Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    محمد علی جناح کے بعد کوئی بھی ایسا حکمران نہیں آیا جو خودار اورغیورہو۔ لیکن پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب پاکستان کا وزیراعظم عمدان احمد خان نیازی ہے جو امریکہ جیسے سپر پاور ملک کو بھی "نا” کرنا جانتا ہے ۔عمران خان نے نہ صرف امریکہ کو ” do more ” سے "No more ” سکھایا بلکہ سینا تان کر امریکہ کو کہا کہ اب پاکستان امریکہ کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور کسی قسم کی ملٹری سہولت فراہم نہیں کرے گا اور صاف الفاظ میں امریکہ کو ہوائی اڈے رینے سے انکار کردیا ۔

    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اس سے پہلے کشمیر کے مسلئے پر بھی خان نے ثابت کیا کہ وہ ایک خوداراورغیرت رکھنے والا انسان ہے۔ اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے جب خان نے للکاردی تو آدھی دنیا کئی دن تک حیران رہی کہ شائد اب پاکستان ایک خودارملک بن چکا ہے ،کیونکہ یہ وہی پاکستان تھا جہان امریکہ جب چاہتا کرتا تھا ۔ دڑون حملے کر کے ہمارے ہی پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا گیا لیکن ہمارے حکمران صرف تماشا دیکھتے رہے۔ ریمنڈ دیوس دن کی روشنی میں لوگوں کو کچل کر چلا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران تو سوئے ہوے تھے ۔

    ہمارے ایک وزیراعظم کے امریکہ ائیرپورٹ پرکپڑے اتارے جاتے لیکن ہماری غیرت تب بھی نا جاگ سکی، کیونکہ ان حکمرانوں کے زاتی مفادات آڑے آجاتے تھے جب بھی قومی غیرت پربات آتی تھی ۔ اللہ کا کرم ہے کہ اب عمران خان جیسا لیڈر تخت نشین ہے جس کے لیے سب سے برھ کر اس ملک و قوم کا وقار ہے ، خان کی نظر میں أسکی غیرت پاکستان کی غیرت سے جڑی ہوئی ہیں ۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تو پہلی بار دیکھ رہے کہ کوئی حکمران برابری کی بات کرتا ہے ۔جب سے خان کی حکومت آئی ہے کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ۔خان نے سب کے ساتھ ویسے ہی سلوک کیا جیسا وہ حقدار تھا ۔مودی کو اسی کی زبان میں بار بار سبق سکھا رہا ہے خان اور جب کبھی بھی عالمی فورم پر آمنا سامنا ہو جائے تو ان سے ہاتھ تک نہیں ملاتا خان کیونکہ پہلے دن سے ہی خان نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے ۔

    خان کے اس انداز کی وجہ سے خان کی مقبولیت دنیا کے ہرکونے تک پہنچ رہی ہے یہی نہیں بلکہ خان کو ” The Muslim world of year ” کا خطاب مل چکا ہے ۔خان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اسکی کھوئی ہوئی عزت واپس مل رہی ہے ۔ایک قوم مہنگائی ،کرپشن تو برداشت کر سکتی ہیں لیکن کبھی بھی اپنی عزت اپنے وقاراور ملک کی خوداری پرآنچ نہیں آنے دیتی ۔

    دعا ہے کہ پاکستان کی عزت ،پاکستان کا وقار ،پاکستان کی خوداری ہمیشہ ہمارے زاتی مفادات سے اوپر رہے ۔
    اللہ اس ارض پاک کو ایک خودمختار قوم بنائے آمین ۔

    @AsimISF_

  • افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    جب ہم یہ کہتے تھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دشمنوں کے لئے بیس کیمپ بن گئی ہے تو ہمارے لبرل اورقوم پرست دوست بھد اڑاتے تھے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے لے کربلوچ علیحدگی پسندوں تک، ایران کے ایجنٹوں سے لے کر ہندوستانی دہشت گردوں تک سب ان کی چھتری تلے بیٹھے تھے۔ ہندوستان نے اربوں کی فائنانسنگ کابل اوردیگر شہروں میں کی تھی، کیونکہ پاکستان میں دراندازی
    کے لئے افغانستان سے بہتر کوئی رستہ ممکن ہی نہیں۔ غرض ہمارے گوناگوں دشمنوں نے وہاں پرڈیرے ڈال رکھے تھے۔

    یہاں پرایک اوربات بھی سامنے رہے پچھلے چند سالوں میں کے پی سمیت بلوچستان میں کثرت سے لوگ سامنے سے گم ہورہے تھے۔ ہرایرا غیرا نتھو خیرا پاکستانی حساس اداروں اورایجنسیوں پربلا امتیاز ذمہ داری ڈال رہا تھا۔ لاریب کہ ہمارے اداروں نے بھی اس جنگ کے دوران بہت زیادہ زیادتیاں کی ہیں۔ اسلام پسندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا۔ ۔جس پرکسی درجہ میں بھی شک ہوا اورجو کسی قدربھی کسی قسم کی عسکریت یا تحریکیت میں شامل رہا تھا، اسے اٹھا کرہی چھوڑا کچھ چھوٹ بھی گئے، کچھ ہمیشہ کوغائب کردئے گئے۔ اس وقت ان کے اس عمل کا دفاع نہ مقصود یے، نہ ممکن ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست اورواقعیت پرمبنی ہے کہ ہرگم ہونے والے کو اغوا بھی نہیں کیاجاتا تھا بلکہ بہت سارے سرحد پارپناہ لیتے تھے اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔

    یہ بات یوں چلی کہ آج ایک بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ یہ پناہ گزین کون ہیں؟ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ وہ غائب شدگان ہیں ،جن کا الزام ہماری پاکستانی ایجنسیوں پرلگایا جاتا تھا۔ اب معاملہ کھل رہا ہے کہ یہ حضرات افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے شہزادگان عالیشان کا قبضہ وسیع ہوتا جائے گا، چیاو چیاؤ کرنے والوں کی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ عالیشان کی یہ ایک کرامت کیا کم ہے کہ ان کے ابھرتے ہی پاکستان دشمن اپنے ٹھکانے ظاہرکرنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ ان سب کا یوم حساب قریب آتا جائے گا۔

    @IamRahiii

  • گڑیا . تحریر: محسن زید

    گڑیا . تحریر: محسن زید

    وہ اپنا بدبودارجانوروں جیسا وجود لے کرگڑیا کے اوپرجھک رہا تھا اورگڑیا جیسے ایک لاش کی مانند آنکھوں میں پانی کا سمندر لئے چھت کو گھور رہی تھی منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن اندر دنیا جہاں کا شور تھا، نام تھا یاسمین ابا پیارسے گڑیا کہتے تھے، پھر گھر والے رشتہ دارمحلے والے سب گڑیا کہنے لگے، گڑیا تین بھائیوں اوردو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، باپ قدرت اللہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا ماں ایک سیدھی سادھی گھردارخاتون تھی قدرت اللہ کی بات ماں کیلئے فرض ہوا کرتی تھی، وقت گزرا گڑیا نے بھی باقی بہن بھائیوں کی طرح گاؤں میں موجود پرائمری سکول سے پانچویں پاس کی اورگھر داری میں مصروف ہوگئی،

    ابا کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی گڑیا کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھے، لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی قدرت اللہ عشاء کی نماز پڑھا کر واپس گھرآیا لیکن صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھ نہ سکا، گڑیا کیلئے یہ دکھ آسمان کے پھٹ جانے سے کم نہیں تھا اسکا باپ ہی تو گھر میں ایک انسان تھا جو گڑیا سے پیار کرتا تھا اسکا ماتھا چومتا تھا، گڑیا بڑی ہورہی تھی جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی اس نے شرم و حیاء کو اپنائے رکھا اسکی خواہش تھی اسکا پیار اسکی محبت چاہت اسکے وجود اور روح کا مالک اسکا شوہر ہو بس،
    ایک دن گڑیا کی ماں نے بتایا کہ کل کوئی دور پرے کے رشتہ دار آرہے ہیں تمہیں دیکھنے گڑیا نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی، وہ آئے اور رشتہ پکا ہوگیا ، گڑیا سن رہی تھی کہ وہ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں،

    خیربڑے بھائیوں اور ماں نے شادی کی تاریخ تہہ کردی، شادی ہوگئی گڑیا کے بھائیوں اورماں نے صرف ایک ہی بات سمجھائی کہ اب تمہارا وہی گھر ہے تمہارا شوہر تمہارا خدا ہے تمہاری ساس تمہاری ماں ہے تم کبھی زندہ انکو دکھ دے کراس گھرمیں واپس نہیں آنا وہ جو بھی کہیں جیسے بھی ہو اب تمہارا مرنا جینا وہی ہے، شادی وہی روائتی انداز میں ہوئی دن گزرتے گئے شادی کے چھ ماہ تک کوئی اولاد جیسی خوشی گڑیا کو نصیب نہ ہوئی تو ساس نے باتوں باتوں میں سنانا شروع کر دیا، نندوں نے بھی اپنی زبان کی مٹھاس دیکھانا شروع کر دی، گڑیا کہاں جائے کس سے کہے۔؟

    خیر ایک دن ساس نے صاف کہہ دیا بات سن کڑیے بہت ہوگیا اب ہمیں اولاد چاہیے ورنہ اپنے گھر والوں کو بُلا وہ تمہں لے جائیں ہمیں یہ بانجھ عورت نہیں چاہیے، گڑیا نے بھری آنکھوں کیساتھ اپنے شوہرکی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے چارپائی پربیٹھا ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، صبح ہوتے ہی ساس بولی چل ساتھ والے گاؤں ایک بابا جی ہیں تمہیں لے کرجانا ہے وہاں بہت پہچے ہوئے ہیں گڑیا چپ کرکے اپنی ساس کے ساتھ چل پڑی، وہاں کافی عورتوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا بدشکل اوربدبودار کپڑے پہنے ایک بابا بیٹھا تھا گڑیا اسے دیکھ کر ہی اندر سے ڈرگئی تھی لیکن کیا کرسکتی تھی،

    خیر جب لوگ چلے گئے بابا جی نے گڑیا کی طرف بڑی بھوکی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکی ساس سے پوچھا کیا مسئلہ ہے مائی،
    وہ بولی بابا جی یہ میری بہو ہے دو سال سے بچہ نہیں ہوا، بابا جی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے بولا بس یہی بات۔؟
    گڑیا سہم گئی بابا جی نے کہا چلو اٹھو لڑکی اس کمرے میں چلو، تم پر کوئی جادو ہے اسکا توڑ ضروری ہے،
    گڑیا نے سہمی نظروں سے ساس کی طرف دیکھا ، ساس نے فوراً ایسے انداز سے گڑیا کی طرف دیکھا کہ تم ابھی تک گئی کیوں نہیں،
    گڑیا ڈرتے ہوئے بھاری قدموں سے کمرے میں چلی گئی،

    بابا کمرے میں آیا اندر سے دروازہ لاک کیا گریا ڈر کے مارے کاپنے لگی بابا پاس آیا اپنے گندے دانت دیکھاتے ہوئے بولا تیرا بندہ ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اولاد دے سکتا ہوں یا پھرتیرے ساس تمہیں طلاق کروا دے گی تو تم ہوتی رہنا زلیل دنیا بھر میں، گڑیا جو سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی اسکے کانوں میں غریب بھائی اور بوڑھی ماں کی آواز گونجنے لگی کہ کبھی واپس مت آنا وہ جو کہیں وہ کرنا ،
    گڑیا دنیا جہاں کے شورکے درمیان زندہ لاش کی مانند بیٹھی تھی جس نے کبھی اپنے مرد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کو اپنا ہاتھ تک نظر آنے نہیں دیا تھا اسکا وجود ڈھیلا ہونے لگا وہ سیدھی زمیں پرلیٹ گئی۔

    @mohsin__zaid

  • مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے، MBA شوہردوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اورحقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اوررات کی طرح جانتی ہے۔

    جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے، جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کرمسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے ” کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ ” اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے،  جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پراس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

    پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟ موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اورشیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟ 

    کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اورامین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟ جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.

    تحریر ۔۔ حنبل ریاض
    Twitter @Iamhunbli

  • پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، اکثر ہمارے خاندان میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہے جو مکھن لگاتے ہے، جن کو اکثر لوگ پالیشیا کہتے ہے ان لوگوں کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردارہوتا ہے اچھا بھی اوربرا تو بہت ، اکثر اوقات یہ پالیشیے ہمارے ڈیروں میں اور بڑوں کے آگے پیچھے بہت ہے خاص کرجو لوگ پولیٹکس میں ہے ان کا کام ہرغلط کام میں حصہ داری ہوتا، وہ کام ان پولیٹیشن کو پتہ بھی نئ ہوتے جو یہ لوگ سرانجام دیتے، ہرادارے میں اِن لوگوں کے کارِے خاص ہوتے جن سے یہ ہر طرح کا کام نکلواتے،
    بلیک میلنگ سے لے کر رشوت تک اِن کا ہاتھ ہوتا، اِن کی پہچان اُس پولیٹیشن سے بھی زیادہ ہوتی،

    جیسے کہ ہمارے گاؤں کا ایک فیقہ مارسی سے آج میاں رفیق اس کا بھی اِس (پالیشیے ) لفظ سے بہت قریب کا تعلق ! فیقہ ایک گاؤں میں چوہدریوں کا چھوٹا موٹا کام کرتا اُسی کام میں وہ ضلع کے پولیٹیشن کا سکیورٹی گارڈ بن گیا اِسی طرح سے وہ لوگوں سے رشوتے لے کے آج اور کل اور اپنی رِشوت خوری کی ترقی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ سٹی جا بسا اورمکھن اس نے بڑے افسران کے لئے تیار کیا اور انکو لگاتا گیا وہ میاں رفیق کالونیوں کا مالک بن گیا ، اُس نے بہت سے جلسوں میں اپنے مالکان کے لیے لیترکھائیں لیکن آج تک اس نے پالیش نئ چھوڑی !!

    یہ سب کہنے کا مطلب آج کا ہر انسان اِن جیسوں کو دیکھ کے پالش کا عادی ہو چکا ہے اپنے مطلب کے تحت حق پے لڑنے کی بجائے ہم پالش کو زیادہ ترجیح دیتے اور سوچتے یہ کام وہ ہمارا جلدی کروا لے گے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا بس آپ کی امید ہوتی کہ اِس بندے کی پہچان یا رتبہ زیادہ لیکن اِس بات کی حقیقت میں کوئی سچائی نئ ہوتی اگر آپ لوگ حق پے ڈٹ جائیں تو اُس انسان سے کہی درجے اچھا اپنا کام کروا سکتے اور ہمارا ملک بہتری کہ طرف آسکتا رشوت کا خاتمہ ہو سکتا بس آپ لوگ اپنے اندر ہمت پیدا کرے ہمارا آج کا نوجوان بھی ان جیسوں کو دیکھ کے کسی نا کسی کے پیچھے لگا ہوا اپنی پہچان کھو بیٹھا، آپ اپنے اوپر مسلط کیے گئے بڑے بڑے پولیٹیشن کی زندگی دیکھ لے وہ اِس لفظ سے ہو کہ گزرے ، کچھ میٹر ریڈر تھے اور کچھ معمولی کلرک اور آج وہ ہمارے ملک اعلی کار بنے ہوئے ، انکی زندگی اس مقام تک لانے میں انکا ہاتھ نئ جتنا آپ لوگوں کا کیونکہ آپ لوگ اِن جیسوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہو جب وہ حکمران بن جاتے وہ دوسرے بڑے ممالک کی(پالش)شروع کر دیتے اور جب سے ہمارا ملک بنا اورآج تک دیکھ لے پالیشیے لفظ کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ہماری سب کی زندگی میں!!
    ہمارے ملک کی اللہ حفاظت کریں

    پاکستان زندہ آباد

    @kharal

  • قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔ قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ 10 ذی الحج ہی ہے۔

    واضح رہے کہ قربانی ہراُس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان، مرد اورعورت پرواجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)

    نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔

    نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔

    @A_Awan11

  • ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ امیرترین شہرایبٹ آباد ہے۔ ایبٹ آباد پاکستان کو اللّه کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جہاں صرف سیاحت کو فروغ دے کرپاکستان قرضوں کی دلدل سے آسانی سے نکل کرسکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے اس خوبصورت شہر پے قبضہ مافیا کا راج ہے۔ ایبٹ آباد کے کمیشنر ڈی سی سے لے کر ایک عام سپاہی، کلرک اورمحکمہ مال کے اندر موجود مالی اور سیپر تک سب کے سب پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں۔

    غریب لوگو کی جاهیداديں جیلی کاغذات اور انتقال کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں لوگو کو انجان رکھ کے ان کے شجرہ مکمل طور پر تبدیل کر کے جیلی کاغذات سے ذمینوں پے قبضے کیے جا رہے ہیں جن میں پٹواری، سیاست دان، محکمہ مال، اور کمشنر، ڈی سی سے سپاہی تک اکثریت لوگ موجود ہیں۔

    قانون کے رکھوالے بھی اس گیم میں شامل ہیں اگر اس قبضہ مافیا کو روکا نا گیا تو ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر تباہ ہو جاہے گا۔ جو بھی شخص پٹوار خانے کی طرف جاہے گا اور اپنی زمین پے قبضہ مافیا کو دیکھے گا تو لوگو کے درمیان خون ریز لڑاہیاں ہونگی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں کے جو کسی نے سوچا بھی نا ہو گا کیونکے ایبٹ آباد میں حویلياں شہر سے لے کر ناران کاغان تک ہر جگہ قبضہ مافیا کا راج ہے لیکن سب سے زیادہ قبضہ مافیا ایبٹ آباد شہر کے اندر ہے جہاں پٹواری، اور کمیشنر سے لے ایک عام سپاہی تک اور محکمہ مال کا عملہ مکمل طور پر پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے۔ چونکے ایبٹ آباد شہر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی وجہ سے سیکورٹی رسک ہے اس لیے اگر یہاں کے لوگو کو اس مافیا کے بارے میں علم ہو گیا تو یہاں خون ریز جنگیں ہو گی حالات حد سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

    میری حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے وال اداروں سے گزارش ہے اس مافیا کو روکے۔ ایبٹ آباد میں موجود پٹواری کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہے لیکن وه کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں کیسے ؟؟؟ پٹواری اور محکمہ مال کے اندر موجود ہر شخص کی بے نامی پراپرٹی ہے یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے؟؟؟ ان کا احتساب کرے انہیں چیک کریں کیونکے فلحال ایبٹ آباد کے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کے کیسے یہ سب مل کے لوگو کا شجرہ نسب تک تبدیل کر رہے ہیں اگر ان لوگو کو یہ سب معلوم پڑ گیا تو یہاں بھی اکثریت پٹھان قوم ہے حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر یہاں حالات خراب ہو گےتو اس سب کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔

    @AM03100

  • سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    آج کل ایک پیغام پورے ارد گرد منتقل ہو رہا ہے، جس میں محمد علی جناح (قائداعظم) اورعمران خان کے درمیان ایک مقابلے ہے. جیسا کہ محمد علی جناح اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ گئے اوراس کے بعد وہ مل کربھارت واپس چلے گئے اور وہاں اپنی پسندیدہ وکالت حاصل کی. اسی طرح عمران خان کے ساتھ معاملہ تھا وہ اپنی اعلی تعلیم کے لئے بھی انگلینڈ گئے اوراس کی تکمیل کے بعد، انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی. وہ واپس آیا اورایک کرکٹر کے طورپراپنا کیریئرشروع کردیا. اس کے بعد محمد علی جناح مسلم کو ایک غیرمسلم لڑکی کوتبدیل کر دیا اوراس سے شادی کی. لیکن بدقسمتی سے شادی طویل عرصہ تک نہیں ہوسکی تھی.عمران خان کو بھی اسی حالت کا سامنا کرنا پڑا تھا. جب ایم علی جناح نے اپنی پیشہ ورانہ کیریئر یا شاید ان کی عملی زندگی شروع کی تو اس نے اپنی راہ میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اسی طرح عمران خان کو بھی بہت مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا. ایک وقت آیا جب محمد علی جناح اتنے سنجیدہ ہوگئے کہ وہ متحدہ بھارت چھوڑ کربرطانیہ چلے گئے لیکن علامہ اقبال نے مجبور کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آ جائیں. اسی طرح عمران خان نے اسی طرح کے تخفیف کو محسوس کیا اوراپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن ضیاالحق کی وجہ سے ٹیم واپس آ کر ملک کو ورلڈ کپ سے نوازا.

    جب محمد علی جناح نے یہ محسوس کیا کہ ہندوؤں اور برادریوں کے ذیلی براعظم کے مسلمانوں کے ساتھ ایک تبعیض علاج تھا اور وہ وہاں مناسب انصاف حاصل نہیں کرسکتے تھے، اس نے تمام بھارتی نیشنل کانگریس کواچھی طرح سے بیدارکیا اوراس سے منسلک کیا مسلم لیگ اس کے بعد انہوں نے علیحدگی کے تمام مسلمانوں کوعلیحدہ ریاست کے حصول کے لئے متحد کیا، ایک ریاست جہاں جہاں تمام مسلمانوں اوردیگراقلیتیں آزادانہ طور پر ان کی زندگی رہ سکتی تھیں. ذات، رنگ، تخلیق یا حیثیت کے امتیازی سلوک کے باوجود، زیادہ تر مسلمانوں نے پاکستان کی کامیابی کے لئے محمد علی جناح کی مدد کی.

    اس وقت کوئی سندھی، پنجابی یا بلوچی نہیں تھا، ہر ایک کا واحد مقصد تھا اور یہ ایک آزاد ریاست تھا جہاں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی خاص اصولوں کے مطابق کسی بھی مداخلت کے بغیرزندہ رہ سکتے تھے. لہذا مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی اوربرطانیہ باقی مطالبات کی منظوری کے لۓ دوسرے ممالک کے ساتھ چھوڑ گئے تھے. لیکن بدقسمتی سے، محمد علی جناح کے بعد، کوئی دوسرے رہنما نہیں ہے جو کسی خاص مقصد یا خاص مقصد کے تحت مسلمانوں کو متحد کرسکتے ہیں. اگر ایسا رہنما تھا تو، مشرقی بنگال کبھی کبھی بنگلہ دیش نہ بنیں گے، وہاں بلوچستان میں جانے والی کوئی الگ ریاست تحریک نہیں ہوگی، شیعوں اور سنن کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہوگا، اور وہاں نہیں لسانی بنیاد پر مسائل ہیں. ظاہر ہے سب لوگ اس ملک کو اپنا پاکستان یا سامراجی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جو یہ نہیں ہے اور یہ نہیں ہوسکتا. محمد علی جناح نے اس اسلامی جمہوریہ ریاست کی بنیاد رکھی ہے. آج، ہمیں دوبارہ اس ریاست کو مضبوط کرنا ہوگا.

    جب عمران خان نے انتخابی مہموں کے دوران ایک تاریخی عوامی اجلاس کی صدارت کی تو انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دوبارہ بنانے کا نعرہ اٹھایا. پاکستان کو اسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے اب 1947 میں سامنا ہوا تھا. ہم اب بھی غلامی کی زنجیروں میں پابند ہیں، چاہے امریکہ یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے یا سامراجی نظام کو روکتے ہیں. عمران خان دراصل الیکٹرانکس کو منتخب کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ہونے والے خلافت کے نظام کے بارے میں لاتے ہیں. اگر عمران خان تمام مسلمانوں اور اقلیتوں کو ایک ایسی قوم کے طور پر اسلامی ریاست کی ایک چھت کے تحت جمع کرے، جہاں ذات، تخلیق، حیثیت اور فخر کی کوئی تبعیض نہیں ہوگی، جہاں کوئی بھی سندھی یا بلوچی نہیں ہے، نہ ہی کوئی سیکولر. ہر ایک کا وہی مقصد ہوگا جسے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو، عمران خان اگلے رہیں گے

    @Hanzi87

  • اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    نائن الیون کے بعد امریکہ اوراتحادیوں کی یورش کے باعث افغانستان بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکہ طالبان براہِ راست مذاکرات امن معاہدے پرختم ہوئے توافغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی۔ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہونے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دارومداربھی شورش زدہ پڑوسی ملک میں امن کے قیام پرہے مگراب حالات کسی اورطرف کروٹ لیتے نظر آرہے ہیں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اورطالبان کے مابین امن معاہدہ 29 فروری 2020 کو ہوا جس کی افغان انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ افغان قومی سلامتی کے مشیر حمدللہ محب امریکہ طالبان مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کے خلاف زہراگلتے رہے۔ امریکہ اورطالبان کو مذاکرات پرپاکستان نے آمادہ کیا تھا جبکہ حمداللہ محب پاکستان کیخلاف آج بھی بدزبانی کررہے ہیں۔ امن معاہدے پرعمل کیلئے افغان حکمرانوں کا تعاون ضروری تھا۔ وہ تو نہ صرف معاہدے کی شدید مخالفت کرتے رہے بلکہ معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحربہ آزماتے اورسازشیں بھی کرتے رہے۔

    امریکہ کا آج بھی افغانستان میں واضح عمل دخل ہے۔ امن معاہدے پرعمل کواسی نے یقینی بنایا ہوتا تو آج حالات اس انارکی کونہ پہنچتے۔ طالبان تعاون پرتیارتھے۔ ایک سیاسی سیٹ اپ آسانی سے تشکیل پاسکتا تھا۔ اب حالات پرقابو پانا مشکل نظرآتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 100 فیصد مکمل ہونے پرافغانستان میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ وہاں برپا شورش سے کیا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی اورسکیورٹی فورسزکی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک پاک افغان سرحد کے قریب حملہ کیا تھا۔ افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے باب دوستی پرپہنچے اورمرکزی دروازے پراپنا پرچم لہرا دیا۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے طالبان کے مقبوضات میں اضافہ ہورہا ہے۔ 85 فیصد علاقوں پروہ پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔ ادھرصدراشرف غنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمرجلد توڑدی جائیگی، ان سے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیں گے۔ اشرف غنی کی فوج کی حکمت عملی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو آج طالبان وسیع علاقوں اورشہروں پر قبضہ نہ کرلیتے۔ حالات اب جس طرف جارہے ہیں اس کا اندازہ برطانوی وزیر دفاع کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

    بین ویلس نے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت بنائی تو انکے ساتھ تعاون کیلئے تیارہیں۔ افغان انتظامیہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی مدد لی جا رہی ہے۔ اگرامریکہ اشرف غنی حکومت کا تحفظ نہیں کرسکا تو بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ اچھا ہے بھارتی فوج اشرف غنی کی مدد کو آئے اورافغانستان میں اپنا قبرستان بنوائے۔ بھارت افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کودتا ہے توخطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگی۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جس میں اب کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغان انتظامیہ سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو3 ارب روپے کی پاکستانی کرنسی ملی ہے۔ یہ رقم پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کی جا رہی تھی۔ بھارت کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ وہ لاتوں کا بھوت ہے۔ اس کو مشرقی بارڈر پرحملوں کا منہ توڑجواب دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندربھی اسکے گیدڑ جاسوس اورایجنٹ دھرلیے جاتے ہیں۔

    اسکے باوجود پیسے کے زور پر اسکی بزدلانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ روز داسوڈیم کی بس نالے میں گرنے سے 9 چینی ورکرز سمیت 13 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس حادثے میں دہشتگردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسی بھیانک کارروائیاں پاک چین تعلقات کو متاثراورسی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کرچکا ہے اشرف غنی اقتداربچانے کیلئے اِدھرادھرہاتھ پائوں مارنے کے بجائے حقائق کا ادراک کریں۔ رواں ہفتے دوحہ میں طالبان افغان وفد سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں۔ افغان مسئلے کے حل کا یہی ایک پرامن موقع ہے جس کا افغان انتظامیہ فائدہ اٹھا کرافغانستان میں مزید خونریزی کو روک سکتی ہے اوریہ اسکی طرف سے امن معاہدے کی مخالفت کا کفارہ بھی ہوسکتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اوربھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا سب سے بڑا مقصد اورہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا، ہمارے امن کو تباہ کرنا اوردنیا میں پاکستان کے تاثرکوخراب کرنا ہے۔

    بھارت اشرف غنی کی حکومت کے ذریعے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کر رہا ہے، اشرف غنی سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا، انہیں اقتدارختم ہوتا نظرآ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان صدر نے بے بنیاد اورجھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اشرف غنی کی طاقت ہرروزکم ہوتی جا رہی ہے، طالبان نے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ناصرف اشرف غنی کو اقتدار چھن جانے کا غم کھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی موجودہ حکومت کے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعلقات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی این ڈی ایس کے ایک کرنل کے کمپاونڈ سے تین ارب روپے برآمد ہوئے ہیں، بھارتی قونضل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں، افغان سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ اشرف غنی اپنے معاملات کو درست کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ اپنی ناکامی چھپا سکتے ہیں، نہ ہی ان کا اقتدار بچے گا اور نہ ہی وہ دنیا کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

    افغان صدر اشرف غنی نے وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ "پاکستان سے دس ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اگر بات چیت نا ہوئی تو ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ یہ امن کیلئے آخری موقع ہے”۔ اشرف غنی کا یہ بیان ایک شکست خوردہ شخص کی سوچ ہے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا ہے، ایک پوری نسل دہشت گردی کی نذر ہوئی ہے، پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو اس بات چیت میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ دنیا اس معاملے میں پاکستان کے کرداراور کاوشوں سے ناواقف نہیں ہے۔ اشرف غنی بھارتی شہ پر نریندرا مودی کا بیانیہ پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف غنی میں ہمت ہے یا وہ اتنی اہلیت رکھتے ہیں تو طالبان سے بات چیت کریں اگر بات چیت نہیں کر سکتے تو مقابلہ کریں، دنیا بھرمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا اشرف غنی کے الزامات کے بعد کانفرنس کا ملتوی ہونا امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

    اشرف غنی کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، افغان صدر امن کے دشمن کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ افغان کانفرنس ملتوی ہونے سے صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ، افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت مل کر افغانستان میں مقبول عوامی قیادت کا راستہ روک کر دہائیوں سے جنگ لڑنے والے ملک کے عوام کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں وزیراعظم پاکستان افغان صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہے۔

    افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اور قربانیاں پاکستان کی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے امن اوردہشت گردی کے حوالے سے طنزیہ سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بھی ایسا جواب دیا ہے کہ نریندرا مودی برسوں اسے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کب سے مہذب ہمسائے کی طرح رہنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں رکاوٹ ہے۔ اشرف غنی کا بیان اور بھارتی صحافی کا سوال ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی افغان صدر کی طرف سے پاکستان پرعائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی درحقیقت افغانستان کی طرف سے دراندازی ہو رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان امن کا خواشمند ہے۔پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔”یہ کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا میں امن صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو پرامن بنانے کے کام کیا ہے لیکن خطے میں بھارت کے عزائم کو نقصان پہنچتا ہے۔ طالبان کی طاقت بڑھنے سے افغانستان میں ڈمی حکومت ختم ہو جائے گی بھارت کا اثرو رسوخ کم ہو گا، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحے اور سازشوں کے زور پر پاکستان کو دیوار سے لگاتے ہوئے بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، وہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے نریندرا مودی کا یہ خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

    سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے، طالبان قیادت نے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان حالات میں اشرف غنی کے پاس الزام تراشیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بھارت پہلے سے موجود بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے ہیں ایک طرف امن پسند پاکستان ہے تو دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور دہشتگردوں کا سرپرست بھارت ہے دنیا خود فیصلہ کرے کہ اس نے امن دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اشرف غنی بھارتی اشارے پر طالبان کی امن پسند کوششوں کو متنازع بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان شااللہ پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔ افغان امن کانفرنس کی مخالف قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب ہوئی ہیں۔ تمام ممالک کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور پہلے سے زیادہ
    متحرک رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

    @Zaman_740

  • صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کا مقصد معاشرے کی برائیوں کو روکنے اورمظلوموں کو انصاف دلانے میں ہرممکن حد تک مدد کرنا اورلاقانونیت اورعلاقای مسائل پرآوازاٹھانا ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عام عوام کے مسائل حل ہونے اورمظلوم عوام کوانصاف ملنے کی راہ ہموارکی جاسکے بلا شبہ ہمارے ملک کی صحافی برادری میں جو جینوین صحافی ہیں انھیں اس مقصد میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتی کے بعض اوقات جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں لیکن جو حق سچ کے متلاشی نڈرصحافی ہیں وہ اپنے مقصد پرڈٹے رهتے ہیں ان کے لئے ہی غالبا شاعرنے کہا ہے جوڈٹے ہوے ہیں محاذ پرمجھے ان صفوں میں تلاش کر.

    جیسا کے میرے کالم کا عنوان ہے میں بات کر رہا ہوں صحافت کا لبادہ اوڑھے ان صحافیوں کا جونام کے صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے کی تذلیل کر کے رکھ دی ہے جن کا مقصد بلیک میل کر کے اپنے کام نکلوانا ہے اوربدقسمتی سے پاکستان میں ایسے قلم فروش نام نہاد صحافیوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کا اس مقدس پیشے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے
    میری تمام صحافتی تنظیموں اورحکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے امان دارپڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہو اورقلم فروش بلیک میلرصحافیوں کی حوصلہ شکنی ہو.

    @Majidjampti