Baaghi TV

Author: +9251

  • اگرروس کی شرائط پرعمل نہ ہوا توپھر……..:روس نے یوکرین کے معاملے پر دھمکی دےدی

    اگرروس کی شرائط پرعمل نہ ہوا توپھر……..:روس نے یوکرین کے معاملے پر دھمکی دےدی

    ماسکو :اگرروس کی شرائط پرعمل نہ ہوا توپھر……..:روس نے یوکرین کے معاملے پر دھمکی دےدی،اطلاعات کے مطابق روس نے مشرقی یورپی ممالک میں امریکی زیر قیادت نیٹو فوجی اتحاد کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس اپنے پڑوسی ملک یوکرائن پر حملہ کرنے کی تاک میں ہے لیکن روس اس کی تردید کرتا ہے۔

    روس چاہتا ہے کہ نیٹو نہ صرف یوکرائن بلکہ دیگر مشرقی یورپی ممالک کی بھی نیٹو میں شمولیت کو مسترد کردے لیکن یہ شرائط امریکا کے لیے ’’نامناسب‘‘ ہیں۔

    امریکا سے براہ راست مذاکرات کے روسی مطالبے کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے میڈیا کو بتایا کہ امریکا کے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے بغیر یورپی سلامتی پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

    نیٹو جو سابق سوویت یونین کے ممکنہ خطرات سے یورپ کے دفاع کے لیے فوجی اتحاد کے طور پر قائم کیا گیا تھا، کی افواج بالٹک جمہوریاؤں اور پولینڈ میں موجود ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روس نے امریکا اور نیٹو کو دو معاہدوں کا مسودہ پیش کیا ہے کیونکہ روس اور نیٹو کے درمیان مکمل طور پر اعتماد کا فقدان ہے۔

    روس نے اپنی شرائط میں سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد نیٹو میں شامل ہونے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں فوج یا ہتھیار تعینات نہ کریں جہاں اُنہیں روس کے لیے خطرہ سمجھا جا سکے۔ بھاری بمباروں اور جنگی جہازوں کو ان کی قومی فضائی یا آبی حدود سے باہر کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں سے وہ حملہ کرسکتے ہیں۔

    اِن شرائط کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ نیٹو تین بالٹک جمہوریاؤں یا پولینڈ میں سے کسی میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گا اور اُسے یوکرائن اور جارجیا کو مغربی اتحاد میں شامل کرنے کا منصوبہ ترک کرنا پڑے گا لیکن نیٹو پہلے ہی کئی بار کہہ چکا ہے کہ روس کو یہ طے کرنے کا کوئی حق نہیں کہ کون اس کا رکن بنتا ہے اور کون نہیں۔

  • بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک :بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثر کرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ 89 ممالک کو متاثر کرچکا ہے جبکہ امی کرون کے کیسز ہر ڈیڑھ سے تین دن میں دوگنا ہورہے ہیں‌

    عالمی ادارہ صحت نے آج ہفتے کے دن بتایا کہ کورونا وائرس کے نئے تبدیل شدہ ویرینغ اومی کرون کی 89 ممالک ميں تصدیق ہو چکی ہے۔

    ادارے کے مطابق اومی کرون کےکیسزان ممالک ميں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں‌ جن ميں عوام کی بڑی اکثریت ویکسین لگوا چکی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہيں کہ آیا یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ویرینٹ ویکسینیشن کے باوجود لاحق ہو سکتا ہےیا محض اس ليے کہ یہ زیادہ مہلک ہے یا پھر اِن دونوں وجوہات کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

    طبی ماہرین نے اومی کرون وائرس کی ايک نئے ویریئنٹ کے طور پر باقاعدہ تصدیق چھبیس نومبر کو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فی الحال اس نئی تبديل شدہ قسم کے بارے ميں زيادہ معلومات دستیاب نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق جس تیزی سے اومیکرون کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اُس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اسپتالوں پر بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ی

    ادھرغیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 93ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • کراچی :کوئٹہ دھماکے: وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہارافسوس

    کراچی :کوئٹہ دھماکے: وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہارافسوس

    اسلام آباد:::کراچی :کوئٹہ دھماکے: وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہارافسوس ، ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں نے کراچی دھماکے میں ہلاکتوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ میری دلی دعائیں اور تعزیت کراچی کے شیر شاہ چوک پر ہونے والے دھماکوں کے متاثرین کے تمام خاندانوں کے ساتھ ہے۔

     

     

    اپنے ٹویٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے عالمگیر خان کے والد کے جاں بحق ہونے کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ عالمگیر خان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    اُدھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ‏ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فوری تفتیش کا آغاز کرکے دھماکے کی نوعیت اور سدباب کا تعین کیا جائے، دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کے فی الفور علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے۔

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی دھماکے میں ہلاکتوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں، واقعے کے محرکات کا پتہ چلایا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں، اللہ تعالی مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے شیرشاہ دھماکہ میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد سمیت دیگر قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا گو ہیں۔

  • حکومت کی 13سالہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دارآصف زرداری ہیں: مفتاح اسماعیل نے پیپلرپارٹی پرحملہ کردیا

    حکومت کی 13سالہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دارآصف زرداری ہیں: مفتاح اسماعیل نے پیپلرپارٹی پرحملہ کردیا

    حیدرآباد:حکومت کی 13سالہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار آصف زرداری ہیں: مفتاح اسماعیل نے حقیقت بتادی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی 13سالہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار آصف زرداری ہیں ، ان کو جواب دینا چاہئے

    پی پی دور حکومت پرتنقید کرتے ہوئے حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ دنیا جانتی ہے کہ عمران خان کا بنی گالا کا خرچ جہانگیر ترین اٹھاتے ہیں ، خان صاحب نے کبھی زندگی میں پیسے نہیں کمائے تو اتنے بڑے گھر میں کیسے رہتے ہیں۔

    مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ سندھ 65فیصد گیس پیدا کرتا ہے ، یہاں کے لوگوں کے پاس گیس نہیں ہے۔ سندھ کو اگر وسائل مل جائیں تو غربت ختم ہوسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی 13سالہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار آصف زرداری ہیں ، ان کو جواب دینا چاہئے ، ان کے دور حکومت میں سندھ میں نہ تو کارخانے لگے نہ ہی کاروبار کے مواقع فراہم کئے گئے، بیروزگاری آسمان کو پہنچ گئی، سندھ حکومت تمام وسائل اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

    ن لیگی رہنما مفتاح اسمٰعیل نے کہاکہ اب الیکشن آرہے ہیں تو ایم کیوایم بلدیات کی بات کررہی ہے ، پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ۔ پی ٹی آئی کی حکومت بھی ناکام ہوگئی ہے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا ، ان کے دور حکومت میں بجلی، گیس، تیل، کھاد اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں سینکڑوں فیصد اضافہ ہوگیا۔

    مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہمارے دو رمیں سی پیک کے اندر کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی اگر بدعنوانی ہوتی تو ہمارے دور کی سی پیک کی فائل عمران خان کی ٹیبل پر پڑی ہے وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑتے۔

  • سرگودھا : ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خان کی سرگودھا پریس کلب کے وفد سے ملاقات ۔

    سرگودھا : ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خان کی سرگودھا پریس کلب کے وفد سے ملاقات ۔

    سرگودھا ( ادریس نواز چدھڑ سے ) ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خان کی سرگودھا پریس کلب کے صدر، نائب صدر اور جنرل سیکرٹری سے ملاقات ۔

    تفصیلات کے مطابق :
    سرگودھا پولیس کاکام امن امان کا قیام ہے جبکہ میڈیا عوام میں شعور وآگاہی پیدا کرتا ہے ،ایک اچھا صحافی معاشرے میں پائے جانے والے نقائص پر نظررکھتا ہے اوران کی مناسب طریقے سے نشاندہی کرتا ہے پولیس اور میڈیا مل کر معاشرے کو پرامن بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا ڈاکٹررضوان احمد خان نے سرگودھا پریس کلب کےصدر عبدالحنان چوہدری ، جنرل سیکرٹری ملک محمد اصغر ، نائب صدر محمد عمران گورائیہ اور سینئر صحافی رانا ساجد اقبال سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر معمولی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مکمل قانونی کاروائی کی جائے تو بڑےجرائم کو روکا جاسکتا ہے۔گھریلو تشدد اور بچوں سے متعلق جرائم کی روک تھام کےلئے مربوط حکمت عملی واضح کی جارہی ہے ۔ جرم کی ہر اطلاع پر حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے گھر سے بھاگنےاور اغواء ہونے والی لڑکیوں کی بازیابی کےلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں ۔ تھانہ شاہ پورصدر کے علاقہ سے اغواء ہونے والی ثوبیہ کی بازیابی کےلئےہر زاویہ سے تفتیش کی جارہی ہے اس سلسلہ میں مدعی مقدمہ اور دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں ۔اس موقع پر صدر پریس کلب نے اپنے تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ پولیس کے ساتھ ملکرجرائم کی روک تھام کےلئے اورمعاشرے کے ہر فردتک امن کا پیغام پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار اداکریں گے۔ (ترجمان سرگودہا پولیس)

  • عمران خان کا کراچی پلان کامیاب ہوگیا

    عمران خان کا کراچی پلان کامیاب ہوگیا

    لاہور: وفاقی حکومت نے کراچی پلان کا ایک اور بڑا منصوبہ مکمل کر لیا:پی پی پریشان یہ کیا ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی پلان کا ایک اور بڑا منصوبہ مکمل کر لیا۔یہ پلان اس قدرمتاثرکُن ہے کہ کراچی کے عوام پی ٹی آئی اوراتحادی جماعت ایم کیوایم کے گُن گانے لگے

    دوسری طرف سندھ حکومت پریشان ہےکہ یہ منصوبہ کراچی کی عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا اورعوام اس کامیاب منصوبے پرعمران خان سے بہت متاثر ہیں

    ادھر اسی سلسلے میں اس بہت بڑے منصوبے کی تکمیل کی خوشخبری دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق کراچی پلان کا ایک اور منصوبہ مکمل کر لیا ہے، محمود آباد نالہ جو میلوں صرف کچرے کا ڈھیر تھا وہاں ساڑھے 3 ارب روپے کی لاگت سے پختہ ڈرین کی تعمیر، سیوریج کا نظام، 7.2 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔

    کراچی میں 4 کلومیٹر طویل محمود آباد نالے کو اصل شکل میں بحال کرنے کا کام مکمل ہوگیا۔ محمودآباد نالے کی تعمیر نو کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیرعلی زیدی، اسد عمر اور وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے شرکت کی۔

    وفاقی وزیر اسد عمر اور علی زیدی نے نالے کی تعمیر نو کا افتتاح کیا اور اس موقع پراسد عمر نے کہاکہ کے سی آرکا منصوبہ بھی اگلے سال مکمل ہوجائے گا۔

    علی زیدی کا کہنا تھاکہ سعید غنی اورہم سب میں اتفاق ہواتھاکہ اداروں کوشہری سطح پرلائیں گے، لوکل باڈیز بل ہم سے ہمارے اختیار لے رہا ہے۔

    سعید غنی کا کہنا تھاکہ خوشی ہورہی ہے، یہ میرا حلقہ ہے، کراچی میں جب بھی زیادہ بارش ہوئی اس نالے کے اطراف کے علاقےڈوب جاتےتھے، اس پراجیکٹ پر تجاوزات ہٹانا مشکل کام تھا لیکن پر امن طریقے سے ہٹائیں۔

     

     

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انشاءاللہ کراچی کے لئے اچھی خبروں کا سلسلہ جاری رہے گا، جو کہا تھا کر کے دکھا رہے ہیں۔

  • خود کو ایجنسی کا نماٸندہ ظاہر کرکے وارداتیں کرنیوالا گینگ گرفتار

    خود کو ایجنسی کا نماٸندہ ظاہر کرکے وارداتیں کرنیوالا گینگ گرفتار

    سرگودھا ( ادریس نواز چدھڑ سے ) خود کو ایجنسی کا نمائندہ ظاہر کرکے گھروں میں گھس کر وارداتیں کرنے والا بین الاضلاعی تین رکنی گینگ گرفتار، 20لاکھ روپے سے زائد کا مال مسروقہ برآمد .

    تفصیلات کے مطابق :
    سرگودھا میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرڈاکٹر رضوان احمد خان کی ہدایت پرسٹی ایریا میں بڑھتی ہوئی راہزنی کی وارداتوں کے پیش نظر ایس ڈی پی او سٹی سرکل محمد عثمان کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن عمیر حسن کو خصوصی ٹاسک دیا گیا جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دن رات محنت کرکے راہزنی ودیگر وارداتوں میں ملوث بین الاضلاعی ڈکیت گینگ کے سرغنہ شجاعت کو اسکے ساتھیوں یاسر اور فراز سمیت گرفتارکرلیا۔ گرفتارملزمان تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاوہ تھانہ کینٹ، تھانہ ساجد شہید سمیت ضلع روالپنڈی میں بھی متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ ملزمان کے قبضہ سے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن، ساجد شہید اور کینٹ کے13 مقدمات میں 20لاکھ روپے سے زائد کا ما ل مسروقہ برآمد کیا گیا ہے۔

    اس سلسلہ میں ایس ڈی پی اوسٹی سرکل محمد عثمان نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گرفتارملزمان پوش ایریا میں گھومتے پھر تے اورکھلادروازہ دیکھ کر گھر میں گھس کر اورخود کو کسی ایجنسی یا ایف بی آر کا اہلکار ظاہر کرکے واردات کرتے تھے۔ ڈی ایس پی سٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور سرگودھاپولیس اپنی اس ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات کوشاں ہے مزید گینگز کی گرفتاری پر کام جاری ہے جرائم پیشہ افراد کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دے جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرگودھا کو کرائم فری بنانا اولین ترجیح ہے اچھی کارکردگی پر ایس ایچ او تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن اور انکی ٹیم کو انعام وتعریفی سرٹیفکیٹ دینے کیلئے افسران بالا کو سفارش کی جائیگی۔(ترجمان سرگودھا پولیس)

  • شمالی وزیرستان، باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا  آپریشن، کمانڈر سمیت 3 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان، باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر سمیت 3 دہشتگرد ہلاک

    راولپنڈی:شمالی وزیرستان، باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر سمیت 3 دہشتگرد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں امن دشمنوں کیخلاف آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے کمانڈر سمیت 3 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں خفیہ معلومات پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران دہشتگرد کمانڈر غفور عرف جلیل مارا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد غفور عرف جلیل مولوی فقیر محمد کا قریبی ساتھی تھا، دہشتگرد غفور کئی دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث تھا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا۔

    دوسری طرف آئی ایس پی آر مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں کلیئرنس آپریشن کیا،اس دوران دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کو محمد خیل گاؤں سے ویزدہ سار کی جانب بھاگتے دیکھا گیا، فرار ہوتے دہشتگردی فائرنگ کے تبادلے میں دونوں ہلاک ہو گئے۔

  • کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    تھرپارکر :کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق پچھلے سالوں کی طرح ان دنوں پر سوشل میڈیا پر سندھ کی خوبصورت کارونجھر پہاڑیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے لیکن اس کا تذکرہ اس حسین پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔

     

    سندھ کی ان قیمتی پہاڑیون کو بچانے کےلیے پچھلی کئی دہائیوں سے آواز بلند ہوتی آرہی ہے ،پچھلے دو تین سال سے تو ہرآنے والے لمحہ اس قیمتی اثاثے کوچانے کے لیے آواز بن کرسامنے آرہا ہے ، 2019 میں بڑے زوروشور سے آوازیں بلند ہورہی تھیں‌کہ کانجھرو کی پہاڑیوں‌ کو کان کنی کے نام پر لوٹا جارہا ہے

    پھر یہی آواز 2020 کے آخری دنوں میں بلند ہوئی لیکن کسی نے کان تک نہیں دھرا اورپچھلے چند دنوں سے پھر کانجھروکی پہاڑیاں آواز دے رہی ہیں کہ مجھے بچا لیں‌ ورنہ بڑے بڑے مجھے کھا جائیں‌ گے

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور لوگ تھرپارکر کے علاقے میں واقع ان خوبصورت پہاڑیوں کو اپنی منافع خوری کا نشانہ بنا کر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

    کارونجھر کی پہاڑیاں قریباً 23 کلومیٹر طویل سلسلے کا حصہ ہیں اور ان کی چوٹی کی اونچائی 305 میٹر تک ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو ہزار سالہ تہذیب کے ارتقا کا حاصل ہے

     

    سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر قرار دیا تھا جبکہ سندھی زبان کی شاعری میں کارونجھر پہاڑی کا ذکر کئی مقامات پر کیا گیا۔کارونجھر اس لیے بھی اہم ہےکہ یہاں پہاڑ، رن کچھ اور ریت والے تھر کا سنگم ہوتا ہے۔

    اس کےعلاوہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر سے تھا،جنھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔

    کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھروں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ ہے، جو ویسے تو لال نظر آتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔

    یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

     

    کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خالاف نگر پارکر میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔پچھلے چند سالوں سے جاری قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔

    سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ، رن کچھھ کے شمالی کنارے پر23 کلومیٹر پر پھیلا ہوا اور 307 میٹر لمبا پہاڑی سلسلہ موجود ہے ، جسے کارونجھر کہا جاتا ہے۔ ضلعہ تھر پارکر میں ان پہاڑیوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ وجود نہیں رکھتا۔

    کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر گرینائٹ کے پتھروں پر مشتمل ہے۔

    یہ پہاڑی سلسلہ پورے تھر ریگستان سے الگ ہے ، اس سلسلے کی پہاڑیاں مشرق کی طرف بڑہتی جاتی ہیں۔
    ساون کے موسم میں کارونجھر کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں، معمول سے زیادہ سیاح امڈ آتے ہیں اور مقامی معیشت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

    ساون کے موسم میں جب بارشیں پڑتی ہیں تب کارونجھر سے بارش کا پانی پہاڑ سے نہروں کی شکل میں بہتا ہے ۔ ان نہروں کی تعداد بیس ہے۔ ان نہروں کا پانی کارونجھر ڈیم میں اکھٹا ہوتا ہے۔ اسی پانی سے ، کارونجھر کی چھاؤ میں واقع ننگر پارکر شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

    ان نہروں کے نام کچھ یوں ہیں” بھٹیانی ، ماؤ ، گوردڑو ، راناسر، سکھ پور ، گھٹیانی ، مدن واہ ، موندرو ، بھوڈے سر ، لول رائی ، دراہ ، پران واہ وغیرہ ہیں۔

    یہاں کے مقامی لوگ کارونجھر کی معاشی اہمیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ” کارونجھر روزانہ ایک سو کلو سونا پئدا کرتا ہے”۔
    کارونجھر کی پہاڑیوں پر زیادہ تر کیکر ، چندن اور نیم کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    اس پہاڑی سلسلہ میں چنکارا ہرن ، گیدڑ اور نیل گائے جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو پورے تھر میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
    سلسلہ کارونجھر کی غاریں بہت گہری ہیں ، ان غاروں کے اندر ہندو مذھب کی مورتیاں اور کئی اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کنگ کوبرا بھی شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ کئی اقسام کی بوٹیوں کا بھی مسکن ہے۔

    کارونجھر مقدس مذہبی آستانوں کا بھی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں اسلام، ہندومت اور جین مت مذاہب کے مقدس آستانے ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

    اس کے علاوہ ہندو مت کے مقدس ترین قدیمی مندر ساڑدھڑو دھام، انچل ایشور یعنی ایشور کا آنچل، تروٹ جو تھلو، پرانہ آدھی گام، گئو مکھی جیسے آستانے بھی کارونجھر پہاڑی میں واقعے ہیں۔

    یہاں پر ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ساردھڑو بھی ہے ۔ ساردھڑو یہاں کی مقامی ہندو کمیونٹی میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں جن میں ، بھوڈے سر کی مسجد بھی شامل ہے ، جس کو سلطان محمود بیگڑی نے بنوایا تھا۔

    کارونجھر کا ذکر کئی سندھی اور گجراتی شاعروں نے کیا ہے۔

    یہاں کی مقامی لوک داستان ، سڈونت سارنگا اور ہوتھل پری ، جام اوڈھو میں بھی کثرت سے کارونجھر کا ذکر ملتا ہے۔

    کارونجھر جبل محض پہاڑیاں نہیں بلکہ یہ قیمتی معدنیات کا وہ خزانہ ہیں جو سندھ کے ضلع تھرپارکرکے علاقے نگرپارکر کے جنوب مغرب میں پھیلی  ہوئی ہیں ، ان کی قدرتی ساخت اور تراش خراش بہت منفرد اورانتہائی خوبصورت  ہے ۔ سولہ میل تک پھیلے کوہ کارونجھر کو کینرو بھی کہا جاتا ہے۔

    یہاں قدیم آستانوں کے  ساتھ خوب صورت  قدرتی جھرنے بھی بہتے  ہیں، بارش کے بعد یہ جھرنے  بھرپور روانی کے ساتھ ان قیمتی پتھروں کے درمیان سے بہہ نکلتے ہیں پتھروں کی ان سنہری اونچی نیچی چوٹیوں میں اس قیمتی گرینائٹ کا خزانہ پوشیدہ ہے جس کی قیمت اور مالیت کا تعین انصاف پسندی سے کیا جائے تو پورے سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔

    گرینائٹ کی مائننگ پر نہ صرف سندھ واسی سراپا احتجاج ہیں بلکہ سماجی حلقوں میں بھی اس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ماحولیات محبت کا کہنا ہے یہ تھر کا صحرا نہیں بلکہ گلستان ہے اگر اس کی توڑ پھوڑ اسی طرح جاری رہی تو پھر اس قدرتی ورثے کو کون دیکھنےآئے گا ۔

    سرمائی ، سنہرے دلکش رنگ  پتھروں کی یہ کہکشاں تھریوں کے لیے جذباتی وابستگی کی حامل ہے شاید اسی لیے وہ اس کا کٹاؤ اور اس کی توڑ پھوڑ کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے ، کجا کو وہ کسی اورکو اس کی توڑ پھوڑ اور ترسیل کی اجازت دیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کوہ کارونجھر سندھ کا سونا ہے اور کوئی ہمارے سونے کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم سندھ کے  سونے کا کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے ۔ تھریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کارونجھر پہاڑ کو کاٹنا ایسا ہے جیسے کسی ماں کے بیٹے کو قتل کردیا جائے ۔

    لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کسی بھی  زمین  کے معدنی وسائل اس کے باسیوں کی  ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ان سے محبت ضرور کی جائے لیکن اگر ان پہاڑیوں کی ڈرلنگ اور مائننگ سے تھر واسیوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو پھر اس معاملے کو سرکاری اور عوامی سطح پر خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی تجارت کے براہ راست فوائد سندھ کے باسیوں تک بھی پہنچ سکیں  ۔

  • افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں: آرمی چیف

    افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےانڈونیشین وزیرخارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے انڈونیشیا کی وزیرخارجہ نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تعاون کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغانستان سمیت خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی معاملات میں انڈونیشیا کے کردار کی قدر کرتا ہے، اسلام آباد اور جکارتہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ افغانستان کی بحرانی کیفیت ہنگامی ادارہ جاتی میکانزم کی تشکیل کی متقاضی ہے، افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں، افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

     

     

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان اور پاکستان کیلئے جرمنی کے خصوصی نمائندے جیسپر وئیک نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان میں امدادی کاموں کے لئے تعاون اور شراکت داری کے امور بھی زیر غور آئے۔

    جرمن خصوصی نمائندے نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار، بالخصوص بارڈر مینجمنٹ اور خطے میں استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔