Baaghi TV

Author: +9251

  • شاہ رخ خان کے 30سال اور انکے قائم کردہ ریکارڈز

    شاہ رخ خان کے 30سال اور انکے قائم کردہ ریکارڈز

    بالی وڈ کا کنگ کہلانے والے شاہ رخ خان کو فلم انڈسٹری میں تین دہائیاں ہو چکی ہیں ۔انہوں نے ٹی وی میں چھوٹے چھوٹے کرداروں سے اپنے کیرئیر کی شروعات کی ٹی وی کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا، ان کی پہلی فلم تھی دل آشنا ہے لیکن دیوانہ پہلے ریلیز ہوئی اس میںان کے ساتھ دیویا بھارتی اور رشی کپور تھے فلم سپر ہٹ ہوئی ،اس کے بعد انہوں ڈر اور بازیگر جیسی فلموں میں کام کیا دونوں فلمیں سپر ہٹ ہوئیں اس کے بعد شاہ رخ خان نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ان دونوں فلموں نے کامیابیوں کے ریکارڈز قائم کئے، شاہ رخ راتوں رات سٹار بن گئے ۔شاہ رخ خان کا شمار ایسے ہیروز میں ہوتا ہے جن کی ہر فلم نے کسی نہ کسی حوالے سے ریکارڈ قائم کیا ۔شاہ رخ خان کے بہت سارے ڈائیلاگز بھی ہٹ ہوئے جیسا کہ کبھی کبھی جیتنے

    کے لئے کچھ ہارنا پڑتا ہے اور ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں۔رشتے صرف خون سے نہیں محبت سے بھی ہوتے ہیں۔دل تو ہر کسی کے پاس ہوتا ہے لیکن سب دل والے نہیں ہوتے ۔ہم ایک بار جیتے ہیں ایک بار مرتے ہیں ،شادی بھی ایک بار ہوتی ہے اور پیار بھی ایک بار ہوتا ہے،اگر یہ تجھے پیار کرتی ہے تو یہ پلٹ کر دیکھے گی ،پلٹ پلٹ ۔بڑے بڑے دیشوں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیںہوتی رہتی ہیں۔کہتے ہیں اگر کسی چیز کو دل سے سوچو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔شاہ رخ کا سحر آج تک برقرار ہے اور ان کے چاہنے والے انہیں اتنی ہی محبت دیتے ہیں جتنی آج سے تین دہائیاں پہلے دیتے تھے۔

  • ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    قومی ادارہ برائے صحت (این ایچ آئی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور کیسز یومیہ 400 سے تجاوز کرگئے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران کوروناکے13 ہزار644 ٹیسٹ کیےگئے جس میں سے 435 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور شرح 3.19 فیصد رہی جب کہ اس دوران کورونا سے ایک ہلاکت بھی سامنے آئی۔


    قومی ادارہ برائے صحت کےمطابق کورونا میں مبتلا 87 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • عمران کو جیل میں ڈال دینا چاہئے۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    عمران کو جیل میں ڈال دینا چاہئے۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: اداروں کو گالم گلوچ کرنیوالوں کو کھلی چھٹی نہیں دینگے اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالنا چاہئے کیونکہ یہ شخص ملک میں انارکی پھیلا رہاہے اور قوم کے لئے سیکورٹی رسک بنا ہوا ہے ۔

    انہوں نے واضح کیاکہ ملک اورقوم کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے ، اور ہر جماعت کو آئین کے مطابق احتجاج کا حق ہے مگر یہ احتجاج پرامن ہونا چاہئے جوکہ آئین پاکستان میں بھی درج ہے۔

    ان کا کہنا تھا: عمران خان کے کہنے پر اب لوگ باہر نہیں نکلیں گےکیونکہ لوگ اب ان کی جھوٹی اورگمراہ کن سیاست کو جان چکے ہیں ۔ لہذا قانون کو ملحوظ نہ رکھا گیا تو میں چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان مجھے اٹک پل پار کر کے دکھا دیں۔

    تاہم ایک سروے رپورٹ کے مطابق: 78 فیصد پاکستانی پی ٹی آئی کو سڑکوں پر احتجاج کی بجائے سیاسی حریفوں کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ، مشورہ دینے والوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ 71 فیصد پاکستانی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو پاکستان تحریک انصاف کا ووٹر کہتے ہیں.

  • پاکستان کی کاروباری برادری نے سُپرٹیکس کومسترد کردیا

    پاکستان کی کاروباری برادری نے سُپرٹیکس کومسترد کردیا

    پاکستان کے تمام کاروباری طبقوں نے شہباز حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے نئے سپر ٹیکس کو یک زبان ہوکر مسترد کردیا ہے۔

    شہباز حکومت کی جانب سے رواں ماہ 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کرکے غیر اعلانیہ منی بجٹ سے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جب کہ جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے 10 فیصد مزید ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام پر عائد کردیا ہے جس کو کراچی تا خیبر ملک کے تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حکومت سے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کراچی سائٹ ایریا کے صنعتکاروں نے صنعتوں پر عائد کیے جانے والے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ صنعتوں کو تباہ کردے گا۔

    صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی عبدالرشید نے مہنگی بجلی، گیس کی عدم فراہمی کے باعث صنعتوں کی پیداوار پہلے ہی بری طرح متاثر ہے، صنعتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم نہ کیا گیا تو فیکٹریوں کو تالے لگ جائیں گے اور اگر پیداواری سرگرمیاں معطل ہوئیں تو برآمدی آرڈرز کی تکمیل خطرے میں پڑجائے گی۔

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نارتھ نے بھی اس فیصلے کی بھرپور مذمت اور مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت میں کنسٹرکشن زیادہ ہورہی تھی اور ایکسپورٹ بھی بڑھ رہی تھی مگر موجودہ حکومت کے اقدامات سے غریب پر بوجھ پڑے گا۔

    اپٹما نارتھ کے چیئرمین حامد زمان نے کہا کہ ٹیکس شرح بڑھانے سے نہیں لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے مسائل حل ہونگے، جب ٹیکس اتنا زیادہ ہوجائے گا تو لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں آئیں گے، ٹیکسز بڑھنے سے انڈسٹریز بند ہونگی اور بیروزگاری بڑھے گی تو غریب پر اثر پڑے گا۔

    تعمیراتی شعبے کی نمائندہ تنظیم آباد نے کہا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور سپر ٹیکس جارحانہ اقدام ہے جس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

    صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر نے کہا ہے کہ کاشتکار پر ٹیکس لگیں گے تو وہ پیداوار کم کردے گا، کاسٹ آف پراڈکشن پہلے ہی بڑھ چکی ہے، کاشتکار ڈیزل کے اس ریٹ پر ٹیوب ویل نہیں چلا سکتا، اب تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ہے، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو خط لکھا ہے کہ وضاحت دی جائے۔

    آباد کے سابق چیئرمین حنیف گوہر نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری پہلے ہی پریشان تھی آج مزید کردیا گیا، عام آدمی پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے سپر ٹیکس سے جینا دوبھر ہوجائیگا، ایسے ٹیکس لگیں گے تو غریب آدمی کیسے گھر بنا سکتا ہے، مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر ہی مزدوروں پر آئے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ بلڈرز کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے، انکم جنریٹ نہیں کرسکیں گے کہ تنخواہیں کیسے ادا کریں گے، جب کنسٹرکشن کا کام ہی نہیں ہوگا تو مزدوروں کو روزگار کہاں سے ملے گا اور بیروزگاری بڑھنے سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوگی۔

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس فیصل آباد کے صدر عاطف منیر نے کہا کہ سپر ٹیکس کے نام پر حکومت نے بزنس کمیونٹی اور انڈسٹری پر ہتھوڑا مارا ہے، اس فیصلے میں حکومت نے کسی ایسوسی ایشن یا چیمبر کو آن بورڈ نہیں لیا، مفتاح اسماعیل اور انکی ٹیم بری طرح ناکام رہی، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ہفتے ہفتے کی پالیسی لے کر چل رہی ہے، حکومت ایسے فیصلے نہ کرے۔

    تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عوام دشمن فیصلے کو فوری واپس لیا جائے اور ایسے اقدامات کرنے سے گریز کیا جائے جس سے بدحالی کا شکار معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

  • روسی ساختہ میزائل کا یو ٹرن،واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا

    روسی ساختہ میزائل کا یو ٹرن،واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا

    کیف:روسی افواج کوسخت صدمہ جب روسی ساختہ میزائل یو ٹرن مارتے ہوئے واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا۔اطلاعات کے مطابق غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ائیر ڈیفنس میزائل کے واپس لانچر سے ٹکرانے کا واقع جمعے کے روز یوکرین کے شہر سیویر وڈونتسک(Severodonetsk) سے تقریباً 55 میل جنوب میں الچیوسک کے قریب علاقے میں پیش آیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ میزائل سسٹم ممکنہ طور پر ایک S300 تھا جسے یوکرین کے روسی علیحدگی پسند لوہانسک سے آپریٹ کر رہے تھے۔اس حادثے سے متعلق نقصان کی تفصیلات کا انتظارہے

    میزائل میں خرابی کی وجہ واضح نہیں ہوسکی تاہم خیال کیا جارہا ہے کہ اس کی وجہ یوکرین کے ڈرون کی ہیکنگ یا جیمنگ ہو سکتی ہے۔

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کے ٹکرانے کی وجہ سے آگ رہائشی عمارتوں سے دور سے بھڑک اٹھی جبکہ اس حادثے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یاد رہے کہ روس کی طرف سے ابھی تک ان خبروں کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ تردید اس لیے اب روس کی طرف سے مزید تفصیلات کا انتظارہے

  • مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    فیصل آباد: مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی نے فیصل آباد میں ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اپنے مشن کا مقصد بیان کیا ،

    اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں سٹیج پر اس وقت پیر سید ظہیر الحسن شاہ، صاحبزادہ حافظ انس حسین رضوی سمیت دیگر قائدین بھی موجود ہیں ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ عوام کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی دھوبی گھاٹ گراؤنڈ ناموسِ رسالت کانفرنس میں شرکت کررہا ہے

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ وزیر آباد آکر ہمیں ہاتھ جوڑ کر کہا گیا واپس جائیں آزادی سے سیاست کریں،انہوں نے فیصل آباد جلسے میں بڑی تعداد میں عوام الناس کی شرکت پر کہا کہ میڈیا کی چوری چھپی آنکھیں بھی دیکھ رہی ہونگی بتاؤ کبھی ایسا منظر دیکھا ہے ،

    علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ہم اس نیت سے آئے ہیں کہ ستر سال سے اس ملک کو لوٹنے والوں بس اب سرخ لائن کھینچ دی گئی ہے ،جو ناموسِ رسالت کے مسئلہ پر جو لوگ خاموش بیٹھ رہے ہیں اللّٰہ ان کو بھی اقتدار میں لا کر ذلیل کردیا ہے ،ہم کربلا میں 72 شہید ہو کر مایوس نہیں ہوتے،جیلوں میں جا کر مایوس نہیں ہوتے،زین شہید کو دفنا کر بھی شہید نہیں ہوتے،

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ بنی گالا ، بلاول ہاؤس کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر قرض دیکھاؤ پھر پتہ چلے گا تمہیں ملک کا درد ہے ، حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ابھی جو آپ کو گیارہ جماعتوں کا اتحاد نظر آرہا ہے بہت جلد آپ کو بارہ کا اتحاد ملے وہ بھی ان کے ساتھ ہوگا جو ابھی در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے میدان میں اکیلے پھر ان کا مقابلہ کرنے والے تحریک لبیک پاکستان والے ہونگے،

  • قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    پشاور:پی ٹی آئی کارکن کوپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق عمران خان کی حکومت کےختم ہونے پرغصے میں آکرپاکستانی پرچم کو جلانے والے پی ٹی آئی کارکن کوملک واپسی پرپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا ہے

    اطلاعات ہیں کہ مذکورہ پی ٹی آئی کارکن پہلے ہی متعلقہ اداروں کی نظرمیں تھا اور جب وہ پاکستان پہنچا اورپشاورایئرپورٹ پراترا تو اس وقت پولیس نے اسے گرفتارکرلیا ہے ،اس کارکن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ اس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے پرغُصے میں آکرپاکستانی پرچم جلا دیا تھا اورپھراس کی ویڈیو بھی وائرل کی

    اس نوجوان کی طرف سے اس الزام کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ، کہا جارہا ہےکہ اس کے خلاف سخت دفعات کےساتھ ایف آئی آر کاڑی جائے گی اورپھرقانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

    یاد رہے کہ پارلیمنٹ میں اِن ہائوس تبدیلی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹر نے پاکستان کا جھنڈا جلا دیا  جس کی ساتھ ویڈیو بھی بناتا رہا اور پھر انٹرنیٹ پر شیئرکردی۔

    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کسی مخصوص پارٹی کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے، کسی ایک شخص یا پارٹی کے حق میں ہونیوالے احتجاج میں ایسے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں۔

  • ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں:پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

    ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں:پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

    پشاور:یچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں ،اطلاعات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے فیصلہ سنایا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی جانب سے تفویض کردہ ڈگریاں ’مستند‘ نہیں ہیں۔

    یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوابی یونیورسٹی کے قائم مقام رجسٹرار نوید انجم کی جانب سے دائر پٹیشن پر سنایا۔

    بیرسٹر سید سعد علی شاہ اور منصور ایڈووکیٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی آف صوابی کی نمائندگی کی۔ درخواست گزار نے اورینٹ یونیورسٹی کی جانب سے دی گئی اپنی بی بی اے کی ڈگری کی توثیق/دوبارہ تصدیق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
    درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس نے اورینٹ یونیورسٹی سے بیچلر مکمل کیا اور بعد میں اس کی بنیاد پر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی اور اسلام آباد کیمپس سے بالترتیب ایم بی اے اور ایم ایس کی ڈگریاں حاصل کیں۔

    اپنے تجربے اور اعلیٰ قابلیت کی وجہ سے انہیں قائم مقام رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ تاہم انہیں اپنی اسناد کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی گئی، اورینٹ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی بی بی اے کی ڈگری کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تصدیق نہیں کی۔عدالت کے سامنے اہم سوال یہ تھا کہ کیا ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ یونیورسٹی کی ڈگری کو درست قرار دیا جا سکتا ہے؟

    سوال کا جواب دیتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن 10 کے تحت کمیشن کو قانون اور قواعد کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی کو تسلیم کرنے یا الحاق کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم اورینٹ یونیورسٹی کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا اس لیے ڈگری جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔

    پی ایچ سی نے فیصلے میں کہا کہ ایچ ای سی کے طے شدہ معیار پر پورا نہ اترنے والا تعلیمی ادارہ ڈگری جاری نہیں کرسکتا اور ایسی ڈگریوں کا اجرا نہ تو درست ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ہے۔فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالت ایچ ای سی کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی جسے تعلیمی ادارے کی حیثیت کو ریگولیٹ کرنے کا واحد اختیار حاصل ہے۔

  • چوہدری برادران میں بٹوارہ،وجاہت حسین نے نئی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا

    چوہدری برادران میں بٹوارہ،وجاہت حسین نے نئی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا

    پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے ہمارے خاندان کو تقسیم کر دیا ہے۔ 5 ماہ سے دونوں بھائیوں کو اکٹھا کرنیکی کوشش کی مگر چودھری شجاعت حسین اولاد کے ہاتھوں مجبور ہو چکے ہیں، شجاعت حسین کو انکے بیٹوں نے یرغمال بنارکھا ہے۔

    چودھری حسین الٰہی کے ہمراہ گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری وجاہت حسین نے کہا کہ ہم نئی جماعت بنائیں گے، 5 ماہ سے دونوں بھائیوں کو اکٹھا کرنیکی کوشش کی، شجاعت حسین کو انکے بیٹوں نے یرغمال بنارکھا ہے، شجاعت حسین کو اولاد خراب کر رہی ہے، الیکشن کسی وقت بھی متوقع ہیں اورعوام کی رائے سے کوئی لا علم نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ ق لیگی کےسربراہ نے مجھے کہا ہے کہ عوام کو پیغام دو کہ میں اور پرویز الٰہی ایک تھے ایک ہیں، کیا وقت آ گیا ہے کہ ایک بھائی آگے ہے جبکہ دوسرے بھائی کے پیچھے پولیس نظر آتی ہے۔ چودھری ظہور الٰہی خاندان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی.

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ شجاعت حسین کی خاندان سے قربت ہوتے دیکھ کر کبھی آصف علی زرداری، کبھی وزیراعظم شہباز شریف ، کبھی مولانا فضل الرحمان انکے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ طارق بشیر چیمہ نے ہمارے خاندان کو تقسیمِ کر دیا۔ آصف زرداری جتنے پیسے بانٹتا پھرتا ہے اتنے توچودھری شجاعت خیرات میں دیا کرتے ہیں، افسوس کا مقام ہے شجاعت حسین کابیٹا زرداری سے ڈالرمانگ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی پی 31 سے ہمارے خاندان کے امیدوار عمران مسعود ہی ہیں، جونیجو دور سے لیکر کئی سالوں تک نواز شریف کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا ،جب جدہ گئے تب ساتھ چھوڑا۔ مشرف کا ساتھ اس وقت تک دیا جب تک وہ پاکستان میں رہے۔ عمران خان سے اپنا وعدہ پورا کرینگے۔ سالک حسین کا گجرات کی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، پی ڈی ایم اے کو جب تک ٹیک دینے والے اور باہر کی قوتیں ساتھ ہیں وہ چلیں گے وگرنہ دو دن نہیں چل سکتے.

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چودھری حسین الٰہی نے کہا کہ جو مخالفین ہمارے حلقوں، ضلعوں میں ہمیں نہیں ہرا سکے وہ ہمارے گھر میں دراڑیں ڈال رہے ہیں، ہم مخالفین کادلیری سے مقابلہ کرینگے، واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہے. ن لیگی حکومت چودھری پرویز الٰہی، مونس الہیٰ پر مقدمات درج کروا رہی ہے جبکہ دوسری طرف گھر کے افراد شہباز شریف کو تعاون کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں، ظہور الٰہی خاندان کے اپنے افراد ہی خاندان کو کمزور کررہے ہیں۔

  • ونڈوز98 کی وجہ سے یورپی خلائی ایجنسی کا مارس مشن خطرے سے دوچار

    ونڈوز98 کی وجہ سے یورپی خلائی ایجنسی کا مارس مشن خطرے سے دوچار

    واشنگٹن :ونڈوز98 کی وجہ سے یورپی خلائی ایجنسی کا مارس مشن خطرے سے دوچار،اطلاعات کے مطابق یورپین خلائی ایجنسی کی جانب سے انیس سال قبلمریخ پر بھیجا گیا مشن مائیکرو سافٹ ونڈوز کی وجہ سے خطرے سے دوچارہوگیا ہے۔

    آج سے 27 سال قبل 14 جولائی 1995 میں جب امریکا کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے کمپوٹرکے لیے ونڈوز95 کے نام سے ایک جدید آپریٹنگ سٹم متعارف کرایا تواس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہی ونڈوزآگے چل کر ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک طوفان برپا کردے گی۔

    آج ٹیکنالوجی میں ہونے والے زیادہ ترپیش رفت اسی ونڈوزکے مرہون منت ہے جس نے کمپیوٹرکودنیا کے کونے کونے میں فروغ دیا۔

    گزشتہ سال اکتوبرمیں مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوزآپریٹنگ سسٹم کا جدید ترین ورژن ونڈوز11 کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ جوکہ اب دنیا کے بیش ترممالک میں استعمال کیا جارہا ہے۔لیکن آگر ٹیکنالوجی کی اس دوڑمیں اگر’ونڈوز 98‘ کو اپ ڈیٹ کرنے کا کہا جائے تو یقیناً آپ اسے مذاق سمجھیں گے۔

    لیکن یورپین خلائی ایجنسی( ای ایس اے) کے لیے یہ زندگی اورموت کا معاملہ بن چکا ہے کیوں کہ انہیں زمین سے 200 ملین کلومیٹرکے فاصلے پرمریخ کے مدارمیں چکر لگانے والے خلائی جہازمیں ونڈوز98 کوہرحال میں اپ ڈیٹ کرنا ہے۔

    ای ایس اے کے مارس ایکسپریس مشن کی جانب سے مارسِس نامی خلائی جہازکوتقریبا 19 سال قبل مارس کے گرد بھیجا گیا تھا اوراب اس کے لیے چند اہم اپ ڈیٹ ناگزیرہوگئیں ہیں۔

    اس حوالے سے ای ایس اے کا کہنا ہے کہ MARSIS کو بھیجنے کا مقصد سرخ سیارے پرپانی کی تلاش کرنا ہے اور رواں سال ونڈوز98 میں ہونے والی اپڈیٹ کے بعد اس کی تلاش میں تیزی آجائے گی۔اس اپ ڈیٹ کے بعد مارسسِ کے پروبس مریخ کی سطح کے نیچے اوراس کے چاند فوبوس کوزیادہ بہترطریقے سے کھنگال سکیں گے۔اس مشن کو2003 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ زمین کے پڑوسی سیارے کے ماضی، حال اورمستقبل کے بارے میں زیادہ بہترطریقے سے سمجھا جاسکے۔

    جس وقت اس خلائی جہازکوڈیزائن کیا گیا اس وقت تک آپریٹنگ سسٹمزکی دنیا میں ونڈوز98 کا راج تھا اورMarsis کومائیکروسافٹ ونڈوز98 کی بنیاد پربننے والا ڈیولپمنٹ انوائرمنٹ استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    مارس ایکسپریس مشن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ مارسِس کی کارکردگی میں اضافے کے لیے ہمیں متعدد چیلنجزکا سامنا ہے۔ او ان سے نمٹے کا ایک ہی حل ہے کہ انسٹرومنٹس کو ونڈوز98 سے یورپین اسپیس ایجنسی کے ڈیزائن کردہ مارس 2022 سافٹ ویئرپراپ گریڈ کردیا جائے۔

    اس نئے سافٹ ویئرمیں اپ گریڈزکی ایک مکمل سیریزہے جن کی بدولت سگنل وصول کرنے، آن بورڈ ڈیٹا پراسیسنگ اور زمین پربھیجے جانے والے سائنسی ڈیٹا کے معیاراورمقدارکوبہتربنانا ہے۔