Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    کووڈ -19 نام تو ابھی یاد ہی ہوگا جس نے ساری دنیا میں ہلچل مچا دی. زندگی جیسی بھی سہی گزر رہی تھی. ہر کوئی اپنی چال چل رہا تھا. اپنی خواہش اوراستطاعت کے مطابق زندگی کے پلان بنا رہا تھا.یہ ہوگا تو وہ ہوگا ایسے کریں گے ویسے کریں گےوغیرہ وغیرہ.

    پریقینا ہم یہ شاید بھول چکے رھے کہ "سامان سو سال کا پل کی خبر نہیں” کیونکہ ہوگا وہی جو اسکی چاہت ہے. اچانک ایک بات نکلی اور آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہونے لگے. توجہ کا مرکز چین نکلا. چین کے شہر ووہان جو کہ تجارتی مرکز تصور کیا جاتا ہے.کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی.جس کی جتنی سمجھ تھی اس نے اس کا چورن سوشل میڈیا پر بیچا.

    بات کچھ یوں ہے کہ امریکہ اورچائنہ کی عالمی طاقت ہونے پر سوال اٹھنے لگے. کبھیG-5 پر ملینڈا ایڈ کمپنی کو رگڑا گیا. کبھی چائنہ میں چمگادڑوں.بندروں. سانپوں. کتوں کے کھانے پرمورد الزام ٹھہرائے گئے. رہے سہے چائنہ نے جو اقدامات ووہان شہرمیں کئے وہ سب آپ جانتے ییں. پھراسی فضاء نے یورپ کا رخ کیا اور اپنی لپیٹ میں کے لیا. فکر اس بات کی ہے جن کو ہم کافر کہتے ہیں پھر ہم انسانیت کے لحاظ سے انکی تعریف کیوں کرتے ییں؟ وہاں وباء کے دوران روزمرہ زندگی کی ہرشے کو سستا کیا گیا اورنظم ضبط کو ہمیشہ ملحوظ خاطررکھا گیا.

    اب آتے ہیں اپنے پیارے ملک پاکستان میں بحثیت ملازم کام کی وجہ سے مارکیٹ کے لوگوں کے ساتھ کافی میل جول یے. اس لیے سچ لکھنے پربضد ہوں. جیسےںی کورونا 2020 کے اوائل میں اپنا سراٹھانے لگا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی. کاروباری حضرات نے وباء کے دوران سر میں چمپی لگا کر سوچنا شروع کیا کہ اس وباء پر کیسے کاروبار کیا جائے. ملک پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا تھا اوپر سے ڈالرکی اڑتی اڑان کم تھی جو یورپ میں وباء کی تباہ کاریوں کی بدولت مزید پریشانیاں پی ٹی آئی کی حکومت کے آڑے آئیں. ڈبلیوایچ اوکی خدمات لی گئیں.مختلف ٹیٹو پاٹیاں اورلفظوں کے ہیر پھیرپرخطاب وارد ہوئے. احساس پروگرام.ہیلتھ کارڈ.راشن کارڈ.موضوع بحث رہے.

    ملکی مافیا چاہے کسی شعبہ زندگی سے تعلق ہو حکومت کے آگے تن کرکھڑی ہوگئی. پٹرول مافیا. چینی مافیا. مہنگائی کے چکرمیں بیچاری غریب عوام دردرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہوئی. پردوسری طرف حکومت کے لگائے لاک ڈاون اور وقت کی بندش اور تجاوزات ہٹانے پر بےچارہ غریب مرتا ناں تو کیا کرتا. بڑے بڑے پرائیویٹ اداروں کو ملازمین کو منٹوں میں نوکری سے فارغ کرتے دیکھا. خالی ہاتھ گھروں میں بھیج دیا گیا. 2020 میں اسکول بںد ہونے پر 20 فیصد فیس میں کمی وہ بھی عدالت کے نوٹس لینے پرجو 2021 میں شاید عدالت کو اپنی غلطی کا احساس ہونے پریاد آگیا.
    حیرت ہے مافیا ڈھونڈنے والوں کو اسکول کیوں بھول جاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے کورونا صرف غریبوں کیلیے آیا کیونکہ ماسک سے لے کر ادویات اور کپڑے والوں کو شاید استثنی حاصل رہا. رہے سہے 2020 گزرگیا پر شاید ہم نے سیکھا کچھ نہیں.

    اب آتے ہیں اصل مدعا پر2021 میں تیسری لہر آئی تو لوگوں نے حکومت کے ایس او پیز کے مطابق 20 % عمل کیااور اس کو محض ایک ڈرامہ اورسازش سمجھا. آہستہ آہستہ جب کورونا نے ہسپتالوں کی ایمرجنسیز اور گھروں کا رخ کیا تو لوگ کو 30 % یقین ہونے لگا
    خیر ایک سال کی تحقیق کے بعد یہ رزلٹ آیا کہ کورونا کے مریض کو فوری طورپرجس چیز سے بچانا ہے وہ ہے اس کا Clotting Factor
    D-Dimer جس کاپرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ تقریبا 2000 کا اور دوسرے فیکٹر ڈال کر 6500 ٹوٹل خرچا. کورونا کے مریض کا خون گاڑھا ہوجاتا یے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں انجماد کی وجہ ہے ہارٹ اٹیک پربندہ فارغ.

    اب مسئلہ یہ تھا کہ اس ضمن میں جو دوائی موجود ہے وہ hyprin .Clexin انجیکشن یاں آخرمیں لوپرن یاں اسکارڈ رہ جاتی ہے.ہوا یوں کہ مافیا پھرسرگرم رہا اوردیکھا کہ کووڈ کے مریضوں کیلیے یی ادویات بہت ضروری بلکہ لائف سیونگ ڈرگزبن گئیں تو انھوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنا کاروبار کوچارچاند لگانے کیلیے بلیک کا گنوونا دھندہ شروع کیا اوراپنے پاس اسٹاک جمع کرلیا. لوگ دوا کے ناں ملنے سے مرنا شروع ہو گئے. رہی بات دوا ساز کمپنی کی تو دوا کا ناں ملنا صرف یہ تھا کہ 2020 میں دوا ساز کنپنی دوا کی قیمت بڑھا چکی تھی .اس پر وقت مقرر کیا جاتا ہے خیر انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور حکومت سے دوا کا ریٹ بڑھانے پر بات کی پر حکومت کے ساتھ ان کے مزاکرات ناکام ہوگئے.

    جیسا کہ ہم خوف اورمجبوری کی بناء پرلوگوں کو لوٹتے ہیں اور یہی سچ ہے. جب ان انجیکشن کا پتا کیا گیا تو جنہوں نے بلیک کیا تھا ان کو ناں تو کوئی پکڑنے والا اورناں کاروائی کرنے والاہے. انہوں نے لوگوں کے پیاروں کے پیار میں بچھڑنے کی مجبوری میں خوب پیسا کمایا.
    میرا گلہ صرف یہ ہے کہ کیا ہم نے یاں ہمارے کسی پیارے عزیز نے کیا کبھی بیمارنہیں ہونا، کیا وہ اس انجیکشن کو بلیک میں بیچ کر اپنے پیاروں کو ہر بیماری سے محفوظ رکھ پائیں گے.

    خدارا انسان بنیں، کیونکہ حقوق العباد پر معافی شاید وہ بھی ناں دے، کیونکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی.
    "” جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا”
    ذرہ سوچیئے……

    @iSohailCh

  • اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    میں پاکستان کے گلے سڑے نظام اوراس نظام سے فائدہ اٹھانے والے درندوں کو دیکھتا تھا تو دل بہت جلتا تھا کیسے یہ لوگ پاکستان کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں. ہمارا کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا جو جوابدہ ہو ہرکوئی ببرشیربنا ہوا سب کا ایک ہی کام پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہمارے نوجوان جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں وہ ان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں یہ تک بھول چکے تھے کہ اللّٰہ نے انہیں بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں سوچنے والا دماغ ہے جو تفکروتدبراورعقل وشعورکی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دل بہت کڑتا تھا مجھے لگتا تھا کچھ تبدیل نہیں ہوگا ہماری نسلیں ان چوروں ڈاکووں کی عمربھرغلامی کریں گی۔

    اس مایوسی کے عالم میں میری نظر ایک کھلاڑی پرپڑی جس نے اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اسے اقتدار کی کرسی کی لالچ ہے نہ حاکمیت کا شوق، وہ ایک درویش انسان ہے جس کا اوڑھنا بچھونا صرف پاکستان اور پاکستانی ہیں جس نے ہمیں شعوردیا پُل اور سڑکیں بنانے سے زیادہ اِہم ہوتا ہے، کہ قوم بنائی جاۓ اورانسانیت کی خدمت کی جاۓ انسانوں کی بقاء کے وژن پرکام کیا جاۓ خیبر پختونخوا کو ہی دیکھ لیں میرے لیے وہ آج آئیڈیل صوبہ ہے پچھلے دورحکومت دیکھیں اورماشاءاللہ اب دیکھیں جہاں صحت کی سہولت اب مفت ہے جہاں مذہب، ذات اورسیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیرہرخیبرپختونخوا کے شہری کو دس لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس فراہمی دی جا رہی ہے الحمدللہ‏صوبہ خیبر پختونخوا میں میرے کپتان کی زیرنگرانی تیزی سے ترقی کا سفرجاری و ساری ہے۔

    ہر کام کو کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے پہلے مجھے لگتا تھا عمران خان پنجاب میں آئیں گے تو وہی سسٹم یہاں بھی دہرایا جائے گا اور حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اسکی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کلچر، مزاج، سوسائٹی مختلف ہے جب کہ پنجاب کا مزاج اورطرح کا ہے۔ یہاں کی پولیس، پٹواری، ہسپتال، محکمہ جات پہلے سے امپروو کرنے کے بجائے تنزلی کا شکار ہوئے۔
    کیونکہ یہاں کی عوام میں محکومیت والا عنصر موجود ہے اس سب کے باوجود، عمران خان بڑے اداروں کی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے، جس کا نتیجہ آنے والی دنوں میں سامنے آئے گا۔

    میرا قائد عمران خان اس وقت پوری قوم کی جنگ لڑرہا ہے۔ اس وقت ملک کے سارے چوراچکے ڈاکو لٹیرے جیب کترے لفافے ایک ہوکر اس شخص کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں پرعوام بیوقوف نہیں سب نظرآرہا ہے کی پی کی ہو سندھ یا پھرپنجاب سب کی کوشش صرف یہی ہے کہ عمران خان کا راستہ روکا جائے. کیونکہ سب پارٹیز کے مفادات تو ایک ہی ہیں. سب کو پتا ہے عمران خان نے پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑنا ہے لیکن خدا نخواستہ یہ کرپٹ مافیا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے یا یہ کہیں کہ اگر عمران خان صاحب نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تو کیا ہو گا۔۔؟؟

    اسکی ذات کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر پھر کوئی اور انسان آپکی آواز نہیں بنے گا کیونکہ اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھانا صرف عمران خان کا نہیں اس کی قوم کا بھی کام ہے۔ چلیں آئیں آج پھر ہم عہد کریں کہ ہم عمران خان صاحب کو گرنے نہیں دینگے کیوں کہ نقصان ہمارا ہوگا اللہ تعالی ہمارے لیڈر عمران خان صاحب اور پاکستان کی حفاظت فرمائے. آمین ثم آمین۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان زندہ باد

    Twitter handle @HayatShilmani

  • اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللہ تعالی کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانوراپنے بالوں، سینگوں اور کُھروں کو لے کر آئے گا، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے سے اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کے مقام کو پا لیتا ہے، اس لئے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔ (سنن ترمذی)

    حضرت سیدنا علی المرتضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم قربانی کرو،اوران قربانیوں کے خون پر اجروثواب کی امید رکھو،اس لئے کہ (ان کا ) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی حفظ وامان میم چلا جاتا ہے.

    ہمیں بڑھ چڑھ کرثواب لینا چاہیے ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل اورکیا چاہیے. دنبے اوربھیڑکے بدن پرکتنے لاتعداد بال ہوتے ہیں؟؟

    اگر کوئی صبح سے شام تک گنتی کریں تو بھی نہ گن سکے ہمارے پندرہ بیس ہزارکے مقابلے میں کتنی بے حساب نیکیاں ملیں گی؟ ہمیں اس قدر اجروثواب کو دیکھ کر خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرنی چاہیئے۔واجب تو واجب ہے ہی اگروسعت ہوتو نفلی قربانی بھی کرنی چاہیئے۔ یعنی اگر اللہ جل شانہُ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہے.

    محسن اعظم محسن انسانیت، ،نور مجسم،رحمت عالم ﷺ آقائے دو جہاں کی جانب سے اور آپ ﷺ کے اصحابؓ و اہلبیتؓ کی طرف سے بھی قربانی کیجیئے۔ صرف جانور ہی قربان نہ کریں اس عید پر اپنی ضد، انا، حسد، بدگمانی کو بھی قربان کیجیئیے، دل صاف کیجیئے تاکہ قربانیاں قبول ہوسکیں. جس طرح درخت کی قیمت اس کے پھل کے حساب سے ہوتی ہے اسی طرح انسان کی قیمت اس کے عمل اورکردار کے حساب سے ہوتی ہے. شکریہ

    @BinteChinte

  • وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    پاکستان کی صورتحال ہرکسی پرعیاں ہے، ملک کو لوٹنے والے سیاست دان جو کروڑوں روپے الیکشن میں لگا کر حکومت میں آتے ہیں وہ عوام کی خدمت کرنے نہیں آتے بلکہ وہ لوٹ مارکے زریعے سود سمیت اپنا سارا پیسا واپس وصول کرلیتے ہیں. اس ساری صورتحال کی اصل ذمہ دارعوام ہے جو آج تک اپنے حکمران کا سہی انتخاب نہیں کرسکی. پاکستان کا آئین جس پرسارے ملک کا دارومدارہوتا ہے، جس کے تحت ملک کا قانون ہوتا ہے. اسی آئین کی رو سے ہمارے ملک کا حکمران کس طرح کا ہونا چاہیے یہ بہت ساری عوام جانتی ہی نہیں.

    اپنے حکمران کا سہی انتخاب بہت ضروری ہے.
    پاکستان کی عوام میں بہت بڑی خامی یہ کہ یہ قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے.
    پاکستان کا آئین کیا ہے کسی کو کچھ نہیں پتا.
    یہ تعلیم کا فقدان اندھی تقلید کا باعث ہے.

    پاکستان کے نظام تعلیم میں آئین پاکستان کی تعلیم لازمی شامل کرنی چاہیے تاکہ نئ نسل کو اپنے ملک کے قوانین کے بارے میں آگاہی حاصل ہو.عوام میں شعور کا فقدان اس قدر ہے کہ ہر کوئی انہیں اپنی باتوں میں لگا سکتا ہے آج تک کسی بھی حکومت نے عوام کی عزت کی بالادستی کی بات نہیں کی. اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارے حکمران اسلامی اقدار پر بھی حملے کر چکے اس کے باوجود عوام ان کو ووٹ دیتے ہیں. کوئی اپنی گلی کے لیے ووٹ دے رہا ہے، کوئی نالیوں کے لیے اورکچھ لوگ تو کہتے ہیں یہ حکمران کچھ بھی نا کرے پھر بھی ووٹ اسی کو دینا ہے. اس قدر اندھی تقلید سے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا.

    سیاست میں عوام کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

    ہم مسلمان ہیں ہمارا سب سے اہم فریضہ اسلام کی سر بلندی ہے عوام کو یہ لازمی دیکھنا ہو گا کہ ہم جس کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم جس کو اسلامی ریاست کا سربراہ تسلیم کر رہے ہیں کیا وہ اسلامی تعلیمات پرکم از کم اتنا عبوررکھتا ہے وہ ملک کے ہرشعبے کواللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر چلاسکے گا. اس کے بعد کیا وہ عوامی مسائل کو جانتا ہے کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے.

    کیا وہ عام آدمی کو عزت دلا سکتا ہے جس کے ووٹوں پر وہ حکمرانی کرے گا؟
    کیا وہ اتنا مضبوط ہے کہ ریاست کا بوجھ اٹھا سکے؟

    آج کل عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے لبرل قسم کے لوگ بہت سر گرم ہیں جن کہنا ہے کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں.
    ایسا بلکل بھی نہیں ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں دنیا کے ہر شعبے کے لیے راہنمائی موجود ہے.
    اس میں عدل کرنے کے احکامات موجود ہیں، اس میں حکومت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، اس میں تجارت کے اصول موجود ہیں حتیٰ کہ اس میں تمام شعبہ زندگی کے لیے راہنمائی موجود ہے. اسی لیے بحیثیت محب اسلام اور محب وطن ہمیں اسلام کا علم رکھنے والے حکمران کا انتخاب کرنا ہوگا. اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہیں جب ہم اسلام کو ترجیحات میں سر فہرست رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے ہر کام آسان فرمائے گا. یہی ہماراعقیدہ ہونا چاہیے. اچھے حکمران کا انتخاب کرنے کے بعد بھی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی.

    عوام کو اپنی طاقت کا علم ہونا چاہیے جس طرح عوام اپنے ووٹوں کی طاقت سے حکمران بناتے ہیں ویسے ہی عوام حکمران کے غلط کاموں پر اسے طاقت کی کرسی سے اٹھا بھی سکتے ہیں. آج کل لوگ اپنی سیاسی جماعت سے اس قدر لگاو رکھتے ہیں کہ ان کے ہر اچھے اور برے کام کا دفاع کرتے ہیں. یہ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں. کوئی بھی حکمران ہو چاہے ہمارا حمایت یافتہ ہو یا کوئی اور اگرغلط کام کرنے پر بضد ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں تاکہ ہرآنے والے کو پتا ہو کہ ہمارا کوئی غلط کام برداشت نہیں کیا جائے گا. خدارا غلط کو غلط کہنا سیکھ لیں ورنہ ہم کبھی بھی اپنی عزت نہیں کروا سکیں گے. حکمران عوام کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ان کو پتا ہے ہمارے ہر غلط کام کا دفاع کرنے والے لوگ موجود ہیں. اسلام میں حکمرانی عیاشیوں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے.

    اللہ تعالیٰ ساری عوام کو شعور عطاء فرمائے تاکہ ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض ادا کریں اورحکمرانوں کا بہترانتخاب کرسکیں.
    فی امان اللہ.

  • عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازوعدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔ عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اورصالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور،غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے.
    آخریہ سب کب تک چلے گا؟
    آخریہ حرام کی نرسری میں پیدا ہونے والے کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقاراسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟
    اگرہوبھی تو لولا لنگڑا
    آخرکیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹرعاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیرایئرپورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھرسے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اوردیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پربیٹھیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریزکا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقداراورقرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم ازکم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اورجھوٹ کی تمیزتو ہوگی
    جنہیں ناانصافی کرنے اورجھوٹ کا ساتھ دینے پراللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پرعذاب الہی تو یاد ہوگا اورخوف خدا سے انکے ہاتھ توکانپیں گے

    کیونکہ عدل وانصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضروربن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل وانصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے.
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے.
    ارشاد باری تعالی ہے.
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    ‎@Zaman_Lalaa

  • پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے.
    ایٹمی ملک ہونا پاکستان کوجہاں ناقابل شکست و تسخیر بناتا ہے وہاں بے پناہ مسائل کا شکار بھی کرتا ہے.

    پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزورملک ہے جس کی بدولت طاقتورممالک اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کرتے ہیں.
    پچھلی دو دہائیاں اس بات کا غمازکرتی ہیں جس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کواستعمال کیا. صرف امریکہ ہی نہیں دیگرمغربی ممالک بھی پاکستان کی معاشی کمزوری کی بدولت اس کو مفادات کی جنگ میں گھیسٹتے ہیں. جہاں چائنہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے وہاں اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کررہا ہے.

    تمام ایٹمی ملک سپرپاورکی دوڑمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پاکستان جیسے کمزورملک کو استعمال کررہے ہیں. پاکستان بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اس سپرپاورکی دوڑمیں شامل ہوگیا ہے. اگرچہ ناگفتہ بہ معاشی حالات ہیں مگرجیوگرافکل اورجیوپولیٹیکل صورتحال کے پیش نظراب منظر نامہ تبدیلی کی طرف گامزن ہوگیا ہے.

    پاکستان پہلے برطانیہ وامریکہ کا اتحادی شمارہوتا تھا جس کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں بھی دیں اوراپنی معیشت بھی برباد کی مگر حاصل کچھ نہ ہوا. پرائی جنگ میں ساجھے داربن کراربوں ڈالرزکے infrastructure کا نقصان کیا لکھوں جانیں قربان کیں اوربدلے میں دہشتگردی کا لیبل لگوایا. اب پاکستان نے جو چائنہ کے ساتھ مل کر پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈورشروع کیا ہے اس سے پوری دنیا میں منظرنامہ تبدیل ہو کررہ گیا ہے.

    عرب ممالک جو اسلامی بنیاد پرپاکستان کے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں اب نظربدل رہے ہیں کیونکہ اماراتی سمندری بالادستی ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے انہیں بھی شدید تکلیف پہنچ رہی ہے. ازلی دشمن بھارت جس نے کبھی بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے خواہ وہ کوئی بھی پلیٹ فارم ہو. یہ الگ بات ہے کہ اسے ہربارمنہ کی کھانی پڑی ہے. اب پاکستان نے بھی اپنی strategy بدل لی ہے امریکہ بہادرکوabsolutely not کا میسج دے کر پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ ہم آپ کے محتاج نہیں اورنہ آپ کے ذرخرید غلام ہیں.

    جیو پولیٹیکل اورجیولاجیکل فیکڑ پردیکھیں تو افغانستان میں وقت سے پہلے امریکی انخلا اورپاکستان کا کرارا جواب دنیا کے منظر نامے پر نئی راہیں متعین کرنے کا اعلان ہے. پاکستان، چائنہ، روس، ترکی اورملائشیا نیا اتحاد ہونے جا رہا ہے. جس سے اسرائیل، بھارت اورامریکہ شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں. امریکہ کی افغانستان سے وقت سے پہلے انخلا پربھارت نوحہ کناں ہے بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بہت زیادہ investment کر رکھی تھی اب وہ ساری ڈوبنے کے امکان روشن ہیں.

    طالبان کی افغانستان میں بڑھتی مقبولیت اورحکومت بنانے کے واضح اثرات دیکھ کر بھارت شدید خائف ہوکراسرائیل کی طرف بھاگا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں روکے مگرامریکہ تو شاید بہانے کے انتطار میں تھا اوربگرام ائیر بیس کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے دم دبا کربھاگ رہا ہے یہ سب دیکھ کر بھارت شدید رنج اور پریشانی میں ایک ایک کر کے افغانستان میں اپنے کونصل خانے خالی کر رہا ہے.

    اس فیصلے پراسرائیلی حکومت امریکہ کو بھارتی نقصان باورکرانے کے لیے ایک کانفرنس کرنا چاہتی ہے. مگرایک امریکی اعلی عہدے دار کا ماننا ہے کہ اس میٹنگ میں پاکستان کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کا کیوں کہ پاکستان اتنا ہی اہم ایٹمی ملک ہے جتنا بھارت اگرچہ پاکستان کی اکنامک پوزیشن بھارت کے مقابلے کم ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اہمیت برابر ہے.

    سپرپاور کیلئے زیادہ سہولت ہے اگر جغرافیائی اعتبار سے محفوظ مقام پرہو دوسرے اہم قوت ہونے کیلئے معیشت اورعسکری قوت کے ساتھ ایک اور چیز ہے اوروہ ہے قدرتی جغرافیائی نقشہ جس پرپاکستان مکمل پورا اترتا ہے. بھارت پاکستان سے 6 گنا بڑا ہے. معیشت بھی اچھی ہے اورآبادی بھی بہت ہے لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ ایک بند مقام پر ہے اسے opening دستیاب ہی نہیں ہے. ایک طرف پاکستان دوسری طرف چین اور پھر ایک مشکل پہاڑی ملک نیپال غیراہم بھوٹان اوربنگلہ دیش جہاں سے محض مشرق بعید کے ایک دو ممالک تک رسائی ہے.

    بھارت جغرافیائی اعتبار سے کبھی بھی وہ اہمیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جو پاکستان کو ہے. چائنہ اپنا ٹارگٹ فٹ کیے بیٹھا ہے آنے والی طالبان حکومت سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت سٹریم لائن ہے طالبان بھی اب جبر و تشدد کو ترک کر کے عمدہ حکومت کے لیے پرامید ہیں. اگرطالبان سے معاملات طے پا جاتے ہیں تو روس پہلے ہی پاکستان کو blank check آفر کر چکا ہے کہ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس کا مفاد کس جگہ پر کتنا اہم اورکتنا بڑا ہے.

    ترکی آنے والے وقتوں میں ایک بڑی معیشت ہے جو براہ راست پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، ملائشیا پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے. اب اگر پاکستان چاہے تو ان تمام اتحاد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے مگر معاشی بد حالی اورکچھ غیرمعمولی نادیدہ قوتیں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کرپاکستان کو محکوم رکھیں گے. لیکن عالمی سیاسی منظر نامے پراورسنٹرل ایشائی ممالک میں طاقت کے توازن میں پاکستان غیر معمولی حیثیت حاصل کرچکا ہے. اب پاکستان کے بغیرسپرپاوربننا ناممکن ہے اس تناظرمیں اگردیکھا جائے تویہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہی اصل میں سپرپاورہے.

    ‎@one_pak_

  • کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    COVID-19 کی وجہ سے جن حالات میں سے زندگی گزری ہرطرف ایک عجیب ڈرخوف اورکشمکش کی صورت حال دکھائی دی ہے.
    ایسا پہلے نہ کبھی کسی نے سنا نہ دیکھا کہ ایک ایسی بیماری جس نے یک لخت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کرحیران کردیا ہے.
    مارچ 2019 تک سب ٹھیک تھا زندگی اپنے پورے وجود کے ساتھ گنگناتی تھی دنیا کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کوئی ایسی وبا آۓ گی جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی ہے.

    پھراچانک چائنہ میں ایک ایسی بیماری کا جنم ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا بیماری جسے Covid-19 کا نام دیا گیا اس نے ہر ملک شہر، گاؤں، دیہات میں اپنے پنجے گاڑ لیے اورزندگی کو مکمل مفلوج کرکے رکھ دیا سکول کالجز، دفاتر، کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات بھی بند کردیے گئے اور یوں لاک ڈاؤن میں مقید ہوکردنیا حقیقی معنوں میں مفلوج ہو کررہ گئی ہے.

    کاروباری لحاظ سے کرونا کی وبا سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے اقوامِ عالم متحرک ہوگیا ہے. یورپی یونین میں شامل ممالک کو گرانٹ اورآسان شرائط پرقرضے دینے کی تنظیم نے سات سوپچاس ارب یورو مختص کردیے بدا منی بھوک اورافلاس زدہ افریقی ممالک بھی باہمی تعاون کے منتظراورانکی بحالی کی کوششیں شروع کردی گئیں ہیں. مگر جنوبی ایشیا کی بدقسمتی ختم نہیں ہوسکی اور ہرگزرتے دن کے ساتھ کورونا کی تباہی کے ساتھ جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں. بھارت کومذہبی انتہا پسندی کا مرکز بنانے کے بعد مودی سرکار نے جارحانہ عزائم چھپانے کا تکلف بھی چھوڑ دیا ہے اورہمسایہ ممالک سے تعلقات بگاڑ کرخطے کی بالادستی حاصل کرنے کے بعد طاقتوراورسپرپاوربننا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے ہروقت کوشاں ہے اور چائنہ اس کے ساتھ کھڑا ہے لیکن بھارت کی شر پسندانہ سرگرمیوں کی بنا پر ہمسایہ ممالک بدظن ضرور ہوئے ہیں خاص کر افغانستان جہاں طالبان کے ساتھ اس کے رابطے مضبوط ہیں بھارت جن خبروں کی پہلے ہٹ دھرمی سے تردید کرتا رہا لیکن حالیہ دنوں میں اس نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے.

    پاکستان سے اپنی ازلی مخاصمت کی طویل تاریخ کے باوجود خطے کی بالادست قوت تو نہیں بن سکا مگر سارک تنظیم کو کمزور کرنے میں ضرورکامیاب ہوگیا ہے. حالانکہ بھارت کی جنونی حکومت اگر امن پسندی کا مظاہرہ کرتی تو نہ صرف یورپی ملکوں کی طرح سارک ممالک بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے. بلکہ سارک تنظیم دنیا کی مضبوط ترین تنظیم بن سکتی تھی. بھارت کی ہٹ دھرمی کا دنیا ادراک نہیں کرتی بھارت کے کرتوتوں پر چشم پوشی سے کام لیتی ہے. بالخصوص امریکہ جو کہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے لئے خوفناک تصادم کی راہ ہموارہوسکتی ہے.

    موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی بھی طرح کوئی بھی ملک معاشی لحاظ سے مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہے اور بھارت میں کورونا کی تباہی مودی سرکارکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بھارت کا نظام صحت کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لائق نہیں ایسے میں بھارت کی پہلی ترجیح اسکی عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہئے نہ کہ جنگ جبکہ گذشتہ چند روز قبل بھارت سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی افسوسناک خبریں دیکھ کر پاکستانیوں کے دل بھی پگھلتے ہوئے نظر آئے دشمنی مقابلہ سب بھلا کرہرپاکستانی انسانیت کے لیے دعا گو دیکھا گیا ہے.

    پاکستانی حکومت اور فیصل ایدھی صاحب کی جانب سے خیرسگالی کےطورپرامدادی پیکج ایمبولینسز، آکسیجن بذریعہ کنٹینرز واگہ بارڈر بھیجی گئی عمومی طور پرسوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزپردونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان ہرمعاملے پرنوک جھونک اورجنگی کیفیت رہتی ہے تاہم کورونا کے معاملے پرحالات مختلف نظرآئے اورپاکستانی صارفین انڈین شہریوں کی خیریت کے لیے فکرمند دکھائی دیے کیوں کہ ہمارے دین میں سب سے پہلے انسانیت کو ترجیح دی گئی ہے.
    دعا گو ہوں اللہ رب العزت امن سلامتی کے ساتھ تمام دنیا کے لئے خوشحالی کے اسباب پیدا کرے. آمین یارب العالمین.

    تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر
    @AmUsamaCh

  • قربانی . تحریر: صلاح الدین

    قربانی . تحریر: صلاح الدین

    عید الاضحی جذبہ قربانی اورایثارکی ایک عظیم مثال ہے کہ اسے اللہ پاک نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے اپنی رحمتوں کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔
    قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جب وہ اللہ پاک کی خوشنودی کی خاطراپنے لخت جگراپنے ہردلعزیزبیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوقربان کرنے کے لیے تیار ہوگۓ تھے۔ اللہ پاک کوانکی نیت اس قدرپسند آئی کہ انہوں نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک دنبے کو رکھ دیا۔
    آج تمام عالم اسلام اسی سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ ہر سال عیدالاضحی پر اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

    ہمیں قربانی کرتے ہوۓ اللہ پاک کی خوشنودی کو دیکھنا چاہیے کیونکہ قربانی صرف اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ عیدالاضحی پر ہمارا جانور قربان کرنا اس جذبہ ایمانی کی یاد تازہ کرتا ہے کہ ہمیں اگراللہ پاک کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا آیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندرعاجزی اورانکساری کا جذبہ ہونا چاہیے یہ دنیا کی جھوٹی شان و شوکت کچھ بھی نہیں ہے اللہ پاک کو غروروتکبرہرگزپسند نہیں ہے اللہ پاک انسان کی عاجزی کوپسند کرتا ہے جتنے عاجز ہونگے اتنے ہی اللہ پاک کے قریب ہونگے۔
    اللہ پاک کو آپ کی قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا اللہ پاک کو صرف آپ کی نیت اوراخلاص پہنچتے ہیں۔ قربانی کرتے ہوۓ ہماری نیت صرف اللہ پاک کی رضا ہونی چاہیے کیونکہ اگر آپ نے اپنے رب کو راضی کرلیا توسمجھ لیں آپ نے دنیا اورآخرت کا سب سے بڑا خزانہ پالیا اور دنیا آخرت کی کامیابی صرف اللہ پاک کی رضا میں شامل ہے۔

    قربانی کرتے ہوۓ اپنے عزیز و اقارب اورآس پاس میں موجود لوگوں میں قربانی کا گوشت ضرورتقسیم کریں کیونکہ قربانی اللہ پاک کے لیے ہوتی ہے تو اس کے بندوں کو اگر نظراندازکریں گے تو اللہ پاک کے ہاں ایسی قربانی کسی کام کی نہیں ہے۔

    اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہم سب کی قربانی کوقبول فرماۓ، اللہ پاک ہمارے ملک و ملت پراپنا خصوصی کرم فرماۓ، ہمارے ملک کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرماۓ۔ آمین

    twitter id @Salahuddin_t2

  • راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    انسان نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے اپنی زندگی کو آسان بنانے کیلئے آسائش و سہولیات کا ہرممکن راستہ تلاش کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغازجنگل سے شروع ہوا جہاں انسان نے اپنا پہلا گھربنایا پھر جیسے جیسے وسائل دستیاب ہوئے انسان بھی اپنی سہولیات میں اضافہ کرتا گیا۔ پھرایک وقت آیا جب قصبوں سے گاؤں آباد ہوئے اور پھر گاؤں کے بعد باقاعدہ شہری آبادکاری شروع ہوئی جہاں قصبوں اور گاؤں کی نسبت ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے زیادہ وسائل دستیاب ہوئے لیکن پھرایک وقت ایسا بھی آیا جب بڑے بڑے شہربھی انسانی آبادکاری کیلئے چھوٹے پڑ گئے جس کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم وبغیر کسی منصوبہ بندی کے آبادکاری ہے جہاں رہائشی دباؤ اس قدرشدید ہوگیا کہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی بنیادی چیزیں بھی کم پڑگئیں۔

    بد قسمتی سے پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے جہاں سوائے وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے باقی تمام شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنائے گئے۔

    آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا شہرلاہور ہے جو اس وقت شہری آبادکاری کے دباو کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے اور اسی نقصان کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ لاہور شہر کے ساتھ دریائے راوی پر ایک نئے شہر کو آباد کیا جائے جس کیلئے باقاعدہ ایک اتھارٹی قائم کی گئی جس کا نام راوی ریوراربن پراجیکٹ رکھا گیا جس کا مقصد دریائے راوی پر ایک ایسے شہرکو آباد کرنا ہے جہاں نہ صرف تمام بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ لاہور پر آبادکاری کے بڑھتے شدید دباؤ کو بھی کم کیا جائے گا اورساتھ ہی لاہورشہرکی سب سے اہم اوربنیادی ضرورت صاف پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا.

    راوی ریوراربن پراجیکٹ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اورپاکستان کا پہلا شہرہوگا جسے نہ صرف باقاعدہ بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بلکہ لاہورشہرکی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرتعمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

    ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔ اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہرکا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ کا 70 فیصد رقبہ جنگلات و سرسبز ہریالی پرمنحصر ہوگا جو نہ صرف راوی ریوراربن بلکہ لاہورکو بھی ماحولیاتی آلودگی جیسے گرد وغباراورسموگ سے پاک رکھے گا جبکہ 30 فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی ہوگا جو بارہ مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہوگا اور ہرسیکٹرایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، درس و تدریس، صنعت و تجارت اورکھیل و تفریح سمیت ایک ایسا انسان دوست ماحول ہو گا جو نہ آنے والی نسلوں کی تعمیرکرے گا بلکہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے 12 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں دستیاب ہوں گی اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا 90 فیصد میٹیریل پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے جس سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔

    اس منصوبے کو2014 میں تجویزکیا گیا تھا لیکن ماضی کے حکمرانوں نے اسے اپنی سیاست کی نظرکرتے ہوئے انسان دوست منصوبے کی فائلوں میں دفن کردیا لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے خواب ترقی یافتہ نیا پاکستان کی تکمیل میں جاری اس سفرمیں بڑے اور طویل المدتی منصوبوں میں یہ پہلا بارش کا قطرہ ثابت ہوگا جو آنے والے وقت میں ایک نئے ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    @Salahuddin_t2

  • بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    مسلمانوں اورغیرمسلموں کے میل جول میں بہت سی ایسی رسمیں وجود میں آئی ہیں جن میں سے ایک رسم یہ بھی ہے کہ بیوہ عورت سے نکاح کو حقارت کی نظر سے لوگ دیکھتے ہیں ہرمسلمان اپنے آپ کو شریف اور دوسرے کو بیوقوف سمجھتا ہے جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ شریف کہتے ہیں وہ اس بلا میں زیادہ گرفتار ہیں.
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے پہلا نکاح ویسے دوسرا نکاح
    دونوں میں فرق سمجھنا بیوقوفی اورشرمناک جہالت ہے بغض عورتیں ایسی بھی ہیں جو دوسرے نکاح کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کو بات بات پرطعنے دے کر ذلیل کرتے ہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے دوسرا نکاح کرنے والی عورتوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا یا برا جاننا بڑا سخت گناہ ہے
    کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے وہ انسان اللہ کے حبیب آپ سے زیادہ افضل ہو۔ کون نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی بھی بیویاں تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رض کے سوا کوئی کنواری نہ تھیں.
    یاد رکھو عورت ایک بیٹی ، ایک بہن ، ایک ماں بھی ہے اور بیوہ عورتوں سے نکاح کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے
    حدیث شریف میں آتا ہے جو کوئی کسی چھوڑی ہوئی اورمردہ سنت کو زندہ اور جاری کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا ہم سب کو چاہیے جو بھی بیہودہ رسمیں ہیں ان کو ختم کرنا چاہیے اور اللہ و رسول کی خوشنودی کیلئے بیوہ عورتوں کا نکاح ضرور ضرور کرائیں تاکہ اس بیچاری اوردکھیاری اللہ کے بندوں کو بربادی سے بچا کرسو شہیدوں کا ثواب حاصل کریں.

    سورہ نورمیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
    اورنکاح کردو اپنوں میں انکا جو بے نکاح ہوں اوراپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا۔

    دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اجاکر کرنے کی ہمت عطا فرماۓ. آمین.
    @JingoAlpha