Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعلیٰ سندھ چھٹی کے روز بھی کام پر نکل پڑے،عوامی ناشتہ کیا،شہریوں میں گھل مل گئے

    وزیراعلیٰ سندھ چھٹی کے روز بھی کام پر نکل پڑے،عوامی ناشتہ کیا،شہریوں میں گھل مل گئے

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ عوام الناس سے ملنے کے لیے کراچی کے دورے پر نکلے تو ان کو ماضی کی یادیں بھی ستانے لگی،، اچانک بوٹ بیسن کے علاقے پہنچے تو پسند کا ناشتہ بھی کیا۔

    مراد علی شاہ بوٹ بیسن کلفٹن کے مقام پر رکے اور چلے گئے ہوٹل کے اندر،ناشتے کی فرمائش کی اور بغیر پروٹوکول کے عام شہریوں کے طرح بن گئے گاہک،وزیراعلیٰ سندھ فرمائشی حلوہ پوری،، چنے بھجیا قیمے والا پراٹھا کھایا اور دودھ پتی چائے کی بھی چسکی لگا لی ۔

    اپنے دورے کے دوران جب مراد علی شاہ کورنگی ڈھائی نمبر کے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے پہنچے تو موٹر سائیکل حادثے کی شکار فیملی کو دیکھ کر رک گئے انہوں نےفوری طور پر موٹرسائیکل حادثے میں زخمی ہونے والے شوہر اور بیوی کوطبی امداد کیلئے ٹیکسی کراکر دی اور ہسپتال منتقل کردیا

    اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ گارڈن چڑیا گھر پہنچے تو چھٹی کے روز سیروتفریح کیلئے آئے بچوں سے گھل مل گئے ،وزیراعلیٰ سندھ کا عوامی انداز دیکھ کر کراچی کے شہریوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا کئی مقامات پر شہریوں نے جئے بھٹو کے نعرے بھی لگائے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ چھٹی کے روز بھی ایکشن میں آئے تو وزیر بلدیات سعید غنی مشیر اطلاعات بیریسٹر مرتضی وہاب کے ہمراہ چانک شہر قائد کے دورے پر نکل پڑے،مراد علی شاہ نے گارڈن چڑیا گھر، شہید ملت انڈر پاس سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال دیکھی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے شہر کے مختلف علاقوں میں دیکھا کچرا تو ہوگئے انتظامیہ پر برہم ،مراد علی شاہہ نے وزیر بلدیات سعید غنی کی بھی لے لی کلاس اور کہا میونسپل کمشنر کی سرزنش کریں مجھے شہر صاف دکھائی دے ،انہوں نے شہید ملت انڈر پاس کے مقام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کے کے کراچی میں ترقی کا عمل سست دیکھ کر معائنہ کرنے آیا ہوں ۔

    وزیر اعلی سندھ کے اچانک دورے کی اطلاع ملتے ہی افسران کی دوڑیں لگ گئی ،،،سید مراد علی شاہ شہر کا دورہ کرتے رہے جبکہ افسران سندھ کے کپتان کی تلاش کرتے رہے ۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے نارووال سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں امجد خان کاکڑ او رنعیم اللہ خان کاکڑ نے ملاقات کی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے، وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم کر رکھا ہے، سابق ادوار میں ہونے والی لوٹ مار کا دور کبھی واپس نہیں آئے گا، سابق ادوار میں حکمران جماعتوں نے عوام کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا، جنہوں نے اقتدار میں آکر عوام کو نظر انداز کیا آج عوام نے انہیں فراموش کر دیا ہے،

    انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف ہی واحد جماعت ہے جو ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالے گی، امجد کاکڑ نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کی اپنی حکومت ہے-تحریک انصاف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں -عوام کی خدمت کے سفر میں وزیراعلی عثمان بزدار کے شانہ بشانہ چلیں گے، ملاقات کے دوران صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعیدالحسن شاہ بھی موجود تھے-

  • قبائلی اضلاع میں پرامن الیکشن، تحریک انصاف حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا، وزیر اعلیٰ پنجاب

    قبائلی اضلاع میں پرامن الیکشن، تحریک انصاف حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا، وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں شامل قبائلی اضلاع میں پرامن انتخابات کرا کے اپنا ایک اور وعدہ پورا کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی لوگوں کو ان کاجمہوری حق ملا ہے جس پر قبائلی عوام بھی خوش ہیں، انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے قبائلی عوام کو ان کے جمہوری حقوق دے کر ایک تاریخ رقم کی ہے، پرامن الیکشن پر سکیورٹی فورسز بھی مبارکباد کی مستحق ہیں،

    انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام نے اپنا جمہوری حق استعمال کر کے تاریخ رقم کی ہے، قبائلی اضلاع میں عام انتخابات کاانعقاد امن کی جیت ہے، انہوں نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے ہمیشہ فاٹا کے عوام کو نظر انداز کیا-تحریک انصاف کی حکومت قبائلی اضلاع کے لوگوں کو ترقی کے سفر میں شامل کررہی ہے، واضح رہے کہ قبائیلی علاقوں میں‌ ہونے والے الیکشن میں پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے،

  • دریائے سندھ میں سیلاب،پانی کی سطح بلند ہونے لگی

    دریائے سندھ میں سیلاب،پانی کی سطح بلند ہونے لگی

    لیہ :ملک میں‌اس سال بھی سیلاب کا خطرہ .مون سون کی بارشوں کے بعد لیہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، دریائے سندھ میں اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مون سون کی بارشوں کے بعد لیہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس وقت دریائے سندھ سے 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزرنے سے نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیوی مشنری کی مدد سے حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے کے لئے پتھر ڈالے جارہے ہیں. دریائے سندھ میں سیلاب سے نالہ کریک میں بھی پانی کی سطح بلند ہورہی ہے جس سے متعدد علاقے زیر آب آچکے ہیں۔

    دوسری طرف دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باوجود تاحال بیٹ گجی،،بیٹ خان والا،،اٹھ مار کے مقام پر ریلیف کیمپ قائم نہیں کئے جاسکے جس کے باعث علاقہ مکین پریشانی کا شکار ہیں۔نشیبی علاقوں کے مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری ریلیف کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • عمران خان کی ڈی آئی خان حملہ کی شدید مذمت، ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت میں‌ لانے کی ہدایت

    عمران خان کی ڈی آئی خان حملہ کی شدید مذمت، ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت میں‌ لانے کی ہدایت

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے،

    ڈی آئی خان دہشت گردی واقعات میں شہدا کی تعداد 7 ہوگئی

    باٹی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ڈی آئی خان میں ہونےو الے دہشت گردی کے حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے کے احکامات جاری کئے ہیں،

    وزیر اعظم عمران خان نے غمزدہ خاندانوں سے ہمدری اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، انہوں‌ نے ڈی آئی خان دہشت گردی کے حملہ میں‌ زخمی ہونے والے افراد کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے،

  • اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس کب ہو گا اور کیا امور زیر بحث آئیں گے؟ اہم خبر

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس کب ہو گا اور کیا امور زیر بحث آئیں گے؟ اہم خبر

    حکومت مخالف تحریک کے حوالہ سے بنائی گئی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے۔

    رہبر کمیٹی کا سربراہ ہو گا کون؟ حکومت مخالف تحریک سے قبل ہی سیاسی جماعتیں اختلافات کا شکار

    باٹی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رہبر کمیٹی کا اجلاس جے یو آئی رہنما اکرم درانی کی زیرصدارت کل شام 5 بجے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوگا۔ اجلاس میں 25 جولائی کو اپوزیشن کے احتجاج کو حتمی شکل دی جائے گی،

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب آئے گی،رہبر کمیٹی نے کر لیا فیصلہ

    اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد اور دیگر اہم امور بھی زیر بحث آئیں گے،

  • بنکوں کے سیکیورٹی گارڈز کو ٹریننگ کب اور کہاں دی گئی اہم خبر آ گئی

    بنکوں کے سیکیورٹی گارڈز کو ٹریننگ کب اور کہاں دی گئی اہم خبر آ گئی

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کی ہدائیت پر ایس ایچ او سول لائن فراست اللہ چٹھہ کا بنکوں کے سیکیورٹی گارڈ ز کے لئے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کی ہدائیت پر بنکوں کے سیکیورٹی گارڈ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایس او ایچ او سول لائن فراست اللہ چٹھہ نے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ورکشاپ میں اٹھائیس نجی بنکوں کے 100سے زائدسیکیورٹی گارڈز کو خصوصی ٹریننگ دی گئی۔جس میں ایلیٹ فورس کے کوالیفائیڈ افسران نے سیکیورٹی گارڈز کو ویپن ہینڈلنگ کے متعلق تربیت دی۔جبکہ ایس ایچ او سول لائن نے ورکشاپ کے شرکاء کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے، بنک میں داخل ہونے والے افراد کی چیکنگ کا طریقہ کار، بنک کھلنے اور بند ہونے کے وقت احتیاطی تدابیر، اور سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں پر خصوصی لیکچر دیا۔ ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی گارڈ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پہلی دیوار ہوتے ہیں۔جن کی جدید خطوط پر ٹریننگ اشد ضروری ہے۔جلد تمام تھانہ جات میں ایلیٹ کوالیفائیڈ ماسٹر ٹرینز بھجوا کر تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ سیکیورٹی گارڈز کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہ سکیں۔

  • نواز شریف سعودی عرب گئے تو آرمی چیف ساتھ تھے، کیا وہ بھی سلیکٹڈ تھے؟ فردوس عاشق کا مریم نواز سے سوال

    وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف کے ایک ساتھ امریکہ جانے پر کی جانے والی بیان بازی پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ محترمہ آپ کی یادداشت اور اعصاب جواب دے چکے ہیں،

    وزیر اعظم کی اتنی اوقات نہیں کہ امریکہ میں اکیلے ملک کی نمائندگی کر سکیں، مریم نواز کی عمران خان پر سخت تنقید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ نواز شریف سعودی عرب گئے تو ان کیساتھ بھی آرمی چیف ساتھ تھے، آپ کےکٹھ پتلی وزیراعظم شاہد خاقان امریکاگئےتو جنرل باجوہ ساتھ تھے ، اسی طرح یوسف رضا گیلانی امریکا گئے تو جنرل اشفاق پرویز کیانی ساتھ تھے، میں‌ پوچھتی ہوں کہ کیا یہ تینوں بھی سلیکٹڈ تھے؟

    فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ راج کماری نے کہاوزیراعظم عمران خان افواج پاکستان کے سربراہ کو لے کر گئے، راج کماری نے حقائق مسخ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، آپ بغض میں اتنی آگےنکل گئیں کہ نادانی میں پاکستان کا کیا نقصان کرینگی،

  • پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    یہ جنگ احزاب ہے….
    چاروں اطراف سے کفار و مشرکین کے لشکر آپس میں اتحاد کر کے مدینہ پر چڑھ دوڑے ہیں…
    شاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم سب کچھ سن رہے ہیں … سب کچھ دیکھ رہے ہیں …
    اللہ کے نبی ہونے کے سبب اللہ سے دعا کر کے فرشتوں کے لشکر بلوا کر سب کو کچل دینا…. یا جنگ ِبدر کے موقع پر تلواروں کے مقابلے میں ڈنڈے اور چاقو چھریاں لیکر سارے لشکروں سے ٹکرا جانا اور فتح حاصل کر لینا کچھ مشکل نہیں.
    مگر میرا نبی اپنی امت کو لڑنے کے فن اور طریقے سکھانا چاہتا ہے.

    مشورہ کیا…! سب سے پہلی ترجیح "مدینہ بچاؤ” ٹھہری.
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند آیا… خندق کھودنا شروع کی.
    سردی، بھوک، پیاس، بارش…. اور سخت پتھر. مگر صحابہ کرام کے ساتھ ملکر کھدائی جاری رہی اور نحن الذین بایعو محمدا کے نعرے لگتے رہے.
    اسی دوران پیٹ پر پتھر باندھے جاتے رہے اور سنگلاخ چٹانیں ٹوٹتی رہیں… یہاں تک کہ ان ٹوٹتی چٹانوں سے ابھرتی چنگاریوں نے روم و ایران کی فتوحات کی خوش خبری دی.

    زمینی دفاع کے بعد سفارتی دفاع کے لئے اللہ کے نبی نے مشرکین مکہ کے خلاف یہودیوں تک سے معاہدہ کر لیا. کہ اگر حملہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کے ساتھ ملکر آور مسلمان یہودیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے.

    سفارتی دفاع کے بعد اللہ کے نبی نے نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حملہ آور قبائل میں پھوٹ ڈالنے کے لئے بھیجا اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے. دونوں کامیاب لوٹے. اور ان سبھی تدبیروں اور محنت کے بعد وہ اللہ کی مدد آئی کہ اللہ کے لشکر یعنی آندھی طوفان نے لشکر باطل کے خیمے الٹ دئیے، ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی….اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے. بدعہدی کرنے والے بنو قریظہ کے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا. اور اس طریقہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی.

    یہ چھ ہجری ہے.
    اللہ کے نبی نے خواب دیکھا کہ بیت اللہ میں عمرہ کر رہے ہیں. صحابہ کرام کو بتایا. سفر کی تیاری ہوئی اور چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے روانہ ہو گئے. لوگوں کو اطمنان دلانے کے لیے احرام باندھ لیا گیا لیکن راستے میں پتہ چلا کہ قریش پہلے ہی ایک لشکر تیار کر چکا ہے آپ کو عمرہ سے روکنے کے لیے.

    مشورے کے بعد طے پایا کہ رکنے یا لوٹنے کی بجائے راستہ تبدیل کر کے آگے بڑھا جائے. بالآخر اللہ کے نبی حدیبیہ پہنچ گئے. حدیبیہ پہنچ کر قیام کیا. اور رات کے وقت قریش مکہ کی طرف سے بھیجے گئے ستر نوجوان جو جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے آے تھے، اسلامی قافلے کے پہرے دار کمانڈر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. اللہ کے نبی نے صلح رکھنے کی خاطر اور جنگ نہ چاہنے کے لیے بغیر کسی شرط کے ان سب کو رہا کر دیا اور معاف کر کے واپس مکہ بھیج دیا.

    اگلے دن عثمان رضی اللہ عنہ کو بطور سفیر قریش کی طرف بھیجا جنہوں نے ان کو مکہ میں ہی روک لیا اور ان کی شہادت کی افواہ اڑا دی. دینی غیرت کے سبب اللہُ کے نبی نے صرف میان میں تلوار لیکر عمرہ کی نیت کر کے آنے والے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ موت پر بیعت کر لی جو بیعت رضوان کہلائی. اللہ تعالیٰ ان مومنین سے اس بیعت پر خوش ہو گیا جو ایک ایسے قتل کے قصاص کے لیے کی گئی جو قتل ہوا ہی نہیں تھا.

    قریش مکہ تک بیعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے صورتحال کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فورا ایلچی بھیج دیا اور صلح کی گزارش کی اور سب سے پہلی شرط یہ رکھی کہ اس سال عمرہ کرنے کی بجائے مدینہ واپس لوٹ جائیں.

    ایک تو صلح کی شرائط انتہائی گھٹیا محسوس ہو رہی تھیں اور اوپر سے ایلچی کا رویہ انتہائی خباثت پر مشتمل تھا . جب اس نے کہا کہ اگر صلح نامے پر محمد رسول اللہ لکھنا ہے تو جھگڑا کس بات کا. ہمارا جھگڑا ہے ہی اسی بات کا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے. اللہ کے نبی نے حضرت علی کو کہا کہ ٹھیک ہے رسول اللہ مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو. مورخین و محدثین نے اتنا لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آور زبان دونوں ساکت ہو گئے لیکن کاش کوئی ان کے سینے میں اٹھتے ہوئے درد تک پہنچ سکتا کہ رسول اللہ کے حکم پر رسول اللہ لکھا ہوا مٹانا کتنا مشکل کام ہے . جب اللہ کے نبی نے یہ دیکھا تو کہنے لگے ٹھیک ہے مجھے بتاو رسول اللہ کہاں لکھا ہے؟ میں خود مٹا دیتا ہوں.
    رسول اللہ کے ہاتھوں لکھا ہوا "رسول اللہ” مٹ گیا اور معاہدہ نافذ ہو گیا. اس کائنات کا عظیم ترین سچ ایک عظیم ترین انسان کے ہاتھوں مٹا دیا گیا.

    عین اسی موقع پر مکہ مکرمہ سے بھاگ کر گرتا پڑتا ایک صحابی ابو جندل وہاں پہنچا. قریش مکہ کے ایلچی سہیل نے معاہدے کے مطابق سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا. اللہ کے نبی نے کہا کہ ابھی تو معاہدہ لکھا ہی نہیں ہم نے… مگر اس بدتمیز ایلچی نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کوئی معاہدہ نہیں کرتا. اللہ کے نبی نے اس کی منت کرتے ہوئے کہا کہ چلو اسے میری خاطر چھوڑ دو. اس ایلچی نے کہا کہ نہیں آپ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا. معاہدے کے بعد ابو جندل رضی اللہ عنہ اسی ایلچی کے ساتھ واپس روانہ ہو گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ چلاتے رہے کہتے رہے… میرا ایمان خطرے میں ہے مگر اللہ کے نبی نے صبر کی نصیحت کی اور اس کے لیے آسانی کی دعا کی.

    معاہدے کے بعد اللہ کے نبی نے قربانی کے جانور زبح کرنے کا حکم دیا… لیکن دکھ اور غم کی یہ صورت حال کہ ایک صحابی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا. اللہ کے نبی نے یہ دیکھ کر خود ہی اپنا جانور ذبح کیا جس کے بعد باقی سب صحابہ کرام نے بھی کر لیا.

    حضرت عمر رضی اللہ شدید غصے میں اللہ کے نبی سے کہنے لگے کہ جب ہم حق پر ہیں تو آپ نے قریش مکہ کا دباؤ قبول کر کے کیوں صلح کی. تو اللہ کے نبی نے اتنا جواب دیا کہ خطاب کے بیٹے. میں اللہ کا رسول ہوں… میرا اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا.

    اس کے بعد آیات نازل ہوئیں اور یہ صلح حدیبیہ فتح ِمبین قرار پائی.

    اللہ کے نبی واپس مدینہ پہنچے ہی تھے کہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ مشرکین مکہ سے چھوٹ کر مدینہ پہنچ گئے. مشرکین مکہ نے اسے واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے. اللہ کے نبی نے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا.

    مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک بندے کو قتل کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ واپس مدینہ پہنچے اور اللہ کے نبی کو خوش ہو کر بتایا کہ آپ نے بھی معاہدہ پورا کیا اور مجھے بھی اللہ نے ان سے نجات دے دی. مگر رسول اللہ کے ہاتھ تو ابھی بھی معاہدے میں بندھے ہوئے تھے. یہ سن کر اللہ کے نبی نے ذومعنی فرقہ کہا "اگر اس بندے کو کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دے” (جنگ کرنے کی خاموش اجازت )

    ابو بصیر رضی اللہ عنہ بات سمجھ گئے. چپ کر کے مسجد نبوی اور پھر مدینہ منورہ سے نکل کر شام جانے والے راستے میں بیٹھ گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور اس کے بعد قریش سے بھاگ کر آنے والا ہر مسلمان ان کے لشکر میں شامل ہو کر شام کو جانے والے تجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع ہو گیا.

    قریش مکہ نے تنگ آ کر اللہ کے نبی کو گزارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں. ہم کچھ نہیں کہیں گے.

    اس طرح وہ صلح حدیبیہ جسے فتح مبین کہا گیا تھا چار سال بعد فتح مکہ کی شکل میں سامنے آئی.

    وہ احباب جو پاکستان کی موجودہ بدلتی سیاسی و عسکری صورتحال سے گرم، دکھی یا پریشان ہیں… وہ حضرت عمر رضی اللہ کا غصہ، حضرت علی رضی اللہ کا کرب اور ابو جندل و ابو بصیر رضی اللہ عنہا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں. وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر ہونے کے باوجود جنگ نہ کرنے اور مشرکین اور یہود و ہنود سے معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے….؟ حق پر ہونے کے باوجود صلح کی نیت سے قیدیوں کو بغیر کسی شرط کے چھوڑنے میں کتنی بڑی حکمت عملی پوشیدہ ہے….! وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مقصد کے لیے…. ایک بڑے معاہدے کو سرانجام دینے کے لیے "اپنوں” کے بوریا بستر کیسے گول کیے جاتے ہیں حتی کہ انہیں دشمنوں کے بھی حوالے کیا جا سکتا ہے….! وہ جان سکتے ہیں کہ ایک بڑے مفاد کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے. خیر خواہوں کو کیسے دہشت گرد کہا جا سکتا ہے. دشمن کو کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کی منتیں کرے کہ ان نان سٹیٹ ایکٹرز کو اپنے پاس رکھ لو… ہم کچھ نہیں کہیں گے انہیں.

    جب آپ اکیلے ہوں اور دشمن آپ سے کئی گنا زیادہ ہو اور آپ جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہوں تو دشمن کے دشمن کو اپنا دوست بنانے میں ہی عافیت ہے. اس سے جنگ کرنے کی بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ آپ کے دشمن کے خلاف آپ کی مدد کر سکے… تا کہ آپ کا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اور اس معاہدے کے لیے اگر آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ جیسی قربانی دینی پڑے تو یہ سوچ کر قربانی دیں کہ اللہ آسانی و کشادگی پیدا کرے گا.

    اور جنہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ بات تو وہ ضرور فتوی لگائیں مگر مجھ پر نہیں بلکہ اللہ کے نبی پر لگائیں جنہوں نے یہ سارے کام صرف اس لئے کیے تا کہ مدینہ محفوظ رہے…. تا کہ مسلمان محفوظ رہیں… تا کہ ایک بڑے لشکر سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کو تیاری کا وقت مل سکے… تا کہ مسلمان ایک بڑے دشمن سےلڑنے کے لیے نئے اتحادی بنا سکے. تا کہ مسلمان اپنے مدینہ کا دفاع مضبوط سے مضبوط تر کر سکیں.

    اگر کسی کو شک ہو کہ میں نے کوئی روایت غلط لکھی ہے تو سیرت کی مستند اور انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کا مطالعہ کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے.

    مجھے معلوم ہے ایسے موقع پر کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ جسے اللہ کے نبی نے بچایا وہ مدینہ تھا اور یہ پاکستان ہے اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے تو ان سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ مدینہ کا تقدس مسلَم ہے لیکن یہ وہی مدینہ ہے جس میں منافقین رہتے تھے… یہ وہی مدینہ ہے جس میں چور کے ہاتھ کاٹے جاتے تھے کیونکہ وہ چوری کرتا تھا… یہ وہی مدینہ ہے جس میں زانی کو دُرے پڑتے تھے کیونکہ وہ زنا کرتا تھا. یہ وہی مدینہ ہے جس میں نماز اور جہاد سے بھاگنے والوں کو وعیدیں سنائی جاتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، جہاد نہیں کرتے تھے. اگر پاکستان اس مدینے جیسا نہیں تو اسے مدینے جیسا ہم نے ہی بنانا ہے ملکر…. لیکن اسی طریقے کے مطابق جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بنایا ہے اور جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بچایا ہے… اسلام کو دنیا میں زندہ رکھنے لیے… فتح مکہ کے لیے… اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے….!اپنے قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے، مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اور اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لئے.

    یہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس کی حفاظت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ کے نبی نے سکھائی ہے اور کر کے دکھائی ہے. اگر بڑے دشمنوں سے لڑنا ہے اور فتح حاصل کرنی ہے تو دل بھی اتنا ہی بڑا کرنا پڑے گا. صبر اور حوصلہ قائم رکھنا پڑے گا… حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے جان و مال کو قربان کرنا پڑے گا تا کہ ہمارا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں
    محبتوں کے یہ سلسلے بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں

    تیری محبت میں موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
    یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو ہزار تجھ پہ نثار کر دوں

  • لاہور، جیل روڈ پر نامعلوم افراد کی کار پر فائرنگ، 3 افراد زخمی

    لاہور، جیل روڈ پر نامعلوم افراد کی کار پر فائرنگ، 3 افراد زخمی

    صوبائی دارلحکومت لاہور میں‌ مزنگ چونگی کے قریب جیل روڈ پرکار پرفائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں‌ کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں‌ انہیں طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے ہیں، پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے،