ٹوئیٹر بلیو؛ اب ایک ٹوئٹ میں 4 ہزار الفاظ لکھے جا سکیں گے
اب ٹوئٹر پر 280 نہیں بلکہ 4 ہزار حروف کی ٹوئٹ لکھنا ممکن ہو گیا ہے۔ اگر آپ ٹوئٹر میں طویل تحریر پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا ممکن ہو سکے گا، لیکن یہ سہولت ابھی ہر کسی کے لیے نہیں دی جائے گی، کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکا میں سبسکرپشن سروس ٹوئٹر بلیو کا حصہ بننے والے افراد کو دی جائے گی۔
more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more words more…
گزشتہ دنوں کچھ گھنٹوں کیلئے بڑے شہروں میں بجلی کیا گئی تھی پورے ملک کا میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ اٹھا لیکن کیا ان بڑے شہروں میں بسنے والوں نے ان علاقوں کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے جہاں کئی کئی ہفتوں تک بجلی سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے جبکہ محکمہ واپڈا کے سرکاری ملازمین بجلی صارفین کی شکایت پران کا مسئلہ حل کرنے میں ہفتے لگا دیتے ہیں کیونکہ یہ محکمہ ایک ایسا سفید ہاتھی بن چکا ہے جس کی غلطی اور بدعنوانیوں کیخلاف شائد کسی میں ہمت نہیں کہ وہ برخلاف بدعنوان افسران کوئی کاروائی عمل میں لا سکے لیکن میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ صوبائی سطح کا ایک وزیر بھی اس محکمے کے آگے بے بس ہوگا۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ مقامی وڈیروں کے مظالم کیخلاف لکھنے پر جب مجھ پر ان کے لوگوں نے حملے شروع کئے تو میں نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ روز بروز کسی نہ کسی تنازعہ کو لیکر کبھی میرے بھائیوں تو کبھی رشتہ داروں کے ساتھ لڑائی جھگڑے جبکہ سیاسی اثرورسوخ پر ناصرف مجھے پولیس سے گرفتار کروا کر شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ میرے بہت ہی قریبی رشتہ داروں کیخلاف بھی ٹھیک اسی طرح کے جھوٹے و من گھڑت الزامات لگا کر مقدمات درج کروائے گئے اور حوالات بند کروا کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جیل ڈلوایا گیا تاکہ وہ میرے خاندان کے ساتھ غمی خوشی کا معاملہ منقطع کردیں اور میرے خاندان کو مجبور کیا جاسکے کہ میں ان کے مظالم کے خلاف بولنا بند کردوں لہذا یہ سب ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے میرے خاندان سمیت گاؤں چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ لوگ ہر لحاظ سے مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے مجھ سے جڑے لوگوں کو کوئی مزید نقصان پہنچ جائے علاوہ ازیں گاؤں چھوڑنے کی دوسری اہم وجہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم بھی تھی کیونکہ گاؤں میں اسکول صرف جماعت پنجم تک تھا اور اس میں بھی کئی قسم کی مشکلات تھیں جیسے کہ اساتذہ پڑھانے کیلئے بھی نہیں آتے تھے کیونکہ مقامی وڈیرے چاہتے تھے کہ یہاں کے بچے پڑھنے لکھنے نہ پائیں اور یوں سیاسی اثرورسوخ پر وہ لوگ حاضری نہ کرنے والے اساتذہ کو محکمانہ کاروائی سے بھی بچا لیتے تھے۔
بہرحال جب ہم گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہوئے تو میں نے اس وقت محکمہ واپڈا (پیسکو) کو ایک درخواست لکھی جس میں آگاہ کیا گیا تھا کہ اس تاریخ سے ہمارا گاؤں والا گھر بند ہے اور ایسا نہ ہو کہ آپ جرمانہ بھیج دیں، ناصرف تحریری طور پر محکمہ کو آگاہ کیا تھا بلکہ زبانی طور پر بھی بزات خود اپنے علاقہ کے اس وقت کے میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا تاکہ وہ بھی لاعلم نہ رہے۔ یہاں پر ایک بات واضح کرتا چلوں کہ اس کے باوجود کہ بجلی کئی کئی دنوں میں سے چند گھنٹوں کیلئے منہ دکھائی کی رسم پوری کرتی تھی پھر بھی پورے گاؤں کے اُن چند گھرانوں میں ہم بھی شامل تھے جنہوں نے بجلی کے میٹر لگوا رکھے ہیں اور باقاعدگی سے بل ادا کرتے رہے لیکن ہمارے گاؤں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میرے والد کے نام پر لگے اس میٹر کے بل میں تقریبا بیس ہزار روپے سے زائد کا جرمانہ بھیج دیا گیا چونکہ اس وقت میری تعلیم بھی جاری تھی اور تعلیم کے ساتھ ایک جگہ پر کام بھی کررہا تھا تو مجھے اس وقت فوراََ وقت نہ مل سکا لہذا اگلے میں بل کے آتے ہی بڑی مشکل سے اپنے مالک سے چھٹی لے کر پیسکو آفس جا پہنچا جہاں ایک متعلقہ افسر صاحب کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اِس ایک ماہ کے اندر جرمانہ ڈبل ہوکر چالیس ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے اور ہم انتہائی غریب لوگ ہیں براہ کرم یہ بغیر کسی جرم کے عائد کیا گیا ہے لہذا اس کو ختم کیا جائے جس پر موصوف نے جواب دیا کہ یہ جرمانہ بجلی استعمال نہ ہونے یعنی میٹر بند ہونے یا یونٹ کم آنے کی وجہ سے لگایا گیا ہے تاہم انہیں درخواست کی نقل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جناب کے محمکہ کو ناصرف تحریری طور پر آگاہ کیا تھا بلکہ میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا کہ اب ہم شہر منتقل ہورہے ہیں لہذا آئندہ سے گھر بند ہوگا مگر یہ سب سننے کے باوجود بھی افسر صاحب نے بڑے متکبرانہ انداز میں فرمایا "اب آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا، جائے اور بِل جمع کروائے۔”
پڑوسی کی لگی کنڈی کی وجہ سے میٹر والے گھر پر جرمانہ دے دیا گیا۔
واپڈا آفیسر صاحب کی یہ بات سن اور انداز محسوس کرکے مایوس ہوگیا کیونکہ میرے پاس اتنی وافر دولت تو تھی نہیں کہ بلاجواز جرمانہ ادا کر دیتا لہذا پھر میں نے اسے موجودہ بل جمع کروانے کی استدعا کی تو انہوں نے موجودہ بل جمع کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ "جرمانہ سمیت مکمل بِل ادا ہوجائے گا۔” تاہم بعدازاں وقتاََ فوقتاََ جب موجودہ بِل جمع ہوجاتا تو کردیتے تھے اور نہ ہوتا تو رہنے دیتے تھے اور یوں گاؤں کے گھر کا جرمانہ بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ 43 ہزار سے بھی اُوپر بڑھ گیا ہے۔
گزشتہ سال ایک دن تحریک انصاف کے ایک سینئر صوبائی وزیر سے بات ہورہی تھی تو میں نے انہیں محکمہ واپڈا (پیسکو) سے متعلق اپنا تجربہ بتایا جس کے بعد انہوں نے واپڈا بارے جو الفاظ ادا کیئے انہیں اخلاقی طور پر یہاں تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔ جبکہ اب کئی سال بعد شہر کے گھر جو کرایہ کا ہے کے میٹر پر بھی گزشتہ دسمبر کے بل میں 46 ہزار روپے کا جرمانہ پیسکو کی جانب سے بھیج دیا گیا ہے، جسے دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے اور میں یہ سوچنے لگا کہ چلو وہ گاؤں والا میٹر تو والد کے نام پر تھا جرمانہ ادا نہیں کیا تھا لیکن یہ تو کرایہ کا گھر ہے اب اگر ادھر بھی محمکہ واپڈا نے جرمانہ ختم نہ کیا تو کیا ہوگا؟ یہی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ مالک مکان کی کال نے مزید پریشان کردیا جب انہوں نے میری پوری بات سنے بغیر بل میں جرمانہ بارے سن کر کہا بس اسے فوراََ جمع کروائیں کیونکہ میں نے تو آپ کو کلیئر بل دیا تھا۔
اس کے بعد میں نے میٹر ریڈر کا نمبر تلاش کیا اور انہیں مسلسل تین دن لگاتار پہلے پیغامات جبکہ بعدازاں کالز کرتا رہا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جسکے بعد اسلام آباد سے رات کے وقت نکلا اور صبح اپنے شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر پیسکو دفتر جرمانے والا بل ہمراہ لے کر پہنچ گیا جہاں انہوں نے زبانی طور پر بتایا کہ آپ پر جرمانہ کنڈا یعنی بجلی چوری کرنے کی وجہ سے آیا ہے میں نے ان سے اس کا ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا آپ کے کم یونٹ اس بجلی چوری کا ثبوت ہیں تاہم میرے ٹھوس ثبوت کے مطالبے پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور ان کے پاس کوئی خاطرخواہ جواب نہ تھا جبکہ میں نے انہیں گزارش کی کہ جس بنا پر میرے خلاف جرمانہ عائد کرنے کا جواز پیش کیا جارہا ہے ایک تو اس کا آپ کے پاس ثبوت نہیں اور دوسرا کنڈے پڑوسیوں نے واضح لگائے ہوئے جن کے خلاف کاروائی کے الٹا آپ میٹر لگانے والوں پر بلاجواز جرمانے دے رہے اس کے ساتھ ثبوت کے طور انہیں تصاویر بمع ویڈیوز بھی پیش کیں اور یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ آپ لوگ ابھی چلیں میں آپ کو دیکھا سکتا ہوں کہ ابھی بھی سرعام کنڈے لگے ہوئے ہیں لیکن افسر صاحب نے مجھے شائد ٹالنے کیلئے کہا تھا کہ آپ جاؤ ہم آئندہ بروز ہفتہ 14 جنوری کو آپ کے پاس موقع پر آکر معائنہ کریں گے جبکہ حضور والا ابھی تک نیا مہینہ فروری لگ جانے کے باوجود بھی میری شکایت پر معائنہ کرنے نہیں آئے ہیں۔
خیال رہے حالیہ دنوں واپڈا اہلکار میرے قریبی محلہ میں کنڈا کے خلاف آپریشن کرنے آئے اور اس محلہ کی طرف جانے والی مین تاروں کو کاٹ دیا جبکہ میرے گھر کی گلی سے گزرے تو اظہر من الشمس لگے کنڈے نظرانداز کردیئے گئے اور چونکہ وہ گاڑی میں تھے تو علم ہونے پر گھر سے باہر نکلا اور انہیں رکنے کا اشارہ کیا تاکہ شکایت بارے دوبارہ آگاہ کروں اور لگے کنڈوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواؤں مگر وہ بغیر مجھے شکایت بتانے اور بجلی چوری کی نشاندہی کروانے کا موقع دیئے چلے گئے۔ تاہم بعدازاں محلے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دن جو پیسکو اہلکار بجلی کی تاریں کاٹ گئے تھے وہ آج دوبارہ لگا گئے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد بجلی چوری کو کرنا نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا.
بالآخر تنگ آکر اس مسئلہ پر متعلقہ محکمہ، وفاقی وزیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی جس میں مدعا بیان کیا کہ؛ "وزیراعظم شہباز شریف صاحب! آپ نے ٹھیک فرمایا تھا کہ اس ملک میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس ہے، میں مستقل بل ادا کرتا ہوں جبکہ میرے محلہ کی اکثریت نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں مگر شائد کنڈا کے بجائے میٹر لگوانا میرا جرم بن گیا اور پیسکو نے46529 روپے کا بل بھیج دیا جوکہ میری ماہانہ آمدن سے بھی زائد ہے۔ حالانکہ میرا سردیوں کے دوران ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے ایک گھر جو بند ہے پر بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ سے بھی زائد ہوگیا ہے جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کرنے پر جواب دیا گیا کہ جرمانہ ادا کریں۔”
حالانکہ میرا ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے اس گھر جو بند 🔐 ہے پر ایک لاکھ سے زائد بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا۔ جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کی تو جواب ملا ادا کرو
اس ٹوئیٹ پر مجھے کسی متعلقہ شخص یا اہل اقتدار نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن کچھ ٹوئیٹر صارفین نے کنڈا لگانے کا مشورہ ضرور دیا اور کچھ نے تو بنا پوری بات جانے ہی کہہ دیا کہ آپ کے بِل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بجلی چوری کرتے ہیں کیونکہ بل بہت کم ہے لہذا کم بل پر بجلی چوری کا الزام لگانے والوں کیلئے عرض ہے کہ میں اس گھر میں چند ماہ پہلے کرایہ پر مُنتقل ہوا ہوں اور اس سے قبل گھر بند تھا جسکے سبب 123 روپے تک کا بھی بل آتا رہا تھا اب چونکہ سردیاں ہیں تو بلبوں، استری اور موبائل چارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتی جبکہ گھر میں بھی کوئی اے سی، واٹر پمپ یا زیادہ بجلی پر استعمال ہونے والی چیز ہے نہیں اور دوسرا گھر میں شمسی سسٹم موجود ہے لہذا ہماری کوشش یہ ہوتی کہ کم سے کم بجلی کا استعمال ہو تاکہ بِل کم آئے اور سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس گھر میں بہت کم رہتے ہیں کیونکہ میں اسلام آباد میں باغی ٹی وی سے بطور نیوزایڈیٹر منسلک ہوں تو صحافتی کام کے سلسلہ میں زیادہ تر اسلام آباد میں رہنا پڑتا ہے.
بہرحال بہت سارے لوگوں نے مجھے واپڈا سے متعلق اپنے تجربات بارے بتایا تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا محمکہ واپڈا بذات خود بجلی چوری پر عوام کو مجبور کرتا ہے؟ تو اس کا جواب چچا رحیم (فرضی نام) نے دیا کہ جی ہاں! یہ محمکہ خود ہی عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بجلی چوری کریں اور پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ یا پھر میرے ساتھ نہیں ہوا کئی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کیونکہ کئی بجلی صارفین نے انہی بغیر جرم کے جرمانوں کے سبب تنگ آکر بجلی کے میٹر اتار کر اب براہ راست کنڈے لگادیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چچا رحیم نے جواب دیا کہ میں نے خود بیٹوں سے جھگڑا کرکے اپنے نام پر بجلی کا میٹر لگوایا تھا چونکہ میں اس وقت بجلی چوری کو ناصرف جرم بلکہ گناہ کبیرہ سمجھتا تھا لیکن میرے بیٹے مجھے کہتے تھے بابا میٹر نہ لگوائیں کنڈا ٹھیک لگا ہوا ہے کیونکہ کئی لوگوں نے جرمانوں کے سبب میٹر کٹوا دیئے ہیں۔ مگر میں نے ان کی ایک نہ سنی اور بجلی کا میٹر لگوا دیا جسکے کچھ سال بعد مجھے تقریبا پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھیجا گیا تھا جو محمکہ پیسکو میں ایک جاننے والے اہلکار کی سفارش کے بعد ختم ہونے کے بجائے آدھا ہوگیا تو قسط کروا کر جمع کرواتا رہا لیکن اُسکی مکمل ادائیگی کے کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ پیسکو نے 30 ہزار روپے کا جرمانہ بھیج دیا جسکے بعد میں نے میٹر اتار کر کنڈا لگا دیا اور اب سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ کنڈا لگا لو مگر بجلی کا میٹر کبھی بھی نہ لگوائیں۔
آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی کے ساتھ محمکہ واپڈا یا کسی نے بھی ایسی کوئی ناانصافی کی ہے تو اس کے جواب میں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ بجلی چوری کی جائے یا غلط کام کے بدلے غیر آئینی کام کیا جائے جبکہ آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انصاف کے تقاضے کیلئے آواز بلند کی جائے اور ایسے محکموں یا بدعنوان اور ظالم افراد کو بے نقاب کیا جائے. جبکہ میری ذاتی رائے کے مطابق افسوس ہے کہ پاکستان میں اچھے لوگوں کی قدر ہے اور نہ برے کی پکڑ لہذا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم ان تمام مسائل کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں لیکن جہاں تک محکمہ واپڈا کی بات ہے تو اس کی بہتری کا واحد حل صرف ور صف نجکاری ہے اور اس کی زندہ مثال پی ٹی سی ایل ہے کیونکہ اب سے پہلے اس کا بھی یہی کچھ حال تھا لیکن جب سے اس کی نجکاری ہوئی ہے اب اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے.
نوٹ؛ اگر محکمہ واپڈا (پیسکو) اس پر اپنا موقف دینا چاہے تو malikramzanisra@gmail.com پر رابطہ کرسکتا ہے.
زہ ترین الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج
صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں آج الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر ریٹرننگ افسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر، ندیم قریشی، جاوید اختر انصاری، ن لیگی امیدوار شیخ طارق رشید اور حاجی احسان الدین قریشی سمیت 250 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عامر ڈوگر، ندیم قریشی، جاوید اختر انصاری، ن لیگی امیدوار شیخ طارق رشید اور حاجی احسان الدین قریشی سمیت 250 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ہی اس ہنگامہ آرائی کے ذمہ دار ہیں لہذا ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل مین لائی جائے گی.
راولپندی سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی مصنوعی قلت جبکہ پمپس بند
راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی مصونعی قلت پیدا کردی گئی۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں پٹرول کی قیمت میں ممکنہ اضافےکے پیش نظر پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی ہے، پیٹرول پمپس مالکان نے پیٹرول کی فروخت بند کردی۔ پنجاب کے شہر بشمول راولپنڈی، عارف والا، جلالپور، پیروالا، چنیوٹ، شرقپور شریف اور گجرات میں مصنوعی قلت کے باعث پیٹرول نایاب ہوگیا۔
دوسری جانب پنجاب میں پمپس پر پیٹرول کی عدم دستیابی پر وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں تاہم کچھ لوگ زیادہ نفع کے لئے تیل کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں جن کے خلاف حکومت ایکشن لے گی۔
پی ائی اے کے دو طیارے امدادی سامان لیکر ترکی اور شام کیلئے روانہ
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے کی ایما پر پی ائی اے کے دو طیارے امدادی سامان لر کر ترکی اور شام روانہ کردیئے گئے ہیں جبکہ انہوں نے مزید بتایا کہ 4۔7 ٹن کارگو لے کر پی آئی اے کی پرواز پی کے 705 سے صبح 45۔8 پر اسلام آباد سے استنبول کیلئے روانہ ہوئی تھی.
ترجمان کے مطابق 14 ٹن امدادی سامان بشمول سردیوں کے خیمے اور کمبل لے کر پی آئی ای کی خصوصی پرواز پی کے 9135 اسلام آباد سے دمشق روانہ ہوئی ہے جبکہ پرواز پی کے 9135 پاکستانی وقت کے مطابق صبح 30۔10 پر روانہ ہوگئی. خیال رہے کہ
حکومت پاکستان کی ہدایات پر پی آئی اے کا طیارہ 51 رکنی ریسکیو ٹیم کو لے کر آج دوپہر استنبول پہنچا تھا. علاوہ ازیں مزید بھی بتایا گیا تھا کہ پی کے 707 پاکستانی ریسکیو ٹیم اور ان کے 7 ٹن وزنی خصوصی آلات کو لے کر لاہور سے استنبول روانہ ہوگی.
ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی استنبول(ترکیہ) اور دمشق(شام) جانے والی تمام پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت کردی گئی ہے. جبکہ سامان این ڈی ایم اے کے ذریعے پی آئی اے کے کارگو ٹرمینل پر پہنچایا جاسکتا ہے اور پی آئی اے وسیع تر قومی مفاد میں ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرتا ہے جوکہ ہمارا قومی فریضہ ہے کیونکہ کسی بھی امدادی کام یا زخمی ہم وطنوں کو وطن واپس لانے کے لئے پی آئی اے تمام وسائل بروئے کار لائے گا.
الیکشن سے زیادہ اہم عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے. حاجی غلام علی
گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کا نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں الیکشن خونی ثابت ہوسکتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے غلام علی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی الزام تراشی کی سیاست سے نکلے، میں نے اپنی رائے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے کیونکہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شاید میں اپنا مؤقف سمجھا نہیں پا رہا، میں نےکسی کو مشاورت کے لئے نہیں بلایا، کیالکی مروت اور ڈی آئی خان میں انتخابی مہم چلائی جا سکتی ہے، صوبےکی سکیورٹی صورتحال سب کےسامنے ہے، لہٰذا ہمارے لئے الیکشن سے زیادہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اہم ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ پر زور دیئے جانے پر حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ پشاور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا اسی دن یہ الیکشن کے لئے عدالتوں میں مصروف تھے۔
نئے سال کے پہلے ماہ میں ہی 7 ہزار سے زائد اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رپورٹ.
نیا سال بھی شہر قائد کے شہریوں کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا، سال کے پہلے ماہ میں 7 ہزار سے زائد اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوگئیں۔ سیٹیزن پولیس لائیژن کمیٹی نے سال کے پہلے مہینے کے اعداد و شمار جاری کردیے جس کے مطابق سال کے پہلے مہینے جنوری میں مجموعی طور پر 7 ہزار 249 اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
گزشتہ سال جنوری میں 2 ہزار 499 شہریوں کو ان کے موبائل فونز سے محروم کردیا گیا تھا، سی پی ایل سی کے مطابق جنوری میں اغوا برائے تاوان کا ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ مختلف قتل غارت گری کے واقعات میں 50 افراد جاں بحق ہوئے۔ ذرائع کے مطابق صرف جنوری میں شہر میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر 13 نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
ضمنی انتخابات کیلئے سکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں. وزارت دفاع
وزارت دفاع نے خیبر پختونخوا و پنجاب اسمبلی میں الیکشن اور قومی اسمبلی کی 93 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے رینجرز اور ایف سی کی فراہمی کے معذرت کر لی ہے جبکہ رینجرز اور ایف سی کی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر تعیناتی کے حوالے سے وزارت دفاع نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز بارڈر اور اندرونی ملک سکیورٹی میں مصروف ہیں۔
وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب رینجرز راجن پور ضمنی الیکشن میں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر دستیاب ہو گی۔ دوسری جانب وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن سے وسیع تر قومی مفاد میں انتخابات کے لیے اضافی ضمنی گرانٹ کی درخواست مؤخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دے دیا۔
وفاقی وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دے دیا جبکہ ذرائع کے مطابق وزرات خزانہ نے الیکشن کمیشن سے انتخابات کے لیے اضافی گرانٹ کا مطالبہ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے وزارت خزانہ سے عام انتخابات کیلئے اضافی 14 ارب مانگے تھے. جبکہ نجی ٹی وی کے ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے درخواست ہے وسیع تر قومی مفاد میں اضافی ضمنی گرانٹ کا مطالبہ مؤخر کرے۔ وزارت خزانہ کا کہنا تھاکہ ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہونے تک اضافی ضمنی گرانٹ کے مطالبے کو مؤخر کیا جائے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی، پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی خالی نشستوں سمیت عام انتخابات کے لیے اضافی گرانٹ مانگی تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزارت خزانہ کو اس سلسلے میں ایک درخواست دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عام انتخابات کے اخراجات 47 ارب سے بڑھ کر 61 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، 14 ارب روپے کی اضافی گرانٹ عام انتخابات کیلئے درکار ہوگی۔
مزید یہ بھی بڑھیں؛ پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی، پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی خالی نشستوں سمیت عام انتخابات کے لیے اضافی گرانٹ مانگی تھی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے وزارت خزانہ کو اس سلسلے میں ایک درخواست دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عام انتخابات کے اخراجات 47 ارب سے بڑھ کر 61 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، 14 ارب روپے کی اضافی گرانٹ عام انتخابات کے لیے درکار ہوگی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیےمنظور شدہ 47 میں سے 25 ارب روپے فوری درکار ہیں ، 25 ارب روپے میں سے 5 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں جب کہ 25 ارب میں سے بقایا 20 ارب روپے بھی فوری جاری کیے جائیں۔
تحریک انصاف کے صوبائی صدر پرویز خٹک کا الیکشن کمیشن کو خط.
صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا پرویز خٹک کاکہنا ہے کہ گورنر حاجی غلام علی اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو لکھے گئے خط میں پرویزخٹک نے لکھا کہ گورنر خیبرپختونخوا نگراں حکومت کے معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔ گورنر کی مداخلت سے صوبائی انتخابات متنازع ہونے کا امکان ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر کا کام اسمبلی تحلیل کے 90 روز کے اندر پولنگ کے دن کا تعین کرنا ہے مگر گورنر کے اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹوں ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے الیکیشن کمیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا میں شفاف انتخابات کے انعقاد کےلیے گورنر کو نگراں حکومت کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے۔
واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے پنجاب میں اپنے ہم منصب بلیغ الرحمٰن اور نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک علیحدہ علیحدہ انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگست میں وفاقی حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد رواں برس کے آخر میں کروانے چاہئیں۔ جبکہ گورنر پنجاب نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان 2 علیحدہ علیحدہ انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس مشق پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔