Baaghi TV

Author: +9251

  • ٹھٹھہ میں 1.4ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد:شیریں رحمان

    ٹھٹھہ میں 1.4ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد:شیریں رحمان

    اسلام آباد: ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے۔،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں پینے کا پانی نمکین ہو رہا ہے، زیر زمین پانی بھر تو رہا ہے لیکن کھارا ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں 13 اگست بروز ہفتہ وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے مارگلہ ہلز سے متعلق آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے واک کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک ہمارا قومی اثاثہ ہے، فائر سیزن میں بھی وائلڈ لائف اہلکار متحرک ہو کر اپنا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا اسلام آباد دنیا کا واحد کیپٹل ہے جو اتنے بڑے نیشنل پارک کے قریب ہے۔

     

     

    کراچی سرد اور ٹھنڈی ہوائیں :ساحلی پٹی پرموجود ماہی گیراور ان کی کئی کشتیاں لاپتہ

    نیشنل پارک کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ درخت ہمارا قومی سرمایہ ہیں، اسلام آباد کا قدرتی حسن نیشنل پارک کے باعث ہے، اور اس حسن کو برقرار رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے، مارگلہ ہلز میں گندگی پھیکنا ہماری صحت کیلئے بھی مضر ہے، درخت نہ صرف ہمیں سایہ دیتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کیلئے بھی اہم ہیں۔

    شیری رحمان کے مطابق اس حوالے سے فوڈ سیکیورٹی کی میٹنگ بلا لی ہے، سندھ میں ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے، اس زمین پر فصلیں لگا کرتی تھی لیکن اب سمندر آگیا، فصلوں کیساتھ سندھ اور بلوچستان میں پینے کا پانی نمکین ہو رہا ہے، اسی طرح کی رپورٹ پنجاب سے بھی آئی ہیں۔

    زیر زمین پانی بھر تو رہا ہے لیکن کھارا ہو رہا ہے، بدین میں تو گندم ، چاول، گنا، کھجور، آم اور یہاں تک کہ پان کی فصل لگی تھی سب ختم ہوگئی۔ ہم اس حوالے سے بھی وزارت سے بات کر رہے ہیں۔

     

    کراچی کے ساحل پر پھنسنے والا جہاز ایک مشکل سے نکلا تو دوسری مشکل میں پھنس گیا

    ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سالانہ 50 ہزار ایکڑ زمین سمند ر بر د ہورہی ہے ۔اس اضافے سے اب تک بلوچستان کا 750 کلو میٹر ،سندھ کا 350 کلو میٹر ،ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں 22 لاکھ ایکڑز زرخیز زمین کو سمندر نگل چکا ہے ۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے 2050 ء تک کراچی ،ٹھٹھہ اور بدین صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا اندیشہ ہے ۔علاوہ ازیں گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کےساتھ ساتھ سمندری پھیلائو کاانتظام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے ،تا کہ قیمتی املاک اور انسانی جانوںکو محفوظ کیا جاسکے ۔

    کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز شہریوں کیلئے تفریح کا سامان بن گیا

     

    دریائے سندھ کا پانی سمندر میں نہ گرنے کی وجہ سے پانی آگے بڑھنے لگا ہے ،اس کے علاوہ یہ سمندر 35 لاکھ زمین بھی نگل چکا ہے ،سیکڑوں گوٹھ ڈوب گئے ہیں اورپانی ٹھٹھہ کے شہر جھرک تک پہنچ چکا ہے ،ساحلی پٹی پر آباد کئی بستیاں غرق آب ہوگئی ہیں ، وہاں کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ڈیلٹا میں میٹھا پانی نہ پہنچنے کے سبب ٹھٹھہ ،بدین اور سجاول کے اضلاع کو سمندر کے کھارےپانی نے تباہ وبرباد کر دیا ہے ،نہ پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے اورمیٹھا پانی نہ ہونے کی وجہ سے سر سبز زمینیں بھی بنجر ہوگئی ہیں ۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ کا پانی پہلے 180 ملین ایکڑ فیٹ 400 ملین ٹن مٹی کے ساتھ سمندر میں داخل ہوتا تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے پانی حیدرآباد سے آگے جانے کے باعث سمندری پانی آہستہ آہستہ دریائے سندھ میں داخل ہوتا جا رہا ہے ۔

  • جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی

    جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی

    پشاور:جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کر دی،اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی ،بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی ہے جس کا آغازکل نماز جمعہ سے کیا گیا ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مہنگی بجلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے آغاز پر پشاور قصہ خوانی بازار میں ہونے والے مرکزی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت آئے روز غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔ 34 یونٹ جلانے والے کو 7000 کا بل بھیجا جاتا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کے اقدامات سے عوام کا جینا مرنا محال ہو گیا، ناانصافی مزید برداشت نہیں کی جا سکتی، عوام اسلام آباد جانے کے لیے تیار ہو جائیں، سوات کے حالات ابتر، ہاتھوں کی ویڈیو نوجوان بندھے ہوئے ہیں، وزیراعظم، وزیراعلیٰ کا جواب۔ یا استعفیٰ دے دیں۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں دانستہ اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی، امیر جماعت اسلامی ضلع پشاور عتیق الرحمان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں جماعت اسلامی 15 اگست کو اسلام آباد میں مظاہرہ کرے گی اور 17 اگست کو لاہور میں لیسکو ہیڈ کوارٹر کا گھیراؤ کرے گی۔

    سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا 20 ارب یونٹ سستی بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ 12 ارب یونٹس کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا سے بجلی کی پیداوار کی فی یونٹ قیمت 87 پیسے ہے جب کہ عوام کو 20 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل بھیجے جاتے ہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ اس وقت مالاکنڈ دوئیاں میں شدید خوف وہراس ہے۔ صوبے بھر میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔ سوات میں جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا گھر ہے، میں صورتحال ابتر ہے۔ ڈی ایس پی اور فوجی جوانوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے ویڈیو سامنے آئے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ قوم کو جواب دیں یا استعفیٰ دیں۔

  • آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی  امان اچ رکھے

    آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے

    مجھے شروع سے ناول پڑھنا بے حد پسند تھا کیونکہ میری دلچسپی محض قصہ کہانیوں تک محدود تھی لیکن پھر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کتابیں تو ویسے بھی پڑھتی ہیں لیکن آپ کی سوچ صرف فروئی قصہ کہانیوں تک ہی محدود ہے لہذا آپ سیاست کو پڑھیں اسکے جواب میں میں نے انہیں کہا "آپ مجھے کچھ ایسی کتابیں بھجوا سکتے جو کسی دلچسپ اور بہادر انسان کے بارے میں لکھی گئیں ہوں” پس انہوں نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھی گئی متعدد کتابیں بھیج دیں، یقین مانیں یہ کتابیں اتنی دلچسپ تھی کہ ان کے سحر میں میں ڈوبتی چلی گئی اور یوں مجھے سیاست کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہوگئی بہرحال آج میں قارئین کی نظر ذولفقارعلی بھٹو کا ایک دلچسپ واقعہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی قیوم نظامی اپنی کتاب "جو دیکھا جو سنا” میں الطاف حسین قریشی کی زبانی غریبوں اور بے بس لوگوں سے بھٹو کی محبت کا ایک واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بیان کرتے ہیں.
    یہ تقریبا 1975 کے موسم سرما کی بات ہے، جب وفاقی حکومت کے ایک آفیسر الطاف حسین اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔

    جس بنگلے میں الطاف کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے ساتھ والا بنگلہ کمشنر ہاؤس تھا، الطاف روزانہ صبح سویرے مختلف علاقوں کے دورے پر نکل جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آجاتے لیکن ایک شام جب وہ رہایش گاہ پر واپس آیا اور رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے سے بنگلہ کے گیٹ تک چہل قدمی کر رہے تھے تو رات نو بجے کے قریب ہوٹر کی آواز سنی، چوکیدار سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعظم بھٹو دورے پر آج ہی آئے ہیں اور وہ کمشنر ہاؤس میں قیام پذیر ہیں لہذا اس وقت وہ کسی سرکاری عشائیہ سے واپس آ رہے ہیں۔

    1044277

    الطاف حسین کہتے ہیں کہ: میں گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور چند لمحوں میں وزیراعظم کی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچ گئی چونکہ گاڑی کو ساتھ والے گیٹ کے اندر جانا تھا اس لیے اس کی رفتار بھی بہت کم تھی لہذا گاڑی جب میرے قریب سے گزری تو میں نے ویسے ہی ہاتھ ہلا دیا حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اتنا اندھیرا ہے بھلا اس میں وزیراعظم مجھ پر کہاں توجہ دیں گے لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ گاڑی گیٹ پر ہی رک گئی اور ان کا ملٹری سیکرٹری گاڑی سے اتر کر میری طرف قدم اٹھانے لگا۔

    الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ: میرے قریب ٹہرے جونیئر افسر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ کر اندر چلے گئے بہرحال ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اور پوچھا "آپ الطاف قریشی ہیں؟” میرے اقرار پر کہنے لگا "آپ کو وزیراعظم صاحب بلا رہے ہیں ” لہذا میں ان کے ساتھ گاڑی کے پاس گیا تو ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا اور کہا "آو بیٹھو ” مجھے بھٹو صاحب کی آواز آئی لہذا میں سلام کرکے بیٹھ گیا۔

    گاڑی کمشنر ہاوس میں داخل ہوئی بھٹو نیچے اترے اور مجھے ساتھ لے کر کمرے میں چلے گئے، اور بیٹھتے ہی پوچھا "یہاں کیسے؟” میں نے بتایا تو پوچھا "کیا دیکھا؟” میں نے جوابا عرض کیا "غربت، افلاس اور انتظامیہ کی بے حسی ” کچھ لمحے وہ مجھے گھورتے رہے اور پھر سب کو کمرے سے باہر نکال کر مجھے کہنے لگے صبح پونے آٹھ بجے آ جاو اور ہم آٹھ بجے یہاں سے نکلیں گے اور تم جہاں چاہو مجھے لے کر جاؤ اور وہ سب کچھ دکھاؤلیکن کسی سے یہ بات مت کرنا تاکہ کسی کو اس پروگرام کا علم نہ ہو، میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

    الطاف قریشی کے مطابق: میں نے بھٹو سے پوچھا اندھیرے میں آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟ جبکہ ہمیں ملے ہوئے دو سال ہو گئے تو بھٹو کہنے لگے کہ اوے تو تو مجھے جانتا ہے نا کے میں اپنے ساتھیوں کو قبر کے اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں۔ اور پھر کہا چل اب جاؤ صبح سویر آ جانا اور کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے. میں جی سر کہتے ہوئے بھٹو صاحب سے ہاتھ ملا کر باہر آ نا چاہا تو بھٹو صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے اس دوران کہا کہ یہ الطاف صبح پونے آٹھ بجے آئے گا اور ہم ناشتہ ایک ساتھ کریں گے۔ میں باہر نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ میں بہت اہم آدمی ہو چکا ہوں کیونکہ ہر کوئی مجھ سے پوچھنے لگا وزیر اعظم سے کیا باتیں ہوئیں؟ نصراللہ خٹک اس وقت وزیر اعلی سرحد تھے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ بس یونہی میری اور میرے بچوں کی خیر خیریت پوچھ رہے تھے وہ مطمئن نہ ہوئے، لیکن میں جان چھڑا کر ساتھ والی کوٹھی میں آ گیا جہاں میرا قیام تھا۔

    الطاف کے مطابق: اگلے دن میں پونے آٹھ بجے کمشنر ہاؤس ڈیرہ پہنچ گیا، وہاں بھٹو نے مجھے اندر بلوایا وہاں وزیر اعلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے تمام بڑے بڑے انتظامی افسر موجود تھے، بھٹو نے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کیا ان کا ناشتہ جوس کا ایک گلاس، آدھا انڈہ اور ایک سلائس کے ساتھ کپ چائے تھا۔

    سوا آٹھ بجے اٹھے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ ہمیں لے کر باہر نکلے اور ایک بڑی جیپ میں پیچھے بیٹھ گئے۔مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا اور انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ صرف اور صرف میری یعنی الطاف حسین کی ہدایت پر عمل کرے اور اسی طرف جائے جس طرف میں جانے کو کہوں جبکہ سکواڈ کو بھول جائے۔ لہذا میں نے سوچ کر فیصلہ کیا اور یوں ہم ٹانک کی طرف روانہ ہوگئے اب تو مجھے معلوم نہیں لیکن سن 1975 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تقریبا کوئی پانچ یا سات میل دور سڑک کے دونوں طرف ایسے ریتلے میدان جیسے کوئی صحرا ہو ۔

    الطاف حسین کہتے ہیں: میں نے دیکھا شہر سے تقریبا پندرہ میل دور داہنے ہاتھ، ریتلے میدان میں ایک جھونپڑی نظردکھائی دی لہذا میں نے گاڑی رکوائی اور پھر ہم سب نیچے اترے اور ریت میں چلتے ہوئے اس جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے، آگے آگے بھٹو ان سے دو قدم پیچھے میں اور پھر باقی لوگ تھے۔

    ہم جھونپڑی کے باہر پہنچے تو وہاں ریت پر لکڑیاں جلائے اوپر ٹین کا بڑا سا توا رکھے ایک بوڑھی خاتون روٹیاں پکا رہی تھی اس نے اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی میں چلا اٹھی ، میں نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ اماں ” وزیراعظم آئے ہیں ” اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے پھر کہا کہ اماں ” بادشاہ بھٹو آئے ہیں "اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا کہ” اماں! بادشاہ بھٹو آئے ہیں”وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور بھٹو صاحب نے آگے بڑھ کر اس میلی کچیلی اماں کو گلے لگا لیا۔

    الطاف کہتے ہیں کہ: میں نے وزیر اعظم بھٹو کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، آ میڈا "بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے ” (اردو ترجمہ: آو میرے بادشاہ رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) اس نے ڈیرے وال یا سرائیکی زبان میں کہا۔

    بھٹو نے آس پاس دیکھا اور اماں سے سرائیکی زبان میں کہا "اماں بکھ لگی ہے،” روٹی ڈے سیں ؟ ( ماں بھوک لگی ہے، روٹی دوگی؟) اس نے جواب دیا: "ہا میڈا سائیں میڈا پتر ” ( جی ہاں میرا بیٹا) پھر اماں روتے ہوئے بھاگ کر اندر گئی اور میلی کچیلی چٹائی لائی اور وزیر اعظم بھٹو کو ریت پر بیٹھنے کو کہہ کردوبارہ اندر گئی اور ایک کالی سلور کی دیگچی اٹھا لائی اور اسے چولہے پر رکھ دیا، پھر سلور کی ہی پیالی میں ساگ نما چیز ڈالی اور "میڈے کول ایہو کجھ ہے سائیں” (میرے پاس یہی کچھ ہے) کہتے ہوئے چنگیر میں پڑی روٹی اور وہ سالن بھٹو کے آگے رکھ دیا۔

    بھٹو نے اماں سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون رہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو اور بارہ سالہ پوتا رہتا ہے، بیٹا مزدوری کرنے ڈیرے گیا ہوا ہے، بہو پانی لینے چارکوسوں دور گئی ہوئی اور پوتا ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گیا ہوا۔

    بھٹو صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کے آنسو نکل آئے سرکاری فوٹوگرافر تصویر لینے لگا تو وزیر اعظم نے کہا ” اگر اس روٹی میں ملی ہوئی ریت کی تصویر آ سکتی ہے تو میری تصویر کھینچو”۔ انہوں نے چار پانچ نوالے لیے اور پھر گھور کر نصراللہ خٹک اور دوسرے وزراء سمیت سرکاری افسروں کو انتہائی درشتی سے کہا ” آو ذرا کھا کر دکھاؤ یہ روٹی اور پھر کہا "میرے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور ملتی ہے تو صرف ریت والی لہذا تم شرم کرو، خدا کا خوف کرو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟ ظالموں کچھ تو حیا کرو، جو آتا ہے خود کھا جاتے ہو، ارے کھاؤ لیکن کچھ تو ان کو بھی دو۔

    بھٹو صاحب نے اس اماں کوایک بار پھر گلے لگایا، جیب میں جو کچھ تھا نکال کر اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اپنے پوتے کو میری طرف سے دے دینا اور اسے سکول بھیجو تاکہ وہ ایک دن بڑا آدمی بنے، پھر وزیر اعلی کو کچھ ہدایات دیں اور ہم لوگ وہاں سے واپس چل دیئے۔

    امید ہے کہ قارئین کو بھٹو کی ایک بوڑھی ماں سے ملاقات کی یہ مختصر کہانی پسند آئی ہوگی لہذا آج بھی ہمیں ایک ایسے رہنماء کی ضرورت ہے جو غریب اور عام عوام سے دکھاوے کی ہمدردی نہ رکھتا ہو بلکہ دل سے صرف اور صرف عام عوام سے مخلص ہو.

  • پاکستان کا یوم آزادی، پاکستان میں چینی سفیر و چینی شہریوں کی جانب سے یوم آزادی مبارک کے پیغامات

    پاکستان کا یوم آزادی، پاکستان میں چینی سفیر و چینی شہریوں کی جانب سے یوم آزادی مبارک کے پیغامات

    لاہور:پاکستان کا یوم آزادی، پاکستان میں چینی سفیر و چینی شہریوں کی جانب سے یوم آزادی مبارک کے پیغامات،اطلاعات کے مطابق کل پاکستانی قوم اپنا 75 یوم آزادی منارہے ہیں اور اس خوشی کے موقع پر جہاں ہرپاکستانی خوش ہے وہاں پاکستان سے محبت کرنے والی اقوام بھی بہت زیادہ خوش ہیں

    اس سلسلے میں پاکستان کی آزادی کی اگرسب سے زیادہ کسی ملک کو ہے تو وہ چین ہے ، چینی حکومت، عوام اورچینی کے دنیا بھر میں مصروف خدمت شہری جب بھی پاکستان کا یوم آزادی آتا ہے مبارکباد اور خوشی کے پیغامات بھیجتے ہیں ، کچھ ایسے ہی اس بار ہورہا ہے ،

     

     

     

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والےویڈیوکلپس میں پاکستان میں‌چینی سفیر نے پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستانیوں کو یوم ازدی کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ پاکستان ہمیشہ پھلتا پھولتا رہے

     

     

    ایسے ہی پاکستان میں موجود چینی شہری بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ،چین کی پاکستان میں پاورکمپنی کے چینی ملازمین نے پاکستانیوں کے ساتھ مل کرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے یوم آزادی کے سلسلے میں مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے

    ایسے ہی سی پیک اورنج لائن پر کام کرنے والے چینی انجیئنرز نے بھی پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر یوم ازادی مبارک ہو کے پیغآمات بھیجے ہیں‌

    ایسے ہی سی ایم ای سی چلی فارم پر کام کرنے والے چینی شہریوں نے پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر اہل پاکستان کو مبارکباد کا پیغامات بھیجے ہیں

    ذرائع کے مطابق چینی طالب علم بھی خوشی کے اس موقع پر کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ انہوں نے بھی یوم آزادی کے سلسلے میں مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں‌

  • لندن: ون ہائیڈ پارک کی جائیداد کی چارج رجسٹر تبدیل کردی گئی

    لندن: ون ہائیڈ پارک کی جائیداد کی چارج رجسٹر تبدیل کردی گئی

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز کیس میں توجہ کا مرکز بننے اور پھر پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی جانب سے کئے گئے معاہدے کے تحت ضبط کی گئی عمارت ون ہائیڈ پارک کے معاملے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
    ناجائز ذرائع سے خریداری کا جرم ثابت ہونے کے بعد ون ہائیڈ پیلس لندن ڈبلیو ٹو ایل ایچ کی جائیداد نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے منجمد کردی گئی تھی۔

    ہائیڈ پارک لندن سمیت 190 برطانوی پاﺅنڈ کے ضبط کئے جانیوالے اثاثوں کی ملکیت کے حصول کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018-19ء میں برطانوی حکومت سے رابطہ کیا گیا۔
    پاکستان کے ایسٹس ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر کی جانب سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کو بحریہ ٹاﺅن، ملک ریاض اور دوسرے ملزمان کیخلاف مقدمے میں پیشرفت کیلئے معاونت فراہم کی گئی۔

    نجی وی نے انکشاف کیا کہ : ہمارے انویسٹی گیشن یونٹ کو 21 جون 2022 کو حاصل ہونے والی ہائیڈ پارک لندن کی زمین کی رجسٹری کے مطابق 5 جون 2020ء کے نکولس نکولسن کے حق میں فیصلے کے مطابق رجسٹرڈ اسٹیٹ کا کوئی حصہ مالک کی رضامندی اور باقاعدہ دستخط کے بغیر کسی کی ملکیت نہیں بنایا جاسکتا۔
    رپورٹ کے مطابق علی ریاض ملک اور این سی اے کے درمیان ایک معاہدے کے تحت مذکورہ جائیداد کو ایک آزاد ایجنٹ کے حوالے کیا جانا تھا، جس نے اسے 2 سال کی مدت میں تصرف کرنا تھا، اس کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے اس سے حاصل ہونیوالی رقم کو حکومت پاکستان کو منتقل کرنا تھا۔
    حکومت برطانیہ کی جانب سے 14 دسمبر 2018ء کو پاکستانی نژاد علی ریاض ملک اور مبشرہ ملک کی جانب سے منتقل کئے تقریباً 2 کروڑ پاﺅنڈ پر اکاﺅنٹ فریزنگ آرڈر جاری کیا گیا، اس حوالے سے معاہدہ مدعا علیہ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان طے پایا تھا۔
    بذریعہ ایسٹس ریکوری یونٹ حکومت پاکستان کی جانب سے ابتدائی کارروائی کے طور پر فریزنگ آرڈر میں معاونت فراہم کی گئی تاہم این سی اے اور مدعا علیہ کے درمیان دیگر معاملات نیشنل کرائم ایجنسی کی طرف سے از خود طے کئے گئے۔ دستاویزات کے تحت اس رجسٹرڈ اسٹیٹ کی جائیداد میں سے کسی بھی حصے کی مالک یعنی نکولس کی تحریری رضامندی کے بغیر فروخت، منتقلی یا خریداری کی اجازت نہیں۔
    حسن نواز کی جانب سے 2016ء میں اس جائیداد کی ملکیت کے بارے میں الزامات عائد کئے گئے تاہم یہ الزامات رد کر دیئے گئے اور یہ موجودہ ریکارڈ کا حصہ نہیں۔ دستاویز کے مطابق الٹی میٹ ہولڈنگ مینجمنٹ کو ٹائٹل رجسٹر میں اس جائیداد کا مالک ظاہر کیا گیا ہے اور علی ریاض ملک کا نام براہ راست مالک کے طور پر موجود نہیں۔
    سوالات کے جواب دیتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کے کمیونی کیشن منیجر اسٹیورٹ ہیڈلے کا کہنا تھا کہ عدالت سے باہر یہ معاملات این سی اے اور متعلقہ فریقین کے درمیان طے پائے۔ ایک سوال کے جواب میں ہیڈلے کی جانب سے علی ریاض ملک اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان عدالت سے باہر طے پانیوالے معاملے میں پاکستان کے فریق ہونے کی تردید کی گئی۔
    جبکہ نجی ٹی وی کی جانب سے متعدد بار بحریہ ٹاﺅن پرائیویٹ لمیٹڈ سے اس معاملے پر انکا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم بحریہ ٹاﺅن کی انتظامیہ کی جانب سے جواب دینے سے گریز کیا گیا۔
    لندن کے ون ہاہیڈ پارک جائیداد کے چارج رجسٹر کی تبديلی کے معاملے پر برطانوی وکيل مزمل مختار کہتے ہيں کہ دستاويزات کے مطابق نکولس نکولسن آف ہيسلر کی آنر شپ نہيں، وہ صرف ايک چارج کے آنر ہيں، صرف ايک چارج ان کے نام رجسٹرڈ ہوا، اس کا ہرگز مطلب يہ نہيں کہ آنر شپ نکولسن کی ہے، دستاويزات کے مطابق ون ہائيڈ پارک کی آنر شپ ايک کمپنی مينجمنٹ لمٹيڈ کی ہے۔

  • محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں

    محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں

    لاہور:محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں،اطلاعات کے مطابق صرف لاہور اور گردو نواح میں طلاق کی شرح اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ سننے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اس سلسلے میں لاہور کی سول فیملی کورٹس میں خواتین کی جانب سے گزشتہ 10 دنوں کے دوران 500 طلاق کے کیسز دائر کیے گئے جن میں سے اکثریت نے پہلے اپنی پسند کے مردوں سے شادیاں کیں لیکن اب بڑھتے ہوئے گھریلو جھگڑوں سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔ اپنے شوہروں کی بے روزگاری کی وجہ سے جھگڑے،

    معلوم ہوا ہے کہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف نام نہاد محبت کے نام پر اپنی پسند کے مردوں سے شادی کرنے والی خواتین نے مبینہ طور پر اپنے شوہروں کا گھر چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔

    طلاق کی درخواستوں میں خواتین نے کہا کہ انہوں نے والدین کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق شادی کی لیکن بعد میں انہیں پچھتاوا ہوا۔

    "شوہر بے روزگار ہے۔ اسے نوکری نہیں ملتی۔ اگر میں گھر کا خرچہ مانگتا ہوں تو وہ تشدد کا سہارا لیتا ہے۔ سسرال والوں نے مجھے نوکرانی کے طور پر رکھا ہوا ہے،‘‘ اکثر خواتین نے طلاق کی درخواستوں میں کہا۔

    ڈیوٹی ججز نے شوہروں کو عدالتی تعطیلات کے بعد یکم ستمبر کو عدالتوں میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کر دیئے۔

    طلاق کا معاملہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے ، سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں طلاق کی شرح فی گھنٹہ 7 طلاقیں ہوگئی ہے۔ طلاق کے رجحان میں اضافہ 2011 کے بعد سے ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں سعودی عرب میں 57 ہزار 595 طلاقیں رجسٹرڈ ہوئیں۔ یہ اعداد وشمار 2019 کے مقابلے میں 12 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ سعودی عرب میں فی گھنٹہ 7 طلاقیں ہورہی ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں حکومتی سطح پر اورپبلک سیکٹرمیں خواتین کی عزت افرائی کے بعد خواتین زیادہ خومختار ہوگئی ہیں اوراپنے فیصلے اپنے مطابق کررہی ہیں۔

  • 75ویں یوم آزادی: پی آئی اے کا اندرون ملک سفر  پر14فیصد رعایت

    75ویں یوم آزادی: پی آئی اے کا اندرون ملک سفر پر14فیصد رعایت

    75ویں یوم آزادی کی مناسبت سے پی آئی اے کی جانب سے اندرون ملک سفر پر14فیصد رعایت کا اعلان کیا گیاہے.


    ترجمان پی آئی اے کے مطابق: یہ ڈسکاونٹ جشن آزاد ی پر ہم وطنوں کیلئے تحفہ ہے تاکہ وہ جشن آزادی اپنے پیاروں کے ساتھ ملک کے اندر جہاں بھی منانا چاہیں دل کھول کر منائیں. انہوں نے کہا ہم وطن عزیز میں ایسی خوشیوں کے موقع پر ہمیشہ اپنے کسٹمرز کیلئے تحفہ کے طور پر ہر سال ڈسکاؤنٹ کا اعلان کرتے ہیں ناصرف جشن آزادی بلکہ عید پر بھی مسافروں کو رعایت فراہم کی جاتی ہے.

    اس حوالے ایک مسافر ایاز خان نے باغٰ ٹی وی کو بتایا کہ: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی طرف سے جشن آزادی کی موقع پر ڈسکاؤنٹ دینا انتہائی اچھا عمل ہے کیونکہ جب کبھی بھی ایسا خوشیوں کا موقع ہو تو اکثر لوگ چاہے عید کی خوشیاں ہوں یا جشن آزادی کی اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے علاقہ میں منانا پسند کرتے ہیں.

    انہوں نے مزید کہا کہ: پی آئی اے کو سابقہ حکومت خواہ مخواہ بدنام کیا یقینا غلطیاں ہر جگہ ہوتی مگر غیرضروری بیان دینے سے ایسے اداروں کا انم خراب ہوتا اور کافی نقصان ہوتا ہے لہزا ہمیں دوسری ائیرلاینز کے بجائے اپنی پی آئی اے کو ترجیح دینی چاہئے تاکہ ہمارے اپنے ملک کا فائدہ ہو.

    دوسری جانب وفاقی وزیر احسن اقبال نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: اسلام آباد ائیرپورٹ پہ پی آئی اے سٹاف نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ہوابازی کے طیارہ حادثہ کے بعد غیر ذمہ دارانہ بیانات سے یورپ اور یو ایس اے کی فلائٹس بند ہونے سے پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان اور غیر ملکی ائیرلائنز کی چاندی ہو گئی تھی


    انہوں نے کہا کہ: کپتان نے ہر شعبہ برباد کیا لیکن اب آذادی کے درس دے رہے ہیں۔

  • ایف بی آر 50 ارب روپے اضافی محصولات کا ہدف حاصل نہ کرسکا

    ایف بی آر 50 ارب روپے اضافی محصولات کا ہدف حاصل نہ کرسکا

    وفاقی ادارہ برائے محصولات (ایف بی آر) بڑے خوردہ فروشوں (ریٹیلرز) کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور 50 ارب روپے کے اضافی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے حالانکہ ادارے نے اس سلسلے میں لاکھوں روپے مختلف سہولیات اور انعامات کی مد میں دیے اور کروڑوں روپے اشتہار کی مد میں خرچ کیے گئے۔

    ادارے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران 12 ہزار پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) مشینوں کو ایف بی آر کے نظام کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 23 ہزار پی او ایس مشینوں کو ہی ایف بی آر کے نظآم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جو سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے ادارے کو دیے گئے ہدف سے کہیں کم ہے۔

    نجی ٹی ؤی کے مطابق: گزشتہ حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ پانچ لاکھ کے قریب پوائنٹ آف سیلز مشینوں کو نظام سے منسلک کریں گے اور جس کے نتیجے میں ادارے کو 50 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول ہوگا۔ اس سلسلے میں گزشتہ حکومت نے ہر ماہ تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ روپے کے انعامات کی مد میں رکھے تھے جو کمپیوٹر قرعہ اندازی کے ذریعے بہترین صارفین کو دیے جارہے تھے، تاہم اس کے باوجود اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 50 ار روپے کے ہدف کے مقابلے میں ان رٹیلرز سے محض 6 ارب 30 کروڑ روپے اضافی ٹیکس ہی وصول کیا جاسکا۔

    دوسری جانب ایف بی آر کے ترجمان اسد طاہر جپا کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ ایف بی آر اضافی ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کرسکا تاہم پی او ایس مشینوں کی تنصیب کا اقدام کامیاب رہا ہے کیونکہ اس اسکیم کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہم شہریوں اور ٹیکس دہندگان میں یہ آگاہی پیدا کریں کہ وہ خریداری کرتے وقت سیلز اور ٹیکس رسید کے حصول پر زور دیں۔

  • شہباز گل نے بغاوت کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کردی

    شہباز گل نے بغاوت کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کردی

    اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے سیشن کورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی ہے۔

    شہباز گل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے، تفتیش میں پولیس مجھ پر کوئی الزامات ثابت نہیں کر سکی ہے، درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ، شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی دوسری استدعا مسترد کردی تھی، شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا. تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ فوج کے اندر مختلف رینکس کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی اور ملزم چونکہ ہائی پروفائل ہے لہذا ہم نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے.

    شہباز گل کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے آڈیو پروگرام کی سی ڈی حاصل کر لی ہے اور وہ میچ بھی کر گئی ہے ، ایک موبائل ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا دوسرا ان کے پاس تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا تھا کہ ملزم موبائل اور لیپ ٹاپ تک رسائی نہیں دے رہا ہے، جبکہ سچ اور جھوٹ جاننے کے لیے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے جوکہ انتہائی ضروری ہے.انہوں نے مزید کہا کہ: ٹرانسکرپٹ پڑھا گیا، لیکن ملزم یہ نہیں بتا رہا کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ لہذا میں استدعا کرتا ہوں کہ پولیس کو مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے لیکن عدالت نے یہ استدعا مسترد کردی تھی.

  • متنازع مصنف سلمان رشدی وینٹی لیٹر پرمنتقل، ایک آنکھ ضائع ہونے کا امکان

    متنازع مصنف سلمان رشدی وینٹی لیٹر پرمنتقل، ایک آنکھ ضائع ہونے کا امکان

    متنازع برطانوی مصنف سلمان رشدی کو جمعے کو امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب میں حملے کے بعد وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ ان کی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے جبکہ فلحال وہ کچھ بول بھی نہیں سکتے.

    ڈیلی میل آن لائن کے مطابق سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے بتایا: ’سلمان رشدی کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ان کے بازو کی نسیں کٹ گئی تھیں اور ان کے جگر پر چھرا مارا گیا تھا، جس سے انہیں کافی نقصان پہنچا ہے.
    پولیس کے مطابق بظاہر سلمان رشدی کی گردن پر چاقو کے وار کے نشانات ہیں اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی ہسپتال منقتل کیا گیا تھا۔

    نیویارک کی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ 75 سالہ بُکر انعام یافتہ مصنف کو جمعے کی صبح 11 بجے مغربی نیویارک کے چوٹاوکوا انسٹی ٹیوٹ میں ’کئی بار‘ چاقو مارا گیا۔ وہاں موجود افراد نے ان کی ٹانگیں پکڑ لیں تاکہ ان کا خون زیادہ نہ بہہ سکے۔ بعد میں انہیں ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کے ہسپتال پہنچایا گیا تھا.

    واضح رہے کہ: ملعون سلمان رشدی کی متنازع کتاب ’سیٹینک ورسز‘ یا ’شیطانی آیات‘ لکھنے پر 1988 میں ایران میں ان کے قتل کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔ بہت سے مسلمان اس ناول کو توہین مذہب سمجھتے ہیں۔

    کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں سلمان رشدی کی موت کا کہا گیا تھا۔ رشدی کو قتل کرنے کے لیے 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انعام بھی رکھا کیا گیا تھا۔

    رشدی نے اس وقت اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لوگ انعام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ رواں سال رشدی نے اس فتوے کے بارے میں ایک یادداشت ’جوزف اینٹن‘ شائع کی تھی۔

    انڈیپنڈنٹ کے مطابق: 75 سالہ سلمان رشدی 1981 میں اپنے دوسرے ناول ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ کے ساتھ نمایاں ہوئے، جس کے لیے ان کی دنیا بھر میں شہرت ہوئی لیکن ان کی 1988 کی کتاب ’سیٹینک ورسز‘ نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
    متعدد مترجمین اور پبلشرز کے قتل کے بعد سلمان رشدی کو برطانیہ میں حکومت نے پولیس تحفظ فراہم کی تھی.

    سلمان رشدی کے دو بیٹے ہیں۔ حال ہی میں ماڈل اور ٹیلی ویژن میزبان پدما لکشمی سے شادی سمیت ان کی چار شادیاں ہو چکی ہیں۔ ان کی شادی 2003 میں ہوئی تھی جس کے تین سال بعد علیحدگی ہوئی۔ وہ تقریباً ایک دہائی چھپنے، بار بار گھر بدلنے اور اپنے بچوں کو یہ بتانے سے قاصر رہے کہ وہ اصل میں کہاں رہتے ہیں۔ رشدی 1990 کی دہائی کے اختتام پر اس وقت کھل کر باہر نکلنا شروع ہوئے جب 1998 میں ایران نے کہا کہ وہ ان کے قتل کی حمایت نہیں کرے گا۔