Baaghi TV

Author: +9251

  • انیل کپور کے والد جب ممبئی شفٹ ہوئے تو کس اداکار کے گیراج میں رہتے تھے؟‌

    انیل کپور کے والد جب ممبئی شفٹ ہوئے تو کس اداکار کے گیراج میں رہتے تھے؟‌

    بالی وڈ کے اداکار انیل کپور معروف فلم میکر سریندر کپور کے بیٹے ہیں ، اور سریندر کپور راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور کے کزن تھے، کہا جا تا ہے کہ جب سریندر کپور کام کاج کی غرض سے ممبئی شفٹ ہوئے تو ان کے حالات بہت خراب تھے ان کے پاس رہنے کا جگہ نہ تھی نہ ہی اتنے پیسے تھے کہ کرایہ ادا کر سکیں، لہذا سریندر کپور کو ان کے کزن پرتھوی راج کپور نے پناہ دی. پرتھوی راج کپور نے ان کو اپنے گھر کے گیراج میں

    رکھا اور وہ وہاں تب تک رہے جب تک کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں آ گئے کہ وہ کسی فلیٹ میں‌شفٹ نہ ہوجائیں پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے پاس تھوڑے پیسے آئے تو انہوں نے مڈل کلاس علاقے میں ایک فلیٹ لیا اور وہاں پر شفٹ ہوئے. یاد رہے کہ سریندر کپور اور پرتھوی راج کپور نے اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر بالی وڈ میں ایسا نام اور مقام بنایا کہ جسے آج تک یاد رکھا جاتا ہے اور انکی نسلیں آج بھی بالی وڈ پر راج کررہی ہیں.

  • زارا نور عباس کس اداکارہ کی دیوانی؟

    زارا نور عباس کس اداکارہ کی دیوانی؟

    ٹی وی کی معروف اداکارہ زارا نور عباس جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر شوبز میں جگہ بنائی حالانکہ ان کی خالہ بشری انصاری اور والدہ اسماء عباس سمیت خاندان کے دیگر لوگ شوبز میں نام اور مقام رکھتے ہیں لیکن زارا نور عباس نے اپنے خاندان کا نام استعمال کرکے شہرت اور کام حاصل کرنے کی بجائے اپنے ٹیلنٹ سے ہر کسی کو اپنا گرویدہ کیا. زارا نور عباس کی اداکاری کے سب ہیں دیوانے لیکن وہ کس اداکارہ کی اداکاری کی ہیں دیوانی انہوں نے بتا دیا ہے. زارا نے کہا ہے کہ رمضان پلے ہیر دا ہیرو میں امر خان کی پرفارمنس حیران کر دینے والی ہے ، اس نے ثابت کر دیا ہے

    کہ وہ انڈسٹری کی بہترین اداکارہ ہیں، امر خان نے اپنے کردار کو جس طور نبھایا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان سے بہتر یہ کردار کوئی نہیں کر سکتا تھا. زارا نور عباس نے کہا کہ مجھے امر خان پر بہت زیادہ فخر ہے ، امید ہے کہ اداکارہ آئندہ بھی اسی طرح سے شائقین سمیت ہم سب کو محظوظ کرتی رہیں گی. یاد رہے کہ امر خان نے چھوٹی سکرین کے لئے پہلا پلے لکھا ہے جو کہ آج کل آن ائیر ہے ، اس ڈرامے میں وہ اور عمران اشرف مرکزی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں .

  • میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا سلمان خان

    میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا سلمان خان

    بالی وڈ‌ کے دبنگ سلمان خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں اپنی کسی بھی فلم میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا. میرے تیس سالہ کیرئیر میں آپ کو میری کوئی ایسی فلم نہیں ملے گی جس میں کوئی ایسا سین ہو جس کو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ نہ سکیں. سلمان خان نے بولڈ سین نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں عورت کو کسی بھی غلط طریقے سے پیش کرنے کے حق میں نہیں ہوں اور نہ ہی میں اپنے مداحوں کو بگاڑنا چاہتا ہوں. سلمان خان نے کہا کہ کہانی اچھی ہونی چاہیے ، بولڈ سینز فلم کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہو سکتے. دبنگ خان نے

    کہا کہ میری فلم کسی کا بھائی کسی کی جان ایک الگ فلم ہو گی اس میں میرا کردار کافی ہٹ کر ہے. یاد رہے کہ سلمان خان کی فلم کسی کا بھائی کسی کی جان میں سلمان خان اداکارہ شویتا تیواری کی بیٹی اور بگ باس 13 کی کنٹیسٹنٹ شہناز گل کو متعارف کروا رہے ہیں جبکہ خود اپنے سے کئی برس چھوٹی اداکارہ پوجا ہیگڑے کے ساتھ نظر آرہے ہیں. فلم رواں برس ریلیز کی جائیگی ، فلم کا ٹریلر اور دو گانے ریلیز کر دئیے گئے ہیں .

  • چیف جسٹس کا خودساختہ بنچ؛ آمریت کی بدترین مثال ہے.  امان اللہ کنرانی

    چیف جسٹس کا خودساختہ بنچ؛ آمریت کی بدترین مثال ہے. امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا اپنے ھمنوا ججز کی خودساختہ بنچ کی تشکیل و وفاقی اکائیوں کی نمائیندگی نظر انداز کرنے ملک کو وفاقی طرز کی بجائے شاہی و وحدانی طرز کے نظام کے تصور کے تحت آمریت و ھٹ دھرمی کی بدترین مثال قائم کررہے ہیں ہے.

    انہوں نے مزید کہا اس کے برعکس ھمیشہ اھم قومی اشیوز پر چاروں صوبوں سے ججز کی مناسب نمائیندگی ھوتی ہے اور ایک وفاق کے اندر وفاقی اکائیوں کی اپنی شناخت ھوتی ہے تب فیصلے بھی قومی سطح کے سمجھے جاتے ہیں ورنہ لاڑکانہ و لاھور کا تفریق جاری رہتا ہے جب صرف پنجاب کا اشرافیہ ہی فیصلہ سازی کا سرخیل ھوتا ہے تو ملک کو پھر مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش دیکھنا پڑتا ہے ایسے رویوں سے فرد واحد کے انا کی تسکین تو ھوتی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں بد اعتمادی کی فضا پیدا ھوتی ہے ایک بار پھر ایسے ہی ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں اور یکطرفہ بنچز کی شکیل دے کر ملک میں قیاس پیدا کرنے کی سازش ھورہی ہےجس سے ملک کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ایک بار پھر ایسے اقدامات کے ملک کے وفاق پر ایک کاری ضرب تصور ھوگا جس سے احتراز کرنا چاہئیے

  • سابق وزیراعظم نواز شریف اہل خانہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف اہل خانہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف اہل خانہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف شاہِ سعودی عرب کی دعوت پر مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں، ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز، کیپٹن صفدر اور دیگر اہل خانہ بھی بھی موجود ہیں۔ جبکہ حرم مکہ پہنچنے پر شریف فیملی کے اراکین نے اللہ کا شکر ادا کیا، اہل خانہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد کل مدینہ منورہ روانہ ہوجائیں گے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف عمرے کی ادائیگی کے لئے گزشتہ روز لندن سے سعودی عرب پہنچے تھے۔ جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مریم نواز، حسن نواز اور جنید صفدر نے نوازشریف کا استقبال کیا، جس کے بعد ایئرپورٹ سے وہ ہوٹل کے لئے روانہ ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    نواز شریف اور مریم نواز رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنے خاندان کے ہمراہ مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ میں گزاریں گے اور عمرے کی سعادت بھی حاصل کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دورہ سعودی عرب میں نواز شریف اور مریم نواز شاہی خاندان کے خصوصی مہمان ہوں گے۔

  • فصیح باری خان نے کسے طنز کے تیر فلک شبیر پر

    فصیح باری خان نے کسے طنز کے تیر فلک شبیر پر

    سارا خان کے شوہر معروف گلوکار فلک شبیر سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں ، حال ہی میں‌ان سے کسی نے پوچھا کہ رمضان کے دوران بھی شوز کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ توبہ میں تو سوچتا بھی نہیں رمضان میں‌میوزک یا کنسرٹس کے بارے میں. فلک شبیر کے اس جواب پر معروف رائٹر فصیح خان نے کسے ہیں تیر کے طنز ، انہوں نے کہا کہ یہ شوبز کی ہی کمائی ہے جس کی برکت سے تم سارا مہینہ گھر بیٹھ کر کھاتے ہو، جس وقت شوبز کی کمائی سے جیبیں بھر رہے ہوتے ہو اس وقت دین یاد نہیں آتاد. مذہبی منافقت کی کیا بات. فصیح باری نے مزید یہ بھی

    کہا کہ دنیا بھر کی آسائشیں لینے کے بعد اسلامک ٹچ کے کیا کہنے. فصیح باری خان نے دراصل یہ سب کچھ فلک شبیر کو ان کی پوسٹ پر کمنٹ کرکے کہا، فصیح کی اس بات سے بہت سارے لوگوں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ، شوبز کی کمائی سے ہی آج عیاشی کررہے ہیں اور اسی کو ہی ایک پل میں برا کہہ دیا اور دین یاد آگیا، جب شوبز سھے ہی کماتےہیںاس وقت دین یاد نہیں آتا. یوں فلک شبیر کو سوشل میڈیا پر لیا گیا آڑھے ہاتھوں.

  • سپریم کورٹ؛ آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا

    سپریم کورٹ؛ آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر عملدرآمد روک دیا

    سپریم کورٹ نےعدالتی اصلاحاتی بل عملدرآمد سے پہلے روک دیا، آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا۔ عدال عظمیٰ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی جس کے بعد حکم نامہ جاری کیا گیا۔ عدالتی اصلاحاتی بل کے خلاف درخواستوں کی آج کی سماعت کا حکم نامہ 8 صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے جاری فیصلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، مسلم لیگ (ق) سمیت دیگراتحادی جماعتوں کو نوٹسز جاری کردئے۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف 3 درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں، ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہوجائے گی، بل پر عبوری حکم کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس دوران عبوری حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہے۔

    سپریم کورٹ کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا۔ جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کسی قانون کو معطل نہیں کر سکتی، بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت دو مئی کو ہوگی۔ حکم امتناعی کا اجرا ناقابل تلافی خطرے سے بچنے کیلئے ضروری ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت عدلیہ اور خصوصی طور پر سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی آزادی کیلئے متفکر ہے، اس ضمن میں مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے عدالت کی مداخلت درکار ہے، سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلاء کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔
    13 اپریل بروز جمعرات سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جائزہ لینا ہوگا اس معاملے میں آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل، سیاسی جماعتوں اور فریقین سمیت پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو بھی قانونی معاونت کے لئے نوٹس جاری کرنے کے ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف 4 درخواستیں ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے دائر کی ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر سماعت کے موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی وکلاء عدالتِ عظمیٰ کے باہر جمع ہوئے۔

    اس موقع پر وکلاء کی جانب سے حکومت مخالف اور عدلیہ کے حق میں نعرے بلند کئے گئے، پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی بھی وکلاء کے ساتھ موجود تھے۔ درخواست گزار راجا عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے پر آمادہ نہیں۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کو انتخابات نہ کروانے پر از خود نوٹس لینا پڑا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ تین اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کیے گئے۔ عدالت اور ججز پر ذاتی تنقید کی گئی۔ حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمے دار ہیں۔ جبکہ وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا۔ صدر مملکت نے اعتراضات عائد کر کے بل اسمبلی کو واپس بھیجا۔ سیاسی اختلاف پر صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد 10 دن میں بل قانون بن جائے گا ۔ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ بل کے تحت از خود نوٹس اور بینچز کی تشکیل کا فیصلہ 3 رکنی کمیٹی کرے گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ بل قانون بننے کے لائق ہے؟ کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیر قانونی ہے۔ بل کابینہ میں پیش کرنا اور منظوری دونوں انتظامی امور ہیں۔ بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے۔بل زیر التوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے۔ وکیل نے کہا کہ صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس کے بغیر سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہیں۔ چیف جسٹس کی تعیناتی ہی سے سپریم کورٹ مکمل ہو کر کام شروع کرتی ہے۔ چیف جسٹس کے بغیر دیگر ججز موجود ہوں بھی تو عدالت مکمل نہیں ہوتی۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ چیف جسٹس اور ججز کے اختیارات کم نہیں کیے جاسکتے۔ چیف جسٹس کا آفس کوئی اور جج استعمال نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس کا دفتر 2 سینئر ججز کے ساتھ کیسے شیئر کیا جاسکتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی پر سپریم کورٹ کئی فیصلے دے چکی ہے۔ ریاست کے ہر ادارے کے اقدامات کا سپریم کورٹ جائزہ لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ قاسم سوری کیس میں قرار دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ماضی میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ بل کو پاس ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ بل پاس ہوجائے تو عدالت اسکا جائزہ لے سکتی ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق صدر کی منظوری سے پہلے بھی مجوزہ ایکٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ عدالت آئین کی محافظ اور انصاف کرنے لیے بااختیار اور تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے رولز موجود ہیں جن میں پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے جس کو آئین کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ آپ کے مطابق پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی طرح عدلیہ کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ صدر ریاست پاکستان کی وحدانیت کی علامت ہے۔ صدر کا عہدہ صرف رسمی نوعیت کا نہیں ہے۔ صدر نے بل کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اسمبلی منظوری کے بعد بل میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔ بل کی منظوری کے بعد قانون سازی کا عمل مکمل تصور ہوتا ہے۔ عدالت کا موجودہ کیس میں حکم زیر التوا قانون سازی میں مداخلت نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ اپنا کام مکمل کرچکی، اس لیے یہ مداخلت تصور نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسبہ بل کے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے منطور شدہ بل کا جائزہ لیا۔ حسبہ بل کیس ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات سپریم کورٹ نے مسترد کیے۔ سپریم کورٹ نے حسبہ بل کو غیر آئینی قرار دیا۔حسبہ بل صدارتی ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ آیا تھا۔ موجودہ کیس آرٹیکل 184/3 کا ہے جس میں عدالت زیادہ بااختیار ہے۔

    وکیل نے دلائل م یں کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ شادی ہال تک گرانے کا حکم دے چکی ہے۔ عدالت کے تمام احکامات بنیادی حقوق کے پیرائے میں تھے۔ کیا عدلیہ کی آزادی عوام کا بنیادی حق نہیں ہے؟۔ مجوزہ قانون کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ آئین 184/3 میں اپیل نہیں نظرثانی کا حق دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کا ایک جج دوسرے جج کے خلاف اپیل نہیں سن سکتا۔ کئی مرتبہ ہم وکلا بھی 184/3 کا شکار ہوئے ہیں۔ عام مقدمات میں نظرثانی کیس 5 منٹ بھی نہیں چلتا ۔ کچھ مقدمات میں نظر ثانی مقدمات کئی ماہ چلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ عدلیہ کے اندرونی معاملے کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟۔ امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت فیصلے تک مجوزہ ایکٹ کو قانون بننے سے روکے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ حسبہ بل ریفرنس کی صورت میں آیا تھا۔ حسبہ بل میں گورنر کو بل پر دستخط سے روکا گیا تھا ۔ وکیل نے استدعا کی کہ وزارت قانون کو فیصلے تک مجوزہ ایکٹ بطور قانون نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔

    وکیل نے کہا کہ کوئی مقدمہ 10 رکنی بینچ سنے تو اپیل کیسے دائر ہوسکتی ہے؟ کیا سینئر ججز کے فیصلے کے خلاف جونیئر ججز اپیل سن سکتے ہیں؟ تمام ججز برابر ہوتے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں تھا۔ سینئر ترین ججز ریفرنس پر سماعت کررہے تھے۔ موجودہ کیس میں بل کی منظوری سے پہلے کے مراحل کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں عدالت سے کیا چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جلد حکم جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت ،اٹارنی جنرل ،سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کیا آزادی اہم معاملہ ہے ۔ پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے ۔ کیس کو جلد دوبارہ مقرر کیا جائے گا ۔ جائزہ لینا ہے کہ اس معاملے میں آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ ججز کی دستیابی کو مد نظر رکھ کر جلد سماعت کے لیے مقرر کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں 8 رکنی لارجر بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کررہا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں جب کہ حالیہ دنوں میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جج صاحبان لارجر بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ میں مجوزہ قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیخلاف 2 آئینی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جو چوہدری غلام حسین اور راجا عامر خان نامی شہریوں نے ایڈووکیٹ طارق رحیم اور اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کیں اور جن میں وفاق، وزارت قانون، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور صدر عارف علوی کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ سپریم کورٹ پریکٹس پروسیجر بل بد نیتی پر مبنی ہے، مجوزہ بل آئین کے ساتھ فراڈ ہے۔ درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ مجوزہ بل کو غیر آئینی غیر قانونی قرا دے کر کالعدم کیا جائے، آئینی درخواست پر فیصلہ ہونے تک مجوزہ قانون کو معطل کیا جائے،صدر مملکت کو مجوزہ بل پر دستخط کرنے سے روکا جائے۔

  • میرا نام ہے محبت کی شوٹنگ کے دوران بابرا اور غلام محی الدین ہر ایموشنل سین کے بعد کیا کرتے تھے ؟

    میرا نام ہے محبت کی شوٹنگ کے دوران بابرا اور غلام محی الدین ہر ایموشنل سین کے بعد کیا کرتے تھے ؟

    سینئر اداکار غلام محی الدین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ کہا ہے کہ بابرا شریف بے حد حسین تھیں ، لیکن ان کے موڈ کا کبھی پتہ نہیں چلتا تھا ، کبھی وہ ہنسی مذاق کرتی رہتی تھیں اور کبھی وہ بہت ہی سنجیدہ ہوجاتی تھیں ، اور جب ان سے سنجیدہ یا ٍغصے میں ہونے کی وجہ پوچھتا تو کہتی جا دفعہ ہوجا.بابرا کا موڈ جیسا بھی ہوتا لیکن جیسے ہی کیمرہ آن ہوتا تو وہ سین میں انوالو ہوجاتیں ان کا موڈ کبھی بھی ان کے کام پر اثر انداز نہیں ہوا تھا. غلام محی الدین نے کہا کہ فلم کے جتنے بھی رونے والے سین ہیں وہ شوٹ کروانے کے بعد میں اور بابرا ہنسنے لگ جاتے تھے ،

    ہمیں ڈائریکٹر سے ڈانٹ پڑتی تھی ، ہم سنجیدہ ہوجاتے تھے ، اس کے بعد پھر رونے والا سین کرتے تو کٹ ہوتے ساتھ ہی ہنسنا شروع کر دیتے تھے، ڈائریکٹر کہتے تھے کہ تم لوگ سنجیدہ ہو کر جب تک کام نہیں کرو گے پبلک روئے گی کیسے؟غلام محی الدین نے کہا کہ اس فلم کے بہت سارے سین مشکل تھے ، ایک بہت مشکل جو سین تھا وہ یہ تھا کہ جب مجھے میری اہلیہ کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ کینسر کی مریضہ ہیں ، یہ پتہ چلنے پر مجھے ری ایکشن ایسا دینا تھا کہ آڈینز رو پڑے . یہ کافی مشکل سین تھا میرے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا.

  • پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    سینئر اداکارہ ثانیہ سعید جو کہ حقیقت کے قریب اداکاری کرنے کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، انہوں نے آج تک جتنے بھی کردار کئے ہیں ان میں انہوں نے کمال اداکاری کرکے شائقین کا دل موہ لیا ہے. ثانیہ سعید اپنی ذات میں اکیڈمی کی حیثیت رکھتی ہیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامے کا دنیا بھر میں مقابلہ نہ کل کیا جا سکتا تھا نہ آج کیا جا سکتا ہے. یہاں تک کہ انڈیا بھی ہمارے ڈراموں کا مقابلہ نہیں کر سکتا.انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈراموں نے آج تک اپنے کلچر اور روایات کو نہیں چھوڑا ، ہماری سٹوری لائن اتنی اچھی ہوتی ہے کہ ہر گزرتی

    قسط کے ساتھ اسکی دلچپسی بڑھتی جا تی ہے. ثانیہ سعید نے یہ بھی کہا کہ نئے آرٹسٹ بہت ہی باصلاحیت ہیں ان کی اداکاری رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے. میں تو حیران ہوں کہ نئے آرٹسٹ کیسے بغیر ٹریننگ کے اتنی اچھی اداکاری کر لیتے ہیں. میں تو نئے فنکاروں کے کام سے بہت متاثر ہوں ، یہاں تک کہ آج کل کے رائٹرز بھی بہت اچھا لکھ رہے ہیں. آج بھی ہمارا ڈرامہ پوری دنیا میں شوق سے دیکھا جاتا ہےآخر کوئی وجہ ہے تو ایسا ہے.

  • ایف آئی اے نے بلیک میلر ملزم کو گرفتار کرلیا

    ایف آئی اے نے بلیک میلر ملزم کو گرفتار کرلیا

    ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بلیک کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ترجمان کے مطابق ایف آئی اے سائبرکرائم سرکل حیدرآباد نے خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم سجاد علی کو گرفتار کر لیا۔ ملزم گزشتہ کئی ماہ سے شکایت کنندہ کو بلیک میل کر رہا تھا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا کے ذریعے شکایت کنندہ کی قابل اعتراض تصاویر اس کے رشتے داروں کو بھیجیں۔ ملزم سجادعلی کو خفیہ اطلاع ملنے پر مٹیاری سے گرفتار کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے موبائل سے شکایت کنندہ خاتون سے متعلق قابل اعتراض مواد برآمد ہوا اور جس سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے قابل اعتراض مواد شیئر کیا گیا اس کا سراغ بھی لگا لیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش کی جاری ہے۔