Baaghi TV

Author: عفیفہ راؤ

  • ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گی

    سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
    اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔

    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے
    Dimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگرDimorphosکے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000
    میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
    ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    ایلن مسک جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے وہ خود کوکئی فیلڈز میں منوا چکا ہے اس پر تنقید کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایلن مسک میں بچپن سے ہی کاروبار اور نت نئے تجربے کرنے صلاحیت تھی۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ اب وہ کیا نیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ کونسی انڈسٹری ہے جس میں اب ایلن مسک انقلاب لانے والا ہے۔بارہ سال کی عمر میں ایک ویڈیو گیم بنا کر پانچ سو ڈالرز میں فروخت کرنے سے ایلن مسک نے اپنے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پھر سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایکArcadeبنانے کی کوشش بھی کی۔ پھر کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نےZip 2نامی کمپنی بنائی، پھرPayPalSpace Xوغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ اس نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔لیکن ایلن مسک کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ جو سوچتا ہے یا جس چیز کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے پھر وہ اسے کرکے دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جتنے بھی کاروبار ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ اس کی کمپنیوں کے بلند عزائم ہیں وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ایلن مسک اس وقت جو مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی مسائل نہیں ہیں۔ وہ دراصل انسانیت کو لاحق کو تین خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جو انسانوں کی زندگیوں کو آئے روز کم کرتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست الیکٹرک کاروں سے کرنا چاہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے اس کے خیال میں اگر ہم صرف اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچ کر وہاں نئی آبادیاں بسانے کے لئے کام کر رہی ہے۔تیسرا خطرہ جس کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ اس کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے اس نے 2015 میں ایک فلاحی تنظیمOpen AIبنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

    لیکن اس دنیا میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ایلن مسک کو اس کے متنازع بیانات کی وجہ سے نا پسند کرتے ہیں مگر آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہے جس کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ اس کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔اس لئے جب ایلن مسک کسی بھی نئی صنعت میں داخل ہوتا ہے تو سب کو پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے کہ اب یہ اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود بڑے بڑے Giantsکو ہلانے والا ہے۔ اور اب ایلن مسک جس انڈسٹری میں داخل ہو رہا ہے وہ ہے سمارٹ فون کی انڈسٹری۔ بہت جلد ایلن مسک کی مشہور و معروف ٹیسلا کمپنی اپنا سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی تک یہ تینوں اسمارٹ فون کے بادشاہ ہیں یہ تینوں کمپنیاں ہر تین ماہ بعد لاکھوں فون بناتی ہیں اور بے تحاشا منافع کماتی ہیں۔ ایپل کا آئی فون، لیب ٹاپ اور دیگر پرسنل الیکٹرانکس دنیا بھرمیں ایکStatus symbolبن گئی ہیں اور یہاں تک بھی خبریں رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ ان مہنگے فونز کو حاصل کرنے کے شوق میں کئی لوگوں نے اپنا گردہ تک بیچ ڈالا تاکہ اپنی پسند کا iphone
    خرید سکیں۔Samsungکے فونز کی اپنی خوبیاں ہیں جو لوگ ٹیبلٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں وہ آجکل Samsungخریدتے ہیں تاکہ فون کی جگہ بھی استعمال ہو جائے اور اسی کو ٹیبلیٹ بنا کر بھی استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے فونز اپنے بہترین کیمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اس کا بھی ایکFolding phoneحالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اسےAndroid operating systemکو تبدیل کرکے اپنا سسٹم لگانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی یہ دنیا میں فونز بیچنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ان تینوں کے لئے امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اپنے فونز پر ٹیسلا کےنئے سمارٹ فون کا حملہ کیسے برداشت کریں گے۔

    ٹیسلا کے سمارٹ فون کا نام ہے Tesla Model Piاور اس فون کی جو بھی انفارمیشن سامنے آئی ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اس میں جو ٹیکنالوجی ٹیسلا متعارف کروانے جا رہی ہے وہ اب سے پہلے کسی سمارٹ فون میں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں تو اس کی شکل کافی حد تک آئی فون سے ملتی جلتی ہے لیکن اپنے فیچرز کے حساب سے یہ مارکیٹ میں موجود اب تک کے سمارٹ فونز سے کافی مختلف ہو گا۔ اور اس سمارٹ فون کی جو سب سے بڑی کوالٹی ہو گی وہ یہ کہ یہ سٹارلنک کے ساتھ Intigratedہوگا۔ سٹارلنک دراصل ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ جس کا مقصد پوری دنیا کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ساٹھ فیصد userہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ
    connectہوتے ہیں اور ہر ایک انسان جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ سب سے تیز ہو۔ ابھی تک تو انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے زیادہ تر کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس نےLow Earth Orbitمیں کئی ہزار سیٹلائٹس لانچ کی ہیں۔ جو زمین کے قریب ہونے کی وجہ سےرابطہ کرنے کیلئے کم Latency استعمال کرتی ہیں جو 25 یا 35 ملی سیکنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے- سٹار لنک
    Faster laser transmission کواستعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں چالیس ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دکھا سکتا ہے- جس کا مطلب ہے کہ سٹار لنک انٹرنیٹ کی سپیڈ تقریبا 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عامUserکی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں پہاڑوں پر ہوں ریگستانوں میں ہوں یا سمندر کے بیچ میں ہوں۔ آپ ٹیسلا کے پائی فون سے تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اور یہ ایک ایسا فیچر ہے جواس فون کو باقی تمام فونز سے منفرد بنا رہا ہے۔اس کے علاوہ جو اس فون کی سب سے Different qualityہو گی وہ نیورالنک ہے۔ ابھی تک ہم فونز کو ٹچ کرکے یا بول کر آپنی آواز کے زریعے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جو صرف آپ کی سوچ سے ہی چلنے لگے تو یہ کتنا حیران کن ہے۔ اس فون میں ایک Brain computer interfaceاستعمال کیا جارہا ہے جو کہ آپ کے Mindکو پڑھ کر کام کرنے کے قابل ہوگا۔

    اس کے علاوہ اس فون میں تیسری سب سے منفرد چیز یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنی ٹیسلا کار کو بھی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ ابھی لوگ ٹیسلا کاروں کو اپنے فون میں موجود ٹیسلا ایپ سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں جب آپ کے پاس فون بھی ٹیسلا کا ہوگا اور آپ کی کار اس کے ساتھ Integratedہوگی تو اس کی سروس کا کیا معیار ہو گا۔اور اس میں ایک اور جو حیرت انگیز چیز ہے وہ سولر چارجنگ ہے یعنی آپ اگر اپنے فون کا سولر چارجنگ موڈ آن کرتے ہیں تو وہ خود بخود چارج ہوتا رہے گا آپ کو بیٹری Lowہونے یا ہر جگہ چارجر ڈھونڈنے کی بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ یہ فون آپ کا Source of earning بھی بن سکے گا کیونکہ اس میں کرپٹو کرنسی Mining abilitiesبھی موجود ہوں گی جس سے آپ Mars coinsکی Mining
    کر سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا Revolutionry phoneہوگا جس کو آپ زمین کے علاوہ مریخ پر بھی استعمال کر سکیں گے۔ٹیسلا پائی فون کا caseبنانے کے لئے Photo chroming coating
    کا استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی میں مختلف رنگوں کے ساتھ چمکے گا۔اس کی بیک پر چار کیمرے ہوں گے۔ فرنٹ پر بھی کیمرہ ہوگا لیکن وہ نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکرین کے نیچے ہو گا لیکن اس کا رزلٹ ویڈیوز کالز اور سیلفی کے لئے بہترین ہو گا۔ کیمروں کے ساتھ بیک پر ٹیسلا کا لوگو بھی ہوگا۔یعنی یہ ایکTruely revolutionary smart phoneہوگا۔یہ اس فون کے بارے میں اب تک ہونے والی تمام لیکس اور انفارمیشن ہیں جو کہ اس کے ٹریلر سے ملتی ہیں جو ٹیسلا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اور یقینا یہ تمام خوبیاں ٹیسلا کے اس پائی فون میں موجود بھی ضرور ہوں گی کیونکہ جب ٹیسلا راکٹس بنا سکتا ہے لوگوں کو خلا کی سیر کروا سکتا ہے مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کا فون بنانا ایلن مسک کے لئے کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر انھوں نے خود کو اپ گریڈ کرکے مقابلے کے لئے تیار نہ کیا تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جوNokiaBlackberryاورمائیکروسافٹ کے فونز کا ہوا ہے

  • ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد آج ایک اہم سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    آج تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    گزشتہ چند سالوں میں موبائل فونز نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ہر انسان وہ چاہے دنیا کا امیر ترین شخص ہو یا غریب ریڑھی والا، کوئی ملٹی نیشنل فرم میں کام کرنے والی خاتون ہو یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ، ستر سال سے زائد عمر کا بوڑھا انسان ہو یا کوئی بچہ ہو آپ کو ہر ایک سمارٹ فون استعمال کرتا ضرور نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اب یہ انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ایک عادت بن گیا ہے کہ ہر انسان نے اس کو تمام وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے آخری کام یہی ہوتا ہے کہ فون پر آئے تمام نوٹیفکیشنز کولازمی چیک کرنا ہے اسی طرح صبح اٹھ کر بھی سب سے پہلے موبائل چیک کرنا ہے کہ کہیں کوئی ضروری میسج تو نہیں آیا۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون یا سمارٹ فون کی جگہ اب کوئی نیا Gadget ہو جو یہ تمام کام کرے جو سمارٹ فون کرتا ہے۔ اب ایسے Gadget کا ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ وہ کب ایجاد ہو گا اور کب ہم تک پہنچے گا بلکہ وہ Gadget بن بھی چکا ہے اور وہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جیسے سمارٹ فون رکھنا اب انسانوں کی مجبوری بن چکا ہے تو کیا یہ نیا Gadgetبھی اسی طرح ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا سکے گا یا نہیں۔۔۔سمارٹ فون ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کے ساتھ ہم اپنے دن کا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور جس کے ہمارے استعمال میں آنے کے بعد بہت سی ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ ہم نے اب استعمال کرنا چھوڑ دی ہیں۔ جیسے Wrist watches،Cameras،Alarm clock اور چارج لائٹ وغیرہ۔۔۔ اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ الارم کلاک کی بجائے موبائل الارم استعمال کرتے ہیں جو وقت دیکھنے کے لئے گھڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ فون پر وقت دیکھ لیتے ہیں بلکہ کلینڈر بھی فون پر ہی کھول کر دیکھا جاتا ہے۔ کیمروں کی جگہ بھی موبائل فون کا کیمرہ ہی استعمال ہوتا ہے اب کیمرے صرف پروفیشنل لوگ خریدتے ہیں ورنہ ہر ایک کے ہاتھ میں آپ کو سمارٹ فون کا کیمرہ ہی نظر آئے گا۔ اب کوئی بھی ٹارچ لائٹ الگ سے اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ موبائل میں موجود ٹارچ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سٹاپ واچ اور آڈیو ریکارڈر بھی موبائل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کے بچوں نے ہو سکتا ہے کہ کاغذوں پربنے ہوئے نقشے کبھی دیکھے ہی نہ ہوں لیکن ان کو سمارٹ فون میں موجود گوگل میپ کا ضرور پتہ ہے کہ وہ کیسے استعمال کرنا ہے۔ خواتین نے الگ سے اپنے ہینڈ بیگز میں شیشہ رکھنا چھوڑ دیا ہے شیشے کا کام بھی سمارٹ فون کی ڈسپلے سکرین یا پھر فرنٹ کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ I-pod اور ریڈیو کا کام بھی سمارٹ فونز نے ہی سنبھال لیا ہے۔ یہاں تک بہت سے ایسے کام جو ہم پہلے صرف کمپیوٹرز پر کرتے تھے ان کے لئے بھی اب ہم سمارٹ فون ہی استعمال کرتے ہیں جیسے ای میلز کے لئے، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمارٹ فونز نے ہمارا تصور ہی بدل دیا ہے کہ فون ہوتا کیا ہے اور اب وہ صرف کال کرنے والی سادہ ڈیوائس نہیں، درحقیقت ایک اسمارٹ فون مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا منی کمپیوٹر ہے جسے ہم اپنی زندگیوں میں بہت سارے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اب فیس بک نے ایک ایسی ایجاد کی ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جس طرح پہلے بہت سارے Gadgetsکے فنکشنز سمٹ کر ایک سمارٹ فون میں آگئے تھے ویسے ہی اب فیس بک نے گلاسز بنانے والی بہت ہی مشہور کمپنی Ray Banکے ساتھ مل کر ایسے گلاسز تیار کئے ہیں جس میں وہ سب فنکشنز ایڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ہم اپنے سمارٹ فونز سے کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ان اسمارٹ گلاسز کا نام Ray ban storiesہے۔ یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں عام چشمے جیسے ہی نظر آتے ہیں مگر ان سے اسمارٹ فونز جیسے کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔
    ان اسمارٹ گلاسز میں پانچ پانچ میگا پکسل کے دو کیمرے موجود ہیں جن سے ہاتھ کا اشارہ کرکے تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی دونوں کیمروں کی مدد سے یوزر 3D effectsکو تصویروں اور ویڈیوز ایپ میں اپ لوڈ کرکے ایڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان تصویروں اور ویڈیوز کو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں۔ اسمارٹ گلاسز میں کیمرے کے ساتھ ساتھ سپیکر اور مائیکروفون بھی ہے جس سے ہم گلاسز کے ذریعے فون کال بھی سن سکیں گے اور اس پر اپنی پسند کا میوزک بھی سنا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی ان گلاسز کے یہ تمام فنکشنز استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کو کسی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ ڈیوائس سے کنکٹ کیا جائے اور فیس بک کی نئی View appکی مدد سے رے بین گلاسز سے کھینچی جانے والی تصاویر یا ویڈیوز یا میڈیا فائلز کو فونز میں ٹرانسفربھی کیا جاسکتا ہے۔اور استعمال میں یہ سمارٹ گلاسز اتنی ہلکی ہیں کہ ان کا وزن پچاس گرام سے بھی کم ہے اور یہ Leather Hard shell charging caseکے ساتھ ملتے ہیں اور کمپنی کا دعوی ہے کہ سمارٹ گلاسز کی بیٹری پورا دن کام کرتی ہے۔

    گلاسز میں 2 بٹن بھی ہے جن میں سے ایک میڈیا ریکارڈ کرنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا آن آف سوئچ ہے۔گلاسز کی رائٹ سائیڈ میں ایک ٹچ پیڈ ہے جس سے مختلف کام جیسے Volume adjustmentیا فون کال ریسیو کی جا سکتی ہے۔گلاسز میں کمیرے کے ساتھ وائٹ ایل ای ڈی لائٹ ہوتی ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے آن ہو جاتی ہے جس سے آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ویڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔یہ اسمارٹ گلاسز ابھی واٹر پروف نہیں ہیں توان کو استعمال کے دوران پانی سے بچانا ہوگا۔یہ اسمارٹ گلاسز رے بین کے 3 کلاسیک اسٹائلز میں دستیاب ہیں اور مختلف رنگوں اور lens کے ساتھ خریدے جاسکتے ہیں۔ اور ان گلاسز کو نظر کے چشمے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔2020میں فیس بک کی آمدنی86 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد کمپنی اپنا زیادہ ترسرمایہVirtual and augmented realityپر لگا رہی ہے۔Virtual realityدراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسانوں کو ڈیجیٹل چیزوں کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے ساتھ انہیں محسوس بھی کرواتا ہے۔اس کے علاوہ اسمارٹ گلاسز میں Virtual assistantکی خصوصیت بھی ہے جس کے ذریعے ہاتھ کا اشارہ کیے بغیراستعمال کرنے والا صرف اپنی آواز کی مدد سے ہی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے۔لیکن ان سمارٹ فونز کی طرح ان گلاسز کو ہم ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اس کے حوالے سے فیس بک نے ایک مکمل گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ان گلاسز کو نجی مقامات مثلا باتھ روم وغیرہ میں استعمال کرنا منع ہے اس کے علاوہ اسے غیر قانونی عمل جیسے ہراساں کرنا یا حساس معلومات یعنی پن کوڈز وغیرہ کے حصول کے لیے استعمال کرنا بھی منع ہے۔بہت سے فنکشنز تو ابھی بھی ان گلاسز میں ایڈ ہیں لیکن آنے والے دنوں میں یہ سپر گلاسز یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں انسان کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔Facial recognationکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر سامنے والے شخص کو نہ صرف پہچان سکیں گے بلکہ اس کی دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل کر سکیں گے۔جس کی وجہ سے ان سمارٹ گلاسز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انھیں تنگ کر سکیں۔ لیکن فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے جو ضروری اقدام ہوں گے وہ لازمی کئے جائیں گے۔ان سمارٹ گلاسز کو بنانے والے سائنسدانوں کے مطابق اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی یہ گلاسز بہت جلد اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔ خاص طور پر دس سے پندرہ سال کے اندر لوگ اب فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے ہی پہننا پسند کریں گے۔جس کے بعد ہم کہہ سکیں گے کہ جیسے سمارٹ فون نے دوسرے Gadgetsکو نگل لیا تھا اور ان کی ضرورت ختم کر دی تھی اسی طرح اب آنے والے سالوں میں انسانوں کی صرف سمارٹ فونز پر Dependenceختم ہو جائے گی۔ اور ابھی تو صرف گلاسز ایجاد ہوئے ہیں جبکہ چانسز تو یہ بھی ہیں کہ آنے والے سالوں میں اور بھی Smart gadget ایجاد ہو جائیں جو کہ سمارٹ فون پر ہمارا انحصار بالکل ختم ہی کر دیں۔

  • ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس وقت یہی کام مودی سرکار کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ مودی جب سے وزیر اعظم بنا ہے اس نے اس تمام عرصے میں خود کو دنیا کے سامنے بہت ہی قابل اور اعلی لیڈر بنا کر پیش کرنے کے چکر میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب وہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ رہے ہیں۔ آج مودی سرکار کا جو جھوٹ پکڑا گیا ہے اس کی وجہ سے پورے انڈیا کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے ایک ایسے انسان کو اعلی ایوارڈ دیا گیا جس کا مشن فیل ہو گیا تھا اور وہ پاکستان کے رحم و کرم پر تھا اگر پاکستان اس کو رہا کرکے واپس بھارت کے حوالے نہ کرتا تو وہ اب تک پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ لیکن انڈیا نے اپنے زیرو اور کھوٹے سکے کو ایسے ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ بھول گئے کہ ان کا یہ نکما اور نالائق پائلٹ پاکستان میں کیا کارنامہ کرکے آیا تھا اس کا یونیفارم بھی آج تک پاکستانی فوج کے میوزیم میں سجا ہوا ہے۔

    انڈیا کے تین بڑے ایوارڈز ہیں پرم ویر چکرا، مہا ویر چکرا اور ویر چکرا جو جنگوں میں بہادری دکھانے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ اور آج مودی سرکار نے ائیر فورس پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو اپنے تیسرے بڑے ایوارڈ ویر چکرا سے نوازا ہے۔یہاں میں آپ کو یاد کروا دوں کہ یہ وہی بہادر پائلٹ ہیں جنہوں نے پہلے پاکستانی عوام سے مار کھائی پھر پاک فوج نے اس کی جان بچائی اور اس کو گرفتار کیا لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے Fantastic tea پلا کر واپس انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔جبکہ مودی سرکار نے ابھی نندن کو ایوارڈ یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی ایف 16 مارگرایا تھا۔ہوا یہ تھا کہ دو سال پہلے چھبیس فروری کو انڈین جہازوائلیشن کرتے ہوئے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں بم گرا کر حملہ کیا۔ جس پر انڈین فوج، حکومت اور میڈیا تینوں نے مل کر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ وہاں کوئی جہادی کیمپس تھے جس پر حملہ کر کے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ جس جگہ یہ کاروائی ہوئی تھی وہاں نہ تو کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاں ہمارے کچھ درخت ضرور اس حملے میں جل گئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد اگلے ہی روز ایک بار پھر انڈین طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین مگ21اڑانے والے ابھینندن کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا تھا۔ لیکن انڈین میڈیا شور مچاتا رہا کہ بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مگ21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ کیونکہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

    حالانکہ پاکستان کئی مرتبہ اس انڈین دعوے کی تردید کر چکا ہے لیکن پھر بھی جب انڈیا اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ سے باز یہ آیا توغیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی کہ امریکی حکام خود آ کر ایف16 طیاروں کی گنتی کریں۔ جس کے بعد امریکی میگزین فارن پالیسی نے اس پر اپنی ایک مکمل رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اس واقع کی سچائی کو پرکھنے کے لئے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی تھی اور وہ تعداد میں پورے تھے اس لئے جب تمام جہاز پورے تھے تو آپ سوچ لیں کہ بھارت نے کونسا جہاز گرایا تھا۔ فارن پالیسی کی اس تصدیقی رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہاتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔ لیکن سچ بولنا تو دور بھارت نے تو اور زیادہ ڈرامہ کرنا شروع کر دیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ابھی نندن کو ترقی دے کرونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنایا گیا۔ جس کے بعد مودی سرکار نے سوچا کہ جب اس کو ترقی دینے پر سب خاموش رہے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر اس کو ایوارڈ بھی دے دیا جائے۔

    مودی سرکار یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ دراصل انڈیا میں اس وقت غربت سے برا حال ہے۔ مودی کو اس کی تمام پالیسیوں پر مار پڑ رہی ہے۔ کسانوں کے سامنے جس طرح مودی کو ہار مان کر معافی مانگنا پڑی اور اپنے تینوں قوانین واپس لینا پڑے وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو بھی واپس کروانے کے لئے ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ چین کے ہاتھوں جس طرح انڈین فوج کی پٹائی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہم سب نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی صورت میں دیکھا۔ اور اب چین مسلسل انڈیا کے علاقوں میں اپنے گاوں تعمیر کر رہا ہے دو گاوں آباد ہونے کے ثبوت تو خود امریکی ادارے دنیا کے سامنے لاچکے ہیں لیکن بھارتی فوج یا حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی کر لیں کہ چین یہ سب کر رہا ہے۔ کیونکہ الیکشنز سر پر ہیں اگر وہ یہ مان لیں تو وہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے۔ چین کے ساتھ موجودہ حالات کی وجہ سے ان کی فوج کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون ہے۔ اس لئے اپنی طرف سے تو مودی سرکار نے انڈین فضائیہ کا مورال بلند کرنے اور ان کو حوصلہ دینے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اور اس ڈرامے کی حقیقت مودی اور راج ناتھ کی شکلوں سے بھی پتا چل رہی ہے کہ کیسے جب ابھی نندن کو ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا اور وہ جھوٹی کہانی سنائی گئی تو راج ناتھ اپنے ہاتھ مل رہا تھا مودی کی شکل پر بھی بارہ بج رہے تھے کوئی خوشی نہیں تھی نہ ہی ان دونوں نے اس کے لئے کوئی پر زور تالیاں بجائیں کیونکہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس کو ایک جھوٹا ایوارڈ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کا جھوٹ اتنی بری طرح بے نقاب ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔کوئی سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہے کہ۔۔ میں بہادر ابھینندن کو ایف سولہ گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کے لیے اپنے جہاز سے ایجیکٹ ہوکر پاکستان چائے پینے کے لیے اترنے پر مبارکبا دیتا ہوں۔کسی نے کہا کہ بالی ووڈ نے اکیلے پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ کردیا ہے۔ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ۔۔ انڈیا کو ہیرو کو زیرو بنانا بخوبی آتا ہے۔ایک نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو خود بھی نہیں پتا کہ انہیں ویر چکرا دیا کیوں گیا ہے۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔ صرف وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین میڈیا کے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس وقت کو یاد کرنا پڑتا ہے۔

    لیکن اب مودی کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے گودی میڈیا کے ساتھ مل کر انڈین عوام اور پوری دنیا کو اس طرح سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں تو پاکستانی فوج کے پاس ابھی نندن کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ خود اپنی فضائیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف کر رہا ہے اس کے علاوہ اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں بھی اس نے مودی سرکار اور انڈین فوج کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے مودی اور اس کے وزیر دفاع راج ناتھ کو چاہیے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی بیان بازی کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں ورنہ آپ کے پاس تو ایف سولہ گرانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر ریلیز کر سکتے ہیں۔ اپنے الیکشنز کی تیاری کرنی ہے تو اپنی کارکردگی کے سر پر کریں پاکستان پر جھوٹی بیان بازی مت کریں۔

  • بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارت میں اس وقت ایک پورا چینی گاؤں آباد ہو چکا ہے۔ اور یہ بات میں یا کوئی پاکستانی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے حمایتی امریکہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے اس حد تک انڈیا کے سرحدی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے پاس بھارتی علاقے میں اپنا ایک گاؤں بسا دیا ہے۔ جس پر انڈیا میں حکومت اور فوج دونوں ہی عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بھارتی فوج کچھ اور بیان دے رہی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ الگ ہی راگ الآپ رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ گاؤں چین کے علاقے میں ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اسے غیر قانونی تعمیرات کہہ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے خود انڈین میڈیا نے بھی اس خبر کو رپورٹ کیا تھا کہ چین کا ایک گاوں بھارتی علاقے میں موجود ہے لیکن مودی سرکار اس پر خاموش رہی بلکہ اپنے میڈیا کو بھی چپ کروا دیا کہ خبردار اس پر کوئی رپورٹ نہ کرے لیکن انٹرنیشنل اداروں کو رپورٹ کرنے سے تو مودی سرکار نہیں روک سکتی اس لئے اب امریکی رپورٹ نے نہ صرف اس خبرکی تصدیق کر دی ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس علاقے میں سو مکانات کی ایک بستی آباد کی گئی ہے اور وہاں پر تیزی سے ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کی جدید سہولیات لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر انڈای کی جانب سے طرح طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ارندم بگچی کا بیان آیا ہے کہ۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا چین نے گزشتہ کئی برسوں سے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے دہائیوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے نہ تو اپنی سرزمین پر ایسے غیر قانونی قبضوں کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس نے چین کے بلا جواز دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے سفارتی ذرائع سے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ اپنا شدید احتجاج بھی درج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومت بھارت کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خود مختاری، سالمیت اور علاقائی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔

    لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات کو مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر چینی گاؤں کی تعمیرات کا مسئلہ تو درست ہے۔ اور چین یہ گاؤں اس لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پروہ اپنے شہریوں کو یا پھرمستقبل میں اپنی فوج کو سرحدی علاقوں میں بسا سکے۔ خاص طور ایل اے سی پر حالیہ کشیدگی کے بعد ۔۔ لیکن یہ جو نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ چینیوں نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک نیا گاؤں بنایا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ان دیہاتوں کی تعمیر ایل اے سی کے تحت اپنی سرحد کے اندر کر رہے ہیں۔ ایل اے سی کی حوالے سے جو ہمارا تصور ہے اس کے مطابق انہوں نے ہمارے علاقے میں کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کہاں ہے، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایل اے سی پر یہ آپ کی صف بندی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جس کا آپ سے دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔اب ان دو طرح کے بیانات اور انڈین فوج کی گزشتہ سال جس طرح چین کے فوجیوں سے پٹائی ہوتی رہی ہے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا بیان حقیقت کے قریب ہے۔ ویسے ہو سکتا ہے بپن راوت ٹھیک کہہ رہے ہوں اپنی فوج کی پٹائی کے بعد وہ علاقہ انڈیا نے چین کو دے دیا ہو جس کے بعد اب وہاں چین کا قبضہ ہے اور پورا گاوں بھی آباد ہو گیا ہے کیونکہ خود کانگریس کا بھی بھارتی حکومت کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مودی نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مودی کے سپورٹرز جو بڑکیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ مودی کا سینہ 56 انچ چوڑا ہے۔ ان کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے ٹوئیٹ بھی کی ہے کہ ہماری قومی سلامتی سے ناقابل معافی سمجھوتہ کیا گیا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور مسٹر 56 انچ تو کافی خوفزدہ ہیں۔ مجھے اپنے ان فوجیوں کی فکر لاحق ہے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جب کہ بھارتی حکومت کے منہ سے بس جھوٹ ہی نکل رہا ہے۔

    مودی سرکار دراصل کر کیا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایک تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ظاہری بات ہے اس بارے میں جتنی بات کریں گے ان کے جھوٹ کہیں نہ کہیں پکڑے جائیں گے۔ اور دوسرا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت جیسی مودی سرکار کی ٹاوٹ کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو اس کے منہ میں آئے بولے جائے ایسے بیانات دے جس سے ہندوتوا شدت پسندی میں خوب اضافہ ہو اور لوگوں کا دھیان ایسی خبروں سے ہٹا رہے۔اور اب جو کنگنا نے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہے اس پر سبھی حیران ہیں۔ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ساورکر، رانی لکشمی بائی، سبھاش چندر بوس۔۔ ان لوگوں کی بات کروں تو یہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستانی-ہندوستانی کا خون نہ بہائے۔ انھوں نے آزادی کی قیمت چکائی، یقینا۔ لیکن وہ آزادی نہیں تھی، وہ بھیک تھی۔ جو آزادی ملی ہے وہ 2014 میں ملی ہے۔جس کے بعد انڈین عوام کی طرف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت کو حال ہی میں جو پدماشری ایوارڈ دیا گیا تھا وہ واپس لیا جائے اور اس کو جیل بھیجا جائے۔رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے تو کنگنا پر مجاہدین آزادی کی بے عزتی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کنگنا کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔ کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی۔ اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟کانگرس کی رہنما آنند شرما نے تو اپنی ٹویٹ میں صدر رام ناتھ کووند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مس رناوت کو دیا گیا پدما ایوارڈ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ایسے ایوارڈ دینے سے پہلے نامزد افراد کے ذہنی اور نفسیاتی تجزیے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی شخصیات قوم اور اس کے ہیروز کی توہین نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس وقت کنگنا رناوت ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ لیکن میں آپ کو سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ سب خود مودی جی کے کہنے پر تو کر رہی ہیں اور وہ مودی سرکار جس نے کنگنا کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے وہ کیوں اسے کچھ ہونے دیں گی۔
    اور کنگنا رناوت دو ہزار چودہ میں ملنے والی کس آزادی کی بات کر رہی ہیں یہ کیسی آزادی ہے کہ اتنی بڑی جمہوریت اور اتنے بڑے ملک میں خود وہاں کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں ان کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ کہیں اکھٹے ہو کر با جماعت نماز پڑھ سکیں۔

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں ہندو گروپس نے کھلی جگہوں پر مسلمانوں کی نماز رکوا دی ہے۔ہندو گروپس نے سیکٹر 12 اے میں واقع ایک جگہ پر قبضہ کرلیا۔ اور جب آس پاس کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ان کو کہہ دیا گیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنا رہے ہیں۔ اور تو اورگراونڈ میں اور اس کے آس پاس کی جگہ جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں وہاں انھوں نے گوبر کے اپلے پھیلا دئیے تاکہ وہ جگہ ناپاک ہو جائے اور مسلمان وہاں نماز نہ ادا کر سکیں۔ دراصل پچھلے کئی ہفتوں سے مسلمانوں کو اس شہر میں مختلف مقامات پر نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن جب کوئی فرق نہ پڑا تو انہوں نے یہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے حالانکہ ایک ہفتہ پہلے خود اس ہندو گروپ نے اس گراونڈ میں پوجا بھی کروائی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نماز کی جگہ نہیں ہے بلکہ عوامی مقامات ہیں۔ حالانکہ گڑگاؤں کا سیکٹر 12-Aان 29 مقامات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں 2018 میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے ہوا تحا جس میں طے کیا گیا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص ہے۔لیکن نہیں ایسے لوگوں کے خلاف مودی سرکار کچھ نہیں کرے گی بلکہ ایسے واقعات تو اپنے خاص لوگوں سے جان کر کروائے جاتے ہیں تاکہ مودی سرکار کی قابلیت عوام کے سامنے نہ آجائے کہ کیسے یہ چین کے ہاتھوں مار بھی کھا رہے ہیں اور اپنے علاقے بھی ان کو دے رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی مسلمان شہریوں پر جگہ تنگ کی ہوئی ہے۔

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔
    اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔
    ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔
    ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • فیس بک  نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا مقابلہ اگر پاکستان سے کیا جائے تو وہ رقبے کے لحاظ سے ہم سے کافی بڑا ہے اس لئے وہاں کی آبادی بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور آجکل زیادہ آبادی کا مطلب ہے بہت بڑی مارکیٹ ۔ لیکن اسی مارکیٹ میں بزنس سے زیادہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ہندوتوا سوچ کو بڑھانے کے لئے ہندو انتہا پسند ہر حد پار کرتے جا رہے ہیں۔ ویرات کوہلی، عامر خان سے لیکر ایک عام بریانی والا تک ان سے محفوظ نہیں ہے۔

    مودی سرکار اپنی اس بڑی مارکیٹ کو کس طرح سے کیش کروارہی ہے۔ کیسے بڑے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی انتہا پسند سوچ کے پھیلاو کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کمپنیز بھی ایسا ہونے دے رہی ہیں کیونکہ ظاہری بات ہے ان کا مطلب صرف اپنے بزنس اور منافع سے ہے۔ لیکن نقصان کی بات یہ ہے کہ ان کی خاموشی اور مودی سرکار کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈیا میں اب نفرت اور انتہا پسندی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے حامی لوگوں کے دماغوں میں اب یہ بات پوری طرح بیٹھ چکی ہے کہ جب بڑی بڑی کمپنیوں سے ہم اپنی بات منوا لیتے ہیں تو چھوٹے کاروبار کرنے والوں سے بات منوانا کیا مشکل ہے جس کی وجہ سے حالات یہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ انڈیا میں اس دیوالی پر جشن سے زیادہ سوشل میڈیا ٹرولنگ ہوتی رہی ہے کبھی کسی سٹار کی کبھی کسی برانڈ کی۔ یعنی انڈین عوام جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم تو تھی ہی لیکن اب زبانوں اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگز لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں کافی عرصے سے حکومت فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو اپنی مرضی سے استعمال کر رہی تھی وہیں اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیر بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ مسلمان تو مسلمان عیسائیوں اور سکھوں پر بھی زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ انکشاف ہوا کہ سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی فیس بک استعمال کرکے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا بیج بویا گیا جبکہ انسانوں کے سمگلرز نے لوگوں کو پھانسنے کے لئے فیس بک کااستعمال کیا۔ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس نہ صرف بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ 17میڈیا ہاؤسز کا ایک کنسورشیم ہے جس نے فیس بک کی یہ متنازع پالیسیاں بے نقاب کرنا شروع کی ہیں۔ اور فیس بک پر یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ فیس بک کی ہی ایک Ex-employ Frances Haugen
    نے لگایا ہے بلکہ اس نے فیس بک سے Resignبھی اسی لئے کیا کہ فیس بک Hate speech and voilenceکو پروموٹ کرتی ہے۔ اور یہ صرف الزام نہیں ہے بلکہ اس نے پروف کے طور پر ہزاروں ڈاکیومنٹس بھی پیش کئے ہیں جن کوان میڈیا ہاوسز کے کنسورشیم نے Studyکیا۔ امریکی کانگریس اور برطانیہ کی پارلیمنٹ دونوں کے سامنے یہ پیش ہوئی ہیں۔ جہاں اس نے فیس بک پلیٹ فارم کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اس کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو دنیا میں مزید فسادات اور نسل کشی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ ان ڈاکیومنٹس کے مطابق چھ جنوری کو امریکی کیپیٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ اور میانمار اور ایتیھوپیا جسے ممالک میں ہونے والی نسل کشی جیسے واقعات میں تو فیس بک کا ہاتھ ہے ہی لیکن پاکستان اور انڈیا کے حوالے بھی جو Factsان ڈاکیومنٹس میں سامنے آئے ہیں وہ کافی خطرناک ہیں۔ فروری دو ہزار انیس میں ایک ریسرچرز کی ٹیم نے ایک Dummy account createکیا انڈین یوزر کا Experienceمعلوم کرنے کے لئے۔ اس اکاونٹ میں خود سے کوئی فرینڈز نہیں تھے نہ ہی کوئی Prefrences set کی گئی تھیں تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ فیس بک خود سے اس اکاونٹ کو کیا Recommendکرتی ہے۔ اور تین ہفتوں تک اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پرجو کچھ سامنے آیا وہ کافی حیران کن تھا۔ اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پر جو کچھ فیس بک الگورتھم کی وجہ سے Recommend کیا گیا اس میں زیادہ تر فیک نیوز، اشتعال دلانے والا اور نفرت پھیلانے والاContentتھا۔ یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کی ایسی تصاویر بھی تھیں جن کے سر تن سے جدا تھے خون خرابہ ہوا ہوا تھا اس کے علاوہ پورن مٹیریل بھی دکھایا جا رہا تھا۔ یہ اکونٹ ان دنوں میں بنایا گیا تھا جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو اس انڈین یوزر اکاونٹ کو وہ فیک نیوز اور Images
    دکھائے جا رہے تھے جو کہ پاکستان کے خلاف تھے۔ ایسی پوسٹ تھیں جن میں پاکستانی عوام کو گندی گالیاں دی گئیں تھیں۔

    فیس بک کی طرف سے کہا گیا کہ انھون نے اس ریسرچ ٹیسٹ کے بعد اپنے الگورتھم میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہے کہ فیس بک نے تبدیلیاں کیں فیک نیوز کو کاونٹر کرنے کے لئے کافی بجٹ خرچ کیا گیا لیکن اس میں بھی فیس بک نے Fair dealنہیں کی۔ فیک نیوز کے خلاف جتنا بجٹ تھا اس کا 87%تو صرف امریکہ پر خرچ کر دیا گیا باقی کا
    13%دوسرے تمام ممالک پر خرچ کیا گیا۔ اور دوسری بات یہ کہ ہندی اور بنگالی کے خلاف فیس بک کی طرف سے Classifiersبھی نہیں Createکئے گئے جو کہ ان زبانوں میں فیک نیوز کو
    Detectکرسکیں۔ ان میں سے کچھ الگورتھم اب دو ہزار اکیس میں بنائے گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہیں کیونکہ انڈیا میں فیس بک بیس زبانوں میں استعمال کی جاتی ہے اور
    Classifiersصرف پانچ زبانوں کے موجود ہیں۔ جس کا انھوں نے یہ حل نکالا کہ پندرہ ہزار لوگوں کی ٹیم بنا دی جو خود سے فیس بک پوسٹس کو چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ فیک نیوز تو نہیں ہے یا پھر Hate speech and voilenceتو نہیں پھیلا رہے۔ اور یہ ہی فیس بک کا وہ کام ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا کیسے فیس بک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور فیس بک ایسا ہونے بھی دے رہا ہے۔ کیونکہ ان کی یہ ٹیم ان پوسٹس کو فلیگ ہی نہیں کرتی جو کہ آر ایس ایس بجرنگ دل اور بی جے پی کی طرف سے کی جاتی ہیں جو کہ زیادہ تر پاکستان کے خلاف ہوتی ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔ اور اس کی وجہ Political senstivitiesبتائی جاتی ہیں یعنی اگر فیس بک نے ان گروپس کی پوسٹس ہٹائیں تو انڈین حکومت کی طرف سے ان پر پابندیاں لگ جائیں گی اور ان کا بزنس متاثر ہو گا۔ اس پر انٹرنیشنل میڈیا میں بھی کئی آرٹیکلز لکھے گئے جس میں انڈیا اور فیس بک کی اس ملی بھگت اور دو نمبری کو ایکسپوز کیا گیا لیکن آج تک اس کا کوئی حل نہیں ہو سکا کیونکہ فیس بک کے لئے بات پیسے اور بزنس کی ہے اور مودی سرکار ویسے ہی پاکستان کے خلاف کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

    اور صرف پاکستان ہی نہیں مودی سرکار اور انڈیا میں موجود دوسری انتہا پسند تنظیمیں انڈین مسلمانوں اور دوسری اکثریتوں کے بھی خلاف ہیں وہ انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔
    اور اب انتہا پسندوں کی ایک کی اور کارستانی بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیرانڈیا میں بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے کہ کیسے نئی دلی میں ایک ہندو انتہا پسند شخص بریانی بیچنے والے کو دکان بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نئی دہلی میں سانت نگر کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس انتہا پسند شخص کا نام نریش کمار سوریاونشی ہے جو خود کو انتہا پسند بجرنگ دل کا کارکن بتا رہا ہے۔ اور یہ شخص بریانی بیچنے والے سے کہتا ہے کہ یہ ہندوؤں کا علاقہ ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ یہاں بریانی بیچے اور ساتھ ہی اسے دکان بند کرنے کی بھی دھمکی دیتا ہے گالیاں بھی دیں اور کہا کہ تم نے دکان کیسے کھولی؟ کس نے تمھیں اس کی اجازت دی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہندوؤں کا علاقہ ہے؟ اس نے یہ بھی کہا کہ ’آج دیوالی ہے، اس دکان کو بند کرو، تم کیا سوچ رہے ہو؟ کیا یہ تمھارا علاقہ ہے؟ کیا یہ جامع مسجد ہے؟ یہ مکمل طور پر ہندوؤں کا علاقہ ہے۔ جس کے بعد دکان میں کام کرنے والے اس میں لگی میز اور کرسیاں اٹھاتے ہیں اور دکان بند کر دیتے ہیں۔

    ویسے تو انڈیا میں ایسی کارروائیاں نئی بات نہیں بلکہ روز کا معمول بن چکی ہیں لیکن اس دیوالی پرایسے واقعات کچھ زیادہ ہی ہوئے ہیں۔ پہلے ویرات کوہلی نے کہہ دیا کہ وہ دیوالی منانے کی کچھ ٹپس شیئر کرنا چاہتے ہیں تو اس کو ٹرول کیا گیا۔ پھر فیب انڈیا کو ان کی جشن ریواز کے نام سے لانچ کی گئی دیوالی کی نئی کولیکشن کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ ہندو تہوار کے لئے اردو نام کیوں؟ پھر عامر خان کو ٹرول کیا گیا ان کے اشتہار کی وجہ سے جس میں عامر خان نے یہ کہا کہ پٹاخے سوسائٹی میں بجائیں سڑکوں پر نہیں۔ لیکن ان کو یہ کہہ کر ٹرول کیا گیا کہ مسلمان سڑک پر نماز پڑھیں تو وہ نہیں بولتے پٹاخے سڑکوں پر کیوں بج رہے ہیں بس یہی نظر آتا ہے۔ اور اس کے بعد اب بریانی والی ویڈیو یعنی اب کپڑوں، زبان اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگ لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی مثالیں آئے دن سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی انڈیا میں نفرت انگیز سلوک بڑھتا جا رہا ہے۔ جس پر کسی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ نہیں ہے انہوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں لیکن اگر مودی سرکار اسی طرح نفرت پھیلنے دیتی رہی تو ایک دن آئے گا جب پوری دنیا کو یہ سب دیکھنا بھی پڑے گا اور مودی سراکر سے اس کا جواب بھی مانگنا ہو گا۔

  • امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف امریکہ تشویش میں مبتلا ہے اور چین کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب سے کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کی جا رہی ہے یہ ہے امریکہ کا وہ دوغلا پن جو اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ پینٹاگون نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق چین بہت زیادہ تیزی سے جوہری ہتھیاروں پر کام کر رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو 2027تک چین کے پاس700Delivery able neuclear war heads
    ہو سکتے ہیں اور2030تک یہ تعداد ایک ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹاگون کے مقابلے میں چین کے پاس ڈھائی گنا زیادہ جوہری ہتھیار تیار ہو جائیں گے۔دراصل امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے سامنے ایک سالانہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں چینی فوجی پیش رفت کے حوالے سے صاف بتایا گیا کہ چین کسی ایک سمت میں نہیں بلکہ اپنے زمینی، سمندری اور فضائی تمام ایٹمی ترسیل کے پلیٹ فارمز کی تعداد میں سرمایہ کاری اور توسیع کر رہا ہے اور اپنی ایٹمی طاقت کی اس توسیع کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ چند ہفتوں پہلے کئی امریکی ریسرچرز مغربی چین میں نئے جوہری میزائل سائلوس کی سیٹیلائٹ تصاویر پہلے ہی شائع کر چکے ہیں۔

    اور اس تمام پیش رفت کی وجہ سے امریکی دفاعی اہلکار چین کو مستقبل کے حوالے سے ایک تشویش ناک ملک قرار دے رہے ہیں اور اس کے ارادوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
    اس طرح کی باتیں اس لئے بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ چین نے اپنے سرکاری منصوبے کے مطابق 2049تک پیپلز لبریشن آرمی کو عالمی معیار کی افواج میں تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ اور اگر چین اپنے جوہری ہتھیاروں پر اسی طرح تیزی سے کام کرتا رہا تو وہ یہ مقصد بہت پہلے یعنی2027 تک ہی حاصل کرلے گا جس کے بعد چین بہت آرام سے انڈو پیسیفک خطے میں امریکی فوج کا بھی مقابلہ کرسکے گا اور تائیوان کی قیادت کو بھی مجبور کر لے گا کہ وہ بیجنگ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پرآجائیں اور انڈیا کو توبہت پہلے ہی چین اس کی اوقات دکھا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس وقت چین کے جوہری ہتھیاروں پر سوالات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔چین کے مقابلے میں امریکہ کی ہار کے حوالے سے تو پہلے ہی باتیں ہونا شروع ہو چکی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی عہدیداران بھی کر رہے ہیں اس کی ایک حالیہ مثال امریکی محکمہ دفاع کے سابق چیف سافٹ ویئر افسر نکولس شیلان کا استعفی بھی ہے جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ Artificial Intellignceپر مشتمل ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا چین سے ہار چکا ہے اور آنے والے 15 سے 20 برسوں تک امریکا کی جیت کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

    دراصل سپ پاور بننے کی دوڑ میں چین نے امریکہ کو اسی لئے اب پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ وہArtificial Intellignceمیں بہت زیادہ جدت اور ترقی کر چکا ہے۔ چین اس وقت مشین لرننگ، سائبر صلاحیتوں اور ٹیکنالوجیکل ٹرانسفارمیشن میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔نکولس نے اپنے ایک انٹرویومیں صاف کہا کہ چین کے سامنے امریکی ٹیکنالوجی اب ایسی ہی ہے جیسے کے جی کلاس میں پڑھتا ایک بچہ۔جس کی ایک وجہ انہون نے یہ بھی بتائی کہ گوگل جیسی کمپنی امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہے جبکہ دوسری طرف چین میں دیکھیں تو ہر چائنیز کمپنی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اور بھاری سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے، چین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں بے پناہ سرمایہ لگایا ہے۔ حالانکہ امریکا چین کے مقابلے میں اپنے دفاع پر تین گنا زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہو رہا کیونکہ امریکا غلط شعبہ جات پر سرمایہ لگا رہا ہے۔ اپنے استعفے میں نکولس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ براہ مہربانی کسی ایسے میجر یا کرنل کو ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ لگانے یا ایک سے چار ملین صارفین کے ڈیٹا کا کلاؤڈ حوالے مت کریں جسے اس کام کا تجربہ ہی نہ ہو، کروڑوں ڈالر مالیت کا طیارہ بنانے کے بعد اسے اڑانے کے لیے بھی تو ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے سینکڑوں گھنٹے پرواز کا تجربہ ہو۔ تو آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے آئی ٹی کا تجربہ ہی نہ ہو اسے ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ بنا دیا جائے؟ ایسے شخص کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کرنا کیا ہے اور کس چیز کو ترجیح دینا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے اصل کام سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔یعنی ایک طرف امریکہ کی پریشانی اور ہار ہے جو کہ اب نظر آنا شروع ہو چکی ہے خود امریکی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کا دوغلاپن دیکھیں کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کر لی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو تقریبا 65 کروڑ امریکی ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے ایک سودے کو منظوری دے دی گئی ہے اور اس سودے کے تحت امریکا سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے 280 جدید میزائل فراہم کرے گا۔ یہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کسی خلیجی ملک سے اب تک ہتھیاروں کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے یہ کہتے ہوئے اس سودے کی منظوری بھی دے دی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سعودی عرب کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اس سودے کے زریعے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں ریاض کی مدد کی جا سکے گی۔ یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کی قومی سلامتی کو ایک دوست ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی، جو مشرق وسطی میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے۔یعنی چین اپنے ہتھیاروں پر کام کرے تو نا جائز ہے لیکن اپنے دوست سعودیہ عرب کی مدد اور ایران کی مخالفت کے لئے امریکہ خود جو بھی کرے وہ سب جائز ہے۔یہاں تک کہ بعض امریکی حلقوں میں بھی سعودی عرب کے ساتھ میزائیلوں کے اس سودے پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ یہ کہہ کر اپنا دفاع کررہے ہیں کہ یہ ہتھیار زمینی حملے کے لیے نہیں ہیں اور میزائل صرف فضائی دفاع کے لیے ہیں۔ اور امریکی انتظامیہ نے یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی قیادت کرنے کا جو عہد کیا ہے یہ سودا اس سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ تاکہ سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے فضائی حملوں سے اپنے دفاع کے ذرائع موجود ہوں۔ماضی میں ہم نے دیکھا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی لیکن جوبائیڈن نے اپنی الیکشن کمپئین میں بھی اور صدر بن جانے کے بعد بھی اس پالیسی پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا۔ کیونکہ انھیں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے ہمیشہ ہی کافی تشویش رہی ہے۔ اور ابھی کچھ دن پہلے تک بھی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یمن میں سعودی عرب کے حملوں کی حمایت بند کرنے کے ساتھ ہی اسے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگا دے گی۔ کیونکہ 2015 سے جب سعودی عرب نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں اور حوثیوں کے ٹھکانوں کومیزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا تھا تب سے لیکر اب تک تقریبا چھ برس سے جاری اس جنگ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یمن اس وقت دنیا کے بد ترین انسانی بحران سے دو چار ہے۔

    لیکن نہیں کیونکہ یمن کے مقابلے میں دوسری طرف امریکہ کا دیرینہ دوست سعودیہ عرب ہے تو اس کے لئے سب جائز ہے اس کو ہتھیار دینے سے یہومن رائٹس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ صرف ایک وجہ ہے اس ڈیل کی لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور وجہ ہے جس کے لئے امریکہ یہ ڈیل کرنے جا رہا ہے اور وہ ہے امریکہ کی کرونا کی وجہ سے گرتی ہوئی معیشت۔۔۔ دراصل اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لئے امریکی حکومت نے امریکی ریاستMassachusettsکی ہتھیار بنانے والی کمپنیRaytheonجو کہ ایڈوانس قسم کے اے آئی ایم 120 سی/7 سی- 8 درمیانی رینج کے میزائل بناتی ہے جو فضا سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پینٹاگون کی طرف سے اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ میں کروڑوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ آئے اور اس کی معیشت کو سہارا ملے اور دوستی بھی نبھائی جا سکے ویسے بھی جب سے امریکہ کا افغانستان سے انخلاء ہوا ہے تو امریکہ کی یہ ہتھیار بنانے والی انڈسٹری کا کاروبار کافی متاثر ہوا تھا اس لئے اپنی دفاعی انڈسٹری کو دوبارہ اٹھانے کے لئے جو بائیڈن انتظامیہ کے لئے بہت ضروری تھا کہ اس طرح کا کوئی بڑا معاہدہ کیا جائے جو ان کی معیشت کو بھی سہارا دے اور ساتھ کے ساتھ دوستی نبھائی گئی۔