Baaghi TV

Author: +9251

  • مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں  رابی پیرزادہ

    مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں رابی پیرزادہ

    گلوکارہ اداکارہ ، پینٹر اور سماجی کارکن رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اپنی ایک وڈیو جاری کی ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ہم سب پر اس وقت فرض ہے دکھی بہن بھائیوں کی مدد کرنا. اور اپنے عطیات ان کو دیں جن پر آپ کو یقین ہے کہ وہ آگے بھی پہنچائیں گے ورنہ ہماری فائونڈیشن حاضر ہے. رابی پیرزادہ نے یہ بھی کہا کہ میری فائونڈیشن میرے اپنے پیسوں سے چلتی ہے میں چندے اکٹھے نہیں کرتی. میں اپنی پینٹنگز اپنا آرٹ بیچ کر اپنی فائونڈیشن چلا رہی ہوں. مجھ سے بہت سارے لوگوں نے پوچھا کہ سیلاب زدگان کے لئے میں کیا کررہی ہوں تو میں پہلے اس لئے خاموش تھی کیونکہ میں اپنی پینٹنگز کے فروخت ہونے کی منتظر تھی اور ویسے بھی اب مجھے کسی نے ایک لاکھ روپے کا ارینج کر کے دیا ہے تو میں ان سے سیلاب زدگان کے لئے چیزیں خریدنے نکلی ہوں. رابی نے بتایا کہ چند روز پہلے جو ٹینٹ تین ہزار روپے کا تھا وہ اس وقت دس ہزار روپے کا ہے .میں

    نےشاپ کیپر حاجی صاحب سے کہا کہ آپ کے حج عمرے کیا کہتے ہیں جب آپ نے چیزیں ہی مہنگے داموں فروخت کرنی ہیں اور اس ٹائم پہ ایسا کرنا ہے جب انسانیت پریشان ہے دکھی ہے بے حال ہے. رابی نے مزید کہا کہ اللہ نے حج عمرہ زکوۃ ہر چیز کی پوچھ گچھ کرنی ہے لیکن سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اسکی مخلوق کے لئے کیا کیا. رابی نے بتایا کہ وہ اس وقت ایک لاکھ روپے کی پیناڈول ، سپرو فلاکس جو کہ پیٹ درد کے لئے ہے وہ اور ٹینٹس کے ساتھ چنے اور گڑ سیلاب زدگان کے لئے بھجوا رہی ہوں. رابی نے کہا کہ مجھ سے اپنے تائیں جو بن پاتا ہے میں کرتی ہوں ابھی کچھ لوگوں کی چھتیں لیک کررہی تھیں ان کو ٹھیک کروایا. میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دیں .

  • سیاسی جماعتیں ویسے تو ایک دوسرے کے دشمن مگر سودی نظام پر ایک ہیں. سراج الحق

    سیاسی جماعتیں ویسے تو ایک دوسرے کے دشمن مگر سودی نظام پر ایک ہیں. سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں جنگ کررہی ہیں مگر سودی نظام پر ایک ہیں۔

    راولپنڈی میں سودی نظام کے خلاف منعقدہ علما مشائخ کنونشن سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سود سے متعلق اپیل واپس نہیں لیتی تو سپریم کورٹ اسے مسترد کر دے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو پھر ہم وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ کے سامنے ڈیرے ڈال دیں گے۔ تاکہ ان پر اس بارے دباؤ ڈالا جائے اور اپنا ریکارڈ جمع کرایا جائے.

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ: حکمران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فضائی دورے کررہے ہیں لیکن نیچے نہیں اتر رہے۔ باہر سے پیسہ پہنچنے پر سب ایم این ایز اور وزرا ہر بستی میں دکھائی دیں گے۔ 13 جماعتی اتحاد پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی یہ سب حکومت میں ہیں، یہ سب ایک دوسرے سے جنگ کررہے ہیں لیکن سودی نظام پر ایک ہیں۔انگریز کے نظام کے تسلسل کے لیے یہ جماعتیں متحد ہیں۔ اور اس بارے میں ان کے مفاد ایک ہیں کیونکہ یہ ہر بات پر ایک دوسرے کی مخالفت کرتے مگر اس بارے میں کیوں ایک اور کیوں آواز نہیں اٹھاتے.

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،پاکستان میں آئین کے تحت سود پر پابندی ہونی چاہیے۔ شرعی عدالت نے 2 مرتبہ سودی نظام کے خلاف فیصلہ دیا لیکن اشرافیہ پھر بھی اسی سودی نظام کو مسلط رکھنا چاہتی ہے۔ ان حکومتوں کا ساتھ دینے والا سودی نظام کو تقویت دینے والا ہوگا۔

    واضح رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام معیشت کیخلاف دائر مقدمات کا 20 سال بعد فیصلہ صادر کرتے ہوئے سود کیلئے سہولت کاری کرنیوالے تمام قوانین اور انکی شقوں کو غیرشرعی قرار دے دیا تھا اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ پانچ سال کے اندر اندر سودی نظام مکمل طور پر ختم کر دے۔ 320 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت کے تین رکنی بنچ نے قرار دیا تھا کہ سود سے پاک بنکنگ قابل عمل بنکاری ہے۔ عدالت حکومت کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی کہ سود سے پاک بنکاری قابل عمل نظام نہیں۔ فاضل عدالت نے قرار دیا تھا کہ سٹیٹ بنک کا قانون بھی سود سے پاک بنکاری کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے ملک میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوگی۔ 30 فیصد بنکاری پہلے ہی اسلامی نظام پر منتقل ہو چکی ہے۔ سود کو ختم کرنا مذہبی اور آئینی فریضہ ہے۔

  • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کردی، کیا باقی ممالک میں بھی ایسا ہے؟

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کردی، کیا باقی ممالک میں بھی ایسا ہے؟

    حکومت پاکستان نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابقی پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 7 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت دو روپے 99 پیسے کے اضافے کے بعد 247 روپے 43 پیسے ہو گئی ہے۔
    ائٹ ڈیزل آئل 9 روپے 79 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔اس کی نئی قیمت 201 روپے 54 پیسے ہو گئی ہے۔

    سینئر صحافی حامد میر نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: مفتاح صاحب! آدھے سے زیادہ پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اس مشکل وقت میں آپ جو کر رہے ہیں یہ ناقابل فراموش ہے.

    دنیا کے باقی ممالک میں پٹرولیم قیمتیں کیا ہیں اس حواکے سے بھی آپ کو مختلف ممالک میں پٹرولیم قیمتوں کا بتاتے ہیں.

    ایران میں ایک لیٹر پیٹرول 12 روپے میں مل رہا ہے جبکہ شام میں پیٹرول فی لیٹر 260 روپے میں دستیاب ہے۔ ملائیشیا میں فی لیٹر پیٹرول 101 روپے میں فروخت ہورہا ہے، گیس اور تیل سے مالامال قطر میں بھی یہ قیمت 128 فی لیٹرروپے تک پہنچ چکی ہے۔ سعودی عرب میں ایک لیٹر پیٹرول 138 روپے میں فروخت ہورہا ہے، دبئی سمیت عرب امارات میں یہ قیمت 237روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    افغانستان میں پیٹرول کی قیمت 221 روپے کے قریب ہے ورلڈ سپر پاور امریکا میں یہ قیمت 240 روپے فی لیٹر ہے، بنگلا دیش میں 304 روپے فی لیٹر پیٹرول فروخت ہوتا ہے ،،، چین میں پیٹرول کی قیمت 285 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ بھارت میں ایک لیٹر پیٹرول 289 روپے میں فروخت ہورہا ہے، نیوزی لینڈ میں پیٹرول 380 روپے فی لیٹر خریدا جاتا ہے، برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت455 روپے ہوچکی ہے، دنیا میں سب سے مہنگا پیٹرول اس وقت ہانگ کانگ میں دستیاب ہے جہاں پیٹرول 662 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

  • خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت آج ہوگی، عمران خان ذاتی حیثیت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر دلائل د یں گے۔ خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر بھی طلب کیا تھا۔

    عمران خان نے تحریری طور پر عدالت میں جواب جمع کرایا تھا، گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 7 روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دینے کے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا۔ عمران خان کے وکیل سوچ سمجھ کر سات دن میں دوبارہ جواب جمع کروائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار بینچ میں شامل تھے.

    چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے ، عام آدمی ستر سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں کر سکتا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے، عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا۔ جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا، اس عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے۔

    جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی چیز واپس نہیں آتی ، جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے، تین سال سے ہم اس معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھیجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں، آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے، کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے، اسد طور ابصار عالم کے کیسز آپ دیکھ لیں، اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا۔

    چیف جسٹس نے وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہے خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں، عدالت نے شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی ۔جس کے بعد شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ کیا ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں۔

    اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ، یہ وہ عدالت جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں، اس عدالت نے آرڈینس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نا ہوتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں، یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے، لیکن یہ عدالت کمزور کے لیے بھی اور چھٹی کے روز بھی 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ، انہوں نے بڑے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ، سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے، اس عدالت کے کسی جج کو کوئی influence نہیں کر سکتا، آج موقع ہے تو آج بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی، اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔

    میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصویریں لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی۔

    طلال چوہدری کیس ، دانیال چوہدری کیس اور ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے، آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبہ کے مطابق نہیں۔

    عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں، عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب سوچ سمجھ کر جواب جمع کروائیں۔

    تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے، دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے دیکھ لیں، توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے، آپ تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چوہدری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز میں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی، آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی لیکن چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں، چیف جسٹس آپ کو ایک اور موقع دے رہے ہیں تو دوبارہ جواب جمع کرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپریمیسی ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں عمران خان کو دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، اور منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دئیے گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی پیشگی نقول عدالتی معاونین کو فراہم کرنے کا کہا جائے۔

    عدالت نے منیر اے ملک مخدوم علی خان کو امائکس مقرر کر دیا، چہف جسٹس نے کہا کہ آپ کو عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں لیکن کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ، پچھلے تین سالوں میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ، الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے میں نے فواد چوہدری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے۔
    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں ، پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو اج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا، قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں الفاظ واپس لینے کی پیشکش بھی کی تھی، ذرائع کے مطابق عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کےلیے تیار ہوں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ عدالت تقریر کاسیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے،پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، عمران خان نے استدعا کی کہ ان کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔ یاد رہے عمران خان نے عدالتی بینچ پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔

  • عرفی جاوید میری چیلی ہے میں نے اسکو متعارف کروایا راکھی ساونت

    عرفی جاوید میری چیلی ہے میں نے اسکو متعارف کروایا راکھی ساونت

    ڈرامہ کوئین راکھی ساونت نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ماڈل عرفی جاوید میری چیلی ہے اسکو میں انڈسٹری میں لیکر آئی .مجھے خوشی ہے کہ وہ میرے نقش قدم پر چل رہی ہے. وہ سٹائل آئی کون بن رہی ہے فیشن ڈیزائنر بن رہی ہے. ایک سوال کے جواب میں راکھی نے کہا کہ عرفی ایک آزاد انسان ہے وہ جو مرضی چاہے پہنے، میں اسکو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں. وہ کم کپڑے پہنے یا زیادہ یہ اسکی مرضی ہے ہم کون ہوتے ہیں جو اسکو روکیں. دیش بھر سے اسکو گالیاں پڑ رہی ہیں صرف اسلئے کے وہ اپنی مرضی کی ڈریسنگ کرتی ہے جو دل چاہے وہ پہنتی ہے بھئی کسی کو کیا مسئلہ ہے؟ اور میں عرفی کی ماں یا باپ نہیں‌ ہوں جو اس پر

    روک ٹوک لگائے. عرفی کو بہت اچھی طرح‌معلوم ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے کیا نہیں‌ کرنا، کیا پہننا ہے کیا نہیں. وہ ساڑھی بھی پہنے گی تو میں اسکو پیار کرں گی نہیں بھی پہنے گی ساڑھی تو بھی میں اسکو پیار کروں گی. راکھی نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ عرفی رات بھر سوتی ہی نہیں کپڑے ہی سلواتی رہتی ہے اور سوچتی رہتی ہے کہ کل کیا پہننا ہے. ایک سوال کے جواب میں راکھی نے کہا کہ عادل کو بولڈ ڈریسنگ نہیں پسند اس لئے میں ایسے لباس نہیں‌ پہن رہی جس سے وہ ناراض‌ ہو جائے. میں ویسے بن کے رہنا چاہتی ہوں جیسا عادل چاہتے ہیں.

  • کیا مومنہ اقبال کو پڑھے لکھے لوگوں سے شکایت ہے ؟

    کیا مومنہ اقبال کو پڑھے لکھے لوگوں سے شکایت ہے ؟

    نوجوان نسل کی نمائندہ فنکارہ مومنہ اقبال ہر دلعزیز ہیں ان کو ہر کردار میں خآصا سراہا جاتا ہے. مومنہ نے کم ہی عرصے میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں‌ کا لوہا منوایا ہے. مومنہ اقبال نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں‌نے کہا ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے رویوں‌ میں عام لوگوں کی نسبت فرق ہوتا ہے وہ جانتے ہیں‌ کہ ہم اگر کسی پر انگلی اٹھا رہے ہیں تو تین ہمارے اپنی طرف بھی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ شوبز کی فیلڈ میں بھی اگر شادی نہ ہو تو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ میں‌ نے اس فیلڈ سے باہر کے لوگوں‌ کو شادیاں‌ کرکے ان کو نبھاتے دیکھا ہے. بہت سارے لوگوں نے شوبز کی لڑکیوں سے شادی اور نبھایا بھی اور بہترین انداز میں نبھایا. مومنہ اقبال نے کہا کہ اگر

    کسی کا ارادہ ہے شادی چلانے کا تو وہ ہر حال میں چلا لیتا ہے چاہے وہ شوبز کا ہو یا شوبز سے باہر کی فیلڈ کا. اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگ پاگل ہوئے رہتے ہیں ان کے ڈپریشن آج کل اس قسم کے ہیں اوہو فلاں نے میک اپ ٹیوٹوریل ڈالا ہے تو میں پھر آئی لائنر کی وڈیو ڈال دیتی ہوں اس طرح‌ کی چیزوں کے لئے لوگوں کے کمپلیکسسز ہیں ایسے لوگ زندگی کی حقیقتوں‌ کا بھلا کیا سامنا کریں گے. تو چیزوں‌ کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم جا کس طرف رہے ہیں.

  • 7 ملین فالورز، حرامانی نے پسوڑی وڈیو لگا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    7 ملین فالورز، حرامانی نے پسوڑی وڈیو لگا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    اداکارہ و گلوکارہ حرامانی جن کو اکثر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا رہتا ہے وہ ہیں بہت زیادہ خوش اور اس بار خوشی کسی پراجیکٹ کے سپر ہٹ ہوجانے کی نہیں ہے بلکہ اس بار خوشی ان کو انسٹاگرام پر 7 ملین فالورز ہونے کی ہے. حال ہی میں ان کے انسٹاگرام پر 7 ملین فالورز ہو گئے ہیں اس موقع پر اداکارہ نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور شکریہ ادا بھی انہوں نے اپنی ہی آواز میں گایا ہوا گانا پسوڑی کی وڈیو لگا کر کیا. اس وڈیو میں حرامانی ایک کنسرٹ کررہی ہیں اور اس دوران وہ علی سیٹھی کاسپر ہٹ گانا پسوڑی گا رہی ہیں اور حرامانی نے اپنے مداحوں کا شکریہ اس وڈیو کو لگا کر کیا. حرا نے جیسے ہی شکریہ کی پوسٹ لگائی تو ان کے مداحوں نے بھی ان

    کو 7 ملین فالورز کی تعداد پر مبارکباد دیں. حرامانی انسٹاگرام پر بہت زیادہ ایکٹیو ہیں وہ اپنا ہر پراجیکٹ اور اپنی ہر موومنٹ کے بارے میں اپنے مداحوں کو انسٹاگرام پوسٹ کے زریعے آگاہی دیتی رہتی ہیں. یاد رہے کہ حرامانی کی اداکاری پر تو کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا لیکن ان کی گلوکاری پر ضرور سوال اٹھایا جاتا ہے ، وہ جب بھی کوئی گانا گاتی ہیں تو زیادہ تر لوگوں‌ کی تعداد ان سے یہی کہہ رہی ہوتی ہےکہ خدا کےلئے گانا مت گایا کریں لیکن گائیکی حرامانی کا شوق ہے اسلئے وہ کنسرٹ بھی کرنے لگ گئی ہیں.

  • سب فنکار گھروں سے نکل کر سیلاب زدگان کے لئے فنڈ ریزنگ کریں راحت فتح‌ علیخان

    سب فنکار گھروں سے نکل کر سیلاب زدگان کے لئے فنڈ ریزنگ کریں راحت فتح‌ علیخان

    پاکستان کے صف اول کے گلوکار راحت فتح علیخان نے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر سیلاب زدگان کے لئے لندن میں ایک کنسرٹ کیا ہے، اس کنسرٹ سے ملنے والی رقم کو متاثرین سیلاب پر خرچ کیا جائیگا . اس کنسرٹ میں راحت فتح علیخان کے بیٹے شازمان علی خان نے بھی ان کے ساتھ پرفارم کیا جسے بہت زیادہ سراہا گیا ہے. اس موقع پر راحت فتح‌علیخان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی فنکار برادری سے اپیل کی. انہوں‌ نے کہا کہ پاکستان پر یہ وقت بہت ہی مشکل ہے کئی جانیں جا چکی ہیں مالی جانی نقصان بہت زیادہ ہو چکا ہے لوگ بے آسرا ہیں ان کو ہماری مدد کی ضرورت ہے . تو تمام فنکار برادری اپنے اپنے گھروں سے نکلے اور سیلاب زدگان کے

    لئے فنڈ ریزنگ کرے. راحت فتح‌علیخان نے مزید کہا کہ ہمارا ملک ہر لحاظ سے مشکل میں ہے چاہے وہ سیاسی صورتحال ہو یا قدرتی آفت ، ہمارے متاثرین سیلاب بہن بھائی بہت مشکل میں ہیں ان کے بچے مر گئے ہیں کہیں کسی کی ماں بہن بیوی مر گئی ہے ، لوگ اجڑ گئے ہیں اس لئے یہ وقت سیاسی سماجی ہر طرح‌ اختلاف بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا وقت ہے. ہمیں آگے بڑھ کر اپنے بہن بھائیوں کو گلے لگانا ہے ان کو خوشیاں دینی ہیں ان کی اجڑی دنیا کو پھر سے بسانا ہے.

  • لندن نہیں جائونگا میں  بھٹی کا  کردار احمد علی بٹ‌ کے لئے لکھا تھا  خلیل الرحمان قمر

    لندن نہیں جائونگا میں بھٹی کا کردار احمد علی بٹ‌ کے لئے لکھا تھا خلیل الرحمان قمر

    اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے تنازعات میں گھرے رہنے والے مصنف خلیل الرحمان کا حال ہی میں ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں انہوں‌ نے کہا ہے کہ فلم لندن نہیں‌ جائوں گا میں جو کردار گوہر رشید نے نبھایا وہ میں نے احمد علی بٹ کے لئے لکھا تھا جب یہ کردار لکھ رہا تھا تو میرے زہن میں احمد علی بٹ تھا اسی کو میں نے سامنے رکھا تھا. لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ کردار گوہر رشید کرے گا، مجھے نہیں‌ پتہ کہ کن بنیادوں‌ پر ان کو سلیکٹ کیا گیا لیکن ان کی سلیکشن پر مجھے منا لیا گیا بلکہ مجھے کنونس کیا گیا میں ہو بھی گیا.اسی انٹرویو میں کہا گیا کہ گوہر رشید اس کردار میں امپورٹڈ پنجابی لگا ہے تو مصنف خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ جب میں نے کردار اس کےلئے لکھا ہی

    نہیں تھا تو ایسے ہی ہونا تھا اور دوسرا یہ کہ میری گوہر کو اس کردار کو نبھانے کےلئے حوالے سے کوئی بریفنگ نہیں‌تھی، جب پنجاب نہیں‌ جائوں گی بنی تھی تو اس میں ہیرو سمیت پوری کاسٹ کو بریفنگ دی گی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ فلم ہر حوالے سے ایک مکمل پیکج تھی لیکن اس بار اس فلم میں ایسی چیز زرا تھوڑی کم تھی لیکن اس کے باوجود فلم بہت اچھی چلی اچھی بنی ، گوہر رشید نے بھی بھٹی کا کردار اچھا نبھایا وہ میرا دوست ہے لیکن میں نے یہ کردار لکھا احمد علی بٹ کےلئے تھا.

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین