Baaghi TV

Author: +9251

  • وفاقی حکومت الیکشن کرانے میں تاخیر کا شکار کیوں؟

    وفاقی حکومت الیکشن کرانے میں تاخیر کا شکار کیوں؟

    اسمبلیاں تحلیل ہوئے تقریبا تین ہفتے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک حکومت نے نئے الیکشن بارے کوئی اعلان نہیں کیا ہے.

    ملک میں دو صوبوں جیسے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہے میں اسمبلیاں تحلیل ہوئے تقریبا تین ہفتے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک حکومت نے نئے الیکشن بارے کوئی اعلان نہیں کیا ویسے تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن ہوجانے چاہئے مگر یہ شرط بھی وفاق سے منسلک ہے کیونکہ ہر صوبے میں نئے الیکشن کی تاریخ کا حتمی فیصلہ گورنرز نے ہی کرنا ہوتا یے۔ پاکستانی آئین میں بھی درج ہے کہ جب ملک کی کوئی اسمبلی اپنی مدت پوری کیئے بغیر تحلیل ہوجائے تو 90 دن میں الیکشن کروانا لازمی ہوتا ہے۔

    لیکن وفاقی وزرا کے بیانات سے اندازہ لگائیں تو معلوم ہوتا پے حکومت تاحال الیکشن کرانے کے موڈ میں نہیں ہے اور وہ جیسے چاہتے ہیں جب قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہوگی تو پھر ایک ساتھ ہی تمام الیکشن ہونگے مگر سینئر صحافی حامد میر کے مطابق یہ حکومت نئے الیکشن کرانے کے ارادے میں نہیں ہے اور اس سب کا نقصان نواز شریف اور زرداری کو ہوگا۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    دوسری جانب آج ہی لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دے دیا ہے کہ وہ جلد از جلد آئین پاکستان کے مطابق 90 دن میں پنجاب میں الیکشن کروائے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا فلحال حکومت اس معاملے میں کرتی دکھائی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت بھی ماضی میں نام نہاد تبدیلی سرکار کی طرح ناکام ہوچکی ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ یہ اپنی عزت بچا سکیں مگر جیسے حالات اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اس حکومت کی بھی مقبولیت ختم ہوتی جارہی ہے۔

  • عدالت کا الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم

    عدالت کا الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں 90 دن کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم جاری کردیا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے دائر درخواست کو بھی منظور کرلیا۔ جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی اور محفوظ فیصلہ سنایا۔ قبل ازیں آئی جی پنجاب نے موقف اختیار کیا تھا کہ انتخابات سے متعلق جو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہو گا ہم اس پر عملدرآمد کریں گے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب نے آگاہ کیا تھا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے ہم اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذوری ظاہر کردی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا موقف تھا کہ تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے، عدلیہ ،چیف سیکرٹری، فنانس سب نے افسران اور فنڈز دینے سے معذرت کرلی ہے الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے.ہمیں الیکشن کرانے کے لیے 14 ارب روپے کی ضرورت ہے، قانون میں الیکشن کی تاریخ مؤخر ہو سکتی ہے ۔ گورنر کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل میں کہا اگر اسمبلی خودبخود تحلیل ہوتی ہے تو گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے. صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو کہ اب سنا دیا گیا ہے.

  • ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے.  وزیر اعظم

    ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے. وزیر اعظم

    ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، سیکیورٹی لیپس برداشت نہیں ہو گا، وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، سیکیورٹی میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیکورٹی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اس سلسلے میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کسی قسم کا سیکورٹی نقص برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے وفاق اور صوبوں میں رابطوں اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے. انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس کی استعداد کار میں بہتری لانے کے لئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ہتھیاروں اور سامان سے لیس کیا جائے۔ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ اپیکس کمیٹی میں کئے گئے فیصلوں پر بھرپور عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی سیکرٹری داخلہ نے حال ہی میں چاروں صوبوں کا دورہ کیا تاکہ امن و امان کے حوالے سے صوبوں کو درپیش مسائل اور درکار وسائل کا جائزہ لیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی، جہان زیب خان، چاروں صوبوں , گلگت بلتستان , آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹریز، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اسلام آباد کے آئی جیز پولیس اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی.

  • پنجاب کے لذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    پنجاب کے لذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    پنجاب کےلذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    اگر پنجاب کے مشہور کھانوں کی بات کی جائے تو بہت سے منفرد کھانے ذہن میں آتے ہیں. جیسے کہ سرسوں کا ساگ اور مکی کی روٹی پنجاب کی مشہور ترین کھانوں میں سے ایک ہیں۔ عام طور پر اس ڈش سے سردیوں کے موسم میں لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ لیکن مکھن اور بڑا سا گلاس لسی کے ساتھ اس کا مزہ لیا تو کہیں زیادہ ہی دوبالا ہوجاتا ہے.

    اس کے علاوہ ڈش جو پنجاب کھانوں میں جو لذت دار فوڈ ہے ان میں دہی بھلہ یا دہی بڑا کے نام جانا جاتا ہے، یہ گہری تلی ہوئی اُڑد کی دال کی گیندوں سے بنا پوا ہوتا ہے جسے بلے کہا جاتا ہے. اور پھر اسے اچھی طرح سے دہی میں ڈبویا جاتا ہے۔ ان کے ذائقے کو بڑھانے کے لیے ٹینگی اور میٹھی املی کی چٹنی اور دھنیا کی چٹنی شامل کی جاتی ہے۔ تاکہ اس کے ذائقہ کو مزید مزیدار بنایا جاسکے.
    علاوہ ازیں دال مکھنی بھی ایک لزت دار کریم اور مکھن کے گڑیوں کے ساتھ پوری کالی دال پر مشتمل ہے یہ پاکستان اور بھارت دونوں پنجاب میں مشہور ہے اس کا ذائقہ بہت ہی مزیدار ہوتا ہے اور دونوں ملکوں کے پنجاب میں ماضی میں تو کافی مشہور رہا ہے لیکن پاکستان میں اب یہ کم ہی رہ گیا بلکہ نایاب ہی ہوگیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اگر پنجاب کے میٹھے کھانوں کی بات کی جائے تو جلیبی کافی مشہور یہ اصل میں جالندھر کی تمام گلیوں میں دستیاب ہے لیکن پاکستان میں لاہور جلیبی کو دودھ کے گرم پیالے میں بھی ڈال کر دیا جاتا ہے جو بہت لذتدار ہوتا ہے۔ اسے میدہ کی مدد سے بنایا جاتا ہے اور گول جلیبیاں تو بہت ہی مزیدار ہوتی ہیں جبکہ یہ سرخ اور ہلکے ہھیکے سفید رنگ میں بھی بنائی جاتی ہیں.

  • بجلی منصوبوں کیلئے قرض پر سود عوام ادا کریں گے. ای سی سی نے منظوری دیدی

    بجلی منصوبوں کیلئے قرض پر سود عوام ادا کریں گے. ای سی سی نے منظوری دیدی

    بجلی منصوبوں کیلئے قرض پر سود عوام ادا کریں گے، ای سی سی نے منظوری دیدی

    وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں بخار کی دوا کی قیمت میں اضافے اور بجلی منصوبوں کے لیے قرض پر سود کی رقم عوام سے لینے کی منظوری دے دی۔ ای سی سی اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بخار کی دوا کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا، پیراسٹا مول کی 500 ملی گرام گولی کی قیمت 2.6 روپے اور پیراسٹامول ایکسٹرا کی 500 ملی گرام گولی کی قیمت 3.3 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ 20 ادویات کی قیمتوں میں کمی کی بھی منظوری دی گئی۔

    ای سی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بجلی منصوبوں کے لیے لیے گئے قرض پر سود کی رقم بھی عوام ادا کریں گے، بجلی صارفین پر ایک روپے فی یونٹ سر چارج لگانے کی منظوری دی گئی، سرچارج ‏300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر لاگو ہو گا، فنانس سرچارج کے ذریعے بجلی صارفین سے 76 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔ اعلامیے کے مطابق بجلی بلوں پر فنانس سرچارج رواں سال مارچ سے جون تک لاگو رہے گا، سرچارج کے الیکڑک سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہو گا۔

    ای سی سی نے پاور ہولڈنگ کمپنی کو 283 ارب روپے کی رقم کی ادائیگی مؤخر کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ فنانس ڈویژن کمپنی کو سود سمیت رقم کی ادائیگی کے لیے نئی گارنٹی دے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اگست اور ستمبر 2022 کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ سر چارجز کی بھی منظوری دی جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے اگست اور ستمبرکے بجلی کے بل معاف کرنے کی منظوری بھی دی گئی جس کا اطلاق 300 سےکم یونٹ استعمال والے گھریلو ‏صارفین پر ہو گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    ای سی سی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کمرشل صارفین کے لیے اگست اور ستمبرکے ‏بجلی کے بلوں کی ادائیگی مؤخر کرنے کی منظوری بھی دی، سیلاب زدہ علاقوں کے بجلی بلوں کے لیے 10 ارب 34 کروڑ روپے گرانٹ ‏کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں نطرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ پلان کی ‏منظوری دی اور اجلاس میں وزارت دفاع کے لیے 45 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔

  • پی ٹی آئی نے 4 سال حکومت کے دوران صرف تباہی کی.  مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی نے 4 سال حکومت کے دوران صرف تباہی کی. مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی کی وفاق میں 4 سال اور خیبرپختونخوا میں 10 سال حکومت کے دوران صرف تباہی ہوئی ہے اور اس کی طویل داستان ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاق میں 4 سال اور خیبرپختونخوا میں 10 سال حکومت کے دوران صرف تباہی ہوئی ہے اور اس کی طویل داستان ہے۔ ایبٹ آباد میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس اتحادی حکومت نہیں گئی عمران خان گئے تھے، ہم نے آئی ایم ایف پروگرام پہلے بھی مکمل کیا اور اب بھی مکمل کریں گے، ملکی معیشت کو خود انحصاری کی جانب لے جائیں گے، صحافیوں کا تحفظ اور ان کو تمام سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے خیبرپختونخوا میں ہزارہ سے تنظیمی اجلاسوں اور ورکرز کنونشنز کا آغاز کیا، انہوں نے یہاں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا، سوشل میڈیا ونگ کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بالخصوص نواز شریف کا پورے خیبرپختونخوا بالخصوص ہزارہ کے عوام کے ساتھ محبت کا رشتہ ہے، جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں آئی ہمیشہ ہزارہ اور خیبرپختونخوا کی ترقی کیلئے اقدامات کئے۔

    انہوں نے کہا کہ 2014ء میں محمد نواز شریف نے صحت کارڈ کا اجراء خیبرپختونخوا سے کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ عرصہ قبل ہزارہ الیکٹرک کمپنی کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ موٹروے نواز شریف کی ہزارہ کے عوام سے محبت کی نشانی ہے، شہباز شریف نے پنجاب کو ترقی یافتہ بنایا، اسی طرز پر خیبرپختونخوا کو ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں جہاں میٹرو، ہسپتال، لیبارٹریز، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز، یونیورسٹیاں اور سکولز ہوں، گزشتہ 10 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت رہی، ایسا کوئی ہسپتال یا سکول تو چھوڑیں ان میں کوئی کمرہ ہی دکھا دیں جو انہوں نے بنایا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد پریس کلب باقی پریس کلبوں کیلئے ایک مثال ہے، ہزارہ پریس کلب کے صحافیوں کی تمام ضروریات پوری کریں گے، جب اسلام آباد میں ان کی حلف برداری کی تقریب ہو گی تو ان کو لیپ ٹاپ دیئے جائیں گے، پریس کلب میں جدید سٹوڈیو کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے کیونکہ پریس کلب میں سٹوڈیو وقت کی ضرورت ہے، ہزارہ پریس کلب کے فرنیچر سمیت دیگر ضروریات کا بھی جائزہ لیں گے، ہزارہ پریس کلب کے صحافیوں کیلئے پہلے ہی فنڈ قائم کیا جا چکا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت اور عوام کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے، پی ٹی آئی کی وفاق میں چار سال اور خیبرپختونخوا میں 10 سال حکومت کے دوران صرف تباہی ہوئی ہے اور اس کی طویل داستان ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال صحافیوں کے ساتھ سڑکوں پر وقت گزارا، ان کی مشکلات کا اندازہ ہے، صحافیوں کی سکیورٹی اور سیفٹی کا بل وزارت انسانی حقوق کو بھیجا گیا تھا وہ واپس وزارت اطلاعات کے پاس منگوایا تاکہ اس کے قواعد و ضوابط بنا کر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے، آئندہ ہفتے اس کی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، صحافیوں کے تحفظ کیلئے ان کی سفارشات اور مشاورت سے مل کر کام کریں گے، ہزارہ کے صحافیوں کے نمائندہ ثاقب بشیر کو کمیٹی میں شامل کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پیمرا ایکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے، پہلی بار کونسل آف کمپلینٹس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو نمائندگی دی گئی ہے اس سے الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کی شکایات حل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کیلئے چار ماہ کا وقت دیا ہے، جو ادارہ تنخواہ نہیں دے گا اس کے اشتہارات بند کر دیں گے، اس حوالہ سے ترمیم وفاقی کابینہ سے منظور ہو چکی ہے اور اسے جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات پر میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، بات چیت کا عمل مکمل ہو گیا ہے، ورچوئل اجلاس پیر سے ہو گا، طریقہ کار کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہو گا جس کے بعد معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق حکومت نے مارچ میں معاہدہ کے برعکس سبسڈی دی حالانکہ عمران خان نے اس معاہدہ پر دستخط کئے تھے، 2016ء میں محمد نواز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام مکمل کیا، اس پروگرام کے دوران روٹی، چینی، آٹا، گیس سمیت کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا، پانچ سال کے دوران چینی کی قیمت 52 روپے فی کلو اور آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلو رہی، اب عمران خان کی ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کئے، یہ مہنگائی ان کا تحفہ ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے اور امید ہے کہ معاہدہ کے بعد ایسا ہی ہو گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو آئی ایم ایف کے ساتھ یہ معاہدہ معطل تھا، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، ہم نے اس معاہدہ کو بحال کیا، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور اب مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں نے خود قومی اسمبلی سے استعفے دیئے، اس وقت انہوں نے بھنگڑے ڈالے، پارلیمنٹ کو گالیاں دیں، امپورٹڈ کہا، یہ اپنے گذشتہ دور میں بھی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے، یہ ہر بات پر یوٹرن لیتے ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ سے استعفوں کا اعلان کیا، اب پارلیمنٹ میں کیا کرنے جا رہے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کی منشا کے مطابق پارلیمنٹ چلے، آپ کی مرضی کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ چلیں، الیکشن کمیشن آپ کے ماتحت ادارہ نہیں ہے، وہ آئین و قانون کے مطابق کام کر رہا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت کے مشیر بغیر کسی تنخواہ کے کام کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار فرید کل کنونشن اور آج اجلاس میں موجود تھے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس اتحادی حکومت نہیں گئی عمران خان گئے تھے، آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ہم نے پہلے بھی یہ پروگرام مکمل کیا اور اب بھی مکمل کریں گے، ملکی معیشت کو خود انحصاری کی جانب لے جائیں گے۔

  • خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنے والے 10 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیمیں جمع ہیں جہاں وہ آٹھویں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کو تیار ہیں۔ ٹورنامنٹ جمعہ 10 فروری سے شروع ہورہا ہے جس میں آسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی جس نے 2020 میں اپنے ہوم گراؤنڈ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلنے جانے والے فائنل میں بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کو 85 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کو اپنے اولین میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی ۔ اسی ٹورنامنٹ میں آئی سی سی نے فرنٹ فٹ نوبال کو مانیٹر کرنے کیلئے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ٹیکنالوجی کواستعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایونٹ میں حصہ لینے والی10 ٹیموں کو پانچ پانچ کے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میزبان جنوبی افریقہ سمیت 8 ٹیمیں براہ راست رینکنگ کی بنیاد پر ٹورنامنٹ میں شرکت کی اہل ہیں جبکہ آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر اس مرحلے میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

    گروپ اے میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا’ بنگلہ دیش’ نیوزی لینڈ’ میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا گروپ بی میں انگلینڈ’ بھارت’ آئرلینڈ’ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں ۔ ٹورنامنٹ کے میچز تین شہروں کوساہ ( پورٹ ایلزبتھ) پارل اور کیپ ٹائون میں کھیلے جائیں گے ۔ افتتاحی میچ اور فائنل کی میزبانی کیپ ٹائون کر رہا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم 20 اوورز کے اس ٹورنامنٹ میں پانچ مرتبہ فاتح رہی ہے جبکہ انگلینڈ کی خواتین نے 2009 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے اولین کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر جیتا تھا۔ اس کے بعد انگلش خواتین کی ٹیم تین مرتبہ فائنل میں پہنچی لیکن ہر بار اسے روایتی حریف آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔ ویسٹ انڈین خواتین نے 2016 میں بھارت میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ویسٹ انڈین ٹیم نے اس ایونٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے اور دوسرے ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تھی ۔ پہلے ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ اور دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں آسٹریلیا نے زیرکیا تھا ۔

    آسٹریلوی ٹیم کو سب سے زیادہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے اورجیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آسٹریلوی خواتین نے سات ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 38 میچز کھیلے اور 29 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ صرف آٹھ میچوں میں اسے شکست ہوئی۔ ایک میچ ٹائی ہوا۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے 30 میں سے 18 میچ جیتے 12 ہارے۔ نیوزی لینڈ نے 32 میں سے 22 جیتے 10 ہارے۔ بھارت کو 31 میچز میں سے 17 میں کامیابی ملی جبکہ 14 میں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ جنوبی افریقن ٹیم 27 میچز میں سے 11 جیتی 16 ہاری۔ سری لنکن ٹیم نے میچز میں سے آٹھ جیتے اور 19 ہارے۔ بنگلہ دیش نے 17 میچوں میں سے صرف دو جیتے اور 15 میں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ آئرلینڈ13 اور تھائی لینڈ نے 4 میچ کھیلے لیکن دونوں ٹیموں کو تمام میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ویسٹ انڈیز وہ واحد ملک ہے جسے دومرتبہ ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔ ویسٹ انڈیز نے 2010 اور2018 میں اس ایونٹ کی میزبانی کی تھی اوردونوں بار ویسٹ انڈین ٹیم کو سیمیفائنل میں شکست ہوئی تھی۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا وہ ممالک ہیں جنہوں نے میزبانی کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیتا جبکہ تین میزبان ایشائی ملک پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہوگئے تھے۔ 2012 کے میزبان ملک سری لنکا ’ 2014 کا میزبان بنگلہ دیش اور 2016 کا میزبان بھارت گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے نام سے ہوا تھا اور 2019 تک اسے آئی سی سی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ جس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ رکھ دیا گیا ۔ یہ 20 محدود اوورز کا خواتین کرکٹ کا دو سالہ بین الاقوامی ایونٹ ہے۔ یہ ایونٹ بین الاقوامی کرکٹ کی گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔

    اس کا پہلا ایڈیشن 2009 میں انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ پہلے تین ٹورنامنٹس میں آٹھ آٹھ ممالک شریک ہوئے تھے۔ لیکن پھر 2014 کے بعد ٹیموں کی تعداد کو بڑھا کر 10 کر دیا گیا تھا۔ جولائی 2022 میں آئی سی سی نے اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش 2024 کے ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا اور 2026 کے ٹورنامنٹ کا میزبان انگلینڈ ہو گا اور اس ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 10 سے بڑژھا کر 12 کر دی جائے گی ۔ ہر ٹورنامنٹ میں 8 ٹیموں کی ایک مقررہ تعداد خود بخود کوالیفائی کرتی ہے، باقی ٹیموں کا تعین ورلڈ T20 کوالیفائر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 2014 تک ڈراز کے وقت آئی سی سی ویمنز ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ میں ٹاپ چھ ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرتی تھیں جبکہ دو ٹیمیں کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر آنی تھیں۔ 8 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیموں کو ساتوں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کااعزاز حاصل ہے جن میں آسٹریلیا’’ نیوزی لینڈ’ جنوبی افریقہ’ سری لنکا’ انگلینڈ’ بھارت“ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ بنگلہ دیش چار’ آئرلینڈ تین اورتھائی لینڈ نے ایک بار اس ایونٹ میں شرکت کی ہے۔

    ٹورنامنٹ میں شریک ہر ٹیم 15 رکنی اسکواڈ پر مشتمل ہے تام زخمی ہونے والی کھلاڑیوں کیلئے متبادل کی اجازت ہے۔ ٹورنامنٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ٹیموں نے 6 سے 8 فروری تک وارم اپ میچز کھیلے۔ جس میں آئرلینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کی کارکردگی بھی کوئی متاثر کن نہیں ہے۔ پاکستان نے سات ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 28 میچز کھیلے ہیں اور صرف آٹھ میچوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ 19 میچز میں اسے حریف ٹیموں نے زیر کیا۔ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ پاکستان کی 15 رکنی ٹیم آل راؤنڈر بسمہ معروف کی زیر قیادت اس ٹورنامنٹ میں شرکت کررہی ہے ٹیم کی دیگرکھلاڑیوں میں ندا ڈار (نائب کپتان) ایمن انور ’عالیہ ریاض ’ عائشہ نسیم‘ صدف شمس’ فاطمہ ثنا’ جویریہ ودود’ منیبہ علی صدیقی’ نشرہ سندھو’ عمیمہ سہیل’ سعدیہ اقبال’ سدرہ امین’ سدرہ نواز اور طوبیٰ حسن شامل ہیں جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں کائنات امتیازاور غلام فاطمہ شامل ہیں۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف اس بارگروپ مرحلے سے آگے بڑھنے کیلئے خاصی پرامید ہیں۔ بسمہ معروف دوسری بار ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کررہی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ٹیم کی مسلسل اچھی کارکردگی کی وجہ سے اسبار پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بہتر نتائج دے گی۔ ٹیم جواں سال باصلاحیت اورتجربہ کار کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت شامل ہے لیکن پاکستان کا روایتی حریف کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ بھارت کو پاکستان پر ٹی 20 میچوں میں تین کے مقابلے میں 10 فتوحات کی برتری حاصل ہے۔ تاہم حال ہی میں ایشیاکپ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو 13 رنزسے شکست دی تھی اور 138 رنز کے ہدف کاکامیابی سے دفاع کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم نے جنوری 2021 کے بعد 21 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے جن میں سے 10 جیتے اور9 میں حریف ٹیمیں فاتح رہیں۔

    پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا زیادہ تر دارو مدار بسمہ معروف’منیبہ علی ’سدرہ امین‘ عمیمہ سہیل پر ہے جبکہ نداڈاراورعائشہ نسیم جارحانہ بیٹنگ کر کے رنزوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ طوبیٰ حسن’ ندا ڈار’ نشرہ سندھو’ فاطمہ ثنا اپنی شاندار نپی تلی بولنگ سے حریف ٹیموں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس سب کا پتہ توگراؤنڈ میں چلے گا جب ٹیمیں کامیابی کیلئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ ٹورنامنٹ کا پہلا میچ 10 فروری کو گروپ اے میں شامل میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے مابین کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔ گروپ راؤنڈ میچز 22 فروری تک جاری رہیں گے اور دونوں گروپوں سے دو دو ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گے. 11 فروری کو پارل میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز’ آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ’ 12 فروری کو ایشیا کے دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کیپ ٹاؤن میں مدمقابل ہوں گی جبکہ اس میچ کے بعد اسی گراؤنڈ پر بنگلہ دیش اور سری لنکا کا مقابلہ ہوگا ۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے لئے بڑا حکم جاری کردیا ہے، عدالت نے لاہور شہر میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعللق کیس کی سماعت کی، نگران حکومت کی جانب سے سموگ تدارک کے لئے چینی ماہرین کی خدمات کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔عدالت نے ٹریفک کے رش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت کر دی۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نگران حکومت نے سموگ تدارک کے لئےچینی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ورکنگ پیپر جاری کردیا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ اس ورکنگ پیہر کو وفاقی حکومت کےذریعے چِینی حکومت سے شئیر کریں ۔ چینی ماہرین کی مدد سے سموگ کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ شہر میں درخت کاٹنے کو فوجداری جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جائے ، لاہور شہر میں سموگ کے معاملے پر پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں ، درخت کاٹ کر حالات مزید ابتر نہ کئے جائیں ۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی پراجیکیٹ کے لئے آئندہ محکمہ ماحولیات درختوں کی کٹائی کی صورت میں این او سی جاری نہ کرے۔عدالت نے ٹریفک کےرش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈز اویزاں کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

  • نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف  ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی ہے.محمدخان بھٹی کےخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کیلئے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ محمدخان بھٹی کو ملنے والی تنخواہیں، مراعات اور سیشن الاؤنس کاریکارڈحاصل کرلیا، بینک نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ نیب کو جمع کرا دیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ محمدخان بھٹی نے2007 تا 2018 جبری رخصت پر ہونے کے باوجود تنخواہیں وصول کیں اور کروڑوں روپے کی غیرقانونی مراعات وصول کیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے کروڑوں روپے کی مخلتف ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا۔ محمدخان بھٹی کےخلاف ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں بھی مبینہ کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی اہلیہ نے شوہر کی گمشدگی پر چیف جسٹس پاکستان سے ازخود نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح‌رہے کہ اس سے قبل محمد خان بھٹی کے خلاف مقدمے میں نامزد ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال کا عدالت میں دیا گیا اعترافی بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محمدخان بھٹی ٹرانسفر پوسٹنگ کی مد میں زبردستی رشوت وصول کرایا کرتے تھے، ترقیاتی کاموں کی مد میں زبردستی محمد خان بھٹی رشوت وصول کرایا کرتے تھے۔ ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ محمدخان بھٹی پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے فرنٹ مین ہیں، ذکا نامی شخص نے محمدخان بھٹی سے متعارف کرایا تھا، 10 لاکھ رشوت کے عوض مجھے ایکسیئن ایم اینڈ آر گجرات تعینات کرایا گیا، گجرات میں کام شروع کیا تو ابتدائی 3 ماہ میں محمد خان بھٹی کو تقریباً 3کروڑ روپے پہنچائے، جس کے بعد محمد خان بھٹی نے میرا تبادلہ بطور ایس ڈی او ہائی وے پھالیہ کرا لیا۔

    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے جولائی میں کنٹریکٹرز کو نئےکام دینے کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کیا، پھالیہ تعیناتی کے دوران 25 کروڑ اکٹھےکر کے محمد خان بھٹی کو جی او آر ون ان کے گھر پہنچائے، مئی 2022 سے جولائی 2022 تک میں او ایس ڈی رہا، پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا اور محمد خان بھٹی سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ لگ گئے۔ ملزم نے اعترافی بیان میں مزید بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ بنتے ہی میرے آرڈر بطور ایکسیئن منڈی بہاؤالدین کرا دیے، محمد خان بھٹی نے مجھے من پسند آسامیوں پر تعیناتیوں کی مد میں پیسے اکٹھے کرنے کا ٹاسک سونپا، دلشاد کو ایکسیئن ہائی وے لاہور تعینات کرنے کے لیے 20 لاکھ رشوت لی تھی. کاشف شکور سے ایس ای لاہور سرکل تعینات کرنے کے لیے 50 لاکھ رشوت لی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ مختلف افسروں کو من پسند آسامیوں پر تعینات کرنے کے لیے مجموعی طور پر 2 کروڑ رشوت لی گئی تھی. محمد خان بھٹی پرنسپل سیکرٹری بنے تو مختلف محکموں کے لیے ڈیویلپمنٹ کا بہت بڑا پیکج منظور کروایا، محمد خان بھٹی کی ہدایت پر کام دینے کے عوض 50کروڑ جمع کر کے ان کے گھر پہنچائے، رشوت دیتے وقت رہائش گاہ پر مونس الٰہی اور دیگر بھی موجود تھے، مونس الٰہی کی موجودگی میں 2 کمپنیوں کو کام دینے کا حکم دیا، دو کمپنیوں کو کام دلوانے کی مد میں محمد خان بھٹی نے 10کروڑ روپے رشوت لی تھی.

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا ہے.

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا۔ سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 98 ہزارروپے ہوگئی. 10 گرام سونےکی قیمت میں 2 ہزار 829روپےکااضافہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 ڈالر کی کمی سے 1865 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعہ کو فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 3300 روپے اور 2829 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    نتیجے میں ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 198000 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 169753 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 30 روپے کے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 25.72 روپے کے اضافے سے 1851.85 روپے کی سطح پر آگئی۔رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔

    انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    دوسری طرف پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا، 100 انڈیکس 724 پوائنٹس کم ہوکر 41 ہزار 741 پر بند ہوا۔ کاروباری دن میں 100 انڈیکس 890 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں آج 28 کروڑ 18 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، شیئرز بازار کے کاروبار کی مالیت 14.70 ارب روپے ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    مارکیٹ کیپٹلائزیشن 93 ارب روپے کم ہوکر 6559 ارب روپے ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد فی اونس نرخ 1865 ڈالر پر آگئے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔