Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
پاکستان کا کونسا شہر دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شامل

    
پاکستان کا کونسا شہر دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شامل

    پاکستان کے شہر لاہور نے عالمی سطح پر ایک اہم اعزاز حاصل کرتے ہوئے دنیا کے محفوظ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں جگہ بنا لی ہے۔ آن لائن ڈیٹا بیس ویب سائٹ Numbeo Crime & Safety Index 2026 کی تازہ درجہ بندی کے مطابق لاہور نے سیفٹی انڈیکس میں کئی بڑے عالمی شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق لاہور کا سیفٹی انڈیکس 63.8 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس کا کرائم انڈیکس 36.2 رہا۔ گزشتہ سال یعنی مڈ 2025 کے مقابلے میں لاہور کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی، جہاں کرائم انڈیکس 36.8 سے کم ہو کر 36.2 ہو گیا، جبکہ سیفٹی انڈیکس 63.2 سے بڑھ کر 63.8 تک پہنچ گیا۔
    ‎نمبیو کی اس درجہ بندی میں لاہور نے کراچی، نئی دہلی، پیرس، واشنگٹن، لندن، نیویارک اور میکسیکو سٹی جیسے بڑے اور معروف شہروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ رپورٹ کے مطابق ان شہروں کے مقابلے میں لاہور کا کرائم انڈیکس کم اور شہریوں کے احساسِ تحفظ کا تناسب زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کو پاکستان کا سب سے محفوظ شہر قرار دیا گیا ہے، جہاں شہریوں نے امن و امان کی صورتحال پر نسبتاً زیادہ اطمینان کا اظہار کیا۔
    ‎البتہ نمبیو نے واضح کیا ہے کہ اس کا Crime & Safety Index سرکاری جرائم کے اعداد و شمار پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ یہ دنیا بھر سے ویب سائٹ استعمال کرنے والے افراد کے ذاتی تجربات، تاثرات اور سروے کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ درجہ بندی شہریوں کے احساسِ تحفظ (Perceived Safety) کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری یا عدالتی ریکارڈ کی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے انڈیکس کسی شہر میں رہنے والے افراد کے عمومی تاثر کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم انہیں سرکاری جرائم کے اعداد و شمار کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر مثبت درجہ بندی کسی شہر کی ساکھ، سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزا سمجھی جاتی ہے۔

  • 
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کر دی

    
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کر دی

    ‎حکومت نے عوام کو معمولی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
    ‎اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 12 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 3 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 66 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس سے ڈیزل استعمال کرنے والے ٹرانسپورٹ اور تجارتی شعبے کو بھی معمولی ریلیف ملے گا۔
    ‎حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کمی معمولی ہے، تاہم اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان میں کچھ حد تک وقفہ آیا ہے۔ دوسری جانب عوام اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے تناظر میں زیادہ نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔

  • 
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    ‎کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط دکھائی دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,245 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس بڑھ کر 1,76,793 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
    ‎مارکیٹ میں خریداری کے رجحان کے باعث مختلف شعبوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے مثبت معاشی اشاریوں اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کی توقع پر سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں جاری تیزی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، تاہم کاروبار کے اختتام تک صورتحال میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق انٹربینک میں امریکی ڈالر ایک پیسہ سستا ہو کر 277 روپے 80 پیسے پر ٹریڈ کرتا رہا۔
    ‎گزشتہ کاروباری روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 495 پوائنٹس یا 0.28 فیصد اضافے کے بعد 175,547.98 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس روز مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں 175 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 279 کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ 41 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
    ‎ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس پر معاشی ماہرین کی جانب سے بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں اپنی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے کاروباری حلقوں نے مجموعی معاشی استحکام کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی میں مزید کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کا سلسلہ برقرار رہا تو سرمایہ کاری کے رجحان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ کارکردگی اور روپے کی قدر میں استحکام ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارے ہیں، تاہم عالمی معاشی حالات، زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا آئندہ بھی اہم چیلنج رہے گا۔

  • 
2020 دہلی فسادات کیس: طاہر حسین کو عمر قید کی سزا

    
2020 دہلی فسادات کیس: طاہر حسین کو عمر قید کی سزا

    ‎بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سابق رہنما اور سابق کونسلر طاہر حسین کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے اسی مقدمے میں دیگر چار مجرموں کو بھی عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔
    ‎ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے جمعہ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر طاہر حسین اور دیگر ملزمان جرم کے مرتکب پائے گئے، جس کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
    ‎یہ مقدمہ 2020 میں دہلی میں ہونے والے پرتشدد فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل سے متعلق تھا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ انکت شرما فسادات کے دوران ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنے تھے، جبکہ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو قصوروار قرار دیا۔
    ‎طاہر حسین 2017 میں شمال مشرقی دہلی سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم 2020 کے دہلی فسادات کے بعد ان پر متعدد مقدمات درج ہوئے اور گرفتاری کے بعد عام آدمی پارٹی نے انہیں معطل کر دیا تھا۔
    ‎2020 کے دہلی فسادات میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد کئی مقدمات درج کیے گئے جن میں مختلف افراد کے خلاف قتل، تشدد، فساد اور دیگر سنگین الزامات کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔
    ‎عدالتی فیصلے کے بعد اس مقدمے نے ایک بار پھر 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق قانونی کارروائیوں کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم طاہر حسین یا ان کے وکلا کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • 
محسن نقوی کی تجویز گھسی پٹی ہے، سندھ کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے: مراد علی شاہ

    
محسن نقوی کی تجویز گھسی پٹی ہے، سندھ کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے: مراد علی شاہ

    ‎وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پرانی اور گھسی پٹی تجویز ہے جسے سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
    ‎بھٹ شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کا بیان سنا ہے، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ ان کا اشارہ کس جانب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام میں خرابیاں ہیں تو انہیں اس کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز دینی چاہییں، لیکن نئے انتظامی یونٹس کی بات کوئی نئی سوچ نہیں بلکہ ایک پرانا مؤقف ہے۔
    ‎مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے، بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے۔ ان کے مطابق ہر صوبہ اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کر رہا ہے اور اصلاحات آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہونی چاہییں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور یہاں کے عوام اپنی شناخت، تاریخ اور ثقافت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ ایسی تجاویز کو قبول نہیں کریں گے جو صوبے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کریں۔
    ‎انہوں نے نوجوانوں سے متعلق بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی نوجوان آنے والے وقت میں ملک کی قیادت سنبھالیں گے، اس لیے انہیں منفی القابات دینے کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی نوجوانوں کو "کاکروچ” نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ انہیں پاکستان کی ترقی کی امید قرار دیا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ انتظامی نظام مؤثر نہیں رہا، اس لیے ملک کی بہتر حکمرانی اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • 
انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن ہلاک

    
انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن ہلاک

    ‎برطانیہ پہنچنے کے لیے انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کے دوران چار غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ہی روز میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے 752 افراد کی آمد نے رواں سال کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے اپنی نئی حکمت عملی پر زور دے رہی ہے۔
    ‎برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم اینڈی برنہم نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کا چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی آمد کو روکنے کا منصوبہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی ریکارڈ تعداد میں تارکین وطن انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچ گئے۔
    ‎برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز مجموعی طور پر 752 افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے، جو جون میں ریکارڈ ہونے والے 710 افراد کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
    ‎اسی دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انگلش چینل کو دنیا کے خطرناک سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں خراب موسم، تیز لہریں اور غیر محفوظ کشتیاں انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی ہیں۔
    ‎اپوزیشن کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی چینل کراسنگ انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ ہی مزید قیمتی جانیں بچانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کو یہ یقین ہو کہ انہیں رہائش، سہولیات اور پناہ کی درخواست کا موقع ملے گا تو وہ خطرناک سفر اختیار کرنے کا خطرہ مول لیتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ایسی حوصلہ شکنی ضروری ہے جس سے لوگ سمندر کے ذریعے غیر قانونی سفر سے باز رہیں۔
    ‎ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بحران کے انسانی پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ، غربت اور عدم استحکام سے فرار ہونے والے افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں، اس لیے مسئلے کا مستقل حل بین الاقوامی تعاون اور محفوظ قانونی ہجرت کے راستوں میں مضمر ہے۔

  • 
31 جولائی سے 2 اگست تک دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا الرٹ جاری

    
31 جولائی سے 2 اگست تک دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا الرٹ جاری

    ‎ملک بھر میں 31 جولائی سے 2 اگست تک دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے اور مختلف علاقوں میں مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں اور ضلعی انتظامیہ کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    ‎جاری کردہ الرٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث ملک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے، جس سے بعض مقامات پر مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
    ‎دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، جہاں پانی کا بہاؤ مسلسل نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔
    ‎اسی طرح کالاباغ، چشمہ اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی کیفیت برقرار ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔
    ‎ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور مقامی حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشیبی علاقوں، دریا کے کناروں اور ممکنہ متاثرہ آبادیوں میں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
    ‎شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دریا کے کناروں کا رخ نہ کریں، موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • 
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس

    
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس

    کراچی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شام زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 2.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز شہر کراچی تھا۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے بتایا کہ زلزلہ شام 6 بج کر 1 منٹ پر آیا۔ اگرچہ شدت کم تھی، تاہم شہریوں نے جھٹکوں کو واضح طور پر محسوس کیا۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق کم شدت کے زلزلے عموماً بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث نہیں بنتے، تاہم شہریوں کو چاہیے کہ زلزلے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر لفٹ کا استعمال نہ کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

  • 
اسلام آباد میں مشکوک سرویلنس ڈرون گر کر تباہ

    
اسلام آباد میں مشکوک سرویلنس ڈرون گر کر تباہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف 6/1 کے قریب ایک مشکوک سرویلنس ڈرون گر کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
    ‎اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈرون کا ملبہ اپنی تحویل میں لے کر متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کا تکنیکی اور فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈرون کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا اور اس کا ماخذ کیا تھا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی مرحلے میں ڈرون کی نوعیت، پرواز کے ممکنہ راستے اور اس کے آپریشن سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
    ‎تاحال حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ڈرون کسی سرکاری یا نجی ادارے کا تھا یا غیر قانونی طور پر فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ اسی طرح اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون سے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش کی جائے گی اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد واقعے کی نوعیت سے متعلق تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
    ‎اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو واقعے سے متعلق کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ تحقیقات کو جلد مکمل کیا جا سکے۔

  • 
ملک بھر میں سونا مزید مہنگا

    
ملک بھر میں سونا مزید مہنگا

    ‎ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں سونا نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے نے خریداروں، سرمایہ کاروں اور جیولری کے کاروبار سے وابستہ افراد کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
    ‎آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 30 ہزار 436 روپے مقرر کر دی گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 572 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 69 ہزار 29 روپے ہو گئی۔
    ‎صرافہ ڈیلرز کے مطابق مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں، افراطِ زر اور محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی برقرار رہنے کی صورت میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار غیر مستحکم معاشی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب بڑھتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎دوسری جانب صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث زیورات کی خرید و فروخت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقے کے خریدار اب زیورات کی خریداری میں زیادہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں، جبکہ شادی بیاہ کے سیزن میں بھی پہلے کے مقابلے میں کم مقدار میں خریداری کی جا رہی ہے۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ کے رجحان، امریکی ڈالر کی قدر اور مقامی معاشی حالات پر ہوتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا یا عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو مقامی مارکیٹ میں بھی سونا مزید مہنگا ہونے کا امکان موجود ہے۔
    ‎کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران عالمی منڈی کے رجحان پر گہری نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اسی بنیاد پر مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ یا کمی کا تعین ہوگا۔