Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ایلون مسک کی برطانوی سنسرشپ قانون پر شدید تنقید، برطانیہ کو ’پولیس اسٹیٹ‘ قرار دے دیا

    
ایلون مسک کی برطانوی سنسرشپ قانون پر شدید تنقید، برطانیہ کو ’پولیس اسٹیٹ‘ قرار دے دیا

    ‎ٹیکنالوجی کمپنی ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے برطانیہ کے نئے سنسرشپ قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا” قرار دیا ہے۔
    ‎ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد شہریوں کا تحفظ نہیں بلکہ ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ ہے۔ انہوں نے برطانیہ کو "پولیس اسٹیٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
    ‎یہ تنازع برطانوی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قانون کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے نگرانی اور سنسرشپ کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔

  • ‎امریکا ایران معاہدے سے پیٹرول سستا ہوگا، پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا: عظمیٰ بخاری

    ‎امریکا ایران معاہدے سے پیٹرول سستا ہوگا، پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا: عظمیٰ بخاری

    ‎پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اہم معلوماتی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جائے گی، جس کے مثبت اثرات براہِ راست پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نمایاں طور پر نیچے آئیں گی اور حکومت اس کا پورا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچائے گی۔
    صوبائی بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب کا ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرجری ہونے اور ڈاکٹرز کے آرام کے مشورے کے باوجود وزیر اعلیٰ بجٹ اجلاس میں خود شریک ہوئیں کیونکہ وہ عوامی معاملات کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تاہم جو بڑے کاروباری ادارے ٹیکس چوری کرتے ہیں یا ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، انہیں اب ہر صورت ٹیکس دینا پڑے گا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے پچھلے سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ٹیکس جمع کیا ہے اور ادارے اب اپنے وسائل سے مزید ریونیو اکٹھا کریں گے۔
    صوبائی وزیر نے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کو ترجیح دیتے ہوئے وہاں سب سے پہلے الیکٹرک بسیں پہنچائی گئی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنے والے تعصب کی عینک اتار کر ترقی دیکھیں اور وہ پرامن طور پر بجٹ سننے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس بار بھی سرپلس بجٹ پیش کیا ہے جس میں تعلیم، صحت، زراعت اور سوشل سیکٹر کی بہتری کے لیے اپنے وسائل سے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

  • ایف بی آر کی پالیسیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا شدید تحفظات کا اظہار

    ایف بی آر کی پالیسیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا شدید تحفظات کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مسلسل دوسرے روز بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقے پر اراکین کی جانب سے شدید عدم اطمینان اور مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے ایف بی آر کی موجودہ ٹیکس پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیاں ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھنے کے بجائے یورپی ماڈلز پر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں، جو پاکستان کی مقامی معاشی حقیقتوں سے بالکل میل نہیں کھاتیں۔
    اجلاس کے دوران ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا، جہاں سینیٹر عبدالقادر نے ریفنڈز کی ادائیگیوں میں ہونے والی طویل تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے ایف بی آر کے حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کی خرابیوں اور نااہلی کو فوری طور پر دور کریں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ کاروباری برادری اور عام ٹیکس دہندگان کے درمیان کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

  • لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    ‎لاہور میں کھلے گٹروں اور نالوں کی وجہ سے پیش آنے والے پے در پے حادثات نے واسا (WASA) کی کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز سندر میں ایک بچہ کھلے گٹر میں گر گیا تھا جسے خوش قسمتی سے بچا لیا گیا، لیکن آج پھر ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں گٹر میں گرنے کے باعث ایک معصوم بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    صوبائی دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی سخت ہدایات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی مایوس کن ہیں، جس پر عوام شدید سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں کا اصرار ہے کہ اتنی مجرمانہ غفلت کے بعد بھی واسا کا سربراہ اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہے اور اسسٹنٹ کمشنر (AC) رائے ونڈ اس سنگین صورتحال پر کیا کر رہے ہیں؟
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ واسا کے اعلیٰ حکام نے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھاتی گیٹ کے المناک حادثے میں بھی، جہاں ماں اور بیٹی کھلے گٹر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی تھیں، واسا کے اسی سربراہ نے اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑتے ہوئے یہ تک دعویٰ کر دیا تھا کہ ماں بیٹی ڈوب کر ہلاک نہیں ہوئیں۔ اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان اور مجرمانہ غفلت کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی حتمی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
    لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک معصوم بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اس افسوسناک اور دلدوز واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
    کھلے مین ہولز اور سیوریج کے گڑھے معصوم شہریوں کے لیے
    موت کے کنویں بن چکے ہیں، اور عوام اب محض کھوکھلے دعووں کے بجائے واسا کے اعلیٰ افسران اور مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت اور فوری تادیبی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • جی 7 سربراہی کانفرنس: ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان روایتی گرم جوشی غائب

    جی 7 سربراہی کانفرنس: ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان روایتی گرم جوشی غائب

    ‎فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہمیشہ نظر آنے والی روایتی گرم جوشی کے بجائے ایک قدرے سرد اور انتہائی رسمی ملاقات دیکھنے میں آئی ہے۔ حالیہ پاکٹ تجارتی کشیدگی اور امریکی ٹیرف کے اعلانات کے تناظر میں دونوں عالمی رہنماؤں کی باڈی لینگویج میں یہ بڑی تبدیلی خاصی نمایاں تھی، جس نے سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    رپورٹس اور وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق، روایتی گروپ فوٹو (فیملی فوٹو) کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی اور اس سیشن میں ان کے درمیان کوئی واضح بات چیت دیکھنے میں نہیں آئی۔ فوٹو سیشن کے اختتام پر جب تمام عالمی رہنما اکٹھے ہوئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کے بازو پر ہاتھ رکھا اور ان سے ایک پختہ مگر رسمی ہینڈ شیک کیا، جس کے بعد دونوں رہنما کانفرنس کے ورکنگ سیشن میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
    تاہم، اس پوری ملاقات کے دوران سب سے زیادہ توجہ طلب بات یہ تھی کہ وزیراعظم مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنا مشہور اور روایتی گرم جوش ‘جپھی والا’ (گلے ملنے کا) انداز یکسر ترک کیے رکھا، جبکہ ٹرمپ بھی مودی کو کچھ حد تک نظر انداز کرتے دکھائی دیے۔ دونوں رہنماؤں کے اس بدلے ہوئے اور رسمی رویے نے سیاسی مبصرین کی توجہ فوری طور پر اپنی جانب مبذول کروا لی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔

  • سویڈن میں تارکینِ وطن کے خلاف سخت قانون منظور

    سویڈن میں تارکینِ وطن کے خلاف سخت قانون منظور

    ‎سویڈن کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک نیا اور انتہائی سخت قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکام کو ‘برے رویے’ کی بنیاد پر تارکینِ وطن کے رہائشی اجازت نامے (Residency Permits) منسوخ کرنے کا وسیع اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے دائرہ کار میں نہ صرف وہ درخواستیں شامل ہیں جو ابھی زیرِ التوا ہیں، بلکہ ماضی میں پہلے سے جاری کیے گئے رہائشی اجازت ناموں پر بھی اس کا اطلاق ماضیِ بعید سے (Retroactively) ہوگا۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی تارکِ وطن واجب الادا قرضے ادا نہیں کرتا، غیر اعلانیہ یا غیر قانونی کام (Undeclared work) میں ملوث پایا جاتا ہے، یا پھر اس کے انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ روابط ظاہر ہوتے ہیں، تو اسے ملک سے نکالا جا سکتا ہے۔
    یہ اقدام سویڈن کی موجودہ دائیں بازو کی مخلوط حکومت اور اس کی حمایتی قوم پرست جماعت ‘سویڈن ڈیموکریٹس’ کی جانب سے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنانے کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے، جو ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل تیز کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس قانون کو ملک کے اندر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ سویڈن کی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اس قانون کو یکطرفہ اور من مانا قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس قانون کے تحت لوگوں کے خلاف فیصلے ایسے رویوں یا کاموں کی بنیاد پر کیے جائیں گے جنہیں قانوناً کبھی جرم تسلیم ہی نہیں کیا گیا، جس سے تارکینِ وطن کے حقوق شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

  • ‎ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کراچی کے صرافہ تاجروں کا احتجاج

    ‎ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کراچی کے صرافہ تاجروں کا احتجاج

    ‎کراچی میں جیولرز اور صرافہ تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس اقدامات اور ریگولیٹری پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لگائے گئے حالیہ ٹیکسوں اور سخت ضوابط پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاجر برادری نے مکمل ہڑتال کی، جس کے باعث شہر کی تمام چھوٹی بڑی صرافہ اور جیولری مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔
    اپنے مطالبات کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے صرافہ تاجروں نے ایک بڑی ریلی بھی نکالی۔ احتجاج کے دوران جیولرز برادری کے نمائندوں نے ایف بی آر کے ساتھ جاری مذاکرات کو بھی فوری طور پر معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ تاجر رہنماموں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی، جس سے تاجروں اور ٹیکس حکام کے درمیان جاری یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی مفاہمت: تقریب کا مقام تبدیل، پاکستان میزبانی کے لیے تیار

    ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی مفاہمت: تقریب کا مقام تبدیل، پاکستان میزبانی کے لیے تیار

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کی تقریب کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب اس تاریخی تقریب کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہو رہا ہے۔ یہ تقریب اب سوئٹزرلینڈ کے مرکز میں واقع مشہور اور پرامن تفریحی مقام برگن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد کی جائے گی، جہاں پاکستانی سفارتی حکام اور دیگر متعلقہ عملہ تقریب کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ اسے ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جا سکے۔
    ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان اس تقریب کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد اس تقریب میں ملک کی نمائندگی کرے گا۔ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ 18 جون کو سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے، جہاں وہ تقریب کے انتظامات کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
    دوسری جانب سوئس وزیر خارجہ اور وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی یہ اہم ترین تقریب 19 جون کو برگن اسٹاک میں ہوگی۔ سوئس حکام کے مطابق، طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ جغرافیائی اور سیاسی حالات کے پیشِ نظر اس مقام کا انتخاب سب سے موزوں ہے۔
    سوئس وزارتِ خارجہ نے مزید واضح کیا کہ تقریب کے مقام کی تبدیلی کا یہ فیصلہ اکیلے نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں پاکستان اور قطر کی جانب سے ادا کیے جانے والے متحرک ثالثی کردار کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس نئے مقام (برگن اسٹاک) کا انتخاب ایران اور امریکا دونوں فریقین نے پاکستانی اور قطری ثالثوں کی مشاورت اور باہمی رضامندی کے بعد کیا ہے، جس سے خطے میں امن اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • 
سلامتی کونسل کی افغانستان میں دہشت گردی پر تشویش، طالبان پر محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام

    
سلامتی کونسل کی افغانستان میں دہشت گردی پر تشویش، طالبان پر محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام

    ‎اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیا ہے۔
    ‎سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں چھوٹے ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت، انسانی بحران اور دہشت گردی کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
    ‎اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر طالبان حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
    ‎امریکا کی مستقل مندوب جینیفر لوکیٹا نے بھی طالبان سے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مثبت پیش رفت طالبان کے طرزِ عمل میں تبدیلی سے مشروط ہے۔

  • 
ایران امریکا معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کا امکان

    
ایران امریکا معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کا امکان

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
    ‎اسرائیلی میڈیا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 20 امریکی فوجی طیاروں کو بن گوریان ایئرپورٹ سے منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مزید طیاروں کی واپسی بھی زیر غور ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق بن گوریان ایئرپورٹ پر اس وقت 75 امریکی فوجی طیارے موجود ہیں، جس کے باعث پارکنگ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور فضائی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عام مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازوں کی منسوخی اور لاکھوں ٹکٹ متاثر ہونے کی شکایت کی ہے۔
    ‎اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کی بڑی تعداد نے ایئرپورٹ پر دستیاب جگہ محدود کر دی ہے، جس سے شہری پروازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔