Baaghi TV

Author: +9251

  • او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع

    او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع

    اسلام آباد :او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے مہمانوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ 48 ویں او آئی سی وزرائےخارجہ کانفرنس کے لیے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، وفود اور مبصرین کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

     

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام کیلئےآپ کی آمدباعث فخرہے وزرائےخارجہ کانفرنس کا موضوع ’’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ ہے کانفرنس میں وسیع البنیاد موضوعات پر گفتگو ہو گی۔

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے مہمانان گرامی کے پاکستان آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری اسلام آباد پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر علامہ طاہر اشرفی نےمعزز مہمان کا استقبال کیا۔

    اسلام آباد ایئر پورٹ پر مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری اور علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کی، طاہراشرفی نے کہا کہ معزز مہمان او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئےتشریف لائے ،انہیں خوش آمدید کہتاہوں۔

    رواں سال اجلاس کا موضوع "اتحاد،انصاف اور ترقی کیلئےشراکت داری کی تعمیر کے تحت”منعقد کیاجارہاہے، 57ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے اس سےقبل47اجلاس ہوچکےہیں، پاکستان مسلم امہ کا اہم ترین ملک اور یواین میں مسلمان ممالک کی موثر آواز ہے۔

    ادھر ذرائع کےمطابق وزیراعظم عالم اسلام کے رہنماوں کی استقبال کےلیے تیارہیں اور ان کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہہ رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف اس اہم موقع پر دھمکیوں میں شدت آگئی ہے

  • اخترمینگل کی طرف سےعیشائیہ:اگرعدم اعتماد ناکام ہوگئی توپھرحکمت عملی کیا ہوگی؟مشاورت بھی کی گئی

    اخترمینگل کی طرف سےعیشائیہ:اگرعدم اعتماد ناکام ہوگئی توپھرحکمت عملی کیا ہوگی؟مشاورت بھی کی گئی

    اسلام آباد:اخترمینگل کی طرف سےعیشائیہ:اگرعدم اعتماد ناکام ہوگئی توپھرحکمت عملی کیا ہوگی؟مشاورت بھی کی گئی ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اخترمینگل کی طرف سے دیا گیا عیشائیہ سیاسی مشاورت میں تبدیل ہوگیا اورپھرعدم اعتماد کے حوالے سے اہم گفتگو بھی کی گئی ، یہ بھی بات سامنے آئی کہ اس دوران کہا کہ گیا کہ اگرحکومت عدم اعتماد میں کامیاب ہوگئی توپھراگلی صورتحال کیا ہوگی ،

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے اپوزیشن قیادت کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ عشائیے میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اپوزیشن لیڈرشپ نے شرکت کی۔

    اپوزیشن کے عشائیے میں حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اسامہ قادری اور حکومت اتحادی آزاد رکن اسلم بھوتانی بھی شریک ہوئے۔

    عشائیے میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اے این پی کے امیر حیدر خان ہوتی، نیشنل پارٹی کے میر کبیر بھی موجود تھے۔

    اختر مینگل کے عشائیے میں سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی، راجا پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی نے شرکت کی۔

    اپوزیش قیادت کے اس ڈنر میں اکرم خان درانی، مولانا اسعد محمود، کامران مرتضیٰ، شیری رحمان، نیئر بخاری، سعد رفیق سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

    عشائیے کے بعد مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی، شاہد خاقان عباسی، شیری رحمان ویگر روانہ ہوگئے۔

  • کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے:ن نہیں پی پی کاٹکٹ:موبلائزیشن شروع

    کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے:ن نہیں پی پی کاٹکٹ:موبلائزیشن شروع

    سندھ ہاوس:کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے،انتہائی بے بسی کےآثار،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے ارکان اسمبلی جن کوضمیرفروش کا نام بھی دیا جارہا ہے اس وقت اس عورت کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جس پرشک کی وجہ سے اس کے گھروالے موبائل بھی چھین لیتے ہیں‌، بالکل ایسی ہی کیفیت اس وقت ان ضمیرفروش ارکان اسمبلی کودرپیش ہے

    معتبرذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ارکان اسمبلی کے کردار پربھی ان لوگوں‌کو شک ہے جنہوں نے وفاداریاں خریدی ہیں اور وہ ان ارکان اسمبلی کو کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہے سوائے ان کے جو پہلے اجازت لیتے ہیں اور پھرجس سے بات کرنی ہواس کے نمبر کی ویری فکیشن کرتے ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ان ارکان اسمبلی کے موبائل فون سندھ ہاوس میں ایک اہم شخصیت کے پاس ہیں

    ادھر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہےکہ ان ارکان اسمبلی کو ان کے گھروالوں سے بھی رابطہ کرنے کے لیے پہلے تصدیق کروانا پڑتی ہے ، اس کےساتھ ساتھ اس جگہ ایسی ڈیوائسز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے جوہرآنے اور جانے والی کال کوریکارڈ کرتی ہیں اورپھریہ سارا ڈیٹا ذمہ داران تک شیئر کیا جاتا ہے

    ادھر سندھ ہاوس سے انتہائی ذمہ داران ذرئع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آصف علی زرداری پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ن لیگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام حربے استعمال کررہے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری کی طرف سے بڑی بڑی پیشکشیں بھی جاری ہیں اور کہا گیا کہ پی پی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں اور الیکشن کے اخراجات بھی پی پی قیادت پیش کرے گی

    اس سلسلے میں جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کےلیے وہ لوگ فرنٹ مین پر کام کررہےہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا

    ادھر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سندھ ہاوس میں موجود ارکان اسمبلی میں سےاکثروہ ہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں پی پی سے فائدہ لے کرووٹ پی پی سینیٹرز کو دیا ، ان کے فائدہ لینے کے ثبوت اور ویڈیوز بھی ان کے پاس ہیں اور وہ لوگ ان استمعال شدہ ممبران کو پرانے ثبوتوں کی وجہ سے بلیک میل کرکے اپنے کیمپ میں بٹھا رکھے ہیں

    ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 11 ارکان اسمبلی اگرعمران خان کے خلاف اعتماد کا ووٹ نہیں دیتے تو اگلے الیکشن میں یہ پی پی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیں گے ،

  • ضمیرفروش کوریلیف یاجڑسےغلط روش کاخاتمہ:قوم کامستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں چلاگیا

    ضمیرفروش کوریلیف یاجڑسےغلط روش کاخاتمہ:قوم کامستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں چلاگیا

    ضمیرفروش کو ریلیف یاجڑسےغلط روش کا خاتمہ:قوم کا مستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں’’آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ ریفرنس تیار ہوگیا ہے جو کل پیش کیا جائیگا۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نے ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلیے سپریم کورٹ ریفرنس تیار ہوگیا ہے جو کل عدالت عظمیٰ میں پیش کردیا جائے گا۔

    اسد عمر نے ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا ہے کہ انشا اللہ اس کیس سے پاکستان کی سیاست میں ضمیر بیچ کر لوٹا بننے کا گھناؤنا کاروبار ہمیشہ کیلیے ختم ہوجائے گا اور حرام کے پیسے کی سیاست میں اثر ورسوخ میں کمی آئیگی۔

     

     

    آرٹیکل 63A کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ ریفیرینس تیار ہو گیا. کل کورٹ میں پیش کیا جائے گا. انشاءاللہ اس کیس سے پاکستان کی سیاست میں ضمیر بیچ کر لوٹا بننے کا گھناؤنا کاروبار ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا، اور ہرام کے پیسے کی سیاست میں اثرو رسوخ میں کمی آئے گی

    واضح رہے کہ اس سے قبل بابر اعوان کی ہدایت پر ہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سمری وزارت پارلیمانی امور نے وزیر اعظم کو ارسال کی تھی، جو انہیں موصول بھی ہوگئی۔

    ریفرنس میں منحرف ارکان کے پارٹی مخالفت میں ووٹ ڈالنے پر رائے لی جائے گی، سپریم کورٹ سے رائے لی جائے گی کہ کیا ارکان پر آرٹیکل 63 اور 62 لاگو ہو سکتا ہے؟سپریم کورٹ سے پوچھا جائے گا کیا ہارس ٹریڈنگ پر ارکان تا حیات نا اہل ہو سکتے ہیں؟

     

    یاد رہےکہ اس سے پہلےپیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے اور کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا۔

     

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا اور آرٹیکل 63 اے صرف اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تاہم ان کا ووٹ پارلیمنٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کے نااہل کرنے تک ووٹ ڈالنے والا ممبر رہتا ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایک بڑا سنگین معاملہ سامنے آیا اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی اجلاس کو کو روک دیں گے تاہم پھر حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض کیا کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس 24 بندے موجود ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں ہیں جتنے بندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو سودے بازی ہورہی ہے، آپ پیسے پر بک جاو یا پھر الیکشن ٹکٹ پر ، کہلائی گی تو یہ سودے بازی ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ضمیرفروشی سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے

    واضح رہے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں جب کہ 63 اے کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    خارکیف : مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کی مغربی سرحدوں پر بیلا روس کی جانب سے حملہ کیا جاسکتا ہے۔

    یوکرینی صدروولودیمیرزیلینسکی کے دفترسے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مغربی علاقے وولین میں بیلا روس کی جانب سے حملے کے خطرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین کے شمالی، جنوبی اور مشرقی حصوں پرحملے کر رہا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ بات فوری طورپرواضح نہیں ہوسکی ہے کہ یوکرین کو مغربی سرحد پر روسی فوجوں سے حملے کا خطرہ ہے یا بیلا روس کی فوج سے۔

    بیلا روس روسی فوج، میزائلوں اور جہازوں کے لیے 24 فروری کے بعد اوراس سے قبل بھی بطوراسٹیجنگ پوسٹ خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ تاہم اس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں اپنی افواج کو صف آرا نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بیلا روس کی جانب سے روسی افواج کی مدد کا تاحال کوئی عوامی معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    روسی صدر الیگزیندرلیکا شینکو نے جمعرات کو اپنے بیان میں یوکرین کی جانب سے داغے گئے میزائل کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بیلا روس نے روس کی مدد سے یوکرینی سرحد کے نزدیک پری پیت کے مقام پر اس یوکرینی میزائل کا راستہ روک کراسے تباہ کردیا تھا۔

    ادھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے پیشِ نظر یوکرینی صدر وولوڈِمیر زیلنسکی سے ملنے کے لیے بالآخر تیار ہوگئے۔

    دونوں رہنماؤں کی جانب سے ان کی سفارتی ٹیمیوں نے 24 فروری کو تنازع شروع ہونے کے تھوڑا عرصہ بعد ہی امن مذاکرات شروع کر دیے تھے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نمائندہ لیزا ڈوسیٹ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کا اب ماننا ہے کہ ان کے اعلیٰ سفارت کار کمزور پڑے ہیں اور ان کو کسی موقع پر بذاتِ خود مذاکرات میں شرکت کرنی ہوگی۔

    ڈوسیٹ کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کار بات کر رہے ہیں، مذاکرات کرنے والے بات کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین پیشرفت کر رہے ہیں۔ صدر پیوٹن بالآخر اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملیں۔ زیلنسکی جنوری سے ایک ملاقات کی درخواست کر رہے تھے۔

  • ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    لاہور:ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے اور کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا اور آرٹیکل 63 اے صرف اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تاہم ان کا ووٹ پارلیمنٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کے نااہل کرنے تک ووٹ ڈالنے والا ممبر رہتا ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایک بڑا سنگین معاملہ سامنے آیا اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی اجلاس کو کو روک دیں گے تاہم پھر حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض کیا کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس 24 بندے موجود ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں ہیں جتنے بندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو سودے بازی ہورہی ہے، آپ پیسے پر بک جاو یا پھر الیکشن ٹکٹ پر ، کہلائی گی تو یہ سودے بازی ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ضمیرفروشی سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے

    واضح رہے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں جب کہ 63 اے کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • الحمدللہ’صحت مند اور زندہ ہوں‘، یاسمین راشد نے افواہوں کی تردید کردی

    الحمدللہ’صحت مند اور زندہ ہوں‘، یاسمین راشد نے افواہوں کی تردید کردی

    لاہور:الحمدللہ’صحت مند اور زندہ ہوں‘، یاسمین راشد نے افواہوں کی تردید کردی ،اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے حوالے سے سوشل میڈیا پر آنیوالی افواہوں کی تردید کردی۔

    سوشل میڈیا پر ڈاکٹر یاسمین کے انتقال کی جھوٹی خبریں زیر گردش تھیں تاہم اس کی انہوں نے خود ٹوئٹ کرکے تردید کی۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ میں فکر مند ہونے اور دعاؤں میں یاد کرنے پر شکر گزار ہوں، میں بالکل صحت مند اور زندہ ہوں۔

    یاد رہےکہ اس قسم کی منفی خبروں کے بعد یہ خبریں وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتقال کی خبریں من گھڑت ہیں، مکمل صحت مند اور تندرست ہوں، اپنے آفس میں کام کر رہی ہوں.

    دوسری طرف صوبائی وزیر صحت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا ہے کہ میں الحمد للہ بالکل ٹھیک اور زندہ ہوں۔

    انہوں نے لکھا کہ انتقال کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ میں فکر مند ہونے اور دعاؤں میں یاد کرنے پر شکر گزار ہوں، میں بالکل صحت مند اور زندہ ہوں۔

  • ہم بتائیں گےکہ احتساب کیا ہوتا ہے:جس طرح ہم نے ماضی میں‌ کیا:شاہد خاقان عباسی

    ہم بتائیں گےکہ احتساب کیا ہوتا ہے:جس طرح ہم نے ماضی میں‌ کیا:شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد:ہم بتائیں گےکہ احتساب کیا ہوتا ہے:جس طرح ہم نے ماضی میں‌ کیا:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ جلد دیکھیں گے کہ احتساب کا عمل کیا ہوتا ہے اور انکوجواب دینا پڑیگا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں‌ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جلد دیکھیں گے کہ احتساب کا عمل کیا ہوتا ہے اور انہیں جواب دینا پڑیگا، کونساادارہ ہے یا وزارت ہے ہر جگہ اربوں روپے کی کرپشن ہے، آج ایف آئی اے اور نیب خاموش ہے لیکن کل وزرا کو سب کا سامنا پڑیگا۔

    شاہد خاقان نے کہا کہ عدم اعتماد کو لٹکایا نہیں جاسکتا، ہمت ہوتی تو پہلےدن ہی اجلاس بلاتے، اسپیکرنے آئین توڑا ہے،1 دن میں اجلاس بلانا چاہیےتھا، لیکن وہ پہلےدن سے جانبداری کا مظاہرہ کر رہےہیں، جو آئین توڑیگا چاہے اسپیکر ہو، وزیراعظم ہو یا وزیر اسے آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں، جب وزیراعظم جلسوں پرآجائےتوسمجھ جاؤ کہ وہ جانے والا ہے، ہمت ہے تو میدان میں آؤ، یہ لوگ انہیں پرالزام لگارہےہیں جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا، عمران خان کو وہی لوگ نکالیں گے جنہوں نےمنتخب کیا تھا، حکومت کے اپنےارکان اوراتحادی ان سے تنگ ہیں اور اب اپنی جان ان سے چھڑانا چاہتے ہیں، فخرہےپورےعمل میں کوئی پیسےکا لین دین نہیں ہوا، کسی رکن نے وزارت مانگی نہ وعدہ کیا گیا۔

    شاہد خاقان نے مزید کہا کہ آپ گالیاں نکال کرلوگوں پر4 سال تک الزامات لگاتے رہے، لیکن ثابت ایک بھی نہ کرسکے، ابھی بھی عمران خان کے پاس 4 دن ہیں، الزامات ثابت کرکے دکھا دیں، آج ملک میں منی لانڈرنگ کی واضح مثال فارن فنڈنگ کیس ہے، پاکستان کی بدترین حکومت عمران خان نے ملک کو دی، ڈیویلپمنٹ کاایک کام 4سال میں شروع نہ ہوسکا، پاکستان کےعوام مشکلات میں ہیں، مشکلات آئیں گی لیکن ہم اس کامقابلہ کریں گے، عوام کیلئےعدم اعتماد کےعمل کو آگے لے جا رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی وجمہوری عمل آئین کےمطابق ہو، یہ بلوچستان عدم اعتماد نہیں جہاں ساڑھے 3 ارب خرچ ہوئے، یہ آزادکشمیر یا جی بی کا الیکشن نہیں جہاں اربوں لگا کر حکومت بنائی گئی،پی ٹی آئی کاالیکشن نہیں جہاں اربوں روپےلگاکرعہدےحاصل کئے گئے،یہ کےپی کا الیکشن نہیں جہاں پیسے بانٹنے کی ویڈیو موجود ہے، سینیٹ کا الیکشن نہیں جہاں لوگوں نے اربوں روپے دیکر ٹکٹ حاصل کیے، یہ تحریک عدم اعتماد ہے اور اس میں فتح آئین کی ہی ہوگی۔

  • تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:چوہدری نثار

    تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:چوہدری نثار

    راولپنڈی:تنگی کے بعد آسانی ہے:عمران خان آنے والی نسلوں کےلیے لڑرہاہے:بہت جلد آرہا ہوں:اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ چار سال سے اقتدار کا روزہ رکھا ہواہے اب لگ رہا ہے بہت جلد اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ روزہ کھولوں گا۔

    سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان 4 سال بعدبول پڑے۔ اپنے حلقےمیں جلسےسے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بڑے عہدوں کی جتنی آفر مجھے ہوتی ہےکسی کونہیں ہوتی لوگ تواقتدار کیلئے جوتیاں اتھانےکو تیار ہو جاتے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ چار سال سے اقتدار کا روزہ رکھا ہواہے اب لگ رہاہےبہت جلد اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ روزہ کھولوں گا۔

    سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حلقے کے عوام کو میرے لئے ووٹ مانگنے پر کبھی شرمندگی نہیں ہو گی میں نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا نہ مجھےکوئی دو نمبرکہےگا۔

    اس سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹویٹر اس سلسلے میں‌ چوہدری نثارپچھلے کئی دنوں سے اپنا خاص پیغام چھوڑ رہے ہیں‌، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان مشکل میں ضرور ہے لیکن اس مشکل کے بعد آسانی ہے

    چوہدری نثار نے اپے ایک اور پیغام میں کہا تھا کہ عمران خان کو ملک وقوم کی بڑی فکر ہے یہ ٹھیک ہے کہ مہنگائی وغیرہ کی وجہ سے عوام پریشان ہیں لیکن یہ حقیقت ہےکہ عوام یہ جانتے ہیں کہ عمران خان کرپٹ ٹولے سے اگرٹکرا رہا ہے توفقط ایک بہتر قومی مستقبل کےلیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ گلام دشمننان پاکستان کا ہے اور زبان پی ڈی ایم کی ہے لیکن یہ سب رسوا ہوکر رہیں گے

  • فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، حافظ حمداللہ

    فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، حافظ حمداللہ

    درگئی :فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، اطلاعات کے مطابق حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی تم کو مولافضل الرحمن فوبیا ہوچکا ہے۔

    درگئی جلسے سے عمران خان کی تقریر پر ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی کی تقریر اپوزیشن کو گالی دینے جھوٹے الزامات سے شروع ہوئی اورگالیوں پرختم ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران نیازی تم اپوزیشن کوچورچور کہتے رہے قوم کوبتاؤ چینی چور، آٹاچور، دوائی چور، پٹرول چور، اورایل این جی چور آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ عمران نیازی تم کو مولافضل الرحمن فوبیا ہوچکا ہے، یاد رکھو عمران خان آپ کی حکومت کا سیاسی جنازہ مولانا کے ہاتھوں سمندر برد ہوگا۔

    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل تم جس کو پنجاب کا ڈاکو، فاشسٹ اور چپڑاسی کہتے رہے اس کو ساتھ ملا کے حکومت بنائی، کل جب جہاز بھر بھر کے لاتے رہے تو باضمیر تھے اب جب منحرف ہوگئے تو بےضمیر ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف ،امربالمعروف،کی ترغیب دوسری طرف جھوٹے الزامات اور سیاسی قیادت کو گالیاں دینا، یہ امربالمنکر کا ارتکاب ہے اور ریاست مدینہ کی توہین ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آج کی تقریر میں عمران نیازی نے انڈیا کی خارجہ پالیسی کی تعریف اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کااعتراف کیا ، بحیثیت وزیراعظم ہندوستان کی تعریف کرنایہ پاکستان کی منہ پر طمانچہ ہے۔

    واضح رہے اس سے قبل درگئی میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ امید ہے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی اور عوام اس پارٹی کا ساتھ دیں گے جو پاکستان کے لئے کھڑی ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ایک طرف پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے 25 سال ڈاکوؤں کے خلاف جدوجہد کی۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ضمیر فروش اور لوٹے میں فرق ہوتا ہے، لوٹا اقتدار کی طرف جاتا ہے اور ضمیر فروش اپنا اور ملک کا سودا کرتا ہے، اس وقت یہ لوٹے نہیں ہورہے یہ اپنے ضمیر کا سودا کررہے ہیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے چوری کے پیسے سے ہمارے ارکان قومی اسمبلی کی قیمت لگائی ہے، سندھ ہاؤس میں پیسے دے کر جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہا ہے، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ضمیر فروشوں کو دیکھ رہی ہے، ساری قوم کے سامنے ضمیروں کا سودا ہورہا ہے اور اسے جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی فیصلہ کن وقت آتا ہے، وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرف کھڑا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیوٹرل ہونے کا نہیں کہا، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کے خلاف ہو۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے آصف زرداری کو 2 بار جیل میں ڈالا، پیپلز پارٹی نے نواز شریف پر چوری کے کیس بنائے، مولانا فضل الرحمان کو ڈیزل کا خطاب تو (ن) لیگ نے دیا تھا، مولانا فضل الرحمان پر نیب کا کیس تو مسلم لیگ (ن) کے دور میں بنا تھا، یہ ملک کے ساتھ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دشمن بھی نہیں کرسکتا۔

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پارٹی کا سربراہ باپ کی طرح ہوتا ہے، چھانگا مانگا اور مری کے دن چلے گئے، آپ کے پاکستان میں لوگوں کو شعور ہیں، آپ جتنا مرضی کہیں کہ میرا ضمیر جاگ گیا ہے، آپ جتنا بھی کہیں کہ عمران خان برا آدمی ہے لوگ آپ کی بات کو نہیں مانیں گے، وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے اپنا ضمیر بیچا ہے۔ آپ کے بچوں سے لوگ شادیاں نہیں کریں گے، آپ کی زندگی میں ذلت ہوگی، میرے جو ایم این ایز غلطی کر بیٹھے ہیں، میں آپ کو معاف کردوں گا واپس آجائیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لوگوں کا پیسہ چوری کرکے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ حکومت چلی جائے۔ اگر مجھے ضمیر کا سودا کرکے رشوت دینی ہے تو میں ایسی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں۔

    شہباز شریف اور نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ شہباز شریف مجھے تجویز دی ہے کہ آپ کو ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا، شہباز شریف کہتے ہیں کہ یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی، امریکا نے مجھ پوچھا تھا کہ افغانستان کے خلاف پاکستان اڈے دے گا، اس پر ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا۔

    شہباز شریف سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ بوٹ پالش بڑے اچھی طرح کرتے ہے، جب وہ کوئی گورا دیکھتے ہیں تو ان کے بھی بوٹ پالش شروع کردیتے ہیں لیکن میں کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا سے کہا ہے کہ امن میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنگ میں نہیں، کسی غیر ملکی سفیر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ملک کی خارجہ پالیسی پر عوام میں بات کرے، یورپی یونین کے سفیروں نے پروٹوکول کے خلاف بات کی، میں نے ان سے پوچھا کیا بھارت کے خلاف یہ بات کرو گے؟۔

    بھارت کو داد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے، وہ اپنے عوام کے لیے پالیسی بناتا ہے، آج بھارت امریکا کا بھی اتحادی ہے اور روس سے بھی تعلقات ہیں۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومت نے ساڑھے تین سال میں وہ کام نہیں کیے جو ہم نے کیے ہیں، اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی کہ ہر سال 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن منایا جائے گا۔