Baaghi TV

Author: +9251

  • قصور : سرائے مغل میں‌ ایک نوسالہ بچی اغوا

    قصور : سرائے مغل میں‌ ایک نوسالہ بچی اغوا

    پتوکی :پتوکی کے علاقے سرائے مغل میں دو موٹر سائیکل سوار افراد نے نوسالہ بچی اغوا کر لی۔مقدمہ درج۔تفصیلات کے مطابق سرائے مغل میں رہائش پذیر محمد عارف کی نوسالہ بیٹی سویرا دوکان پر سودا لینے کیلئے گئی اس دوران موٹر سائیکل سوار دو ملزمان محسن اور شمع نے بچی کو اٹھایا اور موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے

    ذرائع کےمطابق سرائے مغل میں‌اغوا ہونے والی بچی کے والد محمد عارف نے پولیس کو تحریری طور پر تمام صورتحال سے آگاہ کیا تھانہ سرائے مغل پولیس نے اغوا ہونے والی نوسالہ بچی سویرا کے والد کی تحریری درخواست پر دونوں ملزمان محسن اور شمع کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک پولیس بچی کو بازیاب نہیں کرواسکی۔

  • بستی ملوک سی پیک منصوبہ پر کام   کرنے والا مزدور دوران ڈیوٹی  حادثہ کا شکار اور موقع پر جانبحق

    بستی ملوک سی پیک منصوبہ پر کام کرنے والا مزدور دوران ڈیوٹی حادثہ کا شکار اور موقع پر جانبحق

    بستی ملوک (نمائندہ باغی ٹی وی )سی پیک منصوبے پر چائینہ کمپنی میں مزدوری کرنے والا نوجوان شوکت حسین والد واحد بخش دوران ڈیوٹی حادثے کا شکار موقع پر جانبحق،ڈرائیور زخمی۔تفصیلات کے مطابق شوکت حسین پل بلیل کے قریب پانی والے ٹینکر کی مدد سے صبح چار بجے کے قریب پودوں کو پانی لگا رہا تھا کہ ڈرائیور کو نیند آگئی اور ٹینکر الٹ گیا مزدور اس کے نیچے آنے کی وجہ سے موقع پر ہلاک ہو گیا غریب خاندان کے گھر میں کہرام مچ گیا شوکت حسین موضع چدھڑ کا رہائشی تھا۔جبکہ ٹینکر کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا ہے جسے نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا ۔رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان ۔شجاع آباد

  • خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    ایک بالغ مرد/عورت ایک بچے سے چار کامیاب عادتیں سیکهہ سکتے هے.
    پہلی. بغیر وجہ کہ خوش رہنا.
    دوسری. کسی نہ کسی چیز میں ہر وقت مصروف رہنا.
    تیسری. سیکهنے (کاپی کرنے) کی ہردم کوشش کرنا.
    چوتھی. جس چیز کی خواہش ہو اسے پوری قوت سے طلب کرنا.

    شارٹ کٹ راستہ جو کہ آپکو رفعتوں تک پہنچا سکتا هے ان طفلی عادات سے ہی ممکن هے.
    کیونکہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا هے .اور انکی عادات ایک خدائیہ تحفہ ہوتی ہیں.
    خداداد_صلاحیات) نامی لفظ تو اکثر سنتے ہی ہونگے .
    اصل میں یہ وہ عادات ہیں جو ہمارے پیدا ہونے سے اب تک ہمارے ساتهہ جڑی ہیں.اور جو رہ گئیں وہ ہماری کمزوریاں کہلاتی هیں.
    آپ نے اکثر بچوں کو دیکها تو ہو گا!
    ننهے بچے جب چلنا سیکهتے ہیں تو سینکڑوں بار رینگتے ہیں .کهڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں .بار بار گرتے ہیں.اور پهر اٹهہ کر چلنے لگتے ہیں.
    بعض اوقات دهڑام سے سر کے بل بهی گر جاتے ہیں روتے ہیں.لیکن پهر بهی باز نہی آتے.
    اور پهر ایک وقت آتا هے وہ کهڑا ہو کر چلنا اور چلنے سے دوڑنا یہ سب مراحل بخوبی سیکهہ جاتے ہیں.
    ان سب کے باوجود کبهی آپ نے انسے سنا ہو.
    ہزار بار کوشش کی لیکن کامیابی بے سود.
    بس جی بس.اب اور نہی ہوتا مجهہ سے؟..(کبهی نہی)

    اب دوسرا_رخ دیکهئیے.!
    اب یہی بچہ بڑا ہو کر اپنی صلاحیت قوت اعتمادی اور جهد مسلسل. کو بهول جاتا هے.
    اور پهر اسی وجوہات سے ناشکری. شکوے. احساس کمتری. جیسی کئ وباوں کا شکار ہو جاتا هے.
    اگر وہی بچہ اپنی تعمیری کردار میں یہ عادت نہیں بهولتا تو معآشرہ اسے ایک کامیاب پرسن کے نام سے بلاتا…

    مشہور حکایت هے.ایک آدمی نے سقراط سے پوچها.
    کامیابی کا اصل راز کیا هے.
    سقراط نے قریبی ندی میں اسے دهکا دے دیا.
    وہ بیچارہ ہاتهہ پاوں مارنے لگا آخر کار باہر نکل ہی گیا.
    اسنے سقراط سے پوچها .مجهے دهکا کیوں دیا.؟؟
    سقراط بولا جب تم پانی کے اندر تهے تمہیں سب سے زیادہ کس کی فکر تهی .کہنے لگا اپنی جان کی.
    سقراط کہنے لگا یہی کامیابی کا راز هے.جتنی ضرورت تمہیں کامیابی کی ہو گی اتنی ہی تم کوشش کرو گے .اور یہی کوشش کسی دن تمہیں کنارے پے لا کهڑا کر دے گی.

    اصل المیہ ہمارا یہ هے.ہم میں سے بہت لوگ اسلئیے اپنے آپ کو محنت میں نہی ڈالتے کیونکہ وہ اندیشوں میں جیتے ہیں.
    ایک بات ذہن نشین کر لیجئیے زندگی میں ہمیشہ آپکی محنت/رویہ.ہی آپکی رفعتوں کا فیصلہ کرتا هے.
    اور ہر لمحہ گویا لمحہ آغاز هے.you can do it.
    ابهی سے شروع کیجئیے اور بن جائیے خداداد صلاحیات کے مالک..

    تحریر از : جواد سعید

  • ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق نے قائداعظم ٹرافی کا دوسرا سیزن شروع ہونے سے پہلے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکت کا معیار بلند ہو رہا ہے ، اچھی پچز تیار ہو رہی ہیں ، اچھے گراؤنڈز میں میچز ہو رہے ہیں ، کوکا بورا بال کا پاکستان کی ڈومیستک میں استعمال خوش آئند ہے ، لیکن اب کھلاڑیوں کو اپنے مائنڈ سیٹ بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے ،
    اسد شفیق کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ کے پچھلے کچھ عرصے سے ہم اچھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے جسے بہتر کرنا ہو گا خواہ کیسی ہی مشکل کنڈیشنز ہوں ہمیں پروفیشنل کے طور پر پرفارم کرنا ہو گا ، مصباح الحق سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ مصباح الحق کے آنے سے یقیننا فرق پڑے گا ، وہ کسی بھی مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی حواس باحتہ نہیں ہوتے ،ان کے تجربے سے نوجوانوں کو بہت کچھ سیکھنے ک وملے گا ،

  • صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    تخلیق ارض و سماء اور پھر تخلیق آدم علیہ السلام سے اب تک اس دنیا میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے. بہت سے لوگ آئے اور گئے جن کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں اور بہت سے لوگ ایسے آئے جن کے کارناموں کو درج کر کے مؤرخین نے اپنی تحریر کو چار چاند لگائے، وہ کسی قوم کے لیے بہترین رہنما تو کسی قوم کے لیے بدترین دشمن تھے.

    آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں ان کو دنیائے تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے وہ ایک قوم کے بہترین رہنما، سپہ سالار اور ایک تاریخ ساز جنگجو تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسری قوم کے لیے بد ترین دشمن تھے جس نے ان کے ناک میں دم کر رکھا تھا.

    کسی کو کیا معلوم تھا کہ 20 اگست 1858ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص ایک تاریخ رقم کر جائے گا. میری مراد لیبیا کی تحریک آزادی کے مشہور رہنما اور نڈر جنگجو عمر المختار ہیں.

    عمر المختار 1858ء میں لیبیا (جو کہ اس وقت خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھا) کے ایک گاؤں جنزور میں پیدا ہوئے. کم عمری میں ہی ان کے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنا بچپن غریبی میں گزارا. ابتدائی تعلیم مسجد سے حاصل کی اور جلد ہی قرآن کی تعلیم کے ماہر ہو گئے اور اپنے علاقے میں امام کے نام سے پکارے جانے لگے.

    یہ اکتوبر 1911ء کی بات ہے جب ترکی اور اٹلی کے درمیان جنگ کے دوران اطالوی فوج کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر آ پہنچے اور اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے خلافت عثمانیہ اور لیبیا کے لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے کو اٹلی کی تحویل میں دے دیں اور خود اس علاقے کی ملکیت سے دستبردار ہو جائیں ورنہ وہ لیبیا کے دو اہم شہروں تریپولی(طرابلس) اور بنغازي پر حملہ کر دیں گے.

    وہاں کے لوگوں نے اطالوی فوجوں کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اندرون ملک جا کر ان کے خلاف مزاحمت شروع کر دی جس کے بعد اطالوی فوجوں نے مذکورہ دونو‍ں شہروں پر بمباری شروع کر دی جو کہ تین دن تک جاری رہی "کہا جاتا ہے کہ یہ اطالوی فوجوں اور مزاحمتی جماعتوں کے مابین جنگ کی شروعات تھی.”

    عمر مختار جو کہ معلم قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ لیبیا کے جغرافیہ سے بخوبی آگاہ تھے اور صحرا میں جنگ لڑنے کی حکمت عملیوں سے بھی خوب واقف تھے، انہوں نے گوریلا حملوں کی تکنیک کو اپناتے ہوئے اطالوی فوجوں پر حملے شروع کر دیے. وہ چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں بٹ کر حملہ کرتے اور فوجی چوکیوں، رسد گاہوں اور فوجی قافلوں کو نشانہ بناتے. اطالوی چونکہ بیرونی طاقت تھے اور وہاں کے جغرافیہ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے تھے لہذا ہر گوریلا حملے نے انہیں گہرے زخم پہنچائے.

    ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ اٹلی میں موسولینی کی جماعت انقلاب کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آ گئی. موسولینی نے بھی آتے ہی عمر مختار کی فوج کو روکنے اور لیبیا پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش شروع کر دی.

    عمر مختار کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اطالوی فوج نے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قید کرنا شروع کر دیا ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار لوگوں کو قید کیا گیا جس میں سے دو تہائی شہید ہو گئے. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی یہ تحریک آزادی کمزور نہ پڑی اور اطالوی فوج کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ گئیں.

    عمر مختار کی بیس سالہ جدوجہد اس وقت اختتام کو پہنچی جب وہ ایک حملے میں زخمی ہو کر اطالوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. قید کے دوران ان پر خوب تشدد کیا گیا. ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا اور ان سے تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں پڑھتے.

    ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی.دانشور آج بھی ان پر چلائے جانے والے مقدمے اور عدالتی غیر جانبداری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے ” انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا.انہیں 16 ستمبر 1931ء کر سر عام پھانسی دی گئی کیونکہ عدالت کا حکم تھا کہ انہیں ان کے پیروکاروں کے سامنے سر عام پھانسی دی جائے.

    "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے””یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    معلوماتی ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق:آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم”The Lion of Desert” یعنی "صحرا کا شیر” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفٰی العقاد تھے۔ فلم میں عمر مختار کا کردار انتھونی کوئن نے ادا کیا۔

    یہ ہے وہ کہانی جو کہ وکی پیڈیا اور اس جیسی دیگر معلوماتی ویب سائٹس کی فراہم کردہ معلومات پر مشتمل ہے. اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ عمر مختار جیسے مجاہد کی زندگی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے؟ اگر ہم عمر مختار کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ان کی زندگی ہمیں بہادری، شجاعت، مسلسل جدوجہد اور ہمت و حوصلے کا درس دیتی ہے.

    حالات چاہے جیسے بھی ہوں، دشمن چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن ہر حال میں اللہ پر توکل، وطن عزیز کی حفاظت، اپنی قوم کی آزادی کا جذبہ اور فہم و فراست، یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو ایک سادہ لوح انسان کو بھی شیر جیسا طاقتور بنا دیتی ہیں پھر وہ اللہ پر توکل کر کے اپنی قوت ایمانی کو بروئے کار لا کر اپنے فہم سے منصوبہ بندی کر کے دشمن سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے نیست و نابود کر دیتا ہے.

    ایسے ہی لوگوں کو تاریخ یاد رکھتی ہے اور ایسے ہی لوگ دیگر قوموں کے لیے مثالیں چھوڑ جاتے ہیں پھر 63 سال بعد 1994ء میں پیدا ہونے والے برہان وانی بھی ایسے ہی لوگوں کی زندگی کو مشعلِ راہ بنا کر دشمن سے ٹکراتے ہیں اور 2016ء میں جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں.

    آج بھی کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اس راہ میں آنے والی تمام مصیبتوں کا سامنا بڑی دلیری سے کر رہے ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب مظلوموں کی آہ سنی جائے گی، جب آسمان سے کشمیریوں کے حق میں فیصلے اتریں گے، جب ظالم سے اس کے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا، جب کشمیر کے لوگ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں گے، جب آنے والی نسلوں کے بچے اپنے خوبصورت بچپن کو اپنے دوستوں کے ساتھ بنا کسی ڈر کے گزار سکیں گے،

    جب بیٹے کے باہر جانے پر ماں کو یہ ڈر نہیں ہو گا کہ پتہ نہیں میرا بیٹا زندہ واپس لوٹ کر آئے گا یا نہیں یا کسی جرم میں قید تو نہیں کر لیا جائے گا، اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی ہر مسجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی، جب کشمیر میں سکون ہو گا، جب کشمیر تعلیم و ترقی کے میدان میں اپنا سفر شروع کرے گا اور اب وہ وقت دور نہیں جب ہندؤں کا ظلم ان کو لے بیٹھے گا اور وہ تاریخ کا صرف ایک سیاہ باب بن کر رہ جائیں گے.

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
    جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
    (فیض احمد فیض)

    تحریر : محمد ہارون

  • چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    آج حسب معمول دوکان پہ تھا ناشتے کے وقت سے پہلے گھر سے پیغام آیا ناشتہ منگوا دیں۔وجہ پوچھنے پہ جواب ملا کہ گیس نہیں آ رہی اس لیے آج آپ ہوٹل والوں کے مہمان ہیں۔

    "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”
    کے مصداق لڑکے کو ہوٹل کی طرف بغرض خرید ناشتہ روانہ کیا۔ مزیدار چنے اور تندوری چپاتی سے پیٹ پھاڑ ناشتہ کیا۔ڈٹ کر ناشتہ تو کر لیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں ( روح اقبال سے معذرت کے ساتھ )

    "ناشتہ تو کر لیا پل میں بھر میں بھوکے پیٹ والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی ہے چاۓ کے بنا یوں رہ نہ سکا”

    گھر والوں نے کہا کہ چاۓ گیس آنے پہ ہی مہیا کی جاۓ گی۔انتظار فرمائیے آپ کا مطلوبہ چاۓ کا کپ بوجہ گیس شٹ ڈاون دستیاب نہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا صبر کے گھونٹ پی کے چپ کر گیا۔ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے جلدی دوکان بند کی اور تیاری کرکے جمعہ پڑھنے مسجد کو پدھارے مابدولت لیکن طبعیت میں اک عجیب سی سستی چھائی ہوئی تھی۔خطبہ جمعہ نے سستی کو دو آتشہ کر دیا اور ذہن ایسے ماؤف ہو گیا جیسے بی پی لو ہو۔ واپس گھر آ کے محترمہ گیس کی دستیابی کا پوچھا لیکن جواب نفی میں ملا تو بنا کچھ کھائے پئے بستر سنبھالنا مناسب سمجھا۔ تھوڑی دیر بعد پیارے بھائی حامد کی کال آئی جس میں انہوں نے بعد از عصر کھانے کی دعوت دی جس کو ناساز طبع کے بنا قبول نہ کرتے ہوۓ معذرت کی.

    شام میں اٹھا تو جان افزا خبر موصول ہوئی کہ بی گیس آ چکی ہے اور چاۓ پی لیں۔فنٹاسٹک ٹی کا ایک کپ معدے کی نظر کیا تو ابھینندن کی طرح آنکھیں روشن اور دنیاوی حقائق واضح ہو گئے۔ چاۓ کا کپ پینے کے بعد عقدہ کھلا کہ بی پی لو کا معاملہ نہیں تھا بلکہ چاۓ کی طلب نے دیوانہ بنا رکھا تھا۔ اس سارے معاملے میں بنیادی کردار گیس شٹ ڈاون تھا جس کی وجہ سے چاۓ نہ پی سکا اور ہیرونچیوں جیسی کیفیت ہوگئی۔ آج اندازہ ہوا کہ نشے کی طلب کتنی شدید اور جان لیوا ہوتی ہے۔

    محکمہ گیس کے لئیے شعر عرض کیا ہے ( افتخار عارف سے معذرت کے ساتھ )

    چاۓ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    گیس والوں کو وہ گالیاں دیں ہیں جن سے واقف بھی نہیں تھے

    از حفیظ اللہ سعید

  • بھارت، یونیورسٹی میں بی جے پی سے وابستہ تنظیم کی ہنگامہ آرائی

    بھارت، یونیورسٹی میں بی جے پی سے وابستہ تنظیم کی ہنگامہ آرائی

    بھارتی ریاست مغربی بنگال کی جادو پور یونیورسٹی میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور وزیر مملکت بابل سپریو، بی جے پی سے وابستہ طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کے لیے یونیورسٹی پہنچے۔ وہاں بائیں بازو کی حمایت یافتہ طلبا تنظیم نے حملہ کرکے رکن پارلیمنٹ کو یرغمال بنا لیا۔

    بھارت:یونیورسٹی کے نصاب میں‌آر ایس ایس کی تاریخ شامل،نیا تنازع شروع ہوگیا

    واقعہ کے بعد اے بی وی پی کے حامیوں نے یونیورسٹی میں گھس کر کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور دیواروں پرآرٹس فیکلٹی اسٹوڈنٹس یونین کے خلاف اور اے بی وی پی کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی۔ حملہ آورروں نے یونیورسٹی کی کینٹین میں بھی خوب توڑ پھوڑ کی اور کئی دکانوں اور موٹر سائیکلز کو نذر آتش بھی کیا۔ انہوں نے گیٹ توڑنے کی بھی کوشش کی۔

    اسی دوران یونیورسٹی کے طلباء کو زدوکوب اور مارا پیٹا گیا۔ اے بی وی پی کے حامیوں نے راستے میں لگے ہوئے ایس ایف آئی، ٹی ایم سی اورآرٹس فیکلٹی اسٹوڈنٹس یونین کے پوسٹرز اور پلے کارڈز بھی جلا دیئے ۔

    واضح رہے کہ بابل سپریو کی یونیورسٹی میں آمد کی خبر کے بعد سے ہی یونیورسٹی میں احتجاج شروع ہو گیا تھا،اس دوران بابل کو سیاہ جھنڈے دکھائے گئے اور ان کو گھیر کر احتجاج کیا گیا۔

  • مبشرلقمان کےخلاف حکومتی شخصیت نےحریم شاہ اورصندل خٹک کےذریعےسازشی کھیل کھیلا، بھرپور مذمت کرتے ہیں ، رانا عظمیم ، شہزاد حسین بٹ ود یگر

    مبشرلقمان کےخلاف حکومتی شخصیت نےحریم شاہ اورصندل خٹک کےذریعےسازشی کھیل کھیلا، بھرپور مذمت کرتے ہیں ، رانا عظمیم ، شہزاد حسین بٹ ود یگر

    لاہور : معروف اینکر ، کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کے خلاف ایک حکومتی شخصیت نے دو ٹک ٹاک گرلز کے ذریعے کھیل کھیلا ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کی تمام جرنلسٹ یونینز کے سربراہان اور ذمہ داران نے ایک مذمتی بیان میں‌ کیا ،

    اطلاعات کےمطابق پاکستان فیڈریل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم ،پنجاب یونین آ ف جرنلسٹس کے صدر شہزاد حسین بٹ نے پاکستان کےمعروف ترین صحافی اور معروف اینکر مبشر لقمان پر ایک پالننگ کےتحت الزام لگانے پر ٹک ٹاک گرلز حریم شاہ اور صندل خٹک کی شدیدمذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی کچھ اہم شخصیات باقائدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کچھ کر وا رہی ہیں ان کا اصل مقصد سچ کودبانا اور مبشر لقمان جیسی شخصیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے

    مبشرلقمان سے ہمیشہ حق اور سچ کی بات کی ہے ان کے خالف یہ پراپیگنڈہ آزادی صحافت کو دبانے کی ایک سازش ہے۔ حکومت پنجاب اس بات پر جواب دے کہ کیوں ہیں اب تک مقدمہ درج کیا گیا کیوں اور کس کے کہنےپر اقرار کے باوجود ٹک ٹاک گرلز کو بچایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب ہم کسی صورت میں بھی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے پی ایف یو جے اور تمام پریس کلبز مبشر لقمان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اب یہ آزادی صحافت پر حملہ کرنے والوں کو ہم جواب دیں گے

  • وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا..

    ڈیرہ غازیخان(تنویراحمد)وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا مرکزی ریلی بمبے چوک سے نکالی گئی جس میں ڈپٹی کمشنر وقاص رشید، چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سردار احمد علی دریشک،ڈی پی او اسد سرفراز کے علاوہ دیگر افسران اورزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی. شرکاء نے قومی اور کشمیری پرچم اٹھائے ہوئے تھے "پاکستان زندہ باد "،”کشمیر بنے گا پاکستان” کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے اس موقع پر استحکام پاکستان،ملک و قوم کی خوشحالی اور کشمیر کی آزادی کے لئے خصوصی دعا کی گئی.ڈپٹی کمشنروقاص رشید نے یکجہتی کشمیر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ہر پلیٹ فارم پر کشمیر کی آزادی کیلئے آواز بلند کی جاتی رہے گی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم اور جارحیت کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلایا جائے. چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سردار احمد علی دریشک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائیگا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کشمیریوں کے حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی پاکستانیوں کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتاہے بھارت کو کشمیر میں ظلم و ستم بند کرنا ہوگاڈی پی او اسد سرفراز نے کہا کہ کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا کشمیری اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں.ہم سب ان کے ساتھ ہیں.