Baaghi TV

Author: +9251

  • پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزار روپے ہوتا. نواز شریف

    پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزار روپے ہوتا. نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا کہ ہمیں انتقام کی کوئی خواہش نہیں، کسی بدلے کی تمنا نہیں ، لیکن پاکستان کو یہ برے دن دکھانے والوں کا احتساب ضرور ہو گا، پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزارروپے ہوتا جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے مشاورتی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ جو قومیں خود احتسابی نہیں کرتیں وہ حالات کے رحم و کرم پر ہی رہتی ہیں، خود احتسابی کا پیغام ملک کے کونے کونے میں پہنچائیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات میں ہماری کامیابی یقینی ہے، پاکستان کو یہ برے دن دکھانے والوں کا احتساب ضرور ہو گا۔ نواز شریف نے کہاکہ ملک میں اتنی تلخیاں نہیں ہونی چاہییں تھیں، مریم نواز، حمزہ شہباز سمیت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دیگر رہنمائوں اور کارکنوں نے بغیر کسی جرم کے جیلیں اور سختیاں بھگتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کا یہ حشر کر دیا ہے، آج غریب روٹی کو ترس رہا ہے، ملک کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے؟۔

    قائد ن لیگ نے کہا کہ 2017 میں تو یہ حالات نہیں تھے، آٹا، گھی اور چینی سستے داموں پر مل رہے تھے، ہمارے دور میں جسے ایک ہزار روپے بجلی بل آتا تھا اسے آج 30 ہزار کا بل آ رہا ہے۔ عوام کہاں سے یہ بجلی کے بل ادا کریں؟۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ قوم کو اس حالت تک پہنچانے والے کردار اور چہرے ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارا تو ایک منٹ میں احتساب ہوتا ہے، کیا ملک وقوم کو اس حال تک پہنچانے والوں کا احتساب بھی ہوگا؟ نواز شریف نے مزید کہا کہ ہم نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، ملک کو جوہری قوت بنانے والے شخص کو جلا وطن کیا جاتا ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کی عدالت سے 27 سال کی سزا سنائی جاتی ہے، کیا ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنانا میرا قصور تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو شخص ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلاتا ہے، 4 جج بیٹھ کر کروڑوں عوام کے مینڈیٹ والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے جنرل باجوہ اور جنرل فیض تھے۔ جبکہ ان کے آلہ کار ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ تھے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ آج بھارت چاند پر پہنچ گیا اور اپنے ملک میں جی 20 کا اجلاس کرا رہا ہے، یہ سب تو ہمیں کرانا چاہیے تھا۔ دسمبر 1990 میں جب میں وزیراعظم بنا تھا تو اس وقت بھارت نے پاکستان میں ہماری شروع کردہ معاشی اصلاحات کی تقلید کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے مزید کہا کہ واجپائی جب وزیراعظم بنے تو اس وقت بھارت کے پاس ایک ارب ڈالر خزانے میں نہیں تھا، لیکن آج ان کے پاس 600 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔

    نواز شریف نے کہاکہ ملک کو تباہی تک پہنچانے والے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پاکستان میں پیٹرول ایک ہزار روپے لیٹر ہوتا۔ اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پہلے بھی معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑا تھا، اب بھی اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہے۔ میرے دل میں خوف خدا اور پاکستان کی محبت کا جذبہ تھا اور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مفلوج افراد کیلئے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام کا مقدر تاریک کرنے والے قتل کے مجرم سے بڑے مجرم ہیں، ان کو چھوڑنا بہت بڑا ظلم ہو گا، یہ ناقابل معافی ہیں، نواز شریف نے کہاکہ قوم کو یہ سب حقائق معلوم ہونے چاہییں کہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے کون ہیں، قوم کو انہیں معاف نہیں کرنا چاہیئے تاہم خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن پہنچیں گے اور ن لیگ نے ان کے فقید المثال استقبال کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • صحافی محمد اویس کو نامعلوم افراد کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں

    صحافی محمد اویس کو نامعلوم افراد کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں

    راولپنڈی اسلام آباد یو نین آف جر نلسٹس (آر آئی یو جے)نے سینئر صحافی محمد اویس کو نا معلوم افراد کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے)کے صدر عابد عباسی ،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک ،فنانس سیکرٹری کاشان اکمل گل اور مجلس عاملہ کے دیگر ارکان نے سینئر صحافی محمد اویس کو نا معلوم افراد کی طرف سے ان کے گھر جا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی.

    جبکہ ان دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی صحافی کو خبر دینے پر دھمکیاں دینا آزادی صحافت پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اگر کسی ادارے کو صحافی کی خبر کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کے خلاف کارروائی کے لیے فورمز مو جود ہیں اس طرح کسی کو اسے گھر جا کر دھمکانا کسی صورت درست عمل نہیں ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مفلوج افراد کیلئے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    علاوہ ازیں طارق علی ورک جنرل سیکرٹری آر آئی یو جے نے کہا کہ اس معاملے کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی اور آزادی اظہار رائے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر آگاہ رہیں کہ اگر محمد اویس کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار وہ ادارے ہوں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ محمد اویس کے دفتر خارجہ میں رپورٹنگ کے لیے جا نے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جو شرمناک فعل ہے ترجمان دفترخارجہ اس کا نوٹس لیں اور ایک رپورٹر کو اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر نے دیں.

  • مفلوج افراد کیلئے  بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    مفلوج افراد کیلئے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    پنجاب میں پہلی بار مفلوج افراد کے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    فالج سے متاثرہ افراد اور جسمانی معذوروں کیلئے اچھی خبر آگئی۔ پنجاب میں پہلی بار مفلوج افراد کے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اور وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر کا کہنا ہے کہ پنجاب کے 5 شہروں میں خصوصی بحالی مراکز قائم کئے جا رہے ہیں۔

    جبکہ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ایک مرکزی بحالی سینٹر اور 4 سیٹلائٹ سینٹرز قائم کئے جائیں گے اور ڈاکٹر جمال ناصر کا کہنا تھا کہ مرکزی بحالی سینٹر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال ملتان میں قائم کیا جائیگا جو 30 بیڈز پر مشتمل ہوگا۔ باقی 4 سیٹلائٹ بحالی مراکز لاہور، فیصل آباد، تونسہ اور واہ کینٹ میں بنائے جائینگے۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بحالی سینٹر ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن سمیت جدید سہولتوں سے لیس ہوگا اور وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے مزید کہا کہ ٹی ایچ کیو اسپتال سمن آباد لاہور میں پہلے پیرا پلیجک سینٹر کا افتتاح بہت جلد کردیا جائیگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاک آئی ایم ایف مذاکرات کو کوئی اور رنگ دینا مضحکہ خیز. دفترخارجہ
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    خیال رہے کہ انہوں نے بتایا کہ بحالی مراکز پر مریضوں کو اسپیچ تھراپی کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی، معذور افراد کیلئے مصنوعی اعضاء کی ورکشاپ بھی قائم کی جائیگی۔

  • پاک آئی ایم ایف مذاکرات کو کوئی اور رنگ دینا مضحکہ خیز. دفترخارجہ

    پاک آئی ایم ایف مذاکرات کو کوئی اور رنگ دینا مضحکہ خیز. دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کے لیے یوکرین کو پاکستانی ہتھیاروں کی فروخت کی خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے، پاکستان اس بے بنیاد اور من گھڑت خبر کو مسترد کرتا ہے۔


    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات مشکل لیکن ضروری معاشی اصلاحات کے نفاذ کے لیے اسٹینڈ بائی معاہدے پر ہوئے لیکن ان مذاکرات کو کوئی اور رنگ دینا مضحکہ خیز ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    میئر کراچی نے سندھ حکومت سے بلٹ پروف گاڑی مانگ لی
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کے حوالے سے اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، پاکستان کی طرف سے کسی کو کوئی اسلحہ یا گولہ بارود فراہم نہیں کیا گیا، پاکستان کی دفاعی برآمدات ہمیشہ سخت ترین شرائط کے ساتھ ہوتی ہیں۔

    پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے یوکرین کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق غیر ملکی میگزین کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور یوکرین کو پاکستانی ہتھیاروں کی فروخت کے الزام پر ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کے لیے یوکرین کو پاکستانی ہتھیاروں کی فروخت کی خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے، پاکستان اس بے بنیاد اور من گھڑت خبر کو مسترد کرتا ہے۔

  • میئر کراچی نے سندھ حکومت سے بلٹ پروف گاڑی مانگ لی

    میئر کراچی نے سندھ حکومت سے بلٹ پروف گاڑی مانگ لی

    میئر کراچی مرتضی وہاب نے سندھ حکومت سے بلٹ پروف گاڑی کا مطالبہ کردیا اور ان کا کہنا ہے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میں جرائم پیشہ افراد اور مافیہ کے ٹارگٹ پر ہوں، مرتضی وہاب نے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ تم جرائم پیشہ افراد اور مافیا کے ابھی تک ٹارگٹ پر ہو، مجھے بلٹ پروف گاڑی دی جائے۔

    تاہم یاد رہے کہ سندھ حکومت تبدیل ہونے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے بلٹ پروف گاڑی واپس لی گئی تھی، ذرائع سندھ حکومت کے مطابق مرتضیٰ وہاب کی بلٹ پروف گاڑی موجودہ نگراں وزیرداخلہ کو دی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے. کامران مرتظیٰ

    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو بلٹ پروف گاڑی سابق وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے الاٹ کی تھی، یہ گاڑی سابق وزیرداخلہ سہیل انورسیال کے بھی زیراستعمال رہی ہے، تاہم محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن و کوآرڈی نیشن نے میئر کراچی سے گاڑی واپس لے لی ہے۔

  • بینچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے. کامران مرتظیٰ

    بینچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے. کامران مرتظیٰ

    جمعیت علماء اسلام ایف کے سینیٹر اور سینئر ماہر قانون کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا امتحان شروع ہوگیا بینچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی اور لیگل ٹیم کے رکن و قانون داں شعیب شاہین نے کہا کہ فل کورٹ اچھا فیصلہ ہے پہلے بھی بننا چاہیے تھا ہر کیس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، سپریم کورٹ تقسیم کا شکار ہے جبکہ انھوں نے کہا کہ فل کورٹ سماعت طویل مدت بعد ہوئی، پہلی بار سماعت براہ راست نشر کی گئی، امید ہے کہ اقدام ادارے کیلئے اچھے ہوں گے۔

    کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ فل کورٹ بہت مشکل تجربہ ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیلئے بینچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا امتحان شروع ہوگیا ہے، اللہ تعالیٰ چیف جسٹس کو امتحان میں کامیاب کرے۔ سینئر ماہر قانون کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ 63 اے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی اور لیگل ٹیم کے رکن و قانون داں شعیب شاہین نے کہا کہ فل کورٹ اچھا فیصلہ ہے پہلے بھی بننا چاہیے تھا ہر کیس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا الیکشن کی بات آئی تو فل کورٹ کے مطالبے نے زور پکڑا، دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف فیصلے کے وقت بھی فل کورٹ کا مطالبہ ہوا لیکن ان دنوں ججز کی چھٹیاں تھیں اس لئے فل کورٹ نہیں بن سکتا تھا اس کا اظہار بھی اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیا تھا۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر فل کورٹ بنتا تو اس کا فیصلہ کم از کم زیادہ تسلیم کیا جاتا اور جس نے عدالتی فیصلہ نہیں ماننا تھا وہ فل کورٹ کا فیصلہ بھی نہیں مانتا کیونکہ مقتدر حلقوں نے فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن نہیں ہونے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کوئی فیصلہ آئین و قانون کے خلاف نہیں تھا، فیصلے درست تھے لیکن اس کے اندر جو دو تین چیزیں کم رہیں جسے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو اس کا عدلیہ کے وقار کو جو نقصان ہوا وہ نہ ہوتا۔

    شعیب شاہین نے مزید کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والی شخصیت کے مالک ہیں، امید ہے کہ وہ 90 روز میں یا نوے روز کے قریب الیکشن کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ ماہر قانون حسن ایوب نے کہا کہ آج فل کورٹ بیٹھ گیا کون سی قیامت آگئی لیکن ماضی میں فل کورٹ نہیں بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ 184(3) کا اختیار جسٹس عمر عطا بندیال استعمال کرتے رہے ہیں جو بینچ وہ تشکیل دیتے تھے، آپ اور میں پہلے بتا دیتے تھے کہ فیصلہ کیا متوقع ہے۔ إنھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ انصاف تھا کیا یہ طریقہ کار تھا۔ اس طریقے سے عدلیہ کو چلایا گیا تو پھر پہلے آپ کے ججز نے ریمارکس دیے جس میں ججز کے درمیان تقسیم نظر آئی اور پھر اس کے بعد جوڈیشل نوٹ میں بھی اختلافات سامنے آئے۔

  • مسلم  لیگ ن پنجاب؛  عہدیداروں کو ٹاسک سونپ دیے گئے

    مسلم لیگ ن پنجاب؛ عہدیداروں کو ٹاسک سونپ دیے گئے

    مسلم لیگ ن پنجاب؛ گرینڈ مشاورتی اجلاس میں تنظیمی عہدیداروں کو ٹاسک سونپ دیے گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے گرینڈ مشاورتی اجلاس میں تنظیمی عہدیداروں کو ٹاسک سونپ دیے گئے۔ چیف آرگنائزر نون لیگ مریم نواز کا کہنا ہے کہ 21 اکتوبر کو کسی فرد کا نہیں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل کا استقبال کریں گے۔

    https://twitter.com/pmln_org/status/1703752829045776656
    لاہور کے مقامی ہوٹل میں نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریوں کے حوالے سے مسلم لیگ نون پنجاب کے اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت چیف آرگنائزر مریم نواز نے کی، ن لیگ کے قائد نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ سابق وزیراعظم کے اجلاس میں شرکت پر شرکاء نے کھڑے ہو کر اور بھرپور تالیوں سے اپنے قائد کا استقبال کیا۔

    جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز شریف، سیکریٹری جنرل احسن اقبال، پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ، پنجاب سے سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ پنجاب کے پی پی سطح کے تمام ڈویژنز اور اضلاع کے عہدیدار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں سابق اراکین اسمبلی، پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع کے عہدیداران کو 21 اکتوبر کی تیاریوں کے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ چیف آرگنائزر مریم نواز نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں سینٹرل فسیلی ٹینشن کنٹرول سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر میاں نوازشریف کا پُرتپاک استقبال کیا جائے گا، عوام پاناما اور اقاما کے ڈرامے کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیں گے۔

    علاوہ ازیں سابق وزیراعلی حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے زخم کھا کر بھی پاکستان کے زخموں پر مرہم رکھا ہے، نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا لیکن آج اسے بھکاری ملک بنا دیا گیا جو باعث شرم ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ نوازشریف کو وزیراعظم بناکر عوام اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں گے، قائد ن لیگ کے وزیراعظم بننے کا مطلب مہنگائی کے عذاب کم کرنا ہے، ملک کی بہتری کے لیے قائد نواز شریف پاکستان آ رہے ہیں، ان کا شاندار استقبال کریں گے، ترقی اور خوش حالی کا استقبال کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کسان ، محنت کش، دیہاڑی دار، طالب علم، استادسب نوازشریف کی راہ دیکھ رہے ہیں، قوم کو سوال پوچھنا چاہیے کہ نوازشریف کے دور کے بعد مہنگائی کیوں ہوئی؟ نوازشریف نے عوام کو ریلیف دیا تھا، پھر کس نے عوام کو تکلیف دی ؟ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں 2013 سے 2018 پاکستان کی تیز ترین ترقی کا دور تھا، پاکستان کی ترقی کے عمل کو ایک سازش کے تحت روکا گیا، نواز شریف ہی نہیں، پاکستان کی ترقی، سی پیک اور پاکستان کے دوست ممالک کے خلاف بھی سازش ہوئی، عوام کا مضبوط مینڈیٹ پاکستان کے خلاف ہونے والی سازش کے اثرات ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    جبکہ سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نوازشریف کی سیاست پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوش حالی ہے، نوازشریف کے خلاف سازش اصل میں عوام اور پاکستان کے خلاف سازش ہوتی ہے، جب پاکستان ترقی کرتا ہے، اسے گرایا جاتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی سے چند کرداروں کو تکلیف ہوگئی، نوازشریف حکومت ختم نہ ہوتی تو مہنگائی ختم ہوچکی ہوتی، جمہوریت ناکام نہیں ہوئی، جمہوریت کو ناکام بنایا گیا، سازش نہ ہوتی تو آج پاکستان بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوتا، پاکستان لوٹنے والے صداقت اور امانت کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے۔

  • مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند

    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند

    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند کردی

    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند کردی ہے اور آئل ٹینکرز مالکان نے مختلف شہروں میں پیٹرول اور پیٹرول کی سپلائی بند کردی، پیٹرول کی عدم فراہمی پر پیٹرول کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    جبکہ ٹینکرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی میں پیٹرول کی سپلائی بند کردی گئی، آزاد کشمیر، ہوائی اڈے، ہزارہ، اٹک اور گلگت کو بھی سپلائی بند رہے گی۔ اور آئل ٹینکرز مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ وائٹ آئل پائپ لائن کی ٹرانسپورٹ کا حصہ 65 فیصد کیا جائے، کرایہ جات میں اضافہ کیا جائے، پرانی گاڑیوں کو بحال کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    امریکا اور ایران کا قیدیوں کا تبادلہ
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لوکل 100 فیصد اور اوور لوڈنگ ٹرپ 50 فیصد بڑھائی جائے، مطالبات کی منظوری تک سپلائی معطل رہے گی۔

  • امریکا اور ایران کا  قیدیوں کا تبادلہ

    امریکا اور ایران کا قیدیوں کا تبادلہ

    ایران نے اپنی حراست میں موجود 5 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے امریکی قیدیوں کی رہائی قطر کی ثالثی کے بعد ہوئی اور قطر کی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران نے امریکی قیدیوں کو رہا کیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق معاہدے کے مطابق امریکا نے ایران کے 6 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثوں کو بھی قطر کے ایک بینک میں منتقل کیا ہے جبکہ 5 ایرانی شہریوں کو رہا کیا گیا ہے جو قطر کے شہر دوحہ پہنچ گئے ہیں اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اس معاہدے کے لیے کئی ماہ سے کام کیا جا رہا تھا اور اب اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے امریکی شہریوں طیارے میں بیٹھنے کی اجازت اسی وقت ملی جب منجمد اثاثوں کی منتقلی مکمل ہوئی، جن کو پہلے مرحلے میں قطر لے جایا گیا ہے، جہاں سے انہیں واشنگٹن منتقل کیا جائے گا اور 5 میں سے 3 افراد کی شناخت سامنے آئی ہے جن میں سے ایک برطانوی نژاد امریکی شہری مراد تباز ہے۔

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس معاہدے سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری آئے گی یا نہیں، امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کو منتقل کی جانے والی رقم کو صرف ایسی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیا جاسکے گا جن پر پابندیاں عائد نہیں۔ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اس معاہدے پر ریپبلکن جماعت کے رہنماؤں نے شدید تنقید کی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کانگریس میں خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ Michael McCaul نے کہا کہ جو بائیڈن ماضی کی غلطیوں کااعادہ کر رہے ہیں۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت تقریبا 7  گھنٹے  جاری رہی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت تقریبا 7 گھنٹے جاری رہی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت کی جس کی سماعت براہ راست سرکاری ٹی وی سے نشر کی گئی، فل کورٹ میں سپریم کورٹ کے تمام 15ججز شامل تھے۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر اپیل پر سماعت صبح 11 بج کر 40 منٹ پر شروع ہوئی، جو تقریبا 7 گھنٹے 5 تک جاری رہی جبکہ دن بھر جاری رہنے والی سماعت شام کے وقت 6 بج کر 45 منٹ پر ملتوی کردی گئی، سماعت کے دوران 2 بار وقفے بھی ہوئے، پہلا وقفہ دوپہر 2 بج کر 20 منٹ پر ہوا، جس کے بعد 3 بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    اس کے بعد سماعت میں دوسرا وقفہ 5 بج کر 15 منٹ پر ہوا، جو تقریبا ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہا۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی جو زیادہ زیر نہ چل سکی اور سماعت 10 منٹ تک جاری رہی اور عدالت کی کارروائی 6 بج کر 45 منٹ پر روک دی گئی۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے سماعت پہلے 2 اکتوبر تک ملتوی کی اس کے بعد تاریخ بدلتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف اپنا تحریری جواب اٹاری جنرل کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا ہے جس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کرنےکی استدعا کی ہے۔ یاد رہے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مفاد عامہ کے مقدمات میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ چیف جسٹس اور دو سینئیر پر مشتمل کمیٹی کر سکے گی تاہم یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لیا تھا اور حلف لینے کے بعد پہلا مقدمہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رواں برس اپریل میں کسی بھی آئینی مقدمے کے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔