Baaghi TV

Author: +9251

  • Huawei کے بعد OPPO موبائل کمپنی نے بھی پاکستان میں پلانٹ لگانے کا اظہار کر دیا

    Huawei کے بعد OPPO موبائل کمپنی نے بھی پاکستان میں پلانٹ لگانے کا اظہار کر دیا

    چین کی اسمارٹ فونز بنانے والی بڑی کمپنی اوپو موبائلز نے پاکستان میں پلانٹ لگانے کے حوالے سے گہری دلچسپی کا اظہار کر دیا ہے۔

    اس ضمن میں کمپنی کے سی ای او جارج لونگ نے خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سے ملاقات کی اور انہیں کے پی کے میں اوپو موبائلز کا پلانٹ لگانے کے حوالے سے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔

    او پو موبائلز کے سی ای او کا کہنا تھا کہ موبائل فونز کی پاکستان میں پیداوار سے نہ صرف صارفین کو اچھی نوعیت کے اسمارٹ فون دستیاب ہوں گے جبکہ چار ہزار لوگوں کو روزگار بھی حاصل ہو گا۔

    یو اے ای کا کراچی میں ایشیاء کا سب سے بڑا ویزہ سینٹر کھولنے کا اعلان
    اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے ملک میں اوپو کی جانب سے سرمایہ کاری کرنے کی سوچ کو سراہا اور انہیں حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہواوے نے بھی پاکستان میں تقریباً 100 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی مخدوم خسرو بختیار نے بتایا ہے کہ ہواوے ( Huawei ) پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں تعاون کر سکتی ہےاور یہ کمپنی اسلام اباد میں 55 ملین ڈالرز کی لاگت سے علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرے گی۔

  • نوشہرو فیروز:روہڑی کینال میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، فصلیں زیرآب

    نوشہرو فیروز:روہڑی کینال میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، فصلیں زیرآب

    نوشہروفیروز: نوشہرو فیروز میں مورو کے قریب روہڑی کینال میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر فصلیں زیر آب آ گئیں۔نہر میں شگا ف پڑنے سے مضافات میں فصلوں کو بہت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے. قریبی گاوں کے لوگوں نے نقصان سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا شروع کردیا ہے.

    نوشہروفیروز میں شگاف کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی مورو دریا خان اور پولیس کی بھاری نفری مقام پر پہنچ گئی جب کہ محکمہ آبپاشی کی ٹیم نے شگاف کو پُر کرنے کا کام بھی شروع کر دیا ہے. محکمہ انہار کے مطابق بہت جلد اس شگاف کر بھر لیا جائے گا.

    ذرائع محکمہ آب پاشی کے مطابق شگاف کے باعث گوٹھ یوسف ڈاہری،گوٹھ رسول بخش گوٹھ، چنگل ڈاہری سمیت قریبی گوٹھ میں بھی پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ نہر کے اس پانی سے علاقے کے مکین بہت خوف زدہ ہیں.

  • باغی پول میں آنٹیوں کے حق میں 100 فیصد ووٹ

    باغی پول میں آنٹیوں کے حق میں 100 فیصد ووٹ

    باغی پول کے نتائج کے مطابق مائیں درست نقطہ نظر رکھتی ہیں ، باغی پول میں اپنے ووٹ دینے والوں کی سو فیصد رائے ماؤں کے حق میں رہی اور سب نے کہا کہ مائیں درست ہں جبکہ بیٹیوں کے حق میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا.

    واضح رہے کہ پول میں ایک مباحثہ دیا گیا تھا کہ آج کل کی مائیں اور بیٹیاں کیا توقعات کرتی ہیں؟ باغی ٹی وی کے مباحثہ میں آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کو موضوع بحث بنایا گیا تھا.

  • فیصل آباد:  مزدوری پوری نہ ملنے پر مزدور پاور لومز مالکان،محکمہ لیبر کیخلاف سراپا احتجاج

    فیصل آباد: مزدوری پوری نہ ملنے پر مزدور پاور لومز مالکان،محکمہ لیبر کیخلاف سراپا احتجاج

    فیصل آباد:ایک طرف پاور لومز مالکان مہنگائی کا رونا رو کر اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضا فہ تو کررہےہیں لیکن دوسری طرف محنت مزدوری کرنے والے مزدوروں کا ان کا پور حق بھی نہیں دے رہے اسی وجہ سے فیصل آباد میں مزدور پوری مزدوری نہ ملنے پر پاور لومز مالکان ، محکمہ لیبر کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے۔

    ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں پاور لومز مالکان کی جانب سے مزدوروں کی کم از کم اجرت گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق بڑھانے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ایسے میں مزدوروں نے مالکان اور محکمہ لیبر کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کہتے ہیں کمر توڑ مہنگائی میں گزارا مشکل تر ہوتا جارہا ہے

    یاد رہے کہ مزدوروں کی تنخواہ میں اضافے کا گزٹ نوٹیفکیشن یکم جولائی کو جاری ہوا لیکن محکمہ لیبر اس پر تاحال عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا ہے۔ لیبر قومی مومنٹ کے صدر بابا لطیف کہتے ہیں مالکان مزدوروں کا مطالبہ سننے کو تیار نہیں ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی نے مزدوروں کا جینا محال کر دیا ہے ۔

    پاورلومز میں کام کرنے والے مزدور اس وقت اپنے گھروالوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت تو دن رات کررہے ہیں لیکن جب معاوضے کی باری آتی ہے تو مالکان ان کا حق بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے.یہی وجہ ہے کہ مزدور لیڈروں نے تنخواہ میں اضافے پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا ۔مزدوروں نے قادر آباد چوک پر مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پر انتظامیہ اور مالکان نے چپ سادھ رکھی تو یکم اگست سے تحریک چلائی جائے گی۔

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔

  • لاہور: ایل ڈی اے کے بائیومیٹرک کی رجسٹریشن نہ ہونے کا انکشاف

    لاہور: ایل ڈی اے کے بائیومیٹرک کی رجسٹریشن نہ ہونے کا انکشاف

    لاہور:ایل ڈی اے جیسے ادارے میں بائیومیٹرک حاضری نہ ہونے کے انکشاف پر ڈائریکٹر ایڈمن غصے میں آگئے ،بائیومیٹرک حاضری نہ لگانے والوں کے خلاف سخت ایکشن کرنے کا اعلان کردیا .تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے کے 513 بائیومیٹرک پر رجسٹرڈہی نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔

    ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ایل ڈی اے احمد ممتاز خان نے مراسلہ جاری کردیا ہے، مراسلے میں ڈائریکٹر کمپیوٹر سروسز کو بائیومیٹرک رجسٹریشن لازمی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ساڑھے نوبجے کے بعد حاضری لگانے والوں سے رعایت نہیں برتی جائے گی، بائیو میٹرک سسٹم مکمل ورکنگ نہ ہونا ڈی جی کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

  • فنڈنگ کہاں سے اور کون کرتا ہے ؟ ایف آئی اے میں ایف اے ٹی ایف کمپلائنس یونٹ بن گیا

    فنڈنگ کہاں سے اور کون کرتا ہے ؟ ایف آئی اے میں ایف اے ٹی ایف کمپلائنس یونٹ بن گیا

    لاہور:ایف اے ٹی ایف ، ایف آئی اے میں گھس گئی ،ایف آئی اے میں ایف اے ٹی ایف کا کمپلائنس یونٹ قائم کردیا گیا،ایف آئی اے حکام کے مطابق اس کا مقصد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پر عملدرآمد کیلئے اقدام، ایف اے ٹی ایف کمپلائنس یونٹ تشکیل دے دیا گیا۔

    ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہ کرنے پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا کمپلائنس یونٹ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، منظوری ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی جانب سے دی گئی، جس کیلئے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

    ڈائریکٹر بابر بخت قریشی کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سید شاہد حسن، اسسٹنٹ خرم سعید رانا کو ایف اے ٹی ایف یونٹ اسلام، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب بٹ ایف اے ٹی ایف پنجاب یونٹ تعینات کیا گیا۔یونٹ میں گریڈ 20 سے گریڈ 14 تک کے 11 افسر شامل ہیں، جس میں ملک بھر سے افسروں کا چناؤ کیا گیا، یونٹ دہشت گردوں کی فنڈنگ کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں کرے گا۔

    ایف آئی اے کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعید میمن ایف اے ٹی ایف سندھ یونٹ میں تعینات ہونگے، انسپکٹر رضوان شاہ ایف اے ٹی ایف خیبر پختونخوا یونٹ میں خدمات سر انجام دیں گے۔ انسپکٹر رحمت اللہ ڈومکی ایف اے ٹی ایف یونٹ سندھ اور انسپکٹر عامر عباس کو ایف اے ٹی ایف بلوچستان یونٹ میں تعینات کیا گیا، کمپلائنس یونٹ کو کارروائی کے لیے تمام دفاتر کو مدد فراہم کرنے کے بھی پابند ہوں گے۔

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

  • مسٹر ایشیا کا ٹائٹل پاکستان کے نام،خانیوال کے جوان نے ملک کا نام روشن کردیا

    مسٹر ایشیا کا ٹائٹل پاکستان کے نام،خانیوال کے جوان نے ملک کا نام روشن کردیا

    ٹھٹھہ صادق آباد (نمائندہ باغی ٹی وی )
    ساؤتھ ایشن باڈی بلڈنگ میں ٹھٹھہ صادق آباد کے نوجوان عثمان عمر گل نے گولڈ میڈل جیت لیا،تفصیلات کے مطابق کھٹمنڈو میں ہونے والی 12 ویں سالانہ ساؤتھ ایشن باڈی بلڈنگ اینڈ فزیک چیمپئن شپ میں ٹھٹھہ صادق آباد کے چک نمبر 140 دس آر کے رہائشی سابق امیدوار قومی اسمبلی جہانیاں کیپٹن (ر) چوہدری اسد اقبال گل کے چچا زاد کزن،کرنل (ر) چوہدری عمر حیات گل کے صاحبزادے، پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سابق طالب علم عثمان عمر گل نے "مسٹر ایشیاء” کا ٹائٹل جیت کر پاکستان کے لیے گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے ایشیاء اور دنیا بھرمیں اپنے ملک اور علاقے کا نام روشن کردیا ہے،عثمان عمر گل کے گولڈ میڈل جیتنے پر آبائی علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے،شاندار کامیابی پر سیاسی وسماجی عوامی شخصیات نے عثمان عمر گل، چوہدری اسد اقبال گل کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے علاقے اور ملک کے بہت بڑا اعزاز قرار دیاہے۔

  • کراچی : 25 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش، تشدد سے لڑکی بے ہوش ہوگئی

    کراچی : 25 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش، تشدد سے لڑکی بے ہوش ہوگئی

    کراچی :کراچی میں جرائم پیشہ گروہ اور افراد نے پھر سر اٹھا لیے ، ایک ایسا ہی واقعہ کراچی کے علاقہ ڈی ایچ اے بدر کمرشل کے قریب 25 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش، تشدد کا نشانہ بنانے پر لڑکی بے ہوش ہوگئی۔لڑکی کو جناح ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈی ایچ اے بدر کمرشل کے قریب 25 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش کی گئی، لڑکی کو تشدد کانشانہ بنایا گیاجس پر وہ بے ہوش ہو گئی، متاثرہ لڑکی کو اس کے دوستوں نے بلوایا تھا، پولیس کا کہناتھا کہ لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں جناح ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے،

    پولیس حکام کا مزید کہناتھا کہ واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں کہ واقعہ میں کون لوگ ملوث ہیں، تاحال لڑکی کو طبی امداد دی جا رہی ہوش میں آنے کے بعد بیان لیا جائے گا۔ 25 سالہ ثمرین کو اس کے دوستوں ہی ملاقات کے لئے بلویاتھا، متاثرہ لڑکی کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن بھی ہے۔