Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    آپ کسی بھی پارٹی سے جُڑے رہنا چاہتے ہیں، یہ آپ کا حق ہے۔ آپ کس لیڈر کی اُلفت میں مبتلاء ہیں یہ آپ کی مرضی ہے۔ آپ سب ہی یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں امن و امان،ترقی ، تعلیم،علاج معالجہ جان اور عزت کی حفاظت اور روزگار اور کاروبار کے وافر مواقع ہونے چاہیئں ۔ خاص کرغریب نوجوان بلدیات ہو یا صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کی سیڑھی کی طرف اپنا قدم رکھ سکتے ہیں؟
    ذرا سوچئے کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے لے لیے کیا ضروری ہے؟
    ایک دوسرے کی کردارکُشی؟
    ان بڑے اورمقامی لیڈروں کے پیچھے جو آپ کو آگے بڑھنے کا موقع تک فراہم نہیں کرتے،
    آپس میں تکرار ، گالی گفتاری ، یا الزام تراشی؟
    کیا ایسا کرنے سے مذکورہ اہداف حاصل پورے ہو سکتے ہیں؟

    سوچئے اور ایک با عزت سیاسی کارکن بنیں،ورنہ ذرا سا پیچھے مُڑ کر دیکھئے،آپ سے پہلے لاکھوں کارکنان سالہا سال اسی بے خبری اور گھٹیا پن میں مبتلا رہ کر ملک اور قوم کے لیئے کچھ بھی نہیں اور اپنے لیے ، تشدد ، مار ، جیلیں اور معاشی نقصان کما چکے مگر بات وہیں کی وہیں رہی۔

    سوچئے کہ ماضی میں سیاسی کارکنان کی بے سمت اور بے مقصد سیاسی حرکات کا کیا نتیجہ نکلا؟
    آج بھی وہی احتجاج ، وہی جلسے وہی باتیں وہی الزامات ، وہی احمقانہ سوچ !
    ذرا سوچئے اس بے مقصد سیاسی جدوجہد کا آئندہ کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
    آپ ضرور اپنے اپنے ہیرو کی پوجا کیجئے مگر اُس کے کہنے پر دوسرے پاکستانیوں کو ولن نہ سمجھیئے!
    اپنے اپنے سیاسی جماعتوں کے ہیروز اور مقامی لیڈران سے سوال کیجئے کہ وہ ساری چیزیں اور سہولیات جو وہ خود رکھتے ہیں ہمیں کیسے دلائیں گے؟

    اگر وہ آپ کے سوال کے جواب میں اپنے مخالف کی کردار کُشی پر اکساتے ہیں تو یقین مانیں کہ وہ جھُوٹے ہیں اور آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر مراعات یافتہ طبقے میں تو شامل ہو سکتے ہیں۔
    آپ کو کچھ بھی نہیں لے کر دے سکتے!!!!

  • عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں قریب قریب ہے ۔اس موقع پر مسلمان قربانی کرکے ایک عبادت کی ادائیگی سے عہدہ برآں ہوتے ہیں ۔قربانی اپنے پس منظر میں ایک فلسفہ رکھتی ہے ۔ اس فلسفے کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اگر یہ عبادت ادا کی جائے تو روح سرشاررہتی ہے۔لیکن اگر اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جائے تو عبادت تو ادا ہوجائے گی ۔روح کو وہ تازگی اور سرشاری نصیب نہ ہوگی جو ایک عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے ۔روح پاک صاف ہو جاتی ہے ۔

    ماضی قریب میں جب ہم ابھی شعور کی منزلیں طے کر رہے تھے ، ہوتا یوں تھا کہ قربانی خریدی جاتی ،گاؤں دیہاتوں میں عموما بڑے جانوروں کی قربانی ہوتی تھی ،۔ بکروں اور دنبوں کا رواج کم کم تھا، لوگ عموما اپنی استطاعت کے مطابق جانور خریدتے ،ظاہر ہے ایک عبادت کی ادائیگی کی نیت سے خریدے تو اس پرکسی قسم کا فخر و غرور نہ ہوتا تھا ، ہاں اڑوس پڑوس میں دوسروں کے جانور دیکھنے کے لئے جانے کا رواج ضرور تھا۔ عید سے تین چار دن قبل سے جانور کی خدمت شروع ہوجاتی اور عید کے دن جانور کو ذبح کردیا جاتا،لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ اب مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جاتا ہے ۔پھر گلی محلے میں بلکہ اب تو ڈیجیٹل زمانہ آگیا ہے ۔تو شہر شہر اور ملکوں ملکوں جانوروں کی پبلسٹی ہوتی ہے ،قیمتیں بتائی جاتی ہیں ،طرح طرح کے نخرے کئے جاتے ہیں ،یوں ایک عبادت جس کی بنیاد خالص عبادت پر تھی ، ریا کاری اور فخر کی نذر ہوگئی ، لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اصلی مقصد کو بھلا دیا جاتا ہے ۔یوں عبادت تو ادا ہوجاتی ہے لیکن وہ روح کو وہ سرشاری نصیب نہیں ہوتی ۔

    اس طرز عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ،ان کا دل پسیج کے رہ جاتا ہے ۔بڑے تو اپنی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح خود کو سنھبال لیتے ہیں لیکن گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں ان کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہیں اور والدین کو پھر اپنے بچوں کی فرمائشیں کسی نہ کسی طرح پوری کرنی پڑتی ہیں ۔

    پہلے ہوتا تھا کہ قربانی ہوتی ،سب گھر والے مل کر گوشت بناتے ،گوشت ہانڈی میں رکھ دیا جاتا اور باقی کا گوشت چھوٹے چھوٹے تھیلوں میں ڈال کر محلے داروں ،رشتہ داروں اور اس عبادت کی ادائیگی سے محروم لوگوں میں تقسیم ہوجاتا ،نہ فریج ہوتے تھے نہ لمبی خواہشیں نہ مہینوں مہینوں گوشت کو سنھبالے رکھنے کا رواج ، محلے میں گوشت تقسیم کرنے سے آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوتا ، رشتہ داروں میں تقسیم کرنے سے رنجشوں ختم ہوتی ،اپنائیت کا اظہار ہوتا اور ناداروں میں گوشت تقسیم کرنے سے اس نعمت کا عملی شکر ادا ہوپاتا کہ اللہ پاک نے ہمیں نوازا اور ہم نے اللہ کی مخلوق میں تقسیم کیا ۔لیکن اب حالات بدل گئے ،اب گھر گھر فریج اورفریزر آگئے ہیں، سو جو گوشت مختلف لوگوں میں تقسیم کیا جاتا وہ اب فریج اور فریزر کے مختلف خانوں میں فریز کردیا جاتا ہے ۔ محبتیں باٹنے کا ایک موقع ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہی گنوا دیا ہے ۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت کا فریضہ ہم سے چھن گیا ہے، یوں عید تو وہی ہے جو سالہاں سال سے آتی رہتی ہے ، وہی کچھ کم کرتے ہیں جو سالہاں سال سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے جو خوشی نصیب ہوتی تھی وہ اب نہ رہی ،وجہ ہمارے بدلتے روئے ہیں ۔

    گذشتہ روز جب علاقے کی مویشی منڈی جانے کا اتفاق ہوا تو قیمتوں کا سن کر پہلے تو اپنی قربانی ہوتی دکھائی دی ،آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ، موٹے موٹے اور فربہ جانور ، وہی منظر سامنے نظر آیا جو عام طور سے رمضان میں نظر آتا ہے کہ کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی لیکن دوسری طرف خریداروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مفت کی چیز بٹ رہی ہے اور کسی نے اپنی طاقت نہ دکھائی تو محروم رہ جائے گا ، یہی صورتحال مویشی منڈی کی تھی، ایک آدھ جانوروں پر تو ایک قسم کی بولی لگنی شروع ہوگئی تھی ،وجہ ؟وجہ صرف اور اچھا جانور لے جاکر فخر کا اظہار ،نتیجہ یہ ہے کہ قیمتیں پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہم رونا روتے رہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے ۔بنیادی طور مہنگائی کی ایک وجہ ہمارا رویہ بھی ہے ۔

    ہمارے دین کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ اسے معتدل دین قرار دیا گیا کہ ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کریں ، لیکن ہمارے رویے ہر گز میانہ رو نہیں ، ہم دیکھا دیکھی ،مقابلے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ہر حد کو پار کرتے ہیں ، یہ انداز عبادات میں بھی پسندیدہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں لیکن وہ عبادات روح سے خالی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنے ان رویوں پر غور کرنا ہوگا ۔عید قرباں کے موقع پر جہاں جانور کی قربانی کرتے ہیں وہی اپنے نفسانی خواہشات کی قربانی بھی کریں تو اس قربانی سے روح کو سرشاری ملے گی۔

    Twitter | @_SyedAyaz

  • سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی یپک کے بعد خطے کےلیے ایک اور تاریخی پروجیکٹ آنے والا ہے جس کو آج عمران خان نے خطے کےلیے انقلابی پروجیکٹ کا نام دیا۔

    یہ پروجیکٹ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے منصوبہ ہے ۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے کے درمیان اس منصوبے کیلئے573 کلو میٹر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس ریلوے منصوبے پر تقریبا 4 ارب 80 کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو براہ راست وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑ دے گا جس کے بعد تیز ترین تجارت ہو گی ۔ تاجکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی مجوزہ ریلوے منصوبے میں شامل ہو سکیں گے۔

    اس منصوبے سے خطے میں پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھے گا۔ افغانستان اس کا مرکزی کردار ہے لہذا پاکستان اور ازبکستان مل کر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے بعد افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں پاکستان ہر قسم کی اجارہ داری کو کاؤنٹر کر پائے گا۔ یہ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔

    افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے۔ خود ازبکستان کے اہم وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ، تاجکستان اور ترکمانستان سے بارڈر لگتے ہیں۔ ازبکستان سے باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ قزاقستان تک بھی تیز ترین رسائی ہو گی جو ان قریبی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے اور اس سے روس تک رسائی ہو گی۔ قازقستان میں اس قدر قدرتی وسائل ہیں کہ ہر ملک اس سے تجارت کا خواہاں ہے ۔ آئل کے حساب سے دیکھا جائے تو قازقستان دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر بن سکتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔

    یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک کے بعد اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ہم واضح کہہ سکیں گے کہ پاکستان خطے میں اپنی معاشی اجارہ داری قائم کر چکا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ یعنی پاکستان ایسے منصوبوں کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کےلیے خصوصاً اور پورے ایشیا کےلیے مرکزی حثیت اختیار کر جائے گا ۔ معاشی برتری کے بعد پاکستان خارجہ سطح پہ بھی مضبوط ہو گا۔

    عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اس اہم منصوبے کےلیے رابطے شروع کیے تھے اور پھر 11 دسمبر 2018 کو ازبکستان ، روس ، قازقستان ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور مزار شریف -کابل – پشاور ریلوے کی تعمیر کے لئے مالیاتی کنسورشیم کے لئے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے ۔ اس کے بعد فزیبلٹی سٹڈی جاری رہی تاہم کسٹم،امیگریشن اور بارڈر اتھارٹیز کے معاملات میں کچھ مشکلات رہیں ۔ کرونا وائرس اور افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے ۔ ان شاءاللہ اب اس پہ باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا ۔ اس سال فروری میں اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان شاءاللہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کےلیے بھی ترقی کا مرکز بنے گا۔

    @IAhmadPatriot

  • پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    افغانستان اورپاکستان خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل دو اسلامی برادر ملک ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گزارنے کا درس دیتا یے. بحیثیت مسلمان یہ ہم پاکستانیوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ خطے میں امن و امن کو برقرار رکھیں. اسی لئے پاکستان اپنے ملک اور باقی تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں امن چاہتا ہے.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کا خیر خواہ.رہا ہے. مستحکم اور خوشحال افغانستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں یے. کیوں کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن__ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا امن سے منسلک ہے
    ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن افغانستان کا مطلب بالعموم ایک پرامن خطہ اور بالخصوص ایک پرامن پاکستان ہے ، اور کہا : "ہم ہمیشہ ‘افغان امن عمل’ کی حمایت کریں گے۔”

    پوری تاریخ میں ، پاکستان واحد طاقت رہی ہے جو واقعتا یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن ازحد ضروری ہے. پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کی خواہش نہیں کی۔ پاکستان نے افغان امن عمل کی لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا معاشی بوجھ برداشت کیا. معاشی و اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں. چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں جن کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا. ان تمام نہ مساعد حالات کو برداشت کیا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس کردار ادا کیا اور افغان طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کے اندرونی حالات چاہے پیچیدہ ہوں لیکن پاکستان کبھی دوسرے ملک کا برا نہیں سوچ سکتا ہے. یہ پاکستان کی ہی مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخ ساز امن معاہدہ طے پایا.

    اس سب کے باوجود پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے. لیکن یہ صرف بےبنیاد الزامات ہیں . جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں. حقیقت میں ، پاکستان نے افغانستان میں صرف اسٹریٹجک استحکام اور امن کی کوشش کی ہے۔ پاکستان پورے خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے ان شاء الله. ہمیشہ انکی مدد کرے گا

    @_J786

  • اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    أردو زبان کا زوال کی جانب بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث ہماری روایات، معاشرتی اقدار، اخلاقیات، طور طریقے حتیٰ کہ چال چلن سب کچھ تبدیل گا جن ہوچکا، گویا یوں سمجھئے ہم نے غیر لوگوں کی زبانوں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہم جس معاشرے کا حصہ بنتے جارہے یا بن چکے ہیں قوی امکان اورگہری أمید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ ہمارا اردو زبان سے مکمل تعلق ختم ہو جائے گا، یا پھرہم اردو زبان کو فقط اپنی قومی زبان ہی کہہ سکیں گے اس بڑھ کر کچھ نہیں غیر قانونی اور غیر پسندیدہ زبانیں جس قدر ہمارے دماغ، ہمارے جسم میں پیوست ہوتی جارہی ہیں جس طرح ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہی ہیں ہم بجائے ترقی کریں ہم دن بدن نیچے جارہے ہیں.

    کیونکہ جو قوم اپنی قومی زبان کو اپنے گھروں، اپنے معاشرتی اقدار و روایات، اپنی تعلیم، اپنے طور طریقے میں رائج نہیں کرسکتی وہ قوم مشکل ہی کیا کبھی بھی ترقی کا ہلکا سا مزہ بھی نہیں چکھ سکتی، ہماری قومی زبان اردو کی تباہی کے زمے دارانگریزوں کی نحوست تو ہے ہی ہم بھی قومی زبان کی تباہی اورپستی کے برابرکے قصور وارہیں أردو کی تنزلی کی صورتحال کا آپ اس ایک بات سے لگا لیں حال ہی میں گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے ایک مراسلہ جاری کیا کہ آئندہ جو بھی قومی یا سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی یا کوئی بھی سرکاری سیمنار منعقد کیا جائے گا اسکو أردو زبان میں رائج کیا جائے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مراسلے کو انگلش زبان میں شائع کیا گیا اس قدر اردو زبان کی پَستی کا اندازہ شائید ہی کبھی نہ ہو مطلب ہم مکمل بے حِس اور لاچار ہی یہاں پراس امرکا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے.

    ہم انگلش کے نام پراس قدرغلام ہوچکے ہیں کہ انگریزی ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہا ہے، غیر محسوس طریقے سے اورجس انداز سے أردو کا زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے نا جانے کب رکے، ہمارا تعلیمی لیول میں انگریزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے پہلے پڑھائی کرنے والے کو طالب علم کہتے تھے اب سٹوڈنٹس بن گئے ہیں اردو کی بے بسی اور تنزلی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ طالب علم سے لے کر سٹوڈنٹس تک آتے آتے ہم اپنی قومی زبان کو مکمل بھول چکے ہیں.

    میرا وزیراعظم عمران احمد خان نیازی سے مطالبہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ریاستی نظام اورمعمالات میں اردو زبان کو فوری رائج کریں تاکہ قوم اپنی اردو زبان کا ہر موقع پر استعمال کرتے ہوئے عظیم قوم بن سکے۔

    @Talha0fficial1

  • بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    سگریٹ نوشی کرنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے. کچھ لوگ شروع شروع میں سگریٹ شوق کی خاطر یہ کسی پارٹی وغیرہ میں دھواں اڑانے کی خاطر پیتے ہیں. پہر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لت لگ جاتی ہے. ان کا شوق مجبوری بن جاتی ہے. پہر سگریٹ سے جان چھڑانہ انتہائی مشکل ہوجاتی ہے.

    سگریٹ کا نشہ بہت عام ہوچکا ہے سگریٹ بہت عام ہوچکا ہے ہر جگہ ہر شہر میں باآسانی مل جاتا ہے. جو لوگ سگریٹ کے عادی ہیں سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہے لہٰذا ان لوگوں سے گذارش ہے کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ مت پیئں. اس سے آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی لت میں آجائیگا. جب آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو وہ بچے بھی سگریٹ کے عادی بن جائیں گے. بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کیا چیز درست ہے کیا غلط ہے کون سی چیز صحت کے لیے اچھی ہے کون سی متاثرکن.

    آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو لازمی ہے اس کا اثر آپ کے بچوں پر پڑیگا. ظاہری بات ہے جب آپ کا بچہ آپ کو سگریٹ پیتے دیکھے گا تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ پینے لگے گا. ایسا ہوتا ہے اولاد بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتی ہے. والدین کو خاص کر باپ کو چاہیے کبھی بھی اپنی اولاد کے سامنے سگریٹ مت پیئے. اس طرح آپ کی نوجوان اولاد بری عادت میں مبتلا ہوسکتی ہے.

    تمام والدین سے گذارش ہے اپنی اولاد کے سامنے کبھی بھی سگریٹ نوشی مت کریں. آج نہیں تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے. پہر ایسا نہ ہو آپ کا بچہ سگریٹ کی بری عادت پر چل پڑے اور جب آپ اسے منع کریں تو وہ آپ کا کہنا نہ مانے! ایسا ہوتا ہے جوان اولاد جب باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو باپ کے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے کے اپنی اولاد کو کیسے درست راہ پر لیکر آئیں.

    اکثر دیکھا ہے جب باپ کسی نشے کا عادی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے نشہ کرتا ہے تو اس کا اثر اس کے بچوں پر پڑتا ہے. پہر آہستہ آہستہ اس کے بچے بھی اسی نشے کی عادی بن جاتے ہیں. والدین کبھی نہیں چاہیں گے کے اس کی اولاد نشہ جیسی بری عادت میں مبتلا ہوجائے. والدین تو چاہتے ہیں اس کی اولاد ایسے برے کاموں سے دور رہیں. تو اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی اولاد کو صحیح راستہ دکھائیں یا غلط یہ سب ان تمام والدین پر فرض ہوتا ہے.

    ہم امید کرتے ہیں وہ تمام والدین جو سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوچکے ہیں. وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیئں گے. میں ان تمام والدین کو ہاتھ جوڑ عرض کر رہا ہوں اپنا نہ صحیح اپنی اولاد کا خیال کریں اپنی اولاد کو بری عادتوں سے بچائیں. سب پہلے تو آپ خود اس بری عادت سے جان چھڑوائیں اگر آپ بہت دور نکل چکے ہیں آپ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ رہی تو کم از کم اپنی اولاد کو اس بری عادت سے دور رکھیں. اپنے بچوں کو بری عادتوں سے محفوظ رکھیں.

    @shamsp6

  • کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992

    ایک تاریخ ساز لمحہ جسے دوہرانے کا خواب ہم ہر چار سال بعد دیکھتے ہیں مگر نامراد لوٹتے ہیں۔ 1992 کا عالمی کپ جیتنا بے شک پاکستانی تاریخ کے چند عظیم ترین اور قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔

    بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا تکا لگا یہ بالکل غلط بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈکپ سے قبل پاکستانی ٹیم شدید انجری مسائل سے دو چار ہوئی دو ورلڈ کلاس کرکٹرز اور میچ ونرز سعید انور اور وقار یونس انجرڈ ہو کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے عمران خان کو کندھے کا مسلہ تھا اور وہ باؤلنگ نہیں کروا پا رہا تھا۔ وسیم اکرم فارم میں نہیں تھا سلیم ملک بھی آؤٹ آف فارم تھا جاوید میانداد بھی کافی عرصے بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آیا تھا۔

    یہ صورتحال یقینی طور پر انتہائی تشویشناک اور خطرناک تھی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ پچھلے تین سال میں پاکستانی ٹیم دنیا کی دوسری کامیاب ترین ٹیم چل رہی تھی۔ اس عرصے میں صرف آسٹریلیا کا ریکارڈ پاکستان سے بہتر رہا تھا۔

    تو ایک انتہائی تگڑی اور شاندار مگر ٹوٹی اور بکھری ٹیم کو بس واپس جوڑنا تھا اعتماد دینا تھا اور یہ فریضہ عمران خان نے بخوبی سر انجام دیا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب جانتے ہیں

    تحریر: انس حفیظ

  • مرد مجاہد .  تحریر: سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد . تحریر: سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے 5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اورپہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈربن کر ابھرے عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندارکپتانی کیریئرکا آغازہوا

    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کوانڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کوانگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے
    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اورعمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پرزوردرخواست پرعمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور؛کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انوراور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اورپاکستان فائنل میں پہنچ گیا فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغازہواعمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اورفاتحانہ اننگ کھیلی. میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امرہوگئے.

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھرمیں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین

    @Patriot_Mani

  • خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    مودی اجیت ڈوول اوراین ڈی ایس نے مل کر اس خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کا جو پلان بنایا ہے وہ بہت حطرناک ہے تاشقند کے اندر پاکستان کے سامنے بیٹھ کردس ہزارجنگجو افغانستان بھجنے کا الزام لگانا اور بھارت سے فوجی مدد لینے کا عندیہ دینا دراصل را اوراین ڈی ایس کا نیا پلان ہے جو وہ اگلے آنے والے دنوں میں رچانے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ سارا اسٹیج تیار کیا جارہا ہے. مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت نے افغانی ایما پر اپنے تین ہزار فوجی کابل میں پہنچا دیے ہیں جو بلکل فوجی وردیوں میں نہی ہیں.

    بلکہ ان کو افغانی وردیاں پہناٸی جاٸیں گی اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ ویڈیو بلکل تیارکرلی گٸی ہیں جن میں افغانی جو بھارتی پے رول پہ ہیں انہوں نے یہ ساری سٹوری ایڈٹ کرلی ہے جس کے مطابق ان ویڈیو میں عورتوں کو بڑے بے رحم طریقے سے مارا جاۓ گا ان کو سنگسار کیا جاۓ گا فوجیوں کے گلے کاٹے جاٸیں گے اور پھر وہ ایجنٹ خود کوطالبان بنا کر پیش کریں گے یوں طالبان کے خلاف بھارت بہت بڑی سازش رچنے جا رہا ہے کیونکہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی پابندی کریں گے یوں برطانیہ یورپ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہیں.

    اس وقت ٹی ٹی پی پاکستان بلوچ ریجمنٹ اورداعش کے تمام سربراہ بھارت کے اندر موجود ہیں اور اجیت ڈوول کے زیراثرہرقسم کی دہشت گردی میں اس خطے کودھکیلنے کے لیے تیارکھڑے ہیں. اس لیے پاکستان مکمل طور پر ان کے ان کاٶنٹرکے لیے تیار ہے یہ پچھلے کٸی دنوں سے ہمارے فوجیوں پر حملے بہت زیادہ بڑھ گٸے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے ۔ مگریہ سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جہاں ان کی سچ حتم ہوتی ہے وہاں سے مارخور اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو قیامت تک قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین

    Femikhan_01

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    گزشتہ دنوں عمران خان ایشائی ممالک کی ایک تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچے کانفرنس کے بعد انہوں نے مشہور مسلمان فاتح ” امیر تیمور ” کی قبر پے حاضری دی اور دعا کی "امیر تیمور” تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا چنگیز خان اورامیر تیموردونوں کا جد امجد تومنہ خان تھا. تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا وہ سمرقند کے قریب ایک گاؤں ’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے تیموردریائے جیحوں کے شمالی کنارے پرواقع شہرسبز(جس کو کش بھی کہتے ہیں) 1336ء میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت چغتائی سلطنت میں شامل تھا جو زوال پزیرتھی چغتائی حکمران بے بس ہوچکے تھے اورہرجگہ منگول اور ترک سرداراقتدارحاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔

    تخت نشین ہونے کے بعد اس نے صاحب قران کا لقب اختیارکیا۔ (علوم نجوم کی رو سے صاحب قران وہ شخص کہلاتا ہے جس کی پیدائش کے وقت زہرہ اور مشتری یا زحل اورمشتری ایک ہی برج میں ہوں۔ ایسا شخص اقبال مند، بہادراورجری سمجھا جاتا ہے مجازاً اپنے دورکا عظیم ترین حکمران)۔

    تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ تیمور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا وہ ایک ہاتھ میں تلوار اُٹھاتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا، اسلام کا یہ بہادرسپوت 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا اس کی لاش سمرقند لاکر دفنائی گئی لڑائیوں میں زخم کھانے کی وجہ سے تیمورکا دایاں ہاتھ شیل ہوگیا تھا اوردائیں پاؤں میں لنگ تھا اس لیے مخالف مورخین اس کو حقارت سے تیمورلنگ لکھتے تھے۔

    @HasiPTI