Baaghi TV

Author: +9251

  • سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ 4 روزہ دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں اور نائب وزراء حج عمرہ، سیاحت، سربراہ سعودی ایئرلائنز اور سعودی ایوی ایشن کے نمائندے بھی وفد میں شامل ہیں، نیواسلام آبادائیرپورٹ پرنگران وزیرمذہبی امور انیق احمد نےوفد کا استقبال کیا۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ڈاکٹر توفیق حرمین الشریفین کےانتظامی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں جبکہ سعودی وزیر حج وعمرہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے حج اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے تاہم ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ، نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی وزیر برائے حج و عمرہ اور ان کے وفد کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ریاست کے مہمان ہوں گے۔ان کے دورے میں حج اور عمرہ زائرین کو سہولتیں مہیّا کرنے اور طریق مکہ منصوبے کو پاکستان کے دیگر شہروں تک توسیع دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ سعودی وزیر کی قیادت میں سعودی محکمہ شہری ہوابازی، ایئر لائنز اور دیگر محکموں کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی پاکستان آرہا ہے اور ان کا دورہ مذہبی سیاحت، شہری ہوا بازی اور ایئرلائنز کے لیے تعاون بڑھانے کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ یادرہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں پاکستان اور چار دیگر ممالک میں طریق مکہ اقدام متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت عازمین حج کے روانگی کے ہوائی اڈوں پر حج ویزا، کسٹمز اور صحت کی ضروریات سے متعلق خدمات مہیا کی گئی تھیں۔اس طرح ان کی مملکت میں آمد پر وقت کی کافی بچت ہوئی تھی اور انھیں ہوائی اڈوں سے براہ راست ان کی جائے قیام ہوٹلوں میں پہنچایا گیا تھا۔ رواں سال اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر26 ہزار سے زیادہ پاکستانی عازمین حج نے اس منصوبے سے فائدہ اٹھایا۔

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ مستقبل میں حج انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی وزیر کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر بھی دست خط کیے جائیں گے۔نیز نئی مردم شماری کے تحت پاکستان کی آبادی کے مطابق حج کوٹا بڑھانے کی بھی بات کی جائے گی اور اگر وہ (سعودی وفد) راضی ہوجاتے ہیں تو نئی مردم شماری کی بنیاد پر پاکستان کا حج کوٹا دنیا میں سب سے زیادہ ہوگا۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ،نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ سعودی وفد حج، عمرہ اور مذہبی سیاحت سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان سے گذشتہ کئی سال سے عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے زائرین کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پاکستان حجاج کرام کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش  ملزم گرفتار

    جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش ملزم گرفتار

    راولپنڈی میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور جنرل ہیڈ کوارٹر پر حملے کے کیس میں نامزد ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی پولیس کے مطابق 9 مئی کے واقعات اور جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل 18 سجاد حیدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، ملزم 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملے کے بعد سے روپوش تھا ۔

    جبکہ پولیس نے بتایا ہے کہ حملے کا مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہے اور ملزم کو کیس کی تفتیش کیلئے تھانہ نیوٹاؤن منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ بھی نامزد مرکزی ملزمان میں شامل ہیں تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حسان نیازی جناح ہاوس حملہ کیس کے مرکزی ملزم ہیں انہیں ملٹری ٹرائل کے لئے فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ملزم کے وکیل فیض اللہ نیازی نے کہا کہ حسان نیازی کو عدالت نے اپنے پاس طلب کیا تھا، تھانہ سرور روڈ پولیس نے حسان نیازی کو ازخود گرفتار کرکے ملٹری عدالت کےسپرد کردیا ہے۔

    جبکہ گزشتہ دنوں چیئرمین پی ٹی آئی کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف اور بازیابی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے حسان نیازی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے جواب طلب کیا تھا۔

  • سپریم کورٹ صدر والے معاملے پر ازخود نوٹس لے. امیر جماعت اسلامی

    سپریم کورٹ صدر والے معاملے پر ازخود نوٹس لے. امیر جماعت اسلامی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کے معاملے پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کی استدعا کردی ہے جبکہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک میں ایک دن بھی حقیقی روح سے آئین نافذ نہیں ہوا ہے جبکہ اب ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے کیوں صدر بھی کہتے ہیں یہ دستخط میرے نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے الیکشن کا اعلان نہیں ہورہا، اور اب دستخط کا نیا تنازع بھی پیدا ہوگیا ہے لہذا سپریم کورٹ سے کہتے ہیں کہ کون فیصلہ کرے گا یہ ٹھیک ہے یاغلط، اس لئے بہتر ہے کہ سپریم کورٹ ہی دستخط کے معاملے پراز خود نوٹس لیکر فیصلہ کرے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل دوسوچوبیس کہتا ہے کہ نوے دن میں الیکشن ہونے چاہئیں لیکن الیکشن کمیشن ادھر ادھر کے آرٹیکل کا سہارا لے کر تاخیر کا اعلان کررہا ہے اور بہانے بازی کرنے کی کوشش کر رہا ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں نے نئی مردم شماری کے مطابق فوری ای سی پی کا اجلاس طلب کیوں نہیں کیا، سپریم کورٹ سے کہتے ہیں کہ اب کون فیصلہ کرے گا، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر عوام کو بتائے کیا دودھ ہے اور کیا پانی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    تاہم یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تو ان قوانین سے اختلاف کرتا ہوں، میں نے عملے کو بل واپس بھیجنے کا کہا تھا لیکن اس نے حکم عدولی کی۔

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل  قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

    احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

    تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

  • عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    تحریک انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ٹوئٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم خیال رہے کہ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل پردستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سےمتفق نہیں تھا۔

    ٹویٹر پیغام میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے، میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی اور حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر قومی و عدالتی سطح پر صدر مملکت کے مؤقف کی بھرپور تائید وحمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان تحریک انصاف کے مطابق قانونی مسوّدوں کی توثیق کے عمل پر صدر کا مؤقف غیر معمولی اقدامات کا متقاضی ہے، صدر مملکت نے ٹویٹ کے ذریعے ریاستی و حکومتی ڈھانچے کے مرض کی نشاندہی کی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صدر مملکت کے فیصلوں پر ان کی مرضی کے بغیر عملدرآمد روکنا غیرآئینی ہے، معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور تحقیقات کی استدعا کریں گے۔

  • دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری

    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری

    سینئر اداکارہ بشری انصاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کو مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہوں پر لیکر جائے. 76 سال اس ملک کو بنے ہوئے ہو گئے ہیں لیکن آج تک پاکستان ترقی اور خوشحالی کی طرف نہیں بڑھ سکا. انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کے لئے ہمارے آباﺅ اجداد نے جو قربانیاں دی ہیں وہ آج اپنے خون کا حق مانگ رہی ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم پاکستان کو دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کریں گے جن کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔

    انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ”ہمارے ساتھ بھارت آزاد ہوا تھا آج وہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے” اور ہم اندرونی لڑائی جھگڑوں میں‌پڑے ہوئے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم اگر آج بہت سارے ملکوں سے پیچھے ہیں تو اس میں‌ہماری اپنی غلطی اور کوتاہیاں ہیں ہم نے کبھی اس ملک کا سوچا ہی نہیں ہے، دعا ہے کہ جلد اس ملک کو کوئی مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے. ہم تو نہیں‌دیکھ سکے دعا ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک خوشحال ملک دیک سکے.

    تھیٹر کی اداکارائیں ملتان ، رحیم یار خان، لاہور اور فیصل آباد کے عاملوں اور …

    لیلی کی سینئر اداکارائوں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید

    میرا دوسرا شوہر بہت اچھا ہے عائشہ جہانزیب کی دکھ بھری داستان

  • آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان

    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان

    اداکارہ ریما خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں شادی سے پہلے بہت مصروف رہی میرا کیرئیر بلندیوں کے عروج پر رہا ، میرے پاس دن رات بے حد کام ہوتا تھا. یہی وجہ تھی کہ میں کچھ اور کر ہی نہیں سکی. مصروفیت کی وجہ سے میں کتابیں نہیں پڑھتی تھی ، لیکن جب میری شادی ہوئی تو میں نے کتابیں پڑھنا شروع کیں ، کتابی بینی کا شوق پیدا ہوا، آج میرے پاس کتابوں کا ایک زخیرہ ہے، کتابیں انسان کی دوست ہوتی ہیں، انہیں‌پڑھنے سے انسان کے پاس الفاظوں کا زخیرہ اکتھا ہوجاتا ہے اور وہ جہاں بھی جاتا ہے اچھے سے بات کرتا ہے اور ایسے بات کرتا ہے سننے والے اس سے متاثو ہوجاتے ہیں،

    انہوں نے کہا کہ” ہر کسی کو چاہیے کہ وہ کتاب بینی کو اپنا مشغلہ بنا لے” ، اپنے بچوں کو بھی کتاب بینی کی عادت ڈالنی چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں جس قسم کی زندگی بسر کررہی ہوں ، اس سے بہت مطمئن ہوں ، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے اتنا اچھا شوہر ملا جائیگا، میں ایک بہترین اذدواجی زندگی بسر کر رہی ہوں. یاد رہے کہ ریما خان اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں رہتی ہیں پاکستان انکا آنا جانا لگا رہتا ہے.

    تھیٹر کی اداکارائیں ملتان ، رحیم یار خان، لاہور اور فیصل آباد کے عاملوں اور …

    لیلی کی سینئر اداکارائوں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید

    میرا دوسرا شوہر بہت اچھا ہے عائشہ جہانزیب کی دکھ بھری داستان

  • پرائمری سکول کے نصاب میں‌تبدیلی کی جائے سائرہ نسیم کا مطالبہ

    پرائمری سکول کے نصاب میں‌تبدیلی کی جائے سائرہ نسیم کا مطالبہ

    معروف گلوکارہ سائرہ نسیم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پر زور دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی بے حد ضرورت ہے. حکومت کو چاہیے کہ پانچویں جماعت کے نصاب میں فوری اور اس قسم کی تبدیلیاں لائی جائیں کہ جس سے بچوں میں اپنی ثقافت اور حب الوطنی کا جذبہ ابھرے . انہوں نے کہا کہ ہم اپنی غفلت اور کوتاہیوں کی وجہ سے دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں لیکن اب بھی وقت ہے کہ ہم بیدار ہو کر اپنی درست سمت کا تعین کریں ۔

    انہوں نے کہا کہ ”آج کی نوجوان نسل کو مثبت رجحانات کی جانب گامزن کرنے کی ضرورت ہے ”۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا میکنزم بنائے کہ میٹرک اور ایف اے کے بعد طلبہ کو اپنی آنے والی زندگی کے سفر کی جانب گامزن ہونے میں مدد میسر آئے ۔ سائرہ نسیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تعلیم کا حصول ہر کسی کے آسان ہونا چاہیے، اگر تعلیم کا حصول ہی ممکن نہیں‌ہو گا تو پھر معاملات بہتری کی جانب جاتے دکھائی نہیں دیتے. ہیوی فیسوں کی ادائیگی کسی غریب کے لئے ممکن نہیں ہے لہذا غریب کے بچوں کو پڑھائی میں‌مدد کرنا حکومت اپنا اولین فرض جانے،

    تھیٹر کی اداکارائیں ملتان ، رحیم یار خان، لاہور اور فیصل آباد کے عاملوں اور …

    لیلی کی سینئر اداکارائوں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید

    میرا دوسرا شوہر بہت اچھا ہے عائشہ جہانزیب کی دکھ بھری داستان

  • الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے حقلہ بندیوں کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن مساوی آبادی پر مشتمل انتخابی حلقے تشکیل دے اور کسی اسمبلی کے حلقوں میں آبادی کا فرق دس فیصد سے زیادہ نہ بڑھنے پائے جبکہ فافن کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کی اشاعت کے بعد یکساں آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی تشکیل یقینی بنائی جائے۔

    واضح رہے کہ فافن کے اعلامیہ کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا۔ مساوی آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندیاں یقینی بنانے کیلئے اقدامات سے انتخابی عمل کو منصفانہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اجلاس کیا جس میں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا، نئی حلقہ بندیاں ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت کی جائیں گی جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہوا جس میں ممبران و سیکریٹری کمیشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی تھی۔

    جبکہ اجلاس میں آئینی و قانونی پیچیدگیوں پر غور کیا گیا، جبکہ لاء ونگ نے مذکورہ پیچیدگیوں پر بریفنگ دی، اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا، ساتھ ہی صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق حلقہ بندیاں 14 دسمبر کو مکمل ہوں گی اور 14 دسمبر کو ہی حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت کی جائےگی۔ الیکشن کمیشن نے پرانی حلقہ بندیوں کو منجمد کردیا ہے۔ جبکہ 21 اگست کوچاروں صوبوں اور اسلام آباد کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔