Baaghi TV

Author: +9251

  • اگر پٹھان نہ دیکھ سکا تو خود کشی کر لوں گا شاہ رخ خان کے مداح کی وڈیو وائرل

    اگر پٹھان نہ دیکھ سکا تو خود کشی کر لوں گا شاہ رخ خان کے مداح کی وڈیو وائرل

    بالی وڈ کے کنگ شاہ رخ خان کی موویز کا کریز تیس سال کے بعد جوں کا توں ہے آج بھی شاہ رخ خان کی فلم سینما گھروں میں لگتی ہے تو شائقین دیوانہ دوار اسے دیکھنےکے لئے جاتے ہیں. فلم پٹھان جو کہ 25 جنوری کو ریلیز ہونے جا رہی ہے اس کی ایڈوانس بکنگ حیران کر دینے والی ہے. شاہ رخ خان کے ویسے تو مداح پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن بھارت سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک مداح نے ایک وڈیو بناکر سوشل میڈیا پر شئیر کر دی ہے اس میں وہ کہہ رہا ہے کہ اگر میں پٹھان مووی نہ دیکھ پایا تو میں خود کشی کر لوں گا. شاہ رخ خان سے ملنا میرا بہت بڑا خواب ہے اس سے ملاقات ہوجائے تو کیا ہی بات ہے لیکن میں‌ پٹھان فلم دیکھنا چاہتا ہوں میرے پاس پیسے نہیں‌ہیں ٹکٹ خریدنے کے خدا کے لئے

    کچھ کریں مجھے ٹکٹ ہی لے دیں، اس مداح نے شاہ رخ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یار شاہ رخ خان کچھ کرو مجھے ایک ٹکٹ ہی لے دو اور اگر ایسا نہ ہو سکا اور میں فلم نہ دیکھ سکا تو 25 جنوری کو خود کشی کر لوں گا. یاد رہے کہ پٹھان 25 جنوری کو بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں‌ریلیز ہونے جا رہی ہے اور مداح اس فلم کی ریلیز کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں.

  • کے آر کے کے شاہ رخ خان پر چونکا دینے ولے الزامات

    کے آر کے کے شاہ رخ خان پر چونکا دینے ولے الزامات

    فلم پٹھان کی ریلیز قریب ہے شائقین اس فلم کو دیکھنے کےلئے بے تاب ہیں. بے شرم رنگ تنازعہ کے باوجود شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کی اس فلم کی ایڈوانس بکنگ قابل تعریف ہے اور حیران کر دینے والی ہے. کے آر کے جن کو بھارت میں خود ساختہ نقاد بھی کہا جاتا ہے انہوں نے شاہ رخ خان پر لگا دئیے ہیں چونکا دینے والے الزامات. کے آر کے نے ایک ٹویٹ کے زریعے دعوی کیا ہے کہ ون امیپریشن نامی کمپنی نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے پٹھان کی تشہیر کرنے کو کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ پرڈیوسرز تمام ناقدین کو متاثر کن ادائیگی کریں گے، انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے جب کہا کہ مجھے ایک کروڑ‌دیں تو انہوں نے کہا کہ ہم صرف ایک سے دو لاکھ روپے دے رہے ہیں. کے آر کے کی اس بات میں کتنی سچائی ہے اس ھوالے سے شاہ رخ خان اور انکی ٹیم کی طرف بالکل بھی تردید تاحال سامنے نہیں آئی.

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ فلم پٹھان پر انتہا پسند ہندو خاصی تنقید کررہے ہیں اور اسکی ریلیز پر پابندی لگ جائے اس کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں. انتہا پسندی کو دیکھتے ہوئے شاہ ر‌خ خان روایتی انداز میں‌فلم کی پرموشن نہیں کررہے. یاد رہے کہ اس فلم سے شاہ رخ خان چار سال کے بعد بڑی سکرین کا رخ کررہے ہیں. شائقین ان کو دیکھنےکےلئے بےتاب ہیں. فلم کی ایڈوانس بکنگ دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلم سپر ہٹ ہے لیکن فلم دیکھنے کےلئے بعد شائقین کا رد عمل ہی بتا سکے گا کہ فلم سپر ہٹ ہے یا نہیں.

  • جاوید اختر نے بالی وڈ کے بائیکاٹ کے رجحان پر خاموشی توڑ دی

    جاوید اختر نے بالی وڈ کے بائیکاٹ کے رجحان پر خاموشی توڑ دی

    معروف شاعر، گیت نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اخترنے بائیکاٹ رجحان پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں لوگ فلموں کو پسند کرتے ہیں، کہانیاں سننا، کہانیاں سنانا ہمارے ڈی این اے میں ہے اور یہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ ہماری کہانیاں ہمارے گانے بے حد پسند کئے جاتے ہیں. انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہماری فلمیں دنیا کے 35-36 ممالک میں ریلیز ہوتی ہیں۔ہمارے فلمسٹارز پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔آپ مصر یا جرمنی جائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ میں ہندوستانی ہوں، وہ فوراً پوچھتے ہیں کہ کیا آپ شاہ رخ خان کو جانتے ہیں؟ جاوید اختر نے کہا کہ بائیکاٹ ٹرینڈ اچھی بات نہیں ہے اور یہ ہماری فلموں کا گراف نیچے ہی لیجائے گا. جاوید اختر کے ساتھ اس موقع پر معروف مصنفہ اور دستاویزی

    فلم ساز نسرین مغنی کبیر بھی بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے جرمنی میں فلم ’’ویر زارا‘‘ کی ریلیز کے دوران کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ فلم کی خصوصی اسکریننگ تھی اور ٹام کروز اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں اسکریننگ ہوئی تھی۔ جب ہوٹل سے کسی نے کہا اوہ کیا یہ ہجوم ٹام کروز کے لئے ہے تو ہجوم نے چیخ کر کہا نہیں، ہم شاہ رخ خان کے لیے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے اندازہ لگائیں کہ باہر کے ملکوں میں ہندوستانی سنیما کے لیے لوگوں کی کس قدر محبت ہے.

  • نورا فتحی جیکولین فرنینڈس سے حسد کرتی تھی، سکیش چندر شیکھر کا دعویٰ

    نورا فتحی جیکولین فرنینڈس سے حسد کرتی تھی، سکیش چندر شیکھر کا دعویٰ

    حال ہی میں نورا فتحی نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ اگر وہ سکیش چنرا کی گرل فرینڈ بننے پر رضا مندی کا اظہار کر دیتیں تو سکیش انہیں ایک بڑا گھر اور پر تعیش طرز زندگی دیتا. تاہم اب سکیش نےنورا فتحی کے بارے میں کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ سکیش نے دعویٰ کیا ہے کہ نورا چاہتی تھی کہ وہ جیکولین کو چھوڑ دے اور دن میں 10 بار فون کرتی تھیں کہ میں ان پر توجہ دوں اور ان کو مختلف کاموں میں فیور کروں. اے این آئی کے مطابق سکیش چندر شیکھر کہا ہے کہ وہ سری لنکن بیوٹی جیکولین فرنینڈس کے ساتھ تعلقات میں تھے اور نورا جیکولین سے حسد کرتی تھیں۔ جب وہ جیکولین کو دیکھتی تھیں تو اچھا محسوس نہیں کرتی تھیں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اسکی انہی حرکتوں کی وجہ سے میں نورا کو ٹالنے لگا لیکن وہ مجھے مسلسل پریشان کرتی رہتی تھی. سکیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نورا جیکولین کے خلاف ان کا برین واش کرتی

    تھی۔ سکیش نے یہ بھی کہا کہ نورا پنے کسی رشتہ دار کے لئے میوزک پروڈکشن قائم کرنے میں مجھ سے مدد مانگتی رہی. انہوں نے کہا کہ میرے بالی وڈ اداکارائوں کے ساتھ پروفیشنل تعلق تھا. یاد رہے کہ نورا فتحی نے جیکولین فرنینڈس کے خلاف سکیش کیس میں ان کا نام گھسیٹ کر انہیں بدنام کرنے کے الزام میں مجرمانہ شکایت درج کرائی تھی۔ امکان ہے کہ دہلی کی ایک عدالت اس کیس کی سماعت 25 مارچ کو کرے گی۔ دوسری جانب جیکولین نے اپنے بیانات میں عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں سکیش نے گمراہ کیا جس نے اس کے جذبات سے کھیلا اور اس کا کیریئر برباد کیا۔

  • میں محسن کے ساتھ ان کے ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو سکی رینا رائے

    میں محسن کے ساتھ ان کے ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو سکی رینا رائے

    بالی وڈ اداکارہ رینا رائے جنہوں نے فلموں میں‌ بے پناہ مقبولیت حاصل کی. رینا رائے نہ صرف خوبصورت تھیں بلکہ ان کا شمار اپنے دور کی سب سے زیادہ مقبول اداکارائوں میں ہوتا تھا. لیکن انہوں نے شادی کے لئے محسن حسن خان کا انتخاب کیا. محسن حسن خان پاکستان کے نامور کرکٹر تھے، ان کا بھی ان وقتوں میں بہت زیادہ عروج تھا. دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اور شادی کر لی . یہ شادی 1983 میں ہوئی اور 1990 میں طلاق کی صورت میں ختم ہو گئی. دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے. طلاق کے بعد بیٹی جنت کو رینا رائے نے اپنے ساتھ ہی رکھا. اس ھوالے سے رینا رائے کہتی ہیں کہ محسن حسن خان ایک اچھے انسان تھے ، اچھے باپ بھی ہیں، انہوں نے ہمیشہ ہماری بیٹی کو باپ کی شفقت دی

    اور یہ احساس اس کے ساتھ رکھا کہ وہ ان کے باپ ہیں اور وہ دنیا میں اکیلی نہیں ہے. میں محسن کے ساتھ انہی کے ملک میں‌بھی منتقل ہو گئی تھی لیکن ان کا لائف سٹائل ایسا تھا کہ جس میں ، میں ایڈجسٹ نہ ہو سکی اور میں نے ان سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا. ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت ضرور کرتے تھے لیکن ہمارے لائف سٹائل کے علاوہ ہماری عادات ایکدوسرے سے نہیں ملتی تھیں. یوں رینا رائے نے بتایا کہ ان کی طلاق کی وجہ کیا رہی.

  • فرحان سعید ڈاکٹر حسن بن گئے

    فرحان سعید ڈاکٹر حسن بن گئے

    اداکار اور گلوکار فرحان سعید جب بھی سکرین پر آتے ہیں کسی ایسے پراجیکٹ کے ساتھ آتے ہیں‌ کہ شائقین اسکے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں. فرحان سعید کی گزشتہ برس فلم ٹچ بٹن بھی ریلیز ہوئی اس میں ان کے کردار کو تو بہت پسند کیا گیا لیکن کہانی کو خاص پذیرائی نہیں ملی. فرحان سعید کا ڈرامہ سیریل میری شہزادی کو آن ائیر جانے سے پہلے ہی بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے. فرحان سعید کے علاوہ اس ڈرامے میں عروہ حسین، علی رحمن خان اور عتیقہ اوڈھو شامل ہیں. ڈرامے کو قاسم علی مرید نے ڈائریکٹ کیا ہے. قاسم علی مرید کی ڈائریکشن بھی شائقین میں‌کافی مقبول ہے. میری شہزادی میں فرحان سعید کے کیمیو کردار کی خبر نے شائقین کے تجسس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ڈرامہ میر ی شہزادی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس

    کاماضی المناک ہے اور جس کی منزل ایک شہزادی کا روپ ہے۔ ڈاکٹر حسن انتہائی اہم اور کہانی کا نمایاں کردار ہے۔ یاد رہے کہ فرحان سعید کا گزشتہ برس ڈرامہ سیریل میرے ہمسفر اختتام پذیر ہوا اس میں ان کی جوڑی کو ہانیہ عامر کے ساتھ خاصا سراہا. یوں‌کہا جا سکتا ہے کہ ہانیہ عامر اور فرحان سعید ٹی وی ڈراموں‌ کی ایک نئی جوڑ بن کر سامنے آئی ہے شائقین ان کو ایک ساتھ دوبارہ دیکھنے کےلئے کافی بے تاب ہیں.

  • زوہارحمن کی شارٹ فلم عید مبارک ڈزنی+ کیلئے منتخب

    زوہارحمن کی شارٹ فلم عید مبارک ڈزنی+ کیلئے منتخب

    سپائیڈر مین، فارفرام ہوم میں اداکاری سے شہرت حاصل کرنے اور مارول یونیورس کی پہلی حجاب پہننے والی اداکارہ زوہا رحمن کی شارٹ فلم عید مبارک کو ڈزنی کے کرئیٹر+ نے اپنے ‘Flip the Script ‘فلم فنڈ کیلئے منتخب کر لیا ہے جو کہ زوہا رحمان کی یقینا ایک بڑی کامیابی ہے. فلم عید مبارک ایک لائیو ایکشن مختصر فلم ہے جو مصنف اور ڈائریکٹر کے اپنے بچپن کی اصل کہانی پر مبنی ہے اسے ماہ نور یوسف نے ڈائریکٹ کیا ہے. فلم کا پریمیئرفروری 2023کو چلڈرن فلم فیسٹیول سیٹل میں ہوگا. فلم کی شوٹنگ کراچی، پاکستان میں مئی 2022میں کی گئی جو پانچ دن تک

    12گھنٹے روزانہ جاری رہی، جب کہ اس کی پوسٹ پروڈکشن لاس اینجلز، کیلیفورنیامیں ہوئی۔زوہا رحمان نے نیٹ فلیکس کی Young Wallanderاور ایپل ٹی وی کی Foundation میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کی شہرت بالی وڈ تک بھی پہنچی جہاں انہوں نے میگابایوگرافیکل اسپورٹس فیچر’83 میں شرکت کی۔زوہا این شمن جاہ کی ‘لارڈ کرزن کی حویلی ‘کی کاسٹ میں بھی شامل ہیں جو اس سال کے آخر میں فیسٹیول میں ریلیز کے لئے تیارہے۔

  • محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    تلہ گنگ ( ارشد کوٹگلہ سے ) پنجاب کی سیکرٹری سیاحت آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار رہیں، آسیہ گل نے محکمہ سیاحت میں تعیناتی کے دوران سیاحت کے فروغ اورترقی کے لیے اہم ترین اقدامات سرانجام دیئے۔ پنجاب میں اہم سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی بآسانی رسائی کے لیے آسیہ گل نے جہاں کام کیا وہیں پنجاب کے سیاحتی مقامات کو سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں شاندارانداز میں اجاگر کیاگیا۔ آسیہ گل نے پنجاب کے اضلاع چکوال مری خوشاب سمیت دیگر اضلاع میں سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اورخوبصورتی کے لیے جاری کام کو تیز کیا تا کہ سیاح دلنشیں اور پرکشش نظارے دیکھ کر جلد سے جلد لطف اندوز ہوسکیں اور سیاحت کا مزہ دوبالا ہوسکے آسیہ گل نے انتہائی کم عرصے میں پنجاب میں سیاحت کو اسقدر فروغ اور عروج دیا جو سالہاسال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکا آسیہ گل کو اگر چند ماہ تک مزید موقع میسر آجاتا اور آپ کی تعیناتی محکمہ سیاحت ہی میں رہتی تو پنجاب پاکستان کا ایک مثالی سیاحتی مرکز بن جانا تھا۔ پنجاب میں قدرتی سیاحتی مقامات سے ہونیوالی آمدن سے نہ صرف پنجاب بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بیچ دنیا بھر میں کنڈوم کی کمی 

    لاک ڈاؤن کے بعد سیکس ٹوائیز کی مانگ میں زبردست اضافہ

    آسیہ گل نے عوام کے لیے سستی اورآسان سیاحت متعارف کروائی تا کہ ہر شہری باآسانی سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہوسکے۔آسیہ گل نے تعیناتی کے دوران کلر کہار میں ٹی ڈی سی پی ریزورٹ کا دورہ کیاتھا، اس موقع پر سیکرٹری سیاحت نے چکوال، سون ویلی اور کلر کہار میں جاری ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری سیاحت آسیہ گل نے شاہی قلعہ میں موجود آرکیالوجی ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا تھا اور آثار قدیمہ کے زیر نگرانی سکھ اور آرمرز گیلری کا بھی وزٹ کیا۔ ڈی جی آرکیالوجی کی جانب سے اعلی خدمات پر آسیہ گل کو اس موقع پر سوینئر بھی پیش کی گئی تھی ۔ پنجاب میں سیاحت کو ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے گئے محکمہ سیاحت پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر “ورچوئل ٹوارزم” متعارف کروائی گی۔ آسیہ گل نے پنجاب میں سیروسیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے سیاحت کی فیلڈ کا حق ادا کیا جو آنے والے افسران کے لئے مشعل راہ ہے۔ پنجاب میں متعدد سیاحتی مقامات موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلی افسران آسیہ گل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیرو سیاحت کے فروغ کے لئے زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائیں.

    آبادی کم کرنے کا منصوبہ، نئے شادی شدہ جوڑوں کو حکومت دے گی تحفے میں "کنڈوم”

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    لاک ڈاؤن میں فحش فلمیں دیکھنے میں اضافہ،فحش ویڈیوزدیکھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں،سائبر کرائم کا بڑا الرٹ

  • کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    ایک وقت تھا کہ کراچی پاکستان کا دارلحکومت تھا اور اس اب بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک بڑے بیٹے کی طرح پورے ملک کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے لیکن افسوس کہ اب ہمیں سیاست دانوں سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ جب بھی وہ ووٹ کیلئے کراچی کی عوام کے پاکستان جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کراچی کو لاہور جیسا بنائیں گے. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک کراچی نے لاہور جیسی ترقی نہیں کی ہے. آپ کو شہباز شریف کا ایک دعوٰی تو یاد ہوگا جب جون 2018 میں انہوں کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا تھا کہ؛ "کراچی آیا ہوں اور اب پان کھانے والے بھائیوں کے شہر’کرانچی’ کو لاہور بنادوں گا اور سندھ کو پنجاب کی طرح ترقی یافتہ بناؤں گا۔”

    کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا ،لاہور پاکستان کا دوسرا بڑاشہر اور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ یہ پاکستان کا تاریخی اور ثقافتی شہر ہے جبکہ لاہور کوپاکستان کا دل اور باغوں کا شہربھی کہاجاتاہے۔ لاہور اور کراچی کے ماضی کے کچھ عرصہ پر نظر دوڑائیں تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے سبب کراچی کو وہ مقام یا ترقی نصیب نہ ہوئی جیسے لاہور نے دن بدن کی، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہمیشہ سے لاہور چونکہ پنجاب کے ایک بڑے صوبہ کا دارلخلافہ ہے تو وہاں سے ہی حکومتیں بنائی گئیں لیکن البتہ سندھ سے تعلق رکھنے والی پی پی کی حکومت آئی مگر انہوں نے بھی کوئی خاص کمال نہ دکھایا جبکہ اب بھی کئی سال سے لگا تار پی پی کی حکومت ہے مگر اس وقت بھی لاہور کی بہ نسبت کراچی کے حالات بدتر نہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں ایک وڈیرہ راج ہے اور اکثر ایسے لوگ ہی کراچی پر حکمرانی کرتے ہیں موجودہ وزیر اعلی اور سابقہ بھی سندھ سے تھے جن کی ناکامی کی بدولت آج بھی کراچی تنزلی کا شکار ہے. روز قتل عام اور چوریاں تو معمول بن گئی ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    جبکہ گزشتہ دس سال کو ہی دیکھ لیں تو لاہور نے تیز ترقی کی بہ نسبت کراچی کے کیونکہ میٹرو بس لاہور میں شہباز شریف پہلے لے کر آئے جبکہ کراچی میں اب جاکر کہیں اس طرز کی بسوں کا نظام شروع کیا گیا ہے. اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ان سیاسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت جو اس شہر اور صوبے پر حکومت کرتے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش، ترقیاتی کام ٹھپ، بارشوں کے بعد سیلاب کا منظر، نالوں کی صفائی کا ناقص نظام ، بجلی چوری، سمیت کئی ایسے مسائل ہیں جن پر سالوں سے توجہ نہیں دی جا رہی دوسری جانب لاہور میں حکومتوں نے ترقیاتی کام کروائے، مسائل لاہور میں ہیں لیکن کراچی کی نسبت کم، لاہور میں اورنج ٹرین بھی نظر آئے گی تو میٹرو بھی، لاہور میں سڑکوں پر صفائی ہوتی نظر آئے گی لیکن شاید کراچی کی سڑکوں کی صفائی اہلیان کراچی کے مقدر میں نہیں،

  • پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں مقامی طور پر پہلی الیکٹرک موٹرسائیکل (ای بائیک) کا افتتاح اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے 8 جولائی 2021 کو ایک تقریب کے دوران کیا تھا. اس ای بائیک کو جولٹا الیکٹرک نامی کمپنی نے تیار کیا جس کی جانب سے متعدد ماحول دوست بائیکس کو بتدریج متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا. جس میں بائیکس کے مختلف ماڈلز جے ای 70، جے ای 70 ایل، جے ای 70 ڈی، جے ای 100 ایل، جے ای 125 ایل، جے ای اسکوٹی اور جے ای اسپورٹس بائیک صارفین کو دستیابی کا کہا گیا تھا.

    جبکہ ان بائیک بارے میں بتایا گیا تھا کہ ان سب ماڈلز کی رفتار بھی مختلف ہوگی جو 10 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور فل چارج بیٹری پر 60 سے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکیں گے۔ جبکہ اس وقت کمپنی کی ایک ای بائیک جے ای 70 کو متعارف کرایا گیا تھا جو ماحول دوست، ایندھن فری، اسموک فری، بے آواز اور آلودگی نہیں پھیلائے گی۔

    جولٹا الیکٹرک کے مطابق ے ای 70 مکمل چارج بیٹری پر 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور موٹرسائیکل کی بیٹری رات بھر میں چارج ہوسکے گی اور اس دوران بجلی کا ڈیڑھ یونٹ خرچ ہوگا۔ کمپنی کا مزید بتانا تھا کہ بائیک میں کلچ اور گیئرز نہیں جبکہ زیادہ مینٹینیس کی بھی ضرورت نہیں۔ جبکہ پاکستان میں اس ای بائیک کو پاکستان الیکٹروک وہیکل پالیسی 2020۔2025 کے تحت متعارف کرایا گیا تھا. جبکہ اسکی قیمت 80 سے 90 ہزار روپے کے درمیان بتائی گئی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    خیال رہے کہ اس بائیک کی شکل اور ڈیزائن تو عام موٹرسائیکلوں جیسا ہی ہے، بس پٹرول انجن کی جگہ ان میں الیکٹرک انجن لگایا گیا ہے۔ لیکن پھر یہ بائیک پاکستان میں مقبول کیونکہ نہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کو متعارف کرانا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان بائیکس کی مقامی سطح پر تیاری ہے لیکن حکومت امپورٹڈ بائیکس کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں لوگ پاورفل بائیکس چلانے کے عادی ہیں اور انھیں ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کی بچت جیسے عوامل کے بارے میں کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے، اس لیے انھیں قائل کرنے میں بھی وقت لگے گا۔ اور ان بائیکس کے چونکہ کچھ کام مقامی سطح پر جیسے مینٹیننس وغیرہ ہوگئی بارے تمام مستری نہیں جانتے تو اس لیئے ابھی کچھ وقت لگے گا ان کے مقبول ہونے میں.

    واضح کرتا چلوں کہ گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر الیکٹرک بائکس متعارف کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور 22 پاکستانی کمپنیوں کو الیکٹرک بائیک بنانے کے لائنسنز جاری کر دیے ہیں۔ جو اب یہ بائیکس تیار کریں گی.