Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    مسلم سائنسدانوں کا حشر جو خود مسلمانوں نے کیا۔

    یعقوب الکندی
    فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے اور تماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔

    ابن رشد
    یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نےاس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت و گمنامی میں بسر کیے

    ابن سینا
    جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اور مرتد قرار دیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔

    زکریاالرازی
    عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان کو جھوٹا اور کافر قرار دیا گیا حاکم وقت نے حکم دیا کہ اس کی کتاب اس وقت تک اس کےسر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر اس طرح بار بار کتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے وہ اندھا ہو گیا اور باقی زندگی کبھی نہ دیکھ سکا۔

    خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن جو سب سے بڑی وجہ تھی وہ یہ تھی کہ کچھ مولویوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ توپ کے گولوں میں حرام میٹریل استعمال ہوتا ہے لہذا اس میٹریل کو بنانا تو دور کی بات اس کے قریب جانا بھی گناہ کبیرہ ہے ۔
    سرسید احمد خان نے دیکھا کہ برصغیر میں ہندو تعلیمی میدان میں باقی سب قوموں سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، ہر اسکول اور کالج میں
    ہندو اورمسلمان طالب علموں کا تناسب دس اور ایک کا ہے اور اگر کہیں پر دو چار مسلمان طلبا ہیں تو وہ بھی انگریزی کے قاعدے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ان دنوں والدین اور مولوی حضرات انگریزی زبان اور کتاب کو ہاتھ لگانا مکروہ قرار دے رہے تھے۔ ایسی صورتحال پر سر سید احمد خان کا ماتھا ٹھنکا اور انھوں نے مسلمان طلبا کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں ان پر انگریز کا پٹھو اور کافرہونے کے فتوے لگادیے گئے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں ہم اپنے بچوں کو سچ کیوں نہیں پڑھاتے ۔۔۔ ؟
    مسلمانوں جیسے جیسے غدار پچھلے ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
    جس طرح مسلمانوں نے اپنے طاقت کو زوال میں تبدیل کیا اور جیسے اپنے آپ کو تباہ کیا ۔
    آنے والی صدیوں میں لوگ حیرت کا اظہار کریں گے کہ ان مسلمانوں کا دین انہیں کیا کہتا تھا اور یہ کرتے کیا تھے ۔

    بدقسمتی سے ہم مسلمان خود اپنے اکابرین کے اس بیش بہا خزانے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ سلسلہ اب بھی اگر اسی طرح جاری رہا تو آنے والی دہائیوں اور صدیوں میں مسلم امہ اقوام عالم سے مزید پیچھے رہ جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواب غفلت سے نکلا جائے
    اور  اگر آگے بڑھنا ہے تو ایک قومی ایمرجنسی لگانی ہوگی تاکہ ہماری قوم اپنا سارا زور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی طرف لگائیں تاکہ غربت کے شکنجے سے آزاد ہوسکیں۔

    @A_IG68

  • ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    پاکستان کے بانی محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں واقع وزیرمینشن کے نام سے مشہورمکان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا ، اور والدہ مٹھی بائی تھیں ، وہ ایک مرچنٹ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک عظیم سیاست دان اور اپنے وقت کے ایک مشہور وکیل بھی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی، میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا اور بعدازاں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر لندن روانہ ہوگئے۔ محمد علی جناح نے 1895 میں لندن کی یونیورسٹی سے 19 برس کی عمر میں قانون کی ڈگری حاصل کرکے کم عمر ترین ہندوستانی قانون دان کا اعزاز حاصل کیا اور کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان واپس آکر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا جہاں ان کا شمار نامور وکلا میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہت جدوجہد کی اور اپنی غیر معمولی کاوشوں کی بدولت انہیں مولانا مظہرالدین نے "قائداعظم” کے لقب سے نوازا۔

    بیس سال کی عمر میں آپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں داخلہ لیا جب وہ برٹش انڈیا واپس آئے تو بار میں داخل ہونے والے وہ سب سے کم عمر شخص تھے ، جہاں انہوں نے قوم کے سیاسی امور میں دلچسپی لینا شروع کی اور اگلے تین سالوں میں مشہور ہوگئے۔ بمبئی کے ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں اپنے بار کے لئے کام کرنے کی دعوت دی اور چھ ماہ کے بعد 1500 روپے ماہانہ تنخواہ کی پیش کش کی ، جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی لیکن انہوں نے نرمی سے اس پیش کش سے انکار کردیا اور کہا کہ اس نے روزانہ 1500 کمانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اسے ثابت کردیا کہ اس کی بے عیب کوششوں سے مستقبل میں ممکن ہے۔ لیکن نئی ریاست پاکستان کے بطور گورنر جنرل ، انہوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ کے طور پر 1 روپیہ مقرر کیا۔ وہ عدل پسند آدمی اور سمجھدار شخصیت تھے۔

    جناح نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے 1906 میں کیا ، پھر سات سال بعد ، وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی لیکن ایک ہی وقت میں ، انہوں نے برصغیر میں نسلی مذہب کی ثقافت کو پایا اور محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمان انگریزوں کے تحت اپنے ثقافتی اور معاشرتی حقوق کی قربانی دے رہے ہیں۔پھر انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے اپنی کوششیں شروع کیں اور ایک آزاد ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا جہاں مسلمان آزادی کا سانس محسوس کرسکیں۔ سب سے بڑی طاقت اس آزادی میں تمام مسلمان تنظیموں کا اتحاد تھا ، اور یہ قائد اعظم کی قیادت ہے جو برصغیر کے تمام مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت رکھنے کے اسی ایجنڈے پر متحد کیا۔ پاکستان کا قیام ہزاروں آزادی پسندوں کے خون کے ساتھ ساتھ جناح کی قیادت کا نتیجہ ہے ، پاکستان ان کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا تھا۔

    وہ حق اور سچ کے سب سے بڑے ترجمان تھے، وہ ہمیشہ مخالفین کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہو جا تےتھے اور کبھی کسی بات کو ناممکن نہیں سمجھتے تھے ۔ گاندھی نے ان اصولوں کے عزم کے سبب انہیں "ناممکن آدمی” کہا۔ جناح نے کہا: "فیصلہ سنانے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار فیصلہ سنانے کے بعداس پر ڈٹ جاو ، اس فیصلے کے ساتھ ایک مضبوط آدمی کی طرح کھڑے ہو جاؤ
    1930 میں وہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کا غیر متنازعہ رہنما بن گئےاور مسلم لیگ کی قیادت کرنا شروع کردی۔ 1940 میں، مسلم لیگ نے مینار پاکستان لاہور میں قرارداد پاکستان کا مسودہ تیار کیا ، جو جنگ آزادی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ثابت ہوا ہے۔ قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد ، آپ نے دن رات محنت کی اور اپنی صحت کے بارے میں بھی فکر مند نہیں رہےجو دن بدن گرتی جارہی تھی ، لیکن آپ نے نے اسے خفیہ رکھا اور کبھی کسی کے سامنے اس کا انکشاف نہیں ہوں دیا ، ان کی قربانی اپنے مفاد کے لئے نہیں بلکہ پوری مسلم قوم کیلئے تھی۔ ان کی دانشمندانہ قیادت اور بھرپور کوشش کی وجہ سے ہی پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ وہ کئی سالوں سے تپ دق کے ساتھ برسرپیکار رہے لیکن اسے کبھی بھی اپنی کمزوری نہیں بنایا.

    قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے خواہاں تھے لیکن انھوں نے کشمیر کو ہندوستانی چنگل سے آزاد کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا عزم بھی کیا تھا، قائداعظم کے کشمیر کے تین دورں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کشمیر اور اس کی سیاست میں گہری دلچسپی تھی، قائداعظم اصولوں والے آدمی تھے۔ وہ پاکستان کے مشن پر اپنی ذمہ داری اور مستحکم یقین کے پیش نظر کامیاب ہوئے اور آج ہمیں بھی اسی عزم اور حوصلےکی ضرورت ہے۔ قائد کے وژن سے انحراف پاکستان کے استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ملک کو شدید چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی صورتحال نے قائداعظم محمد جناح کے ہر لفظ کو درست ثابت کیا۔ ایک سیاسی طور پرمتحد، معاشرتی طور پر ہم آہنگ اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان غیر قانونی بھارتی محکومیت سے کشمیر کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔ قائد اعظم کی کشمیریوں کے ساتھ وابستگی کی تکمیل ہوگی.

    فرمان قائداعظم ہےحب الوطنی لوگوں کو ملک و قوم کے مفاد کو محفوظ رکھنے کی طاقت اور ہمت دیتی ہے۔ حب الوطنی کے لئے ملک کی خودمختاری ، سالمیت اور وقار اعلیٰ ترین اقدار ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ محب وطن ان اقدار کے تحفظ کے لئے قربانی پیش کرتے ہیں دو قومی نظریے قیام پاکستان کی اساس ہے۔ دو قومی نظریہ نےبرصغیر کے دو بڑی برادریوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ثقافتی ، سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی عدم مساوات ہیں۔
    قائداعظم کے حوالے
    1-میں صحیح فیصلہ لینے میں یقین نہیں رکھتا ، میں فیصلہ لاتا ہوں اور اسے درست کرتا ہوں۔”
    محمد علی جناح
    2-فیصلہ لینے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار جب فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو ایک مضبوط آدمی کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
    – محمد علی جناح
    3-دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔ ایک تلوار ہے اور دوسرا قلم۔ دونوں کے مابین زبردست مقابلہ اور دشمنی ہے۔ ان دونوں کی نسبت خواتین کی ایک تیسری طاقت مضبوط ہے۔
    – محمد علی جناح
    3-بہترین کی توقع کرو ، بدترین کے لیے تیار رہو۔
    – محمد علی جناح
    4-جمہوریت مسلمانوں کے خون میں ہے ، جو انسانیت کی مکمل مساوات پر نگاہ رکھتے ہیں ، اور بھائی چارے ، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔
    – محمد علی جناح
    5-کوئی بھی قوم عظمت کے عروج تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ آپ کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین گھروں کی چار دیواری کے اندر قیدی بن کر بند رہیں۔ اس قابل فریب حالت کے لئے کہیں بھی اجازت نہیں ہے جس میں ہماری خواتین کو رہنا پڑے۔
    محمد علی جناح اس کے علاوہ ان کی اور بھی کوٹیشنز ہیں آپ بہت ہی ایماندارشفیق اور سادہ انسان تھے
    11 ستمبر 1948 کو آپ کی موت ہوگئی ، جب آپ نے کہا ، “اسٹیٹسمین ایک قاتل کی سرپرستی سے مر گیا تھا۔ اسٹیٹسمین کا پاکستان سے تعزیت کے بعد ہی انتقال ہوگیا۔ ایک ایسا شخص جس میں اسٹیٹسمین ، جس نے پاکستان کے درپے ہونے کی جنگ لڑی تھی ، وہ مخالف دشمن پیدا کرنے اور ناقابل قبول ریاست میں ہلچل تک محدود تھا اور زیادہ تر غلط فہمی ہونے کا یقین رکھتا تھا۔
    شکریہ قائداعظم اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد

    ‎@SHAHKK14

  • لبیک اللہم لبیک

    لبیک اللہم لبیک

    آج سے تقریبا ساڑھے چارہزارسال قبل جب حضرت ابراہیم اورآپ کے فرمانبرداربیٹے حضرت اسماعیل نے اللہ تعالی کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیرمکمل فرمائی تو اللہ نے حضرت ابراہیم سے ارشاد فرمایا: اورلوگوں میں حج کی نداعام کر دیں۔( آیت 27) حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اے اللہ میری آواز سب لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟ ارشاد باری تعالی ہوا کہ تم تعمیل کرو آواز پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم نے پہاڑ پر چڑھ کر اعلان فرمایا اے لوگوں! اللہ تعالی کے گھر کے حج کے لئے آو۔ ان کی آواز کو اللہ تعالی نے زمین و آسمان کے درمیان تمام مخلوق تک پہنچادیا یہاں تک کہ یہ آواز باپ کی پشت اور ماں کے پیٹ تک بھی۔ مزید روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی آواز اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ابد تک آنے والی نسل کی ارواح تک پہنچا دیا۔ جس نے اس آواز پر لبیک کہ اس کے مقدر میں جب لکھ دیا گیا۔

    اس دورابرا ہیمی سے لیکر آج تک بے شمار لوگوں کو اللہ نے حج کی سعادت عطا فرمائی اور وہ اللہ کے گھر کی زیارت کر چکے ہیں۔ آج بھی جب کوئی حاجی حج کی نیت کرتا ہے تو احرام باندھتے ہی تلبیہ پڑھنا شروع کردیتا ہے۔
    لَبَّيْكَ ٱللَّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ ٱلْحَمْدَ وَٱلنِّعْمَةَ لَكَ وَٱلْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
    ترجمہ: میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، سب تریفیں تیرے ہی لئے ہیں، اور تیرا کوئی شریک نہیں۔

    مندرجہ بالاتلبیہ پرغور وفکر کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ساڑھے چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم کے بلاوے کا جواب ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اللہ میں تو ہرگز اس قابل نہیں کہ اپنے گناہوں کے بوجھ سمیت تیرے دربار میں حاضر ہو سکوں بس یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے بلالیا۔

    اے اللہ ہم میں کتنے ایسے ہیں جو حاضری کے لئے تڑپتے ہیں لیکن وسائل کی کمی تیرے در تک پہنچنے نہیں دیتی اور وہ بھی ہیں جن کے پاس وسائل تو بہت ہیں لیکن تو نے ان کے نصیب میں حاضری نہیں ۔ ان ہزاروں اور لاکھوں میں میرے رب تو نے مجھے حاضری کے قابل سمجھامیں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔

    اے اللہ یہ حج صرف تیری اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے۔ تیرے حکم پر میں نے اپنے گھر کو چھوڑا، اپنے وطن سے دور نکل آیا اپنی پوشاک اتار کر صرف دو چادروں کو اپنا لباس بنا لیا .

    اے اللہ میں جانتا ہوں کہ تو اپنے مجبوب بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اتنی کہ ان کی اداؤں اور نشانیوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادیتا ہے۔ تونے حضرت بی بی حاجرہ کے صفہ اور مردہ کے در میان دوڑنے کو اتنا پسند فرمایا کہ اس عمل کو حج کا لازمی جز بنا ڈالا۔ تو نے حضرت ابراہیم کے قدموں کے نشان کو سجد ے کا مقام اور ان کی قربانی کو مسلمانوں کے لئے تا قیامت واجب بنادیا اور تو نے اپنے پیارے محبوب محمد کے حج کی ہر ہر ادا کو حج کے معمولات کا حصہ بنادیا۔ اے اللہ مجھے بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔
    یا اللہ! ہم سب کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما ئے.آمین

    @The_Pindiwal

  • لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    کہتے ہیں لڑکی محبت میں بے وفا ہوتی ہے
    لیکن میں کہتی ہوں نہیں لڑکی بے وفا نہیں ہوتی

    جب لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے تو وہ یہ ہی چاہتی ہے کے اس کی محبّت کو نکاح کا نام ملے جس سے محبّت کرتی ہے وہ محرم بن جائے لیکن لڑکی بہت دور تک سوچتی ہے
    وہ یہ سوچتی ہے کہ کیسے اس کی محبت ملے گی کیسے اس کا نکاح ہوگا لڑکی بہت ہمت والی ہوتی ہے لیکن اپنے گھر والوں کو بتانے سے ڈرتی ہے کہ کہی کچھ غلط نہ ہو جاۓ گھر والے اس کے کردارپرشک نہ کرے ماں باپ اس پر پابندیاں نہ لگادیں جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کو کچھ نہ کردیں لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہے رشتے داروں کے طنے سے ڈرتی ہے لیکن اپنی محبت کو چھوڑتی نہیں.

    کچھ لڑکیاں اس ڈرکی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتی ہے زمانے میں بدنام ہوجاتی ہے اورجو لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتی وہ خاموش ہوکراپنی محبت کوقربان کرکے زندگی بھر کا دکھ تکلیف لے لیتی ہیں

    اب رہا سوال محبّت کا ؟؟؟ اگر کسی لڑکی کو محبّت ہے تو وہ اپنے ماں باپ سے بات کرے ان کو بتا دے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی لڑکی کی بات سن لیں دیکھ لیں وہ رشتہ کیا وہ صحیح ہے یا غلط ہے وہ فیصلہ ماں باپ نے کرنا ہوتا ہے
    کیوں کے ماں باپ اپنے بچوں کا غلط نہیں سوچ سکتے اور وہ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کی قدر کریں دو دن کی محبت کے لیے گھر سے بھاگنا اچھی بات نہیں کیونکہ والدین کی محبت سب سے پہلے ہے اگر آپ کو کوئی لڑکا پسند ہے تو اپنے ماں باپ سے بات کریں ان کو بتادیں کے میرے لیے صحیح ہے باقی جو فیصلہ ماں باپ کریں تو وہ مان لیں کم سے کم آپ کو اس بات کا دکھ تو نہیں ہو گا کہ آپ نے اپنے ماں باپ سے بات نہیں کی.

    باقی قسمت پر چھوڑ دیں اور اللہ پاک سے دعا کریں اگر کوئی آپ سے سچی محبت کر تا ہے تو اس کی قدر کریں کیوں کہ سچی محبّت کرنے والے بار بار زندگی میں نہیں.

    یہ میرے دل کی تھوڑی سی بات ہے جو کہہ دی اب پتا نہیں کسی کو اچھی لگتی ہے یا نہیں اگربات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں.

    @iam_FoziaCh

  • ابلیس کون؟ .  تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کون؟ . تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کا اصلی نام "عزازیل” ہے۔ ابلیس کی کنیت "ابو قیتر” (تکبر کا باپ) ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی ” انتہائی مایوس کے ہیں۔ اصلاحاً ابلیس اس جن کا نام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر کے حضرت آدم علیہ السلام کیلئے مطیع اور مسخر ہونے سے انکار کر دیا۔

    ابلیس کے والد کا نام "چلیپا” اور اس کی کنیت ابو الغوی تھی۔ چلیپا کا چہرہ ببر شیر جیسا تھا وہ نہایت قدآور اور بہادر تھا۔ اس کی قوم اسے "شاشین” کے نام سے مخاطب کرتی تھی جس کے معنی دل دہلا دینے کے ہیں۔

    ابلیس کی والدہ کا نام "تبلیث” یا "نبلیث” تھا۔ تبلیث کا چہرہ بھیڑیئے کی مانند تھا اور وہ بھی اپنے شوہر چلیپا کی طرح نہایت دلیر اور طاقتور تھی اس حد تک کہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔

    ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔

    ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔

    کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔

    ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔

    پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔

    تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔

    ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔

    1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
    2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
    3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
    4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
    5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔

    ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔

    حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔

    منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق

    @MTaukirAbbas

  • عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے، ہرطرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اورجوان سر گرم نظرآ رھے ھیں گائے، بیل، بکرے، بھیڑ، اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں بچوں کا شور، بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔ زبردستی چارہ کھلانے اورپانی پلانے کاجنون۔ اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟

    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔ بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پرمجبور کرتے ھیں۔ جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں۔

    کیا وہ جاندار نہیں؟ کیا اسے درد نہیں ھوتا؟ کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کربھاگ چکاھے اورکل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھوگیا ھے۔

    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیوبناؤ؟ پارٹیاں اڑاؤ؟

    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

    @RjShanzayAli_

  • پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    نیٹو امریکی اتحاد اپنی ایک رپورٹ کہتا ہے کہ ”پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن انڈیا اس کے مخالف ہے“
    یہاں پر انڈیا افغانستان میں امن کیوں نہیں چاہتا؟
    افغانستان میں بدامنی و دہشتگردی کی فضا سے انڈیا کے وابستہ مفادات کیا ہیں؟ جیسے کئی سوال ذہن میں آتے ہیں.

    انڈیا افغانستان میں امن اس لئیے نہیں چاہتا کہ اگر افغانستان میں امن قاٸم ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فاٸدہ پاکستان کو اورنقصان انڈیا کو ہے کیونکہ اگر امن ہوتا ہے تو پاکستان افغان سرحد پر لگاٸی گٸی فوج کو کم کر کے انڈین سرحدوں کی طرف بڑھا دے گا اور افغانستان میں جنگ بندی سے پاک فوج اور طالبان کے آپریشنز افغانستان میں نیٹو امریکی جنگ کی بجاٸے کشمیر کی طرف موو کریں گے جس کا سیدھا نقصان انڈیا کو ہو گا اور دوسرا افغانستان میں جنگ بندی سے امریکی بلاک میں انڈیا کی اہمیت بہت حد تک کم ہو جاٸے گی جس سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ جس امریکہ کا وہ اتحادی ہے وہ دنیا کے پرلے کونے پر بیٹھا ہے جبکہ اس کے ہمساٶں سے تعلقات کافی خراب ہیں.

    اس صورت حال میں اگر افغانستان میں امریکہ جنگ بلکل ختم ہوتی ہے اور امن قاٸم ہوتا ہے تو انڈیا کی وہ اہمیت باقی نہیں رہے گی جو امریکہ اتحاد میں اس وقت ہے کیونکہ واحد وہی اتحادی اس وقت خطے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر چین ( شہر پاور کمپیٹیٹر) سے بھی تعلقات خراب کر لئے اورباقی ہمسایوں سے بھی قابل ذکر تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور یو ای اے سے تعلقات کا اچھا ہونا ڈیڑه ارب کی آبادی کی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے علاوہ ان تعلقات کی کوٸی خاص بنیاد نہیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے چارارب ڈالر کا تیل لیتا ہے اور انڈیا چالیس ارب ڈالر کا تو ظاہر ہے عرب نے اپنے کاروبار اور معشیت کو بھی دیکھنا ہے اس لیے سعودی عرب بھی پاکستان انڈیا کے معاملے میں مسلمان ملک ہونے کے باوجود برابری کے تعلقات کو دیکھتا ہے اورکشمیر یا دوسرے معاملات پرکسی ایک ملک کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن انڈیا ہمیشہ سے اپنی مارکیٹ کا فاٸدہ اٹھاتا رہا ہے اور شاید آج بھی اٹھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قاٸم ہو اور امریکی اتحاد میں اس کی اہمیت کم ہو اس لیے انڈیا جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کھل کر اففغانستان حکومت کو نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ دوسری طرف بدلتے کنٹرول کو دیکھتے طالبان سے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے، لیکن پچھلے دنوں سفارتی ملازمین کی واپسی کے نام پر آئے جہاز میں موجود اسلحے نے اس دوہری و دوغلی حکمت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل پر اشرف غنی کا سرعام پاکستان کو افغان امن کا حریف کہنا غنی پر پیسہ لگانے والی ہندوستانی حمکت عملی کھل کر آخری حربے کے طور پر سامنے آ گئی ہے کہ غنی حکومت ہو یا انڈیا افغانستان میں امن ہوتا نکلنا مشکل ہے ان کے لئے۔

    جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں ایک مضبوط اسلامی حکومت ہو تاکہ وہاں امن ہو جس سے پاکستان میں امن ہو۔ حالیہ دورہ کابل میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اشرف غنی کے لگائے بے بنیاد الزام اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی اس کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے افغانستان میں بدامنی سے پاکستان کے ہونے والے نقصان کی یاددہانی بھی کروا دی۔ الحمدللہ اسلامی حکومت والے تیزی سے علاقے فتح کرتے جا رہے ہیں۔ کفار حریف کی ساری چالیں ناکام ہوتی نظر آ رہیں۔ افغانستان میں خالص اسلام کی فتح علاقے میں نہ صرف اسلامی اقدار کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مسلم اتحاد اور جیو سٹرٹیجک پوزیشننگ کو ایک نئے رخ کی طرف موڑ دیتی نظر آ رہی ہے۔

  • قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات . تحریر : وکیل احمد خان

    قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات . تحریر : وکیل احمد خان

    قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علم وحکمت کے اسرار پوشیدہ ہیں، لیکن اُن اسرار و رموز تک صرف صاحبِ علم و حکمت ہی پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے ہی رازوں کو جاننے کے لیے قرآنِ پاک میں بیان کیا گیا ــ کہ’’ کیا تم غور نہیں کرتے‘‘ اس آیت کے ذریعے اللّہ پاک اپنے بندوں کو غور و فکرکی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ اس پر عمل پیرا ہوکر آگہی وشعورحاصل کر سکیں۔ یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ کسی مخصوص شعبے سے متعلق تعلیم حاصل کرلینا ہی علم نہیں ،علم بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ اسی لیے علم کی پیاس کبھی نہیں بجھتی، جیسے جیسے انسان علم کے سمندر میں غوطہ زن ہوتاچلا جاتا ہے، ویسے ویسے عِلم کی تشنگی بھی بڑھتی اور فکر میں وسعت پیداہوتی جاتی ہے۔تعلیم کے بغیر انسان کے عقل و شعور میں ادراک کی قوّت نہیں ہوتی۔

    علم کے بغیر انسان اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتا ، تو پھر وہ زندگی اور کائنات کی دوسری اشیاء اور حقائق کی معرفت کیسے حاصل کرسکے گا،اس لیے اسلام نے اوّل دن سے اپنے ماننے والوں کو علم کے حصول کی ترغیب دی اور نہ صرف طلبہ بلکہ معلّمین کے اعلیٰ رُتبے کا بھی تعیّن کردیا۔بہ حیثیت مسلمان ہمارے لیے رب کی معرفت اور قرآن و حدیث کے علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہی ہم اپنے مقصدِ تخلیق کو جان سکیں گے، لیکن زندگی گزارنے اور دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے دنیاوی علم کے حصول کی اہمیت بھی ناگزیر ہے۔تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ علم کے ذریعے مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی ، طبیعات ہو، فلسفہ، کیمیا،ریاضی، جغرافیہ یا کوئی اور سائنسی مضمون ہرشعبے میں مسلمان سائنس دانوں نے تحقیق و عمل کے ذریعے اپنا ایک نام، ایک مقام پیدا کیا، مگر جب ہم نے اپنے اجداد کی میراث، ان کی تعلیمات کو فراموش کیا.

    علم تحقیق وعمل سے دُور ہوئے، تو ہمارا زوال شروع ہوگیا، جو آج تک عروج میں نہ تبدیل ہو سکا۔ آج مغربی عوام تحقیق کے شعبے میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔ کئی ایسے غیر مسلم سائنس دان بھی ہیں، جنہوں نے قرآن کا مطالعہ کرکے تحقیق و عمل کو آگے بڑھایا۔ ہمارے اسلاف کی لکھی گئی کتب ، ان کے نظریات کو بنیاد بنا کرمغربی اقوام دنیا میں اپنا نام بنا چُکی ہیں اور ہم محض اُن کی ایجادات سے مستفید ہورہے ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مغرب برق رفتاری سے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے تو بڑھ رہا ہے، مگر اس نےکتاب سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ بس ہو یا ٹرین کا سفر، بچّوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر کوئی کتب بینی میں مصروف نظر آتا ہے یہ الگ بات ہے کہ موبائل فون اور ٹیبلیٹ نے سب کچھ بدل دیا ہے ، جب کہ ہمیں تو اللّہ کا کلام، قر آن پاک پڑھنے تک کا وقت نہیں ملتایا یوں کہہ لیجیے کہ ہم وقت نکالنا ہی نہیں چاہتے۔

    دوسری جانب اگر نصابی کتب کی بات کی جائے، تو ہمارا تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے کہ بچّے سمجھ کر پڑھنے کے بجائے رٹّالگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم صرف اور صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکاہے۔ حالاں کہ علم تودراصل کسی شئے کے جان لینےاور سمجھ لینے کا نام ہے۔ ہر ملک کے تعلیمی نظام میں دنیاوی، معاشرتی اور مذہبی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نصابِ تعلیم ترتیب دیا جاتا ہے، مگر بد قسمتی سےہمارے ملک پاکستان میں ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ تو ہیں، لیکن تربیت یافتہ نہیں۔ نسلِ نو ،رکھ رکھاؤ بزرگوں کے ادب و احترام اور بھائی چارگی سے بہت دُور نظرآتی ہے ۔ افسوس ، صد افسوس کہ ہم انگریزی بولنے کو تو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اپنے بچّوں کوعربی زبان نہیں سکھاتےکہ جس میں کلام ِ الٰہی کا نزول ہوا ۔ ہمیں کبھی یہ خیا ل بھی نہیں آتا کہ جب تک نئی نسل قر آن مجید سمجھے گی نہیں، تب تک اُس پر بہتر طور پر عمل کیسے کرے گی؟ذرا سوچیں، اگر ہمارے بچّے عربی زبان پر بھی مہارت حاصل کرلیں ، توانہیں اللّہ تعالیٰ کے احکامات اور احادیث سمجھنےمیں کس قدر آسانی ہوجائے گی۔ چنانچہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی جانب ضرور راغب کیجئیے ۔ اللّہ کی خوشنودی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی ہے ۔

    @ReadinWakil

  • اللہ تعالیٰ پر کامل یقین . تحریر : کاشف علی

    اللہ تعالیٰ پر کامل یقین . تحریر : کاشف علی

    اگر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرا مددگار ہے اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو پھر کوئی خوف نہیں کوئی شے اللہ تعالیٰ سے بالاتر نہیں
    اگر تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتے اور نہ تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے.

    اللہ تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں تمہارا رزق، تمہاری عزت، تمہارا مستقبل، تمہاری کامیابی نہیں رکھی، سب اللہ تعالی کے پاس ہے محض وقتی فائدے کیلئے کسی کے سامنے مت جھکنا اللہ تعالی پر کامل یقین رکھو.

    دیکھیں تو آج امت کی اکثریت عدم یقین کا شکار ہے دنیاوی امور سے لے کر دین کے معاملات تک ہر چیز میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا شکار ہیں جبکہ بندہ مومن کی زندگی کامل یقین سے عبارت ہوتی ہے اور حکم بھی اسی کا دیا گیا ہے کہ انسان مقام یقین تک پہنچے.

    ہمیں چاہیے کہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کریں تو پہلے اس کے تمام پہلوں کا خوب اچھی طرح جائزہ لے اور جب کام میں لگ جائیں تو پھر اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات پر کامل یقین رکھیں انسان کے بس میں تو کوشش کرنا ہی ہے باقی اللہ تعالی وہی کرتا ہے جو بندہ کے حق میں بہتر ہوتا ہے.

    اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں یقین کامل کی دولت عطا فرمائے ۔ آمین

    @DirojayKhan1

  • کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    یہ ایک عام تاثر ہے کہ بھارتی میڈیا پرموجود صف اول کے صحافی سوائے عوام کو بھڑکانے کے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔ دراصل یہی بھارت کی خارجہ پالیسی ہے جسکی میڈیا پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی عام دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ملکر سوائے خطے میں بدامنی پھیلانے کے اور کسی کام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ 9/11 کی ہی مثال لے لیں جب امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے ڈرامہ رچایا تھا کہ انکا مسافر طیارہ بھی ہائی جیک ہوگیا ہے۔ اس ڈرامے میں بھارتی میڈیا پیش پیش رہا اور عوام کو تین گھنٹے متواتر ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا رکھا۔ 9/11 کے بعد امریکہ کی مسلم ممالک کے خلاف جارہانہ پالیسی کی نقل کر کے "دس قدم اور پاکستان ختم” جیسی ڈینگیں میڈیا پر مارتے رہے۔

    پلوامہ حملے کے بعد بھی ابھینندن جیسے "بالی ووڈ” متاثرین اورخوابوں کی دنیا میں رہنے والے صحافی حضرات اچھل اچھل کرمیڈیا پربڑکیں مارنے لگے تھے کہ ہمارے جہازوں نے فضائی بمباری کی اور پاکستان میں 300 لوگ مارے گے جبکہ حقیقت میں تین درخت اورایک کوا شہید ہوا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر بتاتا ہے کہ بھارت میں کس قسم کے صحافی حضرات کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں دانش صدیقی نامی مسلمان بھارتی صحافی جس نے بھارت کے کووڈ۔19 بحران کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا کے افغانستان میں نہایت مشکوک حالات میں اچانک قتل کی خبریں گردش میں آتے ہی ٹوئیٹر دانش صدیقی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔۔ شالنی نامی ساتھی صحافی کا کہنا تھا کہ "ڈینش صدیقی کی روہنگیا مہاجرین ، دہلی پوگرام ، اور ہندوستان کے کوڈ بحران پر نقش نگاری کی تصاویر ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں مسلط رہیں گی”

    https://t.co/SMwgmiLNTG”

    افغان صحافی عمران فیروز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ بات نہایت ناگوار گزری ہے کہ مودی کے بہت سارے فاشسٹ صدیقی کی قابل ذکر رپورٹنگ کرنے کے باوجود اسکی موت کا جشن منا رہے ہیں”

    Caummunist نے کہا کہ "یہ دونوں تصاویر ڈینش صدیقی اور عدنان عابدی نے فیبر2020 میں دیہی پوگرام میں لی تھیں۔ وہ عصرحاضر کی ہندوستانی صورتحال کو مکمل طور پر گھیر لیتے ہیں۔
    (رائٹرز انڈیا نے یہ تصاویر (اس سال کی) بطور بہترین تصویر منتخب کیا)

    https://t.co/lmmvzFUQMB”

    پاکستانی صحافی عمرقریشی کے مطابق "ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکارکے کچھ حامی روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ (اور دہلی کے رہائشی) دانش صدیقی کی افغانستان میں موت کی خوشی منا رہے ہیں
    کیوں؟

    کیونکہ جب اس نے ہندوستان میں کوویڈ سے ہونے والی اموات اور آخری رسومات کی تصویریں وائرل کیں تو یہ بات انہیں ناگزیر گزری”

    مقبوضہ کشمیر کے سابقہ وزیراعلی عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ دانش اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے طالبان کی کراس فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکی موت کا جشن بھارت میں موجود وہ کمینے منا رہے ہیں جنھیں اسکی رپورٹنگ سے بے آرامی ہوا کرتی تھی۔ اپنے ٹوئیٹر میسج میں انہوں نے رائیٹ ونگ کے ٹرولز کو کہا کہ جہنم میں جاؤ

    بھارت میں ایک خاص طبقے کی جانب سے دانش صدیقی کی موت پر اسطرح جشن منانا صحافتی اقدار کی نہ صرف توہین ہے بلکہ آزادی صحافت کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے جسکی گونج اس وقت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے

    Waheed Gul is a freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums. His major areas of interest are Current Affairs, Technology and Web Media. He can be reached at Twitter: @MrWaheedgul