Baaghi TV

Author: +9251

  • 8 غیر ملکی پرنسپلز میں سے 7  پی ٹی آئی کا حصہ

    8 غیر ملکی پرنسپلز میں سے 7 پی ٹی آئی کا حصہ

    بلاول بھٹو زرادری کے سابقہ میڈیا ایڈوائزر عمر قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ "یونائٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعے پاکستان سے امریکہ میں رجسٹرڈ تقریبا 8 غیر ملکی پرنسپلز میں سے 7 ایسے ہیں جو پی ٹی آئی کا حصہ ہیں یا پھر کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی سے منسلک ہیں جبکہ عمر قریشی نے مزید دعویٰ کیا کہ ان میں سے ایک امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے اور فینٹن کے درمیان 30,000 ڈالرز ماہانہ برقرار رکھنے والا تھا.


    انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ معاہدے کے مطابق فینٹن "امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی پاکستان کی خواہش پر صحافیوں کو معلومات اور بریفنگ تقسیم کرے گا”۔ جبکہ ایمبیسی نے 26 مارچ 2022 کو عمران خان کے قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کا ووٹ ہارنے اور امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانے سے چند دن پہلے لابیسٹ کی خدمات حاصل کیں تھی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب
    پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان

    جبکہ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی امریکا میں موجود شاخ نے امریکا میں اپنا امیج اور تشخص بہتر کرنے کے لیے ایک پبلک ریلیشن فرم کی خدمات حاصل کی تھی جبکہ اپریل میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران خان اور ان کی پارٹی اس بیانیہ پر ایک منظم مہم چلا رہے تھے کہ امریکا نے ایک سازش کے ذریعے ان کی حکومت کو گرانے اور اپنی پسند کی انتظامیہ کو لانے کے لیے مقامی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی تھی۔

  • رنگت گوری کرنے کے انجیکشنز لگواﺅ زویا ناصر کو ایسا کس نے کہا؟

    رنگت گوری کرنے کے انجیکشنز لگواﺅ زویا ناصر کو ایسا کس نے کہا؟

    پاکستان ہو یا بھارت ہر جگہ گوری رنگت کو بہت زیادہ ترجیح دی جاتی ہے گو کہ اس کے باوجود دونوں انڈسٹریز میں ایسے فنکار بھی موجود ہیں جن کی رنگت تو سانولی ہے لیکن انہوں نے اپنے ٹیلنٹ کی بدولت نام کمایا۔ نامور ماڈل آمنہ الیاس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میری رنگت گوری نہیں ہے اسکی وجہ سے مجھے بہت سارے مسائل کا سامنا رہا ،ایسی ہی بات اب کر دی ہے زویا ناصر نے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ میری رنگت سانولی ہے اس وجہ سے مجھے بہت سارے مسائل کا سامنا رہا ہے، جب میں نئی نئی شوبز انڈسٹری میں آئی تو مجھے کہا گیا کہ میری رنگت سانولی ہے لہذا مجھے رنگت گوری کرنے کے انجیکشنز لگوانے چاہیں ۔ مجھے ایک دو ڈراموں میں تو کاسٹ کرنے کی شر ط ہی یہ رکھ دی گئی کہ میں انجیکشنز لگواﺅں لیکن میں نے انکار کر دیا کیونکہ مجھے لگتا ہے

    کہ میرا جو اصل رنگ ہے اس کے ساتھ ہی مجھے اگر کوئی کام دینا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنی رنگت کو تبدیل نہیں کروں گی۔ یاد رہے کہ فہد مصطفی ، ہانیہ عامر و دیگر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انجیکشنز کے زریعے اپنی رنگت گوری کی ہے۔تاہم زویا ناصر نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے، زوی ناصر معروف لکھاری ناصر ادیب کی بیٹی ہیں اور ان کی والدہ آمنہ الفت مسلم لیگ ق کی رہنما ہیں ۔ زویا ناصر اپنی مرضی اور موڈکے مطابق کام کرتی ہیں ، ان کا ماننا ہے کہ کم کام کر لیا جائے لیکن معیاری اور ایسا کیا جائے جو لوگوں کو یاد رہ جائے۔

  • سلمان خان کے منہ سے اپنا نام سن کر بہت اچھا لگا سارا لورین

    سلمان خان کے منہ سے اپنا نام سن کر بہت اچھا لگا سارا لورین

    مونا لیزا جنہوں نے اپنا نام تبدیل کرکے سارا لورین رکھا ، انہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی کام کیا ، وہ وہاں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ انہوں نے جو وہاں وقت گزارا وہ انکے کیرئیر کا یادگار ترین وقت تھا، انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے اگر آپشن دی جائے اور کہا جائے کہ کیرئیر بنانے کے لئے انڈیا اور پاکستان میں سے کس کا انتخاب کریں گی تو یقینا میں انڈیا کاانتخاب کروں گی کیونکہ انڈیا میں کام کرنے کے طریقے بہت اچھے ہیں وہ بہت ہی اچھے طریقے سے کام کرتے اور کرواتے ہیں، انہوں نے کہا

    کہ میرا نام مجھے تبدیل کرنا پڑا اس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے لیکن جب سلمان خان نے میرا نام سارا لورین لیا تو مجھے بہت پیار آیا ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک رہنے کی بات تو پاکستان دنیا کا بہترین ملک ہے جہاں پر اپنی مرضی کے ساتھ رہا جا سکتا ہے ، زندگی گزاری جا سکتی ہے، میں پاکستان سے بہت محبت کرتی ہوںیہ میرا ملک ہے۔ لیکن کیرئیر بنانے کے نقطہ نظر سے میری اولین چوائس بھارت ہی ہو گا یاد رہے کہ سارالورین بھارت میں کام کر چکی ہیں انہوں نے وہاں پر نامور ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا اور خوب نام کمایا، سارا نے پاکستان میں ماڈلنگ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے شوبز کے افق پر چھا گئیں۔

  • کس اداکارہ کا انٹرویو لینا مشکل کام تھا نتاشا علی نے بتا دیا

    کس اداکارہ کا انٹرویو لینا مشکل کام تھا نتاشا علی نے بتا دیا

    اداکارہ نتاشا علی جو کئی سال کے بعد ایک بار پھر شوبز میں متحرک دکھائی دے رہی ہیں، انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جہاں میں نے بہت سارے ڈراموں میں کام کیا وہیں کچھ پروگراموں کو بھی ہوسٹ کیا۔ میں ایک پروگرام کیا کرتی تھی جس میں سلیبرٹیز کا انٹرویو کرنا ہوتا تھا، ایک بار مجھے میری ہی بہترین دوست زارا شیخ کا انٹرویو کرنا تھا ، لہذا میں بہت خوش تھی کہ میری دوست کو میں انٹرویو کرنے جا رہی ہوں۔ لیکن میں یہ بھول گئی کہ وہ تو بہت کم گو ہیں، خیر ہوا یہ کہ وہ آئیں تو تین گھنٹے انہوں نے تیار ہونے میں لگائے، جب تیار ہو کر سیٹ پر آکر بیٹھ گئیں تو ان سے میں نے سوال کرنے شروع کئے تو وہ ایک مختصر سا جملہ بول کر خاموش ہو جاتیں جس کی وجہ سے مجھے لمبے لمبے سوال کرنے پڑے ، لیکن لمبے لمبے سوال کرنے کے باوجود وہ کچھ نہیں

    بول رہیں تھیں، لہذا میرے لئے میری ہی دوست زارا شیخ کا انٹرویو کرنا نہایت ہی مشکل کام رہا یاد رہے کہ زارا شیخ اس وقت فلموں میں آئیں جب پاکستان فلم انڈسٹری اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ، تاہم ان کو آتے ہی شہرت مل گئی جس کے بعد وہ کئی کمرشلز اور پرائیویٹ سانگز کی وڈیوز میں نظر آئیں، انہوں نے کافی عرصے کے بعد ڈرمہ رقص بسمل میں کام کیا اور انہیں ایک بار پھر ان کے مداحوں نے بے حد سراہا، زارا شیخ کا کہنا ہے کہ وہ کام کرنا چاہتی ہیں ان کو اگر فلموں اور ڈرموں کے لئے اچھے سکرپٹ ملے تو وہ مزید بھی کام کریں گی ۔

  • پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی  پیپلز پارٹی میں شمولیت

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت

    پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد بہاول نگر سے مختلف سیاسی عمائدین نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ لاہور میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کی سینئر نائب صدر صدف سردار ساتھیوں سمیت پی پی پی میں شامل ہوگئی ہیں.

    اعلامیہ کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد تحصیل بہاول نگر میں پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری ادریس اشرف بھی پی پی پی میں شامل ہوگئے ان کے علاوہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد بہاول نگر میں مسلم لیگ ق کے جنرل سیکریٹری شیخ فضل الہی نے بھی پی پی پی میں شامل ہوئے ہیں.

    میڈیا سیل کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی ضلع بہاول نگر کے سٹی صدر حماد اشرف پی پی پی میں شامل ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن بہاول نگر کے نائب صدر سید شاہزیب قمر بھی پی پی پی میں شامل ہوگئے ہیں، اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد ضلع بہاول نگر میں انجمن تاجران کے صدر ساجد محمود بھی پی پی پی میں شامل ہوگئے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب
    پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    پی پی میڈیا سیل نے مزید بتایا کہ اعلامیہ کے ساتھ جاری تصویر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پی پی پی جنوبی پنجاب کے چیف کورآرڈیبیٹر عبدالقادر شاہین، ضلع بہاول نگر کے صدر ملک سلیم، سینئر نائب صدر شہزاد احمد اور سیکریٹری اطلاعات ملک رستم بھی موجود ہیں جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کہا اور خوشی کا اظہار کیا.

  • کینسر سے جنگ لڑنا آسان نہیں تھا نادیہ جمیل

    کینسر سے جنگ لڑنا آسان نہیں تھا نادیہ جمیل

    اداکارہ نادیہ جمیل جو کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک رہتی ہیں ، سب جانتے ہیں کہ وہ بریسٹ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو گئیں تھیں انہوں نے علاج کروایا اور اس مرض کو شکست بھی دیدی ۔ لیکن وہ اکثر کینسر کے دوران گزرے ہوئے وقت کی بات کرتی رہتی ہیں، انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے کینسر ہے تو میں بہت پریشان ہوئی لیکن میں نے ہمت سے کام لیا،پوری دنیا میں کورونا کا دور تھا ہر طرف لاک ڈاﺅن تھا ، میں بیرون ملک تھی اور میری ساری فیملی پاکستان میں تھی ، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کوئی میرے پاس نہیں آسکتا

    تھا، میں اکیلی اس مرض سے لڑ رہی تھی، لیکن اس سارے وقت میں ،میں نے خود کو خدا کے قریب کر لیا اور اسی پر توکل کر لیا جس کے بعد میں نے دیکھا کہ میں نے کینسر کے ساتھ جنگ بہادری کے ساتھ لڑی ۔ نادیہ جمیل نے کہا کہ اگر انسان کو اللہ پر توکل ہو تو وہ بہت سارے مسائل سے نمٹ سکتا ہے۔ نادیہ جمیل نے کہا کہ بہت سارے مسائل توہمارے اس لئے بھی ہوتے ہیں کیونکہ ہم خدا سے بہت دوری رکھے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ نادیہ جمیل نے 2021 میں کینسر سے نجات حاصل کی اس دوران انہوں نے تنہائیاں بھی کاٹیں لیکن ہمت سے حالات کا مقابلہ کیا۔ نادیہ جمیل نے بہت سارے بچوں کو گود لیا ہوا ہے اور وہ ان کو پالتی ہیں ان کا بہت خیال رکھتی ہیں ۔

  • ماہرہ خان کو فلمیں پسند ہیں ڈرامے؟

    ماہرہ خان کو فلمیں پسند ہیں ڈرامے؟

    اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور ہمارے ہاں آج تک اچھے ڈرامے بن رہے ہیں، مجھے جب بھی وقت ملتا ہے پاکستانی فلمیں دیکھنے کی بجائے ڈرامے دیکھتی ہوں ، پی ٹی وی کے دور میں بنے ہوئے ڈرامے کلاسک کی ھیثیت رکھتے ہیں اور مجھے دھوپ کنارے ، ان کہی ، تنہائیاں جیسے ڈرامے بہت پسند ہیں، میرے پاس ویسے تو فارغ وقت بہت کم ہوتا ہے لیکن اگر ہو تو میں پاکستانی ڈرامے دیکھتی ہوں اور پرانے ڈرامے جنہیں کلاسک کہا جاتا ہے ان کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتی ہوں۔ ماہرہ خان نے کہا کہ آج بھی ہمارے ہاں بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے ہمسایہ ملک بھارت میں جیسے ماضی میں ہمارے ڈرامے پسند کئے جاتے تھے ویسے ہی آج بھی پسند کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ڈراموں کی خاص بات یہ ہے کہ

    ان میں حقیقی ایشوز کو ڈسکس کیا جاتا ہے اور ہمارے فنکار اور ڈائریکٹرز رائٹرز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ وقت بدل جاتا ہے،کام کے تقاضے بھی بد ل جاتے ہیں ، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ڈرامے مسلسل شائقین کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہیں ۔ یاد رہے کہ ماہرہ خان فلموں کے ساتھ ساتھ ڈرامے بھی کرتی ہیں ان کا ابھی تک کا آخری ڈرامہ ہم کہاں کے سچے تھے ، تھا ، ماہرہ خان کی اصل پہچان ٹی وی ہی ہے اور انہوں نے کبھی بھی اس پہچان کو فرامو ش نہیں کیا۔ ان کی ہمایوں سعید کے ساتھ بہت جلد فلم آنے والی ہے اس فلم کو لیکر ماہرہ کافی پرجوش ہیں۔

  • شاہد کپور کے کس بیان پر ان کے مداح ہو گئے ہیں ناراض

    شاہد کپور کے کس بیان پر ان کے مداح ہو گئے ہیں ناراض

    بالی وڈ اداکار شاہد کپور اکثر رہتے ہیں چرچا میں ، حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو دیا جس میں ا نہوں نے کہا ہے کہ شادی کے بعد خاتون مرد کی بے ترتیب زندگی میں سدھار لاتی ہے۔ شادی سے پہلے مرد بے ترتیب ہوتا ہے ، بیوی اس کی زندگی میں بہتری لاتی ہے، انہوں نے مزید وضاھت دیتے ہوئے کہا کہ پوری شادی ایک ہی چیز پر منحصر ہے کہ مرد شادی سے پہلے بے ترتیب ہوتا ہے اور شادی کے بعد عورت اس میں سدھار لاتی ہے تو پوری زندگی ایسی ہی چلتی ہے اور یوں ایک مرد مہذب شخص بن جاتا ہے۔شاہد کپور کی یہ بات ان کے مداحوں کو بالکل پسند نہیں آئی اور ان کا کہنا ہے کہ مردوں کو بے ترتیب کہنا مناسب نہیں ہے بہت سارے مرد ہیں جو اپنے سارے کام خود کرتے ہیں وہ گھر باہر کو مینج کرتے ہیں ۔ یوں شاہد کپور پھنس گئے ہیں ایک نئی کنٹرورسی میں۔ یاد رہے کہ

    کنٹرورسی میں گھرے رہنا شاہد کپور کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ، شادی سے قبل اپنے افئیرز کی وجہ سے بھی وہ ہر وقت کنٹرورسی میں گھرے رہتے تھے ، شاہد کپور نے 2015میں میرا کے ساتھ شادی کی ان دونوں کے دو بچے ہیں اور دونوں ہی ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ لیکن شاہد کپور کسی بھی قسم کی کنٹرورسی سے نہیں گھبراتے۔ شاہد کپور کافی عرصے سے کم کم کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف معیاری کا م کریں گے چاہے دو سال میں ایک فلم ہی کیوں نہ ملے۔

  • سارا خان کس سے شادی کریںگی اداکارہ نے بتا دیا

    سارا خان کس سے شادی کریںگی اداکارہ نے بتا دیا

    سیف علی خان کی بیٹی سارا علی خان جو کہ بہت ہی شوخ اور چنچل ہیں اور ان کا کیرئیر بھی اچھی اڑان بھر رہا ہے۔حال ہی میں ان کی ریلیز ہونے والی فلم زرا ہٹ کے زرا بچ نے کامیابی حاصل کی ہے، سارا علی خان اپنے کام اور تعلقات کو لیکر کافی رہتی ہیں خبروں میں، کافی عرصے سے کرکٹر شبمن گل کے ساتھ افئیر کی خبریں سامنے آرہی ہیں، دونوں ایک ساتھ دیکھے بھی جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے والے ہیں۔لیکن سارا علی خان نے اس ھوالے اسے کر دی ہے تردید اور کہا ہے کہ میں بالکل بھی شادی نہیں کررہی اور کسی بھی کرکٹر کے ساتھ نہیں کررہی ، ایک صحافی نے جب سوال کیاکہ اپنی دادی کی طرح آپ بھی کسی کرکٹر کے ساتھ شادی کریں گی تو اداکارہ نے کہا کہ وہ کسی بھی شعبے کا ہو سکتا ہے ۔ضروری نہیں ہے کہ کرکٹر بھی ہو اور میری دوستیاں سب کے ساتھ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اگر میں کسی کو مل رہی ہوں تو

    اس کے ساتھ میرا افئیر ہے۔ مجھے ابھی تک کوئی ایسا نہیں ملا جس کو دیکھ کر مجھے لگا ہو کہ میں اس کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزار سکتی ہوںجیسے ہی مل گیا یقینا شادی کر لوںگی ۔ لیکن ابھی فی الحال میری پوری توجہ میرے کیرئیر پر ہے ۔ اور میں بہت خوش ہوں کہ لوگ میری اداکاری کو سراہ رہے ہیں ابھی مجھے ویسے بھی بہت سارا کام کرنا ہے۔یوں سارا علی خان کرکٹر شبمن گل کے ساتھ اپنے افئیر اور شادی کی خبروں کی تردید کر دی ہے اور کرکٹر کو صرف دوست قرار دیا ہے۔

  • آج مہدی حسن کی 13برسی منائی جا رہی ہے

    آج مہدی حسن کی 13برسی منائی جا رہی ہے

    شہنشاہ غزل کہلائے جانے والے مہدی حسن کو ہم سے بچھڑے ہوئے 13سال بیت گئے ہیں لیکن ان کے گیت ان کی غزلیں آج بھی شائقین شوق سے سنتے ہیں اور رہتی دنیا تک سنتے رہیں گے، میوزک کی دنیا میں برصغیر میں جو مقام مہدی حسن کو حاصل ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے گلوکار کو حاصل ہو۔مہدی حسن نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔ مہدی حسن نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا ۔ اس کے بعد انہوںنے فلموں کا رخ کیا فلم فرنگی

    میں غزل گائی اس کے بعد پھر ان کے کیرئیر کی گاڑ نکل پڑی ۔ مہدی حسن نے لا تعداد گانے اور غزلیں گائیں ۔ مہدی حسن کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سمیت تمام نمایاں قومی سطح کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔گائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مہدی حسن خودتو اس دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور آج بھی ان کو یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کی گائیکی نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ مہدی حسن کے پرستار پاکستان اور انڈیا سمیت پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔