Baaghi TV

Author: +9251

  • الحمدللہ  :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    لاہور:الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ری بیسنگ کی وجہ سے معیشت کی بہترکی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کا سبب بنیں، معیشت کو 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے، بچت اتنی نہیں ہے جتنی سرمایہ کاری کیلئے چاہیے اور ٹیکس اتنا اکٹھا نہیں ہوتا جتنا اخراجات کیلئے چاہیے، اتنی برآمدات نہیں ہوتیں کہ درآمدات برداشت کرسکیں۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ جی ڈی پی شرح پہلے سے بہتر نہیں ، پچھلے 2 سال میں ٹیکس ریونیو میں بہتری نظر آئی ، ٹیکس ریونیو 3700 ارب سے بڑھ کر 6100 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

    اسد عمر نے مزید کہا کہ لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کیلئے کیش میں کاروبار کرتے ہیں، اگر یہ نظام فوراً تبدیل کیا تومعیشت منجمد ہوتی نظر آئےگی ، اس کا حل ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل کامرس سے نکل سکےگا ، وزارت خزانہ اوراسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کی وجہ بنی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017 تک گردشی قرضہ سالانہ 450 ارب روپےبڑھ رہاتھا جو ہم 130 ارب روپےسالانہ تک لائے، ٹرانسمیشن ٹی اینڈ ڈی لاسز پہلے سے کم ہو رہے ہیں، ایل این جی پرانحصار کم کر کے 2 سال میں 140 ارب روپے بچائے، گردشی قرضہ سال کے آخرمیں 300 ارب تک کم کرنےکاہدف ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجی شعبوں کی 06 -2005 کےبعد سرمایہ کاری نہیں دیکھی گئی، 6 ماہ میں 1 ہزار ارب روپے کے قرضے نجی شعبوں نے لیے، ایف بی آرمیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، بجٹ خسارہ سود کی ادائیگی اور پرائمری بیلنس پرمشتمل ہوتا ہے، پرائمری بیلنس رواں آمدن اوراخراجات پرمشتمل ہوتا ہے اور اس پر خسارہ پچھلے 15 سال میں کم ترین رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امپورٹس کاسیلاب آگیاتھا، ایکسپورٹس پرٹیکس لگایا ہوا تھا، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں کمٹمنٹس کیلئے گنجائش پیدا ہوتی ہے، کچھ چیزیں معاشی حجم کے لحاظ سےدیکھی جاتی ہیں اور پبلک پرائیویٹ منصوبوں کیلئےحکومتی ضمانت دی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے
    وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2020-21میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد حاصل کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی کامیابی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جارہا ہے ، عالمی جریدے بلوم برگ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان بڑھتی ہوئی شرح نمو کا تسلسل جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اس شرح نمو کی بدولت روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔

     

     

    اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نموملازمتوں کی تخلیق اور فی کس آمدن میں اضافے کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کامیاب رہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان اعلیٰ اقتصادی ترقی اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھے گا۔

    واضح رہے کہ تجارت اور زراعت میں اضافے کے باعث پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز ،مالی سال 2021ء میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد رہی۔
    معاشی اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 5اعشاریہ 37 فیصد رہی ہےجبکہ صنعت وزراعت میں 7اعشاریہ 8 فیصد گروتھ ہوئی۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیرحماد اظہر کاکہنا ہے کہ سابقہ حکومت ایکسپورٹس میں خاطرخواہ اضافہ نہ کرسکی، ہم نے تیسرے مالی سال اتنی گروتھ حاصل کرلی ہے۔ملکی معاشی گروتھ وسیع بنیاد پر ہوئی ہے، اگلے 10 سال میں نوکریاں پیدا کرنے کا تناسب اعلیٰ سطح پر ہوگا۔

  • شرمیلا فاروقی کے بے شرم عورت کہنے پر نادیہ خان کا بھی ردِعمل سامنے آگیا

    شرمیلا فاروقی کے بے شرم عورت کہنے پر نادیہ خان کا بھی ردِعمل سامنے آگیا

    کراچی : گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر نادیہ خان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں صبور علی کی شادی میں نادیہ خان شرمیلا فاروقی کی والدہ انیسہ فاروقی سے ان کے میک اپ کے بارے میں پوچھتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔اداکارہ نادیہ خان کی شرمیلا فاروقی کی والدہ کے ساتھ بنائی گئی وائرل ویڈیو پر شرمیلا فاروقی نے نادیہ خان کیخلاف شکایت درج کروادی ۔
    یہ تنازع انسٹاگرام پر نادیہ خان کی شرمیلا کی والدہ انیسہ کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد شروع ہوا تھا، یہ ویڈیو صبور علی کی شادی میں نادیہ نے ریکارڈ کی تھی جس میں وہ انیسہ کے میک اپ کی تعریف کر رہی تھیں اور ان سے پوچھ رہی تھی کہ انہوں نے یہ سب کرنا کہاں سے سیکھا، انیسہ نے معصومیت سے ان کے تمام سوالوں کا جواب دیا۔
    نادیہ کی طنزیہ تعریف کی یہ مختصرکلپ سوشل میڈیا پر خاصاوائرل ہوئی تھی، سوشل میڈیا صارفین ایک بزرگ خاتون کی توہین کرنے پر مشتعل ہو ئے اور پوسٹ پر تبصرہ کیا کہ نادیہ کا مقصد صرف انیسہ کے اسٹائل پر تنقید کرنا اور سوشل میڈیا پر توجہ مبذول کرنا ہے۔

    شرمیلا نے اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر ایک تصویر شیئر کی اور پیرو کاروں کو مطلع کیا کہ انہوں نے نادیہ خان کیخلاف شکایت درج کرائی ہے۔شرمیلا نے ہر اس شخص کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی۔اب اداکارہ نادیہ خان کا بھی اس پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر وضاحتی ویڈیو اپلوڈ کی جس میں کہا کہ شرمیلا کا انہیں بے شرم کہنا غلط تھا۔
    میں نے صرف ان کی ماں کا احترام کیا، اس کی تعریف کی اور کچھ غلط نہیں کہا۔شرمیلا کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے نادیہ نے کہاکہ اس تنازعہ کو گھسیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میں نے ویڈیو ڈیلیٹ کر دی ہے،اگر میں نے اس معاملے پر مزید کچھ کہا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں کہ شرمیلا فاروقی کی والدہ سے کیا پوچھتی؟ یہ پوچھتی کہ آپ کی بیٹی کے اکاؤنٹ کا بیلنس کیا ہے؟یا پھر آپ کا بیلنس اکاؤنٹ کیا ہے ؟ کیا میں ان سے اس طرح کی باتیں کرتی ؟میں نے شرمیلا سے وہ باتیں کیں جو انہیں خوش کر دیتیں۔
    جب ہم کسی کی شادی میں جاتے ہیں تو یہی سوال کرتے ہیں کہ جوڑا تنا پیارا پہنا ہے،آپ کا میک اپ کتنا اچھاہے ، کہاں سے کروایا ہے ؟آپ کس پارلر گئیں ؟اپ کا ہئیر اسٹائل کتنا اچھا ہے۔نادیہ خان نے کہا میں مجھے وہ خواتین بہت اچھی لگتی ہیں جو ہر عمر میں اپنا خیال کرتی ہیں ۔

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ معاشرے سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لیے قومی احتساب بیورو اپنی کثیر الجہت حکمت عملی کے ذریعے غیر متزلزل عزم کے ساتھ جہاں مسلسل کوشاں ہے وہاں اس کی کاوشوں کے قابل ذکر نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ نیب کا قیام بدعنوانی کے خاتمے اور کرپٹ عناصر سے لوٹی گئی دولت برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال نے بطور چیئرمین نیب اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد نہ صرف ایک جامع اور موثر انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی متعارف کرائی بلکہ مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے جن کے شاندار نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ آج ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسی نامور قومی اور بین الاقوامی ادارے نے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیب کی کوششوں کو سراہتے ہیں بلکہ گیلانی اور گیلپ سروے میں 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نہ صرف آج ایک فعال ادارہ ہے بلکہ نیب نے گزشتہ 4 سال سے زائد عرصہ کے دوران بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 539 ارب وصول کیے ہیں جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ نیب کو اپنے آغاز سے اب تک510729 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 498256 شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔ نیب نے 16307 شکایت کی تحقیقات کی منظوری دی ہے، جن میں سے15475 شکایت کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔

    نیب نے 10365 انکوائریوں کی منظوری دی جن میں سے 9299 انکوائریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے 4707 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی ہے جن میں سے 4377 انوسٹی گیشنز مکمل ہو چکی ہیں۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 822 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بر آمد کئے۔

    نیب نے اپنے قیام سے اب تک 3772 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کیے جن میں سے2508 ریفرنسز کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔اس وقت 1264 ریفرنس جن کی مالیت 1335.019 ارب روپے ہے مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ نیب کو سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین منتخب کیا گیا۔نیب نے چین کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے سی پیک کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    نیب نے کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم کا ایک نیا تصور متعارف کرایا ہے تاکہ سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانشمندی سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ٹھوس شواہد اور بیانات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ شہادتوں اور دستاویزی ثبوتوں کے علاوہ جدید ترین فرانزک سائنس لیب قائم کرنے کے علاوہ ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ تجزیہ کی سہولیات موجود ہیں۔ نیب کے یہ اقدامات اسکا معیار ہیں۔

    نیب نے مانیٹرنگ اینڈ ایولیویشن سسٹم کے ساتھ ساتھ ایک جامع کوانٹیفائیڈ گریڈنگ سسٹم بھی وضع کیا ہے تاکہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ نیب کی انفورسمنٹ اسٹریٹیجی کے مطابق نیب اپنے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 10ماہ کا وقت مقرر کیا۔ نیب نے اپنے تمام علاقائی بیوروز میں شواہد اکٹھے کرنے کے لئے سیل بھی قائم کیے ہیں۔ اس وجہ سے، نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق فاضل عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کر رہا ہے اور اس کا مجموعی سزا کا تناسب تقریبا 66 فیصد ہے۔

    چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے بلا امتیازاقدامات نے طاقتوروں کے خلاف نیب کا وقار کئی گنا بڑھا دیا ہے کیونکہ نیب کا مقصد کرپٹ عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے۔ نیب کے تمام افسران/اہلکاران انتہائی،لگن اور قانون کے مطابق بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔

    چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کا 40 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سیشن جج کوئٹہ سے اپنے کیریئر کاآغاز کرکے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دیئے۔ وہ انتہائی دیانتدار اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر سختی سے یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہر انسان کی عزت نفس پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نیب کے تام علاقائی بیوروزکو ہدایات جاری کر رکھی ہیں جس پر تمام علاقائی بیوروز میں من و عن عمل کیا جا رہاہے۔

    نیب قانون پر عمل کرتے ہوئے سب کااحتساب یقینی بناتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ پریقین رکھتی ہے۔ چیئرمین نیب کی قیادت میں گزشتہ 4سال سے زائد عرصہ کے دوران نیب کی شاندار کارکردگی کے نتائج آئے ہیں۔ ہمیں بدعنوانی کے سرطان کے خلاف جنگ میں اجتماعی کردار ادا کرنا ہو گا جو کہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمیں نسل نو کے لئے بہترین اور خوشحال پاکستان چھوڑنا چاہیے۔

  • پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ

    اسلام آباد:پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ کا کہناہے کہ پاکستان اور عراق کے درمیان سیاحت کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر لئے گئے ۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کے مطابق پاکستان و عراق نے 19 جنوری 2022 کو بغداد میں سیاحت کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ،

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ایم او یو پر عراق کے وزیر برائے ثقافت، سیاحت اور نوادرات اور جمہوریہ عراق میں پاکستان کے سفیر نے دستخط کیے جبکہ مفاہمت سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اور عراق کے درمیان عوام کے روابط مضبوط ہوں گے، پاکستانی زائرین کو عراق میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان عراقی فریق کے ساتھ بھی سرگرم عمل ہے اور پاکستان جمہوریہ عراق کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون کو نمایاں فروغ ملا جس میں گزشتہ سال متعدد وزارتی سطح کے دوروں کا تبادلہ ہوا، خاص طور پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دورہ، جس کا بدلہ وزیر خارجہ فواد حسین نے دیا۔

  • کہیں اسکول بند تو کہیں اسلام آباد کی کئی گلیاں سیل کرنے کا فیصلہ

    کہیں اسکول بند تو کہیں اسلام آباد کی کئی گلیاں سیل کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:کورونا کے وار تیز، اسلام آباد کی کئی گلیاں سیل کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد کل رات 12 بجے سے 24 گلیوں کو سیل کردیا جائے گا

    کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھنے پر اسلام آباد کے 21 تعلیمی ادارے پہلے ہی بند کردیے گئے ہیں تاہم اب انتظامیہ نے کل رات 12 بجے سے24 گلیوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف سیکٹرز کی 24 گلیوں کو سیل کردیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جن گلیوں کو سیل کیا جائے گا ان میں اسلام آباد سیکٹرجی6 فور کی گلی نمبر 52,56,59,79 اور 80 شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ سیکٹر ایف ٹین فور کی گلی نمبر 50،52 اور53 کو بھی سیل کیا جائے گا۔سیکٹرایف الیون ٹو کی گلی نمبر 21 23 اور 28، سیکٹرجی الیون ٹو کی گلی نمبر 15،21 اور 46 بھی بند کردی جائیں گی۔

    جب کہ سیکٹر ایف ایٹ ون کی گلی نمبر 31، 35،37،38،42،44 اور سیکٹرایف ایٹ تھری کی گلی نمبر5،6،10،11 اور 17 بھی اگلے حکم نامے تک سیل رہیں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق گلیوں کو سیل کرنے کا فیصلہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کےمطابق وفاقی دارالحکومت کورونا کیسز میں اضافے کے سبب مزید 12 تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور نئے کیسز رپورٹ ہونے پر مزید 12 تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گزشتہ دنوں بھی 9 تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر زعیم ضیا نے نے ڈپٹی کمشنر کے نام مراسلہ لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ 7 کالجز، 5 اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ماڈل اسکول فار بوائز جی ایٹ فور اور ماڈل اسکول فار گرلز آئی ٹین فور میں کورونا کیس رپورٹ ہوئے ہیں، ماڈل کالج فار بوائز ایچ نائن کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ ماڈل کالج فار بوائز آئی ایٹ تھری کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ماڈل کالج فار گرلز لوہی بھیر میں بھی کورونا کیسز رپورٹ ہوئے، ماڈل کالج فار گرلز ترلائی کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر زعیم ضیا کا کہنا ہے کہ ماڈل اسکول فار گرلز علی پور فراش، ماڈل کالج فار بوائز ایف ایٹ فور، ماڈل اسکول فار گرلز کورنگ ٹاؤن، ماڈل اسکول فار گرلز آئی ٹین فور، ماڈل اسکول فار بوائز ایف الیون ون، او پی ایف گرلز کالج ایف ایٹ ٹو کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی انتظامیہ متاثرہ تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند کرے، انتظامیہ متاثرہ تعلیمی اداروں کونٹیکٹ ٹریسنگ، ٹیسٹنگ کرے، انتظامیہ مثبت کیسز کے طلبا کے قریبی افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے۔

  • بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی

    بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی

    اوکاڑہ:بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کی نیندیں اڑا دیں ،اطلاعات ہیں کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کو ایک پیغام دے بھیجا ہے جس میں ان کو چیلنج کیا گیا ہے

     

     

     

    اوکاڑہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ27 فروری کو بلاول اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور ہم گھوٹکی سے کراچی کی طرف مارچ کریں گے، پیپلزپارٹی کی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ دیا اس کے خلاف پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں کراچی کی طرف مارچ کریں گی۔

     

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہمارا مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نہیں ہے بلکہ مہنگائی سے ہے۔

     

    قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا تھا کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے توہین عدالت کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی۔

    قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدلیہ آزادنہیں ہوگی توجمہوریت کا تحفظ نہیں ہوسکتا، تنقید برائے تنقید سے ملک میں مایوسی پھیلتی ہے، سال 2018 میں جب حکومت سنبھالی تومعیشت کی حالت بری تھی، اب معاشی صورتحال بہترہورہی ہےجس کےاثرات نظرآرہےہیں۔

     

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 100جتن کرلےہمیں ذرابھی گھبراہٹ نہیں ،خوب جانتاہوں ان کی صفوں میں کھلبلی کیوں ہے۔5فیصد گروتھ کی بات آتی ہےتواپوزیشن کوسانپ سونگھ جاتاہے، کوروناکےباوجودمعیشت 5.3فیصدکی شرح سےترقی کررہی ہے، اکانومسٹ اوربلوم برگ جیسےادارے ملکی معیشت کی بہتری کااعتراف کررہےہیں۔

     

    وزیر خارجہ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خارجہ پالیسی کی ڈائریکشن تبدیل ہورہی ہے۔ ہماراچیلنج اپوزیشن نہیں مہنگائی ہے۔شہبازشریف کےخدمت میں ایک خط لکھاہے،دوسرا خط بلاول صاحب کےنام بھیجا ہے۔ یوریاکھادکےذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

  • چھ ڈاکوؤں کی مبینہ اجتماعی زیادتی:تھانہ سٹی تاندلیانوالا نے ڈاکو گرفتار کر لئے

    چھ ڈاکوؤں کی مبینہ اجتماعی زیادتی:تھانہ سٹی تاندلیانوالا نے ڈاکو گرفتار کر لئے

    جڑانوالہ: چھ ڈاکوؤں کی مبینہ اجتماعی زیادتی:تھانہ سٹی تاندلیانوالا نے ڈاکو گرفتار کر لئے ،اطلاعات کے مطابق تاندلیانوالا میں دوران سفر خاتون کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی کرنے والے ڈاکوفیصل آباد پولیس نے گرفتار کرلیئے ہیں‌

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ سٹی تاندلیانوالا نے ڈاکو گرفتار کر لئے اور ملزمان نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے ، پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس واقعہ کاایک ملزم فیصل فتیانہ واردات کے بعد بیرون ملک فرار ہو گیا ۔

    یہ بھی یاد رہے کہ انسانیت سوز واقعہ گزشتہ سال 17 ستمبر کی رات گیارہ بجے پیش آیا ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اس متاثرہ خاتون کے خاوند ابرار کی مدعیت میں صرف ڈکیتی کا مقدمہ درج ہوا تھا

    پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایچ او نے صرف کار ، زیور ، موبائل فونز اور رقم لوٹنے کا ذکر کیا ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جڑانوالا کا رہائشی ابرار بیوی ، بچوں اور بھائی کے ساتھ کار پر جا رہا تھا

    پولیس کا کہنا ہے کہ چک 343 کے قریب سڑک پر ناکہ لگائے ڈاکوؤں نے گاڑی روک لی ، اس وقت سفید کار میں بٹھا کر آنکھوں پر پٹیاں اور رسیوں سے ہاتھ باندھ دیئے ۔ گڑھ میں ڈیرے پر ابرار ، تین کمسن بچوں ، بھائی کو الگ کمرے میں بند کیا ۔

    پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ ڈاکو رات بھر 25 سالہ خاتون کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ۔ علی الصبح ڈاکو متاثرہ خاندان کو شیرازہ پل کے نیچے چھوڑ گئے ۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی نشاندہی پر ڈیرے پر چھاپہ مار کر زیادتی کے پانچ ملزم پکڑے گئے ۔ گرفتار ڈاکوؤں نے درجنوں وارداتوں کا انکشاف کیا ، پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے

    دوسری طرف سٹی پولیس آفیسر غلام مبشر میکن کی متاثرہ خاندان کے گھر آمد ہوئی اور پھراس کے دوران غلام مبشر میکن نے متاثرہ خاتون سے حقائق دریافت کیے

  • معروف امریکی گلوکارمیٹ لوفرخاندان کے ہمراہ انتقال کرگئے

    معروف امریکی گلوکارمیٹ لوفرخاندان کے ہمراہ انتقال کرگئے

    مارون لی اڈے جو اپنا پہلا نام مائیکل اور اس کا اسٹیج کا نام میٹ لوف 27 ستمبر 1947 کو ڈلاس ، ٹیکساس میں پیدا ہوئے ، میٹ لوف جنہیں جہنم کے مشہور گلوکار کے طور پربھی یاد کیا جاتا ہے آج 74 سال کی عمر میں اپنی اہلیہ ڈیبورا اور بیٹیوں کے ساتھ انتقال کر گئے :-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹ لوف کو اس ہفتے ایک ریئلٹی ٹی وی شو کے لیے ایک بزنس ڈنر میں شرکت کرنا تھی جس میں وہ شامل تھا جس کا نام ‘میں محبت کے لیے کچھ بھی کروں گا… لیکن میں ایسا نہیں کروں گا’، جس کا نام اس کے گانے کے نام پر رکھا گیا ہے، لیکن اسے کورونا وائرس سے ‘شدید بیمار’ ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    ٹی ایم زیڈ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ‘COVID کے بارے میں واضح طور بتارہے تھے کہ وہ کورونا کا شکارہوگئے ہیں‌، حال ہی میں آسٹریلیا میں لوگوں کے ساتھ ویکسین کے مینڈیٹ کے بارے میں بات کر رہے ہیں’۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ گلوکار کو ٹیکہ لگایا گیا تھا یا نہیں۔

    جہنم کے مشہور گلوکارمیٹ لوف 74 سال کی عمر میں اپنی اہلیہ ڈیبورا اور بیٹیوں کے ساتھ انتقال کر گئے جب کہ اس کے اہل خانہ کی طرف سے کوئی وجہ یا دیگر تفصیلات نہیں بتائی گئیں، وہ کافی عرصے اپنی صحت کے حوالے سے خوفزدہ تھے۔ Meat Loaf نے اپنی مقبول ترین میوزیکل پیشکشوں میں سے بیٹ آؤٹ آف ہیل ٹرائیلوجی کے ساتھ چھ دہائیوں پر محیط ایک غیر معمولی کیریئر حاصل کیا۔

    ان کی کامیاب فلموں میں بیٹ آؤٹ آف ہیل کا قریباً دس منٹ کا ٹائٹل ٹریک، اسی البم سے پیراڈائز بائے دی ڈیش بورڈ لائٹ، اور 1993 کے البم بیٹ آؤٹ آف ہیل سے آئی ڈ ڈو اینیتھنگ فار لو (لیکن میں ایسا نہیں کروں گا) شامل ہیں۔ II: جہنم میں واپس۔ (لیکن میں ایسا نہیں کروں گا) سنگل 28 ممالک میں پہلے نمبر پر آگیا اور اسے ایوارڈ ملا۔ راکر نے 1975 کی میوزیکل فلم دی راکی ​​ہارر پکچر شو میں بھی ایڈی کا کردار ادا کیا تھا۔

    2016 میں انہیں سالانہ Q ایوارڈز میوزک تقریب میں ہیرو ایوارڈ سے نوازا گیا، جسے انہوں نے روزمرہ کے ہیروز کے لیے وقف کیا اور لوگوں سے ‘محبت کو اس دنیا میں واپس لانے’ کے لیے کہا۔ موسیقار نے 1999 کی فائٹ کلب اور 1992 کی وینز ورلڈ سمیت متعدد فلموں میں بھی کام کیا۔

    اس حوالے سے ان کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ میٹ لوفر نے موسیقی کی دنیا میں گراں قدرخدمات انجام دی تھیں جو یاد رکھی جائیں گی،

  • جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    اسلام آباد:جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی ,اطلاعات کے مطابق جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بن گئی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

     

    سپریم کورٹ کی خاتون جسٹس محترمہ عائشہ ملک کی حلف برداری کی تقریب پیر کو سپریم کورٹ میں ہوگی، چیف جسٹس گلزار احمد ان سے حلف لیں گے۔

     

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کے ان کیمرہ اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

    پارلیمانی کمیٹی کے ججز تقرری کے اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک نے کی تھی، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی سفارش کی تھی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 ستمبر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج نہ بن سکی تھیں، جسٹس عائشہ ملک ‏کی سپریم کورٹ ترقی پر وکلا نے احتجاج کیا تھا۔

     

    دسمبر 2021 کے آخر میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کے لیے ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ کی سینئر جج جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز کر دیا تھا۔

     

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 17 ججوں کی تعداد مقرر ہے، جسٹس مشیر عالم 17 اگست 2021 کو ریٹائر ہو گئے تھے، جس کے باعث ایک نشست خالی ہوئی تھی۔

    جسٹس عائشہ ملک کون ہیں؟
    لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس عائشہ ملک 1966 میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی تعلیم پاکستان سمیت دیگر ملکوں بشمول فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں حاصل کی۔
    قانون کی اعلیٰ تعلیم ایل ایل ایم امریکہ کے مشہور ترین ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی۔

     

     

    بحیثیت وکیل وہ ہائی کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، بینکنگ کورٹس، سپیشل ٹریبیونلز اور آربٹریشن کورٹس میں بے شمار کیسز لڑتی رہی ہیں۔

     

     

    جسٹس عائشہ ملک مئی 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر کی گئی تھیں۔ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں اور بطور ہائی کورٹ کے جج  ان کی ریٹائرمنٹ دو جون 2028 کو ہونا تھی

     

    مگر اب چونکہ وہ سپریم کورٹ کی جج بن گئی ہیں تو ان کی ریٹائرمنت 2031 کے بعد ہوگی