Baaghi TV

Author: عفیفہ راؤ

  • سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    عربی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ہمسایہ کیسا ہوگا کیونکہ ایک اچھا ہمسایہ آپ کے لئے رحمت اور ایک برا ہمسایہ آپ کے لئے بہت بڑی زحمت بن سکتا ہے۔لیکن جب ہم Globally
    دیکھتے ہیں تو ممالک کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا انتخاب کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ایسے تنازعے ہیں جو کہ مختلف ہمسایوں کے درمیان ہیں جس میں ایک مثال پاکستان اور انڈیا کی ہے اس کے علاوہ فلسطین اور اسرائیل ہیں ساوتھ کوریا اور نارتھ کوریا ہیں۔ ایسے میں صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر حال میں ان کے ساتھ رہنا ہے جس کی وجہ سے کبھی ان ہمسایوں کے درمیان شدید لڑائی کا ماحول ہوتا ہے تو کبھی یہ اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے رہیں۔
    اور ایسا ہی کچھ معاملہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ دونوں ممالک آپس میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یہ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں سفارتی سطح پر کئی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ہیں جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چند ماہ پہلے تین ایرانی سفارت کار اسلامی تعاون تنظیم میں ذمہ داری سنبھالنے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

    تہران وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
    اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک یعنی سعودی عرب صدر ریئسی کی انتظامیہ کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟
    اب ان دونوں ممالک کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ تعلقات کو بہتر کیا جائے؟؟ماضی میں یہ کیوں آپس میں لڑتے رہے ہیں؟؟کیا ان کی لڑائی مذہبی تھی سیاسی تھی یا دونوں فیکٹر تھے؟؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ظاہری اختلاف تو ان کے فرقوں کی وجہ سے ہے سعودی عرب کا تعلق سنی فرقے سے ہے جبکہ ایران کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ ممالک اپنے تعلقات صرف فرقوں کی بنیاد پر نہیں بناتے اور نہ ہی فرقوں کی وجہ سے تعلقات خراب کرتے ہیں۔عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سعودی عرب جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کیا کرتا تھا اس کے سنی ممالک سے بھی شدید گہرے اختلافات ہیں۔ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات رہے ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں کو ایران کی مکمل مدد حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں ہمیشہ ہی یا ہر ایک بات پر ہی اختلافات نہیں رہے ہیں بلکہ کئی موڑ ایسے بھی آئے ہیں جب دونوں مل کر چلتے رہے ہیں۔جس کی ایک مثال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی جنگ کی ہے جس میں سعودی عرب اور ایران دونوں نے امریکہ کی مدد کی تھی تاکہ روس کو خلیجی ممالک تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    اس کے بعد 1960میں جب مصر نے یمن میں چھیڑ چھاڑ شروع کی اس وقت بھی ریاض اور تہران نے مل کر یمن میں شیعہ فرقے کے لوگوں کی مدد کی تھی۔اس وقت تک یہ دونوں ممالک Regional security کے لئے امریکہ کے Twin pilars
    کہلائے جاتے تھے۔ اور ان کے آپس میں بہت گہرے سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔1978تک جب ایران میں رضا پہلووی کی حکومت تھی اور سعودی عرب میں King khalidکی حکومت تھی دونوں ممالک کے بہترین تعلقات تھے ان کے درمیان مختلف موقعوں پر ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان دونون نے اپنے اپنے ممالک کو Modrenizeکرنے کے لئے آپس میں مل کر کئی پروگرام بھی شروع کر رکھے تھے۔لیکن صرف ایک سال بعد ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1979میں جب ایران میں انقلاب نے سر اٹھایا اور اہل تشیعہ لوگ جو کہ اکثریت میں تھے انھوں نے آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں رضا پہلوون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ایران جو کہ ایک سیکولر اور ماڈرن ملک تھا اس کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور اسی سال
    1979میں ہی سعودی عرب مین بھی تبدیلی آئی جب مکہ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور سعودی عرب بھی ماڈرن ازم سے واپس اپنے Tribal systemاور بنیاد پرستی کی طرف مڑ گیا۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رکی بلکہ ایران نے اپنے فرقے کے نظریات اور سعودی عرب نے اپنے نظریات کو اپنے بارڈر سے باہر دوسرے ممالک تک پھیلانا اور ان پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا۔

    اور یہ ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے وافر وسائل بھی موجود تھے۔لیکن ان کی ایک مزوری بھی تھی جو کہ بعد میں تمام خرابی کی جڑ بنی۔اور وہ کمزوری ان کی مذہبی اور Ethnic minorities
    تھیں اور مشکل یہ تھی کہ یہ اقلیتیں ان ممالک کے ان صوبوں میں آباد تھیں جو کہ تیل کے وسائل سے مالا مال تھے۔
    سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اسی طرح ایران کے صوبے خوزستان میں سنی آبادی کی اکثریت تھی۔ اور اسی صوبے میں ایران کے 80%تیل کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اب ایران کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں ان کے سنی لوگ سعودی عرب سے تعلق بڑھا کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں اور ان کی حکومت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کر دیں اور سعودی عرب کو بھی یہی ڈر تھا کہ ان کی شیعہ اقلیت ایران کے ساتھ مل کر حالات خراب کر سکتی ہے اس لئے ان دونوں ممالک کے لوگوں نے ان اقلیتوں کو کنٹرول کرنا اور دبانا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کے وسائل کو کوئی خطرہ نہ ہو۔اور یہی بات فرقہ وارانہ تضادات کی بھی وجہ بنی۔ اور ان تضادات کو ختم کرنے یا ان کا کوئی حل نکالنے کی بجائے ان کو سیاسی مقاصد کے لئے ہوا دی جاتی تھی اور فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ فرقہ وارانہ تضادات ان دونوں ممالک سے نکل کرآس پاس کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان جب بھی حالات خراب ہوتے تو یہ ممالک اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے اور معاملہ مزید الجھتا۔ اور2011میں ہونے والی عرب سپرنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو اختلافات تھے ان کو مزید بڑھا دیا تھا دونوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے مختلف ممالک کی پشت پناہی کی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ بحرین میں ایران نے حکومت مخا لف لوگوں کو اسپورٹ کیا۔ جبکہ سعودی عرب نے بحرین کی حکومت کی مدد کرنے کے لئے اپنی فوج بھیج دی۔

    جبکہ سیریا میں سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی اور ایران نے اس کے الٹ وہاں کی حکومت کا ساتھ دیا۔لبنان میں ایران نے حزب اللہ کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب نے لبنان کی حکومت کو سپورٹ کیا۔اسی طرح میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب دوسری سائیڈ پر تھا۔اور آخر میں اگر اسرائیل کی بات کی جائے تو حماس کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب سرکاری طور پر تو اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے لیکن وہ اس کے مخالف بھی نہیں ہے۔ ہاں ایران کو کاونٹر کرنے کے لئے دونوں کے درمیان الائنس ضرور موجود ہے۔یہ صرف کچھ مثالیں تھیں جو کہ میں نے آپ کو دیں یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس نے کئی ممالک کو تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے حمایتی ممالک میں UAEKuwaitBahrainEgypt
    Jordanشامل ہیں۔ جبکہ ایران کے حمایتی ممالک میں عراق اور سیریا شامل ہیں۔ یمن لبنان اور قطر میں Splitپایا جاتا ہے۔ یہی وہ لڑائیاں ہیں جن کی وجہ سے شیعہ اور سنی فرقوںکے درمیان فاصلے ہمیشہ بڑھے ہیں یہ دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔
    2016میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین نمر النمر کو پھانسی دی تھی اور اس کے بعد ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض نے تہران کے ساتھ اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔چھ سال بعد آخر یہ تبدیلی آئی امریکہ اس خطے سے نکل گیا۔ اور مختلف ممالک نے تیل پر اپنا انحصار بھی کم کرنے کی طرف توجی دینا شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اب تیل پراپنی آمدن کا انحصار کرنے والے ممالک کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو اپنا Vision 2030پورا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تو ایران کو ضرورت ہے کہ اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اس کی معیشت بہتر ہو اور وہ ترقی کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ دونوں ممالک اپنی لڑائیاں ختم کرکے دوستی کی طرف آنا چاہتے ہیں یعنی معاشی اور سیاسی دونوں مجبوریاں ہیں دونوں کو اپنی تجارت بڑھانی ہے معیشت کو بہتر کرنا ہے جس کے لئے یہ کو ششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی پرانی س=دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔

  • انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    ویسے توبحیثت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جس نے یہ دنیا بنائی ہے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارا مالک ہے ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہوکسی جاندار کو موت نہیں آسکتی اور موت کا جب وقت لکھا ہو تو اس کو اللہ کے علاوہ کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک کارٹل مافیا ایسا بھی ہے جو کہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششوں میں ہے۔ یہ مافیا طے کرتا ہے کہ اگر ایک بار کوئی بیماری انسان کو ہو جائے تو اس کے بعد کیسے انسان کو مرتے دم تک دوائیوں کے چنگل میں پھنسا کر رکھنا ہے۔

    یہ کارٹل کیسے کام کرتا ہے؟میں نے آپ کو ایک ویڈیو میں الیکٹرک بلب اور مشینری بنانے والے کارٹل کے بارے میں بتایا تھا کہ کیسے جان بوجھ کر ایسیElectronic machinesبنائی جاتی ہیں جو کہ چند سال بعد خود بخود Expireہو جاتی ہیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور اس کے بعد ہمیں مجبور ہو کر اس مشین کو پھینکنا پڑتا ہے اور نئی مشین خریدنی پڑتی ہے۔ اور اب جس فارما کارٹل کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ یہی کام انسانوں کے ساتھ کررہے ہیں ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ چند ادویات اور ویکسینز بنانے والی کمپنیاں اب یہ طے کر رہی ہیں کہ دنیا میں کتنے فیصد لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے اور کتنے فیصد لوگوں کو مر جانا چاہیے۔ جس کی وجہ سے یہ کارٹل خطرناک حد تک پاورفل ہو چکا ہے کہ حکومتیں بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ فارما کارٹل کیسے یہ سب کر رہا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟اور یہ آنے والے وقت میں عام انسانوں کے لئے کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں؟اور کوئی بھی حکومتیں اب تک ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ سب سے پہلے امریکہ کی ایک مثال سے شروع کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایک شخص ہے جس کا نام Martin Shkreliہے۔ یہ Vyera Pharmaceuticals LLCکا سی ای او رہا ہے اس کے علاوہ اس نے Bio technology company Ritrofinبنائی۔ یہ Toring Pharmaceuticalsکا بھی مالک ہے لیکن اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ He used to be America’s most hated manاب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک دوائیاں بنانے والی کمپنی کے مالک نے ایسا کیا کیا کہ لوگوں کو اس سے نفرت ہو گئی۔دراصل ایک دوائی ہے Daraprimجو کہ ملیریا کے علاج کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک وقت تھا جب اس دوائی کی قیمت 13.50$تھی۔ اب ہوا یہ کہMartin shkreliکی کمپنی نے یہ دوائی بنانے کا لائسنس حاصل کیا اور اس دوائی کی قیمت کو پانچ ہزار گنا تک بڑھا کر 750$کردیا۔ جس پر ڈاکٹرز، Law makersاور عام انسان سب کو بہت زیادہ تشویش ہوئی اور اس کے خلاف امریکہ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ آخر قانون حرکت میں آیا اس شخص کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور اسے سات سال کی جیل ہوئی۔ لیکن حال ہی میں اس نے 40 million dollarsادا کرکے اپنے اوپر لگے Allegationsکو Settleکرلیا ہے۔

    اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے عام ادویات بنانے والوں کے ساتھ غیر قانونی معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ ادویات کی قیمت میں اضافے کے بعد دوائی کے سستے ورژن کو مارکیٹ میں لانے میں دیر کی جا سکے اور لوگوں کو مجبورا مہنگی دوائی خریدنی پڑے۔اور جب میڈیا کی جانب سے اس شخص سے قیمتیں بڑھانے پر سوالات کئے گئے تو ان کے جواب میں بھی اس نے صاف صاف کہا کہ میں قیمتوں میں ضرور اضافہ کروں گا تاکہ میں منافع کما سکوں۔اوریہ
    Martin shkreliتو صرف ایک مثال ہے اصل میں فارما انڈسٹری کا پورا نظام ہی اسی طرح سے کام کرتا ہے۔ ان کا کام لوگوں کی بیماریوں سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانا ہے۔ اور یہ وہ انڈسٹری ہے جس کا واسطہ ہر ایک انسان سے ہے وہ چاہے امیر ہو یا غریب۔۔ انسان کی عمر کوئی بھی ہو اس انڈسٹری سے واسطہ پڑنا لازمی ہے۔ اس لئے یہ فارما کمپنیاں اب اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ حکومتوں کے لئے بھی ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سب سے پہلے ڈاکٹرز کو اپنے شکنجے میں لیتی ہیں ان کو مراعات دیتی ہیں اور جب ایک ڈاکٹر مریض کو یہ کہتا ہے کہ یہ دوا استعمال کرکے آپ کی جان بچ سکتی ہے تو اس انسان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال کرے اس طرح یہ کپمنیاں ڈاکٹرز کے زریعے اپنی ادویات بکواتی ہیں۔ اپنی ادویات کی افادیت کے بارے میں اچھی اچھی خبریں چلواتی ہیں جس سے عام انسان کو لگتا ہے کہ بس اب اس کی زندگی انہیں دوائیوں کے سہارے چل سکتی ہے جس کے بعد وہ اس شکنجے میں ایسا پھنستا ہے کہ مرنے کے بعد ہی اسے ان سے نجات ملتی ہے۔اس کی بہترین مثالOpioidsکی ہے جو کہ ایک Pain killerہے اور اس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ہیروئین کی طرح کام کرتی ہیں یہ آپ کی تکلیف کو دور نہیں کرتی بلکہ آپ کے محسوس کرنے کی حس کو بلاک کرتی ہے جس سے صرف آپ کو محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے کہ آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ شروع میں امریکہ میں اس بات پر خاصCheck and balanceرکھا جاتا تھا کہ یہ Pain killersلوگوں کو ضرورت سے زیادہ Prescribed
    نہ کی جائے۔ لیکن 1990کے بعد ان بڑی فارما کمپنیوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ یہ Addictiveنہیں ہیں۔ ایک بڑی امریکی فارما کمپنی Purdue pharmaجس کی Opioid drug کا نام OxyContinتھا انہوں نے اپنے Salerepresentatives
    پورے امریکہ میں پھیلا دئیے جو صرف ڈاکٹرز کے پاس جاتے اور ان کو اس بات پر Convinceکرتے کہ یہPain killers
    نقصان دہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو استعمال کرنے سے کوئی Addictionہوتی ہے جبکہ اس دعوے کو کبھی کسی ڈاکٹر یا ریسرچر نے کراس چیک نہیں کیا کہ اس میں کتنی صداقت ہے صرف کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے Sale representatives کی بات پر ہی یقین کر لیا گیا اور 1997میں جہاں اس دوائی کے 670,000 prescription لکھے جا رہے تھے ان کی تعداد 2002تک بڑھ کر 6.2 millionتک پہنچ گئی۔ یعنی اس میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اور اس طرح صرف اس ایک دوائی سے Purdue pharma نے30 billion dollarsکا منافع کمایا۔Purdue pharmaکے علاوہ Johnsons & johnsonsاورTevaکمپنی کی Pain killersنے جو منافع کمایا وہ الگ تھا۔ اور آہستہ آہستہ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ
    2012تک ایک سال میں صرف امریکہ میں 255 millionPrescriptionsمیں یہ دوائیاں لکھ کر مریضوں کو دی گئیں۔ جس کا رزلٹ یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ کو اس کی لت پڑ گئی وہ اس کے Addictہو گئے۔ اور انہوں نے ضرورت سے زیادہ اس کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ Over doseکی وجہ سے1999سے2016کے درمیان453,300امریکی ان گولیوں کے استعمال کی وجہ سے مارے گئے۔

    2019میں 71000لوگوں کی Opioids drug کےOver doseکی وجہ سے ڈیتھ ہوئی۔ اور جب لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہوا تو انہوں نے Purdue pharmaپر Law suit fileکرنا شروع کر دئیے۔ لیکن کمپنی نے اپنے اکاونٹ سے 10.8 billion dollars shiftکرکے اس کو دیوالیہ ڈکلئیر کر دیا گیا اور کمپنی مالکان نے صرف 4.5 billion dollarجرمانے کی رقم ادا کرکے اپنی جان چھڑا لی اور اتنے بڑے ظلم کے باوجود ان کو کوئی سزا نہیں سنائی گئی صرف جرمانہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
    اور صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ فارما کارٹل اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کسی بیماری کے علاج کے لئے ایسی ادویات بھی ریگولیٹری اتھارٹیز سے Approveکروا لیتے ہیں جو کہ علاج میں اتنی زیادہ کارآمد بھی نہیں ہوتیں۔ اور بغیر ٹیسٹ کے یہ دوائیں نہ صرف پاس ہو جاتیں ہیں بلکہ سیل بھی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔Bioginکمپنی کی دوا Aduhelmاس کی بہترین مثال ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ Alzhimer کے علاج کے لئے بہترین ہے لیکن جب کچھ عرصے بعد اس پر ریسرچ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ دعوی غلط ہے۔ وہ کمیٹی جس کے سامنے اس دوا کو Approvalکے لئے پیش کیا گیا تھا اس کے گیارہ ممبر تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس کو پاس کرنے کے حق میں نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ دوا پاس ہو گئی جس کے بعد اس کمیٹی کے تین ممبرز نے احتجاجا اس کمیٹی سے استعفی بھی دے دیا تھا۔اور جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ایف ڈی اے جو کہ ان فارما کمپنیوں کے لئے Watch dogکا کام کرتی ہے اس کے کل بجٹ کا 45%حصہ انہیں فارما کمپنیوں کی فنڈنگ سے آتا ہے جس کی وجہ سے ان کو ایف ڈی اے میں اتنا اثر و رسوخ ہے کہ کمیٹی کے انکار کے باوجود کوئی مشکل نہیں کہ وہ اپنی ادویات کو آسانی کے ساتھApproveکروا سکتیں ہیں۔ اور یہ سب سامنے آجانے کے بعد بھی ابھی تک امریکہ میں یہی سسٹم چل رہا ہے کیونکہ ان فارما کمپنیوں کا اثرورسوخ صرف ایف ڈی اے تک نہیں ہے بلکہ امریکی
    Lawmakerتک بھی ہے جو ان کی مرضی کے خلاف کوئی قانون نہیں بناتے۔ یہاں تک کہ امریکی سیاستدانوں کی الیکشن کمپئین کو بھی یہ فارما کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں۔2020میں ہونے والے امریکی الیکشن میں ان کمپنیوں کی طرف سے گیارہ ملین ڈالر کی فنڈنگ کی گئی تھی۔ اور اس سے بھی کہیں زیادہ رقم یہ کمپنیاں اپنی لابنگ پرخرچ کرتی ہیں۔ لیکن اپنی فنڈنگ اور لابنگ کی وجہ سے یہ کمپنیاں اتنی آزاد ہیں کہ یہ اپنی ادویات کی قیمتوں کا تعین خود کرتی ہیں ان کو کوئی پوچھ نہیں سکتا۔

    اور یہ وہ تمام ہتھکنڈے ہیں جن کے تحت یہ فارما کارٹل کام کرتا ہے۔ یہ جس بیماری کا علاج چاہیں سستا کر دیں اور جس بیماری کا چاہیں علاج اتنا مہنگا کر دیں کہ کوئی عام انسان وہ علاج کروا ہی نہ سکے۔ اورایک عام غریب انسان اگر دوائی مہنگی ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر مر بھی رہا ہے تو ان کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ان کا کام منافع کمانا ہے۔ اب پچھلے دو سالوں میں جو کچھ ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ کرونا آنے کے بعد کس تیزی کے ساتھ مختلف کمپنیاں اس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہو گئیں اور دنیا میں شاید ہی کسی بیماری کی ویکسین اتنے کم عرصے میں بنی ہو گی جتنے کم ٹائم میں کرونا کی ویکسین تیار کر لی گئی اور پھر حکومتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑی چالاکی کے ساتھ ان فارما کمپنیوں نے یہ لازمی کروا لیا کہ ہر ایک انسان کو یہ ویکسین لگوائی جائے پہلے اس کی ایک ڈوز لگائی گئی پھر دوسری۔۔۔ لیکن اب جس طرح سے اومی کرون کے کیسز بڑھ رہے ہیں تو اس سے بچاو کے لئے جو لوگ پہلے ویکسین لگوا چکے ہیں ان کو اب بوسٹر شاٹس لگائے جا رہے ہیں اور یہاں تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر ہمیں خود کو کرونا وائرس اور اس کی مختلف اقسام سے بچانا ہے تو ایک مختصر وقفے کے بعد مستقل بنیادوں پر یہ بوسٹر شاٹس ہمیں باقاعدگی سے لگوانے ہوں گے۔ اور اس کے بدلے میں ہو یہ رہا ہے کہ ان فارما کمپنیوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے یہ کمپنیاں پیسہ بنا رہی ہیں۔ دولت کی ایک غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے یہ اپنی ہر طرح کی شرائط حکومتوں سے منوا رہی ہیں۔ اپنی مرضی کی پالیسیاں لاگو کروانے کے لئے یہ کمپنیاںSecret dealsتک کر رہی ہیں لیکن ایک عام انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس فارما کارٹل سے۔۔۔ انہیں کی شرائط پر۔۔۔ ان کی ادویات اور ویکسینز خریدیں اور استعمال کریں۔ یہ وہ اصل طاقت ہے جو یہ کمپنیاں حاصل کر چکی ہیں جس کے زریعے اب یہ لوگوں کی زندگیوں اور موت کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اور یہ کسی ایک ملک میں نہیں ہو رہا بلکہ ہرایک ملک میں اس کارٹل کی جڑیں خطرناک حد تک مضبوط ہو چکی ہیں

  • الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    ٹیکنالوجی کے اتنی ترقی کر لینے کے باوجود اس دور میں بننے والی کار، موبائل فون اور بلب کی کوالٹی پرانے وقتوں کی نسبت اتنی بری کیوں ہے؟ آج کل کی کاروں میں لگژری فیچرز تو بہت آ گئے ہیں موبائل فونزمیں بھی بہترین کمیرے لگائے جا رہے ہیں ان کے کلرز اور Shapeبھی بہت اسٹائلش ہو گئی ہیں اسی طرح بلب میں بھی بہت فینسی فینسی ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ان الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں ہوکر رہ گئی ہے؟ اور پراڈکٹ بنانے والی کمپنیاں کیسے دن دگنی اور رات چوگنی ترقیاں کررہی ہیں؟ امریکہ میں ایک Livermore Fire Station, number sixہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں دنیا کا واحد اور سب سے پرانا ایسا بلب سے جو پچھلے ایک سو اکیس سالوں سے مسلسل روشن ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ کسی Light switchکے ساتھ Connectedنہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ Back up battery and generatorضرور Attachہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سالوں سے کیسے کام کر رہا ہے یہ آج تک کبھی خراب یا فیوز کیوں نہیں ہوا؟حالانکہ یہ بلب ہاتھ سے دیسی طریقے سے بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کمرشل بنیادوں پر بلب کی تیاری بالکل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ لیکن پھر بھی یہ کئی ملین گھنٹوں سے روشن ہے اور ابھی تک کام کررہا ہے جبکہ آج کے دور میں ہم کسی بلب یا لائٹ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

    کچھ وقت پہلے مجھے کسی نے یہ سٹوری بتائی تھی کہ کئی سالوں پہلے ایک ایسا بلب ایجاد کیا گیا تھا جو ہمیشہ کام کر سکتا ہو اور کبھی خراب یا فیوز نہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلب کبھی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ اس کا کوئی بزنس ماڈل نہیں بن سکتا تھا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نہیں اس بلب کو تو بیچنا سب سے زیادہ آسان ہوتا کیونکہ اسے ہر ایک انسان یہ سوچ کرلازمی خریدتا کہ ایک بار اگر خرید لیا تو بار بار کے خرچے سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہی اس بزنس ماڈل کا
    Negative pointتھا ایک بار سیل کے بعد اس پراڈکٹ کا کوئی Repeat customerنہیں بننا تھا اس لئے اس کی سیل ایک حد سے آگے کبھی نہ بڑھ سکتی تھی۔اور یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب
    longlasting light bulbبنا کر بیچے جاتے تھے۔ لیکن جب کچھ عرصے بعد ان کی سالانہ سیل کا Analysis کیا گیا تو پتہ چلا کہ 1923میں OSRAMکے بلب کی سیل 63 millionتھی جو کہ اگلے ہی سال کم ہو کر 28 million ہو گئی تھی۔ یعنی یہ بلب ان کمپنیوں کے لئے ایک فائدہ مند پراڈکٹ کی جگہ نقصان دہ پرڈاکٹ ثابت ہوئی۔جس کے بعد 1924میںGeneva, Switzerlandمیں کرسمس کے موقع پر ان بلب بنانے والی کمپنیوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ جس میں Philips
    International general electricsTokyo electricOSRAM GermanyاورUKکی Associated electircکے ٹاپ ایگزیکٹیو شامل تھے۔ اس میٹنگ میں انہوں نے مل کر ایک Phoebus cartelبنایا۔Phoebus کا مطلب ہے The greek god of light.اور یہ عہد لیا گیا کہ یہ تمام کمپنیاں مل کر کام کریں گی۔ اور دنیا میں لائٹ بلب کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی ڈسکس کیا گیا کہ یہ لائٹ بلب جو لمبے عرصے تک کام کرتے ہیں اگر ان کی قیمت بڑھا بھی دی جائے تو کمپنیاں وہ منافع نہیں کما سکتیں جو کہ Repeat customersسے کمایا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انBulbsکےLife spanکو کم کیا جائے۔ تاکہ ایک بلب خراب ہوگا تو کسٹمر پر لازم ہو جائے گا کہ وہ اس کی جگہ نیا بلب خریدے۔ اس لئے وہ بلب جو کہ 2500 hoursسے زیادہ دیر تک روشن رہ سکتے تھے ان کی جگہ وہ بلب بنانے شروع کئے گئے جو صرف 1000 hoursتک کام کرتے اور اس کے بعد ناکارہ ہو جاتے۔

    اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہ کمپنیاں ایک دوسرے پر کیسے نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ایسا بلب بنا کر مارکیٹ میں نہ بیچے جو کہ 1000 hoursسے زیادہ چل سکے کیونکہ یہ کسٹمرز کو تو یہی کہہ کر اپنی پراڈکٹ بیچتے ہیں کہ ہم آپ کو سب سے بہتر پراڈکٹ دے رہے ہیں۔ اس کے لئے یہ پریکٹس شروع کی گئی کہ ہر ایک کمپنی دوسرے کمپنی کو اپنی Sample productsبھیجتی جن کو ایک سٹینڈ پر لگا کر چیک کیا جاتا اور اگر کسی بھی کمپنی کا بلب ایک ہزار گھنٹے سے زیادہ کام کرتا تو اس کو جرمانہ کیا جاتا۔اگر کسی کمپنی کا بلب تین ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا تو ایک ہزار بلب کی سیل پر کمپنی کو 200 swiss francجرمانہ کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے وہ انجینئرز جو پہلے بلب کے Life span and durability
    کو بڑھانے کے لئے کام کر رہے تھے انہی کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس معیار کو گرانے کا کام کریں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے جس کی وجہ سے یہ Cartelبننے کے چار سال بعد ہی ان بلب کمپنیوں کی سیل میں پچیس فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ ایک طرف تو Repeat customers کی وجہ سے سیل میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف معیار گرانے کی وجہ سے پراڈکٹ کی Costبھی کم ہو گئی لیکن ان کمپنیوں نے بلب کی قیمت وہی رہنے دی جو کہ پہلے تھی اس لئے کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اچھا خاصا منافع کما لیا۔ اور یہ کوئی کہی سنی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ثبوت موجود ہیں کہ کارٹل میں موجود یہ کمپنیاں مل کر اپنی پراڈکٹ کو کسٹمر کے لئے بہتر بنانے کی بجائے صرف اس بات کو یقینی بناتیں تھیں کہ وہ اپنی سیل اور پرافٹ کو کیسے بڑھا سکتی ہیں۔اور جس بلب کی مثال میں نے آپ کو شروع میں دی اس کے بھی اتنا طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ یہ ہی ہے کہ یہ بلب اس کارٹل کے وجود میں آنے سے پہلے کا بنا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اس بلب کا Filamentبھی 4 or 5 wattتک Low power کا ہے۔ اسے فائر اسٹیشن میں نائٹ بلب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بنا کر لگایا گیا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے۔

    اب میں آپ کو بتاوں کہ ایک وقت آیا جب اس کارٹل کا پردہ فاش ہوا اور ان کمپنیوں کی آپس میں کچھ لڑائیاں ہوئیں کچھ نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں جنہوں نے اس کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ جس کے بعد1955میں آ کر یہ کارٹل ختم ہو گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارٹل اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لئے جو طریقے استعمال کرتا تھا وہ آج تک چل رہے ہیں۔اس پر وہ مثال فٹ آتی ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔۔۔یعنی کارٹل ختم ہونے کے بعد بھی اب کمپنیاں خود سے ہی صرف ایسی پراڈکٹ بناتی ہیں جو کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے Planned Obsolescenceکہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو 2003میں Casey neistatکی ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی تھی جس کا ٹائٹل تھا iPod’s Dirty secretجس میں اس نے بتایا تھا کہ کیسے اس کا اٹھارہ ماہ پہلے خریدا گیا Ipodجب کام کرنا چھوڑ گیا اور اس نے ایپل کمپنی کو فون کیا تو آگے سے یہ جواب ملا کہ کیونکہ آپ کے ipodکو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے تو اب اگر آپ اسے ٹھیک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے ڈاک کے ذریعے ہمیں بھیجنا ہوگا جس کا خرچہ تقریبا دو سو پچپن ڈالر سے زیادہ بنتا ہے جبکہ آپ اس سے کم قیمت میں نیا Ipodخرید سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کو کئی ملین لوگوں نے دیکھا اور ایپل کمپنی نے Law suitسے بچنے کے لئےOut of the court settlementبھی کی لیکن ان کی PlannedObsolescence
    نہ رکی۔ 2017میں جب کمپنی کی طرف سے ios updateکیا گیا تو وہ لوگ جن کے پاس پرانے آئی فون تھے ان کی رفارمنس سپیڈ بہت Slowہو گئی لوگوں کو ایپس ڈاون لوڈ کرنے میں مشکلات آنے لگیں اور یہاں تک کہ فونز خود سے شٹ ڈاون ہونے لگے۔ ایپل نے اس کو بیٹری کا ایشو بتایا لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ ایپل میں بیٹری Replaceنہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے وہ فونز ناکارہ ہو گئے۔ ایپل اب تک کئی ملین ڈالرز Law suits settlementsمیں لوگوں کو ادا کر چکا ہے لیکن اس کی پراڈکٹ میں کوئی چینج نہیں آیا۔ کیونکہ Planned Obsolescenceکے فارمولے کی وجہ سے کمپنی جو منافع کما رہی ہے وہ اس جرمانے سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ Planned Obsolescenceاتنی بھی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔1930کی دہائی میں جب امریکہ میں Great depressionآیا اور ¼آبادی بے روزگار ہو گئی تھی۔ اس وقت Real estate broker Bernard Londonنے Planned Obsolescenceکے تحت ایک آئیڈیا دیا تاکہ لوگوں کو روزگار دیا جا سکے اور امریکہ کو ڈپریشن سے نکالا جا سکے۔اس نے امریکی گورنمنٹ کو خط لکھا کہ ایسے کپڑے جوتے اور مشینیں بنائی جائیں جو ایک محدود وقت تک استعمال ہوں اور اس کے بعد وہ ناکارہ ہو جائیں تاکہ لوگ نئی چیزیں خریدیں اور کمپنیاں چلتی رہیں اور لوگوں کو بھی روزگار کو مسئلہ نہ ہو۔
    اسی موضوع پر ایک فلم بھی بنی تھیI kid you not جس کو آسکر ایوارڈ میں Best screen playکے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔جس میں ایک سائنسدان ایک ایسا سفید کپڑا بناتا ہے جو کبھی گندا نہیں ہو سکتا اس پر سلوٹیں نہیں پڑ سکتیں۔ اور وہ سالوں تک استعمال کیاجانے کے باوجود پرانا نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ کپڑا کمپنی مالکان کے لئے اس وجہ سے پریشانی کا باعث تھا کہ اس کے Repeat customers نہیں ہوں گے اور ورکرز اس لئے پریشان تھے کہ اس سے وہ ورکر جو واشنگ کرکے، کپڑوں کو سلائی اور پریس کرکے اپنی آمدن کماتے ہیں ان کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح فیکٹری مالکان اور ورکر دونوں ہی اس سائنسدان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس سائنسدان اور اس کی ایجاد کو ختم کیا جا سکے۔لیکن جو بھی ہو Planned Obsolescenceپھر بھی Consumersکے لئے پریشانی کی ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے یورپی یونین اور امریکہ کی پچیس ریاستوں کو یہ قانون بنانا پڑا کہ لوگ اپنی مشینوں کو مرمت کروا سکتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ وقت تک استعمال کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں پر یہ لازم کیا گیا کہ وہ اپنی پراڈکٹ اس طرح بنائیں کہ ان کو مرمت کرنے میں مشکل نہ ہو۔ اور ان کے Spare partsبھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔لیکن اس قانون سے بھی کام بن نہیں سکا Planned Obsolescenceکے لئےکمپنیوں نے کسٹمر کی Psychology سے کھیلنا شروع کیا۔

    لائٹ بلب کی طرح ایک وقت تھا کہ فورڈ کمپنی بہت مضبوط کاریں بناتیں تھیں جو سالہا سال چلتیں اور ان کو بدلنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی۔ ایک وقت آیا جب امریکہ میں ہر ایک کے پاس یہ کاریں تھیں جس کی وجہ سے کمپنی کی سیل بہت کم ہو گئی تو انھوں نے Planned Obsolescenceکا یہ فارمولا لگایا کہ ان کاروں کو مختلف رنگوں میں بنانا شروع کیا اور ہر سال ایک نئے رنگ کی کار مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اس طرح جس کسٹمر کو وہ رنگ پسند آتا وہ اسے خریدنا شروع کر دیتے۔ رنگوں کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیاں شروع کی گئیں۔یہ وہی کام ہے جو اس وقت موبائل فونز والی کمپنیاں کر رہی ہیں کہ ہر سال صرف کلر اور Shapeمیں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے ایک نیا ماڈل پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کہ فیشن اور برانڈ Consciousہیں اور جن کے لئے افورڈ کرنا بھی مشکل نہیں ہے تو وہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود نیا ماڈل خریدتے ہیں اور کمپنی کی سیل بڑھاتے ہیں۔ہر کچھ عرصے بعدTrendsکوRecycleکیا جاتا ہے۔ انھیں نئے فیشن کا نام دے کر لوگوں کو Attractکیا جاتا ہے اور پیسہ بنایا جاتا ہے اور یہ ہے وہ بزنس ماڈل جس کو یہ کمپنیاں Adoptکرکے اپنا قد بڑے سے بڑا کرتی جاتی ہیں۔

  • روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو بہت زیادہ ہوا دی جا رہی ہے انٹرنیشنل میڈیا اس پر زور و شور سے رپورٹنگ کر رہا ہے۔ روس نے جنگ سے متعلق خبروں کو بہت بار مسترد کیا ہے اور جہاں تک یوکرین کا تعلق ہے تو اس کے لئے ویسے ہی یہ ممکن نہیں کہ وہ خود سے جنگ میں پہل کر سکے۔ لیکن مغرب اور اس کے اتحادی جس زور و شور سے اس تنازعہ پر بیانات دے رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روس اور یوکرین سے زیادہ دوسرے ممالک چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنگ چھڑ جائے اور پھر وہ اس جنگ کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہ بات یہاں تک نہیں رکے گی بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی تنازعوں کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف جا سکتی ہے۔
    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی اصل صورتحال کیا ہے؟
    بارڈر پر فوجیوں اور اسلحہ کی تعداد بڑھانے کی وجہ کیا واقعی جنگ کی تیاری ہے؟
    وہ کون سے ممالک ہیں جو یہ جنگ کروانا چاہتے ہیں؟
    اس پر تو آج کی ویڈیو میں بات کریں گے ہی لیکن اگر آپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو ضرور کر لیں اور بیل آئیکون کو بھی ضرور پریس کیجئیے گا تاکہ آنے والی تمام ویڈیوز کا نوٹیفکینشن آپ کو بروقت ملتا رہے۔
    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو کئی ممالک کی طرف سے بہت زیادہ اچھلا جا رہا ہے حالانکہ روس شروع دن سے کہہ رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    اس کے علاوہ یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyکا بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ وہ ایک ملک ہے جوچاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہونے کی بجائے کسی جنگ کی صورت اختیار کرلے امریکی صدر جو بائیڈن بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ یہ مخصوص امکان موجود ہے کہ اگلے ماہ روس یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ اور اگر روس یوکرین میں مداخلت کرتا ہے تو امریکہ اس کے اتحادی اور شراکت دار بروقت ردعمل دیں گے۔ جو بائیڈن نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا ہوا ہے کہ اگر روس نے حملہ کیا تو وہ ذاتی طور پر پیوٹن پر پابندیاں ضرور لگائیں گے۔اب اگر امریکہ کا روس کے خلاف یہ موقف ہے تو اس کا اہم اتحادی برطانیہ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ برطانوی وزرا بھی روس کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کی حکومت نے یوکرین کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یوکرین میں روسی فوجی مداخلت ایک بہت بڑی سٹریٹجک غلطی ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ روس کے انکار کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بار بار کیوں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور روس پر یہ الزام کیوں ہے کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری میں ہے اس نے بارڈر پر نفری کی تعداد میں کیوں اضافہ کیا ہے؟ کیوں ان دو ملکوں کے تنازع کو تیسری عالمی جنگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

    اس وقت اگر روس کے بارڈر پرتعینات فوجیوں اور اسلحہ کی بات کی جائے تو سی این این کے مطابق106000 روسی فوجی تعینات ہیں ان کے علاوہ 21000 بحریہ اور فضائیہ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بیان دیا ہے کہ ان کو ملنے والی خفیہ اطلاعات میں یہ واضح ہے کہ60 روسی جنگی گروپ یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں جو روس کی کل فوج کا تقریبا ایک تہائی بنتے ہیں۔جبکہ عام حالات میں یہاں صرف35000 روسی اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود روس کی جانب سے بار بار یہی اصرارکیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر روس کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ایسی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں یا پھر یہ سب تیاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔دراصل چند دن پہلے روسی وزارت دفاع نے چند تصاویر جاری کی ہیں جن میں روسی دستوں کو یوکرین کی سرحد کے قریبRoustouvکے تربیتی مرکز کی جانب گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ دستے ایسے بھی ہیں جو چار ہزار میل دور مشرقی روس سے آئے ہیں۔اور اس تمام Movement
    کی وجہ یہ ہے کہ روس نے اپنے کئی ہزار فوجی مشترکہ عسکری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بیلا روس بھیجے ہیں۔ اور یہ سلسلہ فروری کے آخر تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیونکہ 10 سے 20 فروری کے درمیان روس اپنے مزید فوجی بھی بیلا روس بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارےSU- 35بھی بیلاروس بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے فروری میں روس کی جانب سے حملے کی بات کی ہے۔یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک یہ کہ یوکرین کا دارالحکومت بیلاروس کی سرحد سے سو میل سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیلاروس کے رہنما
    Alexander Lukashenkoروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حمایتی ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ جنگی مشقوں کی آڑ میں دراصل روس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔جبکہ اگر جنگی مشقوں کی بات کی جائے تو ضروری نہیں ہے کہ یہ یوکرین پر حملے کے لئے کی جا رہی ہیں کیونکہ روس تو اسی مہینے دنیا بھر میں بحری مشقیں بھی شروع کرنے والا ہے اور یہ مشقیں بھی تقریبا فروری تک ہی چلیں گی۔ ان میں140 جنگی بحری جہاز اور سپورٹ کشتیاں،60 طیارے، اور تقریبا10000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔

    جنگی ٹینک، افرادی قوت، اور بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے قابل چھ روسی بحری جہاز انگلش چینل عبور کر کے عسکری مشقوں کے لیے بحیرہ روم جا رہے ہیں۔ جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کے لئے یہ ایک مشکل چوائس ہے کہ وہ یوکرین پر بحری راستے سے آکر زمینی حملہ کرے۔ اس لئے جن مشقوں کو بنیاد بنا کر جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی اور اس کے علاوہ بھی جب جنگ کرنا ہو تو فوجیوں اور اسلحے کے علاوہ بھی بہت سی تیاریاں ہوتی ہیں جو ایک ملک کوکرنا ہوتی ہیں جس کی ایک مثال موبائل فیلڈ ہسپتال بھی ہیں اور روس کی طرف سے ایسی کسی تیاری کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسری جانب روس کی مشقوں اور فوجی Movementکے جواب میں امریکہ کی جانب سے چند روز پہلے یوکرین کے لیے90 ٹن کی فوجی امداد بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے دسمبر کے مہینے یوکرین کے لئے 20 کروڑ ڈالر کا سیکیورٹی امداد پیکج بھی منظورکیا تھا۔اور اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جس طرح جنگ کا واویلہ مچایا جا رہا ہے تو آپ خود سوچ لیں کہ ایسی صورتحال میں روس اور اس کے اتحادی کیسے خاموش ہو سکتے ہیں۔اور اس وقت روس کو جو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے وہ چین کی ہے۔اس تنازعہ کے حوالے سے چین کا موقف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کو اپنی سرد جنگ والی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات چھوڑ کر امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات پر مکمل غور کریں۔ دشمنی اور تصادم سے گریز کیا جائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر مشاورت کے ذریعے اختلافات اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    اگر حالات کا مکمل ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے لڑائی شروع کرنے کا امکان زیادہ ہے اور اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو روس جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔یہ صورتحال ویسی ہی ہے جیسی2008 کے بیجنگ اولمپکس کے دوران جارجیا میں تھی۔ روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کیے گئے امن معاہدے کو قبول کر لیا تھا لیکن امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے کچھ ممالک نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ویسے بھی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے یہ دیکھا گیا ہے کہ روس زیادہ تر Defenderکے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لئے مغربی ممالک کو روس پر اتنا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے دفاع میں حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔لیکن یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ امریکہ کے لئے یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ وہ روس کے لئے کوئی مشکل کھڑی کر سکے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں بھی اندرونی طور پر ناراضگیاں پائی جاتی ہیں۔
    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اپنی سٹریٹجک ضروریات کے حوالے سے بنیادی اختلافات ہیں۔جرمنی اور امریکہ کی انتظامیہ کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ اس لئے جب مغربی طاقتوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات اور مختلف معاملات پر رسہ کشی ہو رہی ہے تو ایسی صورتحال میں اگر یوکرین اور روس کا تنازع بڑھا تو یقینا یہ بحران پھر صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور مختلف اتحادیوں کے درمیان موجود دراڑیں بھی سامنے آجائیں گی اور اس سے نئے بحران جنم لیں گے۔ اور اس وقت دفاعی طور پر جس طرح سے تمام ممالک اپنے آپ کو مضبوط کر رہے ہیں جس طرح کی ٹیکنالوجی حاصل کی جا چکی ہیں اس کے بعد یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ کوئی بھی تنازع کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    سال 2021 اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال2022 کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

    اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022
    میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔

    بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔

    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

    دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

    اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔
    حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

    اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ
    Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014 اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا رٹیکل
    25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
    درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کو ایک بڑی جیت نصیب ہوئی ہے روس جیسے بڑے ملک نے اسلاموفوبیا پر اسی موقف کی تائید کی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے عمران خان دہراتے چلے آ رہے ہیں۔خاص کر ایک سال پہلے جو فرانس کا واقعہ ہوا تھا اس کے بعد عمران خان کا جو موقف تھا اس کو آج عالمی سطح پر پذیرائی ملی رہی ہے اوراہم بات یہ ہے کہ یہ ملک ہے یا لیڈر خود مسلمان نہیں ہے۔

    روس کے صدر پیوٹن نے کیا کہا ہے وہ تو میں آپکو بتاوں گا ہی لیکن پہلے میں آپ کو یاد کروا دوں کہ جب فرانس کا واقع ہوا تھا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے تھے اس کے بعد سے عمران خان کا کیا موقف رہا تھا۔وزیراعظم عمران خان یہ کہتے رہے ہیں کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔وہ اسلاموفوبیا کے خلاف مہم چلائیں گے اور باقی اسلامی ممالک کے لیڈروں کو بھی خط لکھیں گے۔ پیمغمبر اسلام کی گستاخی سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی اور لیکن ان کے ساتھ مسلمانوں کے رشتے کی مغرب کو سمجھ نہیں ہے۔ ہم اپنی بات ان کو سمجھا سکیں گے۔ ہم آزادی اظہارِ رائے کو مانتے ہیں لیکن اس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، پیغمبر اسلام کے خاکے اور کارٹون اظہار رائے نہیں بلکہ سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہولوکاسٹ پر بات کرے، یورپ میں چار ممالک ایسے ہیں جہاں ہولوکاسٹ کا ذکر کرنے پر ہی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکوں کو نہ روکنا مسلمان حکمرانوں کی ناکامی ہے۔

    عمران خان نے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو ساتھ ملانے کی بات کی تھی وہ یہ کام تو نہ کر سکے کیونکہ اس وقت مسلمان حکمرانوں کے مقاصد ہی کچھ اور ہیں سب سے بڑھ کر سعودی عرب جس کے ساتھ مسلمانوں کا عقیدت سے بھرپور جذباتی لگاو ہے آج وہاں پر محمد بن سلمان یہ بیان دے رہا ہے کہ وہ پانچ سالوں میں سعودی عرب کو یورپ بنائیں گے۔ یعنی ان کے لئے رول ماڈل ہی مغرب ہے وہ اپنی روایات کو چھوڑ کر مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔ تو سوچ لیں جب ان کے مقاصد ہی یہ ہیں تو وہ مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔اور کچھ ایسا ہی ہوا تھا تمام اسلامی ممالک نے وقتی طور پر فرانس کی مذمت تو ضرور کی لیکن کچھ وقت کے بعد سب نارمل ہو گیا فرانس کے صدر سے ملاقاتیں بھی شروع ہو گئیں۔ لیکن عمران خان کا یہ کریڈٹ ضرور ہے کہ انہوں نے جو پہلے دن موقف اپنایا تھا۔ وہ اسی پر ڈٹے رہے اور اب ان کو ایک بڑی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کل ایک سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جس کے دوران وہاں کی ایک صحافی نے ان سے آزادی اظہار پر ایک سوال کیا۔ویسے تو اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ روس میں حکام اور خود ولادیمیر پیوٹن کی حکومت پر اپنے سیاسی حریفوں کو جیلوں میں ڈالنے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں لگانے سے متعلق الزامات لگتے رہتے ہیں جس میں کئی ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جو انٹرنیشنل میڈیا میں سرخیوں میں رہے ہیں۔

    پیوٹن نے اس بات کو تو ایڈریس کیا ہی لیکن اپنے جواب میں اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیکر اور فرانس والے واقعہ کی مثال دیتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ پیغمبر اسلام کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور اسلام کے پیروکاروں کے مقدس احساسات کی خلاف ورزی ہے۔صدر پیوٹن نے صاف الفاظ میں کہا کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین کو آزادی کا اظہار نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے اقدامات شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور یہ ان لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے جو اسلام کے ماننے والے ہیں۔اس حوالے سے انھوں نے فرانس میں چارلی ایبڈو میگزین کے دفتر پر ہونے والے حملے کی مثال بھی دی کہ ایسی باتیں انتہا پسندانہ سوچ میں اضافہ کرتی ہیں۔ اور واضح کیا کہ فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی اچھی بات ہے لیکن اس کی کچھ حدود ہیں اور اس سے دوسروں کی آزادی کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔

    جس پر عمران خان نے بھی ٹوئیٹ کی کہ یہ میرے اس پیغام کی تائید ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنا اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ ہم مسلمانوں خصوصا مسلم رہنماؤں کو یہ پیغام غیرمسلم دنیا کے رہنماؤں تک ضرور پہنچانا چاہئے تاکہ اسلاموفوبیا کا تدارک کیا جا سکے۔اور حقیقتا یہ عمران خان کا کریڈٹ بھی ہے اس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور اب دنیا نے ان کے موقف کو تسلیم بھی کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ ان کی ایک جیت ہے۔لیکن اب اس جیت میں کئی اور سیاستدان بھی اپنا حصہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سیاستدان جو عمران خان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے وہ اب بھی عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں۔جیسے مولانا فضل الرحمان نے اس پر ٹوئیٹ کی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اظہار رائےکی آزادی یا فن کا اظہار نہیں ھے عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ کی حرمت و تقدس آفاقی ھے جس پر ھم انکو خراج تحسین پیش کرتے ھیں۔تو یہاں میں یہ کہوں گا کہ سیاسی اختلافات ایک جگہ لیکن مولانا صاحب کو عمران خان کو کریڈٹ ضرور دینا چاہیے کیونکہ عالم اسلام میں ایک عمران خان ہی تھا جو اس موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔اور آج اسے سفارتی سطح پر ایک بڑی جیت ملی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ جیت ملکی سیاست میں عمران خان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے؟؟

    آج یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ پارٹی تنظیموں کی تحلیل کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کردیا ہے جس میں اسد عمر تحریک انصاف کے نئے سیکرٹری جنرل ہوں گے پرویز خٹک خیبر پختونخواہ کے علی زیدی سندھ کے قاسم سوری بلوچستان کے شفقت محمود پنجاب اور خسرو بختیار جنوبی پنجاب کے صدور ہوں گے ۔جس میں سب سے پہلے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کی یہ تنظیم سازی کرنے کے لئے ان کا میرٹ کیا تھا اور یہ کن اصولوں پر کی گئی ہے۔ ویسے تو اگر عمران خان نے یہ تنظیم سازی کرنی تھی تو کے پی کے الیکشن سے پہلے کرتے تاکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نظر آتا۔ لیکن نہیں وہاں پر الیکشن ہارنے کے بعد یہ سب کیا گیا اور وہ بھی اچانک کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے اور ایک دم سے اعلان ہو گیا۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا کی طلال چوہدری صاحب رات کو کہیں گئے جب وہاں مار پڑی خبر میڈیا تک پہنچ گئی تو پتہ چلا کہ تنظیم سازی ہو رہی تھی۔وہی پی ٹی آئی نے کیا کہ کے پی کے الیکشن میں ہارنے کے بعد تنظیم سازی ہو گئی۔اور جو یہ انتخاب کیا گیا ہے اس میں میرٹ کیا رکھا گیا ہے یہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔پرویز خٹک جو اتنے سالوں سے کے پی کے میں آپ کے ساتھ ہیں ان کی موجودگی میں آپ وہاں سے ہار گئے اور انہی کو آپ نے ایک بار پھر صدر بنا دیا ہے۔دوسری طرف علی زیدی کا صرف ٹوئیٹر پر ایکٹو رہنے کے علاوہ کیا کریڈٹ ہے وہ بھی ہمیں نہیں پتہ۔۔پھر شفقت محمود جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک بڑا نام ضرور ہیں لیکن حلقوں کی سیاست اور ورکرز کے حوالے سے وہ بالکل ایک اچھی چوائس نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ٹوئیٹر پر لوگ کمنٹ کر رہے ہیں کہ کیا عمران خان کو پنجاب میں شفقت محمود سے بہتر کوئی انسان نظر نہیں آیا۔

    اس کے بعد ایک نام جس نے رہی سہی کسر ہی پوری کر دی وہ خسرو بختیار کا ہے۔ ابھی تک جنوبی پنجاب کے لئے انھوں نے کیا کیا تھا جس کو ان کو یہ انعام دیا گیا ہے۔ پھر یہ وہی خسروبختیار ہیں جن کا نام شوگر مافیا اسکینڈل میں تھا کیا یہ وہاں سے کلئیر ہو گئے جو عمران خان نے ان کو یہ عہدہ دے دیا۔اور اسد عمر سے لیکر خسرو بختیار تک ان لوگوں میں جو ایک بات Commonہے وہ یہ کہ ان تمام شخصیات سے جب ہم میڈیا والے کسی ایشو پر ان کا یا ان کی پارٹی کو موقف لینے کے لئے رابطہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں Availableنہیں ہوتے۔ کال سننا تو دور کی بات یہ میسج کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے تو آپ خود سوچ لیں میڈیا والوں کے ساتھ ان کے یہ حالات ہیں تو اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ ان کا کیا رابطہ ہوگا۔یا پھر صرف دکھاوے کے لئے ان عہدوں پر یہ نام بٹھا دئیے گئے ہیں باقی نیچے وہی حالات رہنے ہیں جو کہ اتنے سالوں سے چلے آ رہے ہیں۔تو اگر یہی سب چلتا رہے گا تو عمران خان صاحب ملکی سیاست میں آپ کے مستقبل اور تاریک ہی ہوتا جائے گا اور جو بھی ہو الیکشن آپ نے پاکستان میں لڑنا ہے روس میں نہیں۔ ووٹ آپ نے پاکستان کی عوام سے لینا ہے ان کے مسائل ح کریں ان پر بھی توجہ دیں تاکہ سفارتی سطح کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں بھی آپ کے معاملات بہتر ہو سکیں۔

  • ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک وقت تھا جب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان خود کو امت مسلمہ کے ایک لیڈر کے طور پر منوانے کے لئے خوب جوش و جذبے کے ساتھ سرگرم تھے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی بڑے بڑے فیصلے بھی کئے مسلمانوں کو امت مسلمہ کے نعرے بھی سنائے۔ جس سے ان کو خوب شہرت ملی۔ لیکن اب جو قدم ترکی کی جانب سے اٹھایا گیا ہے اس نے ان کے تمام پچھلے فیصلوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔مطلب وہ کشمیرجس کی حمایت میں ترکی کل تک مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہا تھا آج وہ اسی کے خلاف انڈیا کو ڈرونز کی فراہمی کر رہا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ ترکی کی یہ کیسی دوستی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اس کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔

    دراصل ہو یہ رہا ہے کہ ترکی کی ایک کمپنی Zyrone Dynamicsکا انڈیا کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت وہ انڈیا کوMultirotor mini UAV model dronesفراہم کرے گا۔ اس ڈیل کوbeginning of new relation between Turkey and Indiaکا نام دیا جا رہا ہے۔ اور ان ڈرونز کی فراہمی اگلے چند دنوں تک شروع کر دی جائے گی اور آنے والے سال میں کل سو ڈرونز انڈیا کو ڈیلیور کر دئیے جائیں گے۔جن کی Demo flightsمارچ2022میں ہوں گی۔ اور یہ معاملہ صرف ڈرونز کی فراہمی تک کا نہیں ہے۔ بلکہ اس ڈرون بنانے والی کمپنی کے ایک ملین ڈالر کے تیس فیصد شیئرز بھی انڈیا نے حاصل کر لئے ہیں۔ جس کے بعد ترکی نہ صرف یہ ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی انڈیا کو دے گا بلکہ یہ دونوں ممالک مل کر ان ڈرونز کے کاروبار کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے اور ان کی مارکیٹینگ اور سیل کریں گے۔اور یہ وہی ڈرونز ہیں جو ترکی نے آزربائیجان اور آرمینیا کی لڑائی میں آرمینیا کے خلاف استعمال کئے تھے۔ ان کے زریعے آرمینیا کے Tanksاور پورے
    artillery and air defenseکو تباہ کر دیا گیا تھا۔ اور آزربائیجان نے آرمینیا کو ان ڈرونز کی مدد سے شکست دی تھی۔ لیکن اب یہ ڈرونز انڈیا کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔

    اور سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا ترکی نہیں جانتا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی انڈیا کے ہاتھ میں جاتی ہے تو وہ اسے کس کے خلاف استعمال کرے گا۔ کیا طیب اردگان مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدہ تعلقات سے لاعلم ہیں؟ترک صدر رجب طیب اردگان جو خود کو امت مسلمہ کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے تھے جو کل تک پاکستان کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے کہ ہماری حکومت نے سعودی عرب کے دباو میں آکر ملائیشیا کے سمٹ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اب خود وہ انڈیا کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ کیسے گزشتہ سال رجب طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بین الاقوامی لیول پر تو ان پر کافی تنقید ہوئی تھی لیکن مسلمانوں میں ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔اس کے بعد جس طرح سے وہ تمام مسلم ممالک کو اکھٹا کر رہے تھے اور ایک الگ بلاک بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی اس فیصلے سے بھی طیب اردگان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور دوسرے فورمز پر ان کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں بھی وقتا فوقتا آواز اٹھائی جاتی رہی تھی۔

    ترک صدراس بات پر زور دیتے نظر آتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر جلد از جلد ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی193 رکنی جنرل اسمبلی کے
    76ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی طیب اردگان کا کہنا تھا کہ۔۔ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے تحت کشمیر میں74 برسوں سے جاری مسائل کو حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ترکی کشمیریوں کے ساتھ ہے، پانچ بڑی طاقتوں کے علاوہ بھی دنیا بہت بڑی ہے۔یہاں تک کہ جب انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی اس پر بھی طیب اردگان نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے اور اب بھی سلگتا ہوا معاملہ ہے۔جس پر انڈیا ان سے کافی ناراض بھی ہوا تھا۔ لیکن کشمیریوں کی طرف سے ان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔

    لیکن اب وہی طیب اردگان انڈیا کو ڈرونز فراہم کر رہے ہیں اورسوچیں کہ انڈیا یہ ڈرونز حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے کس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے تو اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے کہ انڈیا کا سب سے پہلا ہدف کشمیر اور پاکستان ہوں گے۔ ان سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کیونکہ چین کے خلاف کچھ کرنے کا تو ویسے ہی مودی سرکار میں کوئی دم نہیں ہے اس لئے وہ اپنے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے اور اپنی عوام کی نظروں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لئے انھیں کشمیر اور پاکستان کے خلاف ہی استعمال کریں گے۔اور اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو طیب اردگان وہ غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ بار خطاب کیا ہے۔ اور پاک ترک تعلقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ترکی پاکستان کا ایسا اتحادی ہے جس کی سرحد پاکستان سے نہیں ملتی لیکن دل اور روح پاکستان سے جڑے ہیں۔ ان دونوں کی دوستی اور محبت چین سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے یہاں تک بھی بیان دیا تھا کہ۔۔ ترکی کے لیے کشمیر کی وہی حیثیت ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔لیکن اپنے اس دوست کو تو تحفہ دینے کے لئے ترکی کے پاس صرف اور صرف ارطغرل ڈرامہ تھا لیکن ہمارے دشمن کے ساتھ ڈرونز کی ڈیل کرکے دوستی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھیجنے کے لئے صرف ترک فنکار تھے جو یہاں آئے اور خوب شہرت بھی حاصل کی لیکن انڈیا کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور کاروبار بھی ایسا جس کا سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستان کو ہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اب کہاں گئے وہ سب بیانات اور نعرے جب طیب اردگان کی ناک کے نیچے انڈیا ترکی کے ساتھ یہ ڈیل کر رہا ہے۔ اب وہ کیوں خاموش ہیں؟دراصل اس کے پیچھے بھی وہی وجہ ہے جو کہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب میں میوزیکل کنسرٹ کروانے کے پیچھے ہے۔

    جس طرح وہ اپنی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرکے سیاحت اور دوسرے صنعتوں پر شفٹ کرنا چاہتے ہیں اور خوب پیسہ بنانا چاہتے ہیں تو اس ڈیل کے پیچھے بھی دراصل ترکی کے مالی مفادات ہیں۔کیونکہ ترکی کے معاشی حالات اس وقت کوئی زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں زبردست گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ترکی کو اگست
    2018 میں اس طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ترکی کا تنازع شروع ہوا تھا اور ٹرمپ نے ترک مصنوعات جیسے سٹیل اور المونیم پر عائد ٹیرف کو دگنا کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے لیرا کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح اب بھی لیرا کی قدر ڈالر مے مقابلے میں چالیس فیصد تک کم ہو کر رہ گئی ہے۔کرنسی کے بحران نے کئی ترک شہریوں کو سرکاری طور پر طے شدہ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے جس پر کئی شہریوں کی جانب سے انقرہ اور استنبول میں احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ترکی میں Inflation 21%تک بڑھ چکی ہے۔اور ترکی کی اس صورتحال کا ہمارے دشمن نے مکمل فائدہ اٹھایا ہے۔ اور مودی سرکار نے پاکستان کے دوست ملک کو اپنی جیب میں ڈال کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ امت مسلمہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں اتحاد نام کی کوئی چیز باقی ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔

  • دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    پانامہ کیس کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جس نے گاڈ فادر کے الفاظ نہ سنے ہوں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ گاڈ فادر کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

    وہ دس Lessonsجو ہر ایک انسان اس فلم سے سیکھ سکتا ہے۔ یہ دراصل وہ دس Lessonہیں جن کو سیکھ کر ہر ایک انسان اپنی زندگی میں ایک بدلاو لا سکتا ہے۔ دی گاڈ فادر، یہ فلم نہ صرف سنیما کا ایک شاہکار ہے بلکہ شاید اب تک کی سب سے بڑیfilm trilogyہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آج کے دن تک بھی لوگ دی گاڈ فادر کے نام سے بننے والی تینوں فلموں کو نہ صرف شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ بار بار دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان فلموں کو جب بھی کوئی انسان دیکھتا ہے تو وہ ہر باران سے ضرور کوئی نہ کوئی نیا سبق سیکھتا ہے۔ دراصل گاڈ فادر صرف ایک جرم یا مافیا پر بننے والی فلم نہیں ہے بلکہ اس میں CapitalismGreed Family betrayalاور بہت سے دوسرے موضوعات بھی ہیں جن کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن اگرآپ ان فلموں کو دیکھتے ہیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان سے بہت سی ایسی چیزیں سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو آپکی زندگی میں بہت فائدہ دیں گی۔ ان فلموں سے آپ power, leadership and overall success کے فارمولے جان سکتے ہیں۔ چاہے آپ سرمایہ کار ہیں، ایک چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں یا ملٹی بلین ڈالر کی بزنس کارپوریشن۔۔ آپ کے لئے یہ فلمیں بہت ہی فائدہ مند ہوں گی اور آپ لازمی ان سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک ایتھلیٹ ہیں یا کوچ ہیں تب بھی یہ آپ کے لئے فائدہ مند ہیں۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ ان فلموں میں Human natureکی وہDark sideدکھائی گئی ہے جس کا سامنا ہر ایک انسان کو اپنی زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر ضرور کرنا پڑتا ہے۔

    اس فلم سے ایک انسان جو سب سے پہلا سبق سیکھ سکتا ہے وہ یہ کہ اپنی قیادت پر زور دیں یعنی Assert your leadership
    کبھی بھی اپنے ماتحت لوگوں کو اپنے مخالف مت ہونے دیں۔جب FredoMulgreenکا دفاع کر رہا تھا تو وہ ایک طرف تو مائیکل کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہا تھا اور دوسرا اس کی بہت زیادہ بےعزتی کی وجہ بھی بنا تھا۔ جس کا اثر اس واقع میں ملوث تمام افراد پر ہوا۔ جس کا بعد میں Hymon rothنے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ اس لئے جب آپ کسی کو لیڈ کر رہے ہوں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے ماتحت جتنے بھی لوگ ہیں ان کی عزت ہو اور کبھی کسی Outsiderکو یہ شو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کی ٹیم میں کوئی کسی کو بے عزت کر سکتا ہے یا اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ آپ کی ٹیم متحد ہو گی تو ہی آپ کی قیادت کو لوگ تسلیم کریں گے لیکن اگر ٹیم میں ہی اختلافات ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی لیڈرشپ میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اس سے آپ کمزور ہوں گے جس کا کوئی بھی باہر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کوئی فیصلہ کریں تو اسے اپنی ٹیم کے ساتھ ڈسکس کریں اور کسی کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہے تو اس کو کلئیر کریں تاکہ پوری ٹیم متحد ہو اور ایک پیج پر ہو۔ آپ کی ٹیم میں سے کوئی بھی ممبرDisconnect
    نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا Lessonیہ ہے کہ Build Alliancesیعنی اپنے کسی بھی کام میں کامیابی کے لئے دوسروں کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ اس فلم میں ڈان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اپنا مقروض بنا کر رکھتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ الائنس بناتا تھا جو ضرورت پڑنے پر اس کوProtectکرسکیں اور اسے فائدہ پہنچا سکیں۔ اس کے نیٹ ورک میں ہر طرح کے لوگ تھے ایک مقامی سٹور چلانے والے سے لیکرملک کے طاقتور ترین لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کمیشن کے لوگوں کو نئے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے ویٹو کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے Virgil salazoکو صبح کے وقت اجازت کے لئے بھیجا یا تھا۔ اور ویٹو کی جو سب سے خاص خوبی تھی وہ یہ تھی کہ
    He was the man of his wordsوہ جو بھی الائنس بناتا تھا یا معاہدہ کرتا تھا اس میں وہ اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ ہر قیمت پر پورا ہو۔ اس کے علاوہ وہ Voilenceکو کبھی بھی ابتدائی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرتا تھا مطلب پہلے پہل آرام سے پیار محبت سے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ہی ہر ایک کام نکلوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور ہمیشہ ایسی ڈیل بنائی جاتی تھی کہ جس میں دونوں پارٹیوں کا فائدہ ہو۔ اب اگر آج کے دور میں ہم دیکھیں تو ہر ایک انسان کے لئے نیٹ ورکنگ بہت اہم ہے خاص طور پر کاروباری لوگوں کے لئے لیکن اس میں صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایسی ڈیل بنانی چاہیے جس میں دوسری پارٹی کو بھی فائدہ ہو اگر آپ دوسری پارٹی کا فائدہ سوچتے ہیں جس میں وقتی طور پر آپ کو کوئی خاص benefitنہ بھی ہو تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ ڈیل آپ کو کیسے فائدہ دے سکتی ہے۔ تب ہی آپ کی Deals and working relationsبھی لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ Understand Your Surroundingsیعنی اپنے ماحول کو سمجھیں کہ آپ کے آس پاس کیسے لوگ ہیں وہ کیا سوچتے ہیں۔ Corleone donsاس کام میں ماسٹر تھے۔ وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ وہ اپنے اردگرد کے ہر ایک شخص کا اچھی طرحanalyseکرتے تھے اوران کوسمجھتے تھے اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو یا ان لوگوں کو کہ جن سے آپ کا مقابلہ ہے انھیں سمجھتے ہوئے ایسا پلان بنا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں اور آپ ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور ایک بہت ہی اہم بات جو ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے وہ یہ کہNever Hate Your Enemiesہو سکتا ہے آُپ کو یہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا ہو لیکن ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ انسان کو کبھی اپنے دشمنوں سے بہت زیادہ نفرت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے آپ کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ آج کل جس طرح سے مقابلے کا دور ہے تو اس میں ضروری ہے کہ انسان بہت زیادہ حساس نہ ہو وہ ہر ایک چیز کو Personal attackکے طور پر نہ لے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو پسند کریں لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں اس میں اپنے Emotionsکو حاوی نہ ہونے دیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسے دشمنوں کا سامنے نہیں کرنا پڑتا جیسے دشمن Don vetoیا مائیکل کے تھے۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہم سب کو ایسے لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جو ہماری کامیابی کو برداشت نہیں کرسکتے تو ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینا چاہیے۔۔ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم جذباتی ہو کر کوئی فیصلہ کریں تو اس سے ہمیں وقتی satisfactionتو مل جائے لیکن اگر ہم اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے تو ہمیں کبھی بھی آگے چل کر اس پر پچھتانا نہیں پڑے گا۔

    اس کے علاوہHave the Right Teamجب بھی ٹیم بنائیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی ٹیم میں موجود تمام لوگوں کی خوبیوں، خامیوں اور کمزوریوں کا بہت اچھی طرح سے علم ہونا چاہیے۔ تب ہی آپ اپنی ٹیم میں موجود لوگوں کے
    Potentialکا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔Don vetoجانتا تھا کہ اس نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو مختلف حالات میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ اگر صرف Negociationکے لئے بھیجنا ہوتا تھا تو Tom Hegenکو بھیجا جاتا تھا۔ دوسری طرف ڈان یہ بھی جانتا تھا کہ Luca breziکا استعمال کب کرنا ہے۔ اس نے Tesseo and clamenzaجیسے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر رکھا تھا۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا کہ اہم عہدوں پر تعینات لوگ اپنے ماتحت لوگوں سے ان کی
    Skills and qualitiesکے حساب سے کام لیں تاکہ ہر ایک ٹیم ممبر میں موجود Potenial کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی ٹیم میں مختلف خوبیوں کے لوگ ہوں لیکن ساتھ ہی وہ سب اس قابل بھی ہوں کہ وہ ایک ساتھ کام کر سکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ Conceal Your Intentionsاپنے ارادوں کو کبھی کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور مائیکل اس کام میں بہت ماہر تھا۔ اس کے ارادوں کا صرف تب پتا چلتا تھا جب وہ ان پر عمل کرتا تھا۔ فلم دیکھنے والے آخر تک یہ ہی جاننے کی کوششوں میں ہوتے ہیں کہ مائیکل کیا سوچ رہا ہے۔ جبکہ Sonnyیہ اصول کبھی نہیں سیکھ سکا وہ ہمیشہ چیختا چلاتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کا ارادہ کیا ہے سوچیں کہ اگرمائیکل جنازے کے دوران Berziniپر چیخنا چلانا شروع کردیتا تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ مائیکل کے دماغ میں کیا ہےاور اس طرح وہ اپنے ارادے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے ارادوں کو صحیح وقت آنے پر ہی لوگوں پر ظاہرکریں کیونکہ اگر آپ وقت سے پہلے اپنے پلان دوسروں کو بتا دیں گے تو ایک طرف تو وہ آپ سے پہلے ہی اپنا کوئی بڑا پلان آپ کے مقابلے میں بنا سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹیں بھی کھڑی کر سکتے ہیں۔ آپ کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ایک اور بات جس کا بہت خیال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ کہ Never Be Carelessکبھی اپنے کام میں اپنے فیصلوں میں لاپرواہی مت کریں۔ جب ڈان اپنے ساتھی مائیکل کو ڈان بننے کی ٹریننگ دے رہا ہوتا ہے تو وہ اس ایک Lessonپر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ کبھی بھی لاپرواہ مت ہونا۔ کیونکہ Vetoنے اپنے اتنے سالوں کے تجربے میں یہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا کہ بہت بڑے بڑے ذہین اور طاقتور لوگ لاپرواہی میں کی گئی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے برباد ہو گئے تھے۔ ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ بعض اوقات انسان لاپرواہ ہو جاتا ہے لیکن پھر مستقبل میں اس عادت کی وجہ سے آپ کو پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جو ہمیں ایک وقت پر بہت ہی کم اہم اور معمولی لگ رہی ہوتی ہیں اگر ہم ان سے لاپرواہی برتیں تو وہ ہماری بربادی کی وجہ بنتی ہیں۔

    ایک اور چیز جو ہم ان فلموں سے سیکھ سکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے سامنے والے کو ہمیشہ ایسی آفر کریں کہ وہ انکار نہ کر سکے۔Make Them An Offer They Can’t Refuseاس فلم میں Vitoہمیشہ اس اصول پر کام کرتا تھا۔ اور ایسی آفر کرنے کے لئے وہ اپنے مقابل لوگوں کو پہلے اچھی طرح سمجھتا تھا ان کی ضرورتوں کے بارے میں جانتا تھا۔ انھیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے اور کیا چیز نا پسند ہے۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آفر کرتا تھا جس کے بارے میں پھر اس کو پتا ہوتا تھا کہ ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر موجود لوگ اس کی آفر کو کبھی ریجیکٹ نہیں کریں گے۔ ویسے مافیا باس ہونے کی وجہ سے اکثر
    Vitoاس کام کے لئے تشدد کا استعمال بھی کرتا تھا۔ لیکن عام زندگی میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ دوسری پارٹی کو ایک اچھی آفر دے کر بھی ساتھ ملا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں خود ہمیشہ کم بولیں اور دوسروں کو زیادہ سنیں۔Listen More Than You Talkجب آپ کسی کو سن رہے ہوتے ہیں تو ایک تو آپ اس کی باتوں سے انفارمیشن لے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی Body languageسے بھی آپ کو بہت کچھ سمجھنے کو ملتا ہے لیکن اگر آپ کسی کو سنن کی بجائے خود بولنا شروع کر دیتے ہیں اور خود زیادہ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے انفارمیشنRecieveکرنے کی بجائے ان کو انفارمیشن Provideکر رہے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی ڈیل کے لئے Negotiate
    کرنا ہو تو دوسروں کو زیادہ بولنے دیں تاکہ آپ کو ان کے ارادوں کا علم ہو سکے جس سے آپ کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔یک آخری اورسب سے اہم Lessonیہ ہے کہ Greatness is BuiltVitoپیدا ہوا تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک وقت آیا کہ اس کے پاس جو کچھ تھا وہ اس سے چھین لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے سیکھنا تھا اور سب کچھ دوبارہ بنانا تھا۔ ایسی صورتحال میں اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا حالانکہ یہ ایک آسان آپشن تھی۔ لیکن اس نے مشکل راستے کا انتخاب کیا اور اپنے آپ کوخود بڑا بنایا۔ اگر ہم انسانی تاریخ بھی دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی Greatnessکے ساتھ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ انھوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسی Legacyبانئی کہ جسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک یاد رکھا جا سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تمام لوگوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ کبھی سست نہیں پڑتے تھے اپنے حالات کے بارے میں شکایت نہیں کرتے تھے۔ بلکہ حالات سے سیکھ کر ایمانداری سے فیصلے کرتے ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔یہ وہ دس Lessonہیں جو ہم ان فلموں سے سیکھ کر اپنے زندگیوں پر اپلائی کر سکتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بہتر طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔