Baaghi TV

Author: +9251

  • ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے19نئے کیس رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے19نئے کیس رپورٹ

    قومی ادارہ صحت( این آئی ایچ ) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے19نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔ہفتہ کو این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 4ہزار250کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے19ٹیسٹ مثبت آئے ۔ اس دوران کورونا ٹیسٹ کی مثبت شرح 0.45 فیصد رہی۔ اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 9مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    ملک بھر کے مختلف شہروں میں24گھنٹوں کے دوران کیے گئے ٹیسٹوں میں اسلام آباد می330ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے2 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا اور وہاں پر مثبت کیسوں کی شرح 0.61فیصد رہی ، اسی طرح لاہور میں 521 ٹیسٹوں میں سے6کے ٹیسٹ مثبت جبکہ وہاں شرح1.15 فیصد رہی جبکہ فیصل آباد میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 163کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں ایک ٹیسٹ مثبت آیا اور مثبت کیسز کی شرح 0.61فیصد رہی ۔ اسی طرح پشاور میں 257ٹیسٹ کئے گئے جن میں ایک ٹیسٹ مثبت آیا اسطرح مثبت کیسز کی شرح 0.39فیصد ریکارڈ کی گئی۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ چین کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے داخلے کی تعداد میں اضافہ رکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بیجنگ کے فراہم کیے گئے کورونا ڈیٹا پر رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد 70 فیصد بڑھی۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق 3 سالوں میں پہلی مرتبہ 63 ہزار سے زائد کورونا مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ یاد رہے کہ رواں ماہ نیشنل ہیلتھ کمیشن میں بیورو آف میڈیکل ایڈمنسٹریشن کے سربراہ جیاؤ یاہوی نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 8 دسمبر 2022 سے 12 جنوری 2023 تک 59 ہزار 938 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار 503 اموات براہ راست کورونا وائرس کی وجہ سے اور 54 ہزار 435 اموات کورونا اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔

  • جو کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ادارے ان سے کاروباری تعاون ختم کر دیں. پی ٹی اے

    جو کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ادارے ان سے کاروباری تعاون ختم کر دیں. پی ٹی اے

    جو کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ادارے ان سے کاروباری تعاون ختم کر دیں. پی ٹی اے

    پی ٹی اے نے غیر اخلاقی مواد کی بلاکنگ میں عدم تعاون پر غیر رجسٹرڈ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔ پاکستان ٹيلی کميونيکيشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی بلاکنگ میں عدم تعاون کرنے والی غیر رجسٹرڈ سوشل میڈیا کمیپنیوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ہے۔

    پی ٹی اے نے کہا ہے کہ جو کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ادارے ان سے کاروباری تعاون ختم کر دیں، اور حکومت تمام ریگولیٹرز کو ہدایت جاری کرے۔ پی ٹی اے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حکومت اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور وزارت تجارت کو ہدایات دے، کوئی بھی ادارہ کاروبار سے پہلےسوشل میڈیا کمپنیوں کا پی ٹی سے اسٹیٹس چیک کرے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    پی ٹی اے نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں خود کو پاکستانی قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں، اور غیر اخلاقی توہین آمیز مواد بلاک کرنے میں تعاون نہیں کر رہیں، توہین مذہب کے حساس معاملے پر کمپنیوں کا عدم تعاون ناقابل قبول ہے۔ پی ٹی اے نے سفارش کی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو رجسٹریشن اور مواد کی بلاکنگ کیلئے حتمی نوٹس دیا جائے، غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کیخلاف سوشل میڈیا قوانین کے تحت جرمانے کئے جائے، حکومت پاکستان کی ہدایات کو نظر انداز کرنے والی کمپنیوں کی بندش کی جائے۔

  • اسلام آباد پولیس اہلکاروں کیلئے موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار

    اسلام آباد پولیس اہلکاروں کیلئے موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار

    اسلام آباد پولیس اہلکاروں کیلئے موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار

    اسلام آباد کے پولیس اہکاروں کے لیے موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ سی پی او ہیڈ کوارٹرکی جانب سے جاری احکامات کے مطابق پولیس ملازمین دفتری اوقات میں موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں جونظم و ضبط کے خلاف ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پولیس ملازمین کے موبائل فون دفاتر کے داخلہ پرضبط کرنے کی تجویزبھی زیرغور ہے۔

    مزید کہا کہ تمام پولیس ملازمین دفتری اوقات کارمیں موبائل فون کا استعمال ترک کردیں، دوران ڈیوٹی جو پولیس ملازم موبائل فون کا استعمال کرینگے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی۔ اعلامیہ کی کاپی تمام تمام متعلقہ افسران کو ارسال کردی گئی ہے۔ دوسری جانب خیال رہے کہ گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصرخاں کے خصوصی احکامات پر پولیس ملازمین کورعائتی نرخوں پربہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے نجی ادارے کیو جے ڈائیگناسٹکس (QJ Diagnostic)اور اسلام آبادکیپیٹل پولیس کے درمیان یاداشت پر دستخط۔ ہوئے تھے.


    ترجمان پولیس کے مطابق؛ معاہدے کے تحت پولیس ملازمین کو پیتھولوجیکل اور ایکس رے کی مد میں 25فیصد رعائیت اورہیپاٹائیٹس میں مبتلا پولیس جوانوں کو ٹیسٹ،اور ادویات کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی،یہ سہولیات پورے پاکستان میں قائم ادارے کی لیبارٹیریز اور فارمسیزسے حاصل کی جا سکتی ہیں۔اے آئی جی جنرل ماریہ محمود
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

  • پنجاب اور کے پی عام انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عام انتخابات میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں صوبوں میں عام انتخابات، الیکشن 2018ء میں استعمال کردہ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کے ذریعے کروائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آر ایم ایس کو موڈیفائی کرنے کے لیے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ بھی دے رکھا ہے.

    جس پر کمپنی آر ایم ایس کو موڈیفائی کر کے 2 ماہ تک الیکشن کمیشن کے حوالے کرے گی۔ الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا موڈیفائیڈ آر ایم ایس ضمنی انتخاب میں تجربہ کیے بغیر کسی بھی الیکشن میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ صوبوں کے عام انتخابات پرانے آر ایم ایس ہی پر کروائے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے قبل پرانے آر ایم ایس کی ریہرسل کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں صوبوں کے الیکشن سے قبل پرانے آر ایم ایس پر ایک دن کی موک ایکسرسائز بھی کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے ملازمین کو آر ایم ایس کے استعمال کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی کچھ چیزیں گردش کرنے کو ملیں اور صارفین نے کہا کہ اس مشین کیلئے عمران خان جس کے بارے افواہ ہے کہ وہ امریکن شہریت کے حامل ہیں یعنی محمد طارق ملک کو اپنے دور میں چیئرمین نادرا لگایا تھا تاکہ وہ اس مشین میں الیکشن کمیشن کی مدد کرکے اور عمران خان نے دھاندلی کا بہت بڑا منصوبہ بنایا تھا جس میں آپ ووٹ کسی کو کرتے اور جاتا کسی اور تو لہذا الیکشن کمیشن نے اچھا فیصلہ کیا کہ اس مشین کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

  • لطیف آفریدی قتل کیس: ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

    لطیف آفریدی قتل کیس: ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

    لطیف آفریدی قتل کیس: ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

    عدالت نے سینئر وکیل لطیف آفریدی کو قتل کرنے والے ملزم عدنان آفریدی کو 14 روز جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔ پشاورکی عدالت میں سینئر وکیل لطیف آفریدی قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم عدنان آفریدی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا،عدالت نے ملزم کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرکے جیل بھیج دیا۔

    واضح رہے کہ پشاورہائی کورٹ بار روم میں فائرنگ سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدرعبدالطیف آفریدی جاں بحق ہوگئے تھے۔ فائرنگ کرنے والے شخص کو موقع پر ہی گرفتارکرلیا گیا، جس کی شناخت ایڈوکیٹ سمیع آفریدی کے نام سے ہوئی تھی۔ جبکہ خیبر پختونخوا بارکونسل نے ہڑتال و سوگ کا اعلان کردیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

    یاد رہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو موقع پر ہی گرفتارکرلیا گیا، جس کی شناخت ایڈوکیٹ سمیع آفریدی کے نام سے ہوئی تھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والےعبدالطیف آفریدی کو فوری طوراسپتال منتقل کیا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ عبدالطیف آفریدی قتل کے خلاف کے خیبر پختونخوا بارکونسل نے ہڑتال و سوگ کا اعلان کیا گیا تھا، بار کونسل کا کہنا تھا کہ 17 جنوری کو وکلا صوبہ بھرکی عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے اور واقعہ پر3 دن پورے صوبے میں سوگ منایا گیا تھا.

    خیبر پختونخوا بارکونسل نے سیکیورٹی کوتاہی پراعلیٰ سطح تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ سے وکلا میں تشویش پائی گئی تھی جبکہ مطالبہ کیا گیا تھا وکلا تحفظ ایکٹ کو فوری طورپر نافذ العمل کیا جائے۔

  • احتساب عدالتوں سے کیسز واپسی کے بعد کیا ہوگا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ جاری

    احتساب عدالتوں سے کیسز واپسی کے بعد کیا ہوگا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ جاری

    احتساب عدالتوں سے کیسز واپسی کے بعد کیا ہوگا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

    احتساب عدالتوں سے واپس ہونے والے ریفرنسز کا مستقبل کیا ہوگا، اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے آدم امین چودھری کیس میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملزم کے خلاف ریفرنس واپس ہوجانے کا مطلب کیس سے اس کی بریت نہیں۔ نیب کورٹس سے ریفرنس صرف دوسری عدالتوں کو منتقل ہو سکتے ہیں۔

    نیب قوانین میں ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں سے کیسز کی واپسی سے متعلق اہم فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ریفرنس صرف نیب کو واپس کیے جانے کا قانون میں تصور موجود نہیں ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ نیب مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کرنے سے متعلق احتساب عدالتوں کی ہر ممکن مدد کرے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب نئے حقائق سامنے آنے پر ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت کی اجازت سے دائر کر سکتا ہے۔ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے جاری ہو چکے احکامات بھی اب نئی متعلقہ عدالتیں ہی ختم کر سکتی ہیں۔

  • اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کی جانب سے وزیراعلیٰ کیلئے اعظم خان کے نام کی منظوری آج بروز ہفتہ 21 جنوری کو دی گئی۔ واضح رہے کہ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کی جانب سے گزشتہ روز 20 جنوری بروز جمعہ گورنر کے پی کو نگراں وزیراعلیٰ کے نام کے حوالے سے مراسلہ ارسال کیا گیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات گزشتہ روز پشاور میں ہوئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اکرم درانی کا کہنا تھا کہ دو، تین نام ان کے تھے، دو نام ہمارے پاس تھے، ہم نے مشورہ کیا کہ عوام کو مزید مشکلات میں نہیں ڈالیں گے، تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن اور وزیراعلیٰ نے بیٹھ کراہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر محمود خان، پرویز خٹک اور اسپیکر کا مشکور ہوں۔

    اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم نے مشورہ کیا کہ ایک ایسا آدمی ہوں جو معیشت اور صوبے کے حالات سے واقف ہوں۔ نگران وزیر اعلی کی نامزدگی کے لئے محمود خان اور اکرام درانی نے گورنر کو مراسلہ بھیج دیا۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے نامزد اعظم خان چیف سیکرIٹری سمیت دیگر اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں، وہ سابق نگراں وفاقی وزیر بھی رہے، اعظم خان پیٹرولیم اور مذہبی امور کی وزارتوں کے وفاقی سیکریٹری بھی رہے۔

    سابق بیوروکریٹ اور خیبرپختونخوا میں چیف سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دینے والے اعظم خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ سے ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپنی ٹوئٹ میں سمری بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے

    18 جنوری کو خیبر پختونخوا کے گورنر حاجی غلام علی نے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 112(1) کے تحت 17 جنوری کو اسمبلی تحلیل کی سمری گورنر کو ارسال کی گئی تھی۔

    قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر، صوبائی اسمبلی تحلیل کر دے گا اور اگر وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو 48 گھنٹے کے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہو جائے گی۔
    پنجاب اسمبلی خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیجنے سے قبل پنجاب اسمبلی کی تحلیل کر دی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے 11 جنوری کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگلے روز صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کردیے تھے اور سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی تھی۔ بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سمری پر دستخط نہیں کیے تھے اور یوں اسمبلی خود تحلیل ہوگئی تھی۔

  • منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی

    منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی


    منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی

    اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیمان شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کے ثبوت نہیں ملے۔ لاہور کی اسپیشل سینٹرل کورٹ میں آج بروز ہفتہ 21 جنوری کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    آج ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کیخلاف چالان عدالت پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو کہا کہ چالان کو متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بعد پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی کک بیکس کے شواہد نہیں ملے، جس پر جج نے سلیمان شہباز کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ ضمانت واپس لینا چاہتے ہیں،؟ جس پر ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے کہا کہ سلیمان شہباز اور طاہر نقوی کے کیس میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔اس پر عدالت سے سلیمان شہباز اور طاہر نقوی نے ضمانت کی درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے سلیمان شہباز کو ٹرائل میں چار فروری کو طلب کرلیا۔ آج ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے کی جانب سے سلیمان شہباز کی حد تک منی لانڈرنگ کا چالان پیش کیا گیا، جب کہ عدالت نے سلیمان شہباز کی عبوری درخواست ضمانت واپس کردی۔

    سماعت کے باہر عدالتی احاطی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیمان شہباز سے صحافی نے سوال کیا کہ ”آپ نے ٹویٹ میں وزیر خزانہ کو جوکر کہا تھا“، جس پر سلیمان شہباز نے کہا کہ ”پی ٹی آئی نے پانچ وزیر خزانہ تبدیل کئے تھے آخری تین کو جوکر کہا تھا“، جس پر صحافی نے برجستہ سوال کیا کہ “ کیا اس میں مفتاح اسماعیل بھی شامل تھے “ ؟؟، جس پر سلیمان شہباز نے کہا کہ “ میں نے کسی کا نام نہیں لیا“ ، باقی گفتگو بعد میں کروں گا“ ۔ بعد ازاں سلیمان شہباز عدالت سے روانہ ہوگئے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز گزشتہ سال 2022 میں دسمبر کے اوائل میں لندن میں 74 سالہ جلا وطنی ختم کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔ سلیمان شہباز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں درج منی لانڈرنگ کیس میں ملزم قرار دیئے گئے تھے، جب کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں آمدن سے زائد اثاثوں میں نامزد کیا۔ دونوں مقدمات میں انہیں اشتہاری قرار دیا گیا۔ ان کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا تھا تاکہ وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر ہو سکیں، عدالت نے 13 دسمبر کو سلیمان شہباز کی 14 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    تاہم آج ان کی لاہور احتساب عدالت اور اسپیشل کورٹ میں دو مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی گئی ہے۔ سلیمان شہباز نے خود کو لاہور کی احتساب عدالت اور اسپیشل کورٹ کے سامنے سرنڈر کیا۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے نے احتساب عدالت میں سرنڈر ہونے کے بعد نیب کے منی لانڈرنگ کے ریفرنس میں عبوری ضمانت دائر کی تھی۔ احتساب عدالت میں سلیمان شہباز نے وکیل امجد پرویز کے ذریعے درخواست دائر کی۔ بعد ازاں عدالت نے نیب کو سلیمان شہباز کو 7 جنوری 2023 تک گرفتار کرنے سے روک دیا اور سلیمان شہباز کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ سلیمان شہباز کا شناختی کارڈ عدالت میں پیش کیا جائے جس پر سلیمان شہباز نے شناختی کارڈ نہ ہونے پر جج سے معذرت کی۔

    بعد ازاں عدالت نے اگلی سماعت تک سلیمان شہباز کی درخواست ضمانت پر نیب سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے سلیمان شہباز کی عبوری ضمانت 5 لاکھ کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ اس سے قبل سلیمان شہباز اسپیشل کورٹ میں بھی پیش ہوئے جہاں ایف آئی اے نے 16 ارب منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سلیمان شہباز کو نامزد کررکھا ہے۔

    اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کو 7 جنوری تک گرفتار کرنے سے روک دیا اور انہیں اگلی سماعت میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔ اسپیشل کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔
    منی لانڈرنگ کیس

    خیال رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں ہیں اور انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔
    28 مئی کو سلیمان شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے لیکن وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ سلیمان شہباز اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں، وہ بیرون ملک جاچکے ہیں، اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

    ٹرائل کورٹ نے رواں سال جولائی میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز اور ایک اور ملزم کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ ایف آئی اے نے دسمبر 2021 میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر اسکینڈل کیس میں 16 ارب روپے کی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا تھا۔ ایف آئی اے کی جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے شہباز خاندان کے 28 بے نامی اکاؤنٹس کا پتا لگایا تھا جن کے ذریعے 2008 سے 2018 کے دوران 16.3 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، عدالت میں جمع کرائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے 17ہزار کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کی جانچ کی۔

    اس کے علاوہ جون 2020 میں نیب نے سلیمان شہباز کے 16 کمپنیوں میں 2 ارب روپے اور 41 لاکھ روپے مالیت کے تین بینک اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ 10 مرلہ زرعی اراضی اور 209 کنال پر پھیلی زمین ضبط کر لیے تھے۔ نیب کا یہ اقدام تب سامنے آیا جب احتساب عدالت لاہور نے اکتوبر 2019 میں سلیمان شہباز کو اشتہاری مجرم قرار دیا تھا اُس وقت نیب پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ ادارہ نے ملزم کو کم از کم 6 طلبی نوٹس جاری کیے تھے، لیکن ملزم نے جواب نہیں دیا اور تفتیش سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

  • بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، جب کہ کوژک ٹاپ پر ٹریول ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ توبہ اچکزئی میں برفباری کے دوران لاپتا پولیو ٹیم کو بھی ریسکیو کر لیا گیا، جس کے بعد پولیو ٹیم کو طبی معائنے کیلئے قلعہ عبداللہ ہیڈکوارٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ چمن شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش کے باعث ندی نالے بھر گئے۔

    شمالی بلوچستان کے موسمی اثرات آج سے سندھ بھر میں پڑنے کا امکان ہے، کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں ریکارڈ سردی متوقع ہے، کراچی میں درجہ حرارت 3 ڈگری سینی گریڈ تک گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حیدر آباد اور لطیف آباد میں بوندا باندی سے ٹھنڈی ہواؤں نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی آج سے بدھ تک بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    مینگورہ میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور بالاٸی علاقوں کے پہاڑوں پر برف باری جاری ہے، ملکہ کوہسار مری میں برفباری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بارشیں برسانے والے نئے نظام کی آج سے آمد شروع ہوگئی ہے، نیا سلسلہ 21 جنوری سے ملک میں داخل ہوگا، جس کے بعد بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے، پنجاب کے بیشتر میدانی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

    مغربی ہواؤں کے باعث بننے والے بارشوں کا نیا نظام بلوچستان کے راستے ملک میں داخل ہوگا، جو ہفتے کی شام تک ملک کے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، نئے نظام کے تحت ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جبکہ اس نئے سسٹم کے تحت لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر میدانی علاقوں میں ہلکے سے درمیانے درجے کی بارشیں متوقع ہے۔

    بارش کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے 24 جنوری تک جاری رہ سکتا ہے، اِس دوران تیز ہواؤں کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے جس دوران چند ایک علاقوں میں ژالہ باری بھی ممکن ہے۔ صورت حال کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی البتہ یہ بارشیں فصلوں کے لئے مفید ثابت ہوں گی۔
    آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی نیلم کے پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگيا۔ ہلکی برفباری مزید ایک روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ برف باری کے باعث راستوں کی بندش سے پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیںچمن اور مضافاتی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تو تھم گیا مگر ٹھنڈ کی شدت بڑھ گئی، کوژک ٹاپ اور توبہ اچکزئی میں منفی سات جب کہ چمن میں درجہ حرارت منفی دو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر چمن کے مطابق کوژک ٹاپ شاہراہ پر ٹریفک بحال ہے۔

  • پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے الیکشن کمیشن کو چار نام موصول

    پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے الیکشن کمیشن کو چار نام موصول

    پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے الیکشن کمیشن کو چار نام موصول

    پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے چار نام الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے، الیکشن کمیشن نے ان ناموں پر ورکنگ کا آغاز کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی طرف سے صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کے لئے احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ کے نام تجویز گئے تھے، جب کہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے احد چیمہ اور محسن نقوی کے نام بھیجے۔

    اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ناموں پر اتفاق نہ ہونے کے بعد چاروں نام الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے جو ادارے کو موصول ہوگئے ہیں اور الیکشن کمیشن نے موصول شدہ ناموں پر ورکنگ کا آغاز کردیا۔ الیکشن کمیشن کو موصول شدہ چاروں ناموں کے پروفائل تیار کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، تفصیلی پروفائل میں چاروں کی قابلیت اور اپنے شعبے میں کارکردگی شامل ہوگی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن پروفائل اجلاس میں پیش کریں گے، اور الیکشن کمیشن 22 جنوری کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام کا اعلان کرے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

    یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نگراں وزیر اعلیٰ کے تقرر پر متفق نہ ہوسکی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا، اس ضمن میں ای سی پی نے اجلاس طلب کرلیا. نگران وزیر اعلی کے تقرر کیلیے بنائی جانے والی حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا تھا، جس میں دونوں کی جانب سے پیش کردہ ناموں پر غور کیا گیا۔

    دوران اجلاس متحدہ اپوزیشن کے ارکان اپنے دو نام میں سے کسی ایک کو ہی نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے اصرار کرتے رہے جبکہ حکومتی ارکان نے احمد سکیھرا اور نوید اکرم چیمہ میں سے کسی ایک کو نگراں وزیر اعلیٰ تقرری کی تجویز دی۔ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین میں کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تھا جس کے بعد اب اس معاملے کر رات کو الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے گا۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن محسن نقوی، احد چیمہ، نوید اکرم چیمہ اور احمد نواز سکھیرا میں سے کسی ایک کو نگران وزیر اعلی مقرر کرے گا۔

    آئینی طور پر نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس 48 گھنٹے کا وقت ہوگا۔ دوسری جانب ذرائع نے بتایا تھا نگران وزیراعلی پنجاب کی تقرری کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے مشاورتی اجلاس ہفتے کو طلب کرلیا، جس میں مشاورت کے بعد اتوار کی رات تک الیکشن کمیشن نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن دو دن میں آئین کے آٹیکل 224 اے کے تحت فیصلہ کرے کے نگراں وزیراعلیٰ کے نام کا نوٹی فکیشن جاری کرے گا اور پھر اس کی کاپی صدر، وزیراعظم، گورنر پنجاب کو بھیجی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف نگران وزیر اعلی کی تقرری ہے۔ واضح رہے کہ نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی قائم کردہ 6 رکنی کمیٹی میں کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا اور نہ ہی اراکین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے حکومت نے نگران وزیراعلی پنجاب کیلئے حکومت نے نوید اکرم چیمہ اوراحمد نوازسکھیرا جبکہ اپوزیشن نے محسن نقوی اوراحد چیمہ کو نامزد کیا ہے۔