Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • لبنانی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    لبنانی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں شخصیات نے دونوں ممالک کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ملاقات میں سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر روابط مزید مستحکم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

    اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لبنان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دی جانے والی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں ادارہ جاتی روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ پاکستان اور لبنان کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

  • انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کا جی ایچ کیو کا دورہ، پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا

    انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کا جی ایچ کیو کا دورہ، پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا

    انڈونیشیا کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ انڈونیشین بحریہ کے سربراہ نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور پاکستان و انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں دونوں عسکری قائدین نے پاکستان اور انڈونیشیا کی مسلح افواج کے درمیان موجودہ دوستانہ اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران پیشہ ورانہ تربیت، دفاعی اشتراک اور مشترکہ فوجی مشقوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں جانب سے دفاعی تعاون کے موجودہ دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور مسلح افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کا جی ایچ کیو کا دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کی جانب سے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہنا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خدمات کا اعتراف بھی ملاقات کا اہم پہلو رہا۔

  • ویمنز ایشیا کپ، بھارتی کھلاڑی کرانتی پرا پر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

    ویمنز ایشیا کپ، بھارتی کھلاڑی کرانتی پرا پر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

    ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی کھلاڑی کرانتی پرا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

    آئی سی سی کے مطابق ویمنز ایشیا کپ کے فائنل کے دوران بھارتی کھلاڑی کرانتی پرا نے سری لنکا کے خلاف میچ میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر آئی سی سی نے واقعے کا نوٹس لیا اور اسے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ کرانتی پرا کا یہ عمل ضابطہ اخلاق کے تحت قابلِ سزا خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کے بعد ان پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔ آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مقررہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی کھلاڑی کو مالی سزا دی۔

    بھارتی کھلاڑی کرانتی پرا نے آئی سی سی کی جانب سے عائد الزام اور اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے جرمانے سمیت عائد کی گئی سزا بھی قبول کرلی، جس کے بعد معاملے پر مزید کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

    یوں ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ٹیم کی کامیابی کے باوجود ٹیم کی ایک کھلاڑی کو دورانِ میچ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر آئی سی سی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور کرانتی پرا کو اپنی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانے کی صورت میں ادا کرنا ہوگا۔

  • میر رضا کیس، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف، سیکیورٹی دینے کی ہدایت

    میر رضا کیس، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف، سیکیورٹی دینے کی ہدایت

    میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے ساتویں اجلاس میں ڈاکٹر سمعیہ نے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

    ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کیس کی وجہ سے انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جبکہ دو دن تک ان کا پیچھا بھی کیا گیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا ایڈریس اور شوہر کا نام بھی شیئر کیا گیا۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ ان پر زمین پر قبضے کا الزام بھی عائد کیا گیا، جس کے خلاف انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو شکایت کردی ہے۔

    ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق سی آئی اے کا ایک انسپکٹر بھی ان سے ریکارڈ طلب کر رہا تھا۔ اس صورتحال پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ایسی صورتحال کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔

    جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر سمعیہ کو ہدایت کی کہ وہ معاملہ وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے رکھیں۔ جوڈیشل کمیشن نے سی آئی اے انسپکٹر محمد علی کو بھی کل طلب کرلیا ہے۔

    سماعت کے دوران کمیشن کے سربراہ نے ڈاکٹر سمعیہ کو پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس سیکیورٹی لینے سے انکار کردیا۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ہم رینجرز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا کہہ دیتے ہیں، جس کے بعد ایڈیشنل لاء سیکریٹری کو ڈاکٹر سمعیہ کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی۔

    ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو مزید بتایا کہ تین چیزیں واضح ہیں، جن میں نشہ آور دوا، ایسڈ برن اور گولی کا پیچھے سے لگنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ پوسٹ مارٹم کا جائزہ لیتیں تو بتا دیتیں کہ موت گولی لگنے سے ہوئی یا دوا کے باعث۔

  • پاکستان بھارت میں ہونے والی ہاکی ایشین چیمپئنز ٹرافی کھیلے گا: وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب

    پاکستان بھارت میں ہونے والی ہاکی ایشین چیمپئنز ٹرافی کھیلے گا: وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب

    بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم رواں سال بھارتی پنجاب میں ہونے والی مردوں کی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرے گی۔

    بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے موہالی میں ٹورنامنٹ کے شیڈول اور انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سمیت ایشیا کی چھ بڑی ٹیمیں ایونٹ میں شریک ہوں گی۔ ان کے مطابق ایشین چیمپئنز ٹرافی 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک جاری رہے گی۔

    ٹورنامنٹ کے لیگ مرحلے کے میچز جالندھر میں کھیلے جائیں گے جبکہ سیمی فائنلز اور فائنل موہالی میں ہوں گے۔ ایونٹ میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔

    بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے مطابق بھارتی حکومت کی پالیسی کے تحت پاکستان اور بھارت کو کثیر ملکی کھیلوں کے مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کی اجازت ہے، اسی پالیسی کے تحت پاکستانی ہاکی ٹیم کو ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

    پاکستان کی بھارت میں کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برس بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ ہاکی میں سکیورٹی خدشات کے باعث شرکت نہیں کی تھی اور مقابلے کسی غیر جانب دار مقام پر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ ایشین چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی شرکت کی تصدیق بھارتی پنجاب حکومت اور ہاکی حکام کی جانب سے کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے میدان میں حالیہ کشیدگی کا ایک نمایاں واقعہ ایشیا کپ کرکٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں بھی سامنے آیا، جب بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین اور پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی۔

    بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا، تاہم بھارتی ٹیم نے محسن نقوی کے ہاتھ سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا اور ٹرافی وصول کیے بغیر ہی جشن منایا۔ یہ واقعہ 2025 کے ایشیا کپ کے دوران پیش آنے والے اسی نوعیت کے تنازعے کے بعد دوبارہ سامنے آیا۔

    یوں ایک جانب کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی و سفارتی کشیدگی کے اثرات کھیل کے میدان میں بھی دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بھارتی پنجاب میں ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی شرکت کی باقاعدہ تصدیق نے دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے حوالے سے ایک مختلف صورتحال سامنے لائی ہے۔

  • بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار، ویمنز ٹیم کا بھی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار

    بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار، ویمنز ٹیم کا بھی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار

    بھارت نے ایک بار پھر کھیل کو سیاست سے جوڑتے ہوئے ویمنز ایشیاکپ کو بھی تنازع کا شکار بنا دیا۔ ویمنز ایشیاکپ کا فائنل جیتنے کے بعد بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

    ایشین کرکٹ کونسل کے ذرائع کے مطابق ویمنز ایشیاکپ فائنل کی تقریب میں ٹرافی دینے کا پروٹوکول پہلے سے مکمل طور پر طے تھا اور فاتح بھارتی ٹیم کو ٹرافی پیش کرنے کے لیے دستیاب بھی تھی، تاہم بھارتی ٹیم نے خود ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ٹرافی کو ایشین کرکٹ کونسل کے دفتر منتقل کیا جائے گا۔

    اے سی سی ذرائع کے مطابق کونسل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ محسن نقوی اپنے مؤقف سے پہلے بھی ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی پچھلی ٹرافی بھی دستیاب ہے اور اب صرف اس کی وصولی کا انتظار ہے۔

    بھارتی خواتین ٹیم نے ویمنز ایشیاکپ میں ریکارڈ آٹھویں مرتبہ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ فائنل میں بھارت نے دفاعی چیمپئن سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دی۔ بھارت نے سری لنکا کو کامیابی کے لیے 184 رنز کا ہدف دیا، تاہم سری لنکن ٹیم ہدف کے تعاقب میں 111 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ سری لنکا کی جانب سے کپتان چماری اَتھاپَتھُو نے 36 جبکہ نیلکشیکا سلوا نے 22 رنز بنائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال بھارت کی مینز کرکٹ ٹیم نے بھی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

  • برطانیہ سے علیحدگی کی مہم تیز، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا اتحاد

    برطانیہ سے علیحدگی کی مہم تیز، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا اتحاد

    اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنما برطانیہ سے علیحدگی اور آزادی کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی غرض سے اہم اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کے بعد برطانیہ کے اتحاد اور مستقبل کے آئینی ڈھانچے سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کارڈف میں ہونے والے اس غیر معمولی اجلاس میں تینوں خطوں کے فرسٹ منسٹرز ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں گے۔ اعلامیے میں آزادی کے ریفرنڈم کے انعقاد کے حق کا مطالبہ کیا جائے گا، جبکہ تینوں خطوں کے رہنما اپنے اپنے ممالک کے حق خود ارادیت کے لیے برطانیہ پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

    اجلاس میں آئرلینڈ کی مرکزی اپوزیشن جماعت شِن فین کی رہنما میری لو میک ڈونلڈ بھی شریک ہوں گی۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنما برطانیہ کے آئینی مستقبل، اپنے خطوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں آزادی کے حامی فرسٹ منسٹرز حکومت میں ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ صورتحال پائیدار نہیں۔ انہوں نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس امکان کا سامنا کرنا ہوگا کہ تاریخ انہیں برطانیہ کا آخری وزیراعظم قرار دے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر اسکاٹ لینڈ میں آزادی کے لیے واضح عوامی اتفاق رائے سامنے آیا تو ایک اور آزادی ریفرنڈم کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متحدہ آئرلینڈ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئرلینڈ کو متحد دیکھنا پسند کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی آئرلینڈ کا جمہوریہ آئرلینڈ میں شامل ہونا ایک اچھی بات ہوگی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق مئی کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ تینوں خودمختار خطوں میں آزادی کے حامی جماعتیں اقتدار میں آئی ہیں، جس کے باعث برطانیہ کے اتحاد، موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کے آئینی ڈھانچے سے متعلق بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

    گڈ فرائیڈے معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ میں آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے ریفرنڈم کا راستہ بھی موجود ہے۔ تاہم اس کے لیے یہ امکان ظاہر ہونا ضروری ہے کہ شمالی آئرلینڈ کے عوام کی اکثریت برطانیہ سے علیحدگی اور جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے حق میں ووٹ دے سکتی ہے۔

  • پاکستان چھتوں پر نصب سولر توانائی کو سوارم گرڈز میں بدل سکتا ہے: تحقیق

    پاکستان چھتوں پر نصب سولر توانائی کو سوارم گرڈز میں بدل سکتا ہے: تحقیق

    پاکستان چھتوں پر نصب سولر سسٹمز سے پیدا ہونے والی توانائی کو مرکزیت سے آزاد اور کمیونٹی کی شراکت سے قائم کیے جانے والے سوارم گرڈز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر اس نظام کے نفاذ کے لیے تکنیکی امکانات اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہوگا، جس کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (پی آر آئی ای ڈی) کی جانب سے سوارم بجلی کے نظام کا تکنیکی اور معاشی جائزہ پیش کیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، توانائی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر توانائی اور اسے ایک مربوط مقامی بجلی کے نظام میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

    سوارم گرڈز بنیادی طور پر مرکزیت سے آزاد چھوٹے بجلی کے نظام ہیں، جنہیں گھروں میں نصب سولر سسٹمز یا توانائی کے چھوٹے قابلِ تجدید یونٹس کو آپس میں منسلک کرکے قائم کیا جاتا ہے۔ ان نظاموں کے لیے کسی ایک مرکزی کنٹرولر کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ مختلف صارفین اپنی ضرورت کے مطابق توانائی پیدا، ذخیرہ، استعمال اور ایک دوسرے کو فروخت کرسکتے ہیں۔

    تحقیق میں دو مطالعات شامل ہیں۔ ’پاکستان کے سولر انقلاب سے استفادہ: سوارم بجلی کا تکنیکی و معاشی جائزہ‘ میں شہری اور دیہی علاقوں میں سوارم گرڈز کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ ’سوارم گرڈز: سولر بوم کے اگلے مرحلے‘ میں اس نظام کی جانب منتقلی کے لیے حکمت عملی اور عملی نفاذ کا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔

    مطالعے کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کا فروغ بڑی حد تک حکومت کی پالیسی کے بجائے قابلِ اعتماد اور سستی بجلی کے حصول کے لیے گھریلو صارفین، کسانوں اور کاروباری اداروں کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ملک میں سولر نظام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنصیب اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

    تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 41 گیگاواٹ کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے مقابلے میں 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے جاچکے ہیں۔ تاہم تقسیم شدہ سولر نظام میں تیزی سے اضافے کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی بندش، کم وولٹیج اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

    مطالعے کے مطابق موجودہ صورتحال میں بنیادی مسئلہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ نظام میں رابطہ کاری کا ہے۔ لاکھوں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز ایک مربوط بجلی کے وسائل کے طور پر کام کرنے کے بجائے الگ الگ نظام کی صورت میں موجود ہیں، جس کے باعث ان سے حاصل ہونے والی مجموعی صلاحیت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی گنجائش محدود ہے۔

    پی آر آئی ای ڈی کے مطابق سوارم گرڈ ایک ڈیجیٹل نظام کے تحت چلنے والا مرکزیت سے آزاد مقامی بجلی کا نیٹ ورک ہوگا، جس میں گھرانے اور کاروبار اپنی پیدا کردہ سولر بجلی استعمال کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے، اضافی بجلی پڑوسیوں کو فروخت کرنے اور قریبی پروڈیوسر صارفین سے بجلی خریدنے کے قابل ہوں گے۔ اس نظام میں قومی گرڈ کو بنیادی طور پر متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔

    روایتی مائیکرو گرڈز کے برعکس، جو عموماً مخصوص اور مقررہ حدود میں کام کرتے ہیں، سوارم گرڈز میں گھرانوں اور مختلف گروپس کو ضرورت کے مطابق نظام میں شامل ہونے، اس سے نکلنے اور بجلی کی خرید و فروخت کرنے کی سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔ اس طرح مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے صارفین ایک باہمی منسلک نظام کا حصہ بن سکیں گے۔

    محققین نے سوارم گرڈز کے تصور کو دو مختلف ماحول میں آزمایا۔ شہری مثال کے طور پر اسلام آباد کا انتخاب کیا گیا، جہاں مستحکم گرڈ پر بجلی کی طلب نسبتاً زیادہ اور متنوع ہے، جبکہ دیہی مثال کے طور پر سندھ کے تھرپارکر کو منتخب کیا گیا، جہاں آبادی منتشر ہے اور لوگوں کا روزگار موسمی زرعی و مال مویشی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔

    جائزے میں گھریلو سروے، سولر وسائل کے اعداد و شمار اور فی گھنٹہ بجلی کی ترسیل کے ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے سوارم گرڈز کی تکنیکی، معاشی اور ادارہ جاتی افادیت کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹیز کی اس نظام میں شمولیت کے لیے آمادگی کو بھی جانچا گیا۔

    مطالعے کے مطابق سوارم گرڈز شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہیں، تاہم دونوں ماحول کے لیے معاشی ماڈل مختلف ہوں گے۔ شہری علاقوں میں سوارم گرڈز تجارتی بنیادوں پر نجی سرمایہ کاری کے ذریعے قابلِ عمل کاروبار بن سکتے ہیں، جبکہ دیہی منصوبوں کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری اور کمیونٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات درکار ہوں گے۔ اس کی وجہ دیہی علاقوں میں ابتدائی اخراجات کا زیادہ ہونا اور توانائی کی طلب کا کم ارتکاز ہے۔

    تحقیق میں ضابطہ جاتی فریم ورک کو سوارم گرڈز کے فروغ میں سب سے اہم مشترکہ رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت کسی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے دائرہ اختیار میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت اور تیسرے فریق کو بجلی فروخت کرنے پر پابندی ہے۔

    مطالعے کے مطابق سوارم گرڈز کے بڑے پیمانے پر نفاذ کے لیے نئے ضوابط درکار ہوں گے تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ بجلی کون فروخت کرسکتا ہے، کس قیمت پر فروخت کی جائے گی اور اس کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بغیر سوارم گرڈز کو قابلِ عملیت کے مطالعات سے نکال کر بڑے پیمانے پر تجارتی بنیادوں پر چلانا مشکل ہوگا۔

    دوسری تحقیق میں ریگولیٹرز، جن میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) شامل ہیں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

    سفارشات میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے لیے ضوابط متعارف کرانا، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس سے منسلک سولر آلات کے معیارات یکساں بنانا، مسابقتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت بجلی کی ریٹیل مارکیٹ کھولنا اور شہری و دیہی علاقوں میں سوارم گرڈز کے پائلٹ منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔

    منتقلی کے منصوبے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سولر اثاثوں کی رجسٹریشن بطورِ ڈیفالٹ میاں یا بیوی میں سے کسی ایک کے نام پر کرنے، سولر نظام کی تنصیب اور حوالگی کے مراحل میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے اور خواتین کی قیادت میں آپریشنز اور مرمت کی ٹیموں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔

    تحقیق کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نظام کو سوارم گرڈز کے ذریعے ایک مربوط مقامی بجلی کے نظام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے لیے واضح ضابطہ جاتی فریم ورک، مناسب معاشی ماڈلز، پائلٹ منصوبوں، نجی سرمایہ کاری، کمیونٹی کی استعداد کار اور خواتین کی مؤثر شمولیت سمیت متعدد اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

  • خیبر پختونخوا کی مسلسل بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کا شدید فقدان

    خیبر پختونخوا کی مسلسل بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کا شدید فقدان

    خیبر پختونخوا کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق بڑھ کر 4 کروڑ 86 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آبادی میں سالانہ 2.38 فیصد اضافے کے باعث صحت، تعلیم، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    پاپولیشن کونسل اور اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے منعقدہ میڈیا کولیشن آن پاپولیشن کے اجلاس میں ماہرین نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں آبادی میں اضافے کے ساتھ بنیادی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور خصوصاً غریب و دور دراز علاقوں کی خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات پہنچانے کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

    پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیف پاپولیشن کاظم سلمان نے کہا کہ وفاقی حکومت آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جبکہ آبادی کا معاملہ وزیراعظم کے ایجنڈے میں اہم ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے گا تاکہ آبادی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جاسکیں۔

    پاپولیشن کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف اعدادوشمار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق پانی، زرعی زمین، خوراک، شہری پھیلاؤ، تعلیم اور صحت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اور محدود وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ بنیادی سہولیات کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    پاپولیشن کونسل کی ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر ارم کامران نے کہا کہ غریب اور دور دراز علاقوں کی خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات پہنچانے کے لیے عملی اور آسان ماڈلز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ پروگرام کے تحت 10 ماہ کے دوران تقریباً 22 ہزار خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کی گئیں، جس کے نتیجے میں مانع حمل طریقوں کے استعمال میں اضافہ ہوا۔

    یو این ایف پی اے کے پروگرام اینالسٹ ڈاکٹر غلام فرید خان نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق دور دراز علاقوں میں خواتین تک مؤثر انداز میں رسائی کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انہیں تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی ضروری سہولیات ان کے علاقوں میں دستیاب ہوسکیں۔

    ڈاکٹر غلام فرید خان نے مزید کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ مردوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ اور حساس بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی تعداد اور پیدائش میں وقفے سے متعلق فیصلوں میں مردوں کا اہم کردار ہوتا ہے، اس لیے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی اور خدمات میں مردوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

    اجلاس کے شرکا نے خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد میں اضافے، معیاری تولیدی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور مردوں کی خاندانی منصوبہ بندی میں شمولیت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

    ماہرین کے مطابق 4 کروڑ سے زائد آبادی والے خیبر پختونخوا میں اصل چیلنج صرف آبادی میں اضافے کو روکنا نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں صحت، تعلیم، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں مسلسل اضافے کے تناظر میں محدود وسائل اور بڑھتی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا صوبے کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

  • بھارت نے سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر 8 ویں بار ویمنز ایشیا کپ جیت لیا

    بھارت نے سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر 8 ویں بار ویمنز ایشیا کپ جیت لیا

    دبئی: بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم نے ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ اس کامیابی کے ساتھ بھارتی خواتین کی ٹیم نے 8ویں مرتبہ ویمنز ایشیا کپ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

    فائنل میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 183 رنز بنائے اور سری لنکا کو کامیابی کے لیے 184 رنز کا ہدف دیا۔ بھارتی بیٹرز نے مقررہ اوورز میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکن ٹیم کے سامنے ایک مضبوط ہدف رکھا۔

    184 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ویمنز ٹیم بھارتی بولرز کے سامنے زیادہ مزاحمت نہ کرسکی اور پوری ٹیم 111 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یوں بھارت نے فائنل میں 72 رنز سے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے نام کرلی۔

    سری لنکا کی جانب سے چماری اتھاپتھو 36 رنز بنا کر نمایاں رہیں، جبکہ نیلکشیکا سلوا نے 22 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم دیگر بیٹرز بھارتی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکیں۔

    بھارت کی جانب سے شری چرانی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ ان کی مؤثر بولنگ کی بدولت سری لنکن ٹیم ہدف کے تعاقب میں 111 رنز تک ہی پہنچ سکی۔

    اس کامیابی کے ساتھ بھارتی ویمنز ٹیم نے 8ویں مرتبہ ویمنز ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔