Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:

    بلاگنگ بھی آن لائن پیسے کمانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔  ورڈپریس یا بلاگر کی
    مدد سے ایک ویب سائیٹ یا بلاگ بنائیں، اس پرعمدہ اور مفید مواد شائع کریں، پھر
    Monetization کے ذریعہ جیسا کہ گوگل ایڈسینس، پیسے کمانے کا آغاز کریں۔ اس کے
    لیےضروری ہے کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہو۔

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے اور
    یوٹیوب پر ایک لمحے میں سالوں کے برابرویڈیوز دیکھی اور اپلوڈ کی جارہی ہیں۔ آپ
     YouTube پر جائیں اور اپنا چینل بنا لیں۔ اور جب آپ کا چینل مونیٹایز ہونا
    شروعہوجائے تو ایڈسینس کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں
     یوٹیوب چینل موجود ہیں۔ اگر آپ کیمرے کےسامنے آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ
    ٹیوٹوریل ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔

    اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو آپ ایک عدد ویب سائٹ بنا کر آن لائن کاروبار
     کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔ آپ جو چیزیں دکان پربیچ رہے ہیں ان کو آن لائن بھی
    بیچ سکتے ہیں۔ shopify پر آپ اپنا آن لائن سٹور کھول سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس آن لائن کاروبار میں بیچنے کے لیے سرمایہ محدود ہے تو آپ ڈراپ
    شپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ اپنی ویبسائٹ پر دوسری سائٹس سے لے کر تصویریں
     لگاتے ہیں اور آرڈر ملنے پر اسی ویب سائٹ سے وہ پراڈکٹ لے لیتے ہیں۔ ڈراپشپنگ
    کے لیے علی بابا سب سے مشہور سائٹ ہے۔

    آپ ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس پر مختلف کورسز بیچے جاسکتے ہیں۔ اس
     وقت یوٹیوب اور ورڈپریس پر بہت سےلوگ آن لائن کورسز کروا کر خوب پیسے کما رہے
    ہیں۔

    ہماری نوجوان نسل سارا دن سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرتی رہتی ہے۔ اگر وہ
    اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اچھے طریقےسے استعمال کریں تو سوشل میڈیا کے
    ذریعے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ فیس بک پر اپنا پیج بنا کر اس پر بہترین
    مواد شائع کریں۔جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے گی تو آپ کو اشتہارات بھی
    ملنا شروع ہو جائیں گے۔

    فیس بک پر بہت سے ایسے فری لانسنگ گروپ ہیں جہاں مختلف لوگ وقتا فوقتا مختلف
    جابز کے لیے پوسٹ لگاتے رہتے ہیں۔آپ گرافک ڈیزائنر ہیں یا ٹائپنگ کے ماہر یا
    لکھنا جانتے ہیں، اپنی مہارت کے مطابق پوسٹ پر اپلائی کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔

    ٹویٹر کے ذریعے بھی آپ اپنے کاروبار کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ صارفین کو نئی
    پراڈکٹس اور آفر سےمتعلق ٹویٹ کر کے اپنے کاروبار کووسعت دے سکتے ہیں۔

    اسکے علاوہ آن لائن فارم بھرنا، ویڈیو ایڈیٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ،  White board
    animation ، ایڈ پوسٹنگ،  ڈیٹا انٹری غرض آن لائنپیسے کمانے کے بیش بہا طریقے
    ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی کام میں مہارت نہیں رکھتے تو پریشانی کی کوئی
    بات نہیں۔انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ مفت یا معمولی رقم کے عوض یہ تمام کورسز کروا
    رہے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنی دلچسپی کا کوئی بھی ہنرسیکھنے کا آغاز کریں۔ ایسے
    بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں سے لاکھوں افراد سیکھ کر نہ صرف برسر روزگار
    ہو گئے ہیں بلکہ اپنیذاتی کمپنیاں بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر
    رہے ہیں۔

    ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس میں
    مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ آپ وقتیطور پر کچھ کام حاصل کرنے میں تو کامیاب
     ہو جائیں گے، لیکن طویل مدت تک آپ بغیر مہارت کے پیسے نہیں کما سکیں گے۔
    انٹرنیٹ پر پیسے کمانا بھی کہیں نوکری کرنے کی طرح ہے۔ جس طرح نوکری میں ابتدا
    میں آپ کو کم معاوضے کے عوض کام کرنا پڑتاہے لیکن اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو
    آپ پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ابتدا میں
    کامحاصل کرنے اور خود کو منوانے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایک وقت تھا
    کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعےپیسے کمانے کا لالچ دے کر لوگ
    دوسروں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  جیسے دوسرے کاموں میں دھوکے کا
    امکان ہوتاہے اسی طرح یہاں  بھی مختلف قسم کے دھوکے باز موجود ہیں۔ لیکن وقت
    اور تجربے سے انسان سیکھ جاتا ہے کہ ایسے دھوکےبازوں اور فراڈ لوگوں سے کیسے
    بچا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان پانچویں
     نمبر پر ہے۔ہماری نوجوان نسل تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمہ
    داری ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پیسے کمائیں بلکہبہترین کارکردگی دکھا کر دنیا
    بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔

    ختم شد

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political

    Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز پوری دنیا کا ایک مسئلہ ہے جسے کاؤنٹر کرنے کے لئے ہر ملک میں کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، ایسے عناصر جو جعلی خبریں چلاتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ سازشیں ایسی ہوتی ہیں جس میں فیک نیوز پھیلانے والے عناصر یا تو جعلی اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

     دنیا میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو مس انفارمیشن پھیلا کر دوسرے ملکوں کو ڈی سٹیبلائزر کرتے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال بھارت کا وہ نیٹ ورک تھا جو فیک ناموں سے بیرونی ملک بیٹھ کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے تاکہ مغربی ممالک پاکستان پر پابندیاں لگا سکیں۔

    یورپی یونین میں فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پر کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال قوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق جھوٹی من گھڑت ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔

    یورپی یونین کے اس تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈس انفارمیشن پھیلانے والے ان اداروں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ یہ تحقیقات اتنی وسیع ہیں کہ اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز، بڑے پیمانے پر فیک نیوز پھیلانے والی ویب سائٹس اور ان سے جڑی شخصیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ 

    اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنا اور بھارت کا نیریٹیو کو بڑھاوا دینا تھا۔ اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ یہ ڈس انفارمیشن اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے تھے کے بظاہر ایسا لگے گا جیسے جو موقف پیش کیا جا رہا ہے اس کو ایک بہت بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے این جی اوز کا استعمال کیا گیا جن کا کام انسانوں کی خدمت نہیں بلک پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور خطرناک پراپیگنڈے کو مغربی ممالک میں پذیرائی دینا تھا۔

    اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مقصد کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جو تجارتی مراعات "جی ایس ٹی پلس” کی صورت میں دی جا رہی ہیں ان کو روکنا تھا۔

    پاکستان نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کے وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی پر سخت نوٹس لے۔

    اسی طرح کا پراپوگنڈا اندرونی سطح پر بھی کیا جاتا ہے کچھ ایسے صحافی جن کا کام دن رات جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک کے امیج کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنا ہے۔ اگر ایسے صحافیوں کو انہی کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں پر محاسبہ کیا جائے تو یہ آزاد صحافت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

    عمران خان کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے فیک نیوز پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دن رات ایسی جھوٹی من گھڑت کہانیاں چھاپی گی جن کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے ایسے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت پر تبصرے کرتے دیکھا گیا جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیا ہم اسے محض صحافتی بد دیانتی کہیں یا ملک دشمنی؟

    لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صاف دامن صحافی بھی موجود ہیں جن کے قلم کی روشنی سے صحافت کا مان زندہ ہے۔ اور ایسے صحافیوں کو حکومت اور عوام کی طرف سے سہرایا بھی جاتا ہے۔ 

    ضرورت کی چیز کی ہے کہ اب ہمیں بھی پاکستان میں ایک ایسا صحافتی رول آف بزنس بنانا ہوگا جس سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے ایسے عناصر جو بیرونی ایجنڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں سخت قانون سازی سے قانون کی گرفت میں لایا جا سکے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آزاد صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔

    تمام صحافتی ادارے آیا وہ پرنٹ میڈیا سے ہے یا ڈیجیٹل میڈیا سے انہیں مل بیٹھ کر حکومت کے ساتھ مخلصانہ لائے عمل ترتیب دینا ہوگا جس سے آنے والی نسلیں صحافت کے اس مقدس فریضے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • تصویریں تحریر۔محمد نسیم

    فیس بک پر کسی کی کیمرے سے کھنچی گئ تصویریں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ادوارِ ماضی کے وہ لمحات یاد آگئے جب کیمرے کی ایجاد ہماری زندگی میں آئی. آج کی نسل جو اینڈرئڈ موبائل سے مستفید ہورہی ہے اور اس کے استعمال میں اتنی ماہر ہے کہ وقتِ مشکل ہم بڑوں کو بھی اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑ جاتی ہے شائد اس دلچسپ تجربے سے ناآشنا ہے
    ہمارے معاشرے میں کیمرا عمومی طور پر 80 کی دہائی میں وارد ہوا اس سے پہلے یہ کام فوٹو سٹوڈیو تک محدود
    تھا
    اس کیمرے کا استعمال جب فوٹو گرافر سے عام شہری تک آیا تو دلچسپ واقعات رونما ہوتے تھے مثلاً کیمرے کو چلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے فرد کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اندھوں میں کانا راجہ ہوتا کیمرے میں فلم ڈلوانا بھی ایک احتیاط طلب کام تھا فوٹو گرافر تاکید کرتا تھا کہ فلم کو رشنی نہ لگنے پائے ورنہ تصویرں ضائع ہوجائیں گی. تصویرکشی کے بھی انوکھے واقعات ہوتے خاص طور پر خواتین اس کے لئے پہلے سےخاص زرق برق لباس اور بناؤسنگھار کا اہتمام کرتیں اور یہ مفروضہ بھی عام تھا کہ میلے کچیلے کپڑوں میں تصویر صاف آتی ہے فوٹو سیشن کے وقت انوکھے پوز بنائے جاتے 36 تصویروں کی فلم کا کیمرے سے دھیان لگایا جاتا کے کتنی تصویریں باقی رہ گئی ہیں یہ فوٹو سیشن مختلف مراحل میں مکمل ہوتا. ساتھ میں فوٹو گرافر کی تاکید ہوتی کہ زیادہ دیر کیمرے میں فلم رہنے سے فلم ضائع ہوجائے گی چناںچہ اس خوف کے باعث تصویریں اتروانے کاکام جلد از جلد کم و بیش ایک ہفتے سے بھی پہلے مکمل کرلیا جاتا
    تصویریں صاف کروانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فوٹو گرافر سے رجوع کیاجاتا اور فی کس تصویر دلھوائی کا ریٹ طے ہوتا فوٹو گرافر ایک نیم تاریک کمرے میں جا کر کیمرے سے فلم نکال کر کیمرا واپس کرتا اور تصویروں کی دھلوائی کا رسید کی صورت میں وقت دیتااور اس مقررہ وقت کا بڑی بیتابی سے انتظار ہوتا اپنے آپ کو رنگیں تصویر میں دیکھنےکا ہرکسی کو شوق ہوتا
    تصویروں کی دھلوئی پر فوٹو گرفر البم فری میں دیتا جس کی خوشی الگ ہوتی 36 کی فلم میں چند تصویریں لازم ضائع بھی ہوتیں اپنی تصویروں کو دیکھنے کا بھی عجب تجربہ ہوتا تصویروں کو دیکھنےپر مختلف لطیفے دیکھنے کو ملتے مثلاً تصویر بنوانے والے نے خوبصورت پوز بنایا ہے لیکن فلش لائٹ کے باعث آنکھیں بند بعض اوقات اناڑی کیمرامین کسی کی تصویر لیتے وقت اس کے پاؤں یا فرش کو ہی فوکس کرگیا گروپ فوٹو کی صورت میں میلوں دور سے تصویر لی جاتی جس کو بائو سکوپ کے بغیر دیکھنا ممکن نہ ہوتا
    وہ خواتین و حضرات جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے کے وہ بہت حسین وجمیل ہیں اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہوتے ایک ایک تصویر کو بار بار دیکھا جاتا اور اس پر تبصرہ کیا جاتابعض تصاویر کو سیدھے اینگل سے دیکھنے کے کئے دیکھنے والے کو اپنی گردن کا اینگل الٹا کرنا پڑتاغرض آج کی انڈرئیڈ یوزرجنریشن اس پرلطف تجر بے کو کیا جانے

    @Naseem_Khera

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ اول:

    گھر سے باہر ہوں یا خاندان کی کسی محفل میں ہر کوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے
    پریشان نظر آتا ہے۔ ٹیلیویژن دیکھو تو بجلی، گیس،اشیائے خورد و نوش اور پٹرول
    کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سن سن کر پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے
    میں یہ باتسمجھ سے باہر ہے کہ محدود آمدنی میں کس طرح گزارا کیا جائے؟ خاص طور
    پر اعلی تعلیم کے خواہش مند طلبا کے لیے اپنی تعلیم کےاخراجات برداشت کرنا نا
    ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہو گا۔
    جس طرح پڑھتے ہوئے اپنےسوالات کا جواب حاصل کرنا ہو،  یا سفر کے دوران راستہ
    معلوم کرنا ہو، اپنوں سے رابطہ کرنا ہو یا دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنیہو،
    ایک بٹن دبا کر انٹرنیٹ کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اسی طرح
    مہنگائی اور بیروزگاری کا حل بھی انٹرنیٹمیں موجود ہے۔

    اگرچہ اولین طور پر انٹرنیٹ عسکری مقاصد کے لیے ایجاد کیا گیا، اور پھر سائنس
    دانوں کے مابین رابطے کے لیے اس کا استعمالوسیع پیمانے پر شروع ہو گیا۔ تین
    دہائی قبل جب اس کا استعمال عام ہونا شروع ہوا تو زیادہ تر لوگ اس کو معلومات
    حاصل کرنےاور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس وقت
    کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کو عالمی گاؤں میںتبدیل کرنے والی یہ
    ٹیکنالوجی ایک عالمی منڈی بھی بن جائے گی۔ اور دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں
     کا ایسا ذریعہ آمدن بنجائے گا جس سے لوگ ہر روز لاکھوں ڈالر کما سکیں گے۔ یہ
    مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انٹرنیٹ نے دنیا کو عالمی گاؤںبنا کر نہ
    صرف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک مارکیٹ بنا
    دیا ہے۔ آپ نے پالتو بلی خریدنی ہو یااپنی گاڑی بیچنی ہو انٹرنیٹ کے ذریعے یہ
    تمام کام ممکن ہیں۔ آپ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی میں
     ملازمت کرکے پیسے کما سکتے ہیں۔

    اگر انٹرنیٹ کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس پر پیسے کمانے کے اتنے
    طریقے ہیں جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ موجودہدور میں بھی اگر کوئی بے روزگاری کا
    رونا روتے نظر آتا ہے تو اس کی وجہ  کم علمی یا ذاتی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ ورنہ
    انٹرنیٹ پر پیسےکمانے کے ان گنت طریقے اور مواقع موجود ہیں۔  کرونا کے بعد پوری
     دنیا میں جس قدر بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہےایسے میں ضروری ہے کہ
     مختلف طریقوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ چنانچہ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے
     کمانا ایک بہترین طریقہہے جس میں آپ بغیر سرمائے یا بہت محدود سرمائے سے نہ
    صرف اپنی  آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اگر آپ کے اندر جستجو اورمستقل
    مزاجی ہے تو آپ لاکھوں روپے ماہانہ بھی کما سکتے ہیں۔

    اگر آپ اچھے لکھاری ہیں، گرافک ڈیزائنر ہیں یا ویب ڈویلپمنٹ جانتے ہیں، سرچ
    انجن آپٹیمائزیشن یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا کام کرسکتے ہیں یا ویڈیو ایڈیٹنگ
    میں مہارت رکھتے ہیں تو فری لانسنگ بہترین ذریعہ معاش ہے۔ اس وقت پوری دنیا
    بشمول پاکستان میں بےشمار افراد فری لانسنگ کے ذریعے کمائی کر رہے ہیں۔

    فری لانسنگ کے آغاز میں آپ مختلف فری لانسنگ ویب سائٹس جیسے  فری لانسر،
    فائیور، پی پی ایچ ،اپ ورک وغیرہ  پر اپنا اکاؤنٹبنائیں۔ ان ویب سائیٹس پرمختلف
     اقسام کے پراجیکٹ شائع ہوتے رہتے ہیں، ان پر اپلائی کریں جب کام مل جائے تو
    خوب محنتاور دلجمعی سے کام کریں۔ آپ پر آہستہ آہستہ ترقی کے دروازے کھلنا شروع
    ہو جائیں گے۔

    اگر آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے یا پھر آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لیے
    ابتدائی سرمایہ موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھمارکیٹنگ سے بھی دلچسپی ہے تو ایفی لی
     ایٹ مارکیٹنگ ایک بہترین آن لائن کاروبار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کاروباری ماڈل
    میں آپنےدوسروں کی  Physical یا Digital پراڈکسٹس بکوانے میں ان کی مدد کرنا
    ہوتی ہے۔ ہر پراڈکٹ جو آپ کے توسط سے بِکتی ہے اسپر آپ کو کمیشن دیا جاتا ہے۔
     Physical پراڈکٹس کے لیے Amazon بہترین ہے،  ڈیجیٹل پراڈکٹس کے لیے آپ اپنی
    ویب سائیٹکے موضوع کو مدِنظر رکھتے ہوئے ای بک، کورس، سروس کچھ بھی بیچ سکتے
    ہیں۔اس وقت پاکستان میں بے شمار افراد اس بزنسماڈل کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

    جاری ہے ۔۔۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں   تحریر: ظفر ڈار

    میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں  تحریر: ظفر ڈار

    جب دنیا کفر و ضلالت کے عمیق اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، معاشرتی پستی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے تھے۔ الغرض ساری دنیا اخلاقی طور پر بے حالی کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسے میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور ربیع الاول کے مہینے میں اس آفتاب کا ظہور ہوا جس نے دنیائے عرب تو کیا عالم آب و گل کو اپنی کرنوں سے منور کر دیا۔ خانہ کعبہ میں پڑے بت منہ کے بل گر پڑے، نوشیروان کے محل کے کنگرے سجدہ ریز ہو گئے اور کلیساؤں میں خوف کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آمنہ بی بی کے گلشن میں بہار آ گئی اور حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا اس دنیا میں آنا اللہ تعالٰی کا انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ آپ کو نہ صرف اس دنیا بلکہ پوری کائنات اور سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

    آپ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی لوگوں نے معجزات دیکھنے شروع کر دیے اور عیسائی اور یہودی عالموں نے پیشن گوئی کر دی کہ نبی آخرالزماں تشریف لا چکے ہیں۔ آپ خود یتیم پیدا ہوئے لیکن دنیا بھر کے یتیموں کے لیے سایہ رحمت بنے۔ 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو عمر میں آپ سے بڑی تھیں۔ 40 برس کی عمر میں جب نبوت کے اعلان کا حکم ہوا تو لوگ آپ کی شرافت اور ایمانداری کے گن گاتے تھے اور صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔

    اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو عرب قبائل کے سرداروں اور امراء نے شدید مخالفت کی اور صرف چند لوگ ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی شدید مخالفت کے باعث آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور جان سے مارنے کی کئی کوششیں ہوئیں جنہیں قدرت الہیہ نے ناکام کیا اور بالآخر آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔

    مدینہ شریف میں آپ نے پہلے مسجد قبا اور بعد ازاں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ بہترین اخلاق کے مالک ہیں اور آپ کی حیات ظاہری کا ہر پہلو بے مثال ہے۔ آپ شوہر ہیں تو ایسے کہ بیوی کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹاتے اور ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں لا ثانی۔ آپ باپ ہیں تو اولاد کے ساتھ محبت کو نیا رخ دینے والے، صاحبزادی تشریف لاتیں تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور اپنی چادر بچھا کے بٹھاتے۔ دوست ہیں تو ایسے کہ سب صحابی آپ کی خاطر اپنے اور اپنے ماں باپ کو فدا کرنے پر تیار رہتے۔ مہمان نواز ایسے کہ گھر میں جو دستیاب ہوتا، مہمان کے آگے رکھ دیتے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہیں تو اس طرح کہ ساری کائنات کے مالک ہیں لیکن کچے گھر میں رہتے ہیں، نہ پہننے کا عالیشان لباس اور نہ کھانے کو پر تعیش کھانے۔ جو کی روٹی ، کھجور، شہد اور دودھ پر گزارا کرنے والے۔۔۔

    غریبوں،  یتیموں اور مساکین کی داد رسی میں کوئی مقابل نہیں۔ الغرض چونکہ آپ انسانیت کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اس لئے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے لئے مثال بنا دیا کہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل کر کے کامیاب ہو جائیں۔

    آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے عملی نمونہ ہے۔ راہ حق میں لوگوں سے پتھر کھائے، جسم اطہر لہو لہان ہو گیا، جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی آپ حکم دیں تو طائف کے پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کر تباہ کر دیں لیکن آپ نے بدعا بھی نہیں دی اور فرمایا میرے رب نے مجھے رحمت بنا کے بھیجا۔

    قیامت کے دن شفاعت کے والی ہیں لیکن اتنے عبادت گزار کہ اصحاب بھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں، اور خوف خدا کا یہ عالم کہ تیز ہوا چلے تو بھی اللہ کے حضور سجدے میں گر جائیں اور رحم طلب کریں۔

    گفتگو ایسی کہ ایک ایک لفظ واضح اور صاف تاکہ ہر کسی کو سمجھ میں آ جائے، عفو و درگزر کا یہ عالم کہ جس نے چچا کا کلیجہ چبا لیا تھا اس کو بھی معاف کر دیا۔

    گویا انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں ہمارے لئے راہنمائی نہ فرمائی ہو۔

    اللہ رب العزت کے اتنے محبوب کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میری نبی پر درود وسلام بھیجو۔ کہیں رب فرماتا ہے کہ میرے محبوب کی اطاعت کرو، میرے حبیب کے سامنے اونچی آواز میں گفتگو بھی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کے امتی ہیں جن کی شفاعت کے انبیاء بھی سوالی ہیں۔ ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے تابع کرتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سے اقوام عالم کی حاکمیت چھن گئی اور دنیا بھر میں رسوائی ہمارا مقدر بن گئی۔

    ربیع الاول کے اس مہینے میں ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ان تمام اعمال و افعال سے بچنے کی ضرورت ہے جو اسوہ حسنہ کے منافی ہیں۔ ولادت کا جشن منائیں، خوشیاں منائیں لیکن ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سنت نبوی کا تقدس پامال ہوتا ہو۔

    تحریر: ظفر ڈار 

    ظفریات

    @Zafar Dar 

  • پاکستان کے وہ عالمی ریکارڈز جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا تحریر: فہد احمد خان

    ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس

    کسی بھی حادثے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سب سے پہلے پہنچتی ہے، گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس قرار دیا ہے۔ اور یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔

    ایدھی ایمبولینس سروس ابتدائی طور پر ایک سیکنڈ ہینڈ ہل مین پک اپ ٹرک کو شامل کرکے شروع کی گئی تھی اور اسے پہلی ایمبولینس کے طور پر بحال کیا گیا تھا، اس طرح "غریب مریض ایمبولینس” کی تشکیل کی گئی تھی۔ اب ساٹھ سال بعد، ایدھی ایمبولینس دنیا میں ایمبولینسوں کے سب سے بڑے بیڑے کے مرحلے پر پہنچ گئی ہے، اس طرح یہ سروس ہمارے ملک پاکستان میں 1800 گاڑیوں جیسی ایمبولینسوں کی ایک بڑی تعداد فراہم کر رہی ہے۔

    ایدھی ایئر ایمبولینس سروس کے پاس 2 ہوائی جہاز اور 1 ہیلی کاپٹر ہیں جو قدرتی آفات کے دوران امداد اور مدد فراہم کرتے ہیں ، کسی بھی متوقع قدرتی تباہی کے دوران ، پھنسے ہوئے یا زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہوائی جہاز کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی

    سوات کی ملالہ یوسف زئی کو دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبیل انعام ملا، 2014 میں جب انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تو ان کی عمر صرف سترہ برس تھی، طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کی تعریف ان ایوارڈز سے نہیں ہوتی جو انہوں نے جیتے تھے اور نہ ہی بندوق کی گولی سے وہ بچ گئی تھی۔ اس نے یکساں تعلیم کے کام کی زندگی کے لیے اپنی بے لوث عقیدت اور امن ، مساوات اور تعلیم کے لیے لڑنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے میں اپنے فراخدلانہ اقدامات کے ذریعے ہیرو کا خطاب حاصل کیا ہے۔

    ملالہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ چاہے رکاوٹیں کوئی بھی ہوں، چاہے وہ معاشی ہوں، ثقافتی ہوں یا سماجی۔ ہر ایک کو انسانی تعلیم کے طور پر معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے۔

    جہانگیر خان

    اسکواش کی تاریخ جہانگیر خان کے بغیر ادھوری ہے۔ اس پاکستانی سپر اسٹار کو یہ عالمی اعزاز حاصل ہے کہ وہ چیمپئن شپ مسلسل آٹھ چیزیں پانچ سال تک اسکواش کے میدانوں میں ناقابل شکست رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے 555 میچ جیتے اور یہ اعزاز اب تک پاکستان اور جہانگیر خان سے کوئی نئی چھین سکا۔

    جہانگیر خان- سکواش کا بادشاہ اسکواش ایک تیز رفتار ریکٹ کھیل سمجھا جاتا ہے۔ 18 ویں صدی میں انگلینڈ میں ایجاد ہوا ، یہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ جہانگیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں پوری دنیا میں کنگ آف اسکواش یعنی اسکواش کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔

    نصرت فتح علی خان

    دنیائے قوالی میں نصرت فتح علی خاں کو تاریخ کا سب سے بڑا اقوال مانا جاتا ہے۔ جنہوں نے قوالی کے 125 البم ریکارڈ کرائے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اُن کا یہ عالمی ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ان کے اثرات کی وجہ سے انہیں 2017 میں برمنگھم میں بی بی سی میوزک ڈے بلیو تختی سے نوازا گیا… وہ بین الاقوامی سامعین کے لیے قوالی موسیقی کو متعارف کرانے کا وسیع پیمانے پر کریڈٹ ہے ، اور اسے ‘مشرق کا ایلوس’ بھی کہا جاتا ہے۔

    عرفہ کریم رنھاوا

     پاکستان کی عرفہ کریم رندھاوا نے صرف 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کیا۔ اتنی کم عمری میں آج تک دنیا بھر میں کوئی شخص یہ ریکارڈ نہیں بنا سکا افسوس کہ انسانیت کا یہ ذہین سرمایہ لمبی عمر نہ پا سکا 2012 میں جب وہ صرف 17 سال کی تھی موت کی وادی میں جا کر سوگئی۔ یہ جان کر دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو غمزدہ کردیا۔ 

    عرفہ نے پاکستان کے عام شہریوں کے لیے صحت، تعلیم، اور ایک علیحدہ آئی ٹی شہر جیسے بہت بڑے خواب دیکھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے فاطمہ جناح گولڈ میڈل حاصل کیا اور انہیں صدر پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 

    شعیب اختر

    راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو کون نہیں جانتا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی اور یہ ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    کورونا ایک ایسی جان لیوا بیماری جس نے دنیا کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا.

    دنیا اب اس کورونا جیسی موزی مرض سے واقف تو ہو ہی چکی جس نے دنیا کا نظام ہی بدل کر رکھ دیا یہ ایسی بیماری کے جو پھیلنے والی ہے اور ہاتھ ملانے سے تک بھی پھیلتی ہے پاکستان بھی اس کا شکار بنا اور ہماری کمزور معیشت کو مزید تباہ کر گیا اس کے روک تھام اور آگاہی پھیلانے کے لئے ریاست اور حکومت پاکستان نے بہترین حکمت عملی بنائی اور اسے لاگو بھی کروایا عوام پر زور دیا گیا کے وہ اپنی کورونا ویکسین لگوائیں کسی ایک جگہ رش نا ڈالیں گھروں میں رہیں اور آج بھی سخت احتیاط کرنے کا کہا جا رہا ہے.

    شروع شروع میں بہت سے لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا مگر جیسے جیسے اس بیماری نے زور پکڑا تو عوام بھی کچھ سنجیدہ ہوئی.

    پاکستان میں جس وقت کورونا آیا تو سب سے زیادہ مسائل ان غریب دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کے لئے تھے جو روز کے کام کے پیسے لیتے ہیں جب کورونا آیا تو سب کام پر اثر پڑا ایسے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سب سے پہلے غریب طبقے کا سوچا کے اگر سخت لاک ڈاؤن کی طرف گئے تو ان کا گزر بسر یا گھر کا چولہا کیسے چلے گا اسہی لئے حکومت پاکستان نے ایسی پالیسی اور نظام مرتب کیا کے غریب طبقے جو نقصان نا پہنچے.

    ہمیں اس موزی مرض سے متعلق اپنے پڑوسی بھارت کو ہی دیکھ لینا چاہیے جہاں بہت برا حشر ہؤا حالات خراب ہوئے. لوگ آکسیجن سیلنڈرز کو ترسنے لگے اور بھارت میں شارٹیج ہو گئی آکسیجن سیوسیلنڈرز کی وہ مناظر خاکسار نے میڈیا پر دیکھے اسہی وجہ سے حکومت پاکستان نے اپنی عوام پر زور دیا کے خدارا احتیاط کریں اور لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کروانے کے لئے ریاست اور افواج پاکستان سے بھی مدد لی گئی.

    بھارت میں اتنے برے حالات تھے کے جس کے ہم سب گواہ ہیں اور ہم سب نے دعا کی اس بیماری سے جان چُھڑا.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت ریاست نے ہر طرح سے زور ڈالا کے احتیاط کریں ورنہ ہمارے سامنے بھارت کی مثال موجود تھی جہاں ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کے باعث ختم ہوگئے وہاں ہر جگہ انسانی لاشوں کا ڈھیر تھا لوگ آکسیجن کو ترس رہے تھے. وزیراعظم پاک مسلح افواج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی وزارت صحت نے مسلسل دن رات کام کیا اور پھر بین الاقوامی سطح پر مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کے کورونا کے خلاف اقدامات کی تعریف کی اور سراہا.

    کورونا کے خلاف اقدامات کا سہرا ریاست پاکستان حکومت پاکستان وزراء تمام ڈاکٹرز ہر کسی کو جاتا ہے اور عوام کو بھی کیونکہ زیادہ تر عوام نے بھی مثبت جواب دیا اور دی گئی ہدایت پر عمل کیا. 

    اس مرض سے روک تھام کے لئے پاکستان کے دوست ممالک نے بہت مدد کی چین نے حق ادا کیا اس سلسلے میں حکومت پر بہت بھاری زمہ داری عائد ہوئی اور یہ ایک سخت امتحان بھی تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے بھی اور ﷲ کا شکر ہے پاکستان پر اتنا گہرا اثر نہیں پڑا.

    حالات اب بھی بلکل ٹھیک نہیں بس احتیاط اور سخت احتیاط.

    حکومت کو تمام اداروں بشمول مسلح افواج سے بھی مدد لینا پڑی کیونکہ عوام پر سختی کی جانی تھی اور یہ بات بلکل درست ہے کے جب تک سختی نہیں ہوگی عوام ٹھیک بھی نہیں ہوتی.

    پاکستان نے کرونا کی روک تھام سے متعلق بہترین اقدامات کئے. اسکول کالجز یونیورسٹیوں میں شیڈول بنائے گئے تعلیمی ادارے کافی عرصے تک بند رہے ان لائن کلاسز جاری رہیں عید, بقرعید کے موقع پر لوگوں کو بارہا تاکید کی گئی کے گھروں میں رہیں اور باہر رش نا ڈالیں یہی وجوہات تھیں کے جس سے کرونا پھیل سکتا تھا.

    عوام پر سختی اسی لئے کی گئی کہ اگر رش ڈلے گا تو کورونا پھیلے گا بڑھے گا اس دوران بہت سے لوگ ایسے بھی دیکھے گئے جنھوں نے بات نہیں مانی اور اس کا شکار ہو کر ﷲ کو پیارے ہو گئے دراصل ہمارے ہاں لوگ کم ہی عمل کرتے اور سنتے ہیں. میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ لاہور کینٹ ایریا میں لوگ دوکانوں پر قطار اور کم از کم پانچ سے چھے قدم کے فاصلے پر عمل نہیں کرتے تھے پوکیس بھی بے بس تھی سمجھا سمجھا کر تھک جاتی تھی جیسے پاک فوج کے سپاہی کی گاڑی روٹین پر چیکنگ کرنے آتی تو سب سوئی کی طرح سیدھے ہو کر عمل کرنا شروع کر دیتے انسان پر جب تک سختی نہیں ہو گی عمل بھی نہیں کرے گا. 

    ﷲ تعالیٰ آئندہ بھی اس مرض سے پاکستان کو محفوظ رکھے آمین.

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد. 

    Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

  • مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    @Itx_Wahab123

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس وقت شدید مہنگائی کے اثرات نظر آ رہے ہیں. اس وقت دنیا میں بھر میں پٹرول اور دوسری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں. پٹرول کے حوالے سے روسی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آئندہ دنوں تک پہنچ سکتی ہے. اس بات سے واضح ہے کہ آئندہ دنوں میں جب عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت بڑھ جائے گی. اور اسی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا. اسی سلسلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے بھی کل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام نہیں آتا تب تک مختلف اشیاء میں اضافہ ہو سکتا ہے. اگر پٹرول کو دیکھا جائے تو پیچھلے ایک سال میں عالمی سطح پر 100٪ سے بھی زائد اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے. تاہم حکومت پاکستان نے لیوی ٹیکس میں بہت کمی کی ہے لیکن پھر بھی حکومت پٹرول میں اصافہ کرنے پر مجبور ہے. تاہم وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت کم ہو جائے تو ہم بھی قیمت کم کر دے گے.

    دوسری جانب کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں فوڈ چین بھی بری طرح سے متاثر ہے جس کے باعث مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے. اس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے. ایک نجی نیوز چینل پر حکومتی راہنما میاں فرخ حبیب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹور پر سستی اشیاء فراہم کرے گی، اور اس سال دسمبر تک پنجاب تمام آبادی کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت مل جائے گی جس سے کوئی بھی شخص ایک سال میں 10 لاکھ تک کا مفت علاج کروا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو جس حد تک ہو سکے ہم مہنگائی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    یہاں میں آپ کو بتاتا چلو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سب سے زیادہ متاثر میڈل کلاس طبقہ اور فیکس تنخواہیں لینے والے لوگ ہوتے ہیں، جن کا اپنا کاروبار ہے یا جو لوگ مزدوری کرتے ہیں وہ لوگ تو حالات کے مطابق اپنی مزدوری اور چیزوں کے ریٹ بڑھا دیتے ہیں اس لیے یہ ڈائرکٹ خود کو اچانک آنے والی مہنگائی سے بچا لیتے ہیں لیکن جن کی تنخواہیں فیکس ہوتی ہیں ان کے لیے مہنگائی پریشانی کا باعث بنتی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے اثرات سے میڈل کلاس کا خیال رکھا جائے.

    اگر پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان نظر آئے تو مقامی طور پر پیدا ہونے والی اور باہر سے درآمد ہونے والی اشیا دونوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے باہر سے درآمد ہونے والی اشیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے. کوکنگ آئل پاکستان میں مکمل طور پر باہر سے درآمد ہو کر آتا ہے جس کی قیمت پیچھلے ادوار میں 500 ڈالر فی ٹن تھی لیکن اب وہی قیمت 1300 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکی ہے اس وجہ سے کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت 160 سے بڑھ کر 320 سے 330 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اگر یہی کوکنگ آئل پاکستان خود بنانے میں خود کفیل ہو جائے تو اس کی قیمتوں میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے اس کے لیے حکومت نے بیچ خرید کر کاشتکاری شروع کی ہے سننے میں آ رہا ہے کہ 2024 تک پاکستان مکمل طور پر کوکنگ آئل مقامی سطح پر بنانے میں خود کفیل ہو جائے گا.

    تاہم ابھی جب تک دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سے حالات معمول پر نہیں آتے اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں عالمی سطح پر استحکام دیکھنے میں نہیں آتا تب تک پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائے گے۔

    اختتام پزیر۔

  • تاریخِ عالم کے سب سے عظیم ہیرو محمدﷺ   تحریر: نصرت پروین

    تاریخِ عالم کے سب سے عظیم ہیرو محمدﷺ تحریر: نصرت پروین

    تاریخِ عالم کی سب سے عظیم شخصیت کہ جن کے متعلق ربِ کائنات خود ثناء خواں ہیں:
    وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ
    ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
    وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ
    ترجمہ: اورہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
    اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ
    ترجمہ: یقیناً ہم نے آپ کو کوثر دیا ہے۔
    کہیں مزمل تو کہیں مدثر کہہ کر مخاطب کیا:
    یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ
    ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے ۔
    یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ
    ترجمہ: اے کپڑا اوڑھنے والے ۔
    لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا
    ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے ۔
    (سورۃ الأحزاب:33)
    اللہ رب العزت نے انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ کیا کہ جس شخصیت کو ہادی و مرشد بنا کر بھیجا وہ پوری کائنات کے سب سے اعلی ترین ہیرو ہیں۔ تاریخ عالم میں اگر کوئی ایسا ہیرو تلاش کیا جائے جس کی پوری سیرت ہر دور کے انسانوں کے لئے جامعیت، کاملیت اور پورے جمال و جلال کے ساتھ موجود ہو تو ہزار ہا برس کی تاریخ میں ایک ہی ہادی و مرشد ایسے ہیں ان کی مثل نہ تو پہلے کبھی وجود میں آئی اور نہ آئیندہ ایسے کاملیت اور جامعیت کے اوصاف کسی انسان میں ہوں گے۔
    سرمایہ حیات ہے سیرت رسولﷺ کی
    اسرارِ کائنات ہے سیرت رسولﷺکی
    بنجر دلوں کو آپ نے سیراب کر دیا
    اک چشمہ صفات ہے سیرت رسولﷺ کی
    تاریخ کے سب سے بڑے انسان اور سب سے بڑے ہیرو محمدﷺ بحثیت ایک شفیق باپ، مہربان شوہر، عظیم بھائی، بہترین فرمانبردار بیٹے، معزز شہری، قاضی، تاجر، جرنیل، منتظم و مدبر معلم انسانیت، اپنی خانگی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں عالمگیریت اور جامعیت کی بہترین مثال ہیں۔ آپﷺ کی ذات ہی میں وہ مکمل رہنمائی موجود ہے جس کا متلاشی ایک انسان اپنے تمام انفرادی اجتماعی معاشرتی مسائل کے حل، تمام تعلقات اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لئے ہوتا ہے۔ تاریخ کے سب سے عظیم ہیرو محمد ﷺ ہی ایسے کامل ترین مصلح، رہنما اور پیشوا ہیں کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ کیسے آپ نے کچھ ہی عرصے میں گمراہی اور تاریکی میں ڈوبے جاہل انسانوں کی اصلاح کی۔
    وہ بت پرست اور مشرک قوم کیسے خدا پرست اور موحد بن گئی؟
    وہ جو ذلت کی پستی میں گرچکے تھے کیسے سب کی نظروں میں معزز ہوگئے؟
    وہ جو چوری کو معمولی سمجھتے تھے کیسے خود پاسباں بن گئے؟
    وہ جاہل لوگ کیسے مشہور عالم بن گئے؟
    وہ ظالم اور سنگدل قوم کیسے عادل اور رحم دل بن گئی؟
    یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد ہی تھی کہ جس نے یوں انسانیت کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔

    الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا!
    اُتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
    اور اِک نُسخہ کیمیا ساتھ لایا
    مسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
    کھرَا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
    عرب، جس پر قَرنوں سے تھا جہل چھایا
    پَلٹ دی بس اک آن میں اُس کی کایا
    رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بَلا کا
    اِدھر سے اُدھر پِھر گیا رُخ ہَوا کا
    یہ آپﷺ کی ذات ہی تھی کہ جس پر اللہ کا دین ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تکمیل کی آخری حد تک پہنچ گیا۔ اب قیامت تک کے لئے نہ کسی اور نبی کی گنجائش رہی نہ کسی اور دین کی۔
    اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
    اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
    ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
    (سورۃ المائدہ: 3)
    اللہ کے رسولﷺ ہمیشہ نرم برتاؤ کو پسند کرتے۔ آپﷺ سخاوت میں سب سے زیادہ سخی، جرات میں سب سے زیادہ قوی، بولنے میں صادق، لوگوں کی امانتوں کے معاملے میں امین اور زندگی کے ہر معاملے میں باریک بین، دور اندیش، نہایت شفیق ایسی حسین و جمیل شخصیت کے مالک تھے کہ:
    حسنِ یوسف دیکھ کر کٹ گئی تھی انگلیاں
    لاکھوں نے جانیں دی میرے نبیﷺ کے واسطے

    آپﷺ کی فہم و فراست کا عالم یہ تھا کہ کوئی شخص آپﷺ کو دھوکہ نہ دے سکتا تھا۔ آپ کی ذاتِ اقدس کی ایک انگلی اٹھی تو چاند کے دو ٹکرے کر دئیے۔ سراقہ کو بددعا دی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا اور پھر جب دعا دی تو وہی گھوڑا زمین سے واپس نکل آیا۔طائف کی بستی میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے مگر زبانِ مقدس سے بددعا تک نہ نکلی۔ رحمت و شفقت کا عالم یہ تھا کہ زید بن حارثہ آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کے لئے اپنے والد کو چھوڑنے پر راضی ہو گئے۔ پانچ سال کے عبد اللہ بن عباس کا دل چاہتا تھا کہ میں دیکھوں رسول اللہﷺ رات کی نماز کیسے پڑھتے ہیں، کیسے وہ پانچ سال کا بچہ آدھی رات کو اٹھ کر آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ آپ کی رحمت و شفقت بھرےتعلم کے سائے میں حضرت عبد اللہ بن عباس جیسے مفسرِ قرآن تیار ہوئے۔ جرنیل کی حثیت سے ایسے سپہ سالار تیار کئے کہ دنیا انہیں خالد بن ولید کے نام سے جانتی ہے، سچائی کا ایسا درس دیا کہ صدیق اکبر بنا دیا، ایسا عدل سکھایا کہ فاروقِ اعظم بنا دیا، سخاوت کی ایسی تربیت کی کہ سیدنا عثمان بنا دیا، اور مکتبِ شجاعت میں علی شیرِ خدا بنا دیا۔
    آپ ﷺکا چہرہ مبارک لامتناہی تھا۔ اتنا حسین دلکش نورانی چہرہ اور اتنی نرم طبیعت کے مالک کہ ثمامہ جیسے نڈر بہادر جرنیل کو بھی جب آپ نے رہائی دی، جاتے ہوئے اس نے آپﷺ کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھی تو کہا اپنا بنا کر چھوڑ دیا”۔ آپﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبرو اور خوش خصال تھے۔ آپﷺ کی چشمِ مبارک بڑی اور بھنویں دراز تھیں۔ پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ آپﷺ کے دانت روشن تر، آبدار اور کشادہ تھے۔ آپﷺ کبھی قہقہ لگا کر نہ ہنسے تھے۔ آپ ﷺکا کلام بے حد شیریں ہوتا۔ آپﷺ کے بال مبارک نرم تھے۔ آپ ﷺ جب چلتے تو ایسے جھک کر چلتے جیسے اوپر سے اتر رہے ہوں۔
    حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک جاتا اور رخِ انور ایسے لگتا جیسے کہ وہ چاند کا ٹکرا ہے اور ہم آپ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔
    (صحیح بخاری: 3556)

    بقول شاعر
    ‏اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
    جیسے میرے سرکار ﷺ ویسا نہیں کوئی
    تم سا تو حسین آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
    یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
    آج کے انسان کو دیکھیں تو وہ پریشان، بےچین، منتشر، اور مضطرب سی کھوکھلی حالت میں مبتلا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے محمدﷺ کو آخری رسول، تاریخ کا عظیم ہیرو اور کامل نمونہ بنا کر بھیجا اور انسانوں کو اپنے رسولﷺ کی پیروی کا حکم دیا ہے لیکن غفلت کے مارے انسانوں نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو محمد ﷺ کی ویسے پیروی نہ کی جیسے اللہ نے حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں شرک، بےحیائی، سنگدلی، خودغرضی، لالچ، خود پسندی، حرص و حوس اور ظلم انسانوں سے چمٹ گئے۔ ان سب امراض کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم رسول ﷺ کی شخصیت کو عملی نمونہ بنا کر ایسے اعمال انجام دینے کے لئے کوشش کریں جس کے باعث کل قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes

  • یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان.   تحریر: احسان الحق

    یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان. تحریر: احسان الحق

    آج سے 70 برس قبل کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان کے اولین وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا. 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان ایک جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے جب ان کو دو گولیاں ماری گئیں. آپ شدید زخمی ہو گئے، اکتوبر 1895 میں پیدا ہونے والے نواب لیاقت علی خان اکتوبر میں ہی 1951 کو 56 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے.

    قاتل کو موقع پر ہی پولیس نے مار دیا. حالانکہ قاتل کو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر پولیس اہلکار انسپکٹر محمد شاہ نے پستول سے یکے بعد دیگرے وار کرتے ہوئے قاتل کو موقع پر ہلاک کر دیا. سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ محمد ابرار نے گولیاں چلانے والے اہلکار محمد شاہ سے پستول چھین لیا.

    قتل کے تقریباً 9 دن بعد 25 اکتوبر 1951 کو حکومت پاکستان نے تحقیقات کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا. جس کی سربراہی فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس محمد منیر کر رہے تھے اور ساتھ پنجاب کے مالیاتی کمشنر اختر حسین تھے. ہم یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت نے شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کی انکوائری کرنے، قتل کی سازش رچانے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا، مگر ایسا نہیں تھا. تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر کہا گیا کہ غلفت کے مرتکب مجرم افسران کا پتہ لگاؤ کہ کس طرح سیکورٹی کے ناقص انتظامات تھے، کس نے یہ انتظامات کئے، سیکورٹی میں کیا کیا نقص تھے، کون کون اور کس طریقے سے غفلت کا مرتکب ہوا وغیرہ وغیرہ. شہادت کے پیچھے چھپے رازوں اور قاتلوں کو ڈھونڈنے کی بجائے ہمارے ادارے اور پولیس والے اپنی اپنی صفائی دینے میں مصروف ہو گئے کہ ہم غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے. اس تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ 17 اگست 1952 کو پیش کی. چونکہ اس کمیشن کا مقصد یہ نہیں تھا کہ قتل کے پیچھے محرکات اور کرداروں کا سراغ لگایا جائے، اس لئے بیگم رعنا لیاقت اور قوم نے یہ رپورٹ مسترد کر دی.

    وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات پاکستان کے انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز الدین بھی کر رہے تھے. 26 اگست 1952 کو وہ ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی سے پشاور جا رہے تھے، ان کے ہمراہ تحقیقاتی رپورٹ بھی تھیں جس میں اہم شواہد موجود تھے. طیارہ جب کھیوڑہ کے مقام پر پہنچا تو حادثے کا شکار ہو گیا. انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ اہم شواہد بھی جل کر راکھ ہو گئے.

    دباؤ بڑھنے کی وجہ سے حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے یورین کی خدمات بھی حاصل کیں، جس نے حکومت سے تحقیقات کرنے کے بدلے 10 ہزار پاؤنڈ اجرت لی. یورین نے 28 نومبر 1954 سے 16 جون 1955 تک لیاقت علی خان قتل کی تفتیش کی. 25 جون 1955 کو یورین نے اپنی تحقیقاتی اور تفتیشی رپورٹ پیش کی جس میں اس نے کہا کہ قاتل کا قتل کرنے والا ذاتی فعل تھا.

    دریں اثناء محکمہ پولیس نے سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ ابرار احمد کو قتل کی تفتیش پر لگا دیا. یہ وہی شیخ ابرار ہیں جو جلسہ گاہ میں موجود تھے. انہوں نے پولیس اہلکار سے پستول چھینا تھا جو قاتل سید اکبر کو گولیاں مار رہا تھا. شیخ ابرار نے خود نوشت سوانح "نقوش زندگی” میں اس تفتیش کا ذکر تفصیل سے کیا ہے. شیخ ابرار نے بھی قتل کی وجہ قاتل کا ذاتی فعل قرار دیا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتل کے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کا نام سید اکبر خان ولد ببرک خان تھا، اکبر نے اپنے بھائی زمرک کے ساتھ ملکر 1944 میں افغان حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کیا. سرکاری فورسز سے شکست کھانے کے بعد دونوں بھائی ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور آخر کار دونوں نے خود کو برطانوی فرنٹیر کور کے سامنے پیش کر دیا. دونوں کو ایبٹ آباد میں نظر بند کر دیا گیا اور تنخواہ مقرر کر دی گئی کیوں کہ دونوں بھائی برطانیہ کے لئے اجرت پر کام کرنے لگ گئے. یاد رہے اس وقت ایبٹ آباد برطانوی ہندوستان کا ایبٹ آباد تھا. پاکستان کے مطابق سید اکبر افغانی تھا، وہ افغانستان سے یبٹ آباد آیا، کچھ دن قیام کرنے کے بعد وہ ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچا.

    وینکٹ رامانی اپنی کتاب "پاکستان میں امریکہ کا کردار” میں لکھتے ہیں کہ امریکی صدر ہنری ٹرومین کو امریکی عوام اور کانگریس سے شدید مذمت اور دباؤ کا سامنا تھا. کیوں کہ کوریا میں امریکیوں کو سخت پریشانی کا سامنا تھا. امریکی عوام سمجھتے تھے کہ کوریا میں امریکی ہلاکتوں کی ذمہ دار ٹرومین حکومت ہے. کوریا جنگ میں پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن نے پاکستان میں امریکی سفیر ایورا وارن کو کچھ انتہائی اہم اور پوشید ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کرنے کو کہا.

    11 مئی 1951 کو امریکی سفیر نے لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور کوریا جنگ میں ٹھوس مدد کرنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ تعاون نہیں کرتے تو پھر اس کے نتیجے میں اجتماعی سلامتی کا نظام ختم ہو سکتا ہے. پاکستان سیمت تمام نئے یا ترقی پزیر ممالک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے پیش قدمی یا کسی قسم کی جارحیت کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے. یہ واضح طور پر یا ممکنہ طور پر سفیر کا دھمکی آمیز انداز تھا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان ایک زیرک سیاست دان اور محب وطن حکمراں تھے. وہ تمام بات سننے کے بعد فرمانے لگے کہ اگر پاکستان کوریا کی جنگی مہم میں امریکہ کا ساتھ دے تو کیا

    1: امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا؟

    2: نہرو مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کروانے کا سوچ رہے ہیں، کیا امریکہ انتخابات رکوا پائے گا؟

    3: افغانی حکومت اور کچھ افغان نواز اور قوم پرست قبائل پختونستان مہم چلائے ہوئے ہیں، کیا امریکہ پختونستان کے شوشہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا؟

    یہ وہ چیدہ چیدہ شرائط تھیں جو وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی سفیر ایورا وارن کے سامنے رکھیں. لیاقت علی خان جانتے تھے کہ یہی موقع ہے امریکہ سے شرائط کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کا. امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن لیاقت علی خان سے یہی امید رکھتے تھے، اسی لئے سفیر ایورا وارن کو پیشگی سمجھا دیا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف سے ایسی شرائط رکھی جائیں تو صاف صاف انکار کر دینا. توقع کے مطابق لیاقت علی خان نے وہی شرائط رکھ دیں اور ایورا وارن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایسا کرنے سے مسائل جنم لیں گے.

    کچھ برس قبل امریکہ کے نیشنل آرکائیو ڈیپارٹمنٹ نے کچھ دستاویزات کو عوام کی پہنچ میں لاتے ہوئے پبلک کیں ان میں سے ایک ایسا ٹیلی گرام بھی ملا جس کی مدد سے لیاقت علی خان کے قتل کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے. 7 ستمبر 1951 امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کو ایک مراسلہ روانہ کیا گیا جس کے مطابق اسی شام مطلب 7 ستمبر 1951 کو وزیر خزانہ غلام محمد نے امریکی سفیر سے چائے پر ملاقات کی اور سفیر سے درخواست کی کہ وہ مندرجہ ذیل پیغام امریکی وزیر خارجہ تک پہنچائیں.

    "اگلے ہفتے ظفراللہ امریکہ آ رہے ہیں، مہربانی کرکے آپ ان سے مل لیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنے گھر پر ملاقات کا وقت نکالیں گے. اور گزارش کی جاتی ہے کہ آپ ظفراللہ کو ٹرومین سے بھی ملوا دیں گے”. خفیہ ٹیلی گرام کے مطابق غلام محمد کہتے ہیں کہ وہ دسمبر میں تین ہفتوں کے لئے امریکہ آنا چاہتے ہیں اور آپ سے تفصیلی بات چیت کرنے کے خواہاں ہیں. سفیر نے اپنے مراسلے میں مزید لکھا کہ غلام محمد نے کہا کہ میں پاکستان اور مسلم دنیا کو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لئے منظم کرنے کا مقصد رکھتا ہوں. میں اور میرے دو رفیق خاص بھارت کے ساتھ جنگ نہیں ہونے دیں گے. ایک ملک کا وزیر خزانہ ایک سفیر سے اس طرح کی باتیں اور امریکی وزیر خارجہ کے لئے اہم ترین پیغام کیوں بھجوا رہا تھا، قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ 27 جولائی 1951 کو عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارت کے لئے مکا لہرایا تھا. اس مکے نے بھارت میں تشویش اور پریشانی پیدا کر دی تھی، ہو سکتا ہے حالات معمول پر لانے اور بہتر کرنے کے لئے غلام محمد نے یہ کہا ہو کہ وہ کبھی بھی بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ نہیں ہونے دیں گے. اس ملاقات اور بیان کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ غلام محمد ان دنوں علیل تھے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے تھے، ان دنوں یہ خبر تھی کہ وزیراعظم لیاقت علی خان غلام محمد اور گورمانی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے والے ہیں. لیاقت علی خان سردار عبدالرب نشتر کو نائب وزیراعظم اور نواب محمد اسماعیل کو پنجاب کا گورنر بنانے والے ہیں.

    امریکی سفیر سے غلام محمد کی ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی، اس ملاقات سے 12 دن قبل مطلب 25 اگست 1951 کو لیاقت علی خان امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کے نام خط لکھ کر پاکستان کے لئے فوجی اور دفاعی سازوسامان کی درخواست کر چکے تھے. اس اہم خط کو ڈاک کے ذریعے بھیجنا مناسب نہ سمجھا گیا بلکہ اس خط کو سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کے ہاتھ بھیجنا زیادہ محفوظ اور مناسب سمجھا گیا. جو خط کچھ دنوں میں پہنچ جانا چاہئے تھا مگر وہ خط پہنچا 18 اکتوبر کو. لیاقت علی خان کی شہادت کے دو دن بعد وہ خط امریکی وزیر خارجہ تک پہنچایا گیا. 

    بھوپال سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ "ندیم” نے ایک مضمون لکھا جس کے مطابق برطانیہ اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایران مسئلہ پر تعاون کریں. امریکہ نے دباؤ ڈالتے ہوئے پاکستان کو کہا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو کہیں کہ وہ تیل کے کنوئیں امریکہ کے حوالے کر دے. لیاقت علی خان نے واضح انداز میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا. جس کے ردعمل کے طور پر امریکہ نے دھمکی دی وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا. لیاقت علی خان نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت آدھا کشمیر لے لیا ہے اور باقی ماندہ بھی لے لیں گے، آپ اپنا تعاون اپنے پاس رکھیں. اس ساری صورتحال کے بعد امریکہ نے پاکستان میں کسی سہولت کار کی تلاش شروع کر دی. امریکہ کو پاکستان سے کوئی سہولت کار یا ایسا بندہ نہ مل سکا تو اس نے افغانستان سے رابطہ کیا.امریکہ نے پشتون راہنماؤں سے رابطہ کیا جو پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے اور پختونستان بنانا چاہتے تھے.

    روزنامہ ندیم کے مطابق امریکہ نے کابل میں اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا. سفارتخانے نے پاکستان مخالف پشتونوں سے رابطہ کیا جو پختونستان بنانا چاہتے تھے. امریکا نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ لیاقت علی خان کو قتل کر دیں تو 1952 تک پختونستان بن جائے گا. مختصر، سید اکبر خان کو لیاقت علی خان کے قتل کے لئے تیار کرکے اس کی تربیت شروع کی دی گئی. افغانستان سے اس کو ایبٹ آباد پہنچایا گیا، وہاں سے وہ راولپنڈی آیا. وہاں اس نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو دوران تقریر سینے پر دو گولیاں ماریں جن سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انتقال فرما گئے.  لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو مخصوص قسم کے کارتوس ملے وہ صرف امریکی فوج کے اعلی اور خفیہ لوگ استعمال کرتے تھے. اس وقت ایسے کارتوسوں کا عام مارکیٹ میں ملنا ناممکن تھا. ندیم کے مضمون کے مطابق جب گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی خبر دی اور تعزیت کی تو اس سے 3 سے 4 منٹ پہلے امریکی سفیر وارن بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی اطلاع دے چکا تھا. ان تمام عوامل اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے.

    30 اکتوبر کو روزنامہ ندیم کے اس مضمون کی نقل بھارت نے خفیہ طریقے سے کراچی میں امریکی سفارتخانے کو بھیج دی. سفارت خانے نے اگلے روز یعنی 31 اکتوبر کو امریکی وزارت خارجہ کو یہ کہتے ہوئے مضمون کی نقل ارسال کی کہ وہ دہلی سفارت خانے کو ہدایات دیں کہ اس مضمون کو نظرانداز کر دیا جائے کیوں کہ اس میں متن خودساختہ ہے اور اس اخبار کو اتنی اہمیت نہ دی جائے.

    بیگم رعنا لیاقت علی خان کو خاموش کروانے کے لئے ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا. ہالینڈ میں انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل پر 6 سوال پوچھے.

    16 اکتوبر 1954 کو انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں کچھ سوالات پوچھے جو انھوں نے ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ سے جاری کیا تھا۔

    انھوں نے مندرجہ ذیل چھ سوالات اٹھائے تھے:

    ۱: ایسے موقع پر جب لیاقت علی خان ایک اہم بیان دینے والے تھے اور لیاقت علی خان اپنی مقبولیت اور شہرت کی انتہاء پر تھے، اسی وقت انکو کیوں قتل کردیا گیا؟

    ۲: قاتل کو بے بس ہو چکا تھا، اسکو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر موقع پر کیوں قتل کر دیا گیا؟

    ۳:  قاتل کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کو سزا دینے کی بجائے ترقی کیوں دی گئی؟

    ۴: ملک میں کچھ اہم اور طاقتور لوگ کیوں لیاقت علی خان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے؟

    ۵: قائداعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ناموں کو بعض اہم معاملات میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    ۶: ان سب سوالوں کے جواب کیوں نہیں دئیے جا رہے؟

    راقم الحروف کا ذاتی خیال ہے کہ اگر امریکی خفیہ دستاویزات اور اردو روزنامہ "ندیم” کے مضمون کو درست مان لیا جائے تو قاتل اور قتل کی سازش رچانے والوں اور پاکستان میں مبینہ طور پر غفلت برتنے والوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے.

    @mian_ihsaan