Baaghi TV

Author: +9251

  • اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن

    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن

    طالبہ کے ٹیکسٹائل کچرے سے تیار دریوں اور میٹس کی عالمی میلے میں پذیرائی ملی.

     جرمنی میں جاری ہوم ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی نمائش پاکستانی مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بھی ایک موثر پلیٹ فارم بن گئی۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار کردہ دیدہ زیب دریاں (رگز) اور میٹس ٹیکسٹائل انڈسٹری کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں عالمی برانڈز اور یورپی ڈیزائنر کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹک کی گرجویٹ ام کلثوم علی اکبر نے ٹی شرٹس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے کپڑوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ہاتھ سے بنے ہوئے دل کش رگز اور میٹس میں تبدیل کردیا۔ ام کلثوم کا تخلیقی آئیڈیا ٹیکسٹائل کی صنعت کے فضلے سے پاکستان میں بڑھنے والی ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا جس کے ذریعے کچرے کو خزانے میں تبدیل کرکے پاکستان کے لیے زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    ام کلثوم کے تیار کیے گئے میٹس اور رگز ٹیکسٹائل کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ماحول دوست طریقوں کو اجاگر کرنے والے خصوصی پویلین میں عالمی برانڈز، انٹریریئر ڈیزائنرز اور ڈیزائنرز کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں،ام کلثوم کا انتخاب ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے تخلیقی آئیڈیاز کے عالمی مقابلے میں کیا گیا۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی کے تحت ہونے والے اس مقابلے میں دنیا کی 33سے زائد یونیورسٹیوں کے 150 طلبا نے ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے لیے اپنے پراجیکٹ اور تھیسس پیش کیے۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی اور ہیم ٹیکسٹائل کے عالمی ماہرین پر مشتمل ایک جیوری نے تمام آئیڈیاز کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے ٹیکسٹائل اور گارمنٹ انڈسٹری کے کچرے بشمول کاٹن، سینتھیٹک اور فائبر فیبرک رگز اور میٹس بناکر ماحول تحفظ کے لیے پاکستانی طالبہ کے آئیڈے کو عالمی نمائش کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

    ہیم ٹیکسٹائل کے موقع پر ام کلثوم نے اپنے اسٹال پر نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ، چین اور جاپان کے ساتھ پاکستان کی معروف برانڈز نے بھی ان کی تکنیک میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یورپی اور جاپان کی کمپنیاں ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار ان رگز اور میٹس کو اپنی برانڈ شناخت کے ساتھ دنیا میں پیش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اسی طرح چینی کمپنی نے انہیں چھوٹے سائز کے میٹس تیار کرنے کے ابتدائی آرڈر دیے ہیں۔ جرمنی کی ایک وال پیپر کمپنی ان نمونوں کو وال پیپر کی شکل دینے کے لیے اشتراک کی پیش کش کی ہے۔ ام کلثوم نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے کچرے سے پھیلنے والی آلودگی پر اب تک کسی کی توجہ نہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی کو ماحول کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں حالانکہ پلاسٹک کی طرح ٹیکسٹائل کے کچرے کو بھی ری سائیکل یا دوبارہ استعمال میں نہ لایا جائے تو یہ طویل عرصہ تک ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے بالخصوص سینتھیٹک فائبر سے بننے والا ڈینم اور فیبرک سنگین ماحولیاتی خطرات کا سبب ہے۔

    ام کلثوم کے مطابق انہوں نے ٹی شرٹ فیکٹری سے نکلنے والے اس کچرے کو استعمال کیا گیا جسے پھینک دیا جاتا ہے، چھوٹی چندیوں اور کترنوں کی شکل میں نکلنے والے اس کچرے سے دھاگہ بناکر بنائی (ویونگ) کی مختلف تکنیکوں سے میٹس اور رگز تیار کیے گئے ہیں۔ جن کی ایکسپورٹ سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ام کلثوم کا آئیڈیا کچرے کو خزانے میں بدلنے کی مثال ہے، ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کمپنیوں کے لیے ٹیکسٹائل کا ویسٹ ایک دردسر ہے جسے ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہورہی ہے اور عالمی خریدار پاکستانی فرمز سے اس بات کا تقاضہ کررہے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات اور پراسیس کو ماحول دوست بنائیں۔ ام کلثو کے اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے کی شکل دے کر نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ صنعتی فضلہ ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگاکر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشکلات میں بھی کمی لائی جاسکے گی۔

  • بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار

    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار

     تیل درآمد کیلیے بینکوں کا ایل سیز کھولنے سے انکار کر دیا، بحران کا خدشہ

    ملک میں تونائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کردیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال کی جانب مبذول کرائی ہے۔

    آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریزکی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کررہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔

    اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

  • 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    تازہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سوشل میڈیا ایپس اور ان کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

    دنیا بھر میں ڈجیٹل رحجانات پر نظررکھنے والی ایک کمپنی ڈیٹا اے آئی نے 91 صفحے کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت اور اس پر گزارے گئے عوامی وقت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارم کے علاوہ نئی ایپ بھی اپنی جگہ بناسکیں جن میں ’بی ریئل‘ نامی تصویری ایپ بھی ہے جن کے صارفین اگست 2022 میں 53 لاکھ تھے اور اب ایک کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ان میں امریکی صارفین کی اکثریت ہے اور میٹا کی ایپس یعنی فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اب بھی سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    رپورٹ کے مطابق 2022 میں ٹک ٹاک ایپ کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو سب سے زیادہ بھی ہے۔ اس سال بالخصوص لائیو اسٹریمنگ اور لائیو شاپنگ اسٹریم بہت مقبول ہوئیں۔ پھر ٹک ٹاک نے ایپ کے اندر ہی کرنسی خریدنے اور فروخت کرنے کی سہولت بھی دی جسے بہت سراہا گیا ہے۔ اس سال امریکی صارفین چین اور جاپان سے بازی لے گئے اور انہوں نے سب سے زیادہ وقت سوشل میڈیا ایپ پر صرف کیا۔ سوشل میڈیا ایپس کے استعمال پر عالمی پیمانے پر تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022 میں سوشل میڈیا ایپس پر گزارے گئے وقت میں بھی 17 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق اس سال بھی سوشل میڈیا ایپس کے استعمال اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

  • طلاق کے بعد بچوں کو اکیلے سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے نادیہ خان

    طلاق کے بعد بچوں کو اکیلے سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے نادیہ خان

    اداکارہ نادیہ خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے سنگل پیرنٹ کی مشکلات کے بارے میں بات کی ہے. انہوں نے کہا کہ جب میری میرے شوہر سے طلاق ہوئی تو اس کے بعد بچوں کو اکیلے پالنا ان کو دیکھنا بہت مشکل تھا. میں کام پر جاتی تھی تو دھیان بچوں میں رہتا تھا میں سوچتی رہتی تھی کہ مجھے تو گھر پہ ہونا چاہیے بچوں کو میری ضرورت ہے. پھر میں نے کام چھوڑ دیا اور مارننگ شو بھی چھوڑ دیا بچوں‌کی مکمل طور پر دیکھ بھال کی . میں نے بہت جلد محسوس کر لیا تھا کہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ان کو پیار محبت اور

    شفقت کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے. نادیہ خان نے کہا کہ میرے دوسرے شوہر نے ہمیشہ میری تمام ذمہ داریوں کو اپنی زمہ داری سمجھا ہے اور وہ میرا بہت زیادہ ساتھ دیتے ہیں. میرے بچوں‌کو اپنے بچے سمجھتے ہیں. نادیہ خان نے کہا کہ ماں باپ کے نہ لڑائی جھگڑے ہونے چاہیں نہ ہی طلاق اس سے بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے ان کی زندگیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے. انہوں نے کہا کہ شوہر ایسا ہونا چاہیے جو بیوی کو سراہے. اچھے برے وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہو.

  • صنم سعید نے انڈٰین میڈیا سے کیا ایک شکوہ

    صنم سعید نے انڈٰین میڈیا سے کیا ایک شکوہ

    پاکستانی اداکارہ صنم سعید کو محب مرزا کے ھوالے سے کافی چرچا میں رہی ہیں انہوں نے ھال ہی میں انڈین پبلیکشن کوانٹرویو دیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی تو بالی وڈ کو دیکھ کر ہی بڑے ہوئے انہیں بہت زیادہ پتہ ہے کہ انڈینز کیا کھاتے ہیں کیا کرتے ہیں ان کا مذہب ان کا کلچر کیا ہےلیکن انڈینز یہ بالکل نہیں‌ جانتے کہ ہمارا کلچر کیا ہے پاکستان کے لئے کیا کھاتے ہیں ان کی تہذیب کیا ہے. لیکن زی زندگی ایسا چینل ہے جس نے ہمارے ڈرامے بھارت میں لگانا شروع کئے اور اس کے زریعے لوگوں‌کو پتہ چلنا شروع ہوا ہے پاکستانیوں کے بارے میں‌ بھی . یوں صنم سعید نے انڈین

    میڈیا سے کیا شکوہ لیکن وہ زی زندگی سے کافی خوش ہیں ، صنم سعید کا ڈرامہ زندگی گلزار ہے زی زندگی نے ہی آن ائیر کیا . صنم سعید کے اس ڈرامے کو بھارت میں بہت زیادہ پذیرائی ملی . واضح رہے کہ صنم سعید سکرین پر کم کم دکھائی دے رہی ہیں کم دکھانے کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کو کوئی ایسا کردار سمجھ میں نہیں‌ آرہا جس میں اداکاری کرنے کی گنجائش ہو. ایوارڈز کے حوالے سے کہتی ہیں آڈینز کی داد کی کسی بھی آرٹسٹ کا اصل ایوارڈ ہوتا ہے. صنم سعید حقیقت کے قریب اداکاری کرتی ہیں.

  • طلاق کے بعد بھی ساس سے کھانا بنوا کر لیجاتی ہوں فضا علی

    طلاق کے بعد بھی ساس سے کھانا بنوا کر لیجاتی ہوں فضا علی

    اداکارہ فضا علی جن کی ان کے شوہر فواد کے ساتھ طلاق ہوچکی ہے انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میری طلاق ہو چکی ہے لیکن اولاد کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے. میری اس کے باپ سے ملاقات صرف بیٹی کے لئے ہوتی ہے. میں نے کہیں جانا ہو تو میں اپنے گھر میں بچی کو اکیلا چھوڑ کر جانے کی بجائے اپنے سابق شوہر کو کال کرتی ہوں کہ گھر کے باہر گیٹ پر آجائو بچی کو لیجائو مجھے کام سے جانا ہے. انہوں نے کہا کہ طلاق سے پہلے اور بعد میں بھی میرے سابق شوہر نے میرا بہت خیال رکھا. اس نے ہمیشہ مجھ سے تہذیب سے بات کی. میری ساس نے میرے بہت لاڈ اٹھائے ، انہوں نے مجھے بیٹی کی طرح رکھا بہو تو کبھی سمجھا ہی نہیں. فضا علی نے کہا کہ میں آج بھی اگر مصروف ہوں یا

    کہیں‌باہر کے ملک سے واپس آئوں تو لینڈ کرتے ہی ساس کو فون کرتی ہوں کہ جو بھی بنایا ہے ڈبے میں ڈال دیں‌مجھے کھانا ہے. طلاق کے بعد میں نے فواد کے گھر کی دہلیز پار نہیں کی. لیکن بچی کے لئے جو کام کرنے ہیں وہ گھر کے باہر سے ہم دونوں کر لیتے ہیں. فضا نے کہا کہ میرے سابق شوہر کو بہت فکر ہوتی ہے کہ بیٹی کی فیس گئی ہے یا نہیں ، یا وہ سکول جاتی ہے تو ڈرائیور نے کیسے گاڑی چلائی ہو گی. فضا نے کہا کہ میرا سابق شوہر میرا اور میری بیٹی کا پورا پورا خیال رکھتا ہے.

  • قائداعظم زندہ بعد کل ٹی وی پر دیکھی جا سکے گی

    قائداعظم زندہ بعد کل ٹی وی پر دیکھی جا سکے گی

    نبیل قریشی کی ڈائریکشن میں بنی فلم قائداعظم زندہ باد جس نے گزشتہ سال سینما گھروں میں میلہ لوٹ لیا. یہ فلم کل ٹی وی پر لگنے جا رہی ہے. ماہرہ خان اور فہد مصطفی کے مداحوں کے لئے یقینا خوشخبری ہے جنہوں نے اس فلم کو پہلے سینما گھروں میں جا کر نہیں‌دیکھا وہ اب اس فلم کو اپنے گھروں کی سکرین پر دیکھ سکیں گے. فلم پاکستان سے محبت کے جذبے کو ابھارتی ہے . کہانی کو بہت ہی خوبصورت انداز میں‌لکھا گیا ہے. تمام اداکاروں نے بہترین اداکاری کی ہے. فلم میں مختلف قسم کے ایفکیٹس کا استعمال کیا گیا ہے جسے دیکھنے والوں کو نے بہت سراہا. اس فلم کے ساتھ گزشتہ برس ہمایوں سعید کی لندن نہیں‌جائونگا لگائی گئی ، دونوں فلموں نے اچھا خاصا بزنس کیا. اس فلم کے زریعے فہد مصطفی اور ماہرہ خان

    پہلی بار شائقین کو ایک ساتھ نظر آئے. فلم میں‌قوی خان نے ایک ایسے باپ کا کردار ادا کیا جو اپنے بیٹے کو وطن سے محبت کرنا سکھاتا ہے لیکن جب وہ دیکھتا ہےکہ اس کا بیٹا ایسا نہیں‌کررہا تو وہ دل شکستہ ہوجاتا ہے. فلم کا میوزک بھی کافی اچھا ہے ماہرہ خان اور فہد مصطفی کے ڈانسز نے گانوں کو خوب سجایا ہے. نئیر اعجاز نے اس میں ولن کا کردار بخوبی ادا کیا ہے.

  • گوہر خان نے کس اداکار کے زریعے پاکستانیوں کو پیار کا پیغام بھجوایا؟

    گوہر خان نے کس اداکار کے زریعے پاکستانیوں کو پیار کا پیغام بھجوایا؟

    بالی وڈ کی نامور اداکارہ و ماڈل گوہر خان جو کہ پاکستان میں بھی کافی مقبول ہیں، بالی وڈ کی فلموں میں آئٹم سانگز کرنے کے ساتھ ساتھ رئیلٹی شو بگ باس کا بھی حصہ رہیں. انہوں نے بگ باس کی جیت کا ٹائٹل اپنے نام کیا. گوہر خان معروف فلم میکر کرن جوہر ہی منگیتر بھی رہ چکی ہیں. گوہر خان کو بالی وڈ میں خاصی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے انہوں نے معروف میوزیشن اسماعیل دربار کے بیٹے سے شادی رچائی ہے. پاکستانی اور انڈین شوبز سلیبرٹیز کا دبئی یا دیگر ملکوں میں مختلف تقریبات میں آمنا سامنا ہوتا ہی رہتا ہے. گزشتہ دنوں آریان خان اور سعدیہ خان کی ملاقات ہوئی اسی طرح سے اب گوہر خان اور پاکستانی اداکار یاسر حسین کی ملاقات ہوئی ہے. اس ملاقات کی تصویر خود گوہر خان نے اپنے

    سوشل میڈیا اکائونٹ سے جاری کی ہے. اور لکھا ہے کہ یاسر حسین کے ساتھ ملاقات بہت ہی اچھی رہی ہے اور میں ان کے زریعے اپنے پاکستانی مداحوں کو بہت سارا پیار بھیج رہی ہوں. واضح رہے کہ یاسرحسین پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی وہ شخصیت ہیں جو بغیر سوچے سم جھے بولتے ہیں.وہ کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی بول دیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ تنقید کی زد میں بھی رہتےہیں.

  • مسلمان نہ ہوتا تو بچ جاتا شیزان خان

    مسلمان نہ ہوتا تو بچ جاتا شیزان خان

    ٹی وی اداکارہ تنیشا کی خود کشی کے بعد اداکار شیزان خان کے گرد دن بہ دن گھیرا تنگ ہو رہا ہے، اس کیس کی ھالیہ سماعت کے دوران شیزان خان کے وکیل نے عدالت میں‌ کچھ پیپرز جمع کروائے جن کے مطابق تنیشا جے پور کے کسی ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق کچھ دوائیاں لے رہی تھی. جبکہ تنیشا کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ دوائیاں شیزان خان کی ماں انہیں دیتی رہی ہے. شیزان خان کا کہنا ہے کہ مجھے ان کی والدہ نے ایکبار کہا تھا کہ یہ دوائیاں لا دو ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ تنیشا کے لئے یہ دوائیاں بہت ضروری ہیں اور ایکبار انہوں نے مجھے کہا تھا کہ سیٹ پر یہ دوائیاں تنیشا کو دے دینا. دوسری طرف شیزان خان کی ضمانت پر فیصلہ محطفوظ ہو چکا

    ہے دیکھنا یہ ہے کہ شیزان خان کو ریلیف ملتا ہے یا نہیں‌. تنیشا کے وکیل کا کہنا ہے کہ شیزان خان کی طرف سے عدالت میں‌ جو پیپرز جمع کروائے گئے ہیں اس کے مطابق یہ لوگ خود ہی پھنس رہے ہیں‌. اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیس کس طرف جاتا ہے اور تنیشا کی خود کشی شیزان خان پر ڈال دی جاتی ہے یا نہیں . انتہا پسند ہندئوں کی پوری کوشش ہے کہ شیزان خان کو اس کیس میں سزا ہوجائے.

  • شوہر اگر بیوی کو ہاتھ سے کھانے کا نوالہ  کھلا دے تو ماں ہی خلاف ہوجاتی ہے کاشف محمود

    شوہر اگر بیوی کو ہاتھ سے کھانے کا نوالہ کھلا دے تو ماں ہی خلاف ہوجاتی ہے کاشف محمود

    اداکار کاشف محمود نے کہا ہے کہ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے جب میں جا بجا گندگی دیکھتا ہوں. مجھے ایک بہت اچھے سکول نے بطور مہمان اپنے سکول بلایا میں گیا وہاں پر تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچوں‌نے کھا پی کر چیزوں کے ریپر جا بجا پھینکے ہوئے ہیں ، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے بچوں کو سکھایا ہی نہیں گیا کہ یوں گندگی نہیں‌ پھیلانی ، حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے. کاشف محمود نے کہا کہ ایمان صرف یہ نہیں ہے کہ خاتون پر پردہ ڈال دو چلو وہ بھی ضروری ہے لیکن صفائی بہت ضروری ہے. کاشف محمود نے مزید کہا کہ مسجد سے بڑا کوئی کمیونٹی سنٹر نہیں ہو سکتا. ویسے ہر کوئی عشق رسول کی باتیں‌کرتا ہے او بھئی دیکھیں تو سہی کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے یہاں کھلائیں ہاں بیوی کو اپنے

    ہاتھ سے نوالہ آپکی والدہ کو ہی سب سے پہلے اعتراض ہو جائیگا وہ ہی کہیں گی کہ یہ کیا کررہے ہو تم. کاشف محمود نے کہا کہ حرمت رسول پر بے شک جان بھی قربان ہے لیکن ان کے احکامات کو تو مانیں. ہم سب بس ہر وقت غیبت میں لگے ہوتے ہیں، ہمیں‌کوئی دوسرا کام ہی نہیں ہے ، میں تو آج کل سوچتا ہوں کہ مر کے اللہ کو کیا جواب دینا ہے کہ ہم کیا کرکے آئے ہیں اس لئے چھوٹی چھوٹی نیکیاں‌ کما لیں اپنے حصے کے کام کر لیں شاید اللہ تعالی ہمیں معاف ہی کرے دے بے شک وہ بہت غفور رحیم ہے.