Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک فوج مشکل  گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

    پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روجھان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ آج ڈیرہ اسماعیل خان اور روجھان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ آرمی چیف نے سیلاب ریلیف کیمپ کا دورہ کیا ،متاثرین سے ملاقات کی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پر قابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،سیلاب سے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، آرمی چیف نے جوانوں کو ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو نیک مقصد کے طور پر لیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی آئی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا آرمی چیف نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی جنرل قمر جاوید باوجوہ نے متاثرین کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ایف سی ساوتھ خیبرپختونخواکے جوان متاثرین سیلاب کی فوری مدد کریں

    دوسری جانب ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید ستائیس افراد جاں بحق او ستاسی زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی فلڈ کنٹرول ہیلپ لائن 1125 کے پی کے لیے اور 1135 باقی پاکستان کے لیے کام کر رہی ہے۔ لوگ مدد کے لیے ان ہنگامی نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ آرمی ایوی ایشن پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوج کے 157 ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور راشن کی نقل و حمل کیلے کوششاں ہے.

    علاوہ ازیں: آفت زدہ علاقوں سے 50,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ مختلف میڈیکل کیمپوں میں 51,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور مریضوں کو 3-5 دن کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق: ملک بھر میں 221 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ 1231 ٹن امدادی اشیاء کے ساتھ دیگر غذائی اشیاء بشمول ادویات کی اشیاء جمع کی گئیں اور سیلاب زدگان کے لیے روانہ کی جا رہی ہیں.

    نیشنل ڈیزائسٹر مینجمنٹ ( این ڈی ایم اے ) نے سیلاب سے نقصانات کے تازہ اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں مزید پندرہ افراد ،خیبرپختونخوا میں سات، بلوچستان میں چار اور پنجاب میں ایک شخص جان سے گیا۔ ملک میں سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں گیارہ سو اکیانوے ہوگئی ہیں، جب کہ تین ہزار چھ سو اکتالیس افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ سو بائیس مرد، دو سو چھیالیس خواتين اور تین سو ننانوے بچے شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک سیلاب اور بارشوں سے تین لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو تئیس گھر تباہ ہوئے، جب کہ سات لاکھ تینتیس ہزار پانچ سو چھتیس گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس دوران دو سو تینتالیس پل تباہ اور پانچ ہزار تریسٹھ کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، جب کہ سات لاکھ اکتیس ہزار سے زائد مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

    پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ مصیبت زدہ ہم وطنوں کی بحالی تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ کے ہمراہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان کے جوان بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ،جعفرآباد، نصیر آباد ، سبی ، جھل مگسی ، خضدار، آواران، نوشکی ، قلعہ عبداللہ، چاغی، مستونگ ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، بولان اور صحبت پور میں امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پاکستان آرمی کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سیلاب زدہ علاقوں منجی شوریٰ، ربی اور بیدرپل ، بھاگ، پیر چتھل ، کچھی سے353 افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے28 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب زدہ علاقوں 7080افراد کو پکا ہوا کھانا ، 2368 افرادکو راشن کے پیکٹس جن میں آٹا ، دالیں ، چاول ، چینی اور کوکنگ آئل شامل ہے مستحق لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہے جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5،142مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں ۔ ذرائع آمدورفت کی جلد بحالی میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے چتھر سے ڈیرہ مراد جمالی اور لنڈا پل شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ۔ جبکہ دیگر شاہراوں اور پلوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہیں ۔پاک افواج ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں

  • ملک میں گوشت اور دودھ کی قلت کا خدشہ

    ملک میں گوشت اور دودھ کی قلت کا خدشہ

    ملک میں بڑی تعداد میں جانوروں کی ہلاکت کے بعد گوشت اور ڈیری مصنوعات کی کمی کا خدشہ ہے۔

    ملک میں لمپی اسکن بیماری سے چار کروڑ جانور متاثر ہوئے تھے، اور اس بیماری سے مرنے والے جانوروں کی شرح 10 فیصد تھی۔ ہزاروں مویشیوں کی ہلاکت کے بعد اب سیلاب سے بھی 7 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    پاکستان کے مجموعی جی ڈی پی میں لائیو اسٹاک کا حصہ 14 فیصد ہے۔ ڈیری اینڈ کیٹلز فارمنگ ایسوسی ایشی کے مطابق اس وقت پاکستان میں 8 کروڑ سے زائد گائیں بھینسیں ہیں، جن کی مالیت 16000 ارب سے زائد بنتی ہے اور یہ ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، ان سے روزانہ پاکستان کو 13 کروڑ لیٹر دودھ فراہم ہوتا ہے جس کی مالیت 13 ارب یومیہ اور 4745 ارب سالانہ بنتی ہے۔ یکے بعد دیگرے آفات کے باعث مویشیوں کی شدید کمی ہوچکی ہے، اور ملک میں گوشت اور ڈیری مصنوعات کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے مویشیوں میں بلوچستان میں سب سے زیادہ پانچ لاکھ، پنجاب میں دو لاکھ سے زائد، سندھ میں 15 ہزار اور خیبر پختونخوا میں 1200 سے زائد مویشی سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں، اور یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو مقامی انتظامیہ نے این ڈیم ایم اے تک پہنچائے۔ جن علاقوں میں سیلابی صورت حال خطرناک ہے وہاں سے اعداد وشمار ابھی پہنچ بھی نہیں پا رہے جس کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے مویشیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پی ڈی ایم کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان راجن پور میں ہوا ہے جہاں دو لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، ڈی جی خان میں 4 ہزار100 اور میانوالی میں 331 جانور سیلابی لہروں کی نذر ہوگئے۔ محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 28 اگست تک مجموعی طور پر سندھ بھر میں بھینس، گائیں، بکریا اور دیگر مویشیوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار 734 ہے، جس کے نقصانات کا تخمینہ 90 کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔

    جانوروں کی بڑی تعداد سیلاب مہیں بہہ جانے سے منڈیاں بھی ویران ہونے لگی ہیں، اور ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں گوشت اور دودھ کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے بہتر منصوبہ بندی اور سیلاب سے حفاظت کے نظام کو بہتر بنا کرمسقتبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب ڈائریکٹرجنرل لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری احتشام الحق کا دعویٰ ہے کہ سیلاب میں زیادہ تر فصلیں اور زرعی زمین تباہ ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پھل فروٹ اور سبزیوں کی کمی ہوسکتی ہے، تاہم جانور سبزیوں سے ٘مختلف ہیں ، سیلاب کے خدشے کے پیش نظر جانور پہلے منتقل کرچکے ہیں، اس لئے دودھ اور گوشت کی کمی نہیں ہوگی۔

  • سیلاب میں ڈوب گیا پاکستان، مگر جلسوں میں مگن عمران

    سیلاب میں ڈوب گیا پاکستان، مگر جلسوں میں مگن عمران

    ملک بھر میں کروڑوں افراد تباہ کن سیلاب کا شکار ہوگئے اور پوری قوم امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے مگر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    ملک میں ایک جانب حکومت، افواج ، امدادی ادارے، این جی اوز سب متاثرین کا دکھ درد بانٹ رہے ہیں۔ اپنے تو اپنے عالمی برادری بھی صورت حال سے پریشان ہے مگر کوئی نہیں تو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ہے، جو جلسوں کی سیاست میں مصروف ہیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں بھی چئیرمین پی ٹی آئی کو سرگودھا میں پنڈال بھرنے کی پڑی ہے، جہاں وہ آج جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

    خیبرپختونخوا سے پنجاب اور سندھ سے بلوچستان تک ہر جانب تباہی مگر عمران خان کو جلسوں سے فرصت ہی نہیں ملی۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پریشان ہوکر مدد کو آئی لیکن عمران خان کی طرف سے کوئی ریلیف کی آواز نہ آئی۔ سیلاب سے تباہ حال عوام اشیائے ضروریہ کیلئے ترس رہے ہیں اور عمران خان جلسوں کیلئے اسٹیج تیار کروانے پر خرچہ کر رہے ہیں۔ لوگوں کی مدد کی پکار پر ہیلی کاپٹر سے نظارے کیے، فوٹو سیشن کروائے لیکن متاثرین کی داد رسی کو نہ آئے۔

    کوہستان والوں نے بھی خوب پکارا، بچاؤ بچاؤ کی صدائیں لگائیں ، مگر ہیلی کاپٹر خان صاحب کی خدمت میں مصروف رہا۔ جنوبی پنجاب تباہ ہوگیا اور خان صاحب نے آج سینٹرل پنجاب میں جلسہ سجالیا ہے۔ سرگودھا سے پھر بڑھکیں ماریں گے۔ بڑے بڑے انقلاب کے قلابے لگائیں گے۔ لیکن قوم کے دکھ تکلیفوں پریشانیوں میں ان کا ہاتھ نہ بٹائیں گے۔

    عمران خان کی اس بے حسی اور خودغرضی پر اب لوگوں می عمران خان سے متعلق کافی نفرت پائی جارہی اور کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اب ہم عمران کو سمجھ چکے یہ ایک انا پرست شخص ہے جسے ملککی نہیں بلکہ محض کرسی کی ہے.

  • آرٹیکل  62 (1) (f) سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس

    آرٹیکل 62 (1) (f) سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس

    سینیٹ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا بیرسٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر فاروق حامد نائیک، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر رانا مقبول احمد نے شرکت کی۔ وزارت قانون و انصاف کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    بدھ کو سینیٹر و بیرسٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں دو اہم آئینی ترامیم پر غور کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) سے متعلق پہلی ترمیم جس کے تحت اگر کوئی شخص باشعور، ایماندار اور امین نہیں ہے تو وہ رکن پارلیمنٹ بننے کا اہل نہیں ہے۔ تاہم ترمیم میں لفظ "امین” کو حذف کرنے کی تجویز دی گئی۔ بیرسٹر ظفر نے تجویز پیش کی کہ آرٹیکل 62(1)(f) کے الفاظ مبہم ہیں کیونکہ اس سے یہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے اور مشورہ دیا کہ اس معاملے پر بحث ہونی چاہیے۔ کمیٹی کے ارکان نے تجویز دی کہ اس بات پر بھی بحث ہونی چاہیے کہ اگر آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت کسی شخص کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو کیا اس کے لیئے کوئی وقت مقرر ہونا چاہیے؟

    بیرسٹر ظفر نے نشاندہی کی کہ وقت کے تعین کا معاملہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں طے کر دیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص بے ایمان یعنی آمین نہیں پایا جاتا ہے تو وہ تاحیات رکنیت کے لیے نااہل ہو جائے گا۔ تاہم، بیرسٹر ظفر نے مزید نشاندہی کی کہ یہ پارلیمنٹ کے لیے ہے کہ وہ اس معاملے پر بحث کرے اور فیصلہ کرے کہ آیا وہ مستقبل کے معاملات کے لیے نااہلی کی مدت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ چیئرمین نے وزارت قانون کو تحریری جواب دینے کی ہدایت کی کہ آیا وزارت قانون اس ترمیم کو قبول کر رہی ہے؟ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی اپنے تاثرات دینے کی ہدایت کی۔

    دوسری آئینی ترمیم آرٹیکل 142 سے متعلق تھی جسے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا اور کہا کہ وفاقی مقننہ کو سول پروسیجر کوڈ، کنٹریکٹ ایکٹ اور دیگر معاملات میں ترامیم کرنے کا اختیار دیا جائے۔ بیرسٹر ظفر نے نشاندہی کی کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق 18ویں ترمیم سے ہے لہٰذا یہ غور طلب ہے اور اسی مناسبت سے وزارت قانون کو تحریری طور پر بھی رائے دینے کی ہدایت کی گئی۔

    سیکرٹری وزارت قانون و انصاف نے نشاندہی کی کہ وزارت کو کوئی اعتراض نہیں تاہم بیرسٹر ظفر نے ہدایت کی کہ وزارت تحریری طور پر اپنے تاثرات دے اور وجوہات بتائیں کہ ترمیم قابل قبول ہے یا نہیں؟ تاہم دیگر آئینی بلوں پر بحث موخر کر دی گئی تھی.

  • ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی ختم

    ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی ختم

    حکومت نے بیرون ملک سے منگوائے گئے ٹماٹر اور پیاز کو ٹیکسوں اور ڈٖیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

    حالیہ بارشوں کے باعث ملک میں زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، آلو ، پیاز اور ٹماٹر کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹماٹر کی قیمت 500 روپے جب کہ پیاز 300 روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے۔

    حکومت نے ملک میں ٹماٹر اور پیاز کی قلت پر قابو پانے کے لئے بیرون ملک سے منگوانے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (Pakistan fruit and vegetables exporters and importers association) کی اپیل پر حکومت نے ٹماٹر اور پیاز کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹماٹر اور پیاز پر استثنیٰ 31 دسنبر تک ہوگا۔

    دوسری جانب پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اب تک 13 ہزار ٹن پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کے اجازت نامے مل گئے ہیں۔ آئندہ چند روز میں مزید اجازت نامے بھی جاری ہوجائیں گے۔

    وحید احمد نے کہا کہ ایران اور افغانستان سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد جاری ہے جب کہ یو اے ای ،سمیت ترکی سے بھی پیاز منگوائی جارہی ہے۔ چیئرمین پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں آئندہ 15 سے 20 روز میں استحکام آجائے گا۔

    تاہم دوسری جانب آج ایک بار پھر وزارت تجارت کی تردید کے باوجود سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے دعوی کیا کہ حکومت دشمن ملک بھارت سے تجارت کرنے جارہی ہے، یاد رہے گزشتہ دنوں وفاقی ویر نوید قمر نے کہا تھا کہ ایران اور افغانستان سے سبزی درآمدی کا فیصلہ ہوا ہے لیکن بھارت سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں.

  • عالیہ بھٹ پھٹ پڑیں اپنے مین سٹریم میڈیا پر

    عالیہ بھٹ پھٹ پڑیں اپنے مین سٹریم میڈیا پر

    بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے بارے میں جب جھوٹی باتیں لکھی جاتی ہیں تو ان کو فرق نہیں‌پڑتا لیکن جب میں نے اپنی پریگنینسی انائوس کی اس وقت میرے بارے میں یہ لکھا گیا کہ میری خراب طبیعت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے ہالی وڈ فلم نکل گئی ہے اور میرے شوہر مجھے جہاز سے لینے جائیں گے تو مجھے بہت بری لگی یہ بات کہ بھئی جھوٹ کیوں لکھا جا رہا ہے. میں نے محسوس کیا کہ اگر نوجوان لڑکیاں اس آرٹیکل کو پڑھیں گی تو ان کو لگے گا کہ پریگنینسی کی وجہ سے کام پر سٹاپ لگ جاتا ہے اور وہ اس سے برا اثر لیں گی اس لئے میں نے سٹینڈ لیا اور میں نے غصے میں بیان دیا. میں اس وقت غصہ ہوتی ہوں جب مین سٹریم میڈیا بے وقوفوں والی رپورٹنگ کرتا ہے. عالیہ نے

    مزید کہا کہ میری میرے کام سے کمنٹمنٹ کا یہ عالم ہے کہ مجھے تو قے بھی آرہی ہو تو میں قے کرنے کے بعد پھر کام کرنے لگ جاتی ہوں لیکن کام چھوڑ کر گھر کی راہ نہیں‌ لیتی. عالیہ نے مزید کہا کہ خواتین بہت مضبوط ہوتی ہیں وہ اپنے گھر اور پروفیشنل لائف کے درمیان زبردست انداز میں بیلنس رکھنا جانتی ہیں اور میں بھی اپنی پرسنل اور پروفیشنل لائف میں توازن رکھنے کی پوری کوشش کررہی ہوں.

  • کوونا کو شکست دیکر امیتابھ بچن ایکبار پھر کام پر پہنچ گئے

    کوونا کو شکست دیکر امیتابھ بچن ایکبار پھر کام پر پہنچ گئے

    بالی وڈ کے صف اول کے اداکار امتیابھ بچن نے ایک بار پھر کورونا کو شکست دے دی ہے اور کام پر واپسی بھی کر لی ہے . 79 سالہ اداکار نو دن تنہائی میں گزارنے کے بعد کام پر واپس آگئے ہیں۔ امیتابھ بچن نے کورونا سے صحتیابی کی خبر اپنے مداحوں کے ساتھ خود سوشل میڈیا پر شئیر کی . اس سے قبل قرنطینہ کے دوران امیتابھ نے اپنے مداحوں کے ساتھ کورونا میں تنہائی کے دوران اپنی مصروفیات کے حوالے سے آگہی دی اور بتایا کہ وہ اپنا ہر کام اس وقت خود کررہے ہیں یہاں تک کہ ای میل ز بھی خود کررہے ہیں کالز بھی ڈائریکٹ خود ہی لے رہے ہیں.امیتابھ بچن کے مداح ان کی صحتیابی کی خبر پر کافی خوش ہیں. یاد رہے کہ امیتابھ آج کل ریئلٹی ٹی وی شو کون بنے گا کروڑ پتی کے 14 ویں سیزن کی میزبانی کر رہے ہیں.

    2010 میں،انہوں نے KBC کے چوتھے سیزن کی میزبانی کی۔ پانچواں سیزن 15 اگست 2011 کو شروع ہوا اور 17 نومبر 2011 کو ختم ہوا۔ امیتابھ بچن اپنی فلم براہسٹرا اور شیوا کی ریلیز کے منتظر ہیں اس فلم میں ان کے ساتھ عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور بھی ہیں، عالیہ اور رنبیر کی ایکساتھ یہ پہلی فلم ہے شائقین اس فلم کی ریلیز کے خاصے منتظر ہیں..اس کے علاوہ امیتابھ بچن سورج برجاتیہ اور ایکتا کپور کی فلموں میں بھی کام کررہے ہیں. امیتابھ بچن سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں ان سے ٹویٹس کے زریعے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں.

  • عتیقہ اوڈھو کو نوجوان فنکاروں سے کیا ہے شکایت ؟

    عتیقہ اوڈھو کو نوجوان فنکاروں سے کیا ہے شکایت ؟

    عتیقہ اوڈھو کا کہنا ہے کہ آج ماضی کی نسب بہتر اور اچھا کام ہو رہا ہے یہ بات ماننے والی ہے ، اب بلکہ زیادہ کام ہو رہا ہے اور سب فنکاروں کو کام مل رہا ہے. عتیقہ نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ آج کے فنکار کام کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں سیٹ پر آکر تو وہ ڈائیلاگ یاد کررہے ہوتے ہیں. زیادہ تر نوجوان اداکار اپنی عمر کے حساب سے ہیرو اور مرکزی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس وجہ سے انہیں کام کم ملتا ہے۔عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ کسی بھی فنکار کا کا دس فیصد کام اچھا ہونا چاہیے لیکن میں اپنے کیرئیر کی تین دہائیوں پر نظر ڈالوں تو پتہ چلتا ہےکہ میرا 70 فیصد کام معیاری اور اچھا ہے. عتقیہ اوڈھو نے کہا کہ میں نے کبھی بھی ہلکے کرداروں والے سکرپٹس کواوکے نہیں کیا. عتیقہ کا مزید کہنا

    ہے کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے لوگوں کی طرف سے مسلسل پیار اور محبت مل رہی ہے. یاد رہے کہ عتیقہ اوڈھو اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بیوٹیشن بھی ہیں ان کا اپنا ایک میک اپ برینڈ بھی ہے. عتیقہ اکثر اپنی ذاتی زندگی کو لیکر خبروں میں رہتی ہیں، لیکن وہ کبھی بھی کسی بات سے نہیں گھبراتیں وہ اس بات پر عمل پیرا ہے کہ ” زندگی ایک بار ملتی ہے اسے جی بھر کے جیو” .

  • شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری

    شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری

    وزیراعظم شہبازشریف نے عوام کے لئے شمسی توانائی سے بجلی پيدا کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔اس فیصلے سے مہنگے درآمدی ايندھن کی مد ميں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی۔

    وزیراعظم شہباز شريف نے متعلقہ اداروں کو شمسی توانائی کے منصوبے پرہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی ہدايت کردی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سولر پاور پلانٹس ميں مہنگےدرآمدی ايندھن کی بجائے شمسی توانائي سے 10 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔


    پہلے مرحلے میں سرکاری عمارتوں،بجلی اور ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلز اور کم یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی بجلی دی جائے گی۔ وزيراعظم نے ہدايت کی کہ آئندہ گرميوں ميں عوام کو بجلی کی فراہمی میں خاطر خواہ ریلیف ديا جائےاورآئندہ ہفتے تمام اسٹیک ہولڈرز کی پری بڈ کانفرنس بلائی جائے۔


    واضح رہے کہ پاکستان میں توانائی، خصوصا، بجلی کا بحران حکومت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک بہت اہم چیلنج ہے۔ تقریبا ایک دہائی سے ماہرین کہتے آرہے ہیں کہ اگر توانائی کی طلب و رسد کے درمیان حائل خلیج کو مؤثر انداز میں پُر نہ گیا تو اقتصادی تنزلی نا گزیر ہوگی۔ بجلی کی قلّت ہر سال بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام کو یومیہ اوسطا چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑتی ہے۔

    جبکہ دیہی علاقوں میں صورت حال بہت خراب ہے جہاں دن بھر میں صرف دو سے تین گھنٹوں کے لیے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا تیرہ فی صد حصہ بجلی کے بغیررہ رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر اقتصادی مسابقت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے مزید ضروری ہوجاتا ہے کہ بجلی کے مسئلے کا ایک محفوظ ، مامون اور پائے دار حل وضح کیا جائے جو اسٹریٹجک اقتصادی ترقی اور سماجی انفرااسٹرکچر سے منسلک ہو۔

    دوسری طرف سورج کی روشنی سے تیار کردہ بجلی کو محفوظ کرنے کے لیے زیادہ تر لیتھیئم آئن بیٹریز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر یورپ میں بہت سے محققین اب ایک نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو قابل تجدید توانائی کے استعمال کے طریقے کو ہی بدل دے گی۔

  • کیا نازیہ حسن اور انکے شوہر  کی طلاق ہوئی تھی؟ اشتیاق بیگ بول پڑے

    کیا نازیہ حسن اور انکے شوہر کی طلاق ہوئی تھی؟ اشتیاق بیگ بول پڑے

    پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کے شوہر اشتیاق بیگ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی اور نازیہ کی طلاق کبھی بھی نہیں ہوئی، صرف افواہیں ہی پھیلائی جاتی رہیں . نازیہ کی موت سے چار ماہ قبل میں اور نازیہ جب یوکے میں تھے تو ہم نے طلاق کی افواہوں کی تردید بھی کی تھی اور میرے پاس اس حوالے سے تمام شواہد موجود ہیں. اشتیاق بیگ نے کہا کہ اس وقت نہ میرے پاس وقت تھا نہ میں ان چیزوں میں پڑنا چاہتا تھا اسلئے کبھی کلئیر کرنا مناسب نہیں سمجھا. آج مجھ سے سوال ہوا ہے تو میں جواب میں‌ کہہ رہا ہوں کہ ہماری کبھی بھی طلاق نہیں ہوئی تھی. میں نے نازیہ کے ساتھ بہت محبت کی اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ نازیہ کی موت کو کئی سال گزر چلے ہیں لیکن میں نے دوسری شادی نہیں کی. نازیہ جتنی خوبصورت

    نظر آتی تھیں اس سے کہیں زیادہ وہ خوبصورت انسان تھیں. انہوں نے گلوکاری کو چھوڑنے کا فیصلہ خود کیا لیکن نازیہ کی فیملی نے مجھ پہ الزام لگادیا کہ میں نے نازیہ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے. زوہیب کو نازیہ حسن کے بغیر کوئی شو نہیں دیتا تھا لہذا وہ نہیں چاہتا تھا کہ نازیہ کیرئیر کو خیرباد کہے بس انہی وجوہات کی بنا پر ان کی فیملی نے مجھ سے تعلقات خراب کر لئے.نازیہ کی فیملی نے ان کو بہت مجبور کیا کہ وہ گائیں لیکن نازیہ جب فیصلہ کر چکی تھی کہ اسکو گانا نہیں گانا تو پھر اس نے نہیں گایا یوں ہمارے آپسی تعلقات بگڑے اور نازیہ کی فیملی نے مجھ سے ملنا چھوڑ دیا لیکن یہ بات طے ہے کہ ہماری کبھی بھی طلاق نہیں ہوئی تھی.