Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہور میں تیری میری کہانیاں کی پرائیویٹ سکریننگ

    لاہور میں تیری میری کہانیاں کی پرائیویٹ سکریننگ

    عید الاضحی کے موقع پر ریلیز ہونے والی فلم تیری میری کہانیاں کی لاہور میں گزشتہ روز پرائیویٹ سکریننگ کروائی گئی، یہ بنیادی طور پر فرینڈز اینڈ فیملی شو تھا جس میں‌فیملیز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. پرائیویٹ سکریننگ میں‌ جن سٹارز نے شرکت کی اس میں وہاج علی ، مایا علی ، لکھاری خلیل الرحمان قمر ، بلال لاشاری ، عمارہ حکمت ، عثمان پیرزادہ ، نادیہ جمیل ، حمزہ علی عباسی نے خصوصی طور پر شرکت کی. تیری میری کہانیاں میں فلم 123 واں کے لکھاری ہیں خلیل الرحمان قمر اور اس فلم کے ہیرو ہیروئین ہیں مہوش حیات اور وہاج علی .

    وہاج علی کراچی میں‌ہونے والے فلم کے پریمئیر میں‌کام کی مصروفیات کے باعث شرکت نہیں‌کر سکے تھے جس کے باعث لاہور میں پرائیویٹ سکریننگ کا اہتمام کیا گیا. ”اس موقع پر وہاج علی کے پرستار کافی پرجوش دکھائی دے رہے تھے. ”تیری میری کہانیاں کو شائقین کی طرف سے کافی اچھا ریسپانس مل رہا ہے. تیری میری کہانیاں کی صورت میں‌پاکستانی سینما پر جو تجربہ کیا گیا ہے اسکو پذیرائی تو مل رہی ہے باقی مزید آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ پرڈیوسرز اس تجربے کو دہرانا چاہتے ہیں یا نہیں.

     

    جب زیادہ دماغ لگا کر فیصلہ کریں تو غلط ہوجاتا ہے سرگن مہتا

    سوتیلی بہن کی پیدائش پر شہروز کی بیٹی نورے کا ری ایکشن کیا تھا

    ماہرہ کے کام کے ایتھکس نہیں پسند نادیہ افگن

  • بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں پاک فوج کے میجر ثاقب حسین اورنائیک باقرعلی شہید

    بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں پاک فوج کے میجر ثاقب حسین اورنائیک باقرعلی شہید

    ڈیرہ اسماعیل خان؛ سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں تین دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے امن دشمنوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، اس دوران سکیورٹی فورسز اور امن دشمنوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے جبکہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بھی برآمد ہوا۔
    ISPR
    بیان کے مطابق مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز، پولیس اور معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں سرگرم رہے۔ ہلاک دہشت گردوں 11 اپریل 2022 ءکو کلاچی میں پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں کی شہادت ہوئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    ISPR
    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے میں دیسی ساختہ بم نصب کرنے کے علاوہ سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ایک گروپ کی نقل و حرکت کے حوالے سے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن شروع کیا گیا جبکہ فرار ہونے کے راستوں کو خاردار تارون اور رکاوٹوں سے بند کیا گیا ناکہ اس دوران دہشت گردوں کی ایک جماعت نے گشت کے دوران گھات لگا کر حملہ کرنے کی کوشش کی اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔


    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں قوم کے دو بہادر بیٹے جن میں میجر ثاقب حسین اور نائیک باقر علی نے جام شہادت نوش کی جبکہ دوسرا سپاہی زخمی ہوگیا جسے طبعی امداد فراہم کی جارہی ہے. اعلامیہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس کے علاوہ نتیجے کے طور پر، علاقے میں حملہ کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے فالو اپ آپریشن جاری ہے۔

    بلوچستان کا امن اور اسکی ترقی و خوشحالی ہمارے لیے سب سے مقدم ہے۔وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع شیرانی اور کیچ میں میجر ثاقب حسین سمیت چھ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر مجھ سمیت پوری قوم رنجیدہ ہے۔ شہداء کا مقدس خون قوم پر قرض ہے۔ قوم کے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کی ہی بدولت پاکستان کی امن و سلامتی ممکن ہے۔ ہماری افواج کے جری جوان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف آہنی دیوار ہیں۔ ایسی تمام کوششیں جو بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں ان کے حوالے سے ہمارا قومی عزم غیر متزلزل ہے۔ بلوچستان کا امن اور اسکی ترقی و خوشحالی ہمارے لیے سب سے مقدم ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نےبلوچستان کے علاقے بلور میں شہادت پانے والے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا،شرجیل انعام میمن کی جانب سے میجر ثاقب حسین اور نائک باقر علی کے ورثاء کے ساتھ تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا گیا

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہبلوچستان کے علاقے ہوشاب میں میجر ثاقب حسین اور نائیک باقر علی دہشتگردوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ دو اور زندگیاں وطن کی حفاظت کی خاطر قربان ہو گئیں۔ پاک فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے۔ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    چیرپرسن قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ محترمہ سائرہ بانو نے شیرانی میں ایف سی چیک پوسٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، سائرہ بانو نے حملے میں شہید اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی و تعزیت کی اور کہا کہ شہید ایف سی اہلکاروں کے سوگوار خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،ان بزدلانہ حملوں کے پیچھے دہشتگردوں کے مقاصد امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے، ان حملوں سے ہمارے قانون نافذ کرنے والوں کے حوصلے اور ارداہ پست نہیں ہونگے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے،

  • لاہور؛ ساڑھے 4 سالہ بچہ اغوا کرلیا گیا، ویڈیو سامنے آگئی

    لاہور؛ ساڑھے 4 سالہ بچہ اغوا کرلیا گیا، ویڈیو سامنے آگئی

    لاہور میں نامعلوم خاتون نے ساڑھے 4 سالہ بچہ اغوا کرلیا، جس کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آگئی ہے جبکہ لاہور کے علاقے جنوبی چھاونی میں پیش آیا جہاں ساڑھے چار سالہ محمد یوسف کو نامعلوم خاتون نے اغوا کرلیا، واقعے کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ اغوا کار خاتون کو نقاب اوڑھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔


    اغوا کی واردات کی کلوز سرکٹ فوٹیج میں نامعلوم خاتون کو 2:30 بجے بچے کو لیجاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مغوی یوسف کی والدہ کی کچھ عرصہ قبل طلاق ہوچکی تھی۔ بچے کی والدہ نے اپنا ویڈیو بیان میں پولیس کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلی حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فرانس میں 17 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد فسادات میں اضافہ
    عامر خان نے ماڈل سمیرا سے رابطے اور تصاویر کے تبادلے کا اعتراف کرلیا

    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    ایس پی کینٹ انوسٹی گیشن کے مطابق بچہ آخری بار ماموں کے ساتھ باہر گیا تھا، جس پر بچے کے ماموں سمیت 2 افراد کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ واقعہ کا مقدمہ درج کرکے سی سی ٹی وی اور دیگر پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

  • فرانس میں 17 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد فسادات میں اضافہ

    فرانس میں 17 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد فسادات میں اضافہ

    فرانس میں 17 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد ہونے والے فسادات بڑھتے جارہے ہیں، اور مبینہ طور پر مظاہرین نے میئر پیرس کے گھر پر حملہ کرکے اہلخانہ کو زخمی کیا اور گھر کو نذر آتش کردیا، جب کہ مقتول کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے عینی شاہد کا آڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے۔ فرانس میں 17 سالہ نوجوان نائیل کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پانچویں روز بھی احتجاج جاری ہے، فرانس کی سڑکیں پانچویں دن بھی میدان جنگ بنی رہیں، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

    نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے پیرس کے میئر کے گھر پر حملہ کردیا اور گھر سے گاڑی ٹکرادی، جس سے مئیر کے اہل خانہ زخمی ہوئے۔ میئر پیرس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گھر کو بھی آگ لگائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرس کے جنوب مضافاتی علاقے میں واقع میئر پیرس 39 سالہ ونسنٹ جینبرون کے گھر پر جب حملہ کیا گیا تو وہ ٹاؤن ہال میں موجود تھے، جب کہ ان کی اہلیہ میلانیا اور بچے گھر میں سو رہے تھے۔

    حکام کے مطابق حملہ آوروں نے اپنی گاڑی میئر پیرس کے گھر سے ٹکرائی تاہم عمارت کی ایک مضبوط دیوار نے گاڑی کو روک دیا، جس پر مظاہرین نے اپنی گاڑی کو آگ لگا دی۔ میئر پیرس جینبرون نے وزیراعظم ایلزبٹھ بورن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیوی اور 5 اور 7 سال کی عمر کے دو بچوں نے جب گھر کے صحن بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں جلاؤ گھیراؤ کا نشانہ بنایا گیا، میری اہلیہ کی 3 ماہ قبل ہی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی سرجری ہوئی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران 200 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، پولیس کی جانب سے گرفتار افراد کی تعداد 2000 سے زائد ہوچکی ہے، جب کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے 45 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ جبکہ دوسری جانب مقتول نائیل کی نانی نے لوگوں سے پر امن رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کے دکانیں، بسیں اور اسکول تباہ ہوں، مظاہرین کا غم و غصہ فرانسیسی پولیس پر نہیں بلکہ اس افسر پہ ہے جس نے نائیل کا قتل کیا، میں پر امید ہوں کہ میرے نواسے کو انصاف ضرور ملے گا۔

    مقتول نائیل کے ساتھ واقعے کے وقت گاڑی میں موجود اس کے دوست کی آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں اس نے بتایا کہ ہم نے مرسڈیز کار کرائے پر لی اور ڈرایو پر جانے کا فیصلہ کیا، ہم کسی شراب یا منشیات کے نشے کی حالت میں نہیں تھے، واقعے کی جگہ ہم پولیس کو دیکھ کر ہم رک گے۔ آڈیو کے مطابق پولیس نے کہا گاڑی کا انجن بند کرو ورنہ گولی مار دوں گا- دوسرے پولیس افسر نے کہا ’اسے گولی مار دو“ پھر پولیس نے اپنی بندوق کے بٹ سے نائیل کو مارا، ہم آٹومیٹک گاڑی میں تھے اور گاڑی اس وقت پارکنگ میں نہیں تھی۔ مبینہ دوست نے آڈیو میں بتایا کہ پولیس نے نائیل کو پے دو پے بندوق کے بٹ مارے، اور جب نائیل کو بندوق کے بٹ سے تیسری بار مارا گیا تو اس کے پاؤں نے بریک پیڈل چھوڑ دیا اور گاڑی آگے بڑھ گی، دوسرا افسر جو ونڈ اسکرین پر کھڑا تھا اس نے گولی چلا دی، میں ڈر گیا تھا اور اس لیے گاڑی سے اتر کر بھاگ گیا، مجھے لگا وہ مجھے بھی گولی مار دیں گے-

  • ارنسٹ ہیمنگوے کا یوم وفات

    ارنسٹ ہیمنگوے کا یوم وفات

    ارنسٹ ہیمنگوے21جولائی1899ء کو شکاگو کے مضافات اوک پارک میں پیدا ہوئے ،ان کے والد گریس ہال ہیمنگوے ایک دیہاتی ڈاکٹر تھے۔ وہ ارنسٹ ہیمنگوے کی پیدائش پر اتنا خوش ہوا کہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر بگل بجا کر اعلان کیا کہ اس کی بیوی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ -ہیمنگوے کو شکار اور مچھلی پکڑنے کا شوق تھا۔ جنگلوں میں جا کر کیمپ لگانا اور خطرناک جانوروں کو دیکھنا اس کا مشغلہ تھا۔ اس کے باپ کا ولوں (Walloon) جھیل کے پاس ایک گھر تھا۔ ارنسٹ زیادہ وقت وہیں گزارتا۔ دور دراز گنجان جنگلوں میں جا کر رہنا اسے بہت پسند تھا۔ فطرت کے اس قُرب نے اس کی تحریروں میں بڑی جگہ پائی ہے۔ سکول کے زمانے میں اس نے سکول کے میگزین اور اخبار کو سنبھالا۔ یہ تجربہ اس کے بہت کام آیا۔ جب وہ سکول سے گریجوایشن کرکے فارغ ہوا تو اسے کنساس کے ایک اخبار” کینساس سٹی اسٹار” میں رپورٹر کی ملازمت مل گئی۔ یہ نوکری اسے اپنے چچا کے توسط سے ملی جو چیف ایڈیٹر کا دوست تھا، ان کا خیال تھا کہ جس طرح مارک ٹوین، سٹیفن کرین ناول نگار بننے سے پہلے صحافی تھے۔ ارنسٹ کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے یہاں صرف چھ ماہ نوکری کی مگر یہاں اس نے اچھی نثر لکھنے کے سنہری اصول سیکھے –
    1926ء میں ارنسٹ ہیمنگوے کا پہلا ناولThe Sun Also Rises چھپا۔ یہ ناول ارنسٹ کو مقبولیت دلوانے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ ناول کی کہانی ہیروجیک بارنس کے اردگرد گھومتی ہے، جسے جنگ نے بہت بڑا زخم دیا ہے اور وہ زخم ہے اس کی مردانہ صلاحیت سے محرومی۔ اسے نہ نیند آتی ہے، نہ چین، بس روتا رہتا ہے۔ اسے سماج اور سوسائٹی کی ہر چیز سے نفرت ہو چکی ہے۔ وہ پیرس جا کر ایک ایسے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی ساری سرگرمیاں بے مقصد ہیں۔ ان میں ہر شخص جنگ کا زخم خوردہ ہے -اسی سبب ایذرا پاؤنڈ اور اس کے ہم خیال ادیبوں نے اس تحریک اور رویے کو ” گمشدہ نسل” (Lost Generation) کا نام دیا تھا۔ -ہیمنگوے کے ناول’’ اے فیئر ویل ٹو آرمز‘‘ کا ترجمہ’’ و داع جنگ‘‘ کے نام سے اُردو میں ہو چکا ہے اور اسکی متعدد کہانیاں بھی اردو میں ڈھل چکی ہیں۔ سمندر اور بوڑھا (The old man and the sea) ہیمنگوئے کا وہ شہر ہ آفاق ناول ہے جو اس نے کیوبا میں 1951 میں لکھا ۔ یہ ناول ایک بوڑھے مچھیرے کی کہانی ہے جو کافی دن مچھلی پکڑنے میں ناکام رہتاہے۔ کبھی کاسانتیاگو چیمپئن اب لوگوں کی نظر میں بس ’’ سلاؤ‘‘ بن کے رہ گیا ،جو بدقسمتی کی بدترین مثال ہے۔
    ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی کتاب’ ڈیتھ ان دی آفٹرنون‘ میں بُل یا بھینسےسے مقابلہ کرنے والے کو آرٹسٹ یا فنکار قرار دیا تھا۔ سپین میں جنرل فرانکو کے آمرانہ دور میں بل فائٹنگ کو قومی یک جہتی کے لئے بھی فروغ دیا گیا تھا۔ اُسی دور میں اِس کی مقبولیت کے قومی سطح پر بڑے بڑے پلان بنائے گئے تھے۔
    حتیٰ کہ اس کے واحد شاگرد کے ماں باپ بھی اپنے لڑکے کو اسے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ اور پھر وہ دن بھی آتاہے جب سانتیاگو سمندر اور اس کی تمام تر ہولناکیوں سے بھڑ جاتاہے۔ ۔یقیناً آپ اس خوبصورت ناول کوپڑھتے ہوئے اس کی ہرسطر کا خوب مزہ لیں گے۔ یہ وہ آخری اہم ترین ادبی تخلیق تھی جو ہیمنگوئے کی زندگی میں ہی شائع ہوئی۔ناول کی کہانی انسان کے عزم و ہمت کی داستان ہے۔ وداع جنگ کی اشاعت کے بعد دس برس تک اس کا کوئی اہم تخلیقی کام نہیں آسکا۔ ایک عشرے پر محیط اس تخلیقی بنجر پن کے دور کے بعد جب اس کا ناول Across the river and into the trees شائع ہوا تو نقادوں نے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کتاب میں ہیمنگوئے نے دوسری جنگ عظیم میں اخباری نمائندہ کے طور پر حاصل ہونے والے تجربات کو اس انداز میں جس طرح کہ اس نے جنگ اول اور اسپین کی خانہ جنگی سے حاصل ہونے والے تجربات کو ناول کی صورت میں کامیابی سے ڈھالا تھا اس کو ناکامی ہوئی۔ بوڑھا اور سمندر کو عدیم النظیر پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1953 میں اسے اسی ناول کی بنیاد پر اسے Pulitzer priz جبکہ اگلے برس ادب کے نوبیل انعام سے نوازا ،ایک انقلابی تھا، ایک روشن خیال ترقی پسند شخص تھا ،اس کا تذکرہ نہیں کیا۔وہ قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کارجعت پسند امریکی نہ تھا، اس نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جہاں سے ان کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی۔
    امریکہ دوسری جنگ عظیم میں آٹھ دسمبر 1941ء کو شریک ہوا۔ ہیمنگوئے اس جنگ کی کوریج کے لیے کویر میگزین کی طرف سے یورپ گیا۔ جنگ کے بعد ہیمنگوئے’’The garden of eden‘‘لکھنے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کا یہ تصنیفی منصوبہ برسوں بعد نہایت مختصر شکل میں 1986ء میں شائع ہوا۔ ایک موقع پر نہایت ہی مختصر شکل میں 1986ء میں شائع۔ ہسپانوی سول جنگ کی نارتھ امریکن نیوز پیپرز الائنس کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے وہ 1937ء میں سپین گیا، اس جنگ نے اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہیمنگوئے جو اپنی بیوی پالیون سے شادی کے وقت کیتھولک ہوچکا تھا اب مذہب کے بارے میں تشکک کا شکار ہوا اور چرچ سے باغی ہو گیا۔ اس کی بیوی کیھتولک ازم کی پرجوش حامی تھی اس لیے وہ فرانکو کی فاشٹ حکومت کی حمایت کر رہی تھی اس کے برخلاف ہیمنگوئے ری پبلیکن حکومت کی حمایت کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس نے’’The Denunciation‘‘ لکھا جس کا چرچا بہت کم ہی ہوا اس کی اشاعت بھی 1969ء میں ممکن ہوئی جب اس کو ہیمنگوئے کی کہانیوں کے مجموعے میں شامل کیا گیا۔
    ’’ اولڈ مین اینڈ دے سی‘‘ میں ناول لکھا، جس کی بنیاد پر اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس ناول کو شاہد حمید نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ہیمنگوےایک طرف تو مسیحی اخلاقیات سے متاثر تھے ان کےمزاج میں ایک انقلابی چھپا ہوا تھا۔ ، ایک روشن خیال ترقی پسند اور روشن خیال شخص تھے ۔ انہیں قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کا رجعت پسند امریکی نہیں کہا جاسکتا ۔ ، مگر ہیمگوے کا روایت پسند مذہبی رجحان ان کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے ۔ انھوں نے نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جن میں ژان پال سارتر اور کئی ادبا انکے ساتھ شریک تھے۔ جہاں سے اس کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی اور ’’ اولڈ مین اینڈ دی سی‘‘ میں ناول لکھا، اس ناول اور ” بوڑھا اور سمندر ” پر اسے ۱۹۵۴ میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی عادات کے کے متلعق بھی لکھا ہے۔ ’’میں ہر صبح لکھتا ہوں۔‘‘۔ 1959ء میں جب وہ کیوبا میں مقیم تھا انقلاب آیا اور بتیسٹا کی حکومت ختم ہوئی تو بدستور کیوبا میں ہی مقیم رہا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ کاسترو کا حمایتی ہے اور اس کے برپا کیے ہوئے انقلاب کے لیے اس نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد ایف بی آئی اس کی نگرانی کرتی رہی کیونکہ اس کے بارے میں شبہ کیا جاتا تھا کہ اس کا ہسپانوی سول وار کے دنوں میں جن مارکسی سوچ کے حامل افراد کے ساتھ اس کا تعلق استوار ہوا، وہ اس زمانے میں کیوبا میں دوبارہ سرگرم تھے۔ 1960ء میں اس نے کیوبا کو خیرآباد کہا۔
    جارج پلمٹن کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیمنگوے نے اپنے روزمرہ معمولات یو ں بیان کیے۔’’جب مجھے کسی کتاب یا کہانی پر کام کرنا ہوتا ہے تو میں صبح پوپھوٹتے ہی کام شروع کر دیتا ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی بھی آپ کے کام میں خلل انداز نہیں ہوتا اور اس طرح بہت سہولت سے آپ اپنا کام کر لیتے ہیں۔ اپنا لکھا ہوا دوبارہ پڑھئے۔ یہ آپ کی تحریر میں نکھار لانے کا سبب بنے گا۔‘‘ ہیمنگوے کا کہنا تھا کہ”شراب انسان کی اچھی دوست ہوتی ہے”۔ 2 جولائی 1961 میں امریکی ریاست ” ایوڈا” کے شہر ” کچھمم” میں ان کا انتقال ہوا ۔ ایک کیتھولک راہب کا کہنا تھا کی ان کی موت ” حادثادتی” تھی۔ جب کی ہیمنگوے کی بیوی نے اپنے ایک خباری مصاحبے میں کہا تھا کی انھوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کی تھی۔ اس کو وجہ اعصابی تناؤ اور کثرت شراب نوشی تھی۔

  • عامر خان نے ماڈل سمیرا سے رابطے اور تصاویر کے تبادلے کا اعتراف کرلیا

    عامر خان نے ماڈل سمیرا سے رابطے اور تصاویر کے تبادلے کا اعتراف کرلیا

    عامر خان نے ماڈل سمیرا سے رابطے اور تصاویر کے تبادلے کا اعتراف کرلیا

    سابق عالمی باکسر عامر خان نے ماڈل سمیرا سے تعلق کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ عامر خان نے ماڈل سمیرا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو میں سابق باکسنگ چیمپئن کا کہنا تھا کہ ماڈل سمیرا سے اپنی شادی کاروباری ہونے جیسی کوئی بات نہیں کی، میں اپنی فیملی کے ساتھ خوش ہوں۔

    عامر خان نے مزید بتایا کہ سمیرا نے اپنا ہاتھ ٹھیک کرانے کے لیے 20 ہزار پاؤنڈ مانگے، انکار پر ایشیائی ماڈل مجھے 20 ہزار پاؤنڈ کے لیے بلیک میل کرتی رہی۔
    سابق باکسنگ چیمپئن عامر خان کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگيا عامر خان کا کہنا تھا میرے بلیک میل ہونے سے بچنے پر ماڈل سمیرا نے مقامی اخبار کو اسٹوری فروخت کی، میرا اور ماڈل سمیرا کا رابطہ اور تصاویر کا تبادلہ رہا لیکن ایسا رابطہ نہیں رہا جیسا ماڈل سمیرا نے اخبار کو بتایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    ان کا کہنا تھا کہ ماڈل سمیرا مجھ سے خود رابطے کرتی تھی، سمیرا نے بتایا وہ اپنےخاندان سے خوش نہیں، دور رہنا چاہتی ہے، سمیرا مجھ سے ٹیٹو کی شرعی حیثیت کے حوالے سے بھی پوچھا کرتی تھی۔ خیال رہے کہ عامر خان ان دنوں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے دبئی میں موجود ہیں۔

  • لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    نگران وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے اور اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے۔ جبکہ لاہور میں نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر اور ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں عامر میر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ اسکیم نواز شریف کے دور 2015 میں غریبوں کے لیے تھی، اس دور میں ہیلتھ کارڈ پر آپریشن کیلئے 3 لاکھ حد رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے ہیلتھ کارڈ پر400 ارب روپے مختص کیے، ایک مافیہ بنا پرائیوٹ اسپتالوں کے ساتھ کمیشن طے ہوئے، دھڑا دھڑ مریضوں کو پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیلئے بھیجا گیااور خوب پیسا کمایا گیا۔ جبکہ عامر میر کا کہنا تھاکہ سابق حکومت کے صحت کارڈ پرپرائیوٹ اسپتالوں کے 100، 100 ارب روپے کے بل بنے پڑے ہیں، صحت سہولت کارڈ سے متعلق خبروں سے غلط تاثر پیدا ہورہا ہے، اب یہ سہولت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو افورڈ نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    نگران وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ ایک اچھا مثبت قدم تھا، اسے بند نہیں کیا جا رہا، اب صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سوشل ویلفیئر سے رجسٹرڈ غریب افراد صحت کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے، اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے، جونیئرز ڈاکٹرز نے پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیے، 50 فیصد نارمل ڈلیوری کے سی سیکشن ہوئے۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، پورے ملک میں الیکشن ایک ہی دن ہو گا۔

  • پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    ترجمان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی ہے جبکہ ان الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خٹک ممکن ہے کہ الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہا ہے جبکہ تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان سراسر لغو، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے جس کی کوئی صداقت نہیں اور پرویز خٹک پارٹی کے عہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان الزامات سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ ہے۔

    پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق پرویز خٹک بطور صوبائی صدر پارٹی کے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے لیکن اب انہیں پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے فیصلے غلط نظر آنے لگے ہیں اور اگر ان کو پارٹی کے کئے ہوئے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی کیوں نہ ہوئے تھے؟ لہذا کیا وجہ تھی کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے انہوں نے 9 مئی کا انتظار کیا اور قوم گواہ ہے کہ عمران خان نے اپنی 27 سالہ سیاست میں ہمیشہ پر امن احتجاج کی بات کی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے پچھلے 1.5 سال میں 100 سے زائد جلسے کیے لیکن ایک گملا تک نہ ٹوٹا، عمران خان نے 25 مئی اور 26 نومبر کے دھرنے بھی انتشار کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کئے، عمران خان پر قاتلانہ حملے کے باوجود ملک میں کوئی پر تشدد کاررائیواں نہیں کی گئیں، نو مئی کے ہنگاموں کے وقت عمران خان ریاست کی قید میں تھے اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا،پرویز خٹک کو پارٹی رہنماؤں کو پارٹی چھوڑنے پر اکسانے کیلئے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔

    ترجمان پی ٹی آئی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز خٹک جھوٹے الزامات لگانے کی بجائے فیصلہ کریں کہ انہوں نے پارٹی میں رہنا ہے کہ نہیں، شاید پرویز خٹک اس قسم کے الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، پرویز خٹک اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو چکا ہے، عمران خان یا پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزمات لگا کر یہ اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال نہیں کر سکتے ، پاکستانی قوم تمام لوٹوں کو پہلے ہی یکسر مسترد کر چکی ہے،ان جھوٹ پر مبنی بے ہودہ ہتھکنڈوں سے پرویز خٹک سمیت تمام منحرف اراکین قوم میں اپنی رہی سہی عزت بھی گنوا دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    تاہم خیال رہے کہ عید کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کی جانب سے موصول ہونے والے شوکاز نوٹس پر کہا تھا کہ میں کوئی سرکاری ملازم تو نہیں جو مجھے شوکاز ملا ہے۔ میں نے ہمیشہ عوامی سیاست کی ہے۔ ہماری صوبے کی اپنی روایات ہیں، ہم سیاست میں دشمنی نہیں کرتے۔ پارٹی اراکین سے رابطے کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

  • پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خارجہ پالیسی پر توجہ دی. بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خارجہ پالیسی پر توجہ دی. بلاول بھٹو زرداری

    جاپان میں پاکستانی کمیونیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میرا جاپان کا یہ پہلا دورہ ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خارجہ پالیسی پر توجہ دی، ہم پاکستانی عوام کی بہتری کیلئے کام کررہے ہیں۔ وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتےہیں پاکستان اورجاپان کےدرمیان تعاون بڑھے، ہمارے نوجوانوں کو روزگار اور ہمیں اپنے نوجوانوں کی اسکلرز بڑھانے کی ضرورت ہے، چاہتے ہیں جاپان میں پاکستانی نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے کھلیں، اور پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل ہو۔


    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، جمہوریت کے نام پر کسی کو بھی توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے، جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ امتحان سے گزر رہا ہے۔ اس سے قبل بلاول بھٹو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ جاپان کے دورے کے دوران انہیں بڑی کمپنیز کے ایگزیکٹوز سے ملنے کا موقع ملا، اور ان کی زراعت، تعلیم، ٹیکنالوجی، اسکلڈ ورک فورس اور توانائی کی فیلڈ میں دلچسپی دیکھی اور کئی فیلڈز میں ان کی دلچسپی دیکھ کر حوصلہ افزائی ہوئی۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وزیرخارجہ سے جاپانی کاروباری شخصیات نے ملاقات کی، جب کہ جائیکا اور جیٹرو کے نمائندوں نے بھی ملاقات کی، اور سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور جاپان کے وزیر خارجہ یوشی ماسا ہایاشی کی ٹوکیو میں ملاقات کل ہوگی

  • سمتھ مرد میدان قرار؛ آسٹریلیا نے سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کر لی

    سمتھ مرد میدان قرار؛ آسٹریلیا نے سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کر لی

    سمتھ مرد میدان قرار؛ آسٹریلیا نے سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کر لی

    دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 43 رنز سے شکست دیکر ایشز سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے ملنے والے 371 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلش ٹیم کے کپتان آل راؤنڈر بین سٹوکس نے بھرپور مزاحمت کی۔ اس دوران انہوں نے وکٹ کے چاروں اطراف جارحانہ شارٹس کھیلتے ہوئے حریف باؤلرز کو بے بس کیے رکھا۔


    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا کہ یہ کھیل کتنا خوب صورت ہے کہ اسٹریلیا فاتح قرار پایا ہے. علاوہ ازیں آخری روز ایک دلچسپ مرحلہ دیکھنے کو ملا جب جونی بیرسٹو ڈرامائی انداز میں رن آؤٹ ہوئے اس دوران سٹیڈیم میں فیصلے کے خلاف بھرپور صدائیں بلند کی گئیں۔ انگلش کپتان 155 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، بین ڈکٹ 83 سکور بنا کر آؤٹ ہوئے، دیگر بیٹرز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    بین سٹوکس الیون ہدف کے تعاقب میں 327 رنز پر ڈھیر ہو گئی، مچل سٹارک، پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ نے 3.3 شکار کیے۔ اس سے قبل دوسری اننگز میں 279 ر نز بنائے تھے اور حریف ٹیم کو 371 رنز کا ہدف دیا تھا، عثمان خواجہ 77 رنز بنا کر سرفہرست رہے تھے۔ میچ کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے پر سٹیو سمتھ کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔