Baaghi TV

Author: +9251

  • ثناءجاوید اور علی رحمان خان ”کالا ڈوریا“ میں کاسٹ

    ثناءجاوید اور علی رحمان خان ”کالا ڈوریا“ میں کاسٹ

    ثناءجاوید اور علی رحمان خان اب ایکساتھ دکھائی دیں گے دونوں کو ڈرامہ سیریل ” کالا ڈوریا“ کے لئے کاسٹ کر لیا گیا ہے ،ڈرامے کی ڈائریکشن دانش نو از کررہے ہیں جبکہ اس کی کہانی ہر دلعزیز صائمہ اکرم چوہدری لکھ رہی ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ اس ڈرامے کےلئے پہلے فرحان خان اور عثمان مختار کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن ایک بار پھر کاسٹ تبدیل کر دی گئی ہے اور علی رحمان خان کو مرکزی کردار کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے اور ان کے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ ثناءجاوید نظر آئیں گے ۔صائمہ اکرم چوہدری کا لکھا ہوا ہر ڈرامہ شائقین کے دل کو چھوتا ہے امید ہے کہ اس بار بھی وہ کچھ الگ ہی لکھیں گی اور ایسا لکھیں گی جو شائقین کو پسند آئیگا ۔ ڈرامے کی کاسٹ میں علی رحمان خان اور ثناءجاوید کے علاوہ کون کون ہو گا اس کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں ۔ڈرامہ ہم ٹی وی پر آن ائیر کیا جائیگا ۔

    یاد رہے کہ علی رحمان خان کی حال ہی میںفلم ” پردے میں رہنے دو “ ریلیز ہوئی اس میںان کے ساتھ ہانیہ عامر دکھائی دیں ۔علی رحمان خان کو ان کے پرستار فلم اور ٹی وی دونوں میں پسند کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ثناءجاوید کے مداح بھی کم نہیں ہیں ان کو ہر کردار میں پسند کیا جاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ علی رحمان خان اور ثناءجاوید کی جوڑی ٹی وی پر کیا رنگ جماتی ہے۔

  • لڑکیاں کس کو پسند کرتی ہیں ہمایوں سعید نے سب بتا دیا

    لڑکیاں کس کو پسند کرتی ہیں ہمایوں سعید نے سب بتا دیا

    ہمایوں سعید جن کو ہر عمر کے لوگ بے پناہ پسند کرتے ہیں ،پردے پر بے شک وہ سنجیدہ کرداروں میں نظر آتے ہیں لیکن ذاتی زندگی میںکافی ہنسی مذاق کرنے والے انسان ہیں ۔ ہنسی مذاق میں کچھ ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں کہ جو ان کے پرستاروں کے لئے دلچپسی کا باعث بنتی ہیں ۔ایسی ہی ایک بات انہوں نے گزشتہ روز کہہ دی۔ ہمایوں سعید نے کہا کہ کچھ لڑکیوں کو یقینا تھور کا مرکزی کردار پسند ہے لیکن میںاتنا جانتا ہوں کہ لڑکیاں مجھے اور فہد مصطفی کو بہت زیادہ پسند کرتی ہیں ۔ہمایوں سعید نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ کسی تقریب میں شریک تھے ۔ان کی کہی ہوئی یہ بات سوشل میڈیا پر دلچپسی کا باعث بن گئی ۔لوگ اپنے اپنے انداز سے اس بات پر کمنٹ کررہے ہیں اور زیادہ تر صارفین ہمایوں سعید کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے محظوظ ہورہے ہیں ۔

    یاد رہے کہ فہد مصطفی اور ہمایوں سعید دونوں ہی ٹاپ کے پرڈیوسر بھی ہیں ان دونوں کے درمیان دوستی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ فہد اور ہمایوں دونوں کی فلمیں عید الاضحی پر ریلیز ہو رہی ہیں دونوں فلموں کے ٹریلر جا ری ہو چکے ہیں ٹریلر دیکھ کر شائقین کافی پسند بھی کررہے ہیں ۔فہد مصطفی کی قائداعظم زندہ باد اور ہمایو ں سعید کی لندن نہیںجاﺅنگا کی ریلیز کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے فلموں کی ٹریلر لانچ پر دونوں پراجیکٹس سے جڑے لوگ کافی پر امید دکھائی دئیے ۔

  • شان شاہد کی ضرار کا ٹریلر دوسری بار آگیا لیکن فلم کی ریلیز کی تاریخ پھر گول

    شان شاہد کی ضرار کا ٹریلر دوسری بار آگیا لیکن فلم کی ریلیز کی تاریخ پھر گول

    نیلو اور ریاض شاہد کے بیٹے شان شاہد کی فلم “ضرار“ کا ٹریلر گزشتہ دنوں ریلیز کیا گیا ٹریلر سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فلم ایکشن اور تھرل سے بھرپور ہے ۔اس فلم کا ٹریلر دیکھ کر گمان ہی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی پاکستانی فلم ہے۔ شان شاہد نے فلم میں نئی ٹیکنیکس کو استعمال کیا ہے اور شاید ایسی کہانیوں پر پاکستان میں کم کم کام کیا گیا ہے۔ضرار کا ٹریلر جس جس نے دیکھا ہے اس نے بے حد سراہا ہے ۔فلم شان شاہد نے خود لکھی ہے اس ٹریلر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شان ایک ایسا کردار نبھا رہے ہیں جو دنیا کی بری قوتوں کا مقابلہ کرتا ہے ۔

    یاد رہے کہ فلم ضرار کی ریلیز مسلسل تاخیر کا شکار جا رہی ہے دو سال قبل اسکا ٹریلر ریلیز کیا گیا تھا لیکن ایک بار پھر سے فلم کا ٹریلر جاری ہوا ہے ٹریلر یقینا بہت ہی زبردست ہے لیکن ابھی بھی فلم کی ریلز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔شان کے علاوہ فلم میں نئیر اعجاز ،ندیم بیگ اور کرن ملک اہم کرداروں میں نظر آئیں گے ۔شان ضرار کے حوالے سے کافی پر امید ہیں انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ سے بھی فلم ضرار کے حوالے سے ٹویٹ کیا لیکن تاحال فلم کی یلیز کی تاریخ سامنے نہیں آسکی جبکہ شائقین فلم دیکھنے کےلئے بےتاب ہیں ۔شان ایک عرصہ پنجابی سینما بھی کرتے رہے ہیں لیکن کافی سال سے وہ پنجابی فلموں میں نظر نہیں آرہے ۔شان کو ان کی پنجابی فلموں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا سامنا رہتا ہے ۔

  • کنگ خان کا گیت ”تم سے مل کے دل کا ہے ” نئے انداز میں

    کنگ خان کا گیت ”تم سے مل کے دل کا ہے ” نئے انداز میں

    بالی وڈکے بادشاہ جن کے کریڈیٹ پر بے شمار ایسی فلمیں اور گیت ہے جو یقینا نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ان کی ایک فلم ” میں ہوں نا“ جو کہ سال 2004 میں ریلیز ہوئی تھی اس فلم کے تما م گیت سپر ہٹ تھے آج تک ان گانوں کو گنگایا جا تا ہے ۔ فرح خان کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کا ایک گیت ” تم سے مل کے دل کا ہے جو حال کیا کریں “ کو اداکار وکی کوشل نے نئے انداز سے پیش کرکے فرخ خان کے ساتھ ساتھ اپنے پرستاروں اور بھارتی فلم انڈسٹری کے لوگوں کے دل جیت لئے ۔رپورٹس کے مطابق ہدایتکارہ فرح خان جو آج کل وکی کوشل کے ساتھ ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں ، وکی نے ان کے اور ٹیم کے باقی ممبرز کے ساتھ مل کر شاہ رخ خان کے گیت تم سے مل کر دل کا جو حال کو نئے اندازمیں

    پیش کیا ۔یہ وڈیو جب انسٹاگرام پر ڈالی گئی تو شائقین نے بہت پسند کیا ۔چند ہی منٹوں میں فرح خان وکی کوشال اور ترپتی دیمری کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرہ ہو گئی جہاں صارفین وڈیو کے نیچے کمنٹس کرتے رہے وہیں شوبز کی شخصیات بھی اس وڈیو سراہتی رہیں اور مزے مزے کے کمنٹس کر تی رہیں۔
    یاد رہے کہ فرح خان شاہ رخ خان کی بہت قریب دوست ہیں دونوں مل کر ایک ساتھ ہٹ پراجیکٹس میں کام کیا ۔فلم ” میں ہوں نا“ میں شاہ رخ خان کیساتھ ماضی کے سپر ہٹ اداکار سنجے خان کے بیٹے زائد خان کے علاوہ سشمیتا سین بھی تھیں۔

  • سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں

    سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں

    صدیوں کے اداکار دلیپ کمار جو اب ہم میں نہیں ہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے اعلی سول ایوارد دینے کا اعلان کیا تھا گزشتہ دنوں اس ایوارڈ کو دینے کے لئے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے یہ ایوارڈ وصول کیا ۔ایورڈ پکڑتے ساتھ ہی سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ سائرہ بانو اس موقع پر بہت زیادہ جذباتی ہوئیں انہوں نے کہا کہ دلیپ کمار ہندوستان کا کوہ نور تھے اور ان کا حق بنتا تھا کہ اس ایوارڈ سے نوازا جائے لیکن اگر وہ خود یہ ایوارڈ لیتے تو زیادہ خوشی ہوتی ۔سائرہ بانو نے مزید کہا کہ مجھے آج تک یقین ہی نہیں آتا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں میری یادوں میں دلیپ زندہ تو ہیں ہی لیکن میں محسوس کرتی ہوں کہ ہر قدم پہ وہ میرے ساتھ ہوتے ہیں تبہی تو میں زندہ ہوں سانس لے رہی ہوں۔

    یاد رہے کہ دلیپ کمار گزشتہ برس سات جولائی کو دنیا سے رخصت ہو گئے تھے دلیپ کمارکافی عرصے سے بیمار تھے اور انہیں تو اپنی خبر نہیں تھی لیکن ان کی اہلیہ سائرہ بانو نے انکی بہت زیادہ خدمت کی۔سائرہ بانوکہتی ہیں کہ وہ دلیپ کمار سے عشق کرتی تھیں ۔سائرہ بانو اور دلیپ کمار میں بیس برس کا فرق تھا لیکن سائرہ دلیپ کو پا کر بہت خوش تھیں ۔ان دونوں کی مثالی جوڑی تھی ۔ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار کی سائرہ بانو سے محبت کی شادی تھی گو کہ اس سے پہلے وہ مدھوبالا سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن حالات ایسے بنے کہ دونوں کو راہیں جد کرنی پڑیں ۔دلیپ کمار کی اداکاری کا منفرد انداز ان کو آج تک دوسروں سے ممتاز بناتا ہے ۔

  • آج طارق عزیز کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے

    آج طارق عزیز کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے

    ادیب، شاعر ،کالم نگار اور اداکار طارق عزیز جن کو ہم سے بچھڑے دو سال بیت چکے ہیں لیکن وہ اپنے مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ان کی آج دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔طارق عزیز نے جو بھی کام کیا اس میںان کو کامیابی ملی۔ ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغازکیا کئی سال تک صداکاری کی پھر جب 1964میں ٹی وی آیا تو طارق عزیز ٹی وی پر آگئے ان کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اناﺅنسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ستر کی دہائی میں نیلام گھر شروع ہو ا جو کئی دہائیاں چلتا رہا اس پروگرام نے طارق عزیز کی شہرت کو امر کر دیا،

    انہیںمہنگے ترین اینکر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،میزبانی کو نئی جہتوں سے متعارف کروانے والے طارق عزیز نے فلموں میں بھی قسمت آزمائی یہاں بھی انہیں شہرت اور کامیابی ملی۔ طارق عزیز نے اُس وقت کے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ان کی پہلی فلم میں ہی انہوں نے زیبا اور وحید مراد کے ساتھ کام کیا ۔ان کی تقریبا فلمیں کامیاب رہیں ۔انہوں نے شاعری بھی کی کالمز بھی لکھے ،انکی پنجابی شاعری اور کالمز کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے ۔طارق عزیز کو ادب سے بہت زیادہ لگاﺅ تھا اس چیز کی جھلک ان کی گفتگو میں بھی نظر آتی تھی ،ان کو اگر ادب کا درخشندہ ستارہ کہیں تو بے جا نہ ہو گا ۔طارق عزیز نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور سیاسی کیرئیر پاکستان پیپلز پارٹی سے شروع کیا اس کے بعد الیکشن بھی لڑا ۔دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کہنے والا دنیا سے رخصت تو ہو گیا لیکن پرستاروں کے دِلوں میں اپنی گہری یادیں چھوڑ گیا۔

  • اداکارہ انجمن کی سلطان راہی کی قبر پر حاضری

    اداکارہ انجمن کی سلطان راہی کی قبر پر حاضری

    پنجابی فلموں کی سپر ہٹ اداکار ہ انجمن نے گزشتہ روز سلطان راہی کی قبر پر حاضری دی اور دعا مانگی ۔ انجمن نے سلطان راہی کے بیٹے حیدر سلطان سے خصوصی ملاقات کی اور پھر دونوں نے مل کر سلطان راہی کی قبر پر حاضری دی۔اداکارہ نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی سلطان راہی کے حوالے سے ان کے بیٹے کے ساتھ گفتگو کی ،۔انجمن نے کافی وقت حیدر سلطان کے گھر بِیتایا اور اس میں انہوں نے صرف سلطان راہی کو یاد کیا۔انجمن کا کہنا تھا کہ کئی برسوں کے بعد سلطان راہی کی قبر پر حاضری کی دینے کا موقع ملا ہے۔

    یاد رہے کہ انجمن کافی برسوں سے پردہ سکرین سے غائب ہیں وہ لاہو ر میں موجود ہیں فلمیں بھی بن رہی ہیں لیکن وہ کسی فلم میں دکھائی نہیں د ے رہیں۔یہاں تک کہ پنجابی فلموں کی ہیروئین صائمہ نور بھی ڈراموں میں نظر آئی ہیں لیکن انجمن بڑی اور چھوٹی سکرین دونوں سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں،اداکارہ کا کہنا ہے کہ میں فلموں میںکام کرنے کی خواہاں ہوں لیکن اگر کوئی ایسا کردار ہو جس میں مجھے لگے کہ ہاں کرنے کےلئے کچھ ہے ضرور کروں گی لیکن صرف نظر آنے کے لئے کسی بھی پراجیکٹ کا حصہ نہیں بن سکتی ۔انجمن ماضی قریب میں اپنی شادی ٹوٹنے کی وجہ سے خبروں میں رہیں،تاہم فلمی تقریبات میں انجمن ضرور نظر آنے لگی ہیں گزشتہ دنوں لاہور میں سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کملی کے پریمئیر پر انجمن دکھائی دیں اور وہاںانہوں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی ۔

  • کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے اردو اور انگریزی مباحثے کے مقابلے جیت لیے

    کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے اردو اور انگریزی مباحثے کے مقابلے جیت لیے

    اسلام آباد: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU)، لاہور اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، اسلام آباد نے بالترتیب پاکستان یونیورسٹیز ڈیبیٹنگ چیمپئن شپ 2021-22 کے نیشنل راؤنڈ میں اردو اور انگریزی مباحثے کے مقابلے جیت لیے ہیں۔ .

    چیمپئن شپ کا قومی اور فائنل راؤنڈ جمعرات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، اس سے قبل ملک کے پانچ خطوں بشمول پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آئی سی ٹی/اے جے کے/گلگت میں منعقد ہونے والے علاقائی راؤنڈز کے بعد۔ بلتستان میں بھی تقریب میں یوم آزادی کے مقابلے جیتنے والوں کے لیے چار زمروں میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ شاعری (انگریزی)، شاعری (اردو)، مصوری، اور ویڈیو گرافی کے مقابلے ہوئے

    ڈیبیٹنگ چیمپئن شپ اور یوم آزادی کے مقابلے جیتنے والوں کو شیلڈز اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ پہلی پوزیشن ہولڈرز نے روپے کے نقد انعامات جیتے۔ 100,000، جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن ہولڈرز کو روپے ملے۔ 75,000 اور روپے بالترتیب 50,000 تک کے انعامات دیئے گئے

    پاکستان یونیورسٹیز ڈیبیٹنگ چیمپیئن شپ کے نیشنل راؤنڈ میں گومل یونیورسٹی، پشاور نے اردو مباحثے میں دوسری، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح انگریزی مباحثے میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی نے دوسری جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    جہاں تک یوم آزادی کے مقابلے کا تعلق ہے، محترمہ ثانیہ ایمن نے انگریزی شاعری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ محترمہ عرشیہ صہیب اور محترمہ عاصمہ نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اردو شاعری کے زمرے میں جناب آصف علی، جناب احمد سعید چوہدری اور جناب احتشام مبارک نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    پینٹنگ کیٹیگری میں محترمہ ہادیہ جاوید نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دوسری پوزیشن محترمہ فاطمہ شاکر نے حاصل کی۔ اور محترمہ فاطمہ احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ویڈیو گرافی کیٹیگری میں جاوید حسین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ محترمہ عدیل فاطمہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اور جناب بختیار احمد تیسرے نمبر پر رہے۔

    شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ای سی کی قائم مقام چیئرپرسن اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں بڑی صلاحیتیں اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کے لیے ایک نعمت ہے تاہم پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ سخت محنت کریں اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری علم اور ہنر سے خود کو لیس کریں۔

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوائزر (کوآرڈینیشن) ایچ ای سی جناب اویس احمد نے جیتنے والی ٹیموں کو مبارکباد دی اور اس بات پر زور دیا کہ کسی کے نقطہ نظر کو پہنچانے اور بات چیت کرنے کی صلاحیت ایک نعمت ہے جو زندگی کے ہر مرحلے اور ہر قسم کے فورم پر مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    شاعری، مصوری اور ویڈیو گرافی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاعروں، مصوروں اور ویڈیو گرافروں کی مہارتیں انہیں مختصر وقت میں وسیع تصورات اور پیغامات پہنچانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ اپنے تعلیمی کیرئیر کے ساتھ ساتھ اپنی باقی زندگی میں بھی تحمل اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایڈوائزر اکیڈمکس ایچ ای سی انجینئر۔ محمد رضا چوہان نے طلباء کی شخصیت کو نکھارنے میں ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایچ ای سی نہ صرف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معیار کو برقرار رکھتا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صحت مند غیر نصابی سرگرمیاں انجام دینے کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    چوہان نے کہا کہ ایچ ای سی نے پاکستان یونیورسٹیز ڈیبیٹنگ چیمپئن شپ 2021-22 کا انعقاد پارلیمانی طرز پر بحث کرنے کے لیے کیا تاکہ نوجوانوں کو تکنیکی مہارت اور فصاحت کے حامل کامیاب مقررین کو قائل کرنے اور کامیاب مقررین بننے کے فن کی تربیت دی جا سکے۔

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    کیف:روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یورپی اتحاد بڑا سرگرم دکھائی دیتا ہے اور شاید یہی وجہ ہےکہ جرمن چانسلر اولاف شولز، فرانسیسی صدر میکرون سمیت اطالوی وزیراعظم ماریو دراگی بذریعہ ٹرین یوکرینی دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان رہنماؤں کے اقدامات پر یوکرینی صدر تنقید کرتے آئے ہیں۔

    یوکرینی دارالحکومت کیف میں تعینات فرانسیسی سفیر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شائع کی ہے۔ اس تصویر میں تینوں یورپی رہنما ایک ٹرین میں موجود ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ رہنما کیف جارہے ہیں۔ بعدازاں، فرانسیسی صدارتی دفتر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ رہنما گزشتہ رات کی ٹرین سے یوکرینی دارالحکومت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    یوکرین میں جاری جنگ اور سلامتی کی صورتحال کے باعث اس دورے کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    مذکورہ بالا تینوں یورپی رہنماؤں کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب یوکرین نے ایک بار پھر جنوب اور مشرق میں روس کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے درخواست کی ہے۔

    اس تناظر میں یوکرینی افواج کی قیادت کرنے والے میجر جنرل دمیترو مارچینکو نے کہا ہے کہ اگر انہیں صحیح ہتھیار بروقت فراہم کیے جائیں تو یوکرینی فوج روس کے خلاف فتح حاصل کر سکتی ہے۔

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    تینوں یورپی رہنماؤں کے دورہ کیف کا انتظام کرنے میں کئی ہفتے لگے ہیں کیوںکہ یوکرین میں ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ تنقید کی وجہ ان کا یوکرین جنگ کے جواب میں فوری طور پر وہ دوستانہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو امریکہ کا یوکرین کے لیے تھا۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان