Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک وہند میں 1858ء میں ہوا اوربرطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیرکے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اسلئے ہمارے پاس ‘پاسنگ مارکس’ 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں 2 سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کیلئے پاسنگ مارکس 33 کر دئیے گئے اورہم 2021ء میں بھی انہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کوتلاش کرنے میں مصروف ہیں.

    جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے اور وہ ‘اخلاقیات’ اور’آداب’ ہیں، حضرت علیؓ نے فرمایا: ‘جس میں ادب نہیں، اس میں دین نہیں مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اورہمیں ابھی تک انکی یہ بات معلوم کیوں نہ ہوسکی بہرحال، اس پرعمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے ہمارے ایک دوست جاپان گئے اورایئرپورٹ پرپہنچ کرانہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اورپھرانکو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔

    یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

    آپ یقین کیجئے استادوں کوعزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کوعزت دیتی ہے اوراپنی آنیوالی نسلوں سے پیارکرتی ہے جاپان میں معاشرتی علوم ‘پڑھایا’ نہیں جاتا کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اوروہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کیساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں، جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بچے اوراساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنیکے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول، بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اورچھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ‘پبلشرز’ بن چکے ہیں÷

    آپ تماشہ دیکھیں جوکتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پرنقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پرچھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اورچھپے ہوئے مواد کوامتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پرنشانات لگواتے ہیں اورخود ہی پیپربناتے ہیں اورخود ہی اسکو چیک کر کے خود ہی نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونیکا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اورقابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جنکے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پرافسوس کرتے رہتے ہیں اوراپنے بچے کو ‘کوڑھ مغز’ اور’کند ذہن’ کا طعنہ دیتے رہتے ہیں.

    آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اورچھاپنے کے؟
    ہم پہلی سے لے کراوردسویں تک اپنے بچوں کو ‘سوشل اسٹڈیز’ پڑھاتے ہیں اورمعاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اورسمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ‘سوشل’ ہونا سیکھا ہے؟ سکول میں سارا وقت سائنس ‘رٹتے’ گزرتا ہے اورآپکو پورے ملک میں کوئی ‘سائنسدان’ نامی چیزنظرنہیں آئیگی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ‘سیکھنے’ کی اورخود تجربہ کرنے کی چیزہے اورہم اسے بھی ‘رٹّا’ اور ‘گھوٹا’ لگواتے ہیں.

    ہمارا خیال ہے پالیسی ساز، پرنسپل، اساتذہ اورتمام اسٹیک ہولڈر اس ‘گلے سڑے’ اور’بوسیدہ’ نظام تعلیم کو اٹھا کرپھینکیں بچوں کو’طوطا’ بنانے کے بجائے ‘قابل’ اور’باشعور’ بنانے کے بارے میں سوچیں.

    @balouch_shafqat

  • ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    اسی ظلم و بربریت، اکثریتی مذہب کی شدت پسندی اورحکومتی تانا شاہی کا نشانہ اترپردیش میں واقع دادری کے محمد اخلاق کوبنایا گیا۔ 2014 میں محمد اخلاق کو اسکے فریزرمیں گائے کا گوشت ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک ہجوم نے قتل کردیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریزرتومحمد اخلاق کے گھر میں تھا تو ان شرپسند دشمنوں، آرایس ایس کے چڈھوں اوراکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے غنڈوں کو اس بات کا کیسےعلم ہوا کہ موصوف کے فریزرمیں گائے کا گوشت موجود ہے؟ اس بات کا ان حضرات کے پاس کوئ جواب موجود نہیں ہے کیونکہ یہ ایک بے بنیاد الزام تھا لہذا معلوم ہوا کہ انکی خطا صرف اورصرف مسلمان ہونا تھی؟ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکوانصاف ملا؟ قاتلوں کوانکے ظلم و قتل کی پاداش میں جیل بند کیا گیا ؟ اگرنہیں توکیا فقط اس وجہ سے کہ قاتل ہندو تھے؟ تمام سوالات کے جوابات کا انتظارکریں.

    اسی مآب لنچنگ کا نشانہ اخباری رپورٹ کے مطابق سنہ 2020/ ستمبر میں بریلی میں 32 سالہ مسلم نوجوان باسط علی کو انتہا پسندوں، غلیظ و ناپاک سوچ رکھنے والے غنڈوں کے ایک ہجوم نے چوری کے شک میں بری طرح زدوکوب کیا، ان پرلوہا چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کرکے ہندو شدت پسندوں بالفاظ دیگر بی جے پی و آرایس ایس کے لیٹرنگ جیسے چڈھے پہننے والے غنڈوں نے کئی گھنٹے تک درخت سے باندھ کررکھا اورجم کراس کی پٹائی کی، اس واقعے کی اطلاع جب پولس کو ملی اورپولس موقع واردات پرپہنچی تو ہجوم نے باسط کو پولس کے حوالے کردیا، اس واقعے کا دل کو دہلا دینے و بے چین کردینے والا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوا، ویڈیو میں نظرآنے والا شخص باسط علی ہی ہے، ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کودرخت سے باندھ دیا گیا ہے، زدوکوب کے درمیان وہ چیختے و چلاتے ہوئے مدد و نصرت کی فریاد کررہا ہے لیکن موقع پرموجود لوگ اسکو سنی ان سنی کرکے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ کئی لوگ تومسکراتے ہوئے ہونٹوں سے موتیاں بکھیرتے ہوئے بھی نظرآرہے ہیں اورآپس میں بات چیت کررہے ہیں.

    اس دوران کچھ لوگ مظلوم و بے قصورباسط علی کے پاس آئے ضرورمگروہ بھی صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ویڈیو وتصاویرلیکر واپس لوٹ گئے، ایک رپورٹ کے مطابق پولس نے بتایا کہ پٹائی کرنے کے بعد کچھ لوگ باسط کو تھانہ لیکرآئے، یہاں وہ لوگ بھی پہنچے جن کے سامان چوری ہونے کےالزام میں اس کو زدوکوب کیا گیا تھا، پولس اسٹیشن میں ان لوگوں نے کہا کہ چونکہ ان کا سامان واپس مل گیاہے اورباسط ان کا پڑوسی ہے، لہذا وہ شکایت درج نہیں کرانا چاہتے، پولس اسٹیشن میں مبینہ سمجھوتے کے ایک گھنٹے بعد باسط نے چیختے و چلاتے ہوئے وہیں دم توڑ دیا اورزندگی کی جنگ ہارگیا، مقتول کی ماں نے میڈیا سے کہا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ باسط کو کچھ لوگ پیٹ رہے ہیں، تومیں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو اسے بچانے کےلئے کہا لیکن وہ اتنا ڈرگیا تھا کہ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکو انصاف ملا ؟ اور کیا یہ الزام درست تھا ؟

    تمام جوابات کا انتظار کریں

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    جون ایلیا صاحب ہمارے دورکے بہت بڑے شاعر گزرے ہیں وہ ایک مزاحیہ بات کرتے تھے جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے خاص طورپر ان لوگوں کیلیے جو تاریخ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں نہ کہ معاشرتی علوم میں ۔
    ‘پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی’

    نیا پاکستان ایچی سن کے لونڈوں کی شرارت ہے ۔جن کو نہیں پتہ ان کو بتا دوں کہ ایچی سن لاہور کا ایک اعلیٰ شاندارشاہی قسم کا کالج ہے جو دوسوایکڑ کے رقبے پرمحیط ہے۔ 1886میں انگریزوں نے امرا، اشرافیہ، جاگیرداروں اوراعلی سرکاری طبقے کے لیے بنایا تھا اوراب تک یہ روایت چلی آرہی ہے۔ جہاں پرنصابی اورغیر نصابی سرگرمیاں بھرپورطریقے سے کروائی جاتی ہیں ۔ ایسا ملک جہاں پینےکا صاف پانی نہیں اورصحت کی بنیادی ترین سہولیات میسرنہیں وہاں ہم ایسے کالج کی بات کررہے ہیں جس کا نام ایچی سن کالج لاہور ہے ۔

    اس وقت حکومت میں شامل لوگوں کی بات کریں تواکثریت اسی کالج کے فارغ التحصیل ہیں ۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان، سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ شاہ محمود قریشی، پرویزخٹک، خسروبختیار، حاضر سپریم کورٹ کے چارجج ایچی سن کالج کے پڑھے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں بہت سے اہم لوگ جو یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اعلی عہدوں پربیٹھے رہے ہیں ان میں فاروق لغاری، اعتزاز احسن، فیروزخاں نون، ایازصادق، اکبربگٹی، فیصل صالح حیات، غلام مصطفی کھروغیرہ ۔

    کچھ مہینے پہلے ایک والدین نے اپنے بچے کو ایچی سن داخل کروانے کی درخواست دی اوردرخواست یہ کہہ کر رد کردی جاتی ہے کہ آپکی سالانہ آمدن اٹھارہ لاکھ روپے ہے اس لیے آپ ہمارے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ مطلب ایک آدمی جسکی ماہانہ آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے ہیں وہ اس کالج میں پڑھنے کا ایل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کے لوگ حکمرانی کرنے کیلیے آتے ہیں۔

    ایک جاگیردار، دوسرےبیورکریٹ، تیسرےفوجی افسر۔

    وہ لوگ جو ہماری طرح کسی سرکاری سکول یا کالجزمیں پڑھتے ہیں اوربعد میں بیس ہزارکی نوکری کی خاطرساری زندگی داو پرلگا دیتے ہیں۔ ایک معمولی نوکری کیلیے دن رات ایک کرتے ہیں نیند قربان کرتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہوتی ہے ہم کو وہ ماحول اورتعلیم کی آسائشیں حاصل نہیں ہوتی جوکسی جاگیرداریا اعلی سرکاری شخص کے بیٹے کو حاصل ہوتی ہیں ۔

    معذرت کے ساتھ ہمارے ملک کی تمام سرکاری جامعات میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ہمیں ایچی سن یا لمزکے برابرلا کھڑا کرے۔ انہی نرسریوں سے یہ بڑے ہوکرباہرتعلیم حاصل کرتے ہیں اورواپس آکراعلی عہدوں پربراجمان ہوتے ہیں اورہم پرحکمرانی کرتے ہیں ۔

    اگرآپ کو یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لیں کتنے لوگ ہیں جو ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھ کرحکمران بنے ہوں، جوکسی مزدورکا بیٹا سینٹربنا ہو، کسی ریڑھی بان کی بیٹی آرمی میں اعلی عہدے پرہو، کسی مزارعے کے بیٹے نے سی ایس ایس ٹاپ کیا ہو۔ آپ کو یہ مثالیں کہیں نہیں ملیں گی۔ امیرکا بچہ امیرہی رہتا ہے اورغریب کا بچہ غریب ہی. ہمارے ملک میں دو طبقے پیدا ہوئے ہیں ایک وہ جنہوں نے غربت کھڑکی سے دورکہیں ناچتی دیکھی ہے دوسرے وہ جو گلے تک غربت کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

    انہی کلاس کے لوگوں نے ملک کے اہم اداروں میں پنجے گاڑھے ہوئے ہیں وہ ملٹری ہو، عدلیہ ہو، بیورکریسی ہو یا سیاست ہو۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم ایچی سن، لمزیا آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ اس سے شاہد ہم بھی اپنے ٹوٹے بکھرے خوابوں کو جوڑ لیتے۔ میرے جیسے ہزاروں نوجوان جو اپنی پہچان چاہتے ہیں جو ملک و معاشرے کیلیے کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ خواب اپنے سینے میں دفنا کرمرجائیں گے۔

    @saimmustafa9

  • عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    راولپنڈی سے 22 میل دور، شمال مغرب کی جانب ایک قدیم شہر’ٹیکسلا‘ آباد تھا۔ 326 ق م میں سکندراعظم نے اس شہرپرقبضہ کیا اوریہاں پانچ دن ٹھہرا۔ یہیں راجا امبھی نے سکندر کی اطاعت قبول کی، جس کے بعد سکندرراجا پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پہنچا۔ باخترکے یونانی حکمران دیمریس نے 190 ق م میں گندھارا کا علاقہ فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ مہاراجا اشوک اعظم کے عہد میں بھی اس شہرکی رونقیں پورے عروج پرتھیں اوریہ بدھ مت تعلیم کا مرکز تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مشہورچینی سیاح ہیون سانگ یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامے میں اس شہرکی عظمت وشوکت کا ذکرکیا ہے۔ یہاں گوتھک اسٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزارسکے ( جن میں بعض یونانی دورکے ہیں ) زیورات، ظروف اوردیگر نوادرات رکھے ہیں۔ ٹیکسلا میں زمانہ قبل ازمسیح کی عظیم باقیات یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    مختلف نام ٹیکسلا کا قدیم شہردریائے سندھ اوردریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ سنسکرت میں یہ تکشاسلا اورمقامی طورپر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یونانیوں اوررومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہرزمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پرملتے تھے۔ قدیم جین مندرقدیم یورپی اقوام سکندراعظم کے ہندوستان پرحملے کرنے کے وقت سے ٹیکسلا کے نام سے واقف تھیں۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں ٹیکسلا ایران کا ایک صوبہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہ شہر کم از کم سات ادوار میں مختلف نسلوں کے شاہی خاندانوں کی حکمرانی میں رہا۔
    بازار جواب کھنڈرہیں ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ کھدائی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے 1913ء میں شروع کی تھی، جو1934ء تک جاری رہی۔ پھر پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے مشہور یورپی اورپاکستانی ماہرین آثار قدیمہ یہاں کھدائی کرتے رہے۔ اس وقت جہاں خشک گھاس اورپتھر نظرآتے ہیں، وہاں صدیوں پہلے بھرے بازاروں میں انسانوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

    اسٹوپے اورخانقاہیںوادی ٹیکسلا میں کھدائی کے نتیجے میں تقریبا دو درجن سے زیادہ اسٹوپے اورخانقاہیں دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں دھرما راجیکا، جولیاں، موہڑہ مرادو، پیلاں، گڑی، بھمالا، جنڈیال، جناں والی ڈھیری، بادل پور، بھلڑ توپ، کنالہ اورکلاوان نامی مقامات شامل ہیں۔
    قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹیقدیم ٹیکسلا شہر کے کھنڈرات کے آخرمیں شہزادہ کنالہ کے اسٹوپا کی جانب ایک مرکزی اورشاندارمقام ایسا بھی آتا ہے، جو پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر دانی کے بقول وہی جگہ ہے جہاں صدیوں پہلے ٹیکسلا کی مشہور یونیورسٹی قائم تھی۔
    شہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی سے کچھ دورشہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ہے۔ اس اسٹوپے کے قریب کبھی ایک شاندارعمارت قائم تھی۔ اب وہاں صرف اس عمارت کی پتھریلی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ اس مقام اوراس کے قرب و جوار میں کھدائی سے بھی ماہرین کو بہت سے قدیم سکوں کے علاوہ مٹی اوردھات کے بنے برتن ملے تھے۔

    نازک لیکن تاحال محفوظماہرین آثارقدیمہ کو موہڑہ مرادو کے ایوان مجلس کے کمرہ نمبر نوسے ملنے والا اسٹوپا ، چونے مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن صدیاں گزرجانے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اسی خانقاہ سے ماہرین کو چونے مٹی کے بنے ہوئے مجسمے بھی ملے ہیں۔ موہڑہ مرادو سے ملنے والے دیگر نوادرات میں کھانے پینے کے برتن، گھریلو استعمال کا سامان، مختلف اوزاراورتانبے کے برتن بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا میوزیمٹیکسلا میوزیم پاکستان کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ ہری پور روڈ پر واقع اس میوزیم کا نقشہ لاہور کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے پرنسپل سلیوان نے تیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد برٹش انڈیا کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھی تھی۔ اس میوزیم میں ٹیکسلا سے دریافت شدہ 700 سے زائد نوادرات محفوظ ہیں لیکن عجائب گھر کے اندر فوٹوگرافی کی اجازت نہیں ہے۔

    سِرکپسِرکپ شہرکی تاریخی باقیات ٹیکسلا میوزیم سے قریب دو کلومیٹرکے فاصلے پرہیں۔ دوسری صدی قبل ازمسیح میں باخترکے یونانی ٹیکسلا پر حملہ آور ہوئے تو موریہ سلطنت ختم کر کے انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اورایک نیا شہرسِرکپ آباد کیا۔ یہ شہرشطرنج کی بساط کی طرزپرآباد کیا گیا تھا۔ سیدھی گلیوں اوربازار کے باعث اس کے کھنڈرات بھی بہت منفرد ہیں۔ یہ شہرایک ایسی فصیل کے اندرآباد تھا، جس میں چاردروازے تھے۔

    موہڑہ مرادوٹیکسلا میوزیم سے مشرق کی سمت قریب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر خانقاہ موہڑہ مرادو واقع ہے۔ یہ بدھ مت عبادت گاہ، مرکزی اسٹوپا اورخانقاہ کی باقیات پرمشتمل ہے، جہاں پُجاریوں کے رہائشی کمرے، ان کا ایوان، باورچی خانہ، غسل خانہ اورگودام ہوا کرتے تھے۔ باقیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس دور میں بھی کتنے تعمیراتی نظم و ضبط سے کام لیا گیا تھا۔ دو ہزارسال پرانی باقیات وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دورکا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اورواضح حالت میں موجود ہیں۔

    @HasiPTI

  • ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    علامہ اقبال نہ یہ شعربہت پہلے اس قوم کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لیے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہرکسی کی نظر کے سامنے ہیں۔ دنیا کے خیالات بھی ہم سب کے سامنے ہیں۔ کس طرح اسلاموفوبیا کے نام پرمسلمانوں کو کچلا جارہا ہے، مارا جارہا ہے انڈیا میں نفرت انتہا پرہے۔ مسلمانوں کو زلیل کیا جاتا ہے اورمسجدوں کوشہید کیا جاتا ہے غرض کے کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    دنیا کے حالات ہمارے سامنے ہیں مگر ہم مسلمانوں کے حالات پرغورکریں تو وہ مسلمان جوکہ تعلیم کے میدان میں سب سے آگے تھے اور آج مسلمان کہاں پرموجود ہیں سوچنے کی بات ہے لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے علامہ اقبال کا یہ شعرموجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے مسلمان اگرمل جائے توایک مضبوط عمارت کی مانند ہے۔

    بے شک مسلمان غفلت میں سو رہے ہیں یہ دنیا بھی جانتی ہے کہ جب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعرذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کی اس بات کی تشریخ کرتا ہے کہ اس مٹی کو نم کی ضرورت ہے اس قوم کو بیداری کی ضرورت ہے اور جب یہ قوم بیدار ہوگئی تو یہ مسلم امت مضبوط ترین قوم بن جائے گی۔

    1947ء میں پاکستان کا تصور قبول کیے جانے کے بعد قائداعظم سے کہا گیا: "Do you really believe it will become a nation. It will take fifty years.” جواب میں ارشاد کیا:”No a hundred years” قوموں کی تشکیل و تعمیرکا عمل یہی ہے۔ فروغِ علم سے اس عمل کو متواتر اورمہمیز کیا جاسکتا ہے۔ اللہ مہربان ہو تو قائد اعظم ایسے لیڈروں کی نمود سے، اپنی مثال سے جو ہجوم کی تربیت کریں۔ آخری بات یہ ہے کہ مایوسی زہرہے۔ نظراٹھا کردیکھو تو اس قوم میں ایثاراورحسنِ عمل کی مثالیں بھی بہت ملیں گی۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔ دل توڑگئی ان کا دو صدیوں کی غلامی دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا شاعرکی باقی پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو یہ بھی ہو کررہے گی۔ کریں گے اہلِ نظرتازہ بستیاں آباد مری نظر نہیں سوئے کوفہ و بغداد۔

    @Its_MuBii

  • صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    دنیا کی تخلیق کے طریقہ کارپردنیا بھرمیں اختلافات پایا جاتا ہے۔ دنیا کے ہرکونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اپنا ایک نظریہ ہے، دنیا کی تخلیق کیسی ہوئی؟

    ہرکوئی اس ضمن میں اپنی رائے کودلا ئل کے ساتھ پیش کرکے خود کو درست ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں بے شمارکتابیں بھی موجود ہیں۔ اس پرسائنس اورمذہب بھی کئی جگہوں پرآمنے سا منے آچکے ہیں ۔یہی صورتحال کچھ معاشروں کے وجود کا بھی ہے۔معاشرے کا وجود مختلف معاشرے کے اقدارمختلف معاشرے کے اصول مختلف رسم ورواج مختلف حتیٰ کہ مقاصد بھی مختلف لیکن ایک چیزایسی بھی ہے کہ جس کے بارے میں دنیا کا ہرانسان متفق بھی ہے اوردرست بھی ہے وہ یہ کہ زمین کی پیدا ئش انسان کیلئے ہوئی ہے دنیا میں کہی بھی کسی سے بھی اگرپوچھا جائے کہ کیا دنیا انسان کے رہنے کیلئے بنائی گئی ہے اس کا جواب مثبت ہوگا۔ یہ حقیقت بھی ہے.

    دوسری بات جس میں لوگ بظاہراختلافات نہیں رکھتے وہ انسان کی برابری ہے، اگرسوال کیا جائے کہ آیا دنیا کے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابرہیں؟ توفخریہ اندازمیں جواب ہاں میں ملے گا۔ یہی وہ نقاطہ ہے جہاں سے انسان کے نظریات اورمنافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے دنیا اورزمین کی پیدائش کے اختلافات کے پیچھے ہرایک کا اپنا ایک نظریہ کارفرما ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اورغلط بھی لیکن جس چیز کے بارے میں بظاہر سب کے سب انسان متفق ہے یعنی زمین انسان رہنے کی جگہ اورسب انسان برابرہیں کے پیچھے دنیا کی کثیرتعداد کی چھپی ہوئی منافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہرتیسرے اورچوتھے ملک میں ایک فساد برپا ہے، اس کے علاوہ ہرملک میں انسانوں کے مابین حقوق کے غیرمساوی تقسیم نے کہرام برپا کیا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کوخود سے بہترتصورکرتا ہے اس کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ مراعات کا حقدارسمجھتا ہے، اس نقطہ سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کا باقاعدہ آغازہوتا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی کسی بھی انسان کے مابین اختلافات اورجھگڑے کی بنیادی وجہ حق تلفی ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی خوشحال ملک یا معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ خوشحالی کہ اصل وجہ لوگوں کے مابین حقوق کی مساوی تقسیم ہے، اس معاشرے میں ان گنت مسائل اوربے چینی پائی جاتی ہے جہاں پرمساوات کی قبریں موجود ہوتی ہیں اگران حق تلفیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ رویہ کا شکل اختیارکرلیتا ہے، یہاں سے یہ مسئلہ انفرادیت سے اجتما عت کے مدارمیں داخل ہوجاتا ہے اورجب اجتماعیت کے ہاتھ میں ایک خاص رویہ پنپنا ہے تو وہ روایت بن جایا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے تجزئیے سے یہ بات بخوبی جانی جاسکتی ہے کہ ہراک روایت کے پیچھے ایک خاص رویہ مضمر ہے۔ روایات میں اپنی رویوں کا اظہارہوتا رہتا ہے، روئیے اور روایت کی بنیاد کسی قوم یا معاشرے کے حامل کردہ علوم پرہوتا ہے جو وہ حقوق کی تقسیم کے بارے میں رکھتے ہیں۔

    اگر حاصل کردہ علم زندگی گزارنے کے لئے ناکافی اورناقص ہے تو منفی رویہ بنے گا، منفی روایات بنے گئے اورمنفی معاشرے کی بنیاد پڑے گی اوراگر حاصل کردہ علم مثبت ہے اورایک بہترزندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو مساوی حقوق، مثبت رویہ، مثبت روایات اور مثبت معاشرہ بنے گا۔اس علم کی بنیاد پرمعاشرے میں ہرچیزکے بارے میں ایک خاص رویہ موجود ہے، اب اگرمعاشرے میں موجود رویے سے مسا ئل پیدا ہورہے ہیں توہمیں علم کے وہ سرچشمے بدلنے ہوں گے جن کی بنیاد پررویہ یا روایت بنتی ہے۔اب اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تکلیف دہ منفی روئیے سامنے آئے ہیں۔ان میں سے ایک منفی رویہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز ہے جس نے باقاعدہ تشدد کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کا ثبوت چند دن قبل روالپنڈی کے علاقہ ثاقب آباد میں ہونے والا واقعہ ہے۔قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ارسلان نامی جوان نے اپنی ماں پرتشدد کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں موجود منفی رویے نے ہمیں دنیا میں چھٹے نمبرپرلا کھڑا کردیا صنفی امتیازی کی بدولت ہم دنیا میں جانے جاتے ہیں ”بدنام جو ہو گے تو کیا نام نہ ہو گا“ صنفی امتیاز کوختم کرانے اورخواتین کے بارے میں قائم منفی رویوں اورروایات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کو مثبت علم دینا ہوگی ورنہ جو حالت گلنازبی بی کے ہیں وہ ہرگھرمیں موجود ہرعورت کے ہونگے.

    @AtozaiKhan

  • محب  وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    محب وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    پاکستانی قوم ایک محب وطن قوم ہے جس کے افراد دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آتی، دوسرے بہت سے بیرون ملک مقیم (Overseas Pakistani) کی طرح میں بھی گزشتہ 16 سال سے بیرون ملک مقیم میں جہاں میں نے پاکستانیوں کی حب الوطنی کی کئی مثالیں دیکھیں، جب بھی کسی پارٹی رہنما نے یہاں وزٹ کیا ہرپاکستانی نے اپنے پارٹی تعلق سے بالا تر ہو کراس پروگرام میں بھرپورشرکت کی اورکوئی ناخوشگوارواقعہ بھی کبھی پیش نہیں آیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب کے سعودیہ میں دوروں کے دوران بہت سے بڑے پروگرامات میں شرکت کا موقع ملا جن میں تقریباً تمام پاکستانی سیاسی ودینی جماعتوں کے افراد موجود ہوتے تھے، اسی طرح مستقل پاکستان واپس جانے والوں کیلئے الوادعی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، کسی بھائی کی خوشی غمی میں شرکت ہو یا کسی فرد کی نمازجنازہ کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم دیس میں نہیں پردیس میں ہیں، اگر کوئی بھائی فوت ہوجائے تواس کے پروسس میں پاکستانی ایمیبسی کی مدد درکار ہوتی ہے اورالحمد للہ جن بھائیوں کو ویلفئرسیکشن میں ذمہ داری دی ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہترین تعاون کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کواجرعظیم سے نوازیں جو پردیس میں رہ کر ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار

    یوم آزادی ہو یا یوم دفاع پاکستان یا کشمیرڈے ہویا کوئی بھی قومی دن پردیس میں موجود پردیسی اپنی گاڑیوں اپنے کپڑوں اوراپنی تیاریوں سے کسی بھی فرد جو کہ پاکستان میں موجود ہوکم محبت کا اظہار نہیں کرتا، مملکت سعودیہ میں موجود سفارتخانہ بھی ان اسپیشل دنوں کیلئے اپنے دروازے کھولتا ہے اپنے ہال میں بڑے بڑے پروگرامات ترتیب دیتا ہے، جن میں ہرپارٹی کے افراد کواظہارخیال کا بھرپورموقع فراہم کیا جاتا ہے.

  • عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    "ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ سب ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
    ﻗﺼﮧ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﮭﺎﭖ ﮐﮩﺘﮯ هیں.”

    ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ !!
    ( جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ) (بخاری و مسلم)

    یہاں میں ہم سب کی رہنمائی کے لیے ایک واقع شئیرکرنا چاہوں گی کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اورعوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگرجسمانی طورپرایک ٹانگ اورایک آنکھ سے محروم تھا ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہرمصوروں کواپنی تصویربنوانے کیلئے بلوا لیا اوروہ بھی اس شرط پرکہ تصویرمیں اُس کے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکارکردیا اوروہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویربناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم اوروہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پرکھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی معزورتھا.

    لیکن اس اجتماعی انکارمیں ایک نہایت ہی ہوشیارمصورنے کہا :
    بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویراورجب تصویرتیارہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اورشاہکار تھی۔

    وہ کیسے؟؟
    تصویرمیں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی دے رہا تھا ہاتھ میں تیرکمان تھا اوروہ گھوڑے پرسوارتھا اورشکار کرتے ہوئے اس نے ایک آنکھ بند کر رکھی تھی جس آنکھ سے وہ محروم تھا اورجس ٹانگ سے وہ معزورتھا وہ ٹانگ گھوڑے کے دوسری جانب تھی جوکہ دیکھائی نہ دیتی تھی
    اوراس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویرتیارہوگئی تھی بادشاہ نےاس مصورکو اس عیب پوشی پربے انتہا انعام سے نوازا۔

    یہ صرف کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے کیوں کہ ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویربنا لیا کریں اوراپنے رب کریم سے انعامات حاصل کیا کریں آج اس نفسا نفسی کے دور میں ہر ایک دوسرے میں مصروف ہے حالانکہ ہمارے اندر بھی بے شمارعیب موجود ہیں۔ آج ہم دوسرے مسلمانوں کے عیوب پرپردہ ڈالیں گے کل ان شاء اللہ رب رحیم ہمارے عیوب سے درگزر فرمائے گا۔ تو آج سے کوشش کریں دوسرے کے عیبوں کو چھپایا کریں گے خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اورجب بھی لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے کیونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص بھی عیبوں سے خالی نہیں بے شک

    اے انسان یہ جان لوتم کسی بشرمیں ہزارخامی اگرجودیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشرکا جو راز پاؤ یا عیب دیکھوتو چپ ہی رہنا اگرمنادی کو لوگ آئیں تمہیں کوئی کُریدیں یا تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشرمیں دیکھی برائیوں کو بیان کردو تو چپ ہی رہنا
    جواز یہ ہے دلیل یہ ہے
    ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
    بے محر ناطے کی قربتوں کو
    ہماری ساری حماقتوں کو
    ہماری ساری خباثتوں کو
    وہ جانتا ہے
    وہ دیکھتا ہے
    مگر وہ چپ ہے
    اگر وہ چپ ہے
    تو میری مانو
    وہ کہہ رہا ہے
    چپ ہی رہنا

    @BinteChinte

  • معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے دوسری درسگاہ اساتذہ کی تربیت ہے "معلم” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سکھانے والا ہے معلم قوم کا معمارہوتے ہیں معلم وہ ہے جوبے ادب کو باادب اور بے ہنرکو باہنرکردے معلم کا کردارصرف کلاس کی چاردیواری تک محدود نہیں بلکہ قوم کی ذہنی واخلاقی تربیت میں بھی موجود ہے یہ معلم ہی ہے جو طلبہ میں اخوت، مساوات، بھائی چارہ اورجذبہ حب الوطنی پیدا کرتا ہے معلم ہی طلباء میں شخصیت سازی اورکردارسازی کی بنیاد ڈالتا ہے معلم ہی نے اس دنیا کوعظیم مفکرین ماہرین دیے ”

    معلم بادشاہ نہیں ہوتا مگر وہ اپنے طلبا کو بادشاہ بناسکتا ہے معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! میں دنیا میں ایک معلم بنا کربھیجا گیا ہوں عظیم مفکر روسوں کہتا ہے کہ بچہ ایک کھلی کتاب ہوتا ہے اوراس کے ہرورق کو پڑھنا معلم کے لیے لازمی ہوتا ہے معلم ایک ایسا زینہ ہے جو خود تو ہمیشہ اپنی جگہ پررہتا ہے لیکن اس کے سہارے ہزاروں لاکھوں لوگ بلندیوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں معلم اپنے ہنراپنے فن اوراپنے علم کو طلبہ تک ایسے ہی پہنچاتا ہے جیسے ایک پرندہ اپنے بچے کے منہ میں دانہ ڈالتا ہے اسی لیے ہزاروں سالوں سے معلم کو عزت احترام اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے فاتح عالم سکندرایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل میں سے گزررہا تھا کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آگیا نالہ بارش کی وجہ سے نالہ طغیانی پرآیا ہوا تھا استاد اورشاگرد دونوں بضد تھے کہ پہلے نالہ کون پارکرے گا آخرکار ارسطو نے سکندرکی بات مان لی سکندرنے پہلے نالہ پار کیا اور پھرارسطو نے نالہ پار کرکے سکندر کوکہا کہ تم نے پہلے نالہ پارکر کے میری توہین نہیں کی کیا؟ سکندر نے جواب دیا نہیں استاد مکرم! میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتا معلم بچے سے وہاں سے امید لگاتا ہے جہاں سے دوسرے امید چھوڑ دیتے ہیں

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا استاد ہے وہ چاہے تو مجھے بیچ دے یا ساری زندگی کے لیے اپنا غلام بنا لے

    دنیا میں جس معاشرے میں اساتذہ کی عزت نہیں کی گئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے تباہ اوربرباد ی کا شکار ہوئےہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے آج کل کے پر فتن دورمیں معلم کے ساتھ جس قدربرا سلوک کیا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کبھی اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کرقتل کردیا جاتا ہے وہ معاشرہ کیا ترقی کرے گا جواساتذہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے گا
    استاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب خلیفہ وقت ہارون الرشید نے اپنے بچوں کواستاد کی جوتیاں پہنانے کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا ایک کہتا ہے کہ استاد محترم کو جوتیاں میں پہناؤں گا دوسرا کہتا ہے کہ میں "تاج رکھا ہے زمانوں نے ان کے سروں پر
    جو تھے استاد کے جوتوں کو اٹھانے والے”

    اگر ہم واقعی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اوراپنے طلبا کو صحیح معنوں میں علم دلوانا چاہتے ہیں تو "معلم”کے وہ تمام حقوق دیئے جائیں جن پر ان کا حق ہے اگر اساتذہ خوش ہوں گے وہ پریشانیوں سے دورہوں گے تو طلباء کو اچھے طریقے سے پڑھا سکیں گے اللہ رب العزت سے میری دعا ہے اللہ پاک میرے ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے جو اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکے ہیں اورآخرمیں اتنا ہی کہوں گا مجھ ناچیزکی اتنی اوقات نہیں کہ میں اساتذہ کی شان میں کچھ لکھ سکوں آج میں جو کچھ بھی ہو اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہوں۔

    Malik_Hasnain92

  • تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم کے بغیرکوئی بھی معاشرہ نا مکمل ہے ہمیشہ وہ معاشرہ ترقی کی راہوں پرگامزن ہوتا ہے جس معاشرہ کے افراد پڑھے لکھے ہوں۔ علم حاصل کرنا ہرمرد اورعودت پرفرض ہے تعلیم حاصل کرنا بلا تفریق ہرانسان پرفرق ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب مرد ہویاعورت۔

    حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے۔ علم کا حصول عورتوں پربھی اس طرح ہی فرض ہے جس طرح مردوں پرکوئی بھی معاشرہ عورت کی تعلیم کے بغیرنا مکمل ہے۔

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کے ایک بچےکی پہلی درس گاہ اس کی ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ اگرماں ہی تعلیم کےزیورسے آراستہ نہیں ہوگی تو کیسے ممکن اس بچے نے اپنی پہلی درس گاہ سے کچھ بہترسیکھا ہوگا. جس طرح مرد تعلیم  حاصل کرنے کے بعد ریاست کے نظام اور دوسرے نظام کوچلاتا ہے اسی طرح ایک عورت تعلیم حاصل کرکے ایک گھر کے نظام کو چلاتی ہے مرد کی تعلیم ایک ادارے کو فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ عورت کی تعلیم  پورے معاشرے کو پڑھے لکھے افراد مہیا کرتی ہے۔

    ایک تعلیم یافتہ خاتون ایک نسل کو پروان چڑھانے میں بہت اہم فریضہ ادا کرتی ہے اگرماں پڑھی لکھی ہوگی تو یقیناً اس کی اولاد میں بھی اچھے اوصاف ہوں گے جو یقیناً معاشرے کے لئے سود مند ثابت ہوں گے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے اس معاشرے کے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے، جہاں تک بچوں کے ابتدائی تربیت و تعلیم کی بات ہے تو اس کے لئے تعلیم نسواں ہی انتہائی اہم اورضروری ہے۔

    آپ کسی مرد کو تعلیم دلوائیں تو وہ ایک شخص کی تعلیم ہوگی لیکن اگرآپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں توگویا آپ پورے معاشرے کو تعلیم دیتے ہیں” نپولین کے قول کے مطابق توقوم کی تہذیب و تمدّن کا دارو مدار ہی عورت کی تعلیم پر ہے: ” تم مجھے تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں مہذب قوم دوں گا”

    اور یہ مقولہ تو زبان زدِ عام ہیں کہ:
    ” بچے کا اولین مدرسہ ماں کی گود ہے

    اسی لئے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے مرد کے ساتھ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک مضبوط اورپڑھے لکھے معاشرے کی پروان تعلیم یافتہ خواتین کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔

    @Speaks_Umn