Baaghi TV

Author: عفیفہ راؤ

  • خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے ایسا اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے نے دس ارب ڈالر لگا کر دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی خلائی دوربین بنا کر اس کو خلا میں ایک اہم مشن پر روانہ کیا ہے۔ اس دوربین کا نام
    James Webb Space Telescopeرکھا گیا ہے۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان تینوں اداروں میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 30سال کاعرصہ لگا ہے اور اسے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اسپیس ٹیلی سکوپ orbitمیں اب تک بھیجے جانے والے سب سے بڑے فلکیاتی آئینے کا استعمال کرے گی جس کا قطر ساڑھے چھ میٹر ہے۔ اور دوربین کا یہ مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حساس ترین کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ اس کا وزن چودہ ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ فلکیاتی آئینہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل طور پر کھلنے میں دو ہفتے تک کا وقت لگے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی جو زمین کے چاند سے فاصلے سے بھی چار گنا زیادہ ہے۔

    اس ٹیلی سکوپ کو French Guianaمیں یورپین اسپیس ایجنسی کے بیس سے صبح 7:30 بجے زمین سے چھوڑا گیا ہے جو
    Ariane 5 rocketسے لیس ہے۔ خلا تک پہنچنے کے لیے جیمز ویب نے پہلے ستائیس منٹ کی ایک طویل فلائٹ کی جو ایک کنٹرولڈ دھماکے جیسی تھی۔ جس کے بعد یہ راکٹ سے الگ ہو گئی۔ لیکن اصل کام اس کے راکٹ سے الگ ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ کیونکہ اس دوربین کو بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ راکٹ سے الگ ہونے کے بعد اس دوربین کو 344
    ایسے کڑے لمحات سے گزرنا ہو گا جو اس کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور یہ ہی اس مشن میں کھیلے جانے والا اصل جوا ہے کیونکہ اگر ان لمحات میں سے کسی ایک میں بھی کوئی معمولی سی غلطی بھی ہوئی تو سمجھو کہ کھیل ختم۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سائنسدانوں کو اتنا پیسہ لگا کر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی کیا ضروت تھی؟دراصل اس دوربین سے پہلے ناسا نے1990میں Habal telescopeکو خلا میں بھیجا تھا۔ اور ہبل دنیا کی وہ پہلی ٹیلی سکوپ تھی جس کو خلاء میں بھیجا گیا۔ اس کی وجہ سے سائنسدانوں کو اتنی اہم معلومات ملیں کہ انہوں نے ہبل کو دریافتوں کی ایک مشین کا نام دیا۔
    ہبل کے خلا میں جانے کے بعد ہی سائنسدانوں کو یہ علم ہوا تھا کہ ہماری کائنات کتنے ارب سال پرانی ہے۔ اور آج سب جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کی عمر تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس دریافت پر نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی کائنات میں موجود کہکشاؤں کے درمیان انتہائی بڑے بلیک ہولز کی موجودگی کے ثبوت ملے تھے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو سکا کہ Big bangکے چند کروڑ سال بعد ہماری کائنات کس طرح کی تھی۔اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدان سولر سسٹم سے باہر موجود کسی ایک بھی سیارے یاexoplanetکے بارے میں نہیں جانتے تھے۔

    اس لئے ہبل کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اگر انہیں اس کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ہے تو اس کے لئے ان کے پاس جتنی اعلی ٹیلی سکوپ ہو گی اتنی اچھی انفورمیشن ملے گی۔اس لئے ابھی سائنسدانوں کے پاس دس یا بیس سال تک کا مزید وقت ہونے کے باوجود کہ وہ ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی بہت سی اہم معلومات جمع کر سکتے تھے۔ انہوں نے دس ارب ڈالرز لگا کر James Webb Space Telescopeکو خلا میں بھیجا گیا۔ کیونکہ اس نئی دوربین کا فلکیاتی آئینہ ہبل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس میں روشنی کو جمع کرنے کی بھی زیادہ صلاحیت موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہبل کے مقابلے یہ ٹیلی سکوپ وقت میں زیادہ پیچھے تک سفر کر سکتی ہے۔ ویسے بھی ہبل زمین کے گرد قریبی مدار میں موجود تھی اور یہ ٹیلی سکوپ زمین سے زیادہ فاصلے ہر اور دوسری کہکشاوں کے قریب ہوگی اس لئے اس کے زریعے اور بھی زیادہ اہم معلومات مل سکیں گی اب James Webb Space Telescopeجو کہ ہبل ٹیلی سکوپ سے دس گنا زیادہ حساس ہے تو یہ دوربین یہ بھی دیکھنے کے قابل ہو گی کہ ہماری کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ
    James Webb Space Telescopeکی مدد سے وہ خلا میں ان ستاروں کو بھی ڈھونڈ پائیں گے جو ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔اس ٹیلی سکوپ میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے کہیں دور موجود سیاروں کے ماحول اور وہاں موجود گیسوں کی جانچ کے ذریعے زندگی کے شواہد تلاش کر سکے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ دوسرے سیاروں کے ماحول میں کس قسم کے مالیکیول موجود ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوربین کہکشاں میں رہنے کے قابل سیاروں کی تلاش میں ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گی۔

    دراصل سائنسدان جان ہی چکے ہیں کہ ہم انسان ایک ستارے کی باقیات سے وجود میں آئے جو اربوں برس پہلے پھٹ گیا تھا۔ اس لئے اب وہ ان باقیات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں کہ جس طرح الگ ہونے کے بعد زمین پر زندگی کا آغاز ہوا تو باقی ستاروں کے ساتھ کیا ہوا الگ ہونے کے بعد ان کے کیا حالات ہیں۔یعنی اس دوربین کی مدد سے سائنسدان کائنات کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جو شاید ابھی انہوں نے سوچا بھی نہیں ہے اس لئے آنے والا وقت اب Space science
    سے متعلق بہت حیران کن ہونے والا ہے۔

    لیکن اس کے لئے تھوڑا مزید انتظار بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس ٹیلی سکوپ کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور اس کی مدد سے پہلی تصاویر دیکھنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے کھولنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک بار کھلنے کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے اور اس میں موجود فلکیاتی آئینوں کو ترتیب میں آنے اور تمام آلات کو آن کرنے میں کئی مہینوں کا وقت لگے گا۔ اس لئے امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2022 کے موسم گرما میں ہی سائنسدان پہلی تصاویر حاصل کر سکیں گے۔لیکن آخر میں ایک بار پھر میں آپ کو بتا دوں کہ یہ Space science کا ایک جوا ہے اور بہت ہیExpensive and complicated
    قسم کا جوا ہے کیونکہ یہ ٹیلی سکوپ کسی ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے اور اس کا مکمل طور پر کھل کر اپنے آپ کو پھیلانا خلائی تاریخ میں اب تک کا سب سے مشکل کام ہو گا۔ ایسے 300 سے زیادہ لمحات ہوں گے جب کچھ بھی غلط ہوا تو کھیل تمام ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ ایسے کاموں میں تو پھر زیادہ خطرے کا مطلب ہی زیادہ فائدہ ہے۔اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو پھر یہ جاننا مشکل نہیں رہے گا کہ یہ کائنات کیسے شروع ہوئی اور کیا ہم اس میں اکیلے ہیں؟اور پھر سائنسدانوں کی یہ بازی جیتی ہوئی تصور کی جائے گی۔

  • محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان عنقریب ، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان عنقریب ، تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بات ہو گی کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017
    میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔

    ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macronسے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔

    یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔

  • افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    بیس سال تک افغانستان میں جو طالبان، امریکہ کی جان کے دشمن تھے اس کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اب وہ امریکہ سے ہی رحم کی اپیل کر رہے ہیں سوچیں ایسا کیا ہوا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی؟ آخر کیوں طالبان اپنے دعوے پورے کرنے میں ناکام رہے؟ اور اب افغانستان میں اصل صورتحال کیا ہے افغان عوام اپنا گزارہ کیسے کر رہی ہے؟ اور کیوں پاکستان افغانستان کے لئے ہر ایک فورم پر آواز اٹھا رہا ہے؟ وہ کون سا ایسا خطرہ ہے جو پوری دنیا کی نوجوان نسل کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے؟

    پاکستان میں افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔ آئی۔ سی وزرائے خارجہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس بھی بلایا گیا ہے جو کہ انیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ تاکہ افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے عالمی برادری خاص کر کہ امریکہ کو افغانستان کی مدد پر راضی کیا جائے۔اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خود طالبان حکومت نے بھی عالمی قوتوں کو پکارنا شروع کر دیا ہے کہ لاکھوں افغان شہریوں کو انکی مدد کی ضرورت ہے اس لئے رحم اور ہمدردی کی بنیاد پران کی مدد کی جائے۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے اپنے ایک انٹرویو میں امریکا سے اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے دس بلین ڈالر سے زائد منجمد فنڈز کو جاری کیا جائے کیونکہ جب تک فنڈز بحال نہیں ہوں گے تو طالبان کیسے دنیا کو اپنا کام دکھا سکیں گے۔امیر اللہ متقی نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ طالبان حکومت کا امریکا سے کوئی جھگڑا نہیں ہے وہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ غیر مستحکم افغانستان یا کمزور افغان حکومت کا ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔اب اگر طالبان حکومت کے وزیر خارجہ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اگرعالمی برادری نے افغانستان پر بروقت توجہ نہ دی تو وہاں ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن واقعی اگر افغانستان پر اس وقت دنیا نے توجہ نہ دی تو یہ آنے والے وقت میں ایک ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔دراصل اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ امریکہ کچھ معاملات کو لیکر افغانستان پر غصے میں ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پرلگائی گئی پابندی ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے ساتویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کو اسکول جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ہے خواتین کو ان کی ملازمتوں پر واپس جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ جس پر طالبان حکومت کا یہ کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ فی الحال بہت سی خواتین سرکاری ملازمین کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے لیکن اس کی وجہ ہماری سخت گیر پالیسی نہیں بلکہ اسکولوں اور کام کی جگہوں پرشریعت کے تحت علیحدہ انتظامات کا نہ ہونا ہے۔ اور جہاں یہ انتظامات مکمل ہیں جیسے افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے دس صوبوں میں بارہویں جماعت تک لڑکیاں اسکول جا رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں بھی سو فیصد خواتین کام پر واپس آ گئی ہیں۔ لیکن باقی جگہوں پر انتظامات کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ طالبان حکومت کے پاس فنڈز ہوں بغیر فنڈز کے وہ کوئی بھی کام نہیں کر سکیں گے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ آپ ایک انسان کے ہاتھ باندھ دیں اور پھر اس کو لڑنے کا کہیں۔اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی اس وقت تقریبا تین کروڑ نوے لاکھ ہے جس میں سے آدھی آبادی پندرہ سال سے کم عمرنوجوانوں کی ہے۔ اور وہاں کی آبادی کا برا حصہ Poverty lineسے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

    اور جب کسی ملک میں غربت پھیلنا شروع ہو جائے تو آپ کو معلوم ہے کہ وہاں ہر طرح کی برائیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ امن و امان کا پہلے ہی افغانستان میں کافی سنگین مسئلہ ہے۔اور اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ جو پوری دنیا کی آںے والی نسلوں کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے وہ وہاں پر ہونے والی پوست کی کاشت اور ہیروئین کی برآمد ہے جو اس وقت عروج پر ہے۔ ہیروئین کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جو ایک نئے نشے کا دھندہ شروع ہو چکا ہے وہ کرسٹل میتھ ہے۔ جس کا ایک سو کلو کا تھیلا جب افغانستان سے نکل کرکسی دور دراز ملک میں پہنچتا ہے تو اس ایک تھیلے کی قیمت دو ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔افغانستان کے جنوب مغربی ضلع میں جہاں ایفیڈرا نامی بوٹی کاشت کی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں اومان بھی کہا جاتا ہے وہاں تقریبا پانچ سو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جو روزانہ تین ہزار کلوگرام کرسٹل میتھ تیار کرتی ہیں۔پہلے طالبان کی جانب سے ایفیڈرا اگانے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ لیکن پھر اس کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں ہوسکا۔بلکہ پابندی لگنے سے وہاں کے فیکٹری مالکان کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ میتھ کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اس طرح اب جن فیکٹری مالکان نے یہ بوٹی اپنے گوداموں میں سٹور کی ہوئی ہے وہ آنے والے دنوں میں اس بوٹی سے کرسٹل میتھ بنا کر خوب پیسہ کما سکتے ہیں۔طالبان حکومت اس پابندی پر عمل درآمد کروانے میں کیوں ناکام رہی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بظاہر ایک سادہ سی وجہ تو یہ بھی ہے کہ ایفیڈرا کی کاشت پر اس وقت پابندی کا اعلان کیا گیا جب کسان فصل کاٹ چکے تھے اس وجہ سے پابندی پر عمل ہوا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اصل صورتحال اگلے سال جولائی میں سامنے آئے گی جب نئی فصل کی کاشت کا وقت ہو گا کہ اس وقت طالبان کی حکومت کاشتکاروں کو اس کی اجازت دے گی یا نہیں؟اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کو پیسے کی اشد ضرورت ہے اور ان کے پاس پیسہ کمانے کا صرف ایک یہ ہی آسان طریقہ ہے۔افغانستان میں پوست کی کاشت سے جو ہیروئین تیار کی جاتی ہے دنیا بھر کی ڈیمانڈ کا تقریبا80 فیصد اسی سے پورا ہوتا ہے۔ افغانساتن میں ایسی لا تعداد فیکٹریاں موجود ہیں جو افیون سے ہیروئن بناتی ہیں اور ہر فیکٹری 60-70 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ اور دوسری طرف اب جس رفتار سے میتھ تیار کی جا رہی ہے وہ ہیروئن کی تجارت کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جائے گی۔

    اور ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو اس کے نقصانات کا علم نہیں ہے وہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ ان برے حالات میں پیسہ کیسے کمائیں؟اورایسی صورتحال میں جب امریکہ سمیت تمام عالمی اداروں نے افغانستان کے فنڈز روکے ہوئے ہیں کوئی ان کی مدد کو سامنے نہیں آرہا دوسری طرف افغانستان میں کاشتکاروں کو خشک سالی اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے تو سوچیں کہ ان کے پاس کیا حل باقی بچتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے لوگ سوچیں کہ وہاں کاشتکار کوئی اور فصل کیوں کاشت نہیں کر لیتے؟تو اس میں مشکل یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اور فصل کاشت کرنے کے لیے پانی کے کنویں کھودنے پڑتے ہیں۔ اگر بھنڈی یا ٹماٹر کاشت کریں تو ان کاشتکاروں کو کنویں کی آدھی قیمت بھی وصول نہیں ہوتی۔ایسی صورتحال میں آپ سوچیں کہ طالبان حکومت پابندی پر کیسے عمل درآمد کر وا سکتی ہے۔ بلکہ اس وقت تو وہاں اتنی آسانی ہو گئی ہے کہ پابندی کے اعلان سے قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور وہ منشیات ڈیلر جو پہلے خفیہ طور پر کرپٹ افغان اہلکاروں کو رشوت دے کر مال فروخت کرتے تھے اب کھلے عام بازاروں میں سٹال لگا کر منشیات فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

    کابل میں طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بھی حال ہی میں یہی بیان دیا ہے کہ اس وقت طالبان کسانوں کے لیے متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں اور جب تک ھم لوگوں کو کچھ متبادل فراھم نہیں کر لیتے ھم انھیں کیسے منع کر سکتے ہیں۔
    اس لئے بین الاقوامی برادری کو کچھ سوچنا چاہیے افغان لوگوں کے لئے نہ صرف جلد از جلد فنڈز ریلیز ہونے چاہیں بلکہ ان کی مدد بھی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ان کی مدد نہ کی گئی اور منشیات کی کاشت پر بھی پابندی لگا دی تو افغان عوام بھوکے رہ جائیں گے وہ اپنے خاندانوں کو کیا کھلائیں گے اور دوسری صورت میں اگر منشیات کی کاشت کا سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو یہ پوری دنیا کے لئے ایک ایٹم بم ثابت ہوگا اور اس کی لپیٹ میں ہماری نوجوان نسل آئے گی جبکہ افغان نسل تو پہلے ہی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے وہاں سڑک کنارے جگہ جگہ نوجوان ٹولیوں میں نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان اکثروبیشتر ان کو اٹھا کر Rehabilitaion centreبھی چھوڑ کرآتے ہیں لیکن وہ نوجوان پھر واپس آ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت منشیات کی پیداوار اتنی زیادہ ہو رہی ہے کہ وہاں ہیروئین اور میتھ بہت زیادہ سستی بھی ہے۔ اس لئے اس ایٹم بم کو ناکارہ کرنے کے لئے امریکہ اور عالمی طاقتوں کو جلد از جلد اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا تاکہ اپنی نوجوان نسلوں کو بچایا جا سکے۔

  • پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔

    وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔
    معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

    محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔
    اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔

  • محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔
    لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔
    سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا کے لیے اس وقت عالمی سطح پرجو چیز سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے وہ اس کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دو بڑے ممالک امریکہ اور روس کے درمیان بدلتے رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اس وقت امریکہ کے لئے بھی امتحان ہے کہ وہ روس سے دفاعی نظام خریدنے پر کیا انڈیا کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس نے باقی ممالک کے ساتھ کیا۔ انڈیا کے یہ دونوں دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں اکثروبیشتر ایک دوسرے پر کئی الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس وقت یہ تعلقات ڈسکس کرنے کی وجہ حال ہی میں روس کے صدر پیوٹن کا چند گھنٹوں کا کیا گیا انڈیا کا دورہ ہے جس میں اس نے مودی سے ملاقات کی اور مختلف معاہدوں ہر دستخط بھی کئے۔ صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے
    2019 کے بعد پہلی مرتبہ نئی دہلی میں براہ راست ملاقات کی ہے۔ کورونا کے بعد روسی صدر کا یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے پیوٹن نے جنیوا میں صرف امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی۔ ورنہ اس سال ہونے والے کئی اہم ایونٹس میں بھی یا تو پیوٹن نے شرکت سے معذرت کی تھی یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جاتی رہی ہے۔جس بات پر انڈین میڈیا بہت خوش ہورہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے وہ پیوٹن کا یہ بیان ہے کہ ہم بھارت کو ایک عظیم طاقت، ایک دوست ملک اور مختلف اوقات میں آزمائش کردہ دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی بھارت اور روس نے فوجی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ کامرس اور تجارت سے متعلق اٹھائیس سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسٹیل، بحری جہاز تیار کرنے، کوئلے، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ دس سال پر مبنی دفاعی تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور ایک سال کا تیل کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روسی دفاعی میزائل سسٹم
    S-400کی فراہمی بھی بھارت کو اسی ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی یہ ڈیل 2018 میں طے کی گئی تھی۔ جس پرامریکا نے اپنی ناپسندیدگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن مودی سرکار اپنی حرکت سے باز نہیں آئی اور یہ معاہدہ امریکہ کی مرضی کے خلاف چلتا رہا۔S-400دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے یہ دنیا کے سب سے جدید ترین زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام میں سے ایک ہے۔ اس کی رینج400کلومیٹر تک ہے اور یہ بیک وقت 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں دو میزائل کا نشانہ بھی لے سکتا ہے۔یہ دفاعی نظام حاصل کرنے کے بعد انڈیا کو ایک اہم دفاعی صلاحیت حاصل ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اس میزائل سسٹم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکہ واشنگٹن نے کئی روسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا نشانہ بنانے کے لیے2017 میںCountering Americas Adverseries through sanctions ACTمتعارف کرایا گیا تھا۔ جو کسی بھی ملک کو ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے سے روکتا ہے۔معاہدوں کے ساتھ ساتھ مودی اور پیوٹن نے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے بعد نریندر مودی نے بیان دیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا نے بہت سی بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور کئی نئے جیوپولیٹیکل گٹھ جوڑ سامنے آئے ہیں لیکن بھارت اور روس کی دوستی برقرار ہے۔خیر ان دونوں کی دوستی تو ان کے درمیان ہونے والے مصافحے اور مودی کی روایتی جپھی سے نظر بھی آرہی تھی۔ لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ مودی سرکار آنے والے سنگین حالات اور چیلنجز سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی فیصلے کئے ہیں ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سیاست پرظاہر ہونا لازمی بات ہے۔

    خاص کر امریکہ کے معاملے میں انڈیا جو کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ کا ایک اہم اتحادی بنا ہوا ہے وزیراعظم مودی نے 2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جس طرح سے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے واشنگٹن کی حمایت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس کے علاوہ جب انڈیا نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار ملکی اتحاد کواڈ میں شمولیت اختیار کی تھی تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر انڈیا کا کہنا تھا کہ کواڈ ایک غیر فوجی اتحاد ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن روسی وزیر خارجہ لاوروف اس سے متفق نظر نہیں آئے تھے۔لیکن ماسکو نے کافی حد تک اس طرح کی پریشان کن چیزوں کو نظر انداز کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماسکو کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اب روس کو موقع مل گیا ہے کہ جو کچھ اس نے برداشت کیا وہ اس کا بدلا لے سکے اس لئے اب برداشت کرنے کی باری امریکہ کہ ہے۔ اس صورت حال کو جو چیز مزید مشکل بنا رہی ہے وہ انڈیا اور چین کے حالیہ بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ گذشتہ سال حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ کی گلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر لاٹھیوں اور پتھروں سے خون ریز جھڑپ ہوئی جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا افغانستان میں بھی اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انڈیا کی آخر امید روس ہی ہے کیونکہ اس وقت روس، چین، پاکستان اور افغانستان آپس میں کافی قریب ہیں۔ اس لئے انڈیا نے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کرے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ مودی اور پیوٹن کے درمیان اس پر بات چیت بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کو کن حالات میں جنگ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی معاملات کئی محازوں پر کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بیجنگ کے سرمائی اولمپکس2022 کا بھی سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی امریکی عہدیدار کو نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری طرف چین نے بائیکاٹ کی صورت میں جوابی اقدامات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تو کیا ان حالات میں امریکہ برداشت کر پائے گا کہ اس کا انڈیا جیسا اتحادی اس گروپ کے ملک کے ساتھ تعلقات بڑھائے جس کے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں؟تو اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں امریکہ کبھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گا۔

    کچھ عرصہ پہلے جب چین اور ترکی نے روس سے S-400دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تو امریکہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن جب امریکہ کی ناراضگی کے باوجود یہ دونوں ممالک باز نہ آئے تو امریکہ کی جانب سے ان پر پابندیاں لگا دی گئیں تھیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔۔یعنی انڈیا میں جو روسی صدر کے دورے پر خوشیاں منائی جا رہیں ہیں وہ بہت جلد کھٹائی میں پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ ان دس سالوں کے معاہدوں میں دس سال تک انڈیا سے پیسہ روس جاتا رہے گا۔ اور اس کے بدلے جو ہتھیار حاصل کئے جائیں گے وہ بھی انڈیا کے کسی کام نہیں آنے والے ان کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ رافیل طیاروں کا ہوا تھا کیونکہ ان کو چلانے والے تو آخر انڈین ہی ہوں گے نا۔ اس کے علاوہ انڈیا روس کے زریعے چین اور افغانستان کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ چین جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اب انڈیا کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک سکے ویسے بھی چین کبھی بھی انڈیا کو اس خطے میں مضبوط نہیں ہونے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مودی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا آج اگر چین انڈیا کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے تو وہ دوبارہ کسی بھی وقت جا کر امریکہ کی گود میں بیٹھ سکتا ہے جو کسی بھی طرح چین کو نہیں برداشت اور نہ ہی روس کو برداشت ہوگا۔ اس لئے روس صرف ایک ہتھیار بیچنے والے ملک کے طور پر تو ضرور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے گا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونے والا۔

  • دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ
    اس وقت تیل کے بے جا اخراجات کی وجہ ہو، ماحولیاتی آلودگی ہو یا بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ۔۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک تیل سے چلنی والی گاڑیوں سے جان چھڑا کر الیکٹرک کاروں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں الیکٹرک کاروں کا یہ سلسلہ شروع تو Teslaکمپنی کی الیکٹرک کاروں سے ہوا ہے جس کے بعد اس وقت کاریں بنانے والی تقریبا تمام ہی بڑی کمپنیاں اب اپنے اپنے برانڈ کی الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ اور ایلن مسک کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کاریں بنائیں بلکہ اصل چیز کچھ اور ہے۔ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب بنائی گئی، وہ کس نے بنائی تھی اور اس کے بعد الیکٹرک کاریں کیوں بننا بند ہو گئیں تھیں؟ اور اب یہ الیکٹرک کاریں کیسے اتنی کامیابی سے چل رہی ہیں؟

    ٹیسلا الیکٹرک کاروں کے اس وقت چار ماڈلز ہیں جو کہ سب سے زیادہ سیل ہو رہے ہیں ،
    Model S
    Model 3
    Model X
    Model Y
    لیکن اپنے ان چند ماڈلز کے ساتھ ہی ٹیسلا نے پوری دنیا کا Mind changeکردیا ہے مارکیٹ ٹرینڈز کوبدل کر رکھ دیا ہے۔ کچھ وقت پہلے تک ٹیسلا دنیا کی وہ واحد کمپنی تھی جو کہ موجودہ دور میں الیکٹرک کاریں بنا رہی تھی لیکن اب تقریبا تمام بڑی کمپنیاں اپنی اپنی الیکٹرک کاروں پر کام کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ اپنے الیکٹرک ماڈلز کو مارکیٹ میں سیل کے لئے لانچ کرنے والی ہیں۔جیسےToyotaکا bZ4X ماڈل۔General MotorsکاCadillac Lyriqماڈل۔بی ایم ڈبلیو کاBMW iXماڈل آنے والا ہے۔KIA کاEV6AudiاپنےQ4 e-tron Sportbackماڈل پر کام کر رہی ہے۔Mercedes-Benzکا EQBماڈل۔Lexusکا LF-Z Electrifiedماڈل۔Volkswagenکا ID.8جو کہ ایک Three rowوالی ایس یو وی گاڑی ہے۔Hyundaiکا IONIQ 5ماڈل یہ بھی ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی گاڑی ہو گی۔اور اس کے علاوہ جنرل موٹرز کی ہی GMC Hummer SUVگاڑی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں 2022سے لیکر 2024تک مارکیٹ میں لانچ ہونے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہ پیشن گوئی کی جا رہی ہے 2025 تک عالمی سطح پر تمام نئی گاڑیوں کی فروخت میں بیس فیصد الیکٹرک کاریں ہوں گی۔2030 تک ان کی تعداد چالیس فیصد ہوجائے گی جبکہ 2040 میں بظاہر تمام ہی بکنے والی نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔لیکن ویڈیو کہ آغاز میں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب ایجاد ہوئی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ الیکٹرک کاروں کی طرف موجودہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔ الیکٹرک کاروں کے اس سلسلے کو ہم تاریخ کا دہرایا جانا کہہ سکتے ہیں۔1900کے شروع میں بھی چالیس فیصد گاڑیاں تیل کی بجائے الیکٹرک بیٹریوں سے ہی چلتی تھیں۔ 38 فیصد گاڑیاں بھاپ انجن سے جبکہ صرف 2 فیصد گاڑیاں تیل یا پٹرول سے چلائی جاتی تھیں۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ بیٹری پر چلنے والی یہ گاڑیاں1935تک دنیا سے تقریبا ناپید ہی ہوگئیں۔ 1835میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی کارThomas Davinنے بنائی تھی۔ یہ پہلی ہائیڈروجن کار کے تیس سال بعد بنائی گئی تھی۔ جبکہ
    Gasolineانجن 1870کے بعد بننا شروع ہوئے تھے۔ جس کے بعد پہلی پروڈکشن کار 1885میں Carl Benzکی جانب سے بنائی گئی تھی جسے بعد میںMercedes-Benzکا نام دیا گیا۔ Rudalf Dieselنے 1900میں ہونے والے پیرس عالمی میلے میں اپنے ڈیزل انجن کو پہلی بارمونگ پھلی کے تیل سے چلایا تھا۔ جس کے بعد internal combustion engines انجن دنیا میں تیزی کے ساتھ مشہور ہوئے۔اور ان انجنوں نے بھاپ سے چلنے والے انجنوں کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ بھاپ سے چلنے والے انجنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سرد موسم میں وہ گرم ہونے میں
    45 منٹ لگا دیتے تھے۔ پانی کی محدود گنجائش ہونے کی وجہ سے بھاپ سے چلنے والی گاڑیاں زیادہ فاصلہ بھی طے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس لئےgasolineپر چلنے والی گاڑیاں ان کی نسبت زیادہ موزوں تھیں۔ البتہ ان کے انجن چالو کرنے کے لیے کافی زیادہ مشقت کرنا پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ گاڑیاں بہت زیادہ شور کرتی اور لرزتی تھیں۔ ان تمام نقائص کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک کاریں اس وقت بھی ذاتی استعمال کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند تھیں۔ یہ بالکل بھی شور نہیں کرتی تھیں، انہیں اسٹارٹ کرنے میں مشقت نہیں کرنا پڑتی تھی اور گیسولین اور بھاپ والی گاڑیوں کی نسبت انہیں چلانا بھی نہایت آسان تھا۔ خاص طور پر شہر کے اندر اور کم فاصلہ تک سفر کے لیے الیکٹرک کاریں بہت موزوں تھیں۔

    کاروں کے حوالہ سے بڑے نام جیسا کہfrederick porscheجو porscheموٹر کمپنی کا مالک تھا اور Thomas Edisonسمیت زیادہ تر لوگ الیکٹرک گاڑیوں کو ہی پسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ Porscheکی پہلی کارجو1898 میں لانچ کی گئی وہ الیکڑک ماڈل تھی جس کا نام Loaner Porsche تھا۔ اس کے ایک سال بعد Thomas Edisonنے الیکٹرک گاڑیوں کو لمبے سفر کے لیے موزوں بیٹریاں بنانے پر کام شروع کیا۔ Edisonکو یقین تھا کہ الیکٹرک کاریں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔ لیکن پھر اچانک دس سال تک اس پر کام کرنے کے بعدEdisonنے اس پر مزید کام کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ٹیسلا کی کاروں کی طرح الیکٹرک کاریں اس دورمیں بھی کافی مہنگی تھی جس کی وجہ سے یہ صرف امیر لوگوں کے استعمال تک محدود رہیں۔Henry Fordنے کار کو عام عوام کی پہنچ تک لانے کے لیے بہت غور کیا۔ وہ ایسی کار بنانا چاہتا تھا جو تین سے چار افراد کو بٹھا کر آسانی سے سفر کر سکے۔ اس مقصد کے لئے بڑی بڑی فیکٹریاں بنائی گئیں جن میں مختلف مرحلوں میں پرزوں کو جوڑ کم وقت میں گاڑیاں بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس تبدیلی سے گاڑیاں بنانے کے عمل میں بہت تیزی آئی اور بڑی تعداد میں گاڑیاں بنائی جانے لگیں۔ اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جس کی بدولت درمیانہ طبقہ بھی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگیا۔ صرف 1914میں فورڈ کمپنی نے دیگر تمام کاریں بنانے والی کمپنیوں کی کل تعداد کی نسبت زیادہ کاریں بنا کر فروخت کیں۔ اس وقت فورڈ کی ماڈل ٹی کار کی قیمت 260 ڈالر تھی۔ جو آج کے تقریبا 650 ڈالر کے برابر ہے۔ جبکہ اس وقت ایک الیکٹرک کار کی قیمت ایک ہزار سات سو ڈالر تھی جو آج کے 43 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ قیمتوں کے اس فرق نے الیکٹرک کاروں کے رجحان کو تقریبا ختم کر دیا۔ جبکہ اگر ہم ٹیسلا کی موجودہ قیمتوں کو دیکھیں تو ٹیسلا کی سب سے سستی کار کی قیمت اس کے برابر بنتی ہیں۔ جبکہ باقی ماڈل تو اس سے کہیں مہنگے ہیں۔ٹیسلا کی ماڈل ایکس سب مہنگی گاڑی ہے جس کی قیمت ہے99,900$ماڈل ایس کی قیمت 90,000$
    ماڈل وائے کی قیمت55,000$اورماڈل تھری جو ٹیسلا کی سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی ہے اس کی قیمت42,000$ہے۔Henry Ford and Thomas Edisonدونوں بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے1896میں اپنی پہلی تجرباتی الیکٹرک کار بنائی تھی۔ جس کے بعد انھیں اپنی الیکٹرک کار کمپنی فورڈ موٹر کمپنی بنانے کا خیال آیا۔1914میں جب یہ دونوں الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہے تھے تو گیارہ جنوری1914میں نیویارک ٹائم میں فورڈ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں اس کا کہنا تھامجھے امید ہے کہ ایک سال کے اندر ہم کمرشل بنیادوں پر الیکٹرک کاریں بنانا شروع کر دیں گے۔ میں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک منصوبہ آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ حقیقت میں۔۔ میں اور مسٹرEdisonپچھلے کئی سال سے الیکٹرک کاریں بنانے پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے جو سستی اور استعمال میں آسان ہوں۔ تجرباتی طور پر کاریں بنائی گئیں ہیں جن کی کارکردگی سے ہم مطمئن ہیں اور یہ گاڑیاں عام دستیابی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس وقت جو مسئلہ ہے وہ زیادہ چارج کی حامل ہلکی بیٹریاں بنانا ہے جو لمبا سفر کرنے کے قابل ہوں۔

    Mr. Edisonایسی بیٹریاں بنانے پر تجربات میں مصروف ہیں۔ میرا یقین ہے کہ جلد یا بدیر الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا کے بڑے شہروں میں آنے جانے کے لیے استعال ہوں گی۔ الیکٹرک گاڑیاں ہماری سفری سہولیات کا مستقبل ہوں گی۔ سامان کی نقل و حمل والے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب نیویارک کے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔لیکن سوچیں کہ اس قدر یقین کے باوجود الیکڑک گاڑیاں کیوں نہ بن سکیں؟اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لیب جہاں الیکٹرک کاریں تجرباتی طور پر بنائی جاتی تھیں وہاں جان بوجھ کر سازش کے تحت آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد لیب مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئی تھی۔ یہ پراجیکٹ جس میں 1.4 ملین ڈالر کی رقم جھونکی گئی تھی ختم ہوگیا۔ یہ رقم آج کے 34 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بعض کے نزدیک تیزی سے ترقی کرتی آئل انڈسٹری اس کی ذمہ دار ہے جس سے وابستہ لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کو پنپنے دینا نہیں چاہتے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ فورڈ جو بیٹریاں الیکٹرک کاروں میں استعمال کرتا تھا وہ اس قابل ہی نہیں تھیں جو الیکٹرک کار کو مطلوبہ معیار تک چلا سکیں۔ حقیقت کیا ہے کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔لیکن تیل پر انحصار ختم کرنے، گلوبل وارمنگ سے بچنے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آج ہم اسی طرح الیکٹرک کاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس طرح ایک سو سال پہلے سوچ رہے تھے۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آجBattriesکی صنعت نے بھی اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب یہ خواب ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں تیل سے چلنے والی گاڑیوں کو آہستہ آہستہ کم کرکے الیکٹرک کاروں کا استعمال بڑھایا جائے۔ کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج ایسی الیکٹرک کاریں بنائی جا چکی ہیں جو ایک بار چارج کرنے پر سینکڑوں کلومیٹر تک کا سفر کرنے کے قابل ہیں۔ یعنی ٹیسلا کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کار بنائی ہے بلکہ اصل achievementیہ ہے کہ اس نے اس طرح کی بیٹریز اور سولر پینلز بنائے ہیں جس کے بعد الیکٹرک کار پہلے سے زیادہ پائیدار ہیں۔ اس طرح ایک صدی بعد ہی سہی لیکن ٹیسلا کے ایلن مسک نے تھامس ایڈیسن کی بات آخر سچ ثابت کر دکھائی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔

  • نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟

    بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق
    UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔

    درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا

    اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔

    ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔

    اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ

  • ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت
    22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے