Baaghi TV

Author: +9251

  • رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    لاہور:رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پراکسی پرایف آئی اے نے طلبی کرلی،اطلاعات کے مطابق لاہور کے ایک معروف مگرمتنازعہ صحافی جنہیں رضوان رضی کے نام سے لاہوری جانتے ہیں ایک بار پھرایف آئی اے کے ریڈار پرآگئے ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اے نے مخالفین کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈے اور الزام تراشیوں پر جواب طلب کرلیا ہے اور کہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ رضوان رضی صاحب کو ایک بار پھر FIAنے طلب کرلیا ہے اور درخواست گزار نے ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں ، دوسری طرف رضوان رضی نے اپنا دفاع کرنے کے لیے ایف آئی اے اور درخواست گزار کے خلاف سوشل میڈیا وار شروع کردی ہے اور مختلف قسم کے الزامات بھی عائد کرنا شروع کردیئے ہیں ،یہ بھی چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ ن لیگ کا سوشل میڈیا اس وقت رضوان رضی کی حمایت میں بہت زیادہ مہم چلا رہا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا

    ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔

  • جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:شاہد خاقان عباسی

    جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد: جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جو عمران خان کے ساتھی عمران خان کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے حکومت گرائیں گے تواس صورت میں حکومتی لوگ ڈی سیٹ ہوں گے انہیں ٹکٹ دیں گے، حکومتی ممبران کو آئندہ الیکشن کے لیے بھی ٹکٹ دیں گے۔اور بھی ان کے لیے حاضر ہے

    نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پر ابھی غور نہیں کیا گیا جب عدم اعتماد آئے گی تو غور کیا جائے گا، پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ جو ممبران سیٹیں قربان کرنے کو تیار ہیں ہم پر بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں ٹکٹ دیں، منحرف ارکان کو ٹکٹ کے وعدے نہ بھی کرتے تو کئی ارکان ساتھ ہوتے، شاید آدھے سے زائد لوگ ٹکٹ کے وعدے کے بغیر ساتھ آتے، منحرک ارکان اقتدار چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان نے کہا کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا ہارس ٹریڈنگ میں شامل ہے، اقتدار چھوڑ کر اپوزیشن میں شامل ہونا ہارس ٹریڈنگ نہیں ہے۔شاہد خاقان نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں مدت پوری کریں گی ایسے کسی فیصلے کا علم نہیں ہے، عوام کا جو دباؤ پڑا ہے وہ معمولی نہیں ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ راجہ ریاض جس جماعت میں جائیں گے انہیں ٹکٹ ملے گا، کسی نے کوئی پیسے مانگے نہ دیے گئے ہیں، حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو عوام کے سامنے رکھیں۔

  • ’کسی نے پیسےدینےکاوعدہ نہیں کیا‘منحرف وجیہہ قمرسیاست بچانےکیلیےقرآن پاک کا کارڈ استعمال کرنےلگیں

    ’کسی نے پیسےدینےکاوعدہ نہیں کیا‘منحرف وجیہہ قمرسیاست بچانےکیلیےقرآن پاک کا کارڈ استعمال کرنےلگیں

    لاہور: ’کسی نے پیسے دینے کا وعدہ نہیں کیا‘، منحرف رکن وجیہہ قمر سیاست بچانے کےلیے قرآن پاک کا کارڈ استعمال کرنے لگیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی منحرف ہونے والی رکن قومی اسمبلی وجیہہ قمر نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیسے نہ لینے کا حلف اٹھا لیا۔

    وجیہہ قمر کا کہنا تھاکہ کچھ دنوں سے صبرو تحمل کا مظاہرہ کررہی ہوں، ریاست مدینہ یہ سکھاتی ہے جو ہم آج کل اپنی اخلاقیات کا نمونہ پیش کررہے ہیں؟

    انہوں نے کہا کہ ارکان کے گھروں پر حملے کیے گئے اور باپ دادا تک پہنچ گئے ، ریاست مدینہ کیا تقریریں کرنے یا ہاتھ میں تسبیح سے بن جاتی ہے؟ یہ سب عوام کو پاگل بنانے کیلئے ایک ڈھونگ تھا۔ان کا کہنا تھاکہ صرف سلیکٹڈ احتساب کیا گیا اور مخالفین کو نشانہ بنایا گیا۔

    رکن قومی اسمبلی نے اپنی سیاست بچانے کے لیے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کےلیے قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ حلفیہ کہتی ہوں مجھے کسی نے پیسے دینے کا وعدہ نہیں کیا اور حلفیہ کہتی ہوں کہ پیسے لینے کا الزام جھوٹا اور بہتان ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ’میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنے متعلق بات کرسکتی ہوں تو کیا عمران خان کرسکتے ہیں؟ ان کے ارد گرد لوگ کرپشن میں ملوث نہیں؟ یہ کہہ سکتے ہیں جو گھڑی سعودیہ سے تحفہ ملی وہ انہوں نے بازار میں نہیں بیچ دی؟‘

    رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھاکہ ابھی تو میں نے پارٹی چھوڑی نہیں ابھی تو پارٹی کا حصہ ہوں اور یہ حالات ہیں، میں بھی حسینیت کی راہ پر ہوں، ڈی سیٹ کرنے کی دھمکی سے ہماری آواز نہیں دبائی جاسکتی، امید ہے عدلیہ ہمارے حق میں فیصلہ دے گی۔

    وجیہہ قمر کا کہنا تھاکہ اپنے حلقے کیلئے کام کررہی تھی تو کہا گیا یہاں سے الیکٹیبل کو ٹکٹ دیں گے، مخصوص نشست دے کر مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا گیا، وزیراعظم کو دو مرتبہ اپنے تحفظات کا بتایا۔

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    پشاور:خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔

    الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کے مطابق 31 مارچ کو ہونیوالے دوسرے مرحلے کے انتخابات 18 اضلاع میں 65 تحصیل کونسلز میں ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 57 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی میئر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لئے 651 امیدوار، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں کے لئے 12 ہزار 980، خواتین کی نشستوں کے لئے 2 ہزار 668، مزدور و کسان کی نشستوں کے لئے 6 ہزار451، نوجوانوں کی نشستوں کے لئے 5 ہزار 213 اور اقلیتی نشستوں کے لئے 57 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

    اسی طرح اب تک ویلج و نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 351، خواتین کی نشستوں پر 533، مزدور و کسان کی نشستوں پر 151، نوجوانوں کی نشستوں پر 233 اور اقلیتی نشستوں پر 50 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  • ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    پاکستان کے قانون کے تحت آئین شکنی یا آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے اور آج کل ہماری اپوزیشن یہی آئین شکنی کا الزام لے کر عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )چلی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق اجلاس نہیں بلایا گیا ۔۔۔۔۔۔

    لیکن دوسری طرف

    اسی اپوزیشن اور تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کو اسی آئین میں لکھی یہ شق کبھی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کوئی قانون خلاف شریعت نہیں بن سکتا ،اس کے باوجود انہی اسمبلیوں میں کتنے غیر شرعی قوانین بن جاتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا بلکہ لگ بھگ سبھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔۔

    اسی 1973آئین میں لکھا گیا تھا کہ اردو کو بطور واحد سرکاری و قومی زبان 15 سال میں مکمل لاگو اور رائج کیاجائے گا، اس پر آئین سے ہٹ کر قائد اعظم اور سپریم کورٹ کے صریح فیصلے اور حکم بھی موجود ہیں لیکن کوئی رکن پارلیمان یا سیاست دان اس آئین و قانون شکنی پر کبھی نہیں بولتا۔

    ملک سے سود کا فوری خاتمہ شریعت ،آئین اور ہمارے آئینی ادارے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن یہی سیاست دان اس پر بھی نہیں بولتے جو کہ قرآن کے الہی الفاظ میں اللہ اور رسول ص سے جنگ کے مترادف ہے۔

    حق سچ یہ ہے کہ ہمارے سب لوگوں اور سب اداروں کو صرف اپنی مرضی کے مطابق آئین شکنی یا قانون شکنی نظر آتی اور اس حمام میں سب ننگے ہیں

  • عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    22 مارچ دنیا بھر میں ہر سال پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پانی جو حیات و نظام حیات کی بنیاد اور بقا ہے،اس وقت دنیا کا ایک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
    کرہ ارض پر اگرچہ کہنے لکھنے کو ٪76 پانی اور ٪24 خشکی ہے لیکن اس میں سے پینے اور استعمال کے قابل پانی بمشکل ٪3 اور باقی ماندہ سمندروں کا ناقابل استعمال کھارا زہریلا پانی ہے۔

    دنیا میں انسانی ترقی سے جیسے جیسے ماحول میں حرارت بڑھ رہی ہے ویسے ویسے پانی کی بھی تیزی سے کمی جاری ہے اور قدرتی آبی ذرائع تیزی سے خشک ہو کر سمٹ رہے اور باقی ماندہ پانی زہریلے ہورہےہیں۔

    پاکستان اس وقت دنیا میں پانی کی کمی والے ملکوں میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے جہاں قدرتی ذرائع آب دریا،چشمے اور آبشاریں وغیرہ تیزی سے خشک ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال ہر روز تیز ہورہاتو یوں اس زیر زمین پانی کی سطح بھی تیزی سے گر رہی ہے۔

    تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارا بھارت کے ساتھ ایک بڑا تنازع دریائی پانی کی بندش تھا جس نے تقسیم کے چند ہی ہفتے بعد دریا روک لیے تھے، بھارت کو پاکستان پر یہ آبی سبقت یوں ملی کہ پاکستانی دریاؤں کے ہیڈ ورکس مطلب ان کی چابیاں بھارت کے حوالے کرکے اسے اپاہج بنا دیا گیا تھا۔ یوں چاروناچار پاکستان 10سال تک بھارت سے پانی خریدتا رہا تاآنکہ1960 میں جنرل ایوب خان نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ کراچی میں سندھ طاس معاہدہ کیا۔یوں بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے 6 میں سے 3 دریا راوی،بیاس اور ستلج بھارت کو ملے تو اس نے انہیں مکمل ہی بند کر دیا جب کہ باقی ماندہ تین دریا سندھ،جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے لیکن ان سے بھی بھارت کو (بظاہر پانی روکے بغیر) زراعت و بجلی کی پیداوار وغیرہ کے لئے یہ پانی بھی استعمال کرنےکی اجازت دے دی گئی ۔ تمام ماہرین اس اس سندھ طاس معاہدہ کو اسی وجہ سے پاکستانی دریاؤں کی فروخت قرار دیتے ہیں جس نے پاکستان کے ہاتھ پاؤں مستقل ہی باندھ دئیے تھے۔

    اس معاہدے کا گارنٹر عالمی بینک تھا جب کہ معاہدے کے بدلے دس ملکی کنسورشیم نے پاکستان کو 1ارب 84 کروڑ ڈالر مہیا کرنے کا اعلان کیا جس سے پاکستان نے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا تعمیر کرنے اور وہاں سے نہریں نکال کر اپنے دیگر تین خشک دریاؤں میں پانی ڈالنا تھا ۔اس معاہدے سے ہم تین دریاؤں سے پکے پکے محروم ہوئے تو آج باقی ماندہ تینوں دریا بھی بھارتی رحم و کرم پر ہیں جہاں بڑے پیمانے پر ڈیم نہریں اور سرنگیں بنا بنا کر پانی روکا اور اس کا رخ بھی موڑا جا رہا ہے۔

    کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھی بھارت نے اول دن سے عمل درآمد نہیں اور عالمی بینک سارے قضیے سے لاتعلق ہے البتہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے آبی مذاکراتی شغل تماشے تب سے اب تک جاری ہیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر حالیہ مارچ کے پہلے عشرے میں بھارت کا ایک دس رکنی وفد پاکستان آکر تین دن ہمارا مفت میں وقت اور سرمایہ ضائع کرکے اور اپنی ہٹ دھرمی دکھا کر واپس جا چکا ہے۔۔۔۔۔

    ہمارے دریاؤں میں پانی کی مسلسل کمی سے ہمارے سمندر میں میٹھا پانی کم جا رہا تو سمندر ہمارے ساحلی علاقے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے کر ہڑپ رہا ہے، زرعی علاقے اجڑ رہے اور حال تک گندم برآمد کرنے والا ملک اناج منگوانے پر مجبور ہے۔

    پانی کاعالمی دن ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور تو کررہا ہے لیکن کون سوچے کون کچھ کرے؟ اور اگر کچھ کرنا ہے تو وہ ک ش میر کی آزادی ہے جو ہمارے پانیوں کو منبع اور اسی وجہ سے شہ رگ ہے۔

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔

  • پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ادھر روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں۔

    ماسکو میں امریکی سفیرکودفترخارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیاہ۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔اس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں۔اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادی میرپوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

  • چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    اسلام آباد : اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے موقع پر، جس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کی کلیدی تقریر کے ساتھ ایک تاریخی دورہ کیا۔ ایک خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا جس میں OIC میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر کہ چینی نظام نے غربت کے خاتمے سے لے کر گڈ گورننس تک اپنے لوگوں کے لیے کس طرح ڈیلیور کیا ہے۔ ‘فرینڈز آف سلک روڈ’ کے بینر تلے منعقد ہونے والا ویبنار جس کا موضوع تھا ‘

    ذرائع کے مطابق پورے عمل کی عوامی جمہوریت: چینی نظام کو سمجھنا’، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے افتتاحی کلمات کے ساتھ شروع ہوا۔ اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی، جس میں انہوں نے "تاریخی پہلے” کے طور پر او آئی سی میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا، جہاں مسلم دنیا میں چین کا داخلہ امریکہ کے اخراج کے ساتھ موافق ہے، جنوب مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے امریکی چھانٹی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے او آئی سی میں چین کو دعوت دی گئی، جو چین کے دیرینہ تعلقات اور مسلم دنیا کی حمایت کا اعتراف تھا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب قریبی تعاون کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ رشتہ جس نے 1974 میں لاہور میں پاکستان میں پہلی کامیاب OIC سربراہی کانفرنس کو قابل بنایا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں کہا کہ چین مسلم دنیا میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کردار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں میں تزویراتی تبدیلی، خاص طور پر سعودی معاشرے، معیشت، ثقافت میں کھلے پن اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی تعریف کی۔ ترکی سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان ایک ’’اسٹرٹیجک تکون‘‘ کے ابھرتے ہوئے دیکھا جو مسلم دنیا میں اتحاد، اقتصادی ترقی اور روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں تزویراتی تبدیلی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی روشن خیال قیادت کی وجہ سے ہوئی ہے اور اب سعودی عرب اور چین کے درمیان امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی RMB میں تیل فروخت کرنے پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ جبکہ 2022 کے موسم گرما میں صدر شی جن پنگ کا سعودی عرب کا دورہ کرنے کا امکان ہے اور سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

    چین میں جمہوریت کے معاملے کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے دو سروے کا حوالہ دیا جو امریکہ میں کرائے گئے تھے، ایک ہارورڈ یونیورسٹی نے جولائی 2020 میں اور دوسرا ایک امریکی عالمی پی آر کنسلٹنسی ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر کی طرف سے جنوری 2022 میں کیا گیا تھا۔ جس میں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ‘چینی حکومت پچھلی 2 دہائیوں کے دوران کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھی’، جو کہ چینی عوام میں ان کی حکومت سے 80 فیصد سے زیادہ اطمینان کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ عوام کے اس اعلیٰ اطمینان کی وجہ اچھی حکمرانی اور بہتر معیار زندگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نظام کی ساکھ کا ایک اہم جزو عوامی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہے، جو چین نے کی تھی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےچین میں 6 سال خدمات انجام دینے والے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین نے عالمی بہترین طرز عمل اپناتے ہوئے قانون پر مبنی ریاستی طرز حکمرانی کا اپنا ماڈل تیار کیا ہے جس میں جمہوریت خوشحالی اور مشاورتی عمل پر مشتمل ہے۔ . انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بدستور مقبول ہیں کیونکہ چینی عوام کی زندگیوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پر کتابیں لکھنے والے سلطان حالی نے عوام پر مبنی ترقی کے ذریعے چین کی غیر معمولی تبدیلی کا حوالہ دیا جس نے لاکھوں چینیوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے، خاص طور پر 800 ملین چینی لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ 3 دہائیوں سے زیادہ. انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام چین کے مطابق ہے

    کیتھ بینیٹ، جو لندن میں مقیم ‘فرینڈز آف سوشلسٹ چائنا’ کے شریک ایڈیٹر ہیں، نے کہا کہ چینی نظام ایک جامع، غیر مخالف جمہوری اخلاقیات کے ساتھ، ہزار سالہ چینی دانشمندی، ہم آہنگی اور اتفاق رائے پر مبنی ہے۔ چین میں کل وقتی سیاست دان نہیں ہے یہاں تک کہ صفائی کے کارکن اور بس ڈرائیور بھی پارلیمنٹ کے رکن بن سکتے ہیں۔

    ایک پاکستانی صحافی اور محقق محترمہ زون احمد خان، جو اب بیجنگ میں سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن میں ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور ان کی سماجی آزادی چین کی کامیابی کی کہانی کا ایک اہم جزو ہے جس نے چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اتنے کم وقت میں اتنا. انہوں نے سی پی سی کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی چین میں عام لوگوں کو ہیرو بناتی ہے’۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی سائنسدان اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رضا نعیم نے چینی سیاسی نظام کی مختلف جہتوں پر توجہ مرکوز کی، جس میں چین کے عوام کے لیے جمہوری جوابدہی اور ڈیلیوری کا مظاہرہ کیا گیا، خاص طور پر کورونا وائرس وبائی مرض کا تجربہ جہاں چین نے ‘ سب سے پہلے لوگ. انہوں نے چینی عوام کی لچک کو سراہتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں چین کے عروج سے تشکیل پائے گی۔

  • مریم کی ہدایت پرعظمیٰ بخاری کےیادگارالفاظ سونے  کےپانی سےلکھنےکےقابل:کردارکےغازی زندہ باد

    مریم کی ہدایت پرعظمیٰ بخاری کےیادگارالفاظ سونے کےپانی سےلکھنےکےقابل:کردارکےغازی زندہ باد

    لاہور:مریم نوازکی ہدایت پرعظمیٰ بخاری کے یادگارالفاظ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل:کردارکےغازی زندہ باد یہ ہیں وہ الفاظ جواس وقت سوشل میڈیا پرگھوم رہے ہیں ، یہ وہ الفاظ ہیں جو کہ معروف ویب ٹی ؤی چینل باغی ٹی وی کے پیجز کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں

    اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہونے جارہی ہے اور حکومت کے ارکان اسمبلی کے ضمیرخرید کران کو ہی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے حوالے سے ن لیگ اور پی پی دونوں مرکزی کردار ادار کررہی ہیں‌

    ن لیگ اور پی پی قیادت نے بڑی ہوشیاری سے پی ٹی آئی حکمران پارٹی کی صفوں میں پہلے انتشار کے ذریعے دراڑیں ڈالیں اور پھرایک ہی خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کےخلاف لڑا کران سے اپنے مفادات کے لیے ہمدردیاں خرید لیں اسی کوموجودہ دور میں‌ ضمیرفروشی کہتے ہیں

    اس ضمیر فروشی کے‌خلاف اہل ذی شعور ، پڑے لکھے پاکستانی اور قانون کے طالب علم سب ایک اخلاقی گراوٹ اور اس قوم کی ذلت سے تعبیر کررہےہیں لیکن ن لیگ اور پی پی اسے ضمیرفروشی نہیں کہتی بلکہ اس چیز کوہوا دے کر موقع سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہتی ہے

     

    ضمیر فروشوں اور نقب زنوں کا ٹولہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے، عظمی بخاری

     

    ن لیگ کیے دوہرے کردار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ ایسےتاریخی حقائق پڑے ہیں کہ جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ، اس وقت جب ملک میں‌سینیٹ کے الیکشن میں کچھ ایسے ہی ضمیر فروشی کے اشارے ملے تھے تو اس وقت ن لیگ کی طرف سے ضمیرفروشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور یہ مذمت نوازشریف ، مریم نواز کی ہدایت پر ترجمان عظمیٰ بخاری کے منہ سے کروائی گئی تھی

     

    نئے  پاکستان میں دو ہی چیزوں کی مانگ ہے ایک ضمیر فروش لوٹے دوسرا سہولت کار،عظمیٰ…

    عظمیٰ بخاری نے اس وقت اس ضمیر فروشی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ”ضمیر فروشوں اور نقب زنوں کا ٹولہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے”

     

     

    دوسرے موقع پر نوازشریف کی ہدایت پر بیان جاری کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے پھرتاریخی الفاظ کہے تھے جو کچھ اس طرح ہیں‌”نئے پاکستان میں دو ہی چیزوں کی مانگ ہے ایک ضمیر فروش لوٹے دوسرا سہولت کار”

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری نے فردوس عاشق کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ…

    اب یہی ن لیگ ، ن لیگ کے مفرورقائد نوازشریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اسی ضمیرفروشی کوسرفروشی قراردے رہیں اورسوشل میڈیا پرعوام مریم نواز اور ان کے والد نوازشریف کو کردارکے غازی قرار دے رہے ہیں