Baaghi TV

Author: +9251

  • آج کے ڈائریکٹرز کے لئے انجمن نے کہہ دی حیران کن بات

    آج کے ڈائریکٹرز کے لئے انجمن نے کہہ دی حیران کن بات

    ماضی کی پنجابی فلموں کی سپر ہٹ اداکارہ انجمن جو فلم کملی کے پریمئیر پر موجود تھیں انہوں نے میڈیا کے سوالوں‌ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو فلمیں بنتی تھیں ان کے سکرپٹ آرٹسٹوں کے لئے لکھے جاتے تھے لیکن اب مکمل طور پر الٹ ہے اب تو پہلے سکرپٹ لکھے جاتے ہیں اور آرٹسٹوں کا انتخاب بعد میں‌ کیا جاتا ہے میں تو کہوں گی کہ آج کا ڈائریکٹر ہی اصل ہیرو ہے. پہلے بہت سارا پریشرآرٹسٹوں پر ہوتا تھا اب سارا پریشر ڈائریکٹر پر ہوتا ہے.ہم نے بہت محنت سے نام بنایا ہے اس لئے مزید اگر کام کریں گے تو چوائس کے ساتھ کریں گے ایسا کام ہو جو ہماری بنی بنائی پہچان کو چار چاند لگائے. انجمن سے جب سوال ہوا کہ کیا آپ فلم بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں تو انہوں‌نے کہا کہ ہم کام ہی کر لیں تو بڑی بات ہے.

    انجمن نے کہا کہ نئی فلمیں جو بن رہی ہیں میں ان کو سپورٹ کرتی ہوں ہر کوئی اپنی جگہ اچھی کوشش کررہا ہے . میں دیکھ رہی ہوں‌ کہ نوجوان نسل کے ڈائریکٹرز میں کافی ٹیلنٹ ہے اور ہر کوئی جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے کام کر رہا ہے. حال ہی میں جو فلم تیرے باجرے دی راکھی بنی ایسی فلمیں بننی چاہیں ، سید نور پنجابی سنیما کے لئے کوشاں ہیں اسی طرح‌ سے مسعود بٹ و دیگر بھی کوشش کررہے ہیں ہمارے حصے میں جو کام آئیگا ہم کرکے یقینا حصہ ڈالیں گے. انجمن نے مزید کہا کہ کام چھوڑے ہوئے کافی سال بیت گئے ہیں لیکن لوگ آج بھی بہت محبت دیتے ہیں جس کے لئے میں‌ ان کی دل سے مشکور ہوں .

  • سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کے نامور اداکار افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ دو سال کے اندر اندر سٹیج کی حالت بہتر ہو جایگی اور فیملیاں بالکل پہلے کی طرح اسکا رخ کریں گی. اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کامیڈین افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج فحش رقص سے نہیں چل سکتا میں یہ بات مانتا ہوں اور اس طرح کے ڈانس بالکل غیر ضروری ہیں. سٹیج کی تباہی اس وقت ہوئی جب یہاں انویسٹر گھسا جہاں بھی انویسٹر گھسے گا اسکا حال یہ ہو گا جو سٹیج کا ہوا. اچھا کونٹینٹ ہی سٹیج کو بچا سکتا ہے جو لوگ اچھا کونٹینٹ بنائیں گے وہ تو بچ جائیں گے اور اسی انڈسٹری میں رہیں گے باقیوں کو یقینا گھر جانا پڑے گا .اگر اچھا کونٹینٹ سٹیج پر لایا جائے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ دو برس میں سٹیج کی حالت نہ صرف بدل جائیگی بلکہ فیملیاں اسکا رخ بھی کرنے لگیں گی.

    افتخار ٹھاکر نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں ٹیکلنکل اعتبار سے بہت زبردست ہیں مجھے بہت امید ہے کہ ہماری فلم کا ستارہ ایک بار پھر چمکے گا. اس وقت ہر کوئی اچھی کوشش کر رہا ہے بس فلم کو فلم سمجھنا چاہیے ، لاہور یا کراچی کی نہیں بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری کی فلم کہلائی جانی چاہیے، میں تو یہی کہوں گا کہ سب مل کر کام کریں. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج پر کامیڈینز کی واپسی جو ہوئی ہے اس کا سہرا میں سہیل احمد کے سر رکھتا ہوں.

  • اداکار ننھا کو دنیا چھوڑے  36 برس بیت گئے

    اداکار ننھا کو دنیا چھوڑے 36 برس بیت گئے

    رفیع خاورعرف ننھا کو دنیا چھوڑے چھتیس سال بیت گئے ہیں لیکن وہ آج بھی اپنے پرستاروں میں زندہ ہیں ان کے ڈرامے اور فلموں سے آج بھی لوگ محظوظ ہوتے ہیں۔ ننھا بینک ملازم تھے لیکن شوبز انڈسٹری میں کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے ان کے پاس بینک میں ریڈیو کے کچھ لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا ننھا نے ان سے مراسم بڑھائے یوں ان کا خود کا بھی ریڈیو میں آنا جانا شروع ہوگیا پھر ایک وقت آگیا کہ ان کو ریڈیو پر کام ملا اور یوں انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔ ریڈیو سے ٹی وی کی طرف گئے اور جاتے ہی کمال احمد رضوی کے ڈرامے الف ن میں ن کا کردار نبھایا جسے لوگوں نے بے حد پسند کیا ننھا شوبز انڈسٹری میں نوٹس کئے جانے لگے اس کے بعد فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا یہاں بھی انہوں نے اپنا رنگ جما لیا اور پہلی فلم وطن کے سپاہی ریلیز ہوئی اس کے بعد سنگدل ریلیز ہوئی جس میں ان کے ساتھ اداکار رنگیلا تھے ان دونوں کی جوڑی بے حد پسند کی گئی اس کے بعد ان کی جوڑی علی اعجاز کے ساتھ بہت چلی دونوں بینک میں ملازمت کے دور کے ساتھی تھے۔یہ وہ دور تھا جب ننھا کے نام کا ڈنکہ فلم ٹی وی سٹیج ہر جگہ بج رہا تھا

    ننھا کا نام کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔ ننھا ٹی وی فلم یا ریڈیو ہر جگہ ہر کسی کی اولین چوائس بن گئے تھے۔ ننھا اس قدر مصروف تھے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا تھا اور ہر دوسرا فلمساز ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا۔ اسی کی دہائی میں ان کی قسمت کا ستارہ عروج پر تھا ہر سال پندرہ سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوتیں اور تقریبا سپر ہٹ ہوتیں ۔ منور ظریف جو کہ پاکستان فلم انڈسٹری کے بڑے کامیڈین تھے ان کی وفات کے بعد کامیڈی کے میدان میں خلا پیدا ہو گیا جسکو پر تو نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ننھا نے اچھی کوشش ضرور کی۔ان کی مشہور فلموں میں سالہ صاحب ، نوکر ، نوکر تے مالک ، نمک حلال ،ظلم دا بدلہ سوہرا تے جوائی تیری میری اک مرضی و دیگر قابل ذکر ہیں ننھا کیرئیر کے عروج میں نازلی نامی رقاصہ کے عشق میں مبتلا ہو گئے شادی شدہ ننھا نازلی سے عشق کر بیٹھے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا نازلی نہ مل سکی ،گھریلو ناچاقیاں کام ملنے میں کمی ننھا ذہنی طور پر پریشان رہنے لگے اور دو جون انیس سو چھیاسی کو اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

  • کملی کا لاہور میں پریمئیر نامور ستاروں کی شرکت

    کملی کا لاہور میں پریمئیر نامور ستاروں کی شرکت

    سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ‘کملی’ کا گزشتہ شب لاہور میں پریمئیر کیا گیا،پریمئیر میں فلم کی کاسٹ،صبا قمر، ثانیہ سعید، عمیر رانا،حمزہ خواجہ کے علاوہ ثمینہ احمد، انجمن، گوری، عفت عمر، سبیکا امام، راشد محمود، مسرت مصباح، خاور ریاض، افتخار،عرفان کھوسٹ ٹھاکر،عائشہ عمر، نمرہ بُچہ، مایا علی، اسما عباس ، سیمی راحیل،فصیح باری خان، ساجی گل، کاشف نثار ودیگر نے شرکت کی،سوا دو گھنٹے کی یہ فلم سب نے دیکھی اور سینما ہال سے باہر نکلتے ہی تعریفوں کے ہل باندھ دئیے، فلم میں صبا قمراور ثانیہ سعید کی اداکاری کو سراہا گیا بلکہ فلم ختم ہوئی تو شائقین نے تالیاں بجا کر کملی کی ٹیم کو داد دی۔ فلم کے تمام گیت نہایت ہی خوبصورت ہیں لیکن عاطف اسلم اور ریشماں کے گیتوں نے تو جیسے میلہ ہی لوٹ لیا۔

    ایک عرصے کے بعد بڑی سکرین پہ ریشماں کی آواز سن کر بہت اچھا لگا. پرئیمیر میں صبا قمر کی والدہ اور بہن بھی موجود تھیں۔ فلم دیکھ کر نکلنے والے زیادہ تر شائقین کا یہی کہنا تھا کہ ایسی فلمیں پاکستان میں نہ ہونہ ہونے کے برابر بنتی ہیں۔ فلم کو بیک وقت دو ہالز میں چلایا گیا۔ یاد رہے کہ کملی تین جون کو سینما گھروں کی زینت بن رہی ہے اور سرمد کھوسٹ کی فلم ”جوائے لینڈ” کو حال ہی میں کانز فلم فیسیٹیول میں جیوری ایوراڈ ملا ہے یہ ایوارڈ سرمد کے ساتھ ساتھ پوری شوبز انڈسٹری بلکہ پاکستانیوں کے لئے فخر کی بات ہے۔ سرمد کھوسٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جوائے لینڈ کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے.

  • عمران کی زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے:آصف زرداری

    عمران کی زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے:آصف زرداری

    آصف زرداری نے کہا ہے کہ عمران کی زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کرسکتا۔

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر نے کہا کہ عمران خان دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا، عمران کی زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے۔آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ عمران تم بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر سیاست کرنا اب سیکھ لو۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے تین ٹکرے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی نہیں ہوسکتی، انشاء الله پاکستان تا قیامت آباد رہے گا۔

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ عمران خان کے ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کریں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کئے گئے ایکسز ٹو میڈیا (ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل2022 زیر بحث آیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ممبران کو بل میں ورڈنگ کے حوالے سے معمولی خدشات تھے جن کو دور کردیا گیا ہے۔خصوصی افراد کیلئے یہ بل لایا گیا ہے۔ایسے لوگ ڈرامہ نہیں دیکھ سکتے، خبریں نہیں دیکھ سکتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔بل میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ معمولی نوعیت کی ہے۔آپ اس قانون پر عمل درآمدکرانے میں مدد کریں گے۔بل میں لفظ ”ڈمپ“کو نکال دیا گیا ہے۔ممبران میں سننے کی حس سے محروم ایک فرد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔دو سینیٹرز اور دو قومی اسمبلی کے اراکین بھی ممبران میں شامل ہوں گے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کو بل پر کوئی اعتراض نہیں۔چیئرمین پیمرا نے بھی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پیمرا کو بھی بل کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہم اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرتے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ایکسز ٹو میڈیا(ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل 2022 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
    سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے راولپنڈی کے دفتر میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بحث ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ معلومات کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ متعلقہ حکام کے مطابق مالی بحران کے باعث درخت کاٹے گئے ہیں لیکن وجہ نہیں بتائی گئی۔درختوں کے معاملے میں تو پی ٹی آئی چیمپئین ہیں اور درخت لگانا عمران خان کا بہتر اقدام تھا۔درختوں کے رقبے کے لحاظ سے پاکستان دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔قائمہ کمیٹی کا فرض ہے کہ اس معاملے کی جانچ کرے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ درخت کٹنے کے قابل تھے، اگر عمران خان وزیراعظم ہوتے تو ان کو بھی لکھتا کہ اس معاملے کا وہ نوٹس لیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کی طرف سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کتنے درخت کاٹے گئے، درخت جو کاٹے گئے وہ کن اقسام کی تھے اور ان کی مارکیٹ ویلیو کیا تھی یہ سب تفصیلات کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنا ضرروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے اگلی میٹنگ میں ای پی اے اور پنجاب کے ماحولیاتی ادارے کے حکام کو طلب کرلیا۔ ڈی جی پی بی سی نے کہا کہ ابھی دو ہفتے پہلے ڈی جی پی بی سی کا چارج سنبھالا ہے۔اس وقت ادارے کا مالی بحران 1922 ملین کا ہے جبکہ 22 ملین کا اس سال کا شارٹ فال ہے۔کچھ درخت بہت پھیل گئے تھے، ٹرانسمیشن اور سیکیورٹی کے مسئلے تھے اس وجہ سے درخت کاٹے گئے۔اس وقت پی بی سی کے 58 یونٹس ہیں جس میں 25 یونٹس نے جواب دیا اور آکشن کیلئے 21 یونٹس کیلئے اشتہار دیا گیا ہے۔پی بی سی راولپنڈی دفتر میں 100 درخت کاٹے گئے جن کی مالیت 7 لاکھ ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینئراینکرپرسنز اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کامعاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔ اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آزادی صحافت پر حملے ہو رہے ہیں قد غن لگائی جا رہی ہے۔چینلز کے نمبر تبدیل ہو رہے ہیں مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کیلئے بل پاس کیا گیا ان رولز پر عمل درآمد ابھی تک کیوں نہیں ہوا۔اینکر پرسن عمران ریاض نے کہا کہ مجھے نوٹسز مل رہے ہیں پیشی کے، 28 تاریخ کو پیش ہونا تھا اور نوٹس 31 کو ملا تاکہ میں پیش نہ ہو سکوں اور میرے خلاف ایکشن لیا جائے۔ڈرون کیمرے سے میرے گھر کی ویڈیوز بنائی گئیں۔پولیس نے بھی میرا گھر گھیرا لیکن میں نکل گیا، پولیس والے نے مجھے کہا کہ آپ نکل جائیں ورنہ گرفتار کرلیں گے۔ٹھٹھہ میں 502 کی دفعہ لگائی گئی جو کہ صرف حکومت لگا سکتی ہے، مدعی عاشق علی ہے جس کے خلاف منشیات کے 16 مقدمات ہیں اور عدالت نے اسکا شناختی کارڈ بلاک کرایا ہے۔مقدمہ وہ درج کیا گیا جو صرف ریاست کرا سکتی ہے۔نواب شاہ میں میرے خلاف دوسرا مقدمہ ہے، تیسرا مانسہرہ میں،کسی صوبائی حکومت نے ا نکوائری نہیں کرائی کہ یہ جعلی مقدمات کون کروا رہا ہے۔ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے، جمعہ کو پیشی ہے، مجھے کہا گیا کہ اسلام آباد نہیں چھوڑنا ورنہ گرفتار کر لیں گے۔عالمی تنظیمیں ہم سے تفصیلات مانگ رہی ہیں، پاکستان کا امیج متاثر ہوگا ہمیں مجبور نہ کریں کہ یو این میں جائیں۔
    اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے آئی جیز کو کمیٹی میں بلائیں کہ 505 کی دفعات کیوں لگائی گئی پینل کوڈ کے تحت۔سیالکوٹ، لاہور، ملتان میں اے آر وائے کو بند کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی، کیبل آپریٹر نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔کمیٹی سے گزارش ہے کہ آپ منتخب نمائندے ہیں آپ فیصلہ کریں، آپ سے انصاف کی امید ہے۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن کیا اپنی رائے کیلئے دوسرے کا گلا گونٹ دیا جائے یہ جبر ہے۔رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے جب مجھے پکڑا گیا یہ سارے میرے ساتھ کھڑے تھے کیونکہ سوال اظہار رائے اور قلم کا تھا۔اس مسئلے پر میں صحافیوں اور ان اینکر پرسنز کے ساتھ ہوں۔نائب صدر پی ایف یو جے نے کہا کہ اے ار وائے کے اینکرز کے خلاف کل 8 مقدمات ہیں۔باہر ممالک میں چینلز کسی نہ کسی پارٹی کی سائیڈ لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں ایسے مقدمات لگائے جا رہے ہوں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کے مطابق ان صحافیوں کے خلاف کوئی ایکشن ہی نہیں لیا گیا جس پر چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سے پیمرا کا تعلق نہیں ہے، پیمرا چینلز کے اندرونی انتظامیہ کے معاملات میں عمل دخل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔جو ذمہ دار ہیں تو ان کو بلائیں۔نائنٹی ون کیبل کا ہمیں بتایا گیا اور ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا سے گزشتہ تین ماہ کی چینلز کی نمبرنگ کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    اینکر پرسن صابر شاکر نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کیبل آپریٹرز کو چینل کی بندش کاحکم نہیں دے سکتے۔ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ جہاز سے اٹھا لیں گے، ارشد شریف، اے آر وائے اور چینل کے مالک سلمان کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔ میری اور ارشد شریف کی زندگی خطرے میں ہے۔سینیٹرعرفان صدیقی کو بھی اس وقت کی حکومت نے نہیں اٹھایا تھا۔ کل تک محب وطن تھے آج دشمن ہو گئے۔مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ کس ملک میں رہ رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے۔
    سینیٹرعون عباس نے کہا کہ پیمرا بھی اس معاملے میں بے بس ہیں، سیکریٹری اطلاعات کا بھی کوئی کام نہیں۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ہر ہفتے کمیٹی بلائیں، آئی جیز اور ہوم سیکریٹریز کو بلائیں۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ جمہوریت آزاد صحافت کے بغیر پروان نہیں چھڑتی۔ارشد شریف کا معاملہ میرے لئے حیران کن نہیں ہے۔بلوچستان میں سیاست دانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔صحافی کا بھی کسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہو سکتا ہے۔ہر چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یہ ان کا حق ہے۔ شائستہ زبان میں تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے۔چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بلائیں، معلومات کرائیں کہ جس شخص نے ایف آئی آر کاٹی وہ کون ہیں؟ کس کے کہنے پر یہ کیا ہے؟ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو انصاف اور حفاظت فراہم کریں۔جو بھی اقدامات اٹھائیں گے ہم ساتھ ہیں۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس ایشو کے اوپر میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ساتھ ہوں یہ قومی مسئلہ ہے۔ہم ان کا دفاع کریں گے، جو بھی کمیٹی طے کرے گی ہم ساتھ ہیں۔ اپنے آپ کو خوش کرنے کیلئے سب کو بلائیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ نہیں کرسکتے۔اصول بنائے کہ ہم ہر آواز کو سنیں، آواز کو بند کرنے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ان کا پرسان حال کون ہے؟ پیمرا کو بھی نہیں پتہ، وزارت کا کیا جواب ہے، صحافیوں پروٹیکشن بل کے رولز ابھی تک نہیں آئے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کہا کہ ہیومن رائٹ نے اس بل کے حوالے اے ایکشن لینا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آزادی صحافت پر جو حملہ ہے اس میں وزارت کیا کرے گی۔ اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ شکایت کنندہ کو کمیٹی میں بلائیں ہم اخراجات برداشت کریں گے اور ان سے یہ کمیٹی پوچھے۔اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرنی چاہئے، تاکہ کل کو صحافیوں کو تحفظ حاصل ہو۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 5.5 سیکشن تو حکومت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔چیئرمین کمیٹی نے طویل بحث کے بعد معاملے کو اگلی میٹنگ تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ میں وزیر اطلاعات بھی آئیں اور دیگر متاثرین کو بھی آکر سنیں گے اس کے بعد کمیٹی فیصلہ دے گی۔
    چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ صحافیوں کے معاملے کا تعلق وزارت اطلاعات سے ہے،کیا آپ لوگ اس زیادتی کو تسلیم کرتے ہیں؟۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو لکھنا چاہئے کہ اس حوالے سے ایکشن لیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو بھی اقدام اٹھائیں گے اس پر مشاورت کریں گے۔وزارت اطلاعات بتائیں کہ جو چینلز بندہیں ان کو بحال کریں گے۔جس پر چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کوئی چینل بند نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے معاملے میں کچھ چینلز اور اخبارات کو زیادہ نوازا جارہا ہے۔جو چینلز ایک ہی کیٹیگری میں ہیں ان کے اشتہارات میں اتنی تفریق کیوں ہے۔چینلز کی بندش کی تحقیقات کروائیں۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے وزارت اطلاعات سے سات دن کے اندر 2008-2013، 2013-2018، 2018 -اپریل 2022 اور اپریل 2022 سے اب تک ٹی وی چینلز اور اخبارات کو دئیے گئے اشتہارات کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورہ ترکی کے حوالے سے اشتہارات کی تفصیلات بھی چیئرمین کمیٹی نے طلب کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس پئیر کا پیسہ ہے صحیح جگہ خرچ ہونا چاہئے۔صحافیوں کے تحفظ کے بل پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا۔چیئرمین کمیٹی نے صحافیوں کے تحفظ کے بل پر جلد سے جلد عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی۔ابھی صحافیوں والا معاملہ عدالت میں ہے۔رولز کے مطابق زیر سماعت کیسز سے متعلق کمیٹی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے اگلی میٹنگ میں اینکر پرسنز اور دیگر صحافیوں کے خلاف ایف آئی آرز کی تمام تفصیلات کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ لوگ اپنے صحافیوں کو تحفظ دیں، وزارت داخلہ کے ساتھ صحافیوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھائیں۔اینکرپرسنز کے معاملے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا، بلیم گیم ہو رہی ہے۔صحافیوں کے تحفظ کی ذمہ داری وزارت اطلاعات کی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان صدیقی، عون عباس بپی، انور لعل دین، چاہر بزنجو اجلاس میں شریک ہوئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے- چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی سی بی، سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات،اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    زیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کے لیے اقتصادی تعاون ترجیح ہے، پاکستان اور ترکی دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، میاں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔ مختلف فورمز پر پاکستان اور ترکی یکساں مؤقف رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ملک دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔

    رجب طیب اردوان نے کہا کہ بحری جہازوں کی تیاری میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں، مواصلات، تعلیم، ماحولیات اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں دو طرفہ قریبی تعاون ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت کے شکرگزار ہیںِ، ایک پرامن اور خوشحال افغانستان خطے کے مفاد میں ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو بھرپور امداد فراہم کی گئی۔

     

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کیلئے کام کرتا رہے گا۔ شاندار استقبال پر ترک صدر کے مشکور ہیں، پاکستان ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ترک صدر سے مذاکرات اور ملاقات انتہائی مثبت رہی، پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافتی،مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ دفاعی شعبوں میں دونوں ملکوں کا تعاون قابل ستائش ہے، دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان آئندہ ملاقات ستمبر میں اسلام آباد میں ہوگی۔

    شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، ای کامرس، تعلیم، انفراسٹرکچر کے شعبے میں ترکی کے تجربات سےاستفادہ کریں گے۔ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ستمبر میں ترک صدر کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں، پاکستان اور ترکی کی قیادت، عوام اور افواج گہری قربت کے رشتے میں بندھے ہیںِ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رواں سال دونوں برادر ملک سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بلندیوں پر لے جائیں گے۔ افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے کیلئے پاکستان نے متعدد اقدامات کیے، پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • سیاسی رہنما عمران خان پر برس پڑے،ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کی ہدایت

    سیاسی رہنما عمران خان پر برس پڑے،ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کی ہدایت

    سابق صدر آصف علی زرداری نے عمران خان کے بیان کی سخت الفاظ میں مزمت کی ہے . انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکرے کرنے کی بات نہیں کرسکتا
    یہ زبان ایک پاکستانی کی بلکہ مودی کی ہے ،عمران خان دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر سیاست کرنا اب سیکھ لو.

    آصف زرداری نے کہا کہ اس ملک کے تین ٹکرے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی نہیں ہوسکتی اور إِنْ شَاءَ ٱللَّٰهُ پاکستان تا قیامت آباد رہے گا،سابق صدر نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ہدایت دی کہ عمران خان کے اس ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کریں.

    قبل ازیں نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہوگا۔

    عمران خان نے کہا کہ ’اگر ہم دیوالیہ کر جاتے ہیں تو پاک فوج ہِٹ ہوگی، جب فوج ہِٹ ہوگی تو ہم سے ایٹمی پروگرام لے لیا جائے گا.پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اگر درست فیصلے نہ ہوئے تو پاکستان کے تین ٹکڑے ہو سکتے ہیں.

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے عمران خان کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ذہنی بیمار شخص ہی ایسی باتیں کرسکتا ہے، یہ شخص کہتا ہے پاکستان جام کردو۔ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اداروں سے ایسی سپورٹ کسی کو نہیں ملی، آج یہ اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    سینیتر سحر کامران نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران کان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی قومی سلامتی اور یکجہتی کے لئے خطرہ ہے۔
    افواج پاکستان کی تباہی کی سوچ، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں سازشی بیانات اور عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش عمران خان کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، جسے پوری قوم ناکام بنائے گی،انشااللہ انہوں نے کہا کہ ایسے ذہنی مریض کا فوری علاج لازم ہے۔

  • مفتاح اسماعیل سے ٹیلی کام سیکٹر کے وفد کی ملاقات

    مفتاح اسماعیل سے ٹیلی کام سیکٹر کے وفد کی ملاقات

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ٹیلی کام سیکٹر کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ٹیلی کام سیکٹر کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان کی معاشی ترقی میں آئی ٹی سیکٹر کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔

    اس موقع پر وفد نے لگژری اشیاء کے دائرہ کار میں نہ آنے والی اشیاء پرسیلز ٹیکس کمی کی استدعا کی۔وفد نے کہا کہ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔وفد کا مزید کہنا تھا کہ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، برآمدات بڑھنے سے جی ڈی پی کی مجموعی نمو میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفد کو ٹیکس کے مسائل کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی جبکہ وزیر خزانہ نے ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی میں آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے کردار کو بھی سراہا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلقہ برآمدات کو بڑھانے میں زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے پر زور دیا جبکہ وفد نے حمایت اور تعاون پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔

    وفد میں سی ای او جاز عامر ابراہیم اور سی ای او ٹیلی نار گروپ وحدت خان شامل تھے جبکہ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر سینئر افسران کی بھی شرکت کی۔

  • لاہور میں 200 کا جوتا چوری ہونے پر مقدمہ

    لاہور میں 200 کا جوتا چوری ہونے پر مقدمہ

    لاہور کے تھانہ شفیق آباد میں انوکھا مقدمہ، شہری نے گھر سے جوتا چوری ہونے پر تھانہ میں مقدمہ درج کرا دیا اور موقف اپنایا ہے کہ اس کا 200 روپے مالیت کا جوتا گھر سے چوری ہو گیا ہے.

    ااقبال نامی شخص نے تھانہ شفیق آباد میں درخواست دی کہ وہ رات کو سو رہا تھا جب اٹھا تو اس کے جوتے گھر میں موجود نہیں تھے کسی نامعلوم چور نے اس کے جوتے چوری کر لئے ہیں جس پر ایس ایچ او تھانہ شفیق آباد عمران قمر پڈانہ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا

    مقدمہ درج ہونے کے بعد انوسٹی گیشن ونگ نے اقبال نامی شہری کا جوتا تلاش کرنے کیلئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، پولیس کی جانب سے شہری کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس کے جوتے جلد برآمد کر لئے جائیں گے.