیا وہ اپنے شوہر کے لئے کوئی کامیڈی کردار لکھنا چاہیں گی یا وہ بھی ان کے لئے سنجیدہ کردار ہی لکھنا چاہیں گی ، یہ تو وقت ہی بتائے گا. عثمان مختار آخری بار ڈرامہ سیریل ہم کہاں‌کے سچے تھے میں ماہرہ خان کے مقابلے میں‌نظر آئے تھے.

  • علی سیٹھی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا

    علی سیٹھی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا

    علی سیٹھی کا گیت پسوڑی نے کامیابی کے وہ ریکارڈز قائم کر لیے ہیں‌جو کہ آج تک کوک سٹوڈیو کا کوئی دوسرا گیت اپنے نام نہیں‌ کرسکا. پسوڑی گانا کی مقبولیت میں‌کمی آنے کا نام ہی نہیں‌لے رہی . پسوڑی گیت پر تو بالی وڈ کی معروف شخصیات بھی تھرک اٹھی تھیں. پسوڑی گیت کے گائیک علی سیٹھی آج کل شہرت کی بلندیوں پر ہیں. وہ اب امریکی میوزک فیسیٹول کوچیلا میں‌پرفارم کرنے جا رہے ہیں . یہ ایک بڑا میوزک فیسٹیول ہے جس میں پرفارم کرنا ہر کسی کے حصے میں‌نہیں آتا. لیکن علی سیٹھی پاکستان کے وہ گلوکار بن گئے ہیں جو کوچیلا فلم فیسیٹیول میں پرفارم کرنے جا رہے ہیں انہوں نے اس فیسیٹول میں شرکت کے لئے اپنے مداحوں کو اپیل کی انہوں نے لکھا کہ 13 جنوری سے ٹکٹوں‌ پر سیل لگ

    رہی ہے سب فائدہ اٹھائیں . واضح رہے کہ کوچیلا امریکی میوزک فیسٹیول ہے جو کہ کیلیفورنیا کے صحرا کولوراڈو میں سالانہ بنیاد پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میوزک فیسٹیول میں دنیا بھر سے بڑے اور نامور گلوکاروں اس فیسٹیول میں پرفارم کرتے ہیں۔ یوں علی سیٹھی کے امریکہ مداحوں کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو اپنے پسندیدہ گلوکار کو لایو دیکھنے کا موقع میسر آئیگا.

  • کنزا ہاشمی اور زاہد احمد کا مشورہ

    کنزا ہاشمی اور زاہد احمد کا مشورہ

    آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے پتہ ہی نہیں‌چلتا کہ کونسی وڈیو اور تصویر کب کس رنگ سے وائرل ہو جائے اگر تو مثبت انداز میں‌کسی کی وڈیو وائرل ہو گئی ہے تو اچھی بات ہے اور اسکی زندگی بن جاتی ہے لیکن اگر کسی کی کوئی وڈیو اورتصویر غلط انداز میں‌وائرل ہو گئی ہے تو اگلے کی زندگی بھی تباہ ہوجاتی ہے. اسی چیز پرروشنی ڈالنے کےلئے اداکار زاہد احمد اور کنرہ ہاشمی نےایک وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی اور اس میں اپنےمداحوں کو خبردار کیا. زاہد احمد اور کنرا دونوں نے کہا کہ کبھی بھی اپنی تصاویر اور وڈیوز اپنے دوستوں کے ساتھ یا سوشل میڈیا پر شئیر نہ کریں‌کوئی پتہ نہیں‌کب کیا ہو جائے اور آپ کی زندگی تباہ ہوجائے. انہوں نے کہا کہ جتنا مرضی کوئی آپکا دوست ہو اور قریبی ہو کبھی اس

    کے ساتھ کوئی پرسنل بات شئیر نہ کریں کیا پتہ کوئی دوسرا کیمرہ ریکارڈنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہو اور کل کو آپ کا یہی اپنا اجنبی بنا جائے اور آپ کی شخصیت ، کردار ، کیرئیر سب دائو پر لگ جائے. یوں ان دونوں نے اہنے مداحوں کو خبردار کیا کہ کسی کو اپنا مت سمجھیں کچھ پتہ نہیں‌ہوتا کس سے کب تعلق ختم ہوجائے اور وہ آپ کے ساتھ اپنی دشمنی نکالے.

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔