Baaghi TV

Author: +9251

  • کرن جوہر نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھی، سینما میں بیٹھے کی تصاویر وائرل

    کرن جوہر نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھی، سینما میں بیٹھے کی تصاویر وائرل

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ نے پاکستان انڈیا امریکہ میں دھوم مچا رکھی ہے . اردو پنجابی سجھنے والے شائقین فلم دیکھنے کےلئے بےتاب ہیں یہی وجہ ہے کہ مولا جٹ جہاں جہاں جس جس سینمامیں لگی ہوئی ہے وہاں شائقین کا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے. فواد خان چونکہ بالی وڈ میں بھی بہت مقبولیت رکھتے ہیں ، ماہرہ خان اور حمائمہ ملک بھی انڈیا میں کام کرچکے ہیں اور پھر فلم بہت بڑے بجٹ کے ساتھ بنی ہے اور بہت کمائی بھی کررہی ہے. لہذا بالی وڈ کے فلمسازوں کے اندر بھی ایک تشویش ہے کہ آخر فلم ہے کیسی . پنجابی زبان میں بنی اس فلم کو بھارتی فلمساز

    کرن جوہر نے سینما گھر میں جا کر دیکھا ہے.کرن جوہر کی سینما گھر میں بیٹھے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں. کرن جوہر جو کہ فواد خان کے بہت اچھے دوست ہیں انہوں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھنے کےلئے خصوصی طور پر وقت نکالا ہے. کرن جوہر کی تصاویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین اس پر تبصرے کرنے لگے . یاد رہے کہ فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ ابھی تک دو سو کروڑ سے اوپر کا بزنس کر چکی ہے اور مزید بزنس جاری ہے کیونکہ فلم کو ایک نہیں بار بار شائقین دیکھنے کے لئے سینما گھروں کا رخ کررہے ہیں.

  • ندیم بیگ نے اپنے مداحوں کے بارے میں‌ کیا کہا؟‌ جا ن کر رہ جائیں حیران

    ندیم بیگ نے اپنے مداحوں کے بارے میں‌ کیا کہا؟‌ جا ن کر رہ جائیں حیران

    سینئر اداکار ندیم بیگ جنہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری پر سال ہا سال راج کیا اور شائقین کے فیورٹ بنے رہے. شائقین آج بھی انہیں بہت پسند کرتے ہیں. ندیم بیگ بہت کم بڑی اور چھوٹی سکرین کے لئے کام کرتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. ندیم بیگ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہےکہ میں سمجھتا ہوں کہ آرٹسٹ کی سب سے بڑی کمائی اس کے مداح ہوتے ہیں ، مداحوں کی دعائیں ان کی محبت اور پذیرائی کی وجہ سے ہی کوئی بھی آرٹسٹ شہرت کی بلندیوں پر پہنچتا ہے . ٹھیک ہے کہ

    پیسوں کے نقطہ نظر سے کتنا کمایا کتنا نہیں وہ ایک الگ بات ہے لیکن کسی بھی فنکار کے مداحوں کی پذیرائی اسے کہاں سے کہاں لے جاتی ہے . اگر کسی آرٹسٹ کو پذیرائی نہ ملے مداحوں کی تو وہ آسمان سے زمین پر آجاتا ہے. میں آج بھی اگر کام کررہا ہوں تو مداحوں کی محبت اور پیار کی وجہ سے کررہا ہوں ورنہ میں بھی کب سے گھر بیٹھ گیا ہوتا.یاد رہے کہ ندیم بیگ کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی فلمیں سو سو ہفتے چلیں، شائقین آج بھی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں.

  • بالی وڈ کی فلموں کی ناکامی کنگنا رناوت نے بنا د ی

    بالی وڈ کی فلموں کی ناکامی کنگنا رناوت نے بنا د ی

    بالی وڈ کی فلمیں‌ مسلسل خسارے میں جا رہی ہیں. اس برس جتنی بھی بالی وڈ فلمیں سینما گھروں میں آئی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر ناکامی کا شکار ہوئی ہیں. کچھ فلمیں بائیکاٹ کے ٹرینڈ کی نذر ہو گئیں. لیکن مجموعی طور پر فلمیں شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام نظر آرہی ہیں. شاہ رخ خان جو کہ بالی وڈ کے بادشاہ کہلاتے ہیں ایک وقت تھا ان کی جب کوئی فلم لگتی تھی تو لوگ سینما گھروں پر ٹوٹ پڑتے تھے لیکن اب تو شاہ رخ ، عامر خان سب کی فلمیں‌فلاپ جا رہی ہیں . حال ہی میں‌کنگنا رناوت نے بالی وڈ کی فلموں‌کی ناکامی کی وجہ پر بات کی ہے انہوں

    نے کہا کہ ہم نے جب سے اپنی ثقافت کو چھوڑا ہے ہم کہیں‌کے نہیں‌رہے یہی وجہ ہے کہ ہماری فلمیں بھی فلاپ جا رہی ہے. کنگنا رناوت کی فلم دھاکڑ کے فلاپ ہونے کی وجہ کنگنا نے یہ بتائی کہ اس فلم میں بالی وڈ کلچر جو ہوا کرتا تھا اس کی کمی تھی یا وہ غائب تھا جس کی وجہ سے شائقین نے اس فلم کو رد کر دیا . یاد رہے کہ بالی وڈ کی بجائے تامل فلمیں‌ سپر ہٹ جا رہی ہیں اور اس وقت ہالی وڈ میں‌ جتنی بھی فلمیں‌ بن رہی ہیں وہ تامل فلموں کا ری میک ہیں‌ اس کے باوجود وہ ناکامی کا شکار ہورہی ہیں.

  • عورت کے بارے میں خلیل الرحمان قمر نے کیا کہہ دیا ؟

    عورت کے بارے میں خلیل الرحمان قمر نے کیا کہہ دیا ؟

    خلیل الرحمان قمر ہمیشہ ہی ایسے بیانات دیتے ہیں کہ جو سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دیتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ میں ہر عورت کو عورت نہیں مانتا تو میں بنیادی طور پر اس کے مرتبے کی بات کرتا ہوں. میں عورت کے لئے لکھتا ہوں عورت میرا ایمان ہے. ایک اچھی عورت معاشرے کو چلاتی ہے مرد معاشرے کو نہیں چلاتا ، میں مرد کو تو مانتا ہی نہیں ہوں.خلیل الرحمان مزید کہتے ہیں‌کہ بری عورت کو میں عورت ہی نہیں مانتا.
    یاد رہے کہ خلیل الرحمان کی کہی ہوئی بات تنازعات کا شکار ہوجاتی ہے ، حال ہی میں‌ انہوں نے ماہرہ خان کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے ماوری اور میرے جھگڑے میں ماوری کے حق میں ٹویٹ کیا تھا اور یہ گناہ ماہرہ

    سے جب ہوا تو اس کے بعد وہ میری ڈراموں اور فلموں سے محروم ہوگئی. خلیل الرحمان قمر کے کریڈٹ پر سپر ہٹ ڈرامے اور فلمیں ہیں . ان کے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کے ڈائیلاگز نے بہت پذیرائی کی. مصنف آج کل عمران خان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور ٹویٹر سپیسز میں بطور مہمان شریک ہو کر اپوزیشن پر تنقید کے نشتر چلانے کے ساتھ عمران خان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.

  • ہمایوں سعید خود کو بڑا فنکار سمجھتا ہے ناصر ادیب

    ہمایوں سعید خود کو بڑا فنکار سمجھتا ہے ناصر ادیب

    ناصر ادیب نے حال ہی میں انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمایوں سعید نے میری ایک دو فلموں میں کام کیا لیکن اسکو کرداروں‌پر اعتراض تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کو سلطان راہی کے ٹائپ کے کردار ملیں. ناصر ادیب نے مزید کہا کہ جنگ بنیادی طور پر تب شروع ہوئی جب کراچی کے فنکاروں نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا اور ہمایوں سعید کو کام نہیں دیا گیا. میں ان سب کو اون کرتا ہوں لیکن یہ ہمیں‌اون نہیں‌کرتے . کراچی کی جو فلمیں ہیں مجھے تو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن لوگوں‌کو لگتا ہے کہ جیسے یہ لانگ پلے چل رہا ہے اور اس میں گانے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ ٹی وی فلم کے رائٹر میں‌جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی کا رائٹر قطرے سے دریا بناتا ہے اور فلم کا رائٹر دریا کو کوزے میں بند کر دیتا ہے. مجھے بلال لاشاری نے اون کیا تو نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے . لوگ پوچھتے ہیں کہ دا لیجنڈ اف مولا جٹ پنجابی میں‌نہیں‌بنائی گئی تو میں ان سے کہتا ہوں کہ پنجابی فلم انتقام پر بیس کرتی ہے اسکے لئے انتقام کی زبان پنجابی ہونی چاہیے، پیار محبت ، دشمنی ، ہر چیز کا مزہ پنجابی میں ہی ہے . پنجابی نہایت ہی میٹھی زبان ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ نے انڈین فلموں‌ کے بزنس کو بھی متاثر کیا ہے.

  • جسٹس اطہر من اللہ کا دورہ اڈیالہ؛  قیدیوں کے لیے شکایت سیل قائم کرنے کا حکم

    جسٹس اطہر من اللہ کا دورہ اڈیالہ؛ قیدیوں کے لیے شکایت سیل قائم کرنے کا حکم

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور وہاں قیدیوں کے لیے شکایت سیل قائم کرنے کا حکم دیا۔

    دورے کے دوران چیف جسٹس کو اڈیالہ جیل کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور جیل میں تشدد سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔ چیف جسٹس کی آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی مشتاق احمد اور سیشن جج اسلام آباد بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔سینئر سول جج راولپنڈی بھی سیشن جج کے ہمراہ تھے۔ چیف جسٹس نے راولپنڈی کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اور قیدیوں کی مکمل فہرست طلب کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ سیشن ججز کو اڈیالہ جیل کا ریگولردورہ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جیل کے دورے میں دورہ کے مقاصد کو فوکس رکھیں۔

    چیف جسٹس نے قیدیوں کے لیے شکایت سیل قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ ، بار کا نمائندہ ، ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا صدر اس کے ارکان ہوں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے زیر نگرانی اڈیالہ جیل شکایت سیل نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قیدیوں کے لیے کیس ای فائل سسٹم متعارف کرانے کا بھی حکم دیا۔ اڈیالہ جیل کے دورے میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ارباب محمد طاہر، سیشن جج ایسٹ عطا ربانی، سیشن جج ویسٹ طاہر محمود خان بھی شریک تھے۔آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اعجاز اصغر نے ججز کو بریفنگ دی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلی بار کے دورے کے بعد جیل سے متعلق بہتری کا فیڈ بیک آیا ہے ۔ جیل حکام کام میں بہتری لائے ہیں، امید ہے اس میں مزید بہتری ہو گی، لیکن ابھی بھی قیدیوں کی کچھ شکایات آرہی ہیں۔ جیل کے اندر بہت سخت کرپشن ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی ہیں، جو شکایت کرتا ہے ان کو یہاں تنگ بھی کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن ، مارنا ، گالیاں دے کر نکالنا ، قیدیوں کے سامان کو نکال لینا بھی غیر اخلاقی عمل ہے۔ یہ کلچر آہستہ آہستہ تبدیل ہو گا، آپ کو ڈسپلن قائم رکھنا ہے ۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسا میکنزمہونا چاہیے کہ جس قیدی کی ضمانت ہو، ڈسٹرکٹ کورٹ سے آپ کو آن لائن اطلاع مل جائے۔

    جیل حکام نے بتایا کہ پچھلے 2 ہفتوں کے اندر درخواست گزار قیدی 3 اہل کاروں سے بدتمیزی کر چکا ہے۔ 15، 20 لوگوں کا جو گینگ بنا ہوا ہے، وہ سرعام اپنے مخالف کو دھمکیاں لگاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن اور حراست کے دوران ٹارچر نہ ہو۔ باقی آپ جیل مینوئل کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں۔ ہر قدم پر پیسے ڈیمانڈ کرتے ہیں، یہ ایسا سلسلہ ہے جس کو دُور کرنے میں وقت لگے گا۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اعجاز اصغر نے بتایا کہ جیل میں 6300 قیدیوں کے لیے 34 اسٹاف ممبر ہیں۔ مرد قیدیوں کا ایک اور خواتین قیدیوں کے دو ڈاکٹرز ہیں۔ دِن کے لیے جیل میں 4 ڈاکٹرز چاہییں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 1600 سے زائد قیدی اسلام آباد کے بھی ہیں، وفاقی حکومت اپنے ڈاکٹرز یہاں کیوں نہیں رکھتی؟۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج
    رانا ثنااللہ کی عمران خان کوپی ڈی ایم قیادت سے غیرمشروط بات کرنے کی پیشکش:لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ
    آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ 6 ارب روپے سے پنجاب میں 5 ماڈل جیلیں بنائی جا رہی ہیں۔ اڈیالہ جیل میں مانیٹرنگ کے لیے خصوصی سیل بھی قائم کردیا گیا۔ جیل حکام نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی گنجائش 3 ہزار ہے جب کہ اس وقت 6056 قیدی حوالات میں قید ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جیل میں قیدیوں پر ٹارچر، تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ بعد ازاں چیف جسٹس اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے۔

  • لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران تاخیری نظام لاگو کیا جائے. پیمرا

    لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران تاخیری نظام لاگو کیا جائے. پیمرا

    لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران تاخیری نظام لاگو کیا جائے. پیمرا

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی لائیو کوریج اور تقاریر سے متعلق چینلز کو ہدایات جاری کر دیں۔ پیمرا کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران تاخیری نظام لاگو کیا جائے، تاخیری نظام نہ لگانے والے ٹی وی چینلز کے لائسنس معطلی سمیت قانونی کارروائی ہو گی۔

    پیمرا کا کہنا ہے کہ تمام چینلز ریاستی اداروں کو بدنام کرنے والا مواد نشر کرنے سے گریز کریں، اعلی عدالتی احکامات اور پیمرا قوانین کے مطابق لائیو کوریج میں تاخیری نظام ہونا چاہیے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کی ٹرانسمیشن میں مشاہدے میں آیا کہ تقاریر میں ریاستی اداروں کے خلاف بیانات لائیو نشر ہوئے، یہ ضابطہ اخلاق اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج
    رانا ثنااللہ کی عمران خان کوپی ڈی ایم قیادت سے غیرمشروط بات کرنے کی پیشکش:لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ
    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی عابد زبیری کو صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہونے پر مبارکباد
    مقتول ناظم جوکھیو کی والدہ نے عدالت میں صلحنامے سے متعلق بیان قلمبند کرادیا
    واضح رہے پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوسرے دن اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں گزشتہ روز لاہور کے لبرٹی چوک سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور شاہدرہ پر پڑاؤ ڈالا۔ لانگ مارچ اب کامونکی کی جانب گامزن ہے۔ جس میں رہنماء تقاریریں کررہے ہیں تاہم اب اس حوالے سے پیمرا نے واضح ہدایات دے دی ہیں.

  • عوام عمران خان کی انتشار اور فساد کی سیاست کو مسترد کر دیں گے۔ مریم اورنگزیب

    عوام عمران خان کی انتشار اور فساد کی سیاست کو مسترد کر دیں گے۔ مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عوام انتشار اور فساد کی سیاست کو مسترد کر دیں گے۔ مذاکرات سیاستدانوں سے ہو سکتے ہیں، فارن فنڈڈ فتنے سے نہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے حکومتی اقدامات کیے گئے اور اب بحالی کے لیے کام کا آغاز ہو گا۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے بڑی محنت کے ساتھ سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگہی اشتہارات بغیر کسی ادائیگی نشر ہوئے۔ میڈیا نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگہی مہم میں بہترین کردار ادا کیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اور اتحادی مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عمران خان نے 4 سال میں ملک کو بہت نقصان پہنچایا اور لوگوں کو بےروزگار کیا۔ عمران خان نے سائفر پر سیاست کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایمپائر کی بیساکھی پر کھڑ ے تھے اور عمران خان کو آر ٹی ایس کے ذریعے وزیر اعظم بنایا گیا۔ عمران خان نے کبھی 4 سالہ کارکردگی پر کوئی بات کی؟

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دنیا کے تمام لوگ سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں میں مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن عمران خان اداروں کے خلاف تقاریر کرتے ہیں اور بھارتی میڈیا ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، وہاں ہم ہی موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ کریں یا لانگ ڈرائیو، حکومت اپنا کام کرے گی اور یہ کیسا انقلاب ہے جس میں رات کو عمران خان گھر جا کے سو جاتے ہیں۔ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ نہیں اور حکومت کس کے ساتھ مذاکرات کرے؟

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے اور عمران خان کا مقصد تو انتخابات ہے ہی نہیں۔ سیاسی مخالفین کو گالی دینے والے کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے جبکہ عوام انتشار اور فساد کی سیاست کو مسترد کریں گے۔ خدانخواستہ کوئی ایسا واقعہ ہوا تو اس کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان شہباز شریف اور خواجہ آصف کے ہرجانے کے نوٹس کا جواب دیں، سیاست میں مذاکرات کا آپشن ہمیشہ رہتا ہے لیکن مذاکرات سیاست دانوں کے ساتھ ہو سکتے ہیں فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ نہیں۔ گالی، دھمکی اور دھونس سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی اور الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سڑکوں پر مذاکرات نہیں ہوں گے اور کیا ملکی مفادات کے ساتھ کھیلنے والوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں؟ لاشیں بکھیرنے اور خونی مارچ کی بات کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے زکوۃ کا پیسہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور 25 مئی کو مسلح لوگ پکڑے گئے تھے۔ عمران خان نے جو کرنا ہے کر لیں اس کا کوئی اثر نہیں ہو گاْ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان ہرجانے کے مقدمے میں مفرور ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فارن فنڈڈ فراڈ فتنے کے ساتھ کوئی مذاکرات کی گنجائش نہیں اور عمران خان الیکشن نہیں بلکہ ملک میں انتشار، فساد، لاشیں اور خون چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر فساد برپا کرنے سے فارن فنڈد فتنے کی اصلیت اب چھپ نہیں سکتی جبکہ عمران خان پہلے شہباز شریف اور خواجہ آصف کے ہرجانے کے نوٹسز کا جواب دیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ 5 سال سے شہباز شریف کے 10 ارب روپے ہرجانے کے مقدمے میں عمران خان مفرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے فارن فنڈڈ فتنے کا غلام بننے سے انکار کر دیا اور این آر او نہیں دیا۔ عمران خان رات کو ناکام مارچ چھوڑ کر گھر سونے کے لیے کیوں گئے؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کو پنجاب پولیس کا پروٹوکول؛پہلے روز ہی کروڑوں روپے کے اخراجات

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کو پنجاب پولیس کا پروٹوکول؛پہلے روز ہی کروڑوں روپے کے اخراجات

    تحریک انصاف لانگ مارچ کے پہلے روز کا خرچہ پولیس کو کروڑوں روپے میں پڑا

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پہلے روز پنجاب پولیس پر کروڑوں روپے لگائے گئے۔ تحریک انصاف کے گزشتہ روز شروع ہونے والے لانگ مارچ کو پنجاب پولیس کی جانب سے مکمل پروٹوکول دیا جارہا ہے، اور صوبے کے باسیوں کو چوروں ڈکیتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جب کہ ایلیٹ فورس کے خصوصی دستے بھی لانگ مارچ کے شرکاء کی حفاظت پر مامور ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا روز ہی پولیس کو کروڑوں روپے کا پڑ گیا ہے، اور پولیس کے اخراجات پولیس کی ڈیمانڈ سے تجاوز کرنے لگے ہیں۔ پولیس نے لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے لیے پانچ کروڑ روپے کے فنڈز مانگے تھے، تاہم پہلے روز ہی پولیس پر سوا دو کروڑ روپے کا خرچہ ہوگیا۔

    لانگ مارچ کی سیکیورٹی پر 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اور ان کی صرف ایک دن کی تنخواہ کی مد میں ایک کروڑ 60 لاکھ روپے خرچہ آیا ہے، جب کہ پٹرول اور کھانے کی مد میں 60 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے لانگ مارچ کا دورانیہ طویل ہونے پر مزید فنڈز مانگے جائیں گے، اور حتمی اخراجات کا تخمینہ لانگ مارچ مکمل ہونے پر لگایا جاسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج
    رانا ثنااللہ کی عمران خان کوپی ڈی ایم قیادت سے غیرمشروط بات کرنے کی پیشکش:لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ
    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو دوسرے روز بھی پنجاب پولیس کا مکمل پروٹوکول حاصل ہے، اور اب فیصلہ ہوا ہے کہ پولیس اہلکار راولپنڈی تک لانگ مارچ کے ساتھ ہی جائیں گے۔ اسی تناظر میں پولیس اہلکار اپنے گھروں سے کمبل، چادریں اور کپڑوں کے بیگ بھی لائے ہیں۔

  • چیف جسٹس ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ عمران خان

    چیف جسٹس ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گے تو کون کرے گا

    لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ میں 70 سال کی عمر میں سڑکوں پر نکلا ہوں ، میرا مولا مجھے سب کچھ دے چکا ہے۔ بھیڑ بکریاں غلام ہوتی ہیں، انسان صرف اللہ کی غلامی کرتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی کو نامعلوم افراد کے حوالے کیا گیا، جن کے نام اعظم سواتی کے نام لئے ہیں ، یہ 2 لوگ جب سے اسلام آباد میں آئے ہیں تب سے ظلم کیا جارہا ہے۔ میرا ان کو پیغام ہے ہم انسان ہیں بھیڑ بکریاں نہیں کہ جو کہیں کہ مان لیں گے۔ پہلے نواز شریف اور زرداری چور تھے لیکن اب یہ چور نہیں۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ غیر سیاسی پریس کانفرنس میں صرف عمران خان کو نشانہ نہیں بناتے، آپ کو 1100 ارب روپے کا ڈاکا مارنے والے چور نظر نہیں آرہے۔ عمران خان نے کہا کہ کون تھا جو ارشد شریف کو دھمکیاں دیتا تھا، ان کی والدہ کو پوچھیں وہ بتائیں گی، پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ارشد شریف بیرون ملک کیوں گیا، سب کو پتہ ہے کہ اس کو کون دھمکیاں دے رہا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچ؛ آج دوبار شاہدرہ سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا
    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج
    رانا ثنااللہ کی عمران خان کوپی ڈی ایم قیادت سے غیرمشروط بات کرنے کی پیشکش:لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ
    چیف جسٹس پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پوری دنیا میٓں دوران حراست تشدد پر پابندی ہے۔ جب چیف جسٹس صاحب ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ شہباز گل کے معاملے پر جب بات کی تو توہین عدالت لگ گئی، چیف جسٹس اعظم سواتی کی اپیل پر ایکشن لیں، انسانی معاشرے میں انصاف ہوتا ہے۔
    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوسرے دن اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں گزشتہ روز لاہور کے لبرٹی چوک سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور شاہدرہ پر پڑاؤ ڈالا تھا۔ لانگ مارچ اب کامونکی کی جانب گامزن ہے۔
    جبکہ پی ٹی آئی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ گوجرانوالہ، جہلم اور گجرات سمیت مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 4 نومبر کو راولپنڈی جب کہ 5 نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔