Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران صاحب یہ سکندر سلطان ہیں، جاوید اقبال نہیں جوآپ کی دھمکی میں آ جائیں،مریم اورنگزیب

    عمران صاحب یہ سکندر سلطان ہیں، جاوید اقبال نہیں جوآپ کی دھمکی میں آ جائیں،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان جھوٹا، منافق اور چور ہے، پیسہ 2018ء، سینیٹ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ڈسکہ کے انتخابات میں عمران خان ووٹ چور نے چلایا تھا.

    وفاداریاں خریدنے کا سیاسی دھندا عمران خان کا ہے، عمران خان پر ان کے ممبران عدم اعتماد کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمشنر پر فارن فنڈنگ کیس کا غصہ نکال رہے ہیں، عمران صاحب یہ سکندر سلطان ہیں، جاوید اقبال نہیں جو آپ کی بلیک میلنگ اور دھمکی میں آ جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ عمران صاحب چیف الیکشن کمشنر سے این آر او مانگ رہے ہیں، عمران خان وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین نیب، چیف جسٹس آف پاکستان، ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی پولیس پنجاب، ایس ایچ او بننا چاہتے ہیں، عدم اعتماد اور خریدوفروخت کے فرق کو سمجھو۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے پنجاب میں ضمنی الیکشن کروایا انہیں سزا دینی چاہیے۔لاہور کے لبرٹی چوک میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ہرانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

    عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بتایا کہ سینیٹ الیکشن میں 30 سالوں سے پیسہ چلتا ہے، عدالت نے رولنگ دی کہ ویری فائی ایبل ووٹ ہونا چاہیے۔ جتنا پیسہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں چلا، اس کی ماضی میں تاریخ نہیں ملتی۔ہم انتظامیہ اور ریاستی مشینری کیخلاف لڑ رہے ہیں،ہم الیکشن کمیشن کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں،ڈسکہ ضمنی الیکشن میں20پولنگ اسٹیشنز پر بے ضابطگیاں ہوئیں،چیف الیکشن کمشنر نے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرایا،ضمنی الیکشن میں صرف 12پارٹیوں کیخلاف نہیں لڑے،ہم نے سرکاری مشینری اور الیکشن کمیشن کےخلاف بھی الیکشن لڑے،تحریک انصاف 8دفعہ الیکشن کمیشن گئی لیکن اس نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا.

    عمران خان نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،خفیہ ووٹ کے خلاف الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہیں دیا،سینیٹ الیکشن میں خرید وفروخت کیخلاف ہم سپریم کورٹ گئے،الیکشن میں ہر قسم کی دھاندلی گئی الیکشن کمیشن نے ن لیگ کی مدد کی،پولیس نے ایف آئی آر کاٹیں لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا،ای وی ایم مشین سے دھاندلی کے130طریقے ختم ہو جاتے ہیں،ہماری حکومت نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح ای وی مشین آجائیں،پی ڈی ایم اور دیگر جماعتوں نے ای وی ایم کی مخالفت کردی،چیف الیکشن کمشنر ای وی ایم کے خلاف تھے،سکندر سلطان راجہ جیسا بد دیانت شخص زندگی میں نہیں دیکھا،یہ لوگ 2دن سے ہمارے لوگوں کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں،زرداری،فضل الرحمان اور شہبازشریف پیسہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں،اگر انہوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا تو میں ذمہ دار نہیں کہ کیا ہوگا،

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹری سندھ یا وزیر اعلیٰ سندھ نے یا کسی اور ادارے کو کوئی خط نہیں لکھا کہ الیکشن کو آگے بڑھایا جائے یہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری ایک ویڈیو بیان میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا ہے اس کا الزام کچھ سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سب کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔

    سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن اور بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کو جواز بنا کر انتخابات کو موخر کرنے کی جو درخواست دائر کی تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس کے جواب میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک سلیکٹ کمیٹی سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کی بنائی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی شامل ہیں۔

    اس سلیکٹ کمیٹی میں سوائے جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم تک انتخابات موخر کرنے کا کہا اور پیپلز پارٹی نے بطور سندھ حکومت ان تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہائی کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے، سید ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور دیگر نے بھی اپنی پریس کانفرنسز میں واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انتخابات کو آگے کرنے کی بات نہیں کی ہے اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے بعد صوبائی الیکشن کمیشن کا ایک خط سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی چیف سیکرٹری سندھ، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے مٹینگز ہوئی اور انہوں نے ان سے تفصیلات لی اور اس خط میں انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے فیلڈ آفیسرز کا بھی تذکرہ کیا ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ میری خود چیف سیکرٹری سندھ سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی صوبائی الیکشن کمیشن سے ریگولر مٹینگز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ الیکشن میں  الیکشن کمیشن ساری لاجسٹک اور سپورٹ  ایڈمنسٹریشن کو فراہم کرنی پڑتی ہے۔اس 15 جولائی کو چیف سیکرٹری کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ہونے والی مٹینگز میں بارشوں کے حوالے سے تو زیادہ بات نہیں ہوئی  تاہم 18 جولائی کے اجلاس میں بارشوں کا تذکورہ ضرور ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ہمارے فیلڈ آفیسرز کی جانب سے جو رپورٹ ملی ہے، اس میں انہوں نے بارشوں کے باعث کچھ پولنگ اسٹیشن اور کچھ راستے خراب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں الیکشن کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں ڈی سی دادو کی رپورٹ کا ذکر ہوا تھا، جس میں انہوں نے 9 یوسیز میں الیکشن کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمیشن کا رابطہ چیف سیکرٹری سندھ سے رہا، لیکن چیف سیکرٹری نے کسی اور قطعی طور پر ان سے یہ درخواست نہیں کی کہ انتخابات کو آگے کردیا جائے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر نے جاری خط میں خود اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے میٹ آفس سے موسم کی رپورٹ لی اور اپنے فیلڈ آفیسرز سے رپورٹ لی،متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے جو رپورٹ دی ان تمام کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ جو فیز ون ہوا ہے اس میں ہم نے تمام اضلاع میں کلین سوئپ کیا ہے  اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی جہاں پیپلز پارٹی روائتی طور پر کمزوررہی ہے وہاں بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھر، نوابشاہ، میر پورخاص  کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا ہے اور اب فیز ٹو میں بھی اور جہاں انتخابات ہونا ہیں وہاں بھی حیدرآباد میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے، جس کے 25 سے زائد چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جماعت جو پہلا فیز کلین سوئپ اور دوسرا فیز بھی کامیابیوں کو سامنے دیکھ رہی ہو تو وہ کیوں انتخابات سے بھاگے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی 2015 کے مقابلے میں ہم اس سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور ہم اس کے مقابلے کئی گنا زیادہ نشستیں جیت جانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاری بھرپور تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے کارکن اور امیدواروں میں انتخابات کے التواء سے مایوسی پھیلی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ ہم اس فیصلہ پر عدالت میں جائیں، جبکہ خود سلیکٹ کمیٹی میں پی ٹی آئی نے انتخابات کو موخر کرنے کا کہا تھا۔ اسی طرح ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات آگے کرنے کا کہا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے التواء کی وجوہات اپنے نوٹیفیکشن میں درج کردی ہیں، اب اس کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ انتخابات 24 جولائی کو ہی ہوتے تاہم اگر الیکشن کمیشن نے اس کو موخر کرکے آگے کیا ہے تو اس کا جواب وہ الیکشن کمیشن سے ہی لیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ نہ ہی چیف سیکرٹری سندھ نے، نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے الیکشن کمیشن کو کوئی خط نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کو کہ انتخابات کو آگے کروا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے فیز کو مکمل طور پر موخر کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے امیدواروں پر مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کو مایوسی بھی ہوگی اور ووٹرز بھی اس فیصلے سے مایوس نظر آرہے ہیں۔

  • دفتر خارجہ کےافسران کاغیرملکی الائونس پرانکم ٹیکس عائد کرنےپرسخت احتجاج

    دفتر خارجہ کےافسران کاغیرملکی الائونس پرانکم ٹیکس عائد کرنےپرسخت احتجاج

    دفتر خارجہ کے سینئر افسران نے غیر ملکی الائونس پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

    تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے حکام نے غیر ملکی الائونس پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہیڈ کوارٹرز اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی مشنوں میں قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے وزیر خزانہ مفتاح اسمعاعیل کو دفتر خارجہ کے سینئر افسروں کے احتجاج سے آگاہ کیا اور دفتر خارجہ کے حکام کو اس معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سروس افسران پر عائد ٹیکس ان کے تفریحی الائونس، تعلیمی سبسڈی، سرکاری رہائش، طبی سہولت، اضافی الائونس، ٹرانسپورٹ اور بیرون ملک پوسٹنگ کے دوران افسران کو دستیاب سہولیات پر لاگو ہوتا ہے۔

    دفتر خارجہ کے سینئر افسران نے وزیر خارجہ سے کہا تھا کہ معاملہ فوری طور پر وزیر خزانہ کے سامنے اٹھایا جائے، اگر معاملہ حل نہ ہوا تو دفتر خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ میں قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کو بتایا گیا وزارت خزانہ میں تعینات افسران اس ٹیکس کے نفاذ کے ذریعے دفتر خارجہ کے افسران کو ان کے مالی فوائد سے محروم کرنے میں ملوث ہیں، افسران نے فنانس ڈویژن کی جانب سے بی پی ایس 17 سے بی پی ایس 22 تک کے افسران کو دیے جانے والے ایگزیکٹو الائونس کے اقدام پر بھی احتجاج کیا۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نےاپنی سکیورٹی کیلیے چیف سیکرٹری کو خط لکھ دیا

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نےاپنی سکیورٹی کیلیے چیف سیکرٹری کو خط لکھ دیا

    لاہور:پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے چیف سیکرٹری کو خط لکھ کرکل کے اجلاس کے‌حوالے سے اہم اطلاع بھی دے دی اور ساتھ اس فریق کی طرف اشارہ کیا ہے جو کل کا اجلاس نہیں ہونے دینا چاہتا،اس حوالے سے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے جان کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر چیف سیکرٹری کو سکیورٹی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

    ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کے خط پر 22 جولائی کی تاریخ درج ہے۔ جبکہ آج اکیس جولائی کا دن ہے ، یہ بھی نقطہ اب بڑا زیربحث ہے کہ کل کہیں کوئی گڑبڑ ہی نہ ہوجائے

    دوست مزاری نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے دوران سکیورٹی فورسز تعینات کی جائے، اسمبلی کی سیکیورٹی کے لیے خط عدلیہ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    انہوں نے لکھا کہ ایوان کی کارروائی کے دوران کچھ عناصر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، ایوان کی کارروائی اور مجھے ایوان کی کارروائی چلانے سے روکا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،آصف زرداری کی شجاعت حسین سے دوسری اہم ملاقات

    خط کے مطابق ’ایوان میں پُر تشدد سرگرمیوں سے میری جان کو خطرہ ہے، ایوان کے اندر اور احاطے میں مطلوبہ فورسز کی تعیناتی کی درخواست کر رہا ہوں‘۔

    یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کو واضح برتری حاصل ہے

    نجاب اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کل پرویز الہی واضح اکثریت سے وزیر اعلی منتخب ہوںگے

  • سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    کراچی:صوبہ سندھ اور بلوچستان کو قومی شاہراہ کے ذریعے ملانے والا پل ایک بار پھر ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کے مطابق ضلع لسیبلہ میں قومی شاہراہ پر واقع پل کو حب ندی سے گزرنے والے سیلابی ریلے نے شدید متاثر کیا ہے، پل کے 3 ستونوں کی حفاظتی دیواریں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں، جن کی مرمت اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیئے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پل کو حفاظتی نقطۂ نظر سے عارضی طور پر ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا ہے۔

    ادھرکراچی سمیت سندھ بھر میں 23 سے 26 اگست تک ایک اور طوفانی بارشوں کے اسپیل کی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے پیش نظر چیف سیکریٹری سندھ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں متوقع بارشوں کےحوالے سے انتظامات پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی جب کہ صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں محکمہ صحت اور بلدیاتی کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    چیف سیکریٹری سندھ سہیل راجپوت نے اجلاس میں شریک افسران پر واضح کیا کہ بارش کے پانی کی نکاسی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی اور بارشوں کے دوران کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اپنے ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑیں گے۔

    اجلاس کو ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سندھ میں ہفتے کے روز سے مون سون کا زوردار اسپیل شروع ہوگا جس کے دوران صوبے کے بیشترعلاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔

  • کشتی الٹنے کا واقعہ، پاک فوج کے دستوں اور ایس ایس جی کے غوطہ خوروں کاسرچ آپریشن جاری

    کشتی الٹنے کا واقعہ، پاک فوج کے دستوں اور ایس ایس جی کے غوطہ خوروں کاسرچ آپریشن جاری

    پاک فوج کے دستوں نے ایس ایس جی کے غوطہ خوروں کے ساتھ مل کر رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے قریب دریائے سندھ میں 100 افراد سے بھری کشتی الٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے باقی افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایات پر پاک فوج نے فوری ردعمل کرتے ہوئے ایس ایس جی کمانڈوز کے غوطہ خوروں، آرمی میڈیکل ٹیم، آرمی فیلڈ انجینئرز، دیگر امدادی دستوں اور حصہ لینے کے لیے مطلوبہ سامان کے ساتھ ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا۔

    سرچ آپریشن میں سول انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق کشتی پر تقریباً 94 افراد سوار تھے جن میں سے 45 افراد کو بچا لیا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے جاری سرچ آپریشن کے دوران دریا سے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 22 لاپتہ افراد کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔

    قبل ازیں دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں جاں بحق 26 افراد کو سندھ میں مچھکے کے قریب آبائی گاؤں حسین بخش سولنگی میں سپرد خاک کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں قبیلے کے سربراہ سردار عباس خان سولنگی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم 26 افراد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان میں ادا کی گئی ہے، جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔

    سردار عباس خان سولنگی نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے معاوضے کا مطالبہ کیا، انہوں نے دونوں صوبائی حکومتوں کو علاقے میں پلوں کی تعمیر میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا جس کی وجہ سے لوگ پار کرنے کے لیے لکڑی کی خستہ حال کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    کشتی ڈوبنے کے واقعے کے ایک دن گزر جانے کے باوجود 27 افراد لاپتا ہیں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق منگلا سے پاک فوج کے 18 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا تھا شادی کی تقریب میں شرکت کےبعد لوگ 2 کشتیوں میں سوار ہو کر اپنے گاؤں ماچکے واپس آرہے تھے کہ ایک کشتی اوور لوڈ ہو گئی تھی الٹنے والی کشتی میں 40 سے 45 مسافروں کی گنجائش تھی جب کہ حادثے کے وقت اس میں 95 مسافر سوار تھے-

    جس کے باعث ایک تختہ ٹوٹنے کے بعد کشتی الٹ گئی ڈوبنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے جب کہ ڈوبنے والے تمام لوگوں کا تعلق سولنگی قبیلے سے تھا 45 افراد کو ابتدائی کوششوں میں بچا لیا گیا تھا، ریسکیو اہلکاروں نے 22 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 27 افراد آخری خبریں آنے تک لاپتا تھے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق علاقے میں حالیہ بارشوں کے باعث جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ کافی خراب تھا اور گاڑیوں کو وہاں تک لے جانے کے لیے ٹریکٹر کا استعمال کرنا پڑا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

  • امریکہ میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل منظور

    امریکہ میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل منظور

    امریکہ بری طرج سے بے راہ روی کا شکار ہے اور اس بار ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل بھی اس ملک کی پارلیمنٹ سے منظور ہوا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے ہم جنس پرستوں کے درمیان شادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بل ‘ریسپیکٹ فار میریج ایکٹ’ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    امریکی پارلیمنٹ کے 267 ارکان نے ہم جنس پرستوں اور دیگر نسلوں کے درمیان شادیوں سے متعلق بل کی حمایت کی جب کہ 157 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ حکمراں جماعت کے 47 ارکان نے بھی بل کی حمایت کی۔

    اس بل کی منظوری کے لیے کانگریس رکن مونڈیئر پیش پیش رہے جو اعلانیہ طور پر ایک ہم جنس پرست ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ تو میرا ذاتی مسئلہ ہے اور ہم اپنے حق کا دفاع جانتے ہیں۔

    امریکی ایوان نمائندگان کی اکثریت نے تو یہ بل منظور کرلیا تاہم اسے قانون بننے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور کرانا ضروری ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کی تعداد تقریباً برابر ہے۔

    واضح رہے کہ یہ بل اس خدشے کے پیش نظر پیش کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے جس طرح اسقاط حمل کے حق کو ختم کردیا کہیں ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق کو بھی ختم نہ کردیں۔

    امریکہ بے راہ روی کا شکار ہے اور اس ملک میں ہر طرح کی انسانی و فطری حقوق کی خلاف ورزیاں بڑے ہی عجیب اور افسوسناک انداز میں دیکھنے آ رہی ہیں۔

  • موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے پنجاب میں ضمنی الیکشن کروایا انہیں سزا دینی چاہیے۔لاہور کے لبرٹی چوک میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ہرانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

    عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بتایا کہ سینیٹ الیکشن میں 30 سالوں سے پیسہ چلتا ہے، عدالت نے رولنگ دی کہ ویری فائی ایبل ووٹ ہونا چاہیے۔ جتنا پیسہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں چلا، اس کی ماضی میں تاریخ نہیں ملتی۔ہم انتظامیہ اور ریاستی مشینری کیخلاف لڑ رہے ہیں،ہم الیکشن کمیشن کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں،ڈسکہ ضمنی الیکشن میں20پولنگ اسٹیشنز پر بے ضابطگیاں ہوئیں،چیف الیکشن کمشنر نے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرایا،ضمنی الیکشن میں صرف 12پارٹیوں کیخلاف نہیں لڑے،ہم نے سرکاری مشینری اور الیکشن کمیشن کےخلاف بھی الیکشن لڑے،تحریک انصاف 8دفعہ الیکشن کمیشن گئی لیکن اس نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا.

    عمران خان نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،خفیہ ووٹ کے خلاف الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہیں دیا،سینیٹ الیکشن میں خرید وفروخت کیخلاف ہم سپریم کورٹ گئے،الیکشن میں ہر قسم کی دھاندلی گئی الیکشن کمیشن نے ن لیگ کی مدد کی،پولیس نے ایف آئی آر کاٹیں لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا،ای وی ایم مشین سے دھاندلی کے130طریقے ختم ہو جاتے ہیں،ہماری حکومت نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح ای وی مشین آجائیں،پی ڈی ایم اور دیگر جماعتوں نے ای وی ایم کی مخالفت کردی،چیف الیکشن کمشنر ای وی ایم کے خلاف تھے،سکندر سلطان راجہ جیسا بد دیانت شخص زندگی میں نہیں دیکھا،یہ لوگ 2دن سے ہمارے لوگوں کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں،زرداری،فضل الرحمان اور شہبازشریف پیسہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں،اگر انہوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا تو میں ذمہ دار نہیں کہ کیا ہوگا،

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ آج چیئرمین عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے پی ٹی آئی اور ق لیگ پنجاب کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 186 ارکان شریک ہوئے۔اس حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ‏لاہور کے مقامی ہوٹل میں پی ٹی آئی اور ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں 186 اراکین شریک ہوئے۔علاوہ ازیں مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں چوہدری پرویز الہیٰ کو 188 ارکان اسمبلی سے زیادہ ووٹ ملیں گے.

  • ارکان خریدنے کا الزام،عطا اللّٰہ تارڑکا فواد چوہدری سمیت 3 پی ٹی آئی ارکان کو قانونی نوٹس

    ارکان خریدنے کا الزام،عطا اللّٰہ تارڑکا فواد چوہدری سمیت 3 پی ٹی آئی ارکان کو قانونی نوٹس

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کے وکیل نے پی ٹی آئی کے 3 ایم پی ایز اور سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ اور وزیر اعلی کے انتخاب میں ووٹ خریدنے کے غلط الزامات پر ہتک عزت کا نوٹس جاری کر دیا. ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اظہر اقبال کے ذریعے لیگل نوٹس ڈی فیمیشن آرڈیننس 2002ء کی زیر دفعہ 8 کے تحت بھجوائے گئے.

    عطا اللہ تارڑ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایم پی ایز شہاب الدین محمد عامر عنایت اور غضنفر عباس نے وزیر اعلی کے ووٹ کے بدلے پیسوں کی آفر کے غلط الزامات پر مبنی بیان حلفی دیئے۔ فواد چوہدری نے کل پریس کانفرنس میں تین ایم پی ایز کی طرف سے بیان حلفی پریس کانفرنس میں پڑھے اور بے بنیاد الزامات لگائے۔ میرے موکل عطا اللہ تارڑ پر شرمناک اور بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ۔اس حرکت کے ذریعے میرے موکل کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

    وکیل عطا اللہ تارڑنے کہا کہ بیان حلفی میں لگائے گئے الزامات سراسر جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن ہیں ۔ میرے موکل کی طرف سے کسی کو کوئی کال نہیں کی گئی نہ ہی کسی کے ذریعے بات کی گئی ۔میرے موکل عطا اللہ تارڑ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وزیراعلی کے الیکشن کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے پرزور حامی ہیں. نوٹس میں 14 دن کے اندر معافی مانگنے کا مطالبہ رکھا گیا ہے اور بصورت دیگر قانونی کاروائی عمل میں لائے جائے گی.میرے موکل جھوٹے بیاں حلفی دینے پر قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہمارے ایم پی اے مسعود مجید کو مبینہ طور پر 40 کروڑ روپے دے کر ترکی پہنچا دیا گیا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان سے ہمارے ایم پی اے مسعود مجید 40 کروڑ روپے لے چکے ہیں اور ترکی پہنچ چکے ہیں، عطا تارڑ نے ہمارے ایم پی اے سے رابطہ کیا ہے۔

    جس کے جواب میں وزیر داخلہ پنجاب عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا تھا کہ چوہدری مسعود کو ایک پیسہ بھی دیا ہو تو اللّٰہ مجھ پر عذاب نازل فرمائے، ہر روز لیڈر تبدیل کرنا اور اسے والد کہنا مناسب نہیں ہے۔وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے چوہدری مسعود 3 اپریل کو مستعفی ہوچکے، جبکہ میں قرآن پر حلف دینے کو تیار ہوں کہ ہم نے چوہدری مسعود کو کوئی پیسہ نہیں دیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کبھی بھی کسی رکن کو خریدنے کی کوشش نہیں کی ، جھوٹا بیان حلفی پریس کانفرنس میں دکھایا گیا.

  • امریکی صدرجوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں:وائٹ ہاوس

    امریکی صدرجوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں:وائٹ ہاوس

    واشنگٹن :جہاں کورونا نے دنیا میں پھر سے سراٹھا لیا ہے وہاں کورونا نے 79 سالہ عمر رسیدہ امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی شکارکرلیاہے ، اطلاعات ہیں کہ جوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر کے مطابق جو بائیڈن میں کورونا کی علامات محسوس ہوئی تھیں جس کے بعد انکا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن کو بڑا دھچکا

    پریس سیکریٹری کے مطابق 79 سالہ امریکی صدر بائیڈن کو کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز کے علاوہ دو بوسٹر ڈوز بھی لگ چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں ہی آئیسولیٹ ہوچکے ہیں اور وہیں سے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دینگے۔

    کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    وائٹ ہاؤس کے کورونا وائرس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آشیش نے سی این این کو بتایا کہ صدر بائیڈن کو جمعرات کی صبح بخار نہیں تھا، انکی زکام اور خشک کھانسی کی شکایت ہے اور وہ کچھ تھکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    جو بائیڈن نے جنوری 2021 میں فائزر/بائیو ٹیک کوویڈ 19 ویکسین کی پہلی دو خوراکیں حاصل کی تھیں، ستمبر میں ان کو پہلی بوسٹر ڈوز اور 30 ​​مارچ کو دوسری بوسٹر ڈوز دی گئی تھی۔

    عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جو بائیڈن کو کورونا سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اگرچہ کہ امریکی مرکز برائے ڈیزیز کنٹرول کہہ چکا ہے کہ بڑی عمر کے بالغ افراد کو مکمل طور پر ویکسین اور بوسٹر ڈوز لگانے کے بعد موت کے خطرے میں نمایاں کمی آجاتی ہے۔

    بھارت: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 افراد ہلاک