Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • تہران میں العربی چینل کی عمارت پر حملہ، نشریات معطل

    تہران میں العربی چینل کی عمارت پر حملہ، نشریات معطل

    
قطری نیوز چینل العربی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں اس کی عمارت کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دفتر کو شدید نقصان پہنچا اور نشریات عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔
    چینل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک میزائل نے دارالحکومت تہران میں واقع ان کے دفتر کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ واقعے کے بعد فوری طور پر لائیو نشریات متاثر ہوئیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دفتر کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے، بکھرا ہوا سامان اور ملبہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ عمارت کے باہر قریبی علاقوں میں بھی نقصان کے آثار نظر آئے۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس عمارت میں دیگر اداروں کے دفاتر بھی موجود تھے یا نہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق میڈیا اداروں کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کے ایک نئے پہلو کو ظاہر کرتا ہے، جس سے اطلاعات کی ترسیل اور صحافتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

  • 
آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو اجازت، بڑی سفارتی پیش رفت

    
آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو اجازت، بڑی سفارتی پیش رفت

    ‎خطے میں کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پیش رفت کو علاقائی استحکام اور سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 20 پاکستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے تحت روزانہ دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔ انہوں نے ایران کے اس اقدام کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
    ‎اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بحری جہازوں کی بحالی سے نہ صرف تجارت میں بہتری آئے گی بلکہ علاقائی اعتماد سازی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔
    ‎انہوں نے اپنی پوسٹ میں عالمی رہنماؤں کو بھی ٹیگ کیا، جس سے اس معاملے کی بین الاقوامی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کو شیئر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے سے پاکستانی جہازوں کی آمدورفت کی بحالی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔

  • 
ایران میں میزائل حملہ، کراچی کا نوجوان جاں بحق

    
ایران میں میزائل حملہ، کراچی کا نوجوان جاں بحق

    
ایران میں ہونے والے ایک میزائل حملے کے نتیجے میں کراچی کے علاقے ماڑی پور سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ نوجوان یاسر خان جاں بحق ہو گیا، جس سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔
    خاندانی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس پر پیش آیا جہاں یاسر خان ایک ٹگ بوٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اچانک ہونے والے میزائل حملے کے دوران وہ شدید زخمی ہوا اور جانبر نہ ہو سکا۔
    ‎یاسر کے بھائی واجد خان کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 23 مارچ کی رات پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ حملہ اچانک ہوا جس نے کئی افراد کو متاثر کیا۔
    ‎اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یاسر کی میت کو جلد از جلد پاکستان لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔
    ‎یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی شہری بھی خطے میں جاری کشیدگی سے محفوظ نہیں ہیں اور انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • 
سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، اہم معاملات زیر غور

    
سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، اہم معاملات زیر غور

    
اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم ہاؤس کا دورہ کیا اور اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    وزیر اعظم ہاؤس آمد پر سعودی وزیر خارجہ کا استقبال وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے کیا، جبکہ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دفتر میں معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
    ‎ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی شریک تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس ملاقات کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
    ‎پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات موجود ہیں، اور اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گوجرانوالہ سے گرفتار

    مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گوجرانوالہ سے گرفتار

    
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کے اہم رکن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم قاصد علی کو گوجرانوالہ سے حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر مراکش کشتی حادثے میں بھی ملوث تھا۔
    ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ملزم کا نام ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ اس کے خلاف انسانی سمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم شہریوں کو یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرتا تھا۔ متاثرین سے سپین بھجوانے کے نام پر فی کس تقریباً 33 لاکھ روپے لیے جاتے تھے، جبکہ انہیں غیر قانونی اور خطرناک راستوں سے افریقی ممالک منتقل کیا جاتا تھا۔
    ‎تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک متاثرہ افراد کو موریطانیہ منتقل کرنے کے بعد تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بناتا تھا، جس کے باعث کئی افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
    ‎ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

  • 
اردن کی پروازیں منسوخ، سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    
اردن کی پروازیں منسوخ، سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    
اردن کی جانب سے پروازیں اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ کے کنگ حسین ائیرپورٹ پر پھنس گئے، جس کے باعث ائیرپورٹ پر شدید بدنظمی اور ہجوم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی شہری بیرون ملک سفر کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں اردن کے شہر عقبہ کا رخ کر رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل کے مرکزی بن گوریون ائیرپورٹ سے پروازوں کی تعداد انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ اسرائیلی شہر ایلات اور اردن کے شہر عقبہ کے درمیان فاصلہ صرف 15 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے یہ راستہ زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق سرحد عبور کرنے میں مسافروں کو 4 سے 5 گھنٹے تک کا وقت لگ رہا ہے، جبکہ ائیرپورٹ پر بڑھتے ہوئے رش کے باعث ٹرمینل کے اندر اور باہر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق کئی اسرائیلی مسافر دبئی اور ابوظبی کے ذریعے یورپ اور دیگر ممالک جانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پروازوں کی غیر یقینی صورتحال نے ان کے سفر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
    ‎مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے بروقت اور واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ سے پروازوں میں سخت پابندیاں عائد ہیں اور ہر پرواز میں محدود تعداد میں مسافروں کو سفر کی اجازت دی جا رہی ہے۔
    ‎یہ صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی سفری رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے، جس نے عام شہریوں کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔

  • 
جنوبی لبنان میں حزب اللہ حملہ، اسرائیلی فوجی ہلاک

    
جنوبی لبنان میں حزب اللہ حملہ، اسرائیلی فوجی ہلاک

    
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
    فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت 22 سالہ سارجنٹ موشے یتزحاق کاٹز کے نام سے ہوئی ہے، جو پیراٹروپرز بریگیڈ کی 890ویں بٹالین کا حصہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیو ہیون کا رہائشی بھی تھا۔
    ‎اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کیا گیا، جس میں مزید تین فوجی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمی اہلکاروں کی حالت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎اس سے قبل بھی اسی رات حزب اللہ کی جانب سے ایک علیحدہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں 20 اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف محاذوں پر تنازعات کا شکار ہے، اور اس طرح کے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

  • پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    
اسلام آباد میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اس اجلاس کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جبکہ شریک ممالک کے وزرائے خارجہ موجودہ کشیدگی، ممکنہ سفارتی حل اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے۔
    ‎یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکا کی جانب سے تیار کردہ 15 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا تھا، جس سے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے علاقائی اجلاس خطے میں اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پلیئر کے طور پر سامنے لا رہی ہیں۔

  • 
ایران میں حملوں سے شہادتیں 2076 تک پہنچ گئیں، 216 بچے بھی شامل

    
ایران میں حملوں سے شہادتیں 2076 تک پہنچ گئیں، 216 بچے بھی شامل

    
ایران کی وزارت صحت نے حالیہ حملوں کے بعد جانی نقصانات سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں اب تک 2076 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں 216 بچے بھی شامل ہیں، جو اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔
    وزارت صحت کے مطابق حملوں میں مجموعی طور پر 26 ہزار 500 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 1767 بتائی گئی ہے، جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے 336 طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت کے مراکز پر حملے کسی بھی جنگی صورتحال میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور بنیادی سہولیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • 
موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کیلئے سستا پیٹرول دینے کی تیاری

    
موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کیلئے سستا پیٹرول دینے کی تیاری

    
وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کو ریلیف دینے کی غرض سے ٹارگٹڈ سبسڈی اسکیم پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت عام آدمی، خصوصاً کم آمدن والے طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ذرائع کے مطابق حکومت اس اسکیم کے لیے تقریباً 300 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کم سے کم منتقل ہو۔ وزارت خزانہ نے اس حوالے سے چاروں صوبوں سے بھی مالی تعاون کی درخواست کی ہے اور تجویز دی ہے کہ صوبے اپنے بجٹ سے 154 ارب روپے فراہم کریں۔
    ‎حکومتی حلقوں کے مطابق اس وقت دو اہم آپشنز زیر غور ہیں۔ پہلا یہ کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا جائے، جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ صرف مخصوص طبقات کو ٹارگٹ کر کے سبسڈی دی جائے۔ اس سلسلے میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ یہ زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کی سواری ہیں۔
    ‎تجویز کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ رکشہ ڈرائیورز کو 30 لیٹر تک سستا پیٹرول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے لاکھوں افراد کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے ایک اہم اجلاس متوقع ہے جس میں صدر مملکت، وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں سبسڈی کے طریقہ کار اور فنڈز کی تقسیم پر فیصلہ کیا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرول کا موجودہ ذخیرہ مئی کے پہلے ہفتے تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے، جس سے فوری قلت کا خدشہ نہیں ہے۔