Baaghi TV

Author: +9251

  • خراب موسم، اندرون و بیرون ممالک آنے اور جانے والی 8 پروازیں منسوخ‌

    خراب موسم، اندرون و بیرون ممالک آنے اور جانے والی 8 پروازیں منسوخ‌

    اندرون و بیرون ملک آنے اور جانے والی 8 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں. پی آئی اے کی بھی 4 پروازیں خراب موسم کی وجہ سے منسوخ ہوئی ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ایئر پورٹ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سے لاہور کی دوطرفہ پی آئی اے کی پروازیں پی کے 653 اور 654 منسوخ ہوئی ہے. اسلام آباد سے کراچی کی دوطرفہ ایئر بلیو کی پروازیں پی اے 204اور 205 منسوخ کی گئی ہے. اسلام آباد سے بیجنگ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 852 منسوخ ہوئی ہے.

    اسی طرح اسلام آباد سے بینکاک کی دوطرفہ پروازیں ٹی جی 349 اور 350 اور جدہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 742 منسوخ کی گئی ہے.

  • عازمین حج کے لیے بہترین سہولیات کو یقینی بنا رہے ہیں.ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ

    عازمین حج کے لیے بہترین سہولیات کو یقینی بنا رہے ہیں.ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ

    مدینہ منورہ:پاکستانی عازمین حج کو بہترین سہولیات پہنچانے کے لیے سعودی اور پاکستانی حکام کی مشترکہ کوششیں .سعودی وزارت حج نے پاکستانیوں کو تمام تر سہولیات پہنچانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عازمین حج کو ان کی رہائش گاہوں پر 3 وقت کا کھانا پہنچایا جارہاہے.اس کے علاوہ ویکسین ،پاسپورٹ ٹکٹ اور سفری دستاویزات بھی فراہم کی جارہی ہیں.

    سرکاری حج اسکیم اعلیٰ سہولیات کے باوجود خطےمیں سستی ترین ہے .ترجمان کے مطابق پاکستانی عازمین حج کی بڑی تعدادپاکستان سےبراہ راست مدینہ پہنچ رہی ہے .حاجی مدینہ منورہ میں 8 دن قیام کے بعد مکہ روانہ ہونگے .مدینہ میں رہائشیں حرم نبوی کے نزدیکی علاقے مرکزیہ میں مہیا کی گئی ہیں. عازمین کا مدینہ کے بہترین ہوٹلوں میں قیام، عمدہ کھانوں سے تواضع کی جارہی ہے.وزارت حج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 44 پروازوں سے 9 ہزار 885 عازمین مدینہ منورہ پہنچ گئے.

  • رحیم یارخان حجام اور بیوٹی پارلرچلانے کے لئے اب لازمی ہو گا  لائسینس

    رحیم یارخان حجام اور بیوٹی پارلرچلانے کے لئے اب لازمی ہو گا لائسینس

    نمائندہ باغی ٹی وی)تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی رحیم یار خان نے پنجاب ہیپاٹائٹس ایکٹ 2018 کے تحت ہیئر ڈریسرز اور بیوٹی پارلرز کی رجسٹریشن اور لائسنس لازمی قرار دے دیا ہے ۔
    رجسٹریشن کے لئے حجام اور بیوٹیشنز فوری طور پر متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے رجوع کریں۔
    ابتدائی رجسٹریشن کے بعد ڈپٹی ڈی ایچ او کے دفتر سے فارم حاصل کریں اورتمام باربرز اور بیوٹییشنز ضروری ٹیسٹ کروائیں اور جلد از جلد میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں.
    حکومت پنجاب رجسٹریشن اور لائسنس کی سہولت مفت فراہم کر رہی ہے.رجسٹریشن کی آ خری تاریخ 31 جولائی 2019 تک بڑھا دی گئی ہے.ہیپاٹائیٹس اور ایڈز سے محفوظ پنجاب بنانے کے لئے اپنی زمہ داری نبھائیں.

  • رحیم یار خان خواجہ فرید آئی ٹی یورنیورسٹی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کرفیو نافذ

    رحیم یار خان خواجہ فرید آئی ٹی یورنیورسٹی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کرفیو نافذ

    خواجہ فرید آئی ٹی یورنیورسٹی انتظامیہ نے انٹری ٹیسٹ کے موقع پر آنے والے طلباء اوران کے والدین کے لیے کرفیونافذکردیا‘ انٹری ٹیسٹ کے لیے آنے والے طلبا اور والدین سے گارڈز کی بدتمیزی‘ سواری یونیورسٹی سے باہر کھڑی کرنے اور شدید گرمی مین دو کلو میٹر پیدل چل کر جانے پر مجبور طالبات اور خصوصاً بوڑھے والدین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا‘طلباء اوران کے والدین سراپااحتجاج‘ حکومت پنجاب سے نوٹس لینے کامطالبہ۔تفصیل کے مطابق خواجہ فریدآئی ٹی یورنیورسٹی کے حوالے سے آئے روزشکایات زورپکڑرہی ہیں جبکہ انتظامیہ نے یورنیورسٹی کودرسگاہ کی بجائے ذاتی جاگیربنارکھاہے‘ گذشتہ روزانٹری ٹیسٹ کے موقع پرخواجہ فریدآئی ٹی یورنیورسٹی انتظامیہ نے کرفیوکاسماں بنائے رکھااوردوردرازسے انٹری ٹیسٹ کے لیے آئے طلباء وطالبات اوران کے والدین کوبدتمیزی سے پیش آنے کے ساتھ ساتھ پارکنگ میں موٹرسائیکل کاریں کھڑی کرانے کی بجائے یورنیورسٹی سے باہردوکلومیٹرباہردھوپ میں کھڑی کرنے اورگرمی میں ذلیل وخوار کراتے رہے جبکہ گرمی کے ستائے عوام کی اپیل پرسیکورٹی گارڈزہاتھاپائی اوردھکے دینے پراترآتے‘ کئی سو ایکڑ پر محیط یونیورسٹی کے خالی اسٹینڈز پر چند گاڑیاں اور مو ٹر سائیکلیں کھڑی کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ یونیورسٹی کی ایڈمن اور دیگر ڈیپارٹمنٹ کی موٹرسائیکلیں وگاڑیاں اندرکھڑی رہیں‘ طلباء وطالبات اوران کے بوڑھے والدین نے آئی ٹی یورنیورسٹی حکام کی بدمعاشی پراحتجاج کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ یورنیورسٹی حکام کے اس ظالمانہ اقدام کانوٹس لے کرکارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ رابطہ کرنے پریورنیورسٹی انتظامیہ نے مؤقف دینے سے انکار کردیا۔

  • رحیم یار خان سی ٹی سکین مشینیں‌6 ماہ سے خراب پرائویٹ مافیا کی لوٹ مار

    رحیم یار خان سی ٹی سکین مشینیں‌6 ماہ سے خراب پرائویٹ مافیا کی لوٹ مار

    نمائندہ باغی)کبھی ایک دور تھا کہ شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان کو ایک مثالی ہسپتال مانا جاتا تھا اور جدید سے جدید مشینری یہاں موجود تھی اور رحیم یارخان کے علاوہ اندرون سندھ سے بھی لوگ یہاں علاج کروانے آتے تھے بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن جوں جوں اس ہاسپیٹل نے ترقی کی ہے اسی رفتار سے یہاں سہولتوں کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ شیخ زید ہسپتال کی سٹی سکین مشینیں پچھلے 6ماہ سے خراب ہے ۔ ہسپتال کے باہر پرائیویٹ سٹی سکین سینٹروں نے ریٹ بڑھا کر مریضوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے,مقامی ایم پی ایز اور ہسپتال انتظامیہ کی طرف سٹی سکین مشین ٹھیک کرانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے, مہنگے علاج کی سہولت نہ رکھنے والے دماغی چوٹ اعصاب و دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں ۔ شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان میں آنیوالے مریضوں کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ غریب مریض دور دراز علاقوں سے علاج معالجہ کے لئے شیخ زید ہسپتال آتے ہیں جہاں پر انہیں مشینوں کی خرابی کاکہہ کر پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے ۔سٹی سکین مشین ماہ فروری سے اب تک خراب پڑی ہے ,اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ سٹی سکین سینٹروں بے ٹیسٹ فیس بڑھا دی ہے جو متوسط اور کم آمدنی کے حامل مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے, وزیر صحت کے دورہ رحیم یار خان کے موقع پر تحریک انصاف کے ورکرز کی طرف سے سٹی سکین مشین کی خرابی کا مدعا اٹھایا لیکن سٹی سکین مشین کو ٹھیک اور مزید نئی مشین فراہم کرنے کے وعدے اور دعوے کے باوجود تاحال کچھ نہیں ہو سکا,رحیم یارخان کے بڑے صنعتی یونٹوں, تاجر تنظیموں اور فلاحی اداروں کی طرف سے بھی سٹی سکین مشین کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے, مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انتظامیہ سے امطالبہ کیا ہے کہ سٹی سکین مشین کو ٹھیک کرایا جائے اور مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے مزید سٹی سکین مشینوں کی تنصیب لازمی بنائی جائے

  • سی ڈی اے سینٹورس مال سے متصل 12 کنال کے پلاٹ پر غیر قانونی قبضہ ختم کروانے میں کامیاب

    سی ڈی اے سینٹورس مال سے متصل 12 کنال کے پلاٹ پر غیر قانونی قبضہ ختم کروانے میں کامیاب

    سی ڈی اے نے سینٹورس مال سے متصل 12 کنال کے پلاٹ سے غیر قانونی قبضہ ختم کر دیا ہے۔ مذکورہ پلاٹ کو سینٹورس مال کی انتظامیہ پارکنگ اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے غیر قانونی طور پر استعمال میں لا رہی تھی۔ قبضہ حاصل کرنے کے بعد سی ڈ ی اے نے خالی کرائے گئے پلاٹ کے اطراف باڑ کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آپریشن کے بعد ہفتہ وار تعطیل کے دوران چند عناصر نے مذکورہ پلاٹ کو دوبارہ غیر قانونی طور پر پارکنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ مذکورہ پلاٹ سے غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کے لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ،سیکٹر ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی ڈی اے کے دیگر شعبوں کے علاوہ ایم سی آئی کے متعلقہ شعبوں نے کاروائی کرتے ہوئے غیر قانونی قبضہ سے پلاٹ کو واگذار کروایا۔

    رپورٹ کے مطابق مزید برآں سیکٹر ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے خالی کرائے گئے پلاٹ کے گرد باڑ نصب کر دی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی تجاوزات قائم نہ کی جا سکیں۔متعلقہ شعبوں کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ نصب کی گئی باڑ کو اکھاڑنے یا تجاوزات کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی صورت میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف رپورٹ درج کرائی جائے۔ واضح رہے کہ بارہ کنال کے پلاٹ کو سینٹورس مال کی انتظامیہ غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی تھی جس پر سی ڈی اے انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے یہ پلاٹ خالی کروا لیا ہے اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے.
    محمد اویس

  • کپواڑہ: کنٹرول لائن کے نزدیک  دھماکہ،ایک بھارتی فوجی زخمی

    کپواڑہ: کنٹرول لائن کے نزدیک دھماکہ،ایک بھارتی فوجی زخمی

    سرینگر:بھارتی فوج کو سخت مشکلات ،ایک طرف حریت پسند وں کی طرف سے بھارتی فوجیوں پر حملے تو دوسری طرف بھارتی فوجی اپنی ہی بچھائی بارودی سرنگوں کی بھینٹ چڑھنے لگے .تازہ واقعہ میں شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن کے نزدیک سوموار کو ایک بارودی دھماکے کی وجہ سے ایک فوجی اہلکار زخمی ہوگیا۔یہ واقعہ کنٹرول لائن پر کیرن سیکٹرکے نزدیک جمگنڈ نامی علاقے میں پیش آیا جہاں ایک بارودی دھماکے کی زد میں آکر فوجی اہلکار زخمی ہوگیا۔

    بھارت وزارت دفاع کے مطابق حکام کے مطابق مذکورہ فوجی اہلکار کو درگہ مولہ میں قائم فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے زخمی اہلکار کی شناخت بھوپن چتری کے طور ہوئی ہے۔یاد رہے کہ عین اس وقت جب بارودی سرنگ دھماکے سے ایک فوجی شدید زخمی ہوا ہے اسی وقت ایک اور بھارتی فوجی نے اپنے افسران اعلیٰ کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کرلی ہے.

  • مقبوضہ کشمیر:حریت پسند کارکن اور قیادت سخت مشکلات ہیں ہیں،وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی خوش فہمی

    مقبوضہ کشمیر:حریت پسند کارکن اور قیادت سخت مشکلات ہیں ہیں،وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی خوش فہمی

    سرینگر:بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کشمیر کے حوالے سے اپنی حکوت کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کو قیادت کا بحران درپیش ہے اور سیکورٹی فورسز نے اُن پر مکمل گرفت بنا رکھی ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راجناتھ نے کہا کہ فروری14کے پلوامہ حملے میں این آئی اے کی تحقیقات جاری ہے۔

    پلوامہ حملے کے بارے میں راجناتھ نے ایک سوال پر جواب میں‌ کہا کہ ” جونہی این آئی اے کی تحقیقات مکمل ہوگی اُس کے بعد ہی اس سوال کا جواب فراہم کیا جائے گا۔”راجناتھ نے تاہم کہا”جموں کشمیر کے اندر ہماری فوج، مرکزی آرمڈ فورسز ، جموں کشمیر پولیس اور سراغرساں ادارے مکمل کارڈنیشن میں کام کررہے ہیں”۔راجناتھ نے ایوان کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز جنگجوئوں کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھی ہوئی ہیں۔”راجناتھ نے کہا”میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت جنگجوئوں کو قیادت اور وسائل کے بحران کا سامنا ہے”یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی بار بھارتی وزراء کشمیر کے بارے میں غلط بیانی کرتے رہے .

  • نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں، مولانا فضل الرحمن کی چینلز کی نشریات بند کرنے کی مذمت

    نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں، مولانا فضل الرحمن کی چینلز کی نشریات بند کرنے کی مذمت

    سربراہ جمعیت علماءاسلام مولانافضل الرحمان نے مختلف نیوزچینلزکی نشریات کی بندش کی شدید مذمت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپور‌ٹ‌ کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں ہے. سلیکٹڈ حکومت چاہتی ہےکہ ٹی وی چینلزحقائق سےعوام کوآگاہ نہ کریں، جے یوآئی میڈیا پرپابندی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی،

    مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سلیکٹڈحکومت میں کوئی ادارہ خودمختارنہیں، سلیکٹڈوزیراعظم چینلزکی بندش کافیصلہ واپس لے، ادھر پی بی اے نے بھی اب تک،24 نیوزاورکیپیٹل ٹی وی کی نشریات بند کرنے کی مذمت کی ہے.

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک