Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ھے. اس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹرھے جو پاکستان کا کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بننا ھے قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ھے اتنے بڑے صوبے کی عوام مختلف پریشانیوں کا شکارھے.

    1. جرائم، پانی کی قلت اوربجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں.
    2. بلوچستان میں مختلف شہروں میں بہت بڑے حادثہ ہوتے ہیں روڈ سنگل ہونے کی وجہ سے حادثے ہورہے ہیں اگرڈبل روڈ بنایا جائے تو اس مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے.
    3. بلوچستان میں جنتی بھی سرکاری زمین ہیں وہاں اکثرپرقبضہ مافیا کا قبضہ ھے وہاں سے قبضہ ختم کیا جائے تو بہترہوگا.
    4. بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ھے لیکن ہرسہولت سے محروم ھے سمجھ نہیں آتی اس قصورواربلوچستان کی عوام ھے یا سیاستدان لہذا ہماری اپیل ھے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کی عوام پرخرچ کیئے جائیں توبہترہوگا.
    5. روڈوں و ہسپتالوں کے حالت ہرضلع میں خراب ھے کسی ضلع میں ہسپتال کی بلڈنگ ٹوٹی پھوٹی ھے کسی ضلع کی ہسپتال میں ڈاکٹرغیر حاضررہتے ہیں روڈوں کا ٹھیکہ سیاسی لوگوں کے بندوں کو ملتا ھے جہاں 100% فیصد میں سے 40 فیصد کام ہوتا ھے ایک مہینہ کے بعد روڈ کی حالت بگڑ جاتی ھے لہذا روڈوں اورہسپتالوں کی حالت بہتربنائی جائے.

    اس کا خلاصہ یہ ھے کہ معاملات بہت سنگین ہیں عوام کو اس طرح کی مہلک پریشانیاں کا سامنا کرنا پڑتا ھے تاہم مناسب ارادے اورعزم کے ساتھ صوبائی گورنمنٹ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالیں بلوچستان کے مسائل کا حل آسان ہے اگرکوئی نکالنا چاہے تو مسلہ بڑا نہیں ھے لیکن افسوس بلوچستان کے سیاستدانوں نے بڑا بنا دیا ہے. میں چاہتا ہوں صوبائی اوروفاقی گورنمنٹ بلوچستان کے پانچ بڑے مسائل پرتوجہ دیں.

    @AsifKarimBaloch

  • پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان کو بنے 74 سال بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان حقیقی معنوں میں وہ پاکستان نہیں بنا جس کا تصوراقبال نےدیکھا تھا اورقاٸداعظم نےعملی جامہ پہنایا تھا. سیاست نے ہمیں اس قدرگرا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے درجے سے ہی گرگئے ہیں. پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی سیاست کواگردیکھا جائے تو پاکستانی سیاستدانوں کی آپسی چپقلش اوروڈیرہ شاہی کی ہی وجہ سے ہم بنگلہ دیش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اگراس وقت بھٹو اورمجیب دونوں مل کے اپنے مساٸل ملکی سلامتی کیلۓ حل کرلیتے تو آج بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ ہوتا اور ہم آپسی اتحاد واتفاق کی بدولت دنیا کی متحد، ترقی یافتہ اورمہذب قوم گردانے جاتے مگرافسوس کہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے.

    اگرموجودہ صورتحال اورسیاست کا موازنہ کیا جاۓ تومیرے خیال سے پاکستان عالمی سطح پہ پاکستانی سیاستدانوں کی ہی وجہ سے بدنام ہے. ہم اپنے مفادات کی خاط ملک پاکستان سےغداری کرتے گئے اورحالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہرمحب الوطن پاکستانی ان حالات پہ پریشان ہے. پاکستان کے قیام سے لے کراب تک صرف چارسو خاندان اس ملک کی سیاست پرراج کرتے آئے ہیں ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزاربنتی ہے. آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں، بلکہ غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اورصاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے گو کہ کسی نے ایسا ممکن نہیں بنایا.

    پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر ق لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزارخاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اورقبائلی سردار پہنچتے ہیں باقی سیاستدانوں کو یا تو جبری دستبردارکرایا جاتا ہے یا ایسے کردارکشی کی جاتی ہے کہ اللہ امان وہ خود ہی تنگ آ کے سیاست سے دوری اختیارکرجاتے ہیں.
    اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام ترفیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ اندازمیں کررہے ہیں ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈرہیں اوردوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام ہیں.

    یہی سلسلہ نسل درنسل چلا آرہا ہے. پچاس کی دہائی سے لے کرآج تک تقریباﹰ ان ایک ہزارخاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھرزیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے باقی عوام کو وعدوں کے چورن ہی بیچے گئے ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایزاورایم این ایزکی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیں اوردوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیں، آپ کو فرق سے پتہ چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے. عوام ان سیاستدانوں سے اپنی بنیادی سہولیات تک مانگتے ہوۓ ڈرتی ہے کیونکہ یہ زمینی خدا بنے بیٹھے ہیں.

    بقول نواب فیصل فیبی، میں ڈرتا ہوں ان سے کوئی بھی درخواست کرنے کوسفید پوش ہوں ڈرلگتا ہے کہیں پرچے نہ کرا دیں پاکستان کی سیاست اب غلاظت کے سوا کچھ نہیں رہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے لیکرایک دوسرے کی کردارکشی تک سب چلتا ہے. غیرملکی آقاٶں کو خوش کرنے کیلۓ اس ارض پاک کے خلاف بیانات دے کریا اشتعال انگیزی پھیلانے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا ہے.

    فرمان قاٸد ہے کہ، اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربلخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پرمرکوزکرنی ہوگی.

    لیکن افسوس ہم بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال ہی بھول گئے ہیں. یہی پاکستانی سیاست دان اسراٸیل کے دوروں پہ جاتے رہے ہیں جبکہ قاٸد فرما گئے تھے کہ ” اسراٸیل ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے امت کے پیٹ میں گھونپا گیا ہے اسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا “

    الغرض ہم اپنی تاریخ اوراپنے محسنوں کو بھول کے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگ گئے اورپاکستان کو ایک صدی پیچھے جا چھوڑا ہے. ہم نے اجداد کے خون کے ساتھ وفا نہ کی، ہم اجداد کی قربانیاں بھول گئے، ہم بے حس ہوگئے، کسی بھی ملک کی سیاست اورسیاستدان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اگر ہڈی مضبوط ہے تو آپ کھڑے ہیں اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو آپ بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کچھ میرے ملک پاکستان کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں نے کیا ہے.

    @NawabFebi

  • قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے، سننِ ترمذی، سننِ ابن ماجہ، صحیح ابنِ حبان ودیگرکتبِ حدیث میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث کا ایک جملہ "و إن العلماء ورثة الأنبياء” ہے،”سنن الترمذي” کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی تودیکھیں اس حدیث کا انکارکررہے ہوتے ہیں اورعلماء کرام پربےجا تنقید بلکہ ذاتیات پرجا کرانکا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے بات ہورہی ہے پاکستان کے قیام میں علماء کا کردار جب سرسید احمد خان نے دوقومی نظریے "Two Nation Theory” کی بنیاد رکھی اورانہیں یہ محسوس ہوگیا تھا مسلمان اورہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے دونوں کے مذہب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں مسلمان اللّه کے ماننے والے اورہندو بتوں کے پجاری ہیں۔

    جب قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ اگست 1947 کے دن کا آزادی کا اعلان کیا تو ہندوؤں نے مسلمانوں پرتشدد کی کارروائیاں شروع کردیں اوردیکھتے ہی دیکھتے برصغیر جسے subcontinent کہا جاتا تھا وہاں ہرطرف مسلمانوں پرظلم وستم ڈھایا گیا، پھرمسلمانوں نے پاکستان ہجرت شروع کی اس ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورانہی جانوں میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اورتاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اس وقت کے علماء حق (علماء دیوبند) کے بیس لاکھ علماء کرام نے بھی اپنی جانیں قربان کی اس ملک کی بقاء کیلئےعلماء کو زندہ قبروں میں ڈالا گیا زندہ جلایا ہرطرح کا ظلم کیا گیا تھا.

    قائداعظم رح کی محنت کے ساتھ ساتھ علماء کی بھی لازوال قربانیاں تھی جس کے بعد یہ پاک دھرتی باب الاسلام ہمیں ملا علمائے کرام کی لازوال قربانیوں کو ہم بھول نہیں سکتے اورسب سے التجا بھی ہےعلماء پرتنقید کرنے سے پہلے یہ ضرورسوچیں علماء کون ہیں کل روز محشرمیں جب ہم اللّه کے ہاں پیش ہونگے تو انبیاءؑ کی صفوں میں چالیس صفیں علماء کی ہونگی یہ شان ہے علماء کی اورآج ہم کتنی آسانی سے کسی عالم دین کا دنیا والوں کے سامنے مذاق بنا دیتے ہیں کیا ہمیں مرنا نہیں ہے ؟؟ موت تو برحق ہے کل ہم کس منہ سے حضورﷺ کے سامنے پیش ہونگے یہ سوچیں ذرا اورخدارا آج سے اللّه کے حضورمعافی مانگیں بیشک اللّه رحمن و رحیم ہے۔

    @SyedUmair95

  • آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    اگرکوئی یہ سوال کرے کہ آزاد کشمیرکی معیشت کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ ایک آزاد کشمیر کی کوئی معیشت نہیں ہے کیونکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے پیداوارکے ذرائع اوروسائل کا اسطرح سے انتظام کہ کم سے کم وسائل ضائع ہوں جبکہ اپنے ہاں صورت حال ایسی ہے کہ جیسے معیشت کا مطلب ہو وسائل کا ایسا انتظام ہو کے کم سے کم وسائل استعمال ہوں اور زیادہ سے زیادہ ضائع ہوں۔ یہ بھی الحاق پاکستان کی طرف ایک قدم ہے کہ آزاد کشمیرکی معیشت آزاد کشمیرکے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ اس پرپاکستان کی نوکرشاہی، صنعت کاروں اور گماشتہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہو تاکہ آزاد کشمیر کے اندرصنعت اورحرفت کی وبا نہ پھیل سکے اوریہ خطہ بدستور پاکستان کے مذکورہ بالا طبقوں کی منڈی بنا رہے اورآزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ چھوٹا تاجر پیدا ہوسکے جس کو زیادہ بڑا کاوبارکرنا ہے وہ پنڈی لاہوراور کراچی جائے۔

    سوال کیا جا سکتا ہے اور اکثرارد گرد سے بے خبراپنے آکاؤں کے افکاراورخیالات کے بغیرسوچے سمجھے جگالی کرنے والے کرتے بھی ہیں کے آزاد کشمیر میں ہے ہی کیا کہ یہاں کی معیشت کا کوئی ڈھانچہ اٹھ سکے؟؟؟ لیکن اس کا جواب سیدھا سادہ سا ہے کہ سرمائے کے لحاظ سے یہ خطہ پاکستان کے امیرترین خطوں میں سے ہے آزادکشمیر کے بینکوں کا کڑوروں روپیہ (کوئی پانچ چھ سال پڑانی ایک تحقیق کے مطابق ڈدیال کے ایک علاقہ چھتڑو کے گرد و نواح جہاں کی آبادی تین ہزارتھی وہاں بینکوں میں پانچ کروڑ روپیہ تھا )اسی طرح ڈڈیال اورمیرپوروغیرہ کے بینکوں کا اربوں روپیہ مقامی سطح پرنہیں بلکہ کراچی اورلاہورکے صنعت کاراستعمال کرتے ہیں۔

    اس وقت تقریبا ایک ملین یعنی دس لاکھ کشمیری مزدوراورمحنت کش مشرقی وسطیٰ اوریورپ وامریکہ میں آباد ہیں اورآزاد کشمیرکی آدھی آبادی کا روزمرہ کا خرچ اٹھانے اورہزاروں کو تعمیراتی شعبے میں مزدوری فراہم کرنے اورسینکڑوں بے روزگار "پوسٹ گریجویٹوں” اور وکیلوں کو پلاٹوں کی خرید و فروخت کاشغل مہیا کرنے اوربیسیوں کو پراپرٹی ڈیلنگ کے میدان میں ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ کروڑ ڈالرسالانہ زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں. جو سارے کا سارا پاکستانی نوکرشاہی اورسرمایہ کارہڑپ کرجاتے ہیں بغیرکوئی ڈکارمارے۔ لیکن جب سال بعد ڈھائی ارب روپیہ آزاد کشمیر کی حکومت کودیا جاتا ہے تو اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں اورٹی وی پربھی اس کی خبریں نشرکی جاتی ہیں یوں عام کشمیری سے لے کر بڑے بڑے پھنےخان دانشور یہ سمجھتے ہیں کے آزاد کشمیر پاکستان پربہت بڑا بوجھ ہے۔

    لیکن ظاہرہے کہ ان میں سے اکثر یا تو کشمیر سے پاکستان کو ہونے والی آمدنی سے بے خبرہوتے ہیں یا پھردوسروں کو بے خبراورکنفیوز کرنا چاہتے ہیں جنگلات، منگلا ڈیم کا پانی وبجلی، دریا، پی آئی اے کی کشمیریوں سے سلانہ آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ یوالحاق پاکستان کی قوتوں معیشت کے میدان میں بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادیں خوب مضبوط کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورحق نمک خوب ادا کیا۔ اس احساس کو عام آدمی کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا آزاد کشمیر کے اندربرسراقتدار”بااثراورمعتبر” شخصیات کی طرف سے اس طرح سے اخباری بیان بھی اہم کرداراداکرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "ہم تو پاکستان کی سرپرستی کے بغیرایک کپ چائے بھی نہیں بناسکتے ”

    @zeeshanwaheed43

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI

  • عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ گالی دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کر سکتے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات میں گالی دینے سے انکی بات کا وزن بڑھ جائے گا یا بات سننے والے پراس طرح سے رعب پڑے گا یا اس سے متاثر ہو گا۔ کچھ لوگوں کی تو عادت بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس فعل کو فخریہ اپنی مشہوری کے طور پر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بھئی بڑی گالیاں دی میں نے۔

    ہماری گالیوں میں آخرکون ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ” عورت ” ۔

    جی ہاں ہماری گالیوں میں عورت ہوتی ہے۔ آخر وہ عورت کون ہے ؟

    وہ عورت جو تمہیں پیدا کرتی ہے، تمہاری پرورش کرتی ہے اورتمہیں بولنا سکھاتی ہے۔ لیکن تمہاری گالیوں میں پھر بھی اسی کا نام ہوتا ہے۔ بہو کی صورت میں ہوگی۔ پڑھا لکھا انسان ہو یا ان پڑھ یہ بد فعلی اکثرمیں موجود ہوتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کہیں کسی موقع پرکسی بات پراختلاف ہو جائے یا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوجائے تو آپ کو وہاں کھلے عام گالیاں بکتے لوگ نظرآئیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارے حکمران جو ٹی وی شوزاور پارلیمنٹ میں موجو ہوتے ہیں جو ہماری نمایندگی کررہے ہیں وہ بھی اس برے عمل کا شکارنظرآتے ہیں۔

    اللّٰہ پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمیں سمجھ بوجھ عطا کی۔ ہمیں صبرکرنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اورہمارے پاس قرآنِ کریم ہے جو ہمیں سیدھے راستے پرچلنے کا صحیح راہ دکھاتا ہے توہم کیوں غفلت میں سب بھولائے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قراردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیرمسلم کو بھی گالی دینا جائزنہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطورہتھیار اورآخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین، اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسرمنافی ہے۔

    قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اورمقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اورمعاشرتی و سماجی عزت واحترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اورقابل نفرت تصورکیا جاتا تھا۔ اہل عرب کا عورت کے ساتھ بدترین رویہ تھا۔ قرآن حکیم نے واضح کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مرتبہ ناپسندیدہ تھا وہ مظلوم اورستائی ہوئی تھی اورہرقسم کی بڑائی اورفضیلت مردوں کے لئے تھی۔ اس میں عورتوں کا حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اوربیکارچیزیں عورتوں کو دیتے۔

    لیکن دین اسلام کے بعد یہ سب بدل گیا اورہمیں یہ بتایا گیا کہ عورت مقدس ہے، قابل احترام اورقابل عزت ہے۔ ہمیں نا صرف اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے بلکہ وہ تمام حقوق بھی پورے کرنے ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں. ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔ میٹھا بولیں، پیارسے بات کریں، کوئی انسان آپ سے بات تلخ کریں تو صبرکریں۔ اکثرکچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا بولا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ اصل برداشت ہی صبرکرنا ہے۔

    اللّٰہ پاک ہمیں اس بد فعلی اور گندی زبان استعمال کرنے سے اورشیطان کو خود پرہاوی ہونے سے بچائیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں اس معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

    @HRA_07

  • ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    انسان نے یقینا ہردورمیں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پرنظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظرآتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اورگردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طورپرفطرت کے خلاف چلیں، جب وہ قانون قدرت کوتوڑکراس کی نافرمان و گستاخ بنی اورخدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا ۔ بنی نوع انسان کو انفرادی بدعملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طورپربدعمل ہوجائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طورپرگھرکرجاتی ہے تو تباہی وبربادی اس کا مقدربن جاتی ہے اورتاریخ نے ایسے کئی مناظردیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طورپرگھرکرگئی تھیں۔

    ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑغالب رہا اوراصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیرہوئیں اوراپنے انجام کو پہنچیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ھیں توہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔

    اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اورصدموں میں گھری ہے۔ ہربڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر، سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ اندلس یا خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین اورکشمیرکا، مشرقی تیمورہو یاچیچنیا، بوسینیا، کوسوؤ، سرب اوربرمی مسلمانوں کی نسل کشی ہو یا افغانستان وعراق، شام، لیبیا کی مسماری یا ہندوستان میں اٹھتے مسلم کش فسادات ہوں، یہ سب امتِ مسلمہ کی جدید معاشرتی، سائینسی اوراخلاقی نظام سے دوری کا نتیجہ ھے۔

    یہ سوال بارباراٹھایا جاتا ھے، کیا مسلمان کبھی 21 ویں صدی میں اصلاح اورجدیدیت اختیارکرسکیں گے اوراس میں شامل ہوسکیں گے؟

    اس کے باوجود ذیلی متن تقریبا ہمیشہ یہ ہے کہ جدیدیت کے مغربی نمونہ جس نے پروٹسٹنٹ اصلاح کے بعد تیارکیا تھا، جس نے سیکولرازم کو مضبوطی سے قبول کیا تھا اورمذہب کی پسماندگی قابل تقلید ہے. مسلمان کے پاس خود کو اسے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سولہویں صدی میں یورپ میں، کلیساؤں نے اکثر مقامی بادشاہوں اورحکمرانوں سے اتحاد کرتے ہوئے کافی دولت اورسیاسی طاقت حاصل کی تھی۔ جدید سائینس کو اپنے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لیکن مسلمان اپنی منفرد مذہبی تاریخ کی وجہ سے جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں میں اپنے مذہب کو بطوراتحادی دیکھتے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کے علماء نے جدید سائینس کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ھوئے جدیدیت کے بیشترایجادات کو اسلام کے منافی قراردے دیا۔ اس وجہ سے تمام امت مسلمہ آج کے جدیدیت میں پیچھے رہ گئے۔

    ایک کامیاب معاشرہ لاشعوری طورپرارتقاء کے عمل سے گزرتے ھوئے جدیدیت کو اپنے دامن میں سماتا ھے۔ جب بھی کوئی معاشرہ جمود کا شکارھوا ھے وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ھے۔ اسلامی معاشرے کو اپنے اندر کے فرسودہ بیڑیوں سے آزاد کرنا ھوگا۔ جنہوں نے اسلام، سائینس، اقتصاد، ثقافت غرضیکہ ھرچیزکو جمود کے دھانے پرلا کھڑا کیا ھے۔ ایک اسلامی معاشرہ تب ھی کامیابی کا ضامن ھو سکتا ھے، جب وہ جدید سائنس کے جدید تقاضوں کو قبول کرتا ھے۔ جب وہ سیاسیات، اقتصادیات اورعمرانیات کو جدید تقاضوں کے ساتھ تسلیم کرتا ھو۔

    @azizbuneri58

  • تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    ‏کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے اساتذہ کے ‏ساتھ ساتھ کلیکریکل سٹاف کی ضرورت بھی ناگزیر ہے استاذہ کو ادارے میں اپنی سیلری ایشو کروانے کے لئے، اپنی چھٹی کو منظور کروانے کے لئے، اپنے الاوئنسز کو لگوانے کے لئے اور بہت سارے کاموں کے لئے کلیریکل سٹاف کی ضرورت پڑتی ہے. ‏لیکن اب تک جتنا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ کلریکل سسٹم اتنا مضبوطی سے کرپشن میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف  کچھ نہیں کرسکتا ہے.

    جب کوئی استاد اپنی اعلی ڈکری اور ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد اس ادارے میں خوشی خوشی سلیکٹ ہوکرآتا ہے تو اس کی خوشی اس وقت بھاپ بن کراڑجاتی ہے جب اسے اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے کلرک حضرات کی منت کرنی پڑتی ہیں اورزرا سا معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو جب تک آپ خرچہ پانی جو کہ رشوت کا ایک متبادل نام ہے نہیں دیتا اس کا کام نہیں ہوسکتا ہے.

    وہ انسان جو ساری زندگی اس رشوت سسٹم سے دوررہا ہو اپنا ہرکام ایمانداری سے کرتا ہو کبھی رشوت کانام بھی نہ لیتا ہو اس کو بھی اس ادارے کو جوائن کرنے کے بعد اپنے جائز کاموں کروانے کے لئےکلرکوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور ایسا  بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایماندار کلرک ادارے میں موجود ہو لیکن  وہ بھی آپکا کام چاہ کر بھی بنا پیسے دیئے نہیں کرواسکتا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اتنے انٹرلنکڈ ہوتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہونے دیتےاگر آپ پیسے نہیں دیتے توجان بوجھ کرآپکی فائل یا آپکا بل ادھرادھرکردیتے ہیں یا آپکو مختلف جگہوں کے چکرلگواتے ہیں.

    ‏اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ جب ایک نیا استاد ادارے کو جوائن کرتا ہے تو اس کو جوائن کے بعد اپنی سیلری سٹارٹ کروانی ہوتی ہے جو کہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹرسٹاف کی زمہ داری ہوتی ہے اورحکومت نے ان کو رکھا بھی سٹوڈنٹس اوراساتذہ کے ان اکاؤنٹ ایشوزکو حل کرنے لئے ہی ہے لیکن یہ لوگ آپکو بل بنا کرنہیں دیں گے اورکہیں گے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ پریشان ہوں گے کہ بل کیسے بنے گا تو پہلے سے موجود لوگ آپکو بتائیں گے کہ آپ خرچے کے نام پہ پیسے دیں تو بل بھی بن جائے گا ورآپکی سیلری بھی سٹارٹ ہو جائے گی اگر آپ بہت ایماندار ہوں گے اور چاہیں گے کہ پیسے نہ دینے پڑیں تب یہ لوگ اس طرح سے حالات بنا دیتے ہیں کہ آپکی فائل اکاونٹ آفس تک نہ پہنچ سکے اور اگر پہنچ جائے تو اکاونٹ آفس والے آپکو بلاوجہ چکرلگوائیں گے اور آخرکارتنگ آکرانسان مجبورہوجاتا ہے اور اپنے جائز کام کے لئے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے پیسے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
    ‏کیونکہ ایک حدیث کے مطابق
    ‏”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”

    ‏اسی طرح طالب علموں کو جب بھی ایڈمیشن سے متلقعہ کوئی ایشو ہوتا ہے توطالب علم کو اسی طرح اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ آپکا ایڈمیشن فارم میں یہ غلطی ہے آپکو یونیورسٹی یا بورڈ میں جانا پڑے گا اورآپکا سال ضائع ہو سکتا ہے آپکا ایڈمیشن نہیں ہوگا یا ایڈمیشن کی تاریخ گزرگئی ہے اورطالب علم خاص طور وہ لوگ جو گاؤں یا قصبے سے تعلیمی حصول کے  لئےآتے ہیں ان سب سے گھبرا جاتے ہیں اوراس پوائنٹ پہ آکرکلرک حضرات اپنا داؤ کھیلتے ہیں اورہمدرد بن کر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی اماؤنٹ دے دیں ہم آپکا کام کروا دیں گے اورطالب علم بیچارے ان کو اپنا خیرخواہ مان کر پیسے دے دیتے ہیں اوراس طرح ان کی جیب بھر جاتی ہے اورتب جا کرطالب علموں کا کام ہوتا ہے اوروہ بیچارے سکون کا سانس لیتے ہیں اوروہ ایشو جو بنا پیسے کے حل ہوجانا چاہیے تھا ڈھیرسارے پیسوں کے عوض ہوتا ہے
    ‏اب یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگراس حد تک یہ لوگ تنگ کرتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ سب معلومات اعلی حکام اورسربراہوں کے علم میں ہونی چاہیے کیونکہ اساتذہ اورطالب علم کے مسائل کو حل کرنا انکی زمہ داری میں شامل ہے.

    ‏لیکن افسوس تو اسی بات پہ ہے کہ ادارے کے سربراہ اوراعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ خود بھی ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں ‏اوراگر کبھی ان تک ان لوگوں کی شکایات پہنچائی جائیں تو آگے سے ہمیں ہدایت کرتے ہیں کہ آپ کلرکوں کو پیسے دے کراپنا کام کروالیں اب اگراعلی حکام بھی اس مافیہ کا حصہ ہوں تو اساتذہ اورطالب علم اپنے مسائل کے حل کے لئے کونسے حکام بالا تک رسائی حاصل کریں ؟

    ‏ایک اوراہم بات خاص طورپہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں بہت اہمیت کی حامل ہے کہ والدین بہت بھروسہ کرکے اپنی بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اعلی تعلیم سے مستفید ہوسکیں جبکہ طالبات اپنے کچھ تعلیمی معاملات جنکا تعلق کلیریکل سٹاف سے ہوتا ہے انکو حل کروانے کے لئے کلرک حضرات کے پاس جانا پڑتا ہے جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انکے پرسنل نمبر، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکا پرسنل بائیو ڈیٹا آفس میں موجود ہونے کی وجہ سے اس تک انکی رسائی حاصل ہوتی ہے جسکا وہ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ غیراخلاقی فعل ہے وہ ادارہ جو تعلیم دینے کے لئے ہوتا ہے وہاں بہت ساری طالبات اس غلط روئیےکی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں.

    ‏مزید یہ کہ ‏اداروں کے بہتر تعلیمی نتائج کے لئے اساتذہ دن رات محنت ‏کرت ہیں ‏اور وہ طالب علم جو پورا سال کبھی بھی ادارے میں نہیں آتے ‏تو اصولی طورپہ تو ان کا داخلہ نہیں بھیجا جانا چاہئے تاکہ ان طالب علم کو اس بات کا احساس ہو کہ ادارے میں غیر حاضررہ کر آپ تعلیمی امتحان کا حصہ نہی بن سکتے اوراس مقصد کے لئے استاد ایسےطالب علموں کی نشاندہی کرکے ادارے کے سربراہ کے علم میں لاتا ہے جہاں سے یہ نام کلیریکل حضرات کو پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان طالب علموں کے ناموں کو ادارے سے خارج کردیا جائے اوراس بات سے استاد بھی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے سب طالب علموں کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن جب طالب علموں کی رولنمبر سلپ آتی ہیں ان طالب علموں کے نام بھی موجود ہوتے ہیںاقر یہ چیزاستاتذہ کے لئے یہ چیز انتہائی حیران کن ثابت ہوتی ہے کہ جن طالب علموں کے نام انہوں نے لسٹ سے خارج کرنے کے لئے دیے تھے وہ کس ترہاں شامل لسٹ ہوئے ۔

    پھرتحقیق کرنے پرپتہ چلتا ہے کلرک نے رشوت لے کر‏ادارے کے استاتذہ کو دھوکے میں رکھا اور ایڈمیشن بجھیج دیے اب اگرآپ احتجاج کریں بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ طالب علم شامل لسٹ ہو چکا ہوتا ہے اورایگزام میں بھی حاضرہوچکا ہوتا ہے اس ترہاں امتحان دینے پر نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں آتا ہے اوراسکا خمیازہ اساتذہ اورادارہ کو بھگتنا پڑتا ہے اسکا ایک اورغلط نتیجہ اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ جو طالب علم پورا سال حاضررہ کرامتحان کا حصہ بنتے ہیں انکی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ ادارہ کی انتظامیہ کہ اس رویہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔

    ‏ان تمام معملات کومد نظررکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا کلریکل سٹاف یا تو خواتین کی صورت میں ہو یا پھران کے خیلاف سخت سے سخت ایکشن ہو تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرپشن جیسی امراض سے پاک کیا جا سکے.
    ‏پاکستان پائندہ باد

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    بات اگرکی جائے اسلام غالب آنے سے پہلے کی تو دنیا کا ایک الگ رنگ دیکھنے کو ملے گا جب اسلام کا غلبہ نہیں تھا تو دوسرے مذاہب میں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا بالخصوص خواتین کوتو کوئی اہمیت نہیں ملتی تھی عورت کو استعمال کرنے والی مشین سمجھتے تھے یہی نہیں بلکے عورت کے حقوق بھی انکو حاصل نہ تھے ایسے میں دین محمدی کا عروج آیا اورپوری دنیا پراسلام نے غلبہ حاصل کیا۔

    اسلام کے آتے ہی شریعت محمدی نافذ ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے مذاہب کے لوگ جن میں کفارومشرکین جوک درجوک اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے اورآتے بھی کیوں نا اسلام ہے ہی رواداری، تقوی والا مذہب جس میں غیرمسلم کو بھی انکے حقوق حاصل تھے اسلام ہمیشہ پیارمحبت کا درس دینے والا مذہب ہے اوراسکی کھولی مثال فتح مکہ کا واقعہ ہے میں اس کی ڈیٹیل میں نہیں جاؤں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا اسلام جیسا امن والا مذہب پوری دنیا میں نہیں ہے.

    یہود و نصاریٰ آج پوری دنیا میں اسلام مخالف مہم چلاتے ہیں کبھی گستاخانہ خاکوں کی شکل میں تو کبھی کوئی فلم کی شکل میں مسلمانوں کو تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جس میں ہمارے پیارے نبی محمد عربی امام الانبیاءؑ خاتم المرسلین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی محنت دعوت و تبلیغ شامل ہے اللہ پاک سے دعا ہے ہم روزے قیامت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت و زیارت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین ثم آمین.

    @SyedUmair95

  • موجودہ زمانے کی دنیائے کرکٹ کے پانچ بڑے بلے بازوں کا موازنہ .  تحریر: انس حفیظ

    موجودہ زمانے کی دنیائے کرکٹ کے پانچ بڑے بلے بازوں کا موازنہ . تحریر: انس حفیظ

    کسی بھی بلے بازکی کلاس اورکارکردگی کو ناپنے کے بہت سے پیمانے ہوسکتے ہیں لیکن میں تین چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ رنزکی تعداد یعنی اوسط، رنزبنانے کی رفتار یعنی سٹرائیک ریٹ اوربنائے گئے رنزکا ٹیم کی جیت میں کردار۔

    موجودہ زمانے میں پانچ کرکٹرزایسے ہیں جنہیں دنیائے کرکٹ کے شائقین تینوں فارمیٹس کے بڑے بلے باز سمجھتے ہیں۔ ان میں ویرات کوہلی، بابر اعظم، سٹیو سمتھ، کین ولیمسن اور جوئے روٹ شامل ہیں. اگر ہم ان تینوں بلے بازوں کے اعداوشمار پرغور کریں تو تینوں فارمیٹس کی اوسط میں ویرات کوہلی سب سے آگے ہیں۔ ان کی مجموعی اوسط 164 ہے۔ بابراعظم 153، سٹو سمتھ 132، کین ولیمسن 132 جبکہ جوئے روٹ 130 کی اوسط رکھتے ہیں۔

    ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے مجموعی سٹرائیک ریٹ میں ویرات کوہلی کا سٹرائیک ریٹ 232 ہے۔ بابراعظم دوسرے (221)، سٹو سمتھ تیسرے (218)، کین ولیمسن چوتھے(207) جبکہ جوئے روٹ پانچویں(206) نمبرپرہیں۔ سب سے آخری معیار جیتے ہوئے میچزمیں کارکردگی ہے۔ بابراعظم کی تمام فارمیٹس میں مجموعی طورپران میچزمیں اوسط 69 کی رہی جن میں پاکستان کو جیت ملی۔ ویرات کوہلی دوسرے (68) جوئے روٹ تیسرے (63) سٹیو سمتھ چوتھے (62) اورکین ولیمسن پانچویں (61) نمبرپرہیں۔

    ان اعداوشمارسے جو تصویرنظرآتی ہے اس کے مطابق ویرات کوہلی بے شک دنیا کا بہترین بلے باز ہے۔ بابراعظم کوہلی کے کافی قریب پہنچ چکا ہے مگر ابھی کچھ باکسز ٹک کرنے باقی ہیں جیسے چیزکرتے وقت سٹیل جیسے نروزکا مظاہرہ کرنا وغیرہ۔ ولیمسن، سمتھ اور روٹ بھی بڑے بلے باز ہیں اور بابرسے زیادہ تجربہ کارہیں زیادہ دفعہ اپنی ٹیموں کوجتوا چکے مگراعدادوشمارکی تصویربابرکوان سے بہتربتاتی ہے۔ بابراعظم کو ان تمام بلے بازوں پرجوایڈوانٹیج حاصل ہے وہ یہ ہے کہ یہ تمام بلے بازاپنی "پیک” گزارچکے ہیں جبکہ بابر کی پیک آنا ابھی باقی ہے اورموجودہ آئی سی سی رینکنگ بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ باقی بلے بازکارکردگی کی سیڑھی پرنیچے کی طرف جبکہ بابراوپر کی طرف رواں دواں ہے اور ون ڈے کا نمبر1 بلے باز بھی بن چُکا ہے۔