Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    کیا ان کا لہوں اتنا سستا ہے؟
    پاکستان کا دشمن ہماری صفوں میں گھس کرہمارے لخت جگر ہم سے چھین رہا ہے اورپھرانہی کومجرم بھی ٹھہرایا جاتا ہے دشمن کے سہولت کارہمارے اپنوں میں سے ہی ہیں اورہروقت ہمیں نقصان پہچانے کے لیے تیاربیٹھے ہیں پاکستان کا استحکام دشمن کوکسی صورت گوارہ نہیں۔ دشمن اپنے سہولت کاروں کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، سیاسی حل چل مچانے کے لیے ہروقت تیار رہتا ہے۔

    ان بیٹوں کا قصور یہ ہے۔ انہوں ہمارے بچوں کے لیے اپنے بچے یتیم کر دیے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے کل کہ لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ کتنے خوبصورت جوان اپنی سرزمین کے لیے ہمارے بچوں کے لیے ہمارے لیے جام شہادت نوش کرگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو اپنے شیرخواربچے چھوڑکرہمارے لیے شہید ہوگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو بڑھاپے میں اپنے والدین کا سہارا بننے کی بجائے ان کے بڑھے کندھوں پراپنی شہادت کا بوجھ بھی لاد کرچلے گئے۔

    کبھی سوچنا جن لڑکھڑاتی ٹانگوں کوجوان بیٹے کے سہارے کی ضرورت تھی جب وہ بوڑھے کندھوں پراپنے جوان بیٹے کی لاش اٹھاتا ہوگا تو اس کے دل پرکیا گزرتی ہوگی؟
    کبھی سوچنا اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جس نے بیٹے کا سہرا سجا کررکھا تھا؟
    کبھی اس بہن کا سوچنا اپنے بھائی کے انتظارمیں تھی۔

    فوج کو گالی دینے والو شام، لیبیا،عراق اورافغانستان کا حال دیکھ لو۔
    فوج کودشمن سمجھنےوالوکبھی ایک دن باڈرپریا کسی مشن میں فوج کی زندگی جی کردیکھو تمہارے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔

    اللہ سے دعا ہے ہماری فوج اورھمارا ملک ہمیشہ سلامت رہے.

    پاک فوج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ باد

    @Bilal_Latif1

  • عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    اس دنیا میں کوئی بھی انسان جب کامیاب ہوجائے وہ اس وقت توبہت ہی خوشی میں مبتلا ہوجاتا ہے پروقت کے ساتھ ساتھ اس میں غرورتکبر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس طرح زیادہ تروہ لوگ ہیں جو کامیابی تو حاصل کرتے ہے۔ کیوںکہ وہ غروراورتکبر کی وجہ سے اتنے لاعلم ہوجاتے ہیں کہ اس کواپنے پیچھے کی وہ بدحالی زندگی کو بھول جانے میں ذرا سی بھی دیرنہیں لگتی اوروہ اس قدر اپنے ہرفیصلہ میں جلد بازی کربیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ آج کل اس قدر مبتلا ہے کہ عرش ملنے کے لئے بےتاب تو ہے ۔ پرانہیں کبھی فرش کے بارے میں سوچا بھی نہیں اورفرش میں آنے کے لئے دیربھی نہیں لگتی آج کل وہ زمانہ ہیں جوآپکو عرش تک لے گئے وہی آپکو فرش تک لے آنے میں ذارسی دیربھی نہیں کرتے، لہذا ہمیں چاہیے کہ فرش سے عرش تک جانے سے پہلے سوچنا بھی اورکبھی پیچھے کی زندگی کونہ بھولنا۔ کیونکہ کچھ لوگ آپ کو نہ توفرش میں رکھنے دیں گے اور نہ ہی عرش میں رکھنے دیں گیں۔ انسان کوچاہیے کہ برابری کے حساب سے چلے کیوں آج کل اس زمانہ میں رہنا ہی بہت ہوگیا ہے.

    اکثراوقات شوشل میڈیا پرمیں نے دیکھا کہ آج فلاں فلاں شخص کو اتنی عزت ملی اورکچھ عرصہ کے بعد وہی شخص پھرشوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوگیا۔ کیوں اس دنیا میں بہت سے فرعون و بادشاہ گزر گئے اورآج بھی ان کو لوگ یاد کرتے ہے کچھ تو اچھے اورکچھ تو برا الفاظ میں کام وہ کرو تاکہ یہ دنیا اچھے لوگوں کے شمارمیں یاد کر لے، آئیں مل کرسب یہ وعدہ کریں کہ جب بھی کسی بھی جگہ پہ آپ کو کامیابی ملے اس کامیابی کو ہمیشہ ضائع مت کیجئے، اگرآپ کو کسی بھی ادارے، کمپنی، پارٹی، یا کوئی گروپ میں اچھے عہدے میں تعینات ہوں گے توکوشش کریں کہ سب کو خوش اوربرابری کی سطح پران پرنظرثانی کرے، کیوںکہ وہ لوگ ہے جو آپ کوعرش تک لے گئ۔

    @Aziz_khattak1

  • خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    پیغمبر آخر و اعظم، سرورِکونین،امام الانبیاء، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں، تم (ان میں سے)جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت پا جائو گے۔‘‘ تمام ہی صحابہؓ عشق و محبّت کے پیکراورایثارو وارفتگی کا مقدّس نمونہ ہیں۔ تمام صحابہؓ جہاں بھرسے افضل و اعلیٰ ہیں، لیکن چند چیزوں میں مرادِ رسولﷺ، سیّدنا عمربِن خطّابؓ تمام صحابہؓ میں ممتاز ہیں، ان میں آپ کا عدل و انصاف، آپ کی رائے کا وحی اور قرآن کے موافق ہونا، آپ کی شجاعت و دلیری، اللہ اوراس کے رسول ﷺکے معاملے میں کسی کا پاس نہ کرنا، قابل فخراورشان داردینی و مذہبی خدمات، رعایا کی خبرگیری خاص طورسے قابلِ ذکر ہیں۔

    حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بےشک، تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے، جنہوں نے اللہ سے صرف ہم کلامی کا شرف پایا، لیکن وہ نبی نہ ہوئے، میری امت میں اگرکوئی ایسا (نبی) ہوتا تو وہ عمرؓہوتے۔ (صحیح بخاری )

    رسول اللہ ﷺنے یہ بھی ارشادفرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبوت کا مقام پا سکتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔(مستدرک حاکم) ایک اورموقع پرسرکاردوعالم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نےعمرؓکی زبان پرحق کوجاری کردیا ہے، وہ حق بات ہی کہتے ہیں۔ (مشکوٰۃ )حضرت سعدؓ بن ابی وقاص اُن دس صحابہ میں سے ہیں، جن کے جنتی ہونے کی بشارت حضور ﷺ نے دی ہے۔ وہ حضرت عمرؓ کے بارے میں کہتے ہیں: خدا کی قسم ، عمرؓ اسلام لانے میں گو ہم سے پہلے نہیں اورنہ ہی ہجرت کرنے میں ہم پر مقدم ہوئے، مگرمیں خوب جانتا ہوں کہ کس چیزکے سبب وہ ہم سے افضل ہیں، وہ ہم سے آگے اس لئے بڑھ گئے کہ وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے تعلق تھے ۔

    (ازالۃ الخفاء )حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓبھی رسول اللہ ﷺکے جلیل القدرصحابہؓ میں سے ہیں، حضورﷺ کی احادیث لکھنے کی سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ حضرت عمرؓ کے بارے میں فرماتے ہیں، حضرت عمرؓ بہت جلیل القدرانسان تھے، ایک مرتبہ آپ نے حضرت عمرؓ کے لئے دعائے رحمت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا کسی کو نہیں پایا۔ (کنزالعمال )اسلام کے گلشن کوجن شہدائے اسلام نے اپنا قیمتی خون دے کرسدا بہارکیا، ان میں امیرالمومنین سیّدنا فاروقِ اعظمؓ کا اسمِ گرامی سرِفہرست ہے، آپؓ کے قبول اسلام کے لیے خود رسول اللہﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی ’’اے اللہ، اسلام کو عمر بِن خطّابؓ، یا عمرو بن ہشام کے ذریعے عزت دے۔‘‘

    خلیفۂ دوم،مرادِ رسول ؐ، شہیدِ محراب سیدنا فاروق اعظم ؓ کا نام نامی اسم گرامی عمر ‘فاروق اعظم لقب، والد کا نام خطاب تھا۔آپ علم الانساب میں ماہرتھے، نیز آپ کا شمار قریش کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ فن خطابت کے بھی ماہر تھے۔ ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اپنی آمدنی کا بیش تر حصہ فقرا‘ غلاموں، مسکینوں، مسافروں، ضرورت مندوں پرخرچ کیا کرتے تھے۔ اپنی بہن فاطمہؓ اوربہنوئی سعید بن زیدؓ کی استقامت سے متاثرہوکرمشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ دراصل آپ ﷺ کی اس دعا کا اثر تھا: اے اﷲ، اسلام کو عمر و بن ہشام (ابوجہل) یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت عطا فرما‘‘ اسی وجہ سے آپ مراد رسول ؐ کہلاتے ہیں۔اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا 40 واں نمبر ہے۔ آپ کے قبول اسلام سے دین اسلام کو نئی قوت عطا ہوئی۔آپ کاشمارمہاجرین میں ہوتاہے اورآپ نے 20 افراد کی معیت میں13 نبوی میں مدینہ منورہ ہجرت کی اور قبا میں حضرت رفاعہ بن منذرؓ کے مکان میں قیام فرمایا۔

    حضرت فاروق اعظم ؓ قبول اسلام کے بعدتمام غزوات میں بنفس نفیس شریک ہوئے اورجرأت وبہادری کے جوہردکھائے۔غزوۂ بدرمیں قریش کے سرغنہ کو قتل کیا ‘غزوہ اُحد میں آخر دم تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ،غزوۂ خندق میں خندق کے پارکفار کے حملوں کو پسپا کیا‘ غزوۂ خیبر میں قلعہ و طیع وسالم کو فتح کرنے کے لئے حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد آپ کو بھیجا گیا،فتح مکہ کے موقع پرحضور اکرم ﷺ نے خواتین سے بیعت لینے پرمامورفرمایا ،غزوۂ تبوک کے موقع پراپنے گھرکا آدھا مال لاکر خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ غرض آپ تمام غزوات میں پیش پیش رہنے والوں میں شامل تھے۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: تقریباً بیس بائیس مقامات ایسے ہیں جہاں فاروق اعظمؓ کی رائے پروردگار کی منشا کے عین موافق تھی ۔خلیفہ بلافصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے امور خلافت چلانے کے لیے مہاجرین وانصارکی مجلس شوریٰ قائم کی۔اس حیثیت سے آپ اسلام کے شورائی نظام کے بانی ہیں۔ ملک کوآٹھ ڈویژنوں میں تقسیم کرکے ان پرحاکم اعلیٰ اورگورنرزمقررفرمائے۔ کاتب‘بکلکٹر‘ انسپکٹرجنرل پولیس‘ افسرخزانہ ‘ ملٹری اکائونٹنٹ جنرل اورجج وغیرہ کے عہدے مقررکیے۔ باقاعدہ احتساب کا نظام قائم فرمایا۔ زراعت کی ترقی کے لیے نہری نظام جاری فرمایا، تالاب اورڈیم بنوائے اورآب پاشی کا ایک مستقل محکمہ قائم فرمایا۔بنجرزمینوں کے آباد کاروں کو مالکانہ حقوق دیے۔سرونٹ کوارٹرز‘ فوجی قلعے اور چھائونیاں‘ سرائے‘ مہمان خانے اورچوکیاں قائم کرائیں۔ کوفہ‘ فسطاط‘ حیرہ اورموصل سمیت کئی عظیم الشان شہروں کی بنیاد رکھی اورانہیں آباد کیا۔ فوج اورپولیس کے نظام میں اصلاحات کیں اورانہیں منظم کیا۔ بہترین نظام عدل و انصاف قائم کیا، جوضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سن ہجری کی بنیاد رکھی۔ مساجد کے ائمہ‘ موذنین‘ فوجیوں اوران کے اہل خانہ واساتذہ وغیرہ کی تنخواہیں مقررفرمائیں۔ اس کے علاوہ مردم شماری‘ زمین کی پیمائش کا نظام‘ جیل خانے‘ صوبوں کا قیام، لاوارث بچوں کے وظیفے کا اجرا‘ مکاتب قرآنی کا قیام‘ نمازتراویح کا باقاعدہ آغاز وغیرہ

    آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت کی یادگاریں ہیں۔ حضرت عمرفاروقؓ نے بائیس لاکھ مربع میل پرحکومت کی اورآپ کی مدت خلافت تقریباً ساڑھے تیرہ سال بنتی ہے۔ عراق اورشام پر لشکرکشی کرکے اسلام کا علم لہرایا۔ ایک لشکر بھیجا، جس نے مجوسیوں کوعبرت ناک شکست دی اوررستم کی سازشوں کا قلع قمع کیا۔ جنگ قادسیہ کے تین کامیاب معرکوں نے دشمن کی کمرتوڑکررکھ دی‘ ان کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاص‘ نعمان بن مقرن اورقعقاع بن عمروالغفاری رضی اﷲ عنہم نے کی۔ جنگ نہاوند آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں لڑاجانے والاآخری معرکہ تھا ،جس نےدشمن کی کمر توڑکررکھ دی۔ دمشق‘ اردن‘ حماۃ‘ شیراز‘ معرۃ النعمان‘ بعلبک‘ حمص‘ شام کا اکثرحصہ‘ بیت المقدس اوراس کے آس پاس کے علاقے‘ مصر، فسطاط‘ اسکندریہ‘ قیساریہ‘ آذربائی جان‘ طبرستان‘ کرمان‘ مکران اورخراسان وغیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت میں فتح ہوئے۔ ایران کااکثرحصہ چوں کہ آپ کے دورخلافت میں فتح ہوا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے جذبہ انتقام کوسرد کرنے کے لیے آپ رضی اﷲ عنہ کے قتل کی سازش تیارکی۔

    مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کےپارسی غلام ابولولوفیروزمجوسی نے نماز فجرکی پہلی ہی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے فوراً بعد زہر سے بجھے ہوئے خنجر سے مرادِ رسول ﷺ پروار کیا۔ وصیت کے بہ موجب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے نماز مکمل کرائی۔ تین روززخمی حالت میں رہ کریکم محرم الحرام 24ھ میں63 برس کی عمر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت صہیب رومی رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ روضہ رسول ﷺ میں حضور اکرم ﷺ اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں آرام فرما ہیں.

    @muhammadmoawaz_

  • بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    ہم بیٹی کی پیدائش پراتنا خوش نہیں ہوتے جتنا بیٹے کی پیدائش پرہوتے ہیں ہم سب سے پہلے ان کا حق کھاتے ہیں ان کی پیدائش پرخوشی نہ کرنے کا ہم بیٹی کی نسبت بیٹے سے زیادہ پیارکرتے ہیں کوئی بھی چیزبازارسے خرید کر لائیں تو سب سے پہلے بیٹے کو دیتے ہیں پھر بیٹی کو دوسرا بڑا حق جو ہم کھا جاتے ہیں بیٹیوں کا وہ ہے تعلیم سے محروم کرنا بیٹے کے لیے خوش ہوکرتمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں اوربیٹی کو یہ کہ کر تعلیم نہیں دلواتے کہ بیٹیاں گھرمیں ہی اچھی لگتی ہیں ان کا کیا کام تعلیم کا بس نام لکھنا، پڑھنا آنا چاہیے بس یہی کافی ہے.

    ہماری سوچ ایک پسماندہ سوچ ہے اسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے ہم بیٹیوں کا بنیادی حق تلف کر جاتے ہیں حالانکہ بیٹیاں جتنا اپنے کام سے لگاؤ رکھتی اورایمانداری سے سرانجام دیتی ہیں اتنا لڑکے بھی نہیں کرتے بیٹیوں کی فضیلت بھی کوئی قسمت والا جانتا ہوگا اگربیٹی کی فضیلت کا پتہ لگ جائے لوگوں کو تو سب نے بیٹے کی بجائے بیٹی کی فرمائش کرنی ہے

    بیٹی کی فضیلت تو اللہ نے خود بیان کی ہے کہ میں جس پر بے حد خوش ہوتا ہوں تو ان کے گھررحمت (بیٹی) عطا کرتا ہوں اوراللہ کہتا ہے کہ جب میں بیٹا عطاء کرتا ہوں تو بیٹے کو کہتا ہوں جاؤ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب میں بیٹی دیتا ہوں تو اس کے باپ کا ہاتھ پاؤں خود بن جاتا ہوں۔

    بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک بنتے ہیں اوربیٹیاں باپ کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی مغفرت کے لیے دم درود قل پڑھتی رہتی ہیں. اللہ ہمیں سچے دل سے بیٹیوں سے پیار کرنے اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

    @MudasirWrittes

  • امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    کسے معلوم تھا کہ میانوالی کے شہر میں ایک شوکت خانم نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا جس کا نام عمران خان رکھا گیا کسے معلوم تھا کے وہ عمران نامی بچہ بڑا ہوکردنیا میں ایک رقم تاریخ ھوگا، یقیناً کسی کونہیں معلوم تھا، ہاں لیکن عرش پربیٹھی ایک ذات جانتی تھی کے یہ عمران ایک دن سب کا مان ہوگا.

    سلسلہ شروع ہوا اورکرکٹ کے میدانوں سے ایک ستارہ ابھرا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جاننے لگی اورپھریہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ کرکٹ کے میدانوں سے شوکت خانم ہسپتال، نمل جیسے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا سیاست کے میدانوں میں ایک ہی نام گونجتا تھا عمران خان غرض کہ اب گزری تاریخ گواہ ھے کہ جس شعبے میں عمران خان اسکی بہتری کے لیے ھاتھ ڈالتا ھے تواس شعبےکواپنے عروج پر پہنچنا گویا مشیت ایزدی بھی بن جاتا ھے۔ ایساھی کچھ تب ھوا جب اس عظیم والدین کے عظیم سپوت نے پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا نعرہ لگایا۔

    قسمت کی دیوی ہرمیدان میں عمران پر مہربان تھی اورخداوند کریم کے خاص فضل سے 2018 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طورپرسامنے آیا اورعمران نے اس خداداد پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی. عمران چونکہ عالمی منظر نامے امریکہ افغان جنگ کشمیر جیسے معاملات سے بخوبی واقف تھا، اسی تناظرمیں اسکا ایک ھی نعرہ اورپالیسی تھی، جس کوعمران نے ھرفورم پراٹھایا اوروہ تھی "امن” کی پالیسی، کہ ہم کسی پرائ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اگر حصہ بنیں گے تو صرف "امن” کا اورعمران کی نظرمیں مسئلے کا حل جنگ نہیں صرف امن مذکرات ہی تھا جس پراسے طالبان خان بھی کہا گیا لیکن وہ اپنے موُقف پرڈٹا رہا۔ امریکہ جیسی سپر پاورنے افغان جنگ میں کھربوں روپے لگائے لیکن آخرمیں اسے منہ کی کھانا پڑی اورانہی طالبان سے امن مذکرات کیے جس کا عمران شروع دن سے کہ رہا تھا۔

    کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی پربھی عمران کا وہی موُقف ہے کہ اس مسلے کا حل بھی امن مذکرات سے ہی نکلے گا جنگ سے نہیں، پوری دنیا کو عمران امن کا پیغام دے رہا تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عمران خان ہی امن کا سفیر ہے۔

    یہاں پرایک بات قابل ذکر ھے کہ عمران خان نے دنیا اوراس مملکت خداداد کے اندرونی دشمنوں کو یہ بھی واضح طورپرپیغام دیا ھے کے اس امن پالیسی کو اس کی کمزوری مت سمجھا جائے جس کا اظہارایک شعر میں ایسے دیا ہے کہ

    ‏مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter: @Khankamoo

  • پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا حصول اورمسلمانوں کے لئے الگ مملکیت کا قیام اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت تھی جو اس خطے کے مسلمانوں پرنازل ہوئی۔ یہ اہلِ پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اس نعمیتںِ عظمی کو ہرقدم پریاد رکھتے اوراسے فراموش نہ ہونے دیتے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیشںِ خدمت ہیں.

    1. جس طرح پاکستان کا قیام مسلمانوں پراللہ کا انعام تھا اس طرح اس کا عظیم اشان کرم یہ تھا کہاس مملکیت کے قیام کے لئے 27 رمضان اور جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔ اس دن کا انتخاب کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اس دن کا یقین تنہا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ بلکہ اس فیصلے میں انگریز، ہندواورسکھ بھی شامل تھے۔ ظاہرہے وہ اس نقطہ نظرسے اس دن کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرلحاظ سے خیروبرکت کا دن ہے۔ ظاہرمیں نگاہیں اس بات کو مخص اتفاق سمجھتی ہیں کہ جو دن اِن اقوام کے اتفاق سے قیامِ پاکستان کا دن قرارپایا وہ جمعہ 27 رمضان کا دن تھا۔ لیکن جس شخص کا ایمان، قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرہواس کے نزدیک اس کائنات کا کوئی واقعہ مخص بحث واتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا ان میں سے بعض حکمتوں کا علم انسان کو ہو جاتا ہے اوربہت سی حکمتیں اس کے پروازِ تخیل سے ماورا ہوتی ہیں اوروہ اپنی محدود فکر کے نتیجے میں ہی ان واقعات کو بحث واتفاق کا کرشما قراردیتے ہیں۔ لہذا قیامِ پاکستان کے مہینے، اس مہینے کے آخری عشرے، اور آخری عرشے میں 27 رمضان اوراس میں بھی جمعہ کے دن کا انتخاب نہ تو انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور نہ بحث و اتفاق کا۔ بلکہ یقینا یہ یقین منجانب اللہ تھا۔

    اس خطے کے مسلمانوں پراللہ تعالی کے بے پناہ کرم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمانے کے لئے اس مبارک دن کا انتخاب کیا گیا جو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے سال کا افضل ترین دن تھا۔ یہ تو اللہ تعالی کی عطا تھی جو ہماری کسی کوشش اور طلب کے بغیر مخص اس کے فضل وکرم سے حاصل ہوئی۔ لیکن اس عطا کے مقابلے میں اپنی ناشکری اورناقدری ملاحظہ فرمائیے کہ اس نعمت کا اتنا ادراک و احساس کرنے کی توفیق بھی نہ ہمیں ہوئی؟ کہ ہم 27 رمضان کو پورا پاکستان اور اپنا یومِ استقلال تسلیم کر لیتے۔ چنانچہ جب یومِ آزادی کے لئے دن کی یقینی کا سوال آیا تو ہم نے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو اپنا یومِ آزادی قرار دے دیا۔
    مختصر یہ کہ اللہ تعالی کی اس غیبی تاہیک کی اس سے بڑھ کر ماقدری، احسان فراموشی اورکوتاہی کیا ہو گی؟ کہ سال کے جس افضل ترین دن کو اللہ تعالی نے ہمارے لئے یومِ پاکستان قرار دیا تھا ہم نے اس کو اپنا یوم آزادی تسیلم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو نظر انداز کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا مرکز 14 اگست کو بنا لیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہماری احسان فراموشی کا پہلا امتحان تھا۔ جس میں ہم "اللہ معاف فرمائے” بری طرح ناکام ہوئے۔ حکومت اس سنگین غلطی کی تلافی کرے اور ہم سے ماضی میں 27 رمضان کی ناقدری کا جو جرم سرزد ہوا اس سے اجتماعی توبہ کر کے آنئدہ کے لئے 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو یوِم استقلال ٹھہرائے۔

    2. ہمارا یومِ آزادی، اس پر منایا جانے والا جشن اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب ان دوسری اقوام کے جشن آزادی سے مختلف اور ممتاز ہونی چاہئے جن کے نزدیک آزادی کی مسرت جیت رسمی کھیل تماشوں سے عبارت ہے۔ اللہ نے اس مملکیت کے ذریعے ہمیں بیک وقت انگریزی استعار اور ہندو سامراج دونوں سے نجات عطا فرمائی اور اپنی تعمیر کرنے کا خود موقع دیا۔ ہمارا یومِ آزادی درحقیقت یومِ شکر ہونا چاہئے جس میں صرف ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری ایک ایک نقل و حرکت شکر گزاری کی آئینہ دار ہو۔

    پاکستان کا یوم استقلال ہر سال ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس ملک کے قیام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے جان و مال اپنے جذبات اور اپنی عزت وآبرو کی جتنی قربانیاں دی تھیں جس کی بنیاد میں نا جانے کتنے مسلمانوں کا خون شامل تھا اس کے قیام کے لئے ہم نے کتنی جانیں رخصت کی ہیں؟ جب تک ہم اس سوال کے جواب میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے اسباب پیدا نہ کر لیں اس وقت تک یوم آزادی کی یہ تقریبات مخص ایک رسمی کاروائی ہی رہیں گی اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کے پیشِ نظر ان کی حیثیت ہماری بے عملی پر ایک بھرپور طنز سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔

    @merayTweets

  • عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    چودہ سے بیس سال کی عمرمیں عورت گلاب کی ایک شگفتہ کلی ہے نسیمِ سحر کا ایک جھونکا ہے شفاف پانی کا ایک چشمہ ہےسراپا محبت ہے.
    عورت اکیس سے پچیس سال کی عمر میں ایک سایہ داردرخت ہے اس کے جذبے شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں سراپا محبت ہے.
    عورت چھبیس سے تیس سال کی عمرمیں پھولوں سے بھری ہوئی ایک شاخ کی مانند ہے جس سے گھر کی آرائش ہوتی ہے یہ ویرانوں کو زندگی بخشتی ہے اس کی محبت چاند کی روشن کرنوں کی طرح دلکش ہوتی ہے یہ سراپا زندگی ہے.
    اکتیس سے پینتیس سال کی عورت اس باغباں کی مانند ہے جو گلستانِ حیات میں خوش رنگ پھول لگاتا ہے اور پھر ان کی نشوونما کرتا ہے اس عمرمیں عورت اولادِ آدم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہتی ہے. سراپا جدوجہد ہے.
    چھتیس سے چالیس سال کی عمر میں عورت ایک ایسی چٹان ہے جو طوفان سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتی ہے اس کے چہرے پر کامرانی کے نقوش واضح ہوتے ہیں یہ اس فاتح کی مانند ہے جو زندگی کی بیشتر مہمات کو سر کر چکا ہو سراپا عزم ہے.
    عورت اکتالیس سے ساٹھ سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب ہے جو سنہری تجربات سے بھری ہو یہ دوسروں کے لیے راستے کا ٹھیک تعین کر سکتی ہے یہ ایک ایسی روشنی ہے جو منزل کا ٹھیک پتہ دیتی ہے سراپا شفقت ہے.

    لیکن آجکل کی ماڈرن عورت کو دیکھتے ہوئے احساس ہورہا ہے ہماری آنے والی نسلیں خدا نہ کرے وہ پیدا ہونگی جیسی نسل امریکہ یورپ کی ہے.

    میری تمام ماؤں بہنوں سے گزارش ہے خود پررحم کریں آپ صرف ایک صنفِ نازک ہی نہیں قوم کے مستقبل کی بنیاد بھی ہیں تو اپنے آپکو اسلامی طریقہ زندگی کے مطابق ڈھالیں.

    @Muzii_2

  • سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا پراگلے بیس سالوں میں کوئی دوسری جماعت تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کے وولنٹیراورایکٹوسٹ جو پچھلے دس سالوں سے عمران کے نظریہ کے لیے سوشل میڈیا پربغیرکسی پیسہ کے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی دوسری جماعت کے بس میں نظرنہیں آرہا۔ سب سے بڑی وجہ نظریہ ہے جو تحریکی ایکٹوسٹ وولنٹیر کے پاس ہے۔

    پوری دنیا امریکا یورپ گلف یہاں تک کے افریقہ میں بیٹھے پاکستانی عمران خان کے فری میں وولنٹیر ہیں نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے لیے وقت نکالتے ہیں. ایسی فورس اوردوسری کسی جماعت کے پاس دوردورتک نظرنہیں آتی۔ ‏فارن نیشنل کے بعد پاکستان میں بیٹھے لاکھوں سوشل میڈیا وولنٹیر بغیرکسی لالچ کے خان کا ساتھ دیتے ہیں. خان کے کہے بغیراس کی جنگ لڑتے ہیں دوسری طرف ذبردستی والا حساب ہمیں دیکھنے کوملتا ہے۔ پیڈ کمپین چلتی ہیں کیونکہ کسی دوسری جماعت کے پاس ابھی تک کوئ نظریہ نہی ہے ۔

    آخرمیں یہ کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وولنٹیر نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی منہ توڑ جواب دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وولنٹیرکا مقابلہ دوردورتک نظر نہیں آتا۔

    @ZahidNabiGill

  • ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل .  تحریر: محمد بلال اسلم

    ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کا حکم، قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں کی۔ جس عمل کو حضور نے لگاتارکیا اورکسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا واجب ہونا ثابت ہے۔

    قربانی کس پرواجب ہے جس شخص پرصدقۂ فطرواجب ہے، اُس پرقربانی بھی واجب ہے…یعنی قربانی کے تین ایام کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے.
    قربانی کے فضائل نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز ﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کرہے اورقربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پرگرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے (مشکوٰۃ) ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔صحابیؓ نے پوچھا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ( مسند احمد )

    عید کے دن کے مسنون اعمال۔ صبح سویرے اُٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک اور صاف کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیرکہنا۔

    عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ، نمازعید دو رکعت ہیں۔ نمازعید اوردیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘پڑھنے کے بعد قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ اگر دورانِ نمازامام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔ اگرکوئی نماز میں تاخیرسے پہنچا اورایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء سبحانک اللّٰہم کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اورآگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا.

    @BilalAslam_2

  • قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    اسلامی اقدارمیں خلیفہ کی ذمہ داری بہت اہم بنائی گئی ہے جب کوئی شخص خلیفہ کے عہدے پرفائزہوتا ہے تواپنی رعایا کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ داربنا دیا جاتا ہے ایک صحابیِ رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلہ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہترین صدقہ کیا ہے تو آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’پانی پلانا‘۔

    لیکن آج اْمتِ مسلمہ پانی کی بوند کے لیے ترس رہی ہے اورارباب اقتدارجانورتو دورانسانی اموات کے ضیاع پربھی انتہائی ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلی سندھ ایمانداری سے بتائیں کیا وہ چھوڑ سکتے ہیں اپنے اہلخانہ کوقحط زدہ تھرمیں؟ وہ بھی بغیرپانی کے؟ ماضی میں جب وزیراعلیٰ سندھ سے تھر کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو انتہائی مضحکہ خیزبات فرماتے کہ تھرمیں اموات بھوک سے نہیں غربت سے ہو رہی ہیں پتا نہیں کس قسم کا نفسیاتی معاملہ ہے وزیراعلی سندھ کے ساتھ جو ان کو یہ نہیں معلوم کہ غربت ہی بھوک کو جنم دیتی ہے اورشرجیل میمن کا یہ بیان کہ پاکستان میں روز600 بچے مرتے ہیں تھرمیں مرنے پہ شورشرابہ کیوں انتہائی سنگدلی اوربے غیرتی کی مثال تھی.

    ظاہر سی بات ہے اگرتھرمیں بھٹو، تالپور، سومرو اورمگسی خاندان رہتے تو وہ منرل واٹرپرگذارا کرتے پرتھرکواس لیے نظراندازکردیا گیا کہ وہاں غریب عوام رہتی ہے جو کنویں سے پانی بھرکراونٹوں اورگدھوں پرلاد کرگھرپہنچاتی ہے اورتھرکے معصوم بچے جنہیں تعلیم کی طرف جانا چاہیے وہ بچے بھی تعلیم کے بوجھ کی بجائے پانی کا بوجھ کاندھوں پرلیے پھرتے ہیں۔ سندھ دھرتی کے دعوے داربلاول زرداری سے سوال ہے کہ اس ضمن میں انہوں نے سندھ دھرتی جسے وہ ماں کہتے ہیں کی کیا خدمت کری؟ کیا کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسا سندھ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے تھرکے ساتھ کیا؟

    سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا تو تھرمیں عیاں ہوگئی لیکن حیرت ہے وفاقی حکومت بھی غفلت کی چادراوڑھے ہوئے ہے اب تک سندھ حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے تھرکے معاملے میں کوئی عملی اقدامات نظرنہیں آئے۔ تھرکے حالات سے حکمرانوں کی بےحسی کا اندازہ ہوجانا چاہیے جوپانچ کروڑکی آبادی والے صوبے کی عوام کوقحط سے ماررہے ہیں اتنی بڑی ناکامی پرسندھ حکومت کوغیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

    @FarazWahab1