Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس فرمان میں ہے،قرآن آپ کا اخلاق ہے۔یعنی قرآن اور آپؐ کی زندگی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ جس طرح قرآن پاک اپنی تعلیم میں اور پیغام کے لحاظ سے درخشاں ہے، اسی طرح آپؐ کا عمل بھی اور درخشاں ہے۔ اگر ہم قرآن پاک کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو حضور اکرمؐ کو دیکھ لیں”۔ جو بات اس میں مذکور ہے۔ ”آپؐ کی زندگی کا معمول تھی۔ جس معاشرے میں آپؐ نے زندگی بسر کی اور جن لوگوں کو آپؐ نے اسلام کی دعوت دی خود ان میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ قرآن کریم کی آیات مبارکہ 

     الفاتحہ-1: 1-3۔

     جس نے زمین کو تمہارا پلنگ بنایا اور آسمانوں کو تمہاری چھتری۔  اور آسمان سے بارش برسائی  اور اس سے تمہارے رزق کے لیے پھل لائے  پھر جب تم (حقیقت) جانتے ہو تو اللہ کے لیے اپنا حریف نہ بناؤ۔

     البقرہ – 2:22۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ یہ اللہ ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔  اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست یا مددگار نہیں ہے؟

     البقرہ – 2: 107۔

     آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا!  جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف کہتا ہے: ہو جا!  اور یہ ہے.

     البقرہ – 2: 117۔

     اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔  کوئی معبود نہیں مگر وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

     البقرہ – 2: 163۔

     اللہ!  اس کے سوا کوئی معبود نہیں – زندہ ، خود قائم رہنے والا ، ابدی۔  کوئی نیند اسے نہیں پکڑ سکتی اور نہ ہی سو سکتی ہے۔  آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اسی کی ہیں۔  کون ہے جو اس کی موجودگی میں سفارش کر سکے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دے۔  وہ جانتا ہے کہ (اپنی مخلوق کے سامنے) ان کے پہلے یا بعد میں یا ان کے پیچھے۔  اور نہ ہی وہ اس کے علم کا کچھ احاطہ کریں گے سوائے اس کے کہ وہ چاہے۔  اس کا عرش آسمانوں اور زمین پر پھیلا ہوا ہے ، اور وہ ان کی حفاظت اور حفاظت میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔  کیونکہ وہ سب سے اعلیٰ ، عظمت والا ہے۔

     البقرہ – 2: 255۔

     کیا آپ نے اپنے خیال کو اس شخص کی طرف نہیں موڑا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کیونکہ اللہ نے اسے اختیار دیا تھا؟  ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔  اس نے کہا: میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔  ابراہیم نے کہا: "لیکن اللہ ہی ہے جو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے ، تو کیا تم اسے مغرب سے طلوع کرواتے ہو؟”  اس طرح وہ الجھا ہوا تھا جس نے (تکبر میں) ایمان کو رد کیا۔  اور اللہ کسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

     البقرہ – 2: 258۔

     کہو: "اے اللہ! طاقت کے مالک (اور حکمرانی) ، جسے تو چاہتا ہے طاقت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے ، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے  سب کچھ اچھا ، بے شک ، ہر چیز پر تجھے طاقت ہے۔

     "تم رات کو دن کو حاصل کرتے ہو ، اور دن کو رات کو حاصل کرتے ہو ، تم زندہ کو مردہ سے نکالتے ہو ، اور تم مردہ کو زندہ سے نکالتے ہو ، اور جس کو چاہو رزق دیتے ہو۔  پیمائش. ”

     آل عمران-3: 26-27۔

     جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔  وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

     آل عمران-3: 129۔

     اگر اللہ آپ کی مدد کرتا ہے تو کوئی بھی آپ پر غالب نہیں آ سکتا: اگر وہ آپ کو چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو آپ کی مدد کر سکے؟  اللہ پر تو ایمان والوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

     آل عمران-3: 160

     آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کی ہے۔  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

     آل عمران-3: 189

     اے بنی نوع انسان!  اپنے سرپرست رب کی تعظیم کریں جس نے آپ کو ایک ہی شخص سے پیدا کیا ، فطرت کی طرح پیدا کیا ، اس کا ساتھی اور ان میں سے بیشمار مرد اور عورتیں بکھرے ہوئے (بیجوں کی طرح)؛  اللہ سے ڈرو ، جس سے تم اپنے باہمی حقوق مانگتے ہو اور (رحم کرو) رحموں سے (جو تمہیں جنم دیتا ہے) کیونکہ اللہ تم پر نگاہ رکھتا ہے۔

     النساء – 4: 1۔

     اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو برائی کرتے ہیں ، نادانی میں اور جلد ہی توبہ کرتے ہیں۔  ان پر ، اللہ رحم کرے گا  کیونکہ اللہ علم اور حکمت سے بھرا ہوا ہے۔

     النساء – 4:17۔

     اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔  اللہ دوست کے طور پر کافی ہے اور اللہ مددگار کے طور پر کافی ہے۔

     النساء – 4:45۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے؟  وہ جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

    Twitter

    @RizwanANA97

  • حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر کسی ملک کی حکومت کا نہ تو کوئی کنٹرول ہوتا ہے اور نہ بس چلتا ہے۔ مثلاً سونا۔ پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ تیل کمپنیاں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیئں کہ ہم سے ادھار میں تیل لے لیں اور جب جی چاہے پیسے دے دیں۔ اس سہولت سے بہت سے ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح وہ بھی دور تھا۔ جب پاکستان میں سونا 6 ہزار روپے تولہ بھی تھا۔ ڈالر 40 روپے کے برابر بھی پاکستان میں رہا ہے۔ مگر پچھلے چند سالوں سے یہ تینوں چیزیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ سونا تو اب ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اور متوسط اور غریب لوگوں نے سونے کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی کی شدید ترین لہر آ چکی ہے۔ اور پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ اور اس مہنگائی کا شکار ہے وجہ اس کی سونے کی بڑھتی قیمت ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کا اوپر جانا ہو۔ ڈالر کی اڑان ہو۔ یا کرونا وائرس کے اثرات۔ مگر مہنگائی 90 درجے کے زاویے کے ساتھ اوپر جا رہی ہے۔ مہنگائی سے دنیا کے سبھی  ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ مگر پاکستان میں اس کا رونا پیٹنا سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ تو دیگر ممالک میں زیادہ ردعمل کیوں نہیں دیکھا جارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے ان ممالک نے اپنے عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لئے سبسڈی دی ہے لوگوں کے دکھوں میں وہ حکومتیں شریک ہوئی ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے اپنے اداروں کو مضبوط کر کے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن  لیے ہیں لوگوں کو براہ راست امداد فراہم کرکے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ ان ممالک نے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر مشترکہ کوشش کر کے اپنے عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر بھی ملے کہ حکومت اپنے عوام سے مخلص ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر تمام ملبہ ڈالر۔ سونے پٹرولیم۔ اور درآمدات پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور عوامی ریلیف سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جنگل کا قانون تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا جب جو جی چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اب تو روزانہ کی بنیاد پر من مانے ریٹ بڑھائے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پاکستانی عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ حکومت کی ساری کی ساری توجہ اپوزیشن کو دبانے میں مرکوز ہے۔ بھرپور کوشش جاری ہے کہ کسی بھی طرح پانچ سال پورے کئے جائیں۔ ملک چاہے دس سال پیچھے چلا جائے اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ جب عوام سے توجہ ہٹ جائے اور معاملہ ذات کی طرف چلا جائے تو بربادی کا ایک طوفان آ تا ہے اور سب کو بہا لے جاتا ہے۔ عملی طور پر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وزراء کے جاہلانہ بیانات نے اس حکومت کی غیر سنجیدگی کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ بات بڑے آ رام سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں حکومتی مہنگائی زیادہ اور دنیاوی مہنگائی کم ہے۔

    @joinwsharif7

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت یا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کو بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نہ صرف دیکھتے ہیں۔ بلکے بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان ٹیموں کے درمیان سیریز یا کسی بھی ایونٹس کے  میچز ہوں گے۔ خاص کر پاک بھارت کرکٹ میچ کا دونوں ہی ملکوں کی عوام کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کافی کشیدہ رہتے ہیں۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز کافی عرصہ سے نہیں ہو پا رہی۔ اس وجہ سے بھی دونوں اطراف کی عوام کو بڑی بے چینی سے ورلڈ کپ یا کسی بھی آئی سی سی ایونٹس کا انتظار رہتا ہے جہاں دو روایتی حریف آپس میں مد مقابل ہوں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں چند دن باقی ہیں پاکستان کا پہلا مقابلہ24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت سےہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ میں بےقراری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ٹیم کو خوب ڈیفنڈ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جب بھی ٹی وی توڑنے اور پٹاخے پھوڑنے کی بازگشت شروع ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل مزاحیہ میمز اور تشہیری مہمات کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میچوں پر اشتہار بھی بنا چکے ہیں۔ جس میں سب سے سرفہرست ہے "موقع موقع” جو انڈین چینلز پر ہر آئی سی سی کے ایونٹس میں پاک بھارت کرکٹ میچ سے قبل چلایا جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ جسے انڈیا میں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اور پاکستانی عوام کا ردعمل کافی غصے والا ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہی اشتہار انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جیسے دسمبر 2012 میں انڈین چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جاتا تھا جس میں کہا جاتا تھا "پاکستان ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز کھیلنے آرہا ہے” تو اس اشتہار میں چند بھارتی کھلاڑی یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے "کہ آنے دو” ۔ جب اس سیریز کا آغاز ہوا تو انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اپنی ہی سر زمین پر اپنے کراؤڈ کے سامنے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں پاکستان سے شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ پاکستانی باؤلرز نے  انڈیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔ اور پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی خوب جم کر انڈین باؤلرز کی دھولائی کی۔ 

     اس میں کو شک نہیں کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر چمپیئن ٹرافی 2017 میں بھی یہی صورتحال تھی پہلے میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس کی بعد پاکستانی ٹیم نے بقیہ میچز میں  اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اور فائنل میں ایک بار پھر مقابلہ آیا روایتی حریف بھارت کے ساتھ۔ مگر اس بار بھارت کو تاریخ ساز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ٹیم کا وطن واپسی پر کراچی ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کا استقبال کرنے موجود تھے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہاتھ میں ٹرافی تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے موقع موقع گا کر پاکستانی شائقین کے دل بھی جیت لیے تھے۔ مقابلے سے پہلے ہی لفظی مقابلے شروع ہو جاتےہیں جو کافی انٹرسٹڈ ہوتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم کافی پر اعتماد لگ رہی ہے۔ مگر اس سے پہلے تو ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کو شکست کا سامنا رہا ہے۔ انشاء اللہ اس بار امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ 

     یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے کافی سازگار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان یو اے ای میں  بہت ساری اپنی ہوم سیریز کھیل چکا ہے۔  جس سے  کنڈیشنز  کی واقفیت پاکستان کے لیے پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس بار بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دل اور ٹی وی سرحد کے کس پار ٹوٹیں گے۔ اکثر اوقات پاکستان اور انڈیا کے میچز کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر سرحد کی ایک طرف جیتنے والی ٹیم کے فینز جشن منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والی ٹیم کے شائقین ٹی وی توڑ کر غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ میری طرح ہر پاکستانی اس بار ٹیم پر کافی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر پاکستانی کی یہی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ خاص کر انڈیا سے۔ ۔ ۔

    Follow on Twitter@786Rajanaeem

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:

    بلاگنگ بھی آن لائن پیسے کمانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔  ورڈپریس یا بلاگر کی
    مدد سے ایک ویب سائیٹ یا بلاگ بنائیں، اس پرعمدہ اور مفید مواد شائع کریں، پھر
    Monetization کے ذریعہ جیسا کہ گوگل ایڈسینس، پیسے کمانے کا آغاز کریں۔ اس کے
    لیےضروری ہے کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہو۔

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے اور
    یوٹیوب پر ایک لمحے میں سالوں کے برابرویڈیوز دیکھی اور اپلوڈ کی جارہی ہیں۔ آپ
     YouTube پر جائیں اور اپنا چینل بنا لیں۔ اور جب آپ کا چینل مونیٹایز ہونا
    شروعہوجائے تو ایڈسینس کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں
     یوٹیوب چینل موجود ہیں۔ اگر آپ کیمرے کےسامنے آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ
    ٹیوٹوریل ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔

    اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو آپ ایک عدد ویب سائٹ بنا کر آن لائن کاروبار
     کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔ آپ جو چیزیں دکان پربیچ رہے ہیں ان کو آن لائن بھی
    بیچ سکتے ہیں۔ shopify پر آپ اپنا آن لائن سٹور کھول سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس آن لائن کاروبار میں بیچنے کے لیے سرمایہ محدود ہے تو آپ ڈراپ
    شپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ اپنی ویبسائٹ پر دوسری سائٹس سے لے کر تصویریں
     لگاتے ہیں اور آرڈر ملنے پر اسی ویب سائٹ سے وہ پراڈکٹ لے لیتے ہیں۔ ڈراپشپنگ
    کے لیے علی بابا سب سے مشہور سائٹ ہے۔

    آپ ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس پر مختلف کورسز بیچے جاسکتے ہیں۔ اس
     وقت یوٹیوب اور ورڈپریس پر بہت سےلوگ آن لائن کورسز کروا کر خوب پیسے کما رہے
    ہیں۔

    ہماری نوجوان نسل سارا دن سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرتی رہتی ہے۔ اگر وہ
    اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اچھے طریقےسے استعمال کریں تو سوشل میڈیا کے
    ذریعے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ فیس بک پر اپنا پیج بنا کر اس پر بہترین
    مواد شائع کریں۔جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے گی تو آپ کو اشتہارات بھی
    ملنا شروع ہو جائیں گے۔

    فیس بک پر بہت سے ایسے فری لانسنگ گروپ ہیں جہاں مختلف لوگ وقتا فوقتا مختلف
    جابز کے لیے پوسٹ لگاتے رہتے ہیں۔آپ گرافک ڈیزائنر ہیں یا ٹائپنگ کے ماہر یا
    لکھنا جانتے ہیں، اپنی مہارت کے مطابق پوسٹ پر اپلائی کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔

    ٹویٹر کے ذریعے بھی آپ اپنے کاروبار کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ صارفین کو نئی
    پراڈکٹس اور آفر سےمتعلق ٹویٹ کر کے اپنے کاروبار کووسعت دے سکتے ہیں۔

    اسکے علاوہ آن لائن فارم بھرنا، ویڈیو ایڈیٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ،  White board
    animation ، ایڈ پوسٹنگ،  ڈیٹا انٹری غرض آن لائنپیسے کمانے کے بیش بہا طریقے
    ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی کام میں مہارت نہیں رکھتے تو پریشانی کی کوئی
    بات نہیں۔انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ مفت یا معمولی رقم کے عوض یہ تمام کورسز کروا
    رہے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنی دلچسپی کا کوئی بھی ہنرسیکھنے کا آغاز کریں۔ ایسے
    بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں سے لاکھوں افراد سیکھ کر نہ صرف برسر روزگار
    ہو گئے ہیں بلکہ اپنیذاتی کمپنیاں بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر
    رہے ہیں۔

    ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس میں
    مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ آپ وقتیطور پر کچھ کام حاصل کرنے میں تو کامیاب
     ہو جائیں گے، لیکن طویل مدت تک آپ بغیر مہارت کے پیسے نہیں کما سکیں گے۔
    انٹرنیٹ پر پیسے کمانا بھی کہیں نوکری کرنے کی طرح ہے۔ جس طرح نوکری میں ابتدا
    میں آپ کو کم معاوضے کے عوض کام کرنا پڑتاہے لیکن اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو
    آپ پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ابتدا میں
    کامحاصل کرنے اور خود کو منوانے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایک وقت تھا
    کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعےپیسے کمانے کا لالچ دے کر لوگ
    دوسروں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  جیسے دوسرے کاموں میں دھوکے کا
    امکان ہوتاہے اسی طرح یہاں  بھی مختلف قسم کے دھوکے باز موجود ہیں۔ لیکن وقت
    اور تجربے سے انسان سیکھ جاتا ہے کہ ایسے دھوکےبازوں اور فراڈ لوگوں سے کیسے
    بچا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان پانچویں
     نمبر پر ہے۔ہماری نوجوان نسل تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمہ
    داری ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پیسے کمائیں بلکہبہترین کارکردگی دکھا کر دنیا
    بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔

    ختم شد

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political

    Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز پوری دنیا کا ایک مسئلہ ہے جسے کاؤنٹر کرنے کے لئے ہر ملک میں کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، ایسے عناصر جو جعلی خبریں چلاتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ سازشیں ایسی ہوتی ہیں جس میں فیک نیوز پھیلانے والے عناصر یا تو جعلی اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

     دنیا میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو مس انفارمیشن پھیلا کر دوسرے ملکوں کو ڈی سٹیبلائزر کرتے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال بھارت کا وہ نیٹ ورک تھا جو فیک ناموں سے بیرونی ملک بیٹھ کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے تاکہ مغربی ممالک پاکستان پر پابندیاں لگا سکیں۔

    یورپی یونین میں فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پر کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال قوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق جھوٹی من گھڑت ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔

    یورپی یونین کے اس تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈس انفارمیشن پھیلانے والے ان اداروں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ یہ تحقیقات اتنی وسیع ہیں کہ اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز، بڑے پیمانے پر فیک نیوز پھیلانے والی ویب سائٹس اور ان سے جڑی شخصیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ 

    اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنا اور بھارت کا نیریٹیو کو بڑھاوا دینا تھا۔ اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ یہ ڈس انفارمیشن اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے تھے کے بظاہر ایسا لگے گا جیسے جو موقف پیش کیا جا رہا ہے اس کو ایک بہت بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے این جی اوز کا استعمال کیا گیا جن کا کام انسانوں کی خدمت نہیں بلک پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور خطرناک پراپیگنڈے کو مغربی ممالک میں پذیرائی دینا تھا۔

    اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مقصد کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جو تجارتی مراعات "جی ایس ٹی پلس” کی صورت میں دی جا رہی ہیں ان کو روکنا تھا۔

    پاکستان نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کے وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی پر سخت نوٹس لے۔

    اسی طرح کا پراپوگنڈا اندرونی سطح پر بھی کیا جاتا ہے کچھ ایسے صحافی جن کا کام دن رات جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک کے امیج کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنا ہے۔ اگر ایسے صحافیوں کو انہی کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں پر محاسبہ کیا جائے تو یہ آزاد صحافت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

    عمران خان کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے فیک نیوز پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دن رات ایسی جھوٹی من گھڑت کہانیاں چھاپی گی جن کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے ایسے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت پر تبصرے کرتے دیکھا گیا جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیا ہم اسے محض صحافتی بد دیانتی کہیں یا ملک دشمنی؟

    لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صاف دامن صحافی بھی موجود ہیں جن کے قلم کی روشنی سے صحافت کا مان زندہ ہے۔ اور ایسے صحافیوں کو حکومت اور عوام کی طرف سے سہرایا بھی جاتا ہے۔ 

    ضرورت کی چیز کی ہے کہ اب ہمیں بھی پاکستان میں ایک ایسا صحافتی رول آف بزنس بنانا ہوگا جس سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے ایسے عناصر جو بیرونی ایجنڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں سخت قانون سازی سے قانون کی گرفت میں لایا جا سکے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آزاد صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔

    تمام صحافتی ادارے آیا وہ پرنٹ میڈیا سے ہے یا ڈیجیٹل میڈیا سے انہیں مل بیٹھ کر حکومت کے ساتھ مخلصانہ لائے عمل ترتیب دینا ہوگا جس سے آنے والی نسلیں صحافت کے اس مقدس فریضے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • تصویریں تحریر۔محمد نسیم

    فیس بک پر کسی کی کیمرے سے کھنچی گئ تصویریں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ادوارِ ماضی کے وہ لمحات یاد آگئے جب کیمرے کی ایجاد ہماری زندگی میں آئی. آج کی نسل جو اینڈرئڈ موبائل سے مستفید ہورہی ہے اور اس کے استعمال میں اتنی ماہر ہے کہ وقتِ مشکل ہم بڑوں کو بھی اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑ جاتی ہے شائد اس دلچسپ تجربے سے ناآشنا ہے
    ہمارے معاشرے میں کیمرا عمومی طور پر 80 کی دہائی میں وارد ہوا اس سے پہلے یہ کام فوٹو سٹوڈیو تک محدود
    تھا
    اس کیمرے کا استعمال جب فوٹو گرافر سے عام شہری تک آیا تو دلچسپ واقعات رونما ہوتے تھے مثلاً کیمرے کو چلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے فرد کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اندھوں میں کانا راجہ ہوتا کیمرے میں فلم ڈلوانا بھی ایک احتیاط طلب کام تھا فوٹو گرافر تاکید کرتا تھا کہ فلم کو رشنی نہ لگنے پائے ورنہ تصویرں ضائع ہوجائیں گی. تصویرکشی کے بھی انوکھے واقعات ہوتے خاص طور پر خواتین اس کے لئے پہلے سےخاص زرق برق لباس اور بناؤسنگھار کا اہتمام کرتیں اور یہ مفروضہ بھی عام تھا کہ میلے کچیلے کپڑوں میں تصویر صاف آتی ہے فوٹو سیشن کے وقت انوکھے پوز بنائے جاتے 36 تصویروں کی فلم کا کیمرے سے دھیان لگایا جاتا کے کتنی تصویریں باقی رہ گئی ہیں یہ فوٹو سیشن مختلف مراحل میں مکمل ہوتا. ساتھ میں فوٹو گرافر کی تاکید ہوتی کہ زیادہ دیر کیمرے میں فلم رہنے سے فلم ضائع ہوجائے گی چناںچہ اس خوف کے باعث تصویریں اتروانے کاکام جلد از جلد کم و بیش ایک ہفتے سے بھی پہلے مکمل کرلیا جاتا
    تصویریں صاف کروانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فوٹو گرافر سے رجوع کیاجاتا اور فی کس تصویر دلھوائی کا ریٹ طے ہوتا فوٹو گرافر ایک نیم تاریک کمرے میں جا کر کیمرے سے فلم نکال کر کیمرا واپس کرتا اور تصویروں کی دھلوائی کا رسید کی صورت میں وقت دیتااور اس مقررہ وقت کا بڑی بیتابی سے انتظار ہوتا اپنے آپ کو رنگیں تصویر میں دیکھنےکا ہرکسی کو شوق ہوتا
    تصویروں کی دھلوئی پر فوٹو گرفر البم فری میں دیتا جس کی خوشی الگ ہوتی 36 کی فلم میں چند تصویریں لازم ضائع بھی ہوتیں اپنی تصویروں کو دیکھنے کا بھی عجب تجربہ ہوتا تصویروں کو دیکھنےپر مختلف لطیفے دیکھنے کو ملتے مثلاً تصویر بنوانے والے نے خوبصورت پوز بنایا ہے لیکن فلش لائٹ کے باعث آنکھیں بند بعض اوقات اناڑی کیمرامین کسی کی تصویر لیتے وقت اس کے پاؤں یا فرش کو ہی فوکس کرگیا گروپ فوٹو کی صورت میں میلوں دور سے تصویر لی جاتی جس کو بائو سکوپ کے بغیر دیکھنا ممکن نہ ہوتا
    وہ خواتین و حضرات جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے کے وہ بہت حسین وجمیل ہیں اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہوتے ایک ایک تصویر کو بار بار دیکھا جاتا اور اس پر تبصرہ کیا جاتابعض تصاویر کو سیدھے اینگل سے دیکھنے کے کئے دیکھنے والے کو اپنی گردن کا اینگل الٹا کرنا پڑتاغرض آج کی انڈرئیڈ یوزرجنریشن اس پرلطف تجر بے کو کیا جانے

    @Naseem_Khera

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ اول:

    گھر سے باہر ہوں یا خاندان کی کسی محفل میں ہر کوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے
    پریشان نظر آتا ہے۔ ٹیلیویژن دیکھو تو بجلی، گیس،اشیائے خورد و نوش اور پٹرول
    کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سن سن کر پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے
    میں یہ باتسمجھ سے باہر ہے کہ محدود آمدنی میں کس طرح گزارا کیا جائے؟ خاص طور
    پر اعلی تعلیم کے خواہش مند طلبا کے لیے اپنی تعلیم کےاخراجات برداشت کرنا نا
    ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہو گا۔
    جس طرح پڑھتے ہوئے اپنےسوالات کا جواب حاصل کرنا ہو،  یا سفر کے دوران راستہ
    معلوم کرنا ہو، اپنوں سے رابطہ کرنا ہو یا دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنیہو،
    ایک بٹن دبا کر انٹرنیٹ کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اسی طرح
    مہنگائی اور بیروزگاری کا حل بھی انٹرنیٹمیں موجود ہے۔

    اگرچہ اولین طور پر انٹرنیٹ عسکری مقاصد کے لیے ایجاد کیا گیا، اور پھر سائنس
    دانوں کے مابین رابطے کے لیے اس کا استعمالوسیع پیمانے پر شروع ہو گیا۔ تین
    دہائی قبل جب اس کا استعمال عام ہونا شروع ہوا تو زیادہ تر لوگ اس کو معلومات
    حاصل کرنےاور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس وقت
    کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کو عالمی گاؤں میںتبدیل کرنے والی یہ
    ٹیکنالوجی ایک عالمی منڈی بھی بن جائے گی۔ اور دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں
     کا ایسا ذریعہ آمدن بنجائے گا جس سے لوگ ہر روز لاکھوں ڈالر کما سکیں گے۔ یہ
    مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انٹرنیٹ نے دنیا کو عالمی گاؤںبنا کر نہ
    صرف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک مارکیٹ بنا
    دیا ہے۔ آپ نے پالتو بلی خریدنی ہو یااپنی گاڑی بیچنی ہو انٹرنیٹ کے ذریعے یہ
    تمام کام ممکن ہیں۔ آپ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی میں
     ملازمت کرکے پیسے کما سکتے ہیں۔

    اگر انٹرنیٹ کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس پر پیسے کمانے کے اتنے
    طریقے ہیں جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ موجودہدور میں بھی اگر کوئی بے روزگاری کا
    رونا روتے نظر آتا ہے تو اس کی وجہ  کم علمی یا ذاتی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ ورنہ
    انٹرنیٹ پر پیسےکمانے کے ان گنت طریقے اور مواقع موجود ہیں۔  کرونا کے بعد پوری
     دنیا میں جس قدر بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہےایسے میں ضروری ہے کہ
     مختلف طریقوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ چنانچہ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے
     کمانا ایک بہترین طریقہہے جس میں آپ بغیر سرمائے یا بہت محدود سرمائے سے نہ
    صرف اپنی  آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اگر آپ کے اندر جستجو اورمستقل
    مزاجی ہے تو آپ لاکھوں روپے ماہانہ بھی کما سکتے ہیں۔

    اگر آپ اچھے لکھاری ہیں، گرافک ڈیزائنر ہیں یا ویب ڈویلپمنٹ جانتے ہیں، سرچ
    انجن آپٹیمائزیشن یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا کام کرسکتے ہیں یا ویڈیو ایڈیٹنگ
    میں مہارت رکھتے ہیں تو فری لانسنگ بہترین ذریعہ معاش ہے۔ اس وقت پوری دنیا
    بشمول پاکستان میں بےشمار افراد فری لانسنگ کے ذریعے کمائی کر رہے ہیں۔

    فری لانسنگ کے آغاز میں آپ مختلف فری لانسنگ ویب سائٹس جیسے  فری لانسر،
    فائیور، پی پی ایچ ،اپ ورک وغیرہ  پر اپنا اکاؤنٹبنائیں۔ ان ویب سائیٹس پرمختلف
     اقسام کے پراجیکٹ شائع ہوتے رہتے ہیں، ان پر اپلائی کریں جب کام مل جائے تو
    خوب محنتاور دلجمعی سے کام کریں۔ آپ پر آہستہ آہستہ ترقی کے دروازے کھلنا شروع
    ہو جائیں گے۔

    اگر آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے یا پھر آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لیے
    ابتدائی سرمایہ موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھمارکیٹنگ سے بھی دلچسپی ہے تو ایفی لی
     ایٹ مارکیٹنگ ایک بہترین آن لائن کاروبار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کاروباری ماڈل
    میں آپنےدوسروں کی  Physical یا Digital پراڈکسٹس بکوانے میں ان کی مدد کرنا
    ہوتی ہے۔ ہر پراڈکٹ جو آپ کے توسط سے بِکتی ہے اسپر آپ کو کمیشن دیا جاتا ہے۔
     Physical پراڈکٹس کے لیے Amazon بہترین ہے،  ڈیجیٹل پراڈکٹس کے لیے آپ اپنی
    ویب سائیٹکے موضوع کو مدِنظر رکھتے ہوئے ای بک، کورس، سروس کچھ بھی بیچ سکتے
    ہیں۔اس وقت پاکستان میں بے شمار افراد اس بزنسماڈل کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

    جاری ہے ۔۔۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں   تحریر: ظفر ڈار

    میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں  تحریر: ظفر ڈار

    جب دنیا کفر و ضلالت کے عمیق اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، معاشرتی پستی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے تھے۔ الغرض ساری دنیا اخلاقی طور پر بے حالی کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسے میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور ربیع الاول کے مہینے میں اس آفتاب کا ظہور ہوا جس نے دنیائے عرب تو کیا عالم آب و گل کو اپنی کرنوں سے منور کر دیا۔ خانہ کعبہ میں پڑے بت منہ کے بل گر پڑے، نوشیروان کے محل کے کنگرے سجدہ ریز ہو گئے اور کلیساؤں میں خوف کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آمنہ بی بی کے گلشن میں بہار آ گئی اور حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا اس دنیا میں آنا اللہ تعالٰی کا انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ آپ کو نہ صرف اس دنیا بلکہ پوری کائنات اور سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

    آپ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی لوگوں نے معجزات دیکھنے شروع کر دیے اور عیسائی اور یہودی عالموں نے پیشن گوئی کر دی کہ نبی آخرالزماں تشریف لا چکے ہیں۔ آپ خود یتیم پیدا ہوئے لیکن دنیا بھر کے یتیموں کے لیے سایہ رحمت بنے۔ 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو عمر میں آپ سے بڑی تھیں۔ 40 برس کی عمر میں جب نبوت کے اعلان کا حکم ہوا تو لوگ آپ کی شرافت اور ایمانداری کے گن گاتے تھے اور صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔

    اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو عرب قبائل کے سرداروں اور امراء نے شدید مخالفت کی اور صرف چند لوگ ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی شدید مخالفت کے باعث آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور جان سے مارنے کی کئی کوششیں ہوئیں جنہیں قدرت الہیہ نے ناکام کیا اور بالآخر آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔

    مدینہ شریف میں آپ نے پہلے مسجد قبا اور بعد ازاں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ بہترین اخلاق کے مالک ہیں اور آپ کی حیات ظاہری کا ہر پہلو بے مثال ہے۔ آپ شوہر ہیں تو ایسے کہ بیوی کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹاتے اور ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں لا ثانی۔ آپ باپ ہیں تو اولاد کے ساتھ محبت کو نیا رخ دینے والے، صاحبزادی تشریف لاتیں تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور اپنی چادر بچھا کے بٹھاتے۔ دوست ہیں تو ایسے کہ سب صحابی آپ کی خاطر اپنے اور اپنے ماں باپ کو فدا کرنے پر تیار رہتے۔ مہمان نواز ایسے کہ گھر میں جو دستیاب ہوتا، مہمان کے آگے رکھ دیتے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہیں تو اس طرح کہ ساری کائنات کے مالک ہیں لیکن کچے گھر میں رہتے ہیں، نہ پہننے کا عالیشان لباس اور نہ کھانے کو پر تعیش کھانے۔ جو کی روٹی ، کھجور، شہد اور دودھ پر گزارا کرنے والے۔۔۔

    غریبوں،  یتیموں اور مساکین کی داد رسی میں کوئی مقابل نہیں۔ الغرض چونکہ آپ انسانیت کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اس لئے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے لئے مثال بنا دیا کہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل کر کے کامیاب ہو جائیں۔

    آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے عملی نمونہ ہے۔ راہ حق میں لوگوں سے پتھر کھائے، جسم اطہر لہو لہان ہو گیا، جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی آپ حکم دیں تو طائف کے پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کر تباہ کر دیں لیکن آپ نے بدعا بھی نہیں دی اور فرمایا میرے رب نے مجھے رحمت بنا کے بھیجا۔

    قیامت کے دن شفاعت کے والی ہیں لیکن اتنے عبادت گزار کہ اصحاب بھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں، اور خوف خدا کا یہ عالم کہ تیز ہوا چلے تو بھی اللہ کے حضور سجدے میں گر جائیں اور رحم طلب کریں۔

    گفتگو ایسی کہ ایک ایک لفظ واضح اور صاف تاکہ ہر کسی کو سمجھ میں آ جائے، عفو و درگزر کا یہ عالم کہ جس نے چچا کا کلیجہ چبا لیا تھا اس کو بھی معاف کر دیا۔

    گویا انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں ہمارے لئے راہنمائی نہ فرمائی ہو۔

    اللہ رب العزت کے اتنے محبوب کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میری نبی پر درود وسلام بھیجو۔ کہیں رب فرماتا ہے کہ میرے محبوب کی اطاعت کرو، میرے حبیب کے سامنے اونچی آواز میں گفتگو بھی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کے امتی ہیں جن کی شفاعت کے انبیاء بھی سوالی ہیں۔ ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے تابع کرتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سے اقوام عالم کی حاکمیت چھن گئی اور دنیا بھر میں رسوائی ہمارا مقدر بن گئی۔

    ربیع الاول کے اس مہینے میں ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ان تمام اعمال و افعال سے بچنے کی ضرورت ہے جو اسوہ حسنہ کے منافی ہیں۔ ولادت کا جشن منائیں، خوشیاں منائیں لیکن ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سنت نبوی کا تقدس پامال ہوتا ہو۔

    تحریر: ظفر ڈار 

    ظفریات

    @Zafar Dar 

  • پاکستان کے وہ عالمی ریکارڈز جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا تحریر: فہد احمد خان

    ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس

    کسی بھی حادثے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سب سے پہلے پہنچتی ہے، گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس قرار دیا ہے۔ اور یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔

    ایدھی ایمبولینس سروس ابتدائی طور پر ایک سیکنڈ ہینڈ ہل مین پک اپ ٹرک کو شامل کرکے شروع کی گئی تھی اور اسے پہلی ایمبولینس کے طور پر بحال کیا گیا تھا، اس طرح "غریب مریض ایمبولینس” کی تشکیل کی گئی تھی۔ اب ساٹھ سال بعد، ایدھی ایمبولینس دنیا میں ایمبولینسوں کے سب سے بڑے بیڑے کے مرحلے پر پہنچ گئی ہے، اس طرح یہ سروس ہمارے ملک پاکستان میں 1800 گاڑیوں جیسی ایمبولینسوں کی ایک بڑی تعداد فراہم کر رہی ہے۔

    ایدھی ایئر ایمبولینس سروس کے پاس 2 ہوائی جہاز اور 1 ہیلی کاپٹر ہیں جو قدرتی آفات کے دوران امداد اور مدد فراہم کرتے ہیں ، کسی بھی متوقع قدرتی تباہی کے دوران ، پھنسے ہوئے یا زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہوائی جہاز کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی

    سوات کی ملالہ یوسف زئی کو دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبیل انعام ملا، 2014 میں جب انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تو ان کی عمر صرف سترہ برس تھی، طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کی تعریف ان ایوارڈز سے نہیں ہوتی جو انہوں نے جیتے تھے اور نہ ہی بندوق کی گولی سے وہ بچ گئی تھی۔ اس نے یکساں تعلیم کے کام کی زندگی کے لیے اپنی بے لوث عقیدت اور امن ، مساوات اور تعلیم کے لیے لڑنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے میں اپنے فراخدلانہ اقدامات کے ذریعے ہیرو کا خطاب حاصل کیا ہے۔

    ملالہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ چاہے رکاوٹیں کوئی بھی ہوں، چاہے وہ معاشی ہوں، ثقافتی ہوں یا سماجی۔ ہر ایک کو انسانی تعلیم کے طور پر معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے۔

    جہانگیر خان

    اسکواش کی تاریخ جہانگیر خان کے بغیر ادھوری ہے۔ اس پاکستانی سپر اسٹار کو یہ عالمی اعزاز حاصل ہے کہ وہ چیمپئن شپ مسلسل آٹھ چیزیں پانچ سال تک اسکواش کے میدانوں میں ناقابل شکست رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے 555 میچ جیتے اور یہ اعزاز اب تک پاکستان اور جہانگیر خان سے کوئی نئی چھین سکا۔

    جہانگیر خان- سکواش کا بادشاہ اسکواش ایک تیز رفتار ریکٹ کھیل سمجھا جاتا ہے۔ 18 ویں صدی میں انگلینڈ میں ایجاد ہوا ، یہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ جہانگیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں پوری دنیا میں کنگ آف اسکواش یعنی اسکواش کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔

    نصرت فتح علی خان

    دنیائے قوالی میں نصرت فتح علی خاں کو تاریخ کا سب سے بڑا اقوال مانا جاتا ہے۔ جنہوں نے قوالی کے 125 البم ریکارڈ کرائے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اُن کا یہ عالمی ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ان کے اثرات کی وجہ سے انہیں 2017 میں برمنگھم میں بی بی سی میوزک ڈے بلیو تختی سے نوازا گیا… وہ بین الاقوامی سامعین کے لیے قوالی موسیقی کو متعارف کرانے کا وسیع پیمانے پر کریڈٹ ہے ، اور اسے ‘مشرق کا ایلوس’ بھی کہا جاتا ہے۔

    عرفہ کریم رنھاوا

     پاکستان کی عرفہ کریم رندھاوا نے صرف 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کیا۔ اتنی کم عمری میں آج تک دنیا بھر میں کوئی شخص یہ ریکارڈ نہیں بنا سکا افسوس کہ انسانیت کا یہ ذہین سرمایہ لمبی عمر نہ پا سکا 2012 میں جب وہ صرف 17 سال کی تھی موت کی وادی میں جا کر سوگئی۔ یہ جان کر دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو غمزدہ کردیا۔ 

    عرفہ نے پاکستان کے عام شہریوں کے لیے صحت، تعلیم، اور ایک علیحدہ آئی ٹی شہر جیسے بہت بڑے خواب دیکھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے فاطمہ جناح گولڈ میڈل حاصل کیا اور انہیں صدر پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 

    شعیب اختر

    راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو کون نہیں جانتا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی اور یہ ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    کورونا ایک ایسی جان لیوا بیماری جس نے دنیا کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا.

    دنیا اب اس کورونا جیسی موزی مرض سے واقف تو ہو ہی چکی جس نے دنیا کا نظام ہی بدل کر رکھ دیا یہ ایسی بیماری کے جو پھیلنے والی ہے اور ہاتھ ملانے سے تک بھی پھیلتی ہے پاکستان بھی اس کا شکار بنا اور ہماری کمزور معیشت کو مزید تباہ کر گیا اس کے روک تھام اور آگاہی پھیلانے کے لئے ریاست اور حکومت پاکستان نے بہترین حکمت عملی بنائی اور اسے لاگو بھی کروایا عوام پر زور دیا گیا کے وہ اپنی کورونا ویکسین لگوائیں کسی ایک جگہ رش نا ڈالیں گھروں میں رہیں اور آج بھی سخت احتیاط کرنے کا کہا جا رہا ہے.

    شروع شروع میں بہت سے لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا مگر جیسے جیسے اس بیماری نے زور پکڑا تو عوام بھی کچھ سنجیدہ ہوئی.

    پاکستان میں جس وقت کورونا آیا تو سب سے زیادہ مسائل ان غریب دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کے لئے تھے جو روز کے کام کے پیسے لیتے ہیں جب کورونا آیا تو سب کام پر اثر پڑا ایسے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سب سے پہلے غریب طبقے کا سوچا کے اگر سخت لاک ڈاؤن کی طرف گئے تو ان کا گزر بسر یا گھر کا چولہا کیسے چلے گا اسہی لئے حکومت پاکستان نے ایسی پالیسی اور نظام مرتب کیا کے غریب طبقے جو نقصان نا پہنچے.

    ہمیں اس موزی مرض سے متعلق اپنے پڑوسی بھارت کو ہی دیکھ لینا چاہیے جہاں بہت برا حشر ہؤا حالات خراب ہوئے. لوگ آکسیجن سیلنڈرز کو ترسنے لگے اور بھارت میں شارٹیج ہو گئی آکسیجن سیوسیلنڈرز کی وہ مناظر خاکسار نے میڈیا پر دیکھے اسہی وجہ سے حکومت پاکستان نے اپنی عوام پر زور دیا کے خدارا احتیاط کریں اور لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کروانے کے لئے ریاست اور افواج پاکستان سے بھی مدد لی گئی.

    بھارت میں اتنے برے حالات تھے کے جس کے ہم سب گواہ ہیں اور ہم سب نے دعا کی اس بیماری سے جان چُھڑا.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت ریاست نے ہر طرح سے زور ڈالا کے احتیاط کریں ورنہ ہمارے سامنے بھارت کی مثال موجود تھی جہاں ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کے باعث ختم ہوگئے وہاں ہر جگہ انسانی لاشوں کا ڈھیر تھا لوگ آکسیجن کو ترس رہے تھے. وزیراعظم پاک مسلح افواج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی وزارت صحت نے مسلسل دن رات کام کیا اور پھر بین الاقوامی سطح پر مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کے کورونا کے خلاف اقدامات کی تعریف کی اور سراہا.

    کورونا کے خلاف اقدامات کا سہرا ریاست پاکستان حکومت پاکستان وزراء تمام ڈاکٹرز ہر کسی کو جاتا ہے اور عوام کو بھی کیونکہ زیادہ تر عوام نے بھی مثبت جواب دیا اور دی گئی ہدایت پر عمل کیا. 

    اس مرض سے روک تھام کے لئے پاکستان کے دوست ممالک نے بہت مدد کی چین نے حق ادا کیا اس سلسلے میں حکومت پر بہت بھاری زمہ داری عائد ہوئی اور یہ ایک سخت امتحان بھی تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے بھی اور ﷲ کا شکر ہے پاکستان پر اتنا گہرا اثر نہیں پڑا.

    حالات اب بھی بلکل ٹھیک نہیں بس احتیاط اور سخت احتیاط.

    حکومت کو تمام اداروں بشمول مسلح افواج سے بھی مدد لینا پڑی کیونکہ عوام پر سختی کی جانی تھی اور یہ بات بلکل درست ہے کے جب تک سختی نہیں ہوگی عوام ٹھیک بھی نہیں ہوتی.

    پاکستان نے کرونا کی روک تھام سے متعلق بہترین اقدامات کئے. اسکول کالجز یونیورسٹیوں میں شیڈول بنائے گئے تعلیمی ادارے کافی عرصے تک بند رہے ان لائن کلاسز جاری رہیں عید, بقرعید کے موقع پر لوگوں کو بارہا تاکید کی گئی کے گھروں میں رہیں اور باہر رش نا ڈالیں یہی وجوہات تھیں کے جس سے کرونا پھیل سکتا تھا.

    عوام پر سختی اسی لئے کی گئی کہ اگر رش ڈلے گا تو کورونا پھیلے گا بڑھے گا اس دوران بہت سے لوگ ایسے بھی دیکھے گئے جنھوں نے بات نہیں مانی اور اس کا شکار ہو کر ﷲ کو پیارے ہو گئے دراصل ہمارے ہاں لوگ کم ہی عمل کرتے اور سنتے ہیں. میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ لاہور کینٹ ایریا میں لوگ دوکانوں پر قطار اور کم از کم پانچ سے چھے قدم کے فاصلے پر عمل نہیں کرتے تھے پوکیس بھی بے بس تھی سمجھا سمجھا کر تھک جاتی تھی جیسے پاک فوج کے سپاہی کی گاڑی روٹین پر چیکنگ کرنے آتی تو سب سوئی کی طرح سیدھے ہو کر عمل کرنا شروع کر دیتے انسان پر جب تک سختی نہیں ہو گی عمل بھی نہیں کرے گا. 

    ﷲ تعالیٰ آئندہ بھی اس مرض سے پاکستان کو محفوظ رکھے آمین.

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد. 

    Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.