Baaghi TV

Author: +9251

  • بجلی مزید  مہنگی کرنے کا منصوبہ تیار

    بجلی مزید مہنگی کرنے کا منصوبہ تیار

    حکومت نے اگلے چار ماہ میں صارفین سے اضافی 122 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جبکہ حکومت نے اگلے چار ماہ میں صارفین سے اضافی 122 ارب روپے وصول کرنے کیلئے بجلی کی قیمتوں میں 4.37 روپے فی یونٹ مزید اضافے کا منصوبہ تیار کر لیا،صارفین پر رواں مالی سال کے دوران مجموعی اضافی بوجھ 721 ارب روپے ہو جائے گا۔

    قومی موقر نامے کے مطابق سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ اضافے کے علاوہ سرکلر ڈیٹ میں بھی 392 ارب روپے کا اضافہ ہوگا جو بجٹ سبسڈی کے ذریعے کم کیا جائے گا۔ 4.37 روپے فی یونٹ اضافے کا مقصد گردشی قرضے کو اس کی موجودہ 2.31 ٹریلین روپے کی سطح پر رکھنا ہے کیونکہ پاور ڈوین کو بجلی چوری اور دیگر نقصانات روکنے میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے جس کے باعث گزشتہ مالی سال 236 ارب روپے کا اضافی نقصان ہوا تھا۔

    نظر ثانی شدہ سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق جسے پاور ڈویعن نے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ بجلی قیمت میں مذکورہ اضافہ گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کی ایڈ جسٹمنٹ کی وجہ سے کیا گیا ہے جو ستمبر سے دسمبر 2023 تک صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ منصوبے میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کے گردشی قرضے میں 1.37 ٹریلین روپے کا اضافہ معمول کی کارروائی کا حصہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    یہ ایک ایسا سوراخ ہے جسے حکومت اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے 721 ارب روپے اور تقریباً 600 ارب روپے کی مالی معاونت سے بند کرنا چاہتی ہے۔ حکام نے پہلے ہی سہ ماہی اور سالانہ بنیاد پر بجلی ٹیرف میں اوسطاً 7 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے، جس سے صارفین سے 600 ارب روپے کی وصولی میں مدد ملے گی۔ تاہم نئے منصوبے میں جان دکھائی دیتی ہے، کیونکہ یہ روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ 286 روپے فی ڈالر اور کراچی انٹر بینک آفر 19.4 فیصد کے مفروضے پر بنایا گیا ہے۔

  • عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    تحریک انصاف کے سینئر وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے یا تو اس بل کو پاس کر دیں یا بغیر دستخط کیے واپس بھیج دیں۔ جبکہ شعیب شاہین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کہ صدر نے ٹویٹ سے واضح کیا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو واپس بھجوایا جائے، صدر مملکت کےا سٹاف نے انہیں بتایا بل واپس بھجوا دیئے گئے ہیں، صدر مملکت نے بل پر دستخط ہی نہیں کیے تھے، پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 75 کی رو سے یہ خلاف آئین ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے، صدر پاکستان نے اپنے ٹویٹ کےذریعے واضح کیا عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے،اس طرح قانونی طور پر ان دونوں بلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بل پاس کروانے یا واپس بھجوانے کا طریقہ آئین میں واضح ہے، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی مشاورت سے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے۔

    تاہم انکا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کی تصدیق کے بغیر بل پاس کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اصل سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہوتا ہے ، دوسری کاپی نہیں ہوتی۔ شعیب شاہین نے مزید کہا ہے کہ سائفر کوڈڈ شکل میں وزیراعظم، صدر اور آرمی چیف کو بھیجا جاتا ہے، اس کے بعد کیبنٹ کے پاس سائفر کو ڈی کلاسیفائیڈ کیا جاتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اس سائفر پر ڈی مارش کا حکم دیتی ہے۔

  • فردوس عاشق اعوان نے صدر عارف علوی کو غدار سلطنت قرار دے دیا

    فردوس عاشق اعوان نے صدر عارف علوی کو غدار سلطنت قرار دے دیا

    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ٹویٹ کے پیچھے چھپی سوچ چیخ کر کہہ رہی ہے صدر مملکت اب غدار سلطنت بن چکے ہیں۔ اور صدر عارف علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار و تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جبکہ ترجمان نے کہا کہ صدر کا عہدہ پاکستان کی سالمیت اور آئین کے تحفظ کے ساتھ وفاق کی مضبوطی اور مرکزیت کی علامات سمجھا جاتا ہے، صدر کے ٹویٹ سے دنیا بھر میں پاکستان کا انتہائی منفی پیغام گیا ہے کہ شاید پاکستان میں کوئی دستاویز محفوظ نہیں اور کوئی مراسلہ قابل اعتبار نہیں کہ اس پہ دستخط اصلی ہیں یا جعلی؟

    ترجمان استحکام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ صدر علوی کی اس عہدے کے منافی اور منصب کو داغدار کرنے والی ٹویٹ پر ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئے۔ ان کے ٹویٹ کے پیچھے چھپی سوچ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ”صدر مملکت اب غدار سلطنت بن چکے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ صدر پاکستان عارف علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعلان کیا کہ انہوں نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط ہی نہیں کیے، اور اپنے اسٹاف سے یہ بل واپس بھیجنے کا کہا تھا، لیکن عملے نے میری خواہش سے انحراف اور حکم عدولی کی۔

    صدر مملکت کی اس ٹوئٹ کے بعد سے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی کیے جانے پر زور دیا جارہا ہے۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • انجم پروین انجم کا یوم پیدائش

    انجم پروین انجم کا یوم پیدائش

    میرا محبوب آ کر چلا بھی گیا
    میں کھڑی تھی ڈگر دیکھتی رہ گئی

    انجم پروین انجم

    والد کا نام:اختر رانچوی
    تاریخ پیدائش : 20 اگست 1981ء
    تعلیم:میٹرک
    شوق: اردو کی خدمت و شاعری
    آغازِشاعری:1993ء
    شادی:1999ء
    شوہر: مجیب اللہ رضوی
    اولاد
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) جنید رضا(فرزند)
    ۔ (2)نوید رضا(فرزند)
    ۔ (3)زید رضا (فرزند)
    ۔ (4)رونق پروین (دختر)

    نعتِ پاک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مرے آقا بلا لیجے مدینہ مَیں بھی جاؤں گی
    کبھی پائی نہیں کوئی خوشی ، خوشیاں مناؤں گی
    سنی ہوں آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا
    عقیدہ ہے یہی اپنا مرادیں مَیں بھی پاؤں گی
    یہ میرا جِسم کھونٹی میں ، مدینہ میں ہے دِل اپنا
    کرم کر دیجیے آقا وہیں سے جگمگاؤں گی
    مری آنکھوں میں کعبہ ہے تو دِل میں گنبدِ خضریٰ
    درودوں کی ، سلاموں کی مَیں ڈالی لے کے آؤں گی
    یہ انجم کی نظر میں رات دِن طیبہ کی گلیاں ہیں
    اگر تقدیر لے جائے تو واپس مَیں نا آؤں گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رب کے دِلبر آپ ہیں آقا
    دین کے رہبر آپ ہیں آقا
    رب سے شفاعت آپ کریں گے
    شافعِ محشر آپ ہیں آقا
    آدم ، ثیث اور عیسیٰ موسیٰ
    سب کے پیمبر آپ ہیں آقا
    آپ کا ثانی ہے نہ سایہ
    نور کا پیکر آپ ہیں آقا
    آپ کے جیسا کوئی نہیں ہے
    بعدِ داور آپ ہیں آقا
    آنکھوں میں ہے گنبدِ خضریٰ
    دِل کے اندر آپ ہیں آقا
    انجم کی قِسمت چمکا دو
    آپ ہیں انور آپ ہیں آقا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ریت پر یہ نظر دیکھتی رہ گئی
    وہ مجھے مَیں شجر دیکھتی رہ گئی
    میرا محبوب آکر چلا بھی گیا
    مَیں کھڑی تھی ڈگر دیکھتی رہ گئی
    میرے ہاتھوں میں کِس کا یہ دِل آگیا
    مَیں دعا میں اثر دیکھتی رہ گئی
    ان کی یادوں نے دِل کھوکھلا کر دیا
    درد میں ڈوب کر دیکھتی رہ گئی
    تھیں زباں بند دونوں کی انجم مگر
    وہ اِدھر مَیں اُدھر دیکھتی رہ گئی

  • جاپان جی سی سی وزراء خارجہ  اجلاس میں شریک ہوگا

    جاپان جی سی سی وزراء خارجہ اجلاس میں شریک ہوگا

    جاپان ستمبر کے اوائل میں سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی تیاریاں کر رہا ہے جبکہ جاپان کیوڈو نیوز ایجنسی نے اتوار کے روز نامعلوم سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جاپان تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ مشرق اوسط سے توانائی کی پائیدار ترسیل کو یقینی بنایا جاسکے ، جہاں امریکا کا اثر و رسوخ کم ہورہا ہے جبکہ چین کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے۔

    علاوہ ازیں کیوڈو نے یہ اطلاع دی ہے کہ جاپان کے وزیر خارجہ یوشیماسا حیاشی اجلاس میں شرکت کریں گے اور وہ مصر اور اردن کا بھی دورہ کریں گے۔جاپان کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جی سی سی خطہ خلیج کے چھ ممالک پر مشتمل ہے۔اس کونسل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عُمان اور بحرین شامل ہیں۔

    جبکہ جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے جولائی میں مشرق اوسط کا دورہ کیا تھا اوراس موقع پرجاپان اور جی سی سی نے آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ کیوڈو کے مطابق توقع ہے کہ وزرائے خارجہ آزاد تجارتی معاہدے اور اگلی نسل کے توانائی کے ذرائع میں تکنیکی تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔نیز ایران کا جوہری پروگرام بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    ایندھن کے وسائل سے محروم جاپان اپنی ضروریات کے لیے توانائی کی درآمدات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ وہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔جاپان خام تیل کی 90 فی صد سے زیادہ درآمدات کے لیے مشرقِ اوسط پر انحصار کرتا ہے۔

  • واٹس ایپ کا نیا فیچر

    واٹس ایپ کا نیا فیچر

    میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر میسیج ایڈیٹنگ فیچر میں خاموشی سے بڑی اور زبردست تبدیلی کردی ہے جبکہ ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق صارفین اب میسیج کے ساتھ ساتھ میڈیا فائلز کے کیپشنز میں بھی ترمیم کرسکیں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یہ فیچر صرف ٹیکسٹ میسجز تک محدود تھا۔ اس نئے فیچر کے تحت صارفین میسیج بھیجنے کے 15 منٹ کے اندر ویڈیوز، GIFs اور ڈاکیومنٹس کے کیپشن کو ایڈٹ کر سکتے ہیں۔ اور واٹس ایپ میں میسج ترمیم کا یہ اضافہ صارفین کو غلطیوں کو دور کرنے اور اپنی گفتگو کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    واضح رہے کہ آئی او ایس صارفین اسے ایپل کے ایپ اسٹور اور اینڈرائیڈ صارفین گوگل پلے اسٹور سے واٹس ایپ کی نئی اپ ڈیٹ انسٹال کرکے اس فیچر کو حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم آنے والے دنوں میں مزید صارفین کے لیے ئیہ فیچر متعارف کرایا جائے گا جبکہ اس سے قبل جمعرات کو میٹا کے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے اعلان کیا تھا کہ واٹس ایپ صارفین اب ایچ ڈی کوالٹی میں تصاویر بھیج سکتے ہیں۔

  • جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    صوبائی نگران وزیراطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا۔ جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت ایک چرچ میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم کیا گیا۔

    نگران وزیراطلاعات عامر میر نے اس بارے میں بتایا کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا، متاثرہ 94 خاندانوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں 20 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں عامر میر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر متاثرہ دو چرچوں کی بحالی اگلے چند دنوں میں مکمل ہوجائے گی، دیگر متاثرہ چرچوں کی مرمت کا کام بھی جلد مکمل کیا جاے گا جبکہ نگران وزیراعلیٰ 48 گھنٹوں میں دوبارہ جڑانوالہ کا دورہ کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں، سازش کے پیچھے موجود اصل کرداروں کو جلد بے نقاب کیا جائے گا اور زیادتی کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے گا۔

  • صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے.  خرم دستگیر

    صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے. خرم دستگیر

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بل سے متعلق آئین بہت واضح ہے اور صدر بل کو کسی بھی وجوہات کے ساتھ واپس کریں گے، صدرمملکت کے پاس کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر نے رضا مندی دینی یا وجوہات کے ساتھ واپس کرنا ہے، صدر مملکت نے تیسرا آپشن ڈھوندنے کی کوشش کی ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت سی چیزوں کی بے توقیری ہوچکی ہے، عوام کے نمائندوں کا پاس کیا ہوا بل کوئی کاغذ کا ٹکرا نہیں ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ صدر نے پارلیمنٹ کو توقیر کرنا ہوتی ہے، اس معاملے پر آئینی اور قانونی ماہرین رائے دے سکتے ہیں، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ صدر بل بغیر ریمارکس کے واپس نہیں کرسکتے، صدر اگر بل سے متفق نہ تھے تو یہ ریمارکس ڈالنے چاہیے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ بل پر کوئی دستخط ضرور موجود تھا جس کی بنیاد پر قانون بنایا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سے دستخط تھے، بغیر دستخط کے قانون کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعجب کی بات ہے صدر کہتے ہیں میں نے دستخط نہیں کیا، لیکن یہ بل دستخط کے ساتھ پہنچ گیا اس میں اسٹاف کا کیا قصور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ صدر کہتے ہیں میرے دستخط نہیں تو اس کا ثبوت ہونا چاہیے، صدر کے دستخط کی تصدیق ہونی چاہیے، یہ ایکسپرٹ ہی کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ثابت ہو جاتا کہ دستخط جعلی ہے تو آگے قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، جب تک دستخط کے حوالے سے کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تو یہ قانون رہے گا۔

    قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے آرٹیکل 75 کے تقاضے پورے نہیں کیے، سب سے اہم بات یہ ہے صدر بغیر ریمارکس کے بل واپس نہیں بھیج سکتے۔ جبکہ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر نے پارٹی کے فائدے کے لیے یہ قدم اٹھایا، کسی نے صدر کو یہ غلط ایڈوائس دی، صدر نے اس ٹوئٹ سے اپنی پوزیشن کو متنازع بنایا ہے۔

  • سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے  ملاقات متوقع

    سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے ملاقات متوقع

    مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے اور وہاں قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے مشاورت کے لئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے جبکہ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی لندن طلب کیا ہے جو آئندہ دنوں میں پہنچیں گے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں قائدین کی ملاقات میں نواز شریف کی وطن واپسی سمیت دیگر ملکی سیاسی امور پرتبادلہ خیال کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں اتحادی جماعتوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف پرائیوٹ ائیر لائن کے ذریعےلندن چلے تھے شہباز شریف کی نواز شریف سے آج رات لندن میں ملاقات متوقع ہے۔ جبکہ اس سے قبل نجی ٹی وی نے فیملی ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اہل خانہ میں سلیمان شہباز بھی شامل ہیں، سابق وزیراعظم شہباز شریف براستہ قطر لندن روانہ ہوئے ہیں۔

    فیملی ذرائع نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو تصدیق کرائی ہے کہ سابق وزیراعظم ستمبرکے وسط تک برطانیہ میں قیام کرینگے۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شہبازشریف اپنے اوراہلیہ کےعلاج کیلئے لندن جارہے ہیں، شہباز شریف لندن میں اپنا پہلے سے شیڈول چیک اپ کرائیں گے، شہباز شریف لندن قیام کے دوران پارٹی کی معمول کی سیاسی سرگرمیاں بھی دیکھیں گے۔

    پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سینئر نائب صدر ن لیگ مریم نواز پارٹی کی سیاسی مہم جاری رکھیں گی، نوازشریف کی وطن واپسی کا فیصلہ شہباز شریف اور سینئرقیادت ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریگی۔ جبکہ نواز شریف کی وطن واپسی تک مریم نواز پارٹی کی انتخابی مہم چلائیں گی، ستمبر کے پہلے ہفتے میں ن لیگ کی سینئر رہنما بھی نواز شریف سے ملنے لندن روانہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، عطاتارڑ اور ایاز صادق کی لندن روانگی متوقع ہے۔