Baaghi TV

Author: عفیفہ راؤ

  • مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    اپنے کالے کرتوت اور ناکامیاں چھپانے کے لیے مودی سرکار ہمیشہ سے مسلمانوں کو نشانے پر رکھتی آئی ہے۔ اور اس بار بی جے پی کے نشانے پر بالی ووڈ پر راج کرنے والے خانز اور ان کی فیملیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب آریان خان کا کیس شروع ہوا تھا تو میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے یہ کیس صرف مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف جو نفرت ہے اس کی تسکین کے لئے بنایا گیا ہے اوریاد کریں میں نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ شاہ رخ خان کے بعد اب باقی خانز اور ان کے بچوں کی بھی باری آنے والی ہے۔ اور صرف پاکستان میں ہی یہ ڈسکس نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود انڈینز بھی یہی کہہ رہے تھےجس کی ایک مثال بھارتی اداکار اور فلمی ناقد کمال راشد خان یعنی کے آر کے کی ٹوئیٹس بھی ہیں جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا اگلا شکار بالی وڈ کے دو مزید خانز کو بنانے والی ہے۔ ان کی اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کے مزید 2 خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ اور وہ ستارے بی جے پی کا اگلا ہدف ہوسکتے ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز ہیں۔

    کمال راشد خان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ آریان خان کی گرفتاری کے بعد شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کے بچے ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے بچوں کا ماننا ہے کہ اگر آریان خان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور اب یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اس بار ٹرول ہونے والی اور کوئی نہیں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ہیں۔ اور ان کو ایک بالکل نئے طریقے سے سازش کرکے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کیا سازش ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو بتاوں گا ۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ 90 کی دہائی سے اب تک بالی وڈ انڈسٹری پر خانز ہی راج کرتے آئے ہیں۔ کئی دوسرے فنکار بھی آئے اور گئے لیکن کوئی بھی وہ جگہ نہیں بنا سکا جو مقام خانز کو حاصل رہا ہے۔ اور خانز کی وجہ سے بالی وڈ کی فلمیں انڈیا سے نکل کر ساری دنیا میں پروموٹ ہونا شروع ہوئیں۔ جس کی وجہ سے بالی وڈ کا بزنس اتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا۔لیکن انڈیا کو اتنی شہرت اور پیسہ کما کر دینے کے باوجود بھی مودی جیسے جنونی انسان کی نظر میں یہ خانز اپنی اہمیت نہ بنا سکے۔ ماضی میں جیسے سلمان خان پر کیسز بنتے رہے اس کو جیل کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑیں اور ابھی بھی کوئی نہ کوئی کیس اس پر چل ہی رہا ہے اس کی جان نہیں چھوڑی جا رہی کسی نہ کسی بات پر اس کے خلاف کوئی نہ کوئی Contrversyچلتی ہی رہتی ہے۔پھر عامرخان کو ہم نے دیکھا کہ جب ان کی فلمیں چین اور ترکی میں سپر ہٹ جا رہی تھیں تو انڈیا میں ان پر الزامات لگائے جا رہے تھے کہ یہ انڈیا کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اسی وجہ سے دشمن ممالک میں ان کی فلمیں اتنی زیادہ ہٹ ہو رہی ہیں۔ عامر خان کی شہرت ان کو بری لگ رہی تھی لیکن وہ پیسہ جو ان کی وجہ سے انڈیا آ رہا تھا وہ برا نہیں لگ رہا تھا اور یہ نفرت اس حد بڑھ گئی تھی کہ ان کی بیوی نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں کی حفاظت کا خدشہ ہے۔

    اور شاہ رخ خان جو کبھی کسی سکینڈل میں نہیں رہے کبھی کسی Controversyکا حصہ نہیں بنے ان کا کیرئیر ہمیشہ سے ہی بہت صاف ستھرا رہا ہے۔ لیکن جب مودی سرکaر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو انھوں نے ان کے بیٹے پر حملہ کر دیا اور جب وہ اس کے خلاف بھی منشیات کا کوئی ثبوت لانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب این آئی اے کو ٹاسک دے دیا کہ کسی طرح آریان اور شاہ رخ دونوں کو کسی نئے شکنجے میں پھنسایا جائے شاہ رخ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اور یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا کہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ہی بری طرح سے ٹرول کیا جا رہا ہے۔ویسے تو شاہ رخ کی طرح سیف علی خان کا بھی کیرئیر بھی ہمیشہ Controversiesسے دور ہی رہا ہے۔ لیکن کیونکہ اب ان دونوں خانز کے بچے بڑے ہو چکے ہیں تو دراصل بالی وڈ میں ہندوتوا سوچ رکھنے والے لوگوں کو یہ ڈر پڑ گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان خانز کے بعد ان کے بچے بالی وڈ پر اپنا راج قائم کر لیں اور پچھلے کئی سالوں سے انڈیا میں کیونکہ حکومت بھی بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کی ہے تو ان خانز کو دبانے اور ان کو پریشان کرنے کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع اور کون سا ہو سکتا تھا۔اس لئے اب خانز کے بچوں کے خلاف سازشیں ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ چند ہفتے پہلے سارہ علی خان کو اس لئے ٹرول کیا جاتا رہا کہ اس نے امیت شاہ کو سالگرہ کی کبارکباد دی تھی اس نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ٹوئیٹ کی تھی کہ Warmest birthday wishes and regards to the Hon’ble Union Home Minister Amit Shah ji۔۔جسے یہ رنگ دیا گیا کہ شاید اس نے این سی بی سے خود کو بچانے کے لئے اور امیت شاہ کی خوشامد کرنے کے لئے یہ ٹوئیٹ کی ہے۔ کیونکہ سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے ہی پورا بالی وڈ این سی بی کے ریڈار پر آیا ہوا ہے۔ان بالی وڈ سٹارز اور ان کی فیملیز کی کیونکہ آپس میں دوستیاں ہوتی ہیں تو مختلف کیسز میں این سی بی کا جب دل چاہتا ہے کسی نہ کسی سٹار کو اور اس کے دوستوں کو پکڑ کر انویسٹی گیشن میں شامل کر لیتی ہے اور جو ان کو مال کھلا دے تو اس کی جان چھٹ جاتی ہے ورنہ وہ این سی بی کے چکر ہی لگاتا رہتا ہے لیکن مسلمان سٹارز کے لئے تو مشکل یہ ہے کہ ان سے بھتہ بھی بہت زیادہ مانگا جاتا ہے اور بی جے پی کی نظر میں نمبر بنانے کے لئے ان کو لمبے عرصے تک ذلیل بھی کیا جاتا ہے۔

    خیر ابھی سارہ علی خان کی وہ ٹوئیٹ لوگوں کو بھولی بھی نہیں تھی اب اس نے جھانوی کپور جو کہ ماضی کی معروف اداکارہ سری دیوی کی بیٹی ہیں اس کے ساتھ کیدرناتھ مندر جانے کی خبر اور مندر میں بنائی گئیں مختلف تصویریں اپنے انسٹاگرام پر شئیر کیں تو سارہ علی خان پر پھر مختلف طرح کے طنز اور تانے شروع ہو گئے کہ کیا تم مسلمان ہو۔۔۔مسلمان ہوکر ایسا کام کرنے پر شرم آنی چاہیے استغفراللہ۔۔ڈرو خدا کو خوف کرو۔۔۔اور اس کو مندر جانے پر خوب ٹرول کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو سازش ہو رہی ہے اب میں آپ کو وہ سمجھاتا ہوں اور سازش یہ ہے کہ سارہ علی خان پر زیادہ تر ان سوشل میڈیا اکاونٹس سے حملہ کیا جا رہا ہے جو کہ مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے ہیں اور سارہ کے مذہب کو ہی اس میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں آپ کوبتاوں کہ یہ سارے اکاونٹس بی جے پی اور آر ایس ایس کے اپنے سوشل میڈیا ونگز سے چلائے جا رہے ہیں۔اور اس کے پیچھے اصل مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ کیونکہ آریان کے کیس میں سب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ شاہ رخ خان کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ سب برداشت کرنا پڑا ہے خود بالی وڈ کے ہندو لوگ اپنی ٹوئیٹس میں یہ بات کہہ چکی ہیں تو مودی سرکار کو محسوس ہوا کہ ان کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے اکاونٹس سے اس طرح کے گندے ریمارکس دئیے جا رہے ہیں تاکہ پوری دنیا کے سامنے یہ دکھایا جائے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی بلکہ یہاں پر تو مسلمان خود بہت زیادہ مشتعل اور انتہا پسند ہیں اور وہ اپنے ساتھی مسلمانوں پر ہندووں کے ساتھ دوستی کی وجہ سے خود تنقید کرتے ہیں۔اس طرح یہ مسلمانوں کو بھی بدنام کرنے کے اپنے پراپیگنڈے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی خانز کے بچوں کو ڈرانے اور دھمکانے میں بھی تاکہ وہ یہ سب حالات دیکھ کر انڈیا چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور ان کے بالی وڈ میں سٹار بن کر آنے کے چانسز بھی ختم ہو جائیں

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    رندے ظاہر جعفر نے آج عدالت میں کافی تماشا کیا اور جتنی عدالت اور جج صاحب کی توہین آج اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کی ہے اس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ویسے تو جب پولیس درندے ظاہر جعفر کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تھی تب سے لیکر۔۔ اس کے بعد جب بھی اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تب بھی وہ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی ڈرامہ کرتا ہے۔
    یاد کریں پہلے اس نے پولیس کے سامنے موقع واردات پر نور کی لاش کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ گڑیا ہے۔ اور اس طرح کی ایکٹنگ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ پھر عدالت میں بھی پہلے یہ صرف انگریزی بول کر ڈرامہ کرتا تھا پھر چند دن جیل کی ہوا کھا کر اس کو اردو بھی آ گئی تھی۔ بار بار اجازت کے بغیر یہ عدالت میں بولنے کی بھی کوشش کرتا تھا۔ جب اس حرکت پر ایک دو بار اسے عدالت سے باہر نکالا گیا تو اس نے عدالت میں اور راستے میں آتے جاتے بڑبڑانا شروع کر دیا تھا۔۔ اور تو اور ایک بار تو جج صاحب کو اس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ مزید کتنے دن لگیں گے فیصلہ ہونے میں۔۔۔ پھر کبھی یہ عدالت کے سامنے ایمبسی والوں کی بات کر کے اپنے فارن نیشنل ہونے کا رعب جمانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور تو اور یہ بھی فرمائش کی گئی تھی کہ معافی دے دیں یا پھانسی دے دیں میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔۔ قیدیوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہر وہ عجیب حرکت جیل اور عدالت میں کی ہے جو آج سے پہلے تو سننے میں کبھی نہیں آئیں۔

    لیکن آج کی سماعت میں تو اس نے پچھلی تمام حدیں ہی پار کر دیں۔آج جب کیس کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو تین سرکاری گواہان کو گواہی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ایک سرکاری گواہ عامر شہزاد جو کہ ایک نقشہ نویس ہے جب اس نے جائے وقوعہ کی تفصیلات بتانا شروع کیں تو ظاہر جعفر نے اچانک ہی بغیر کسی اجازت کے بولنا شروع کر دیا۔ اور جب جج صاحب نے اسے خاموش رہ کر کارروائی کا حصہ بننے کا کہا تو اس نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ میری کورٹ ہے اور میں نے بات کرنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ آج عدالت میں یہ کسی حمزہ نامی شخص کا نام بھی لیتا رہا کہ میں نے حمزہ کو عدالت میں بلانا ہے۔ خیر آگے چل کر جب درندے کی سائیڈ کے گواہوں کے بیانات قلمنبد کروانے کا وقت آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ پتہ چل ہی جائے کہ یہ حمزہ کون ہے اور اس کا اس کیس سے کیا تعلق ہے۔ اس دوران جج صاحب نے درندے ظاہر جعفر کے وکیل اکرم قریشی سے پوچھا کہ کیا ظاہر جعفر کی آج کی کارروائی میں ضرورت ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضرورت نہیں ہے۔

    اس کے بعد عدالت نے نائب کورٹ کے ذریعے جب درندے ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کا کہا تو عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے درندے کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد ظاہر جعفر خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا اور کمرہ عدالت کے دروازے کے ساتھ لگ کر عدالتی کارروائی کو سنتا رہا۔کچھ دیر تو ظاہر جعفر نے عدالتی کارروائی کو خاموشی سے سنا لیکن اس کے بعد آج پھر اس کو اپنی انگریزی یاد آ گئی اور وہ انگریزی میں بولنا شروع ہو گیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل افراد نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ اور بار بار یہی دہراتا رہا کہ یہ میرا کورٹ ہے مجھے اور میری فیملی کو بتایا جائے کہ کیا ٹرائل چل رہا ہے۔ میں اور میری فیملی انتظار کر رہے ہیں کہ آخر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے پھر اسے بولنے سے روکا جس کے کچھ دیر بعد ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں لگے پردے کو پہلے تو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اونچی آواز میں بولا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟جج عطا ربانی جو کافی دیر سے درندے کی ان تمام فضول حرکتوں کو برداشت کر رہے تھے آخر ان کا صبر جواب دے گیا اور انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم یہاں پر خبر بنانے کے چکروں میں ہے اور ڈرامے بازی کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے وہ ایک قابل اور تجربہ کار جج ہیں روزانہ اتنے ملزمان کو دیکھتے ہیں ان سے زیادہ کون پہچان سکتا ہے کہ یہ درندہ اب ڈرامہ کرکے دراصل کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    جس کے بعد پھر بھی برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطا ربانی صاحب نے سکیورٹی پر مامور پولیس انسپکٹر کو حکم دیا کہ ملزم کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔
    لیکن جب پولیس انسپکٹر مصطفی کیانی نے ظاہر جعفر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے کی کوشش کی توآج درندے نے عدالت میں ہی اپنی درندگی دکھانی شروع کر دی۔ پولیس انسپکٹر سے جھگڑا شروع کر دیا یہاں تک کہ پولیس افسر کا گریبان بھی پکڑ لیا اور درندے کی اس حرکت کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ یہ قانونا جرم ہے کہ آپ کسی سرکاری اہلکار کو آن ڈیوٹی یونیفارم میں اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالیں اگر اس نقطے کو اٹھایا جائے تو اس پر بھی اس درندے کی سزا بنتی ہے لیکن خیر ایسی چھوٹی موٹی سزا کا کوئی فائدہ نہیں اس کی اصل سزا تو یہی ہو گی کہ پوری قوم اس کو پھانسی کے تختے پر لٹکا ہو دیکھے۔خیر پولیس سے ظاہر جعفر کی لڑائی پر عدالت میں افراتفری مچ گئی دوسرے پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرنے آگئے لیکن ظاہر جعفر اتناvoilentہوا ہوا تھا کہ وہ تین چار پولیس والوں سے تو قابو ہی نہیں ہو رہا تھا اس لئے وہاں مزید نفری بلانا پڑی اور اسے نہ صرف زبردستی کمرہ عدالت سے باہر نکالنا پڑا بلکہ باہر نکل کر بھی جب وہ قابو نہیں آ رہا تھا تو پولیس والوں کو اسے دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوں سے پکڑ کربخشی خانے لے جانا پڑا۔لیکن اب میں آپ کو اندر کی بات بتاتا ہوں کہ پاکستان پینل کورٹ سیکشن 84کے مطابق اگر کوئی شخص پاگل ہے، نشہ کرتا ہے یا اگر اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے تو وہ جو Offenseکر رہا ہے وہ Considerنہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ہوش و حواس میں نہیں ہوتا اور اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اور یہ بات درندہ اور اس کی فیملی بہت اچھے سے جانتے ہیں اس لئے وہ شروع دن سے ہی عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہے۔ اور عدالت کے سامنے بھی ڈرامہ کرنے کا یہی مقصد ہے کہ جب اس کے وکیل اپنے دلائل دیں تو اس سے پہلے ہی سب کے مائنڈ میں ہو کہ یہ درندہ تو پہلے بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا ہے اس لئے شاید واقعی یہ ایک ذہنی مریض ہے اس طرح اس کو جیل سے رہائی بھی دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور صرف درندے کی حرکتیں ہی نہیں بلکہ اس کے ملازموں نے بھی جو 161کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ہیں ان میں بھی ایسی ہی باتیں کی گئیں ہیں کہ نور نے جب چھلانگ لگائی اور ظاہر اس کو پکڑنے اس کے پیچھے آیا تو ظاہر کی حالت ٹھیک نہیں تھی یہ بات ملازموں کے اپنے بیانات میں کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ جب درندے نے نور کو قتل کیا تو اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اسی لئے جعفر فیملی جو اپنے بیٹے کے لئے وکیل نہیں کر رہے تھے انھوں نے اپنے ملازموں کو اتنے مہنگے مہنگے وکیل کرکے دئیے ہیں تاکہ ان کی Loyalityتبدیل نہ ہو جائے اور وہ ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ایسا بیان نہ دے دیں جو اس کے خلاف استعمال ہو سکے۔

    اس مقدمے میں ابھی تک بارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں آج کی سماعت میں تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے تھے لیکن اس تمام بد تمیزی کی وجہ سے سماعت کو مختصر کرنا پڑا صرف نقشہ نویس عامر شہزاد کا ہی بیان ریکارڈ ہوا اور اس پر جراح کی گئی لیکن یہ جراح بھی ابھی نا مکمل ہے کیونکہ ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ جو کہ رضوان عباسی کی جگہ آئے ہیں وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اس لئے اب وہ عامر شہزاد سے اگلے سماعت پر جراح کریں گے جو کہ دس نومبر کو ہو گی۔ امید ہے کہ اگلی دو سماعتوں میں اگر کوئی بد نظمی نہ ہوئی تو تمام سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند ہو جائیں گے جس کے بعد دوسری پارٹی اپنے دفاع میں گواہ پیش کرے گی۔ایک اور اہم پوائنٹ اس تمام کاروائی میں یہ بھی ہے کہ عدالتی کاروائی میں دخل اندازی کا مقصد کیس کو لٹکانا بھی ہے تاکہ ٹرائل جلد پورا نہ ہو سکے۔ عام لوگ اور صحافی سب اس کیس کو فالو کرنا چھوڑ دیں اور پھر درندے کی فیملی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اپنے بیٹے کو ذہنی مریض ثابت کرتے ہوئے رہا کروا لیں۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں نہ تو ہم اس کیس کو بھولیں گے نہ ہی لوگوں کو بھولنے دیں گے اور انشا اللہ اس درندے کا ایسا عبرتناک انجام ہوگا کہ اس خاندان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

  • انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف الیکشنز کی تیاری تو دوسری طرف انڈیا کا برا وقت چل رہا ہے لیکن اس بار بھی مودی سرکار کے پاس ایک ہی حل ہے کہ اپنی عوام میں جنگی جنون کو ابھارا جائے مذہب کی بنیاد پر پہلے ہی تقسیم شدہ عوام کے سمندر کو اور تقسیم کیا جائے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے بھارت میں کشمیر، پاکستان اور طالبان کے حوالے سے سیاست گرم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان ضرور سامنے آتا ہے جو جلتی پر آگ کا کام کر سکے۔

    اب آدتیہ ناتھ یوگی کو تو آپ جانتے ہی ہیں ان کو تو عام حالات میں چین نہیں آتا تو ایسی صورتحال میں جب باقی سب سیاستدان بھی خوب ایکٹیو ہوئے ہوئے ہیں تو وہ کہاں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اتر پردیش میں الیکشنز کی وجہ سے بی جے پی نے ایک کمپئین شروع کی ہوئی ہے۔ اور آج اسی سلسے میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے سیاسی مخالفیں پر تو گولہ باری کی ہی لیکن آپ کو پتہ ہے کہ انڈیا میں کوئی الیکشن ہو اور پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹا جائے ایسا ہو نہیں سکتا تو آج کے اپنے بیان میں پاکستان کے حوالے سے ان کو کہنا تھا کہ طالبان کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان پریشانی محسوس کر رہے ہیں لیکن طالبان کو یہ بات معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کی جانب قدم بڑھایا تو ان کے لیے فضائی حملہ تیار ہے۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کافی طاقتور ہو چکا ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے۔
    سب سے پہلے تو ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے کافی ہنسی بھی آئی کیونکہ جتنی مزاحیہ بات انھوں نے کی ہے اس پر انسان ہنس ہی سکتا ہے۔ یعنی وہ انڈیا جس کو طالبان کی حکومت آنے پر یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے لوگوں کو وہاں سے کیسے نکالے بلکہ ابھی تک بھی انڈیا کو کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے رابطے کیسے بڑھائیں۔ وہ طالبان جن کی حکومت آنے پر پورے انڈین میڈیا پر سوگ منایا جا رہا تھا کہ ہماری سرکار کی بیس سالوں کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی آج اس کی حکمران جماعت کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان جس کے کردار کو طالبان حکومت بننے اور امریکہ کے افغانستان سے پر امن طریقے سے نکلنے پر پوری دنیا نے سراہا یہ ہمارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں۔

    اور یہ فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی اب پرانی ہو چکی ہیں یاد کریں کہ چین سے ایل اے سی پر آپ کو کیسی مار پڑی تھی پاکستان میں جب آپ نے گھسنے کی کوشش کی تو ابھی نندن کو کیسی چائے پلائی تھی ویسے بھی پاکستان نیوی کے ہاتھوں بھی جتنی بار آپ ذلیل ہو چکے ہیں تو اس کے بعد اس طرح کے بیانات پر کوئی ان کو کیا کہہ سکتا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ بی جے پی اپنے جنگی جنون اور ہندوتوا سوچ کی وجہ سے بیانات دیتے ہوئے اتنا آگے نکل جاتی ہے کہ اسے سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ اسی جلسے میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا موازنہ بھارتی رہنما سردار پٹیل سے کیا، جو ایک شرمناک بات ہے اور طالبانی ذہنیت کی عکاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طالبانی ذہنیت ہے، جو تقسیم پر یقین رکھتی ہے۔ سردار پٹیل نے تو ملک کو متحد کیا تھا۔ فی الحال وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک متحد اور اعلی ترین بھارت کے حصول کے لیے کام جاری ہے۔ حالانکہ اکھیلیش یادو نے موازنہ کرنے کی تو بات ہی نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح جیسی شخصیات نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی اور بیرسٹر بنے تھے۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جد وجہد کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔اب اس بیان میں آپ دیکھ لیں کہ انھوں نے تو ان شخصیات کو کوئی موازنہ کیا ہی نہیں اور جو کہا وہ حقیقت ہے کہ انھوں نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی۔دراصل جس بات سے آدتیہ ناتھ کو تکلیف ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ اکھیلیش یادو نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس کے نظریات پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ آج اسی نظریے کے لوگ جو متحدہ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں ملک کو مذہب اور ذات پات کے نام تر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    دراصل قائد اعظم تک کو جو اپنے بیانات اور سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یوپی کی یو گی حکومت کو اس بار سخت ترین حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے ریاست میں بے روزگاری، مہنگائی اور کورونا کی وبا کے سبب ہونے والی اموات ایسے بڑے موضوعات ہیں جس کی وجہ سے حکومت پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور اسی لیے وہ اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے پاس مذہبی کارڈ کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اسی لیے اس مرتبہ بی جے پی اتر پردیش کے انتخابات میں طالبان کا بھی خوب ذکر کررہی ہے۔ تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت ہندوؤں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے اور اس نے مسلمانوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔ کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ اس طرح کے تاثر سے اسے سیاسی فائدہ ہو گا، ورنہ الیکشن سے پہلے آپ خود سوچیں کہ اس طرح کے اعلانات کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے؟لیکن اس نفرت میں بے جے پی اتنا آگے بڑھ چکی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے یو پی میں بعض افراد کے خلاف بغاوت کا کیس بھی درج کیا تھا۔ اور بھارت کے ضلع سہارنپور کا قصبہ دیوبند جو اپنے تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند اور فقہ اکیڈمی کے لیے عالمی سطح پر مشہور و معروف ہے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نسبتا پرامن علاقہ ہے جہاں شاذ و نادر ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے وہاں ایک اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کے لیے تربیتی مرکز کھولنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    اس یوگی حکومت کی اصلیت تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نے تبدیلی مذہب کے نام پر کئی سرکردہ مذہبی مسلم اسکالر کو گرفتار بھی کر رکھا ہے جبکہ حال ہی میں ریاست کے کئی مقامات پر گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کا بھی اعلان کیا تھا۔تو ایک طرف تو بی جے پی کو یہ گھناونا چہرہ ہے کہ کیسے الیکشنز کے لئے لوگوں میں نفرت کو ابھارا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انڈیا میں ایک نفرت انڈین کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ سے بھی پھیلی ہوئی ہے پاکستان سے ہار جب برداشت نہیں ہوئی تو کچھ لوگوں نے انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا اور اس پر جان بوجھ کر رنز دینے کا الزام لگایا اور اسے غدار اور ملک دشمن کا ٹائٹل دے دیا۔ اور جب ایک ہفتے بعد انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ٹرولنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سامنے آ کر کچھ بول سکیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں محمد شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی بولنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ساتھ شامی ہمارے اہم ترین بولر رہے ہیں کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔تو اس بیان کے بعد محمد شامی کے ساتھ ساتھ کوہلی خود بھی سوشل میڈیا صارفین کے غصے اور تنقید کی زد میں آ گئے۔شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے ساتھ مسلم دشمنی میں جو سلوک کیا گیا کچھ بھی ثابت نہ ہونے کے باوجود اس کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد کی جاتی رہی اس کو تقریبا ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا کہ اب وہ باہر آ کر بھی شدید ڈپریشن میں ہے اور نہ وہ کچھ کھا سک رہا ہے نہ سو پا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم ہائر کی گئی ہے تاکہ کسی طرح اس کو اس کنڈیشن سے باہر نکالا جا سکے۔تو ان حالیہ واقعات سے دیکھ لیں جس حکومت کی اتنی جنونی سوچ ہو اور وہ لوگوں میں نفرت پھیلا رہی ہو جہاں اتنے بڑے بڑے نام محفوظ نہ ہوں تو سوچین کہ وہاں ایک عام مسلمان کس ٹرامہ سے گزرتا ہو گا۔

  • شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی میڈیا پر اس وقت ایک سٹوری کا بہت زیادہ چرچا ہوا رہا ہے اور وہ ہے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی گرفتاری۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے اس خبر کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟اس کی آڑ میں وہ کون سی اہم خبریں ہیں جن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟کس طرح سے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا اپنی ہی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

    شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو تین اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد آج اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اب سات اکتوبر تک کے لئے ریمانڈ پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے آریان خان کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک کروز شپ پر پارٹی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا۔ ویسے سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدت پسند مودی کے بھارت میں جہاں شراب کی فروخت قانونی ہے وہاں چرس پینے کے الزام میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔
    خیر آریان کی گرفتاری کی اطلاع جیسے ہی سامنے آئی تو سلمان خان بھی فورا شاہ رخ خان کو تسلی دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ جس کے بعد پاپا رازی کی ایک بڑی فوج شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کے باہرنظریں جمائے بیٹھی ہے تاکہ ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے اور ان کی تصاویر بنائی جائیں۔ جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کی سیکیورٹی ٹیم نے بالی ووڈ کے ستاروں کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ وہاں آنے سے گریز کریں۔ لیکن ٹیلی فون پر دپیکا پڈوکون ، کرن جوہر ، روہت شیٹی، سنیل شیٹی سمیت تقریبا تمام ہی اداکار اور اداکارائیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بالی وڈ کے تمام لوگ آریان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ آریان خان کو آج ضمانت مل جائیگی لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ رخ خان کا بیٹا اور اس کو ضمانت تک نہیں مل سکی۔ ویسے تو اس حادثے کے بعد شاہ رخ خان کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ انڈیا میں جب عام مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔ وہ ظلم جس پر شاہ رخ خان کبھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے، خاموش رہتے ہیں بلکہ بعد میں جاکرمودی کے ساتھ دعوتوں میں شریک ہو کر سیلفیاں بناتے ہیں۔ لیکن آج وہ مودی سرکار ان کے کام نہیں آ رہی ان کے بیٹےکو ضمانت تک نہیں دی جا رہی۔ بلکہ اس خبر کو اور زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ صرف بھارتی میڈیا کے آج تک نیوز نے اس خبر پر سو سے زیادہ ٹوئیٹس کئے ہیں۔اب میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟آپ خود سوچیں کہ آریان خان خود کوئی Celebrity
    تو تھا نہیں کہ اس کا اتنا چرچا ہو رہا ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے اس پہلے بھی کئی بالی وڈ شخصیات کے بچے یا خود کامیاب اداکاراور اداکارائیں ڈرگز کے استعمال پر یا دوستوں کے ساتھ ڈرگز پارٹیاں کرنے کے الزامات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ ڈرگز سے متعلق خبر تھی اس لئے اس کو اتنی اہمیت دی گئی تو ایسا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی ہفتے پہلے بھارتی گجرات کے Mundra port پر تقریبا تین ہزار کلو ڈرگز پکڑی گئی تھی جس کی مالیت تقریبا اکیس ہزار کروڑ ہندوستانی روپے بنتی تھی۔ لیکن اس پر یہ پورا بھارتی میڈیا خاموش رہا تھا اس خبر پر اتنی ہزار ٹوئیٹس نہیں ہوئیں تھیں جتنی آریان خان پر خبریں بنا کر ٹوئیٹس کی جا رہی ہیں۔ آریان کے حوالے سے شاہ رخ خان کی پرانی پرانی ویڈیوز کو بھی نکال کر دوبارہ سے وائرل کیا جا رہا ہے۔

    اس کے پیچھے مودی سرکار کی سازش کیا ہے جس میں بھارتی میڈیا بھی پارٹنر بنا ہوا ہے۔دراصل اس واقع کی آڑ میں دو بہت ہی اہم خبروں کو چھپایا جا رہا ہے۔ایک خبر تو یہ ہے کہ بی جے پی پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے روڑکی میں ایک چرچ پرتین اکتوبر کو 200 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اور یہ شر پسند آپ خود جانتے ہیں کہ کون ہو سکتے ہیں۔ یہ شر پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لوگ تھے جن کو مودی سرکار کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ اس حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اور ان ہندو انتہا پسندوں نے فرنیچر، تصویریں اور موسیقی کے آلات وغیرہ بھی توڑ دیے تھے۔ وہ حملہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگاتے جا رہے تھے۔
    اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں پہنچی۔ چرچ انتظامیہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے اب تک کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا مسیحی برادری اور چرچ کے ہی نو افراد کے خلاف کیس درج کر دیا۔ اور ان پر ایک خاتون کو دھمکی دینے اور حملہ کرنے کے الزامات لگا دئیے گئے۔حالانکہ اب چرچ کے قریب ایک گھر کے پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دباو کی وجہ سے اب تک متاثرین کے خلاف درج کرایا گیا کیس منسوخ نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی حملے میں ملوث لوگوں کی شناخت کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیا۔اور اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے ہمیشہ مودی سرکار کے پاس ایک ہی گھسی پٹی وجہ ہوتی ہے۔۔ جو کہ بی جے پی کے ریاستی صدر مدن کوشک نے اپنے بیان میں بتا بھی دی ہے کہ اس چرچ کا استعمال ہندووں کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہو رہا تھا۔ اس واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ دراصل اسی کالونی کے رہنے والے تھے اور چرچ کو مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس لئے انہوں نے یہ حملہ کیا۔حالانکہ اس چرچ کو چلانے والی سادھنا لانس ایک ریٹائرڈ سرکاری اسکول ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب اس چرچ کو اپنی جمع کردہ رقم اور پینشن کے پیسوں سے چلاتی ہیں۔ اور وہاں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوتی رہی جس کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ دوسری خبر جس کو آریان خان کے کیس کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسانوں کو معاملہ ہے۔ یہ ہنگامہ بھی تین اکتوبر کو ہی شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے جس کے بعد انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کسان وہاں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ کیشو پرساد موریہ پہلے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعد میں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچے۔اتوار کو دوپہر ڈیڑھ بجے جب سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل ہوا اس وقت تک وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کسانوں کا احتجاج بھی پر سکون تھا۔ حالانکہ کچھ دن پہلے اجے مشرا نے اپنے بیانات میں کسانوں کو کافی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اجے مشرا کی تین گاڑیوں کا قافلہ تیکونیا کے قریب پہنچا جہاں کسان سڑک روک کر احتجاج کر رہے تھے۔وہاں ان کی کسانوں کے ساتھ گرما گرمی ہوئی اجے مشرا کے ساتھ موجود لوگوں میں سے کسی نے گولی چلائی جو ایک کسان کے سر پر لگی اور اس کے بعد حالات بگڑ گئے۔ جس پر انہوں نے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں بھی ان کی گاڑیوں نے کسانوں کے ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی۔ ایک صحافی بھی اس میں مارا گیا۔ اور کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔اور جب اپوزیشن رہنماوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ان کو بھی زبردستی روکا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لے لیا گیا جس پر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟ پرینکا میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔اس کے علاوہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ تاکہ کوئی وہاں پہنچ کر اصل صورتحال نہ جان سکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کسی طرح کی حمایت کا اظہار کیا جائے۔اب آپ سوچیں کہ انڈیا میں وہ اتنے بڑے واقعات ہوئے جن میں اتنے لوگ مارے گئے لیکن مودی سرکار اور ان کا چہیتا میڈیا صرف شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی خبر میں Interested تھا۔ انڈیا میں کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور Minoritiesکے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ دکھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لئے آریان کو ابھی ضمانت بھی نہیں دی گئی تاکہ ابھی مزید کچھ دن تک میڈیا اسی خبر پر لگا رہے پھر باقی دونوں معاملات دب جائیں گے تو آریان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو یہ ہے مودی سرکار اور ان کے جعلی میڈیا کا اصل چہرہ کہ کیسے سازشیں کرکے اصل واقعات کو عوام کے سامنے آنے سے روکا جاتا ہے۔

    @afeefarao

  • پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

    لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟
    دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
    @afeefarao

  • پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں کونسی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرنے آ رہی ہیں؟کیا پاکستان اب امریکی دباو برداشت کرے گا یا ہمیں کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرنی ہو گی؟

    اس خطے میں جب بھی کوئی تناو کی صورت حال ہوتی ہے یا شدت پسندی سر اٹھاتی ہے تو اس کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس لئے اس حوالے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ امریکی حکام پہلے بھی پاکستان پر کئی بار دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن ہمارے وزيراعظم عمران خان اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہمیشہ ہی یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان خود شدت پسندی سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔اپنے حالیہ ترک ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بھی عمران خان نے بار بار یہی بات دہرائی تھی کہ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا افغان جنگ میں ہمیں 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی غلطی سے نظریں ہٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنانا تکلیف دہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدرجوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں امریکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پریشانی کا شکار ہے اور امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں لگے ہیں۔
    ایک اور اہم بات جو وزیر اعظم عمران خان پچھلے کافی عرصے سے دہرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میں جنگ سے مسئلے کے حل کا مخالف ہوں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں ہمارے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق تو اس وقت افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس کے بعد جو طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں گے تو انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کی ہم سے جو توقعات ہیں وہ اس کے بالکل الٹ ہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کریں۔ یہاں تک کہ پاکستان کوDo moreکے لئے مجبور کرنے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹریWendy Shermanپاکستان کے دورے پر بھی تشریف لا رہی ہیں وہ سات اور آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی امریکی عہدیدار کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہو گا۔

    Wendy Shermanاپنے اس طویل دورے کے لیے امریکا سے نکل چکی ہیں اور اس سلسلے میں ابھی وہ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور ازبکستان کا دورہ بھی کرنا ہے۔جبکہ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہ ہمیں سنا چکی ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ویسے تو انہوں نے پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک دہشت گردی کی لعنت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم تمام علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون کی کوششوں کے منتظر ہیں۔مطلب ہماری تعریف کے ساتھ ساتھ ہمیں آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں اور کچھ دن پہلے امریکی سینیٹ میں جو بل پیش ہوا تھا وہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں تو اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے ہم پر پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟ دراصل امریکہ افغانستان سے نکل تو گیا ہے لیکن جانے سے پہلے اس نے سوچا تھا کہ افغان فوج جس کو ہم ٹریننگ دیتے رہے ہیں اورافغان حکومت جس کو ہم اتنے سالوں تک پالتے رہے ہیں تو یہاں سے جانے کے بعد بھی ہم اس فوج اور حکومت کے زریعے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھیں گے یہاں سے ان فوجیوں کے زریعے انھیں ہر طرح کی جاسوسی ہوتی رہے گی۔ لیکن امریکہ کے نکلتے ہی معاملہ الٹ گیا وہ فوج بھی ڈھیر ہو گئی۔ حکومتی عہدیداران بھی فرار ہو گئے اور تمام جاسوسوں کے اڈے بھی بند ہو گئے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ صرف امریکہ ہی نہیں امریکہ کے چمچے انڈیا کو بھی دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ تو امریکہ کا انڈیا والا بھی راستہ بند ہو گیا۔حالانکہ انڈیا دوبارہ سے اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ انڈیا جانے والے افغانوں کو ٹریننگ دے کر اپنے جاسوس کے طور پر دوبارہ افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بتا دوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک وقت تک امریکہ یہ سوچتا رہا کہ شاید یہ کوئی فیک اکاونٹ ہے یا پھر صرف نام استعمال کرکے یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کراس اکاونٹ کو چلایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی ذبیح اللہ مجاہد کو ٹریس نہیں کر سکے۔ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا وہ بیس سال میں اگر طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکا تو انڈیا کس کھیت کی مولی ہے۔ اس لئے اب انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کے خلاف اس طرح کی سازشیں کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنا ایک انٹیلیجنس کا نیٹ روک ہے۔

    اب کیونکہ انڈیا بھی افغانستان سے باہر ہو گیا تو امریکہ کو پاکستان نظرآگیا۔۔ پاکستان کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ بہتر ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ کیوں نہ اب اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جائے۔اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ اس وقت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں دیگر دھڑوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا اور اس کا سیدھا سا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی حکومت زیادہ طاقتور نہ ہو سکے ظاہری بات ہے جب کئی گروپس مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے تو طالبان اپنے نظریات کو اس طرح سے لاگو نہیں کر سکیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے رہیں گے جس کے بعد امریکہ کہہ سکے گا کہ دیکھا ہم نے بیس سال تک جو جنگ کی وہ بالکل ٹھیک تھی کیونکہ طالبان امن پسند لوگ نہیں ہیں۔اور امریکہ کی اس تشویش کے پیچھے بھی اصل میں بھارت ہے۔ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ طالبان کے افغانستان میں آنے سے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو بھی طاقت ملے گی۔ اس لئے وہ امریکہ کے زریعے دباو ڈلوا رہا ہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروہوں کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ سے ایک جنگ میں جھونک دیا جائے اور ہمارے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تمام دباو پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا بھی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ تو امریکہ کو برداشت ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔مغربی ممالک کو ویسے ہی آجکل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں افغانستان پھر سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ نہ بن جائے۔ حالانکہ طالبان کی قیادت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا پاکستان کے کردار پر نہ صرف تنقید کرتا رہا ہے بلکہ امریکی حکام ہم پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلیجنس سروس افغان طالبان کی درپردہ مدد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اس خطے میں جاری کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے میں پھنستے رہیں گے۔باقی جو باتیں کی جاتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام ہو، خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کو بھی ساتھ ملایا جا سکے اور ان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا جا سکے۔

    حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس مرتبہ پھر اس خطے کواسی جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اس نے 90 کی دہائی میں دھکیلا تھا۔ باقی اب پاکستان پر ہے کہ وہ ڈومور کے اس امریکی دباو کو کتنا برداشت کرتا ہے جو پاکستان مخالف بل کی صورت میں امریکی سینیٹرز کے ذریعے ہم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب وہی دباو Wendy Shermanبھی پاکستان پر ڈالنے آ رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے جو اندرونی معاملات ہیں اور پاکستان معاشی طور پر جتنا کمزور ہو چکا ہے تو ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ بہت محتاط ہو کر کرنا ہوگا۔

  • دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا جو ہمیشہ ہی ڈبل گیم کرنے میں ماسٹر رہا ہے وہ اب مشکل میں پھنس چکا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی انڈیا ایک طرف کواڈ گروپ کی طرف قدم بڑھانا چاہتا تھا اور دوسری جانب شنگھائی Cooperation organizationمیں بھی چین اور روس کے ساتھ اشتراک کی باتیں کر رہا تھا۔ ایک وقت پر لگتا تھا کہ شاید ایسا ممکن بھی ہو جائے گا لیکن اب نریندر مودی کے حالیہ دورے کے بعد ایسا ہونا کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔انڈیا نے نریندر مودی کے دورہ امریکہ سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کیونکہ اس دورے میں نریندر مودی کی پہلی بار صدر جو بائیڈن سے آمنے سامنے ملاقات ہونی تھی کواڈ گروپ کا بھی پہلاIn-personاجلاس ہونا تھا۔ لیکن مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ جو کچھ سوچا جا رہا تھا اس دورے کے دوران بالکل بھی ویسا نہیں ہوا۔ اور یہ مودی سرکار کی اپنی نیت کا پھل ہے کیونکہ جس طرح سے وہ تمام جانب ڈبل گیم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت حالات بدل چکے ہیں آپ دو کشتیوں کے سوار نہیں ہو سکتے۔ اگر جان بچانی ہے تو کسی ایک کشتی کا ہی انتخاب کرنا پڑے گا۔

    سب سے پہلے تو جب مودی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لئے وائٹ ہاوس پہنچا تو وہاں اس کو کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ امریکی صدر جوباِہڈن نے مودی کا استقبال کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور وہ خود ہی دروازے سے اندر چلے گئے۔ پھر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران نریندر مودی کو صدر جو بائیڈن نے گاندھی کے فلسفے پربھی لیکچردیدیا۔ مقبوضہ کشمیراورآسام میں مسلمانوں کو کچلنے والے نریندرمود ی کو امریکی صدر نے عمدہ انداز سے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کا پیغام عدم تشدد، احترام اور برداشت کا پیغام تھا۔ لیکن صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ مطلب اس نئے باب میں مودی سرکار کو کافی محتاط ہونا پڑے گا۔اس کے بعد مودی کی ملاقات نائب امریکی صدر کمیلا ہیرس سے ہوئی اس معاملے میں بھی ان کو اپنی عوام کے سامنے خاصی شرمندگی اٹھانا پڑی بھارتی میڈیا نے بھی خوب تنقید کی اور وجہ یہ بنی کہ مودی کے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ملاقات کے حوالے سے نو ٹوئیٹس کی گئیں لیکن کمیلا ہیرس نے کوئی ایک ٹوئیٹ بھی نہیں کی۔اس کے بعد پریس ٹاک بھی بجائے یہ کہ مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن کرتے ایسا بھی نہیں ہوا بلکہ کملاہیرس نے مودی کے ساتھ میڈیا کے سامنے بات چیت کی اور اس موقع پر نہایت ذہانت اور مہارت سے کیمروں کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا کہ دنیا کو جمہوریت کی برکتوں سے آگاہ کرنے سے پہلے امریکہ اور بھارت کے حکمرانوں کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ اپنے اقدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ ان کے اپنے معاشروں میں جمہوری اقدار کس حد تک مستحکم ہیں۔

    ویسے تو جس طرح مودی سرکار انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانے پر بضد ہے۔ مسلمانوں اور ہندومذہب ہی کی نچلی ذاتوں کو انڈیا کی نام نہاد جمہوریت میں برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جارہا۔ ایسے قوانین بنائے گئے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ہندوشہریوں کو دستاویزات کے پلندوں سے ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ واقعتا بھارت کے قدیم اور پیدائشی شہری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قید ہوئے 80لاکھ انسانوں کی داستان الگ ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو باتیں کمیلا ہیرس نے مودی سرکار کو میڈیا کے سامنے سنائیں ایسی باتیں عام طور پر بند کمروں میں کیمروں سے چھپ کرکی جاتیں ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب سامنے والا آپ کا مہمان ہو۔ ہاں اگر مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن اس طرح کی بات کرتے تو الگ بات تھی۔
    ساتھ ہی امریکہ کے دورے کے دوران مودی کا سارا زور افغانستان کی حالیہ صورت حال ،کورونا ویکسین اور کواڈ سمٹ پر رہا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں تو ایسا لگتا تھا کہ شاید نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت صرف بھارت کی تیار کردہ ویکسین کی مشہوری کیلئے کی تھی۔ لیکن مودی سرکار کی دال بالکل نہ گل سکی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت سبھی ترقی یافتہ ممالک نے واضح کر دیا کہ امریکہ اور برطانیہ آنے والے سبھی شہریوں کو ویکسین دوبارہ کرانی پڑے گی کیوں کہ بھارتی ویکسین قابل بھروسہ نہیں ہے۔
    پھر مودی نے افغانستان کا بھی خاص طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ ظاہری بات ہے کہ انڈیا نے اتنے سال تک افغانستان میں سرمایہ کاری کی جو اب ضائع ہو چکی ہے جس بات کی ان کو بہت تکلیف بھی ہے لیکن افغانستان کی بات کرتے ہوئی وہ بھول گئے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ ،روس، چین اور پاکستان نے بھارت کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اسے بھی ایک فریق کی حیثیت دی جاتی۔

    اس کے علاوہ ایک اور اہم ایجنڈا کواڈ سمٹ کا تھا ۔اس معاملے میں بھی بھارتی وزیراعظم امریکہ کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئے خود بھارتی میڈیا کی رائے میں بھارت کی جانب سے اس دورے سے پہلے اور اس دورے کے دوران چین کے خلاف جتنا زہر اگلا گیا اس کے بعد اب آنے والے دنوں میں بھارت کو چین کے ہاتھوں بھی مزید ٹھکائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے 2020میں ہوا تھا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ چین کا نام لیکر اس پر تنقید کر سکیں Mari timeتنازعات کا ذکر کرکے indirectly
    چین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ چین South china seaکی اصلاح استعمال کرتا ہے لیکن مودی نے Indo Pacificکا لفظ استعمال کیا جس پرچین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ خود بھارت کے سنجیدہ حلقوں کے مطابق Quad Summitکے حوالے سے بھارت نے غیر ضروری پھرتیوں کا مظاہرہ کیا جبکہ دہلی کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کی سرحدیں تو بھارت سے نہیں ملتیں لیکن بھارت کی طویل سرحد چین سے ملتی ہے لہذا اگر چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا تو اس کا خمیازہ صرف بھارت کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
    کواڈ گروپ میٹنگ پر ویسے ہی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری بالکل بھی تعمیری نہیں۔ معاشی زبردستی کی جائے پیدائش اور صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔ پہلی بات چین دھمکیاں نہیں دیتا اور نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ چین مختلف ممالک میں کمپنیوں کو بلاوجہ دباتا نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں معاشی زبردستی کا الزام چین پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔

    اس سب کے بعد آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسے یہ دورہ سفارت کاری کی ایک ناکام ترین مثال ثابت ہوا اور قسمت کی مار دیکھیں کہ مودی سرکار کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے جو فیک تصویر شئیر کی گئی اس کی وجہ سے پورے انڈیا کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ دراصل مودی سرکار کو یہ فیک تصویر بنانے اور اسے وائرل کرنے کی ضرورت بھی اسی لئے پڑی کہ مودی نے اپنی عوام کے سامنے اس دورے کے حوالے سے خوب بڑکیں ماری ہوئیں تھیں لیکن ان کا یہ دورہ بری طرح ناکام ہوا۔ تو اپنی عزت اور بھرم قائم کرنے کے لئے اس تصویر کا سہارا لیا گیا اور وہ بھی الٹا ہی ان کے گلے پر گیا۔اب کیونکہ مودی صاحب خود دیکھ آئے ہیں کہ امریکی حکومت ان سے بالکل خوش نہیں ہے اور وہ انکی محبت میں چین کی برائیاں کرکے اس کے ساتھ بھی بگاڑ چکے ہیں۔ تو اب وہ خود کو ایک نئی لڑائی کے لئے تیار کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے مودی سرکار نے لداخ اور مقبوضہ کشمیرمیں ایک نیا پراجیکٹ شروع کر دیا ہے۔بھارتی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں واقع ہمالیہ کے پہاڑوں میں سرنگ تعمیر کرکے اور مختلف پل بنا کر مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو آپس میں ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس منصوبے کو سٹریٹجک سرنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس پراجیکٹ پر سینکڑوں افراد کام پر لگائے جا رہے ہیں تاکہ اگلے انتخابات سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔آپ سب جانتے ہیں کہ لداخ کی سرحدیں پاکستان اور چین کیساتھ ملتی ہیں جو تقریبا 6 مہینے برف میں ڈھکا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں آمدورفت اور اشیاء کی سپلائی کیلئے ہوائی سفر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کشمیر کو ویسے ہی پاکستان اپنی شہ رگ مانتا ہے۔ گزشتہ سال لداخ میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں Actual line of controlکہلائے جانے والے علاقے میں لاکھوں چینی اور بھارتی فوجی تقریبا 16 ماہ تک آمنے سامنے رہے تھے جس میں بھارت اور چین کے بہت سے فوجی مارے بھی گئے تھے۔ بھارت کو اپنا بہت سا علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

    اب یہ سرنگ تعمیر کرکے بھارتی حکومت اپنی فوج لداخ کے علاقے تک آسان رسائی دینا چاہتی ہے تاکہ ان کو لاجسٹک سہولیات بھی بہتر طور پر فراہم کی جائیں۔ لیکن اس طرح کے منصوبوں پر کام کرنے سے پہلے انڈیا کویہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ تو اب نہ جانے انڈیا سے خوش ہو گا یا نہیں کیونکہ امریکہ ویسے ہی کواڈ گروپ کے بعد آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ کرکے خود ہی کواڈ کی اہمیت کو کم کر چکا ہے لیکن اب چین کے ساتھ انڈیا کے تعلقات جو پہلے ہی خراب تھے اب ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا اور وہ مزید مشکل میں پھنس جائے گا۔

  • مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    جب قسمت میں بے عزتی اور لعنت مقدر ہو تو مل کر رہتی ہے۔ اور اس وقت یہ بات انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی پر ہر لحاظ سے فٹ ہوتی ہے۔ ویسے میرے لئے اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ ہی ایسا ہے مودی سرکار اور اس کے دو نمبر میڈیا کے جھوٹوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن اب جس طرح سے انٹرنیشنل میڈیا نے ان کے جھوٹ کا پول کھولا ہے اور انھیں بےنقاب کیا ہے اس پر اب مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ہو رہی ہے۔

    ویسے تونریںدر مودی کے ہیش ٹیگز کا سوشل میڈیا پروائرل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے وہ اکثر ہی اپنی کسی نہ کسی بونگی حرکت یا پھر کسی نئے جھوٹ کی وجہ سے وائرل ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا کو اس میں گھسیٹ لیا۔ تو بس پھر ان کا پول تو کھلنا ہی تھا۔دراصل ہوا یہ کہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو فورا ہی انڈین سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایک آرٹیکل شیئر ہونا شروع ہوگیا۔اس آرٹیکل کے مطابق امریکہ کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے اخبار نے وزیراعظم مودی کو دنیا کے لیے آخری اور بہترین امید قرار دیا تھا۔Last, Best Hope Of EarthWorld’s most loved and most Powerful Leader is here to bless us.یہ وہ الفاظ تھے جو نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ لکھے گئے اور ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے نیویارک ٹائمز نے اپنے فرنٹ پیج پر یہ ٹاپ ہیڈ لائن لگائی ہے۔جس پر انڈین حکمران جماعت کے لوگ خوب خوشی منا رہے تھے اور اس آرٹیکل کو خوب شئیر بھی کیا جا رہا تھا۔ لیکن قسمت کی مار یہ ہوئی کہ ان کا یہ آرٹیکل نیویارک ٹائمز والوں تک بھی پہنچ گیا۔ اور رنگ میں بھنگ اس وقت پڑا نیویارک ٹائمز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئیٹ کی گئی کہ۔۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اخبار کا یہ صفحہ دراصل جعلی ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر من گھڑت تصویر ہے، اور یہ گردش کرنے والی ان بہت ساری تصاویر میں سے ایک ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ اس کے ساتھ اخبار نے ایک لنک شیئر کیا ہے اور انڈینز کو بتایا کہ اگر وہ نریندر مودی پر اس ادارے کی حقیقت میں کی جانے والی رپورٹنگ پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

    اب اس تمام بات کا صاف مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک یا اکلوتی جعلی تصویر نہیں ہے نریندر مودی کی بے شمار جعلی تصویریں ہیں جو کہ وہ اپنی فیک پروموشن اور دنیا سے اپنا گھناونا روپ چھپانے کے لئے اپنے پارٹی ممبرز اور سوشل میڈیا سلیز سے وائرل کرواتا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور آخر اب نیو یارک ٹائمز نے اس کی جعلی تصویروں اور بو نمبریوں کا بھانڈا پھوڑ ہی دیا ہے۔اور اس وقت انڈیا کی جتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے آپ کی سوچ سے بڑھ کر ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی عوام اور صحافی ٹوئیٹر پر ان کی کلاس کر رہے ہیں۔
    انڈین رائٹر Sanjukta Basuنے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ بے جے پی کے آئی ٹی سیل کی جانب سے جھوٹی خبر پھیلانے میں کچھ نیا نہیں ہے لیکن اس بار یہ اتنا آگے چلے گئے کہ نیویارک ٹائمز کو عوامی طور پر اس کی تردید کرنا پڑی۔ اب یہ ایک بین الاقوامی خبر بن چکی ہے۔انڈین صحافی رانا ایوب نے بھی وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ نیویارک ٹائمز کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ پورے صفحے پر مودی کی تصویر اور ان کی تعریف میں دی جانے والی شہ سرخی جسے بہت سے بی جے پی رہنماؤں نے شیئر کیا وہ جعلی ہے۔ اگر کچھ نہیں تو ہمارے سیاستدانوں کی فوٹوشاپ کرنے کی مہارت ہی بین الاقوامی خبر بنا رہی ہے۔انڈین پارلیمنٹ کے رکنDR Santanu Senنے بھی اس فیک نیوز پر مودی اور ان کی جماعت کو خوب سنائیں۔انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔وزیراعظم کو کسی نے یہ حق دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کا امیج خراب کریں؟What can be more shameful?ویسے صحیح کہا
    DR Santanu Senنے اس سے زیادہ شیم فل کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اس سے بھی زیادہ ڈوب مرنے کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کی جعلی تصویریں بنانے والی ٹیم کی انگریزی بھی بہت ہی اعلی درجے کی ہے۔

    انڈیا جو اس بات پر بہت اتراتا ہے کہ ہمارا تو تعلیمی نظام بہت اچھا ہے ہمارا ریڑھی والا بھی انگریزی بولتا ہے تو ان کی جعلی انگریزی کی بھی اصلیت اس ایک تصویر نے بتا دی ہے۔
    اس تصویر میں ستمبرکے Spellings بھی بدل کر رکھ دئیے ہیں اور اب نئے Spellings ہیں Setpemberجس پر کئی سوشل میڈیا والے طنز میں مودی جی کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو ستمبر کے نئے SpellingsسےIntroduceکروادیا ہے۔اسکے علاوہ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرےعالمی رہنماؤں سے ملنے کے لیے 24اور 25ستمبر دو دن امریکہ کا دورہ کیا تھا اور نیویارک ٹائمز کے اخبار کی فوٹوشاپ تصویر پر 26 ستمبر کی تاریخ درج ہے۔اب میں آپ کو کچھ اصل حقائق بتاتا ہوں کہ جب نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو اصل میں وہاں مودی کے ساتھ اور اسکے میڈیا کے ساتھ خود وہاں ان کے اپنے سفیروں نے کیا سلوک کیا۔
    جس وقت مودی امریکہ کے دورے پر تھا اصل میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مظاہرین نےGo back modi
    اورModi out of NYCکے پوسٹرز اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ اور تجزیہ کار اس پورے معاملے کوHall of shameیعنی شرمندگی کا باعث بتا رہے ہیں۔ اور جو خود انڈین سفارتکار نے ایک انڈین اینکر کے ساتھ کیا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا اوم کیشیپ اصل میں اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریروں کو Coverکر رہی تھیں۔ اب ہوا یہ کہ اقوام متحدہ میں انڈین مشن کی رکن سنیہا دوبے نے اسمبلی میں تقریر کی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا بغیر knockکئے ان کے کمرے میں گھس گئیں۔ سوشل میڈیا پراس کی باقاعدہ ویڈیو بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین اینکر نے کمرے میں گھستے ہوئے ہی بولنا شروع کر دیا کہ ہمارے ساتھ سنیہا دوبے یہاں پر موجود ہیں سنہیا دوبے وہی ادھیکاری ہیں فرسٹ سیکرٹری، جنہیں پورے دیش نے اتنے گِرو کے ساتھ سنا ہے۔ مجھے پتا ہے آپ آن ریکارڈ بات نہیں کرنا چاہیں گی۔ مگر آج پورا ہندوستان آپ کو سننا چاہ رہا ہے۔

    مطلب ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ میڈیا پر نہیں آنا چاہتی لیکن وہ ان پر کیمرے کا پریشر ڈال کر زبردستی کچھ بلوانا چاہتیں تھیں۔لیکن سنیہا دوبے نے کہاNo commentsہمیں جو بولنا تھا ہم لوگوں نے وہ بول دیا پلیز اور انڈین اینکر کو واپسی کے لیے دروازہ دکھا دیا۔جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ لوگوں نے طرح طرح کے Commentsکئے اس ویڈیو پر۔۔۔
    یہاں تک کہ دو تصویریں ساتھ جوڑ کر وائرل کی گئیں جن میں سے ایک میں وزیراعظم مودی انجنا اوم کیشیپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور دوسری تصویر میں سنیہا دوبے ان کو باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ انجنا کو جس طرح سنیہا نے ٹریٹ کیا وہ بالکل درست تھا۔اور صحیح بات ہے کہ یہ رویہ بالکل درست تھا کیونکہ جس طرح کیYellow journalismانڈین میڈیا کرتا ہے اس کا مظاہرہ ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔آپ کو بھی یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے کیسے فیک ویب سائٹس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک
    Exposeہوا تھا۔ جو پاکستان کے خلاف کئی سالوں سے جھوٹی خبریں پھیلاتا چلا آ رہا تھا۔اس کے علاوہ ابھی کچھ ہفتے پہلے ایک انڈین ٹی وی چینل ویڈیو گیم کی ایک فوٹیج اپنی سکرین پر یہ بتاتے ہوئے چلا رہا تھا کہ دیکھیں کیسے پاکستانی جہاز افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کی مدد کر رہا ہے اور مزاحمت کرنے والوں پر حملے کر رہا ہے۔یہ مذاق ختم ہوا تو ریپبلک ٹی وی کے اینکرپرسن ارنب گوسوامی نے کابل میں سیرینا ہوٹل کے دو کے بجائے پانچ فلورز بھی بنا ڈالے۔ جن کا وجود ہی نہ تھا۔موصوف اپنے پروگرام میں پاکستانی مہمان سے کہنے لگے کہ کابل میں سیرینا ہوٹل کے پانچویں فلور پر پاکستان آرمی کے افسران ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس پر پاکستان مہمان نے انہیں بتایا کہ سرینا ہوٹل کے دو سے زائد فلورز تو ہیں ہی نہیں۔آخر میں آپ کو بتاوں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل میں انڈیا کی پرانی حرکتیں ہیں پہلے سوشل میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کرتوتوں کا کسی کو اتنا زیادہ پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب ظاہری بات ہے جب بھی انڈینز کی طرف سے کوئی ایسی دو نمبری کی جاتی ہے تو وہ فورا پکڑی جاتی ہے۔ اور یہ دورہ جو اب انڈیا کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے یہ صرف سوشل میڈیا تک نہیں ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک انتہائی ناکام دورہ تھا

  • پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکہ افغانستان سے چلا تو گیا ہےلیکن وہ ابھی بھی افغانستان کے معاملات سے خود کو بے دخل کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ اس خطے میں اس کا Interest
    ہے کیونکہ امریکہ کے سپر پاور ٹائٹل کے لئے جو سب سے بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اس کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے۔ اور اس خطرے کا نام چین ہے جسے کچلنے کے لئے اس وقت امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس جنون میں امریکہ کی حالت اس وقت کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے ہی امریکہ میں افغانستان کے معاملے کو لیکر کافی مختلف طرح کی آراء گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں فوجی قیادت اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی سینیٹ میں کیا کاروائی ہوئی؟ وہ کونسی شخصیات ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے تمام فوجی نکالنا، جو بائیڈن کا غلط فیصلہ ہے؟افغانستان کے معاملے پر تین اہم ممالک کیا سوچ رہے ہیں؟پاکستان پر امریکہ کو غصہ کیوں ہے کیوں وہ پاکستان کر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے؟آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران 26اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جی ہاں وہ کابل ائیر پورٹ جو اس وقت امریکی فوج کی زیر نگرانی تھا اس حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے ان ہلاک ہونے والوں میں
    169افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔جس کے بعد اب امریکی سینیٹ کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بارے میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرلMark Alexander Milleyامریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل Kenneth Franklin McKenzieاور وزیر دفاعLloyd James Austinسے کافی سخت سوالات کئے گئے۔ لیکن آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ اپنے جوابات میں Mark MilleyاورKenneth McKenzieنے واضح طور پر یہ بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں 2500امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ 2020 کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ البتہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انھیں یاد نہیں کہ کسی نے انھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹریJen Psakiکا بھی بیان سامنے آیا کہ صدر جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق تقسیم شدہ رائے ملی تھی۔ لیکن بالاخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کریں۔

    جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فوجی افسران یہ بات جانتے تھے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں سے حکومت ختم ہو جائے گی اور طالبان قبضہ کرلیں گے لیکن صدر جوبائیڈن نے ان کی بات کو نظر انداز کرکے خود فیصلہ لیا تو اس سب کے بعد وہ پاکستان پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان وہ ملک ہے جو کبھی بھی براہ راست افغانستان میں ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں رہا لیکن نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہی ہوا۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے 80 ہزار جانیں قربان کیں اور اپنی معیشت تک تباہ کروائی۔ اس کے علاوہ امریکہ جو ہمارا اتحادی ہونے کا دعوی کرتا تھا اس نے ہمارے اوپر 450 سے زائد ڈرون حملے کیے اور ساتھ ساتھ Do more کا مطالبہ بھی چلتا رہا۔ اور اب ایک بار پھر امریکہ نے اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کا ہی مکو ٹھپنے کی تیاریاں پکڑ لیں ہیں۔ امریکی سینیٹ میں 22ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس کا نام ہےAfghanistan counter terrorism, over-sight and accountability actاس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔اس کے علاوہ بل میں طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اور طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور طالبان کا ساتھ دینے والے عناصر پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا نام خاص طور پر اس بل میں شامل کیا گیا ہے یعنی کہ یہ کوئی اشارہ یا تنبیہہ نہیں ہے بلکہ ڈائریکٹ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اور دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے دونوں کے5050ممبران ہیں ایسی صورت میں کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ پاکستان کی حمایت میں آنا تو بہت مشکل ہے۔

    اب حیرت تو اس چیز پر ہے کہ امریکہ جس نے افغانستان میں خود آنے کا فیصلہ کیا۔پھر وہاں اربوں ڈالر بھی خرچ کئے۔افغان حکومت بھی امریکہ کی بنائی ہوئی تھی۔افغانستان میں فوجیوں کی بھرتیاں اور ٹریننگ بھی امریکہ نے کی جو ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔دوسری طرف سب جانتے ہیں کہ پاکستان سے طالبان کی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کس کا تھا؟ دوحا میں طالبان سے معاہدہ کس نے کیا اور ان کی واشنگٹن ڈی سی میں میزبانی کس نے کی؟جب یہ سب کچھ امریکہ کرتا رہا ہے تو قصور پاکستان کا کیسے ہو گیا۔ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ اس بل کو پیش کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو امریکہ کی لوکل سیاست ہے کیونکہ اگلے ایک سال میں امریکہ کے Mid term elections ہونے ہیں اور رپبلکن پارٹی نے ان الیکشنز کا سوچ کر ہی Popularity
    حاصل کرنے اور سیاست کھیلنے کے لئے یہ بل پیش کیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بل کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔اس بات کے بہت زیادہ چانسز ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو یہ کہے کہ یہ بل رپبلکن پارٹی نے پیش کیا ہے اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کہ آپ ہمیں کیا دے سکتے ہیں تاکہ ہم اس کی مدد سے اس بل کو روک سکیں۔اب بات آتی ہے چین کی امریکہ چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور کیونکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور یہاں پر جاری سی پیک کی وجہ سے امریکہ کو ویسے ہی پاکستان اور چین پر بہت غصہ ہے۔ اور اپنی ناکامی کی وجہ سے امریکہ بالکل بوکھلایا ہوا ہے کہ کیسے اس کا سارا کا سارا الزام کسی اور ملک پر ڈال دیا جائے اس لئے اس معاملے میں پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایسے ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے پاکستان بھی اور چین بھی۔ پاکستان کو ویسے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ معیشت کا برا حال ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوچ لیں کہ حالات کئی گنا زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور جتنے حالات خراب ہوں گے سی پیک پر کام اتنا ہی متاثر ہو گا اور امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔لیکن پاکستان اور چین کو بھی یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک نے بہت محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہے کہ اگر طالبان نے شمولیتی حکومت قائم نہ کی تو آنے والے دنوں میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر مستحکم اور انتشار کا شکار افغانستان کی صورت میں نکلے گا۔اور چینی وزارت خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چین امید کرتا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑے مل کر اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ایک شمولیتی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کریں گے۔پاکستان اور چین کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان دیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے جو وعدے عوامی طور پر کیے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ ہماری پہلی ترجیح یہی ہے۔یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوحہ امن مذاکرات اور طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی بظاہر حمایت بھی کی تھی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اب کی بار خاموش ہیں حالانکہ جب پہلے طالبان کی حکومت آئی تھی تو پاکستان کے ساتھ انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔ دراصل اب کی بار یہ سب جانتے ہیں امریکہ اس وقت بہت غصے میں ہے اور ایسی صورت میں اگر ایک مرتبہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ان ممالک کو اپنے فیصلے کا دفاع ہی کرنا ہو گا۔ اس لئے ان ممالک کے لیے فی الحال یہی بہتر ہے کہ یہ انتظار کریں۔ خاص طور پر پاکستان کیونکہ چین اور روس تو پھر بھی معاشی طور پر مضبوط ملک ہیں امریکہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ہے اور وہ اپنی عزت بچانے اور غصہ اتارنے کے لئے کسی بھی حد تک پاکستان کے خلاف جا سکتا ہے۔

  • امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد جس ایک خدشے کا سب سے زیادہ اظہار کیا گیا وہ یہ تھا کہ افغانستان میں بہت سے قبائل ہیں جو کئی دہائیوں سے جنگ لڑتے آ رہے ہیں اس لئے امریکہ کے جانے کے بعد صورتحال یہ ہو گی کہ وقتی جیت کی خوشی منانے کے بعد یہ اپنے اپنے حصے کی بوٹی کے لئے آپس میں لڑنا شروع کردیں گے کیونکہ ان کو لڑنے کی عادت ہے۔
    لیکن اگر یاس مین کچھ حقیقت ہے تو یہی فارمولا امریکیوں پر بھی توفٹ ہوتا ہے امریکہ بھی تو کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی ملک میں جنگ لڑتا آیا ہے۔ صرف1945 کے بعد سے اب تک امریکہ نے پانچ بڑی جنگیں لڑی ہیں جن میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند معمولی جنگیں بھی ہیں جن میں صومالیہ، یمن اور لیبیا کی جنگیں شامل ہیں۔
    یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان جنگوں میں ظاہری طور پر امریکہ کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن یہ بات بھی اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے کہ ان جنگوں کی آڑ میں امریکی کمپنیوں نے بہت سا پیسہ بنایا ہے کئی ملک جو ترقی کر رہے تھے وہاں امریکہ کے جانے کے بعد تمام انفراسٹرکچر کا ستیاناس ہو گیا۔ یہ ممالک جنگوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پیچھے چلے گئے۔تو اب جو امریکی فوج اتنے سالوں سے جنگیں لڑ رہی ہے کیا افغانستان میں موجود قبائل کی طرح وہ نہیں چاہیں گے ان کو ایک نیا ٹارگٹ ملے ایک نیا محاذ کھولا جائے۔ وہ امریکی دفاعی اور نجی کمپنیاں جو اب تک جنگوں میں مال بناتی آئی ہیں وہ نہیں چاہیں گی کہ دوبارہ سے کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس میں وہ اپنی دیہاڑیاں لگا سکیں۔

    تو آج میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اب امریکہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں ہے ایک مخصوص حلقے نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے کہ امریکہ سے ایک نئی جنگ شروع کروائی جائے اور اب کی بار یہ کوئی چھوٹی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لیا جائے گا۔ اور کیونکہ مقابلہ ایک مضبوط ملک کے ساتھ ہوگا تو امریکہ اس جنگ میں اکیلا نہیں جائے گا بلکہ اپنے اتحادیوں کوبھی اس جنگ میں گھسیٹے گا۔یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟اور جنگی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ کی کیا دوغلی پالیسی ہے؟جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ اب کی بار بہت بڑی جنگ ہو گی امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا تو آپ جان لیں کہ بہت زیادہ چانسز ہیں کہ امریکہ اس بار
    Directہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں کرتے آ رہے ہیں۔ اور اب اگر آپ امریکہ سمیت اس کے اتحادی ممالک کے میڈیا پر چلنے والی خبریں بھی دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کے میڈیا پر اس بارے میں بہت زیادہ
    Debateبھی شروع ہو چکی ہے۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے اس بار امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacificمیں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ سب اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکہ نے خود بھی آواز سے پانچ گُنا تیز رفتار میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق2013کے بعد سے اس طرح کے کسی ہتھیار کا یہ اولین تجربہ ہے۔ امریکا کی
    Defence Advance research projects agency (DARPA) طرف سے بھی بتایا گیا ہے کہHyper sonic air weapon concept(HAWC) کی پرواز کا تجربہ گزشتہ ہفتے ہی کیا گیا ہے۔ اسی سال جولائی میں روس نے بھی ہائپر سانک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس میزائل کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ جس کے مقابلے میں اب امریکہ نے یہ تجربہ کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کئی دوسرے ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ دنیا میں اب ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

    جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے جس نے آج ہی ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔لیکن امریکہ کا دوغلا پن دیکھیں کہ وہ اس تجربے می مذمت کر رہا ہے۔ یعنی وہ خود جو مرضی کرے وہ ٹھیک ہے اپنے اتحادیوں کو جو مرضی تربیت دی جائے وہ جائز ہے لیکن اگر کوئی اور ایسا ملک تجربہ کرتا ہے جو امریکہ کا اتحادی نہیں ہے تو اس کی مزمت شروع ہو جاتی ہے۔امریکہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کا یہ تجربہ اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کے اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شمالی کوریا نے جب یہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کے خلاف دیگر ملکوں کی جو مخالفانہ پالیسیاں ہیں ان کی وجہ سے پیانگ یانگ کو ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے دفاع اور ملک میں سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ہی اپنے قومی دفاع کومستحکم کررہے ہیں۔ امریکا نے ہمارے جنوب میں تقریبا 30 ہزار فوجیں تعینات کررکھی ہیں اور کوریا جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کا میزائلوں کا یہ تیسرا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایک کروز میزائل اور دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ امریکہ کے علاوہ جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ طلب کی اور میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کم فاصلے تک پہنچنے والا میزائل تھا اور شمالی کوریا نے ایسے وقت اس کا تجربہ کیا ہے جب کوریا میں سیاسی استحکام کی صورت حال بہت نازک ہے۔جنوبی کوریا کے علاوہ امریکی دوست ملک جاپان کے وزیراعظم نے بھی بیان دیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو بیلسٹک میزائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے اپنی چوکسی اورنگرانی تیز کردی ہے۔اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں اگر لڑائی ہوتی بھی ہے تو وہ آپس میں ان کے ملک کے اندر ہی ہو گی لیکن امریکہ کو جو لڑائی کی لت پڑ چکی ہے وہ کہیں زیادہ خطرناک ہے اس لئے آنے والے دن پوری دنیا کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ ضرور کسی نہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لے گا۔ اس کے بعد بے شک ان کو کوئی ظاہری ناکامی کیوں نہ ہو لیکن مالی طورپر تو فائدے ہی فائدے ہوں گے۔