Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا
    ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    (سورۂ الصٰفٰت ۱۰۲)

    صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ھے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیئے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ ” اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ھے.

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ھم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ھے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ھوں اور آدھی خود رکھ لیتا ھوں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :”وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی.”
    وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کربیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:”تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ھے؟” اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.
    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا ہے( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )”
    ( صحیح البخاری :5121)

    اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوھے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.
    کتب احادیث میں ایسی غربت کے بیشمارواقعات ملتے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اورہرسال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیئے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ھم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پرخرچ کریں گے.

    اگرقربانی کے جانورذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ھوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :

    "اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ھے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیئے کہ یہ روزہ اس کے لیئے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ھو گا.”
    ( صحیح البخاری :5066)

    جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ھو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ھوتا ھے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ھوتا ھے.

    قربانی ایک عظیم عمل ھے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ھے. شکوک و شبہات سے بچیئے اور اللہ کے دیئے ھوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیئے. اسی میں خیر اور بھلائی ھے

    حضرت عبداللہ ابن عمرسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہرسال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی )

    حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔۔

    حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرما کرتے تھے،اور اپنے پاؤں کو انکی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے
    (صحیح بخاری )
    Writer Details


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

  • "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    پاکستان کے بڑ ے مسائل میں سے بدعنوانی اور دہشت گردی سر فہرست ہیں۔
    دہشتگردی کے لئے تو پاکستان کی کوششیں انتہائی کامیاب ہیں اور الحمداللہ ہماری فوج نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حیرانکن نتائج کے ساتھ کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہماری ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارا فوج کا ادارہ عالمی سطح پر ایک کنسلٹیٹو کا درجہ رکھتاہے تو غلط نہیں ہوگا ۔آپ سب سے گزارش ہے کہ اس فورمپر، علم اور تجربہ کی بنیاد پر اپنی اپنی آراء سے مستفید فرمائیں۔ممکن ہے ہماری یہ چھوٹی سی کوشش اس ضمن میں مددگار ثابت ہو۔
    میں ایک طالب علم ہوں سو میری رائے کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ رائے بھی کیا بس کُچھ پریشان خیالیاں ہیں جو آپ احباب سے شئیر کر سکتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہاں شخصیات اور ادارے طاقتور ہیں اور قانون کمزور ایسے میں ہم اپنے اطراف جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی صورتِ حال ہر قدم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں چونکہ خود قانون ہی بے آبرو ہے تو موقع اور مفاد پرست شخصیات اور اداروں میں عزت، خودداری، ملی غیرت اور خود احتسابی جیسی ضروری خصوصیات کیسے پیدا ہوں۔ آج کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کی عملی شکل کُچھ یوں ہے کہ آپ شیطانیت کے راج میں ہونے والے کسی بھی بڑے سے بڑے روح فرسا جُرم کا تصور کر لیں وہ جُرم آپ کو پوری آب و تاب کے ساتھ ارضِ پاک میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر ملے گا۔ یہاں کسی بڑے سے بڑے سانحے کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ملتا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا مگر ہمارے عملی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی آن بان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ خود کو اس ٹکڑے کے پہلے سے زیادہ اہم محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہاں قانون ایک سنگین مذاق ہے۔ جب تک یہاں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی ہم خود کو باوقار قوموں کی صف میں آخری درجے پر بھی نہیں لا سکتے۔
    نا اُمیدی کفر ہے سو اُمید کرتے ہیں کہ ایک دن عوام اپنے اجتماعی شعور کو حرکت میں لا کر اندھیروں سے روشنیوں کے سفر کی طرف ضرور گامزن ہوں گے۔ ہر الزام حکومت پر ڈال دینا انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے ہمیں بطور قوم اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔

    ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
    دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

    انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔ تو میرا اور آپ کا مشترکہ نعرہ کہ انتخابی اصلاحات تشکیل دی جائیں۔

    میرا تو سب سے پہلے اس بات سے اختلاف ہے کہ عوام مظلوم ہیں ۔ عوام خود ظالم ہیں۔ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں اور خود پہ بھی ۔ رمضان کی آمد سے پیشتر ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ قیمتیں حکومت یا ریاستی ادارے نہیں بڑھاتے ۔ ہم عوام بڑھاتے ہیں ۔ ایک کسان سے لے کر چھابڑی فروش تک اور گودام کے مالک سے لے کر گلی میں جا کے سبزی بیچنے والے تک ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا لُوٹا جا سکتا ہے لُو ٹ لو ۔اس لُوٹ مار میں ہم عوام خود سب سے آگے ہوتے ہیں۔
    اگر یہاں یہ کہا جائے کہ چونکہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے اس لیے سب کچھ ہو رہا ہے تو آپ قانون کی حُکمرانی کر کے دیکھ لیں جن کے خون میں حرام کی کمائی کی ملاوٹ ہو چکی ہے وہ حرام کھانے سے کبھی باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہئے کہ اب ہم اپنی عادتوں کو بدلیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے راستے پر گامزن کریں ۔

    اقصی احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • ففتھ جنریشن وار جاری ہے.‏تحریر: لاریب اطہر

    ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔

    اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا منبہ سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔

    یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔

    میرے پاکستانی قوم پر دشمن نے مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل میں نے اپنے قوم کے جوانوں کی مدد سے دشمن کے ہرحملے کو ناکام بنایا۔
    کبھی لسانیت کے بنیاد پر تو کبھی قومیت کے بنیاد تو کبھی سیاسی بے روزگاری کی بنیاد پر کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کبھی صوبائیت کی بنیاد پر سب حربوں کو دشمن کے ناکام کیا اب نئے طریقے سے حملہ آور ہوا ہے
    مذہبی فساد کے بنیاد پر اپنے درمیان دشمن کے سلیپنگ سیلز کے لوگوں کو پہچانیں۔
    ہم میں موجود کچھ سیاسی بے روزگار پوری مغربی میڈیا اور دشمن سوشل میڈیا پر پورے پاکستان میں خانہ جنگی کا نیوز چلا رہا ہے
    جھوٹ اور پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے ۔۔
    خدا کے لیئے چند سیکنڈز کے لیئے سوچیں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں ایسا نہ ہو شام کی طرح پورے پاکستان میں خانہ جنگی کو ہوا دی جائے ہم سب کا دشمن ایک ہے،
    اپنے پاک وطن میں دشمن کے پروپیگنڈہ کو ہوا مت دیں
    امن محبت کا درس دیں۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام زندہ باد
    ختم نبوتﷺزندہ
    پاک فوج زندہ باد
    آئی ایس آئی زندہ باد

  • خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس، احرام، اتار دیتے ہیں۔

    قربانی کا گوشت تین حصوں میں بانٹا جاتا ہے، جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔
    قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے صحت مند اور خوبصورت بکرے، بھیڑ، دمبے، اونٹ یا بیل ہی خریدے۔
    مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اور ایسے عید پر ایسے افراد اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اکثر واپسی قربانی کے اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ ہوتی ہے
    بڑے جانور کی قربانی میں سات افراد حصہ لے سکتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور کی قربانی ہر شخص کو الگ الگ کرنی پڑتی ہے۔ تاہم ایسے اجتماعی قربانی کی رسم ایسی ہے کہ جس میں اب بکرے کی قربانی میں بھی حصہ مل جاتا ہے۔
    قربانی کے اہل جانور کا پتا اس کے دانت دیکھ کر بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر اس کے دو بڑے دانت ہوں تو پھر اسے قربانی کے قابل سمجھا جاتا ہے ایسے جانور ’دوندا‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دو دانتوں والا۔
    جانور کو ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے کم سے کم اذیت پہنچے۔ عید پر جانور زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور کو زبح کرنے میں مہارت رکھنے والوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور کو زبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا اور گھومایا پھرایا جاتا ہے۔
    عیدالاضحیٰ پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر سنّت ابراہیمی ادا کرکے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں دوسری جانب گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔

    قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے چٹ پٹےکھانے بنانے کا رواج گھروں میں تو عام ہے جہاں خواتین کھانوں کی تیاری کیلئے کچن میں جُت جاتی ہیں مگر اب ہوٹلوں اورپکوانوں کی دکانوں سے بھی ذائقے دار کھانے آرڈر پرتیار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    عید الاضحٰی آ رہی ہے عید منائیں قربانی بھی کرئیں مگر یاد رکھیں کرونا کی چھوتھی لہر بھی آ رہی ہے حکومت کے بتائے ہوئے ایس او پس پے بھی عمل کریں

    پچھلے سال بھی عوام کو جس طرح سمجھایا گیا تھا اس کے برعکس عوام نے کام کیا اور کسی بھی طرح کسی بھی ایس او، پی پر عمل نہیں کیا ۔ عید کے بڑے بڑے اجتماعات کیے گئے، لوگوں نے خوب ڈٹ کر سماجی دوری کا ستیاناس کیا  اور خوب محفلیں جمائیں  کیونکہ عید قربان میں لوگ زیادہ پارٹیاں کرتے ہیں گوشت کی فراوانی ہوتی  ہے، یوٹیوب سے ریسیپیز لی جاتی ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالتے ہیں ۔

    چھوٹی عید اگر روزوں کے بعد انعام ہے تو بڑی عید ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے مگر اب یہ اسلامی تہوار ہماری اناؤں اور روئیوں کے باعث تہواروں کے موافق لگتے ہی نہیں ہیں ۔
    ہر شخص سیر سے سوا سیر بن گیا ہے کوئی بھی کسی مسئلے پر سر جھکانے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔
    عیدوں پر جو خوشیاں ہوتیں تھیں اب وہ خاک ہوگئی ہیں ہر شخص اپنی خودنمائی اور خود پرستی کا شکار ہوگیا ہے انہیں دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔
    اگر دیکھا جائے تو بڑی عید میں اصل قربانی باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔اور دنبے کا ذبیحہ اس کا فدیہ تھا۔
    ہمیں دنبہ تو یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی اس لیے ہماری عیدوں میں چاشنی نہیں رہی حالانکہ پہلے کی نسبت اب اچھے کپڑے اور جوتے پہنے جاتے ہیں مگر جس سے بھی پوچھا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ عید کا مزہ نہیں رہا ۔

  • سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    عام زندگی کے علاوہ یہاں سوشل میڈیا پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں۔
    کبھی مذھب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہت میٹھا ، با اخلاق بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے ، پھر انبکس شروع ہو جاتے ہیں ، فون نمبر مانگا جاتا ہے ، پھر تصاویر مانگی جاتی ہیں اور لڑکی کو یقین دلانے کیلئے الله اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جھوٹی قسمیں تک کھائی جاتی ہیں کہ صرف میں ہی دیکھوں گا اور کسی کو نہیں دکھاؤں گا۔
    اب جو لڑکی بیوقوف ہوتی ہے یا اپنے حالات کی ستائی ہوتی ہے وہ ان باتوں میں آ جاتی ہے اور ان بے غیرتوں کو ہمدرد سمجھ کر اپنے حالات شئیر کر لیتی ہے اور اعتبار کر کے اپنی تباہی کا سامان کر لیتی ہے۔

    اور پھرجب وہ لڑکی مکمل طور پر ان کے بس میں آ جاتی ہے تو ملاقات پر اصرار کیا جاتا ہے ، ملنے سے انکار پر لڑکی کے گھر والوں کو بتانے کی دھمکیاں دے کر اس لڑکی کو باہر بلا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے اور اس کی بھی ویڈیو اور تصاویر بنا لی جاتی ہیں جن کو مستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ایک شریف لڑکی کو جسم فروشی کی اس دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے ، جس سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی ، لڑکی صرف اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ، بس تڑپتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے کہ کس لمحے اس سے یہ غلطی ہوئی اور ہر لمحے موت کی دعا مانگتی ہے۔
    لہٰذا میری بہنوں سوشل میڈیا پر کسی شخص کا اعتبار نہ کریں جو آپ سے محبت کے نام پر گفتگو کرتا ہو یا مذھب کا سہارا لے کر آپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اور بہت سی لڑکیوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اسلئے خود بھی بچیں اور اپنی دوستوں کو بھی بچائیں!
    براہ مہربانی سوشل میڈیا پر لڑکوں سے رشتے داریاں نہ بنائیں ، نہ ہی ان کو اپنے فوٹو وغیرہ دکھائیں ،
    ضرورت کیا ہے آخر ، خود کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی ؟؟؟
    کیا آپ کو ہونے والے ان نقصانات کا اندازہ ہے جو کل آپ کی آنے والی زندگی تک تباہ کرسکتے ہیں ؟؟؟
    اپنی تصاویر اپنی فیملی کے لئے رکھیں سوشل میڈیا پر ان تصاویر کا بنا اجازت کاپی کر کے غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ چیز آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے !! ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی تصاویر یا ویڈیو بنائی گئی اور پھر انھیں بلیک میل کر کے غلط کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں نےخود کشی کر لی !.

    میری بہنو فرض کریں کہ
    اگر آپ ایسی ہی ایک لڑکی ہو جو ایسے کسی بے غیرت انسان کے ہتھے چڑھ گئی ہوں اور گھر والوں کے ڈر سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کیسے ان لوگوں یا حالات سے چھٹکارا پایا جائے ، تو میری بہنو ایک غلطی تو آپ سے ہوچکی ، جیسے بھی ہوئی مگر اب اس ڈر سے کہ گھر والے کیا کہیں گے ، آپ خاموش نہ رہیں پلیز ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے آپ اپنی امی ، بہن وغیرہ کو بتا کر ان سے مدد مانگیں ، ان کا غصہ وقتی ہوگا مگر ہوگا آپ ہی کی بھلائی میں ، اور آپ کو اس غلاظت سے نکلنے میں مدد دے گا اور آئندہ کیلئے ایک سبق بھی ۔ باقی معاف کرنے والی ذات اللہ پاک کی ہے وہ بہت مہربان اور معاف کرنے والا ہے !

    اب آخر میں !!!
    آوارہ اوباش لڑکوں اور مردوں کے لئے ایک پیغام !!!
    عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !
    یاد رکھیں!! کہ آپ آج جس طرح کسی اور کی بہن ، بیٹی کو ورغلا رہے ہو، اس کے ساتھ زنا کرنا چاھتے ہو کل کو یہی سب آپ کے گھر دہرایا جائے گا کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے ، کسی کی بیٹی کے تن سے چادر ہٹانے سے پہلے سوچنا کہ کل یہی کچھ آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہی نہیں بلکہ لازمی ہوگا !
    آج اگر آپ کسی کی بچی کی زندگی خراب کرو گے تو کل آپ کی اپنی بیٹی بھی اسی مقام پر کھڑی ہوگی اور آپ کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہ ہوگا۔
    اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو ، کیونکہ ؛؛؛
    قران پاک میں ہے:
    الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ ﴿٢٦﴾ سورة النور ۔
    (ترجمہ) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔
    اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیئے ہیں —

  • آزاد کشمیر کے  انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آزاد کشمیر کے انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آج کل الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا گلی چوراہوں ایک ہی بات پہ بحث ہورہی کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں جیت کا سہرہ کس پارٹی کے سر سجے گا یہ تو 26 جولائی کو پتا چلے گا مگر اس وقت انتخابی دنگل کا معرکہ بہت زور وہ شور سے شروع ہو چکا ہے۔ بڑی پارٹیوں کو ٹکٹ کی تقسیم میں ہر حلقے میں مشکل کا سامنا ہے۔ سفارش، اقرباء پروری، مرکز کی پسند اور ناپسند، سینئر رہنماؤں کی دو دو حلقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نے پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ہر ایک حلقہ سے ہر جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مرکزی قیادت اور لیڈران کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز کر لیا ہے۔
    اب ایک نظر آزاد کشمیر پہ ڈالتے ہیں۔آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازا 40 لاکھ ہے۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اضلاع میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفر آباد، ضلع میر پور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔
    آزادکشمیر کے 29 حلقوں میں 22 لاکھ 37 ہزار 58 ووٹ جبکہ مہاجرین کے 12 حلقوں کیلئے 4 لاکھ 44 ہزار 634 ووٹ ہے ،گو کہ یہ انتخابات پاکستان کے حالات یا آزاد خطے کے تقدیر بدلنے کے لئے اتنے اہم نہیں ہوتے لیکن کشمیر میں انتخابات کا موسم آتے ہی ہر گھر ، بازار ، چوراہے اور گلی کوچوں میں سیاست پر بحث کی جاتی ہے۔

    ووٹ کا فیصلہ برادری کا سربراہ کرتا ہے۔ بڑی برادریاں الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کراتی ہیں جبکہ چھوٹی برادریوں کو اپنی بقاء کے لئے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو برادری یا فرد بڑی برادریوں سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو داستان عبرت بنادیا جاتا ہے آزاد کشمیر کے انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ہر دور میں یہ انتخابات خونی تصادم کی شکل اختیار کرتے رہے ہیں۔ برادریاں اپنی گردن بلند رکھنے کے لئے باقی برادریوں کی گردنیں اتارنے سے گریز نہیں کرتیں۔جیت ایک سیاسی جماعت یا ایک برادری کی ہوتی ہے مگر شکست انسانیت کی ہوتی ہے۔ ایک نشست کی خاطر عزتوں کی پامالی ہوتی ہے، تعلقات اور دوستیوں کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔
    موجودہ الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کو کوئی بہتر طریقے سے اپنے منشور میں شامل نہیں کیا ۔ایسا لگتا ہے جیسے کشمیری شہدا کے خون کے ساتھ غداری کی جا رہی ہے اور معصوم کشمیریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    آزاد کشمیر میں انتخابی مہم اس وقت غیرریاستی یعنی پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے بڑے لیڈر چلا رہے ہیں۔ مقامی قیادت بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ پاکستانی لیڈرز اپنی انتخابی تقریروں میں بالعموم وہی زہر اگل رہے ہیں جو پاکستان میں ان کا خاصہ ہے یعنی گالم گلوچ، دشنام طرازی، الزامات اور بہتان، جوش خطابت میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں، اسے ابھی پاکستان کا حصہ بننا ہے۔ 
    کہیں کشمیر سے تعلق ظاہر کرنے کے لئے فوٹو شاپ کی مدد لی جارہی ہے تو کہیں پہ وہی نعرہ روٹی کپڑا مکان تو کہیں اس تبدیلی کی رٹ لگائی جارہی ہے جو مجھ سمیت بہت سے پاکستانی امید لگائیں بیٹھں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کشمیر کے لوگ کس پارٹی کے سر پہ اقدار کا تاج سجاتے ہیں یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

  • افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    آجکل ٹیلی ویژن ہو یا اخبار یا پھر انٹرنیٹ پر گردش کرتی تصاویر اور ویڈیوز ہر جگہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی فتوحات اور افغانستان سے امریکی انخلاء کا ہی ذکر سننے کو ملتا ہے۔ بلاشبہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور وہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خطے کے دیگرممالک پر اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں مگر افغانستان اور افغان جنگ پاکستان کے لیے بہت اہم کیوں ہے ؟؟ کیوں ہر دوسرا پاکستانی افغان جنگ پر بات کر رہا ہوتا ہے ؟؟ آج ہم جانیں گے افغانستان کی سیاسی تاریخ اور اس میں پاکستان کا کردار اور اس افغان جنگ نے پاکستان پر کیا کیا اثرات ڈالے
    افغانستان میں 1973 تک بادشاہت کا نظام رائج رہا مگر 1973 میں بادشاہ کے چچازاد داود خان نے بادشاہ کو معزول کر دیا اور بادشاہت کو ختم کر کے افغانستان میں جمہوری نطام نافظ کر دیا اور خود افغانستان کے پہلے صدر بن بیٹھے۔ انکا دورِ صدارت زیادہ طویل نہ ہو سکا اور 1978 میں کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے نے انکے خلاف بغاوت کر دی اس بغاوت میں داود خان مار دیے گئے۔ سویت یونین کی حمایت یافتہ کمیونسٹ جماعت بھی زیادہ دیر تک سکون سے حکومت نہ کر سکی اور انکے لیڈروں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے
    اختلافات اس قدر شدید تھے کہ داود خان کے بعد صدارت سنبھالنے والے نور محمد ترکئی کو انکے اپنے وزیرخارجہ حفیظ اللہ امین نے پہلے معزول اور پھر قتل کروا دیا اور خود صدارت کی کرسی پر جا بیٹھے۔ حفیظ اللہ امین اور انکی جماعت تھی تو کمیونسٹ نظریات کی حامل مگر حفیظ اللہ امین نے امریکہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں اور انہی بوجوہات کی بناء پر 1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ پہلے مرحلے میں سویت یونین کے خفیہ اہلکار فضائی راستے سے افغانستان پہنچے اور پھر افغان فورسز کی وردی میں صدارتی محل میں داخل ہوکر صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر کے افغان حکومت گرا دی اور اپنی پسند کے ببرک کرمل کو صدر کی کرسی پر بٹھا دیا
    دوسرے مرحلے میں سویت یونین سے مزید دو ڈویژن فوج افغانستان پہنچی تاکہ نئی حکومت کو رٹ قائم کرنے میں مدد دی جا سکے
    افغانستان میں طاقت کے بگڑتت توازن اور سویت یونین کی دراندازی پر افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل آیا۔ حریت پسند افغان عوام نے روسی کٹھ پتلی حکومت کو مسترد کر دیا ساتھ ہی حکومت اور غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا

    امریکہ ، پاکستان ، ایران اور سعودیہ عرب نے مجاہدین کی بھرپور مدد کا اعلان کر دیا اور انہی دنوں سے پاکستان کا افغانستان میں کردار شروع ہوتا ہے۔ پاکستان چوکہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اس وجہ سے افغان مجاہدین کی معاونت اور انکی تربیت کی تمام ذمہ داری پاکستان کے سپرد کی گئی جبکہ اسکے اخراجات امریکہ اور سعودیہ برداشت کرتا رہا۔ افغان جنگ میں پاکستان کے شامل ہو جانے سے پاکستان میں "کلاشنکوف کلچر” عام ہو گیا غیر قانونی ہتھیار آسانی سے ملنے لگے جبکہ منشیات کی لعنت بھی اسی دور میں پاکستان میں عام ہوئی۔ اسکے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کو اندرونی سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑنا۔ امریکہ ، پاکستان اور سعودیہ کی مدد سے مجاہدین روس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور شکست خوردہ روس بلآخر 1989 میں اپنے جنگی آلات وہیں چھوڑ کر الٹے پاوں بھاگنے پر مجبور ہو گیا

    روس چلا گیا پیچھے وسیع اسلحے کے ڈھیر چھوڑ گیا ساتھ ہی مجاہدین نے بھی خود کو منظم کیا اور بلآخر 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ پاکستان نے اس حکومت کو تسلیم کر کے انکے ساتھ تعاون جاری رکھا اور افغانستان کے اندرونی معاملات سے سائڈ پر ہو گیا۔ پاکستان کو زیادی دیر سکون میسر نہ آئا اور 2001ء میں روس سے سبق سیکھے بغیر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر امریکہ کو دوبارہ اپنا پرانا دوست پاکستان یاد آ گیا گیا اور پاکستان ایک بار پھر افغان جنگ کا فریق بن کر جنگ کی چکی میں پِسنے لگا۔ اب کی بار افغان جنگ پاکستان پر سب سے بھاری رہی "تحریک طالبان پاکستان” کے نام سے ریاست مخالف تنظیم وجود میں آ گئی جس نے پاک فوج اور عام عوام پر حملے شروع کر دیے۔ خودکش حملوں کے اُس دور نے پاکستان کو دیائیوں پیچھے دھکیل دیا بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ، پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ داغدار ہو گیا اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہونے لگا۔ افغان جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں پاکستان کو 83000 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ معیشت کو 126 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ Do More سننے کو ملا کبھی پاکستان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔۔

    روس امریکہ کیلئے بھی افغانستان ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ روس کو جان چھڑانے میں دس سال جبکہ امریکہ کو بیس سال لگے اور اب 2021 میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں یوں دونوں ہی ناکام و نامراد اس خطے سے چلے گئے
    روس اور امریکہ کی ان جنگوں نے افغانستان اور پاکستان کو تباہ کر دیا ساری دنیا سے پولیو ختم ہو گیا مگر ان دو ممالک میں اب بھی موجود ہیں، ان دو ممالک کا پاسپورٹ اب بھی دنیا کے بدترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی عوام میں بھی نفرت کی خلیج پائی جاتی ہے
    افغانستان میں طالبان اب پھر سے زور پکڑ رہے ہیں پورے ملک میں انکا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اب پاکستان کو چاہیے ممکنہ طالبان حکومت سے بس اتنے ہی تعلقات رکھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے اسکے علاوہ خود کو افغانستان اور انکے معاملات سے دور رکھے تاکہ دیرپا امن ممکن ہو سکے
    پاکستان زندہ آباد

  • رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    ایک لڑکی کی عمر انتیس سال ہے. ایک بیٹی کی ماں ہے. بائیس سال کی عمر میں شادی اور چوبیس سال کی عمر میں بیوہ ہوئی. معاشی طور پہ آسودہ ہے. شوہر کا ترکے بھی ملا ہے اور میکہ بھی خوشحال ہے. والدہ بیمار رہتی ہیں. اس لیے گھر کی ساری زمہ داری اس پہ ہے. شادی شدہ بہنوں کی ڈیلوریز نمٹانا، اسپتال میں ان کے ساتھ رہنا اور ان کے سسرال والوں کے ناز نخرے اٹھانا اب اسی کی زمہ داری ہے. ان پانچ سالوں میں اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا. سوشل میڈیا پہ ہی اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی. لڑکا چونتیس سال کا ہے. لڑکے کی تین چھوٹی بہنیں ہیں. تینوں غیر شادی شدہ ہیں. ماں نے صاف کہہ دیا ہے کہ جب تک تینوں بہنوں کی شادیاں نہیں ہوجاتیں، وہ اپنی شادی کا سوچے بھی نا.

    یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں. لڑکا اسے بیٹی کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے. لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر پہ معاشی بوجھ نہیں ڈالے گی. مرحوم شوہر کے ترکے سے اپنا اور اپنے بچے کا خرچہ بآسانی اٹھا لے گی. لیکن لڑکے کی والدہ ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں. ادھر لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اب اسے شادی کی کیا ضرورت ہے. جو خوشی اس کے نصیب میں تھی مل چکی. اب اسے اپنی زندگی بیٹی کی پرورش، والدین کی خدمت اور بہن بھائیوں کی ٹہل سیوہ میں گزارنی چاہیے.

    کچھ ماہ پہلے اس نے مجھے کہا ہے کہ ہم خفیہ نکاح کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے والدین ہماری شادی نہیں کریں گے. مجھے کہتی ہے آپا بیوہ، مطلقہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ بیٹی ہمارے ہاں سب سے سستی ہاؤس کیپر، نرس اور کک ہے. اپنے منہ سے شادی کا کہنے والی بے غیرت اور بے حیا ہے. صرف ایک سوال. انہیں یہ قدم اٹھانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ کیا اس لڑکی اور لڑکے کا مطالبہ غلط ہے؟ یہ تو فطرتاً صالح ہیں جو نکاح کرنا چاہتے ہیں ورنہ کیا وہ بے راہ رو نہیں ہوسکتے؟ ان کی فطری خواہش کا گلہ گھونٹنے کا حق ان کے والدین کو کس نے دیا؟؟

    ایک لڑکی ہے. اس کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے. اس کا کزن جو اس کا ہم عمر ہے پانچ سال سے اس کا رشتہ مانگ رہا ہے. والدین تیار نہیں. وہ اس کے پھوپھی زاد سے اس کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں جو اس سے پندرہ سال بڑا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے. صرف اس لیے کہ وہ مالدار ہے. لڑکی کے باپ نے اس سے صاف کہہ دیا ہے کہ چاہے وہ ساری زندگی گھر بیٹھی رہے، وہ اس کی شادی اس کی پسند سے نہیں کریں گے. اس لڑکی نے مجھ سے کہا ہے کہ آپا بروزِ حشر میرا ہاتھ ہوگا اور میرے والدین کا گریبان. میں آگے سے چپ رہی. کیا جواب دیتی.

    ایک لڑکا ہے بتیس سال کا. سات سال پہلے خاندان میں منگنی ہوچکی ہے. ملک سے باہر کما کما کر اپنی دو بہنوں کی شادی کر چکا ہے. مکان بھی بنا لیا ہے. ہر ماہ ایک معقول رقم بھی بھیجتا ہے. اس سال شادی کا ارادہ تھا. والدہ نے کہا کہ آتے وقت دلہن کے زیورات لیتے آنا. لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی گنجائش نہیں کہ شادی کے خرچے کے ساتھ زیورات بھی خریدے. اس پہ والدہ محترمہ نے فرمایا تو پھر ایک سال لیٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں شریکے میں منہ بھی دکھانا ہے اور بری کے زیورات کے بغیر بہو لا کر وہ اپنے خاندان کی عورتوں کے سامنے ناک نہیں کٹوا سکتیں. لڑکی بغیر زیورات کے بھی رخصت ہونے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی ہمت نہیں کہ کسی کو کچھ کہہ سکے. وہ بس اپنے منگیتر کے سامنے رو ہی سکتی ہے، جو وہ پوری دلجمعی سے کر رہی ہے. لڑکے کے زیادہ زور دینے پہ اسے والدین کی طرف سے بیغیرت، بے حیا اور بے شرم کے خطابات مل چکے ہیں.

    اور ہم کہتے ہیں کہ معاشرے میں دن بدن بڑھتی بے راہ روی، اخلاقی تنزلی کی وجہ آج کی نوجوان نسل ہے. موبائل فون اور سوشل میڈیا ہے.
    تھوڑا نہیں پورا سوچیے.

    محمّد اسحاق بیگ

    @Ishaqbaig___

  • مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    چلاس دیامر استور ڈویژن کا دارالخلافہ ہے یہاں کی ابادی تقریبا ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں ۔چلاس میں قراقرم یونیورسٹی کا ایک سب کمپس ایک لڑکوں کے ڈگری کالج ایک خواتین کی کالج کے علاوہ تین لڑکوں کے اور ایک لڑکیوں کی ہائی سکول ہے۔ آج ہم قلعہ چلاس پہ بات کرتے ہیں ۔یہ قلعہ چلاس کے مرکزی بازار میں موجود ہے اج کل یہ قلعہ پولیس کے ذیر استمال ہے۔

    1852 کو مہاراجہ گلاب سنگھ نے کرنل لوچن سنگھ کو چلاس میں تعنات کیا ۔یہ فوجی دستہ چلاس پہنچا تو چلاس کے لوگ اس قلعہ کے اندر گھس گٸے،اس قلعہ پر باہر سے حملہ کرنا بہت مشکل تھا۔یہ قعلہ چلاس کی ایک ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں سے پوری چلاس نشانے پہ ہے۔لیکن فوج ڈوگرہ نے اس کا محاصرہ کرلیا اور مورچے تیار کرکے لڑاٸی شروع کردی،محاصرین نے بڑی بہادری سے مقابلہ کرلیا،قلعے کی فصیل سے پتھرو اور گولیوں کی ایسی بارش کردی ڈوگرہ فوج کو قلعہ تک پہنچنے تک بڑی سختی اُٹھانی پڑی اس لڑاٸی میں ڈوگرہ فوج کی ڈیڈھ ہزار سپاہی مجروح و مقتول ہوٸے،آخر کوٸی راستہ نہی ملا تو ڈوگرہ فوج نے اندر موجود پانی کے ہوز کو نقب کے زریعہ خالی کیا لیکن اندر موجود بہادر لوگوں نے تین دن تک پانی کی پرواہ نہی کی،اور روغن پیتے رہے بلا آخر پیاس کی وجہ مجبور ہوکر قلعہ کا دروازہ کھول کر بھاگنے لگے،کافی لوگ اس معرکہ میں شہید ہوٸے بعض کو قیدی بنادیاگیا،اور قلعہ کو آگ لگا کر فنا کر دیا کیا گیا۔

    1892 کو جو ریاست کشمیر کا یہاں عہدیدار تعنات تھا چلاس کے لوگوں نے اُس کو بھگا دیا جو کندھے پر گولی کھاکر گلگت پہنچ گیا۔اور نومبر 1892 کو ڈاکٹر رابٹسن پھر سے چلاس پر حملہ آور ہوکر چلاس کو فتح کیا اور حکومت قاٸم کیا گیا،کافی عرصہ ڈوگرہ حکومت چلنے کے بعد 1893.94کو اس قلعہ کو دوبارہ جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا۔اور اس میں باقاعدہ ڈوگرہ فوج تعنات کردی،اور 1935 میں روسی فوج کی خطرے کی پیش نظر برٹش گورنمنٹ نے گلگت کے محلقہ علاقہ جات اور چلاس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لیکر گلگت میں پولیٹیکل ایجنٹ اور چلاس میں ایسسٹنٹ ایجنٹ مقرر کٸے اور اس کی مدد کیلٸے گلگت سکاوٹس فورس کا قیام عمل میں لاٸی،اور یہ ڈوگرہ فوج کی جگہ تعینات رہی، یہ قلعہ سکاوٹس کا ملکیت تصور ہونے لگا،اور 1971 کے جنگ کے بعد سکاوٹس کو عملی جامہ دیا گیا،اور سکاوٹس کو این ایل ای کا نام دیکر 1974 کو بونجی منتقل کیا گیا۔اور یہ قلعہ خالی ہوا تو پولیس محکمے کی درخواست پر فروخت کیا جس کی قیمت 3لاکھ گیارہ ہزار روپے رہی اور آج یہ قلعہ دیامر پولیس لاٸن کے شکل میں موجود ہے۔

    اگر اس قلعہ کو پولیس سے خالی کروا کے محکہ ٹوریزم کے حوالےکیا جائے تو اس سے ایک بہترین سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بارہا کوشش رہی ہے کہ اس تاریخی ورثہ کو پولیس کے محکمہ سے اٹھا کے عوام کے لے اوپن کیا جائے تاکہ التت بلتت فورٹ ہنزہ کے طرح اس کو بھی سیاحت کے لے لے استمال کیا جائے اور اس حاصل ہونے والے امدن سے علاقے کے ترقی کے استمال کیا جاسکے گا۔

  • صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    کہتے ہیں پاکستان میں جس کو کوئی کام نہیں اتا وہ صحافت شروع کرتا ہے۔ اور اجکل تو سوشل میڈیا نے طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں روز کوئی نہ کوئی ایسا حدثہ پیش اتا ہے جس پہ انٹرنشنل میڈیا سے لیکر لوکل میڈیا کا توجہ بن جاتا ہے۔ میرے عادت ہے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائیل دیکھ لیتا ہوں شاید اج کے دور میں ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہو۔ فیس بک وٹس اپ ٹویٹر پہ اکثر ان ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں سے رابطہ رہتا تو اج جب صبح اٹھا تو دیکھا ایک طوفان پرپا تھا کوہستان میں دھماکہ ہوا ۔ہر طرف فیس بک ٹویٹر وٹسپ ۔کچھ دوستوں کے کالز بھی تھی جو میڈیا سے ہیں ۔

    میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہونے کی وجہ سے اکثر احباب رابط کر کے راے لتے ہیں یا ہوچھ لیتے ہیں ۔خیر جب میرے پہلے نظر پڑھی کے کوہستان میں چائیز بس پہ حملہ ہوا دس بندے ہلاک اور انتالیس ذخمی میں تو میں بسترے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ میں اپنے علاقے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہوں اس کا جواب اپ کو میرے ٹویٹر وال سے ملے گا میں تقریباً ہر خبر پہ نظر رکھتا ۔باوجو کے میں ایک سائنیس کے طالب علم ہونے کے شوق سے صحافت کرتا ہوں لیکن صحافت کو عبادت سمجھ کے۔ خیر پہلے اس خبر کے طرف اتے ہیں جس کے وجی سے میں چونک کے بٹھ گیا تھا میں فیس بک اور ٹویٹر پہ کچھ مخلص دوستوں کے وال دیکھا وہاں بھی کوئی خاطر خواہ انفارمیشن نہیں تھی ۔میری عادت ہے میں تحقیق کے بغیر خبر نہیں لکھتا ۔میں سب سے پہلے کوہستان میں ہمارے دوست سجمل یادون کو کال ۔ ملایا پوچھا سنا ہے کوئی بلاسٹ ہوا ہے وہ عین وقت ہسپتال میں تھے ان کا کہنا تھا چائنیز گاڑی میں بلاسٹ ہوا ۔اب یہ دھماکہ ہے سلینڈر پھٹہ ہے فل وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کسی قسم کی کوئی کنفرمیشن افیشلز کے طرف سے نہیں ائی ۔

    جب ڈی سی کوہستان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا اب تحقیقات جاری ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ تھا اس وقت تک اصل صورت حال دوسرے طرف سوشل میڈیا پہ طوفان پرپا تھا بغیر تحقیق کے ہر کوئی اس حدثے دھماکہ بنا کے پیش کر رہا تھا ۔(اور ہاں یاد رہے گزشتہ رات کوہستان پٹن کے مقام پہ نیئٹکو کے ایک بس لینڈ سلائیڈ کے ضد میں ائی تھی جس کے وجہ سے پانچ افرا شہید ہوے تھے )۔ان میں اکثریت کاپی پیسٹ والی لوگ تھی جن کو خبر کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتے ان میں اکثر نیوز لینک پہ اس نئٹکو بس کے تصویر چسپاں تھی کچھ نے جنوبی پنجاب کے ایک جدثے کی تصاویر تک تک چسپاں کی تھی یہ لوگ بس کسی کے وال سے خبر اٹھاتے اور چپکا دیتے ہیں۔ اج کے اس حدثہ جس کا ابھی تک افیشل کوئی اطلاع نہیں کے دھماکے کی وجہ کیا ہے اس پہ لوگوں کے اس اس قدر غلط خبروں سے ملک کو جو نقصان ہوا ہوگا وہ شاید ہمارے سوچ سے باہر ہے۔

    ایک مممولی خبر سے ایک ملک کا امیج ذیرو ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کے نام پہ کاپی پیسٹ چل رہا تحقیقی صحافت پاکستان میں ناہونے کے برابر ہے۔ اس تمام تر صورت حال میں حکومت وقت کچھ اصول بنانے چاے۔ ازادی اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن جو انسان بھی خبر دے وہ ذمدار ہوگا وہ جھوٹ پہ مبنی خبر دینے کی صورت اس کی صافتی ممبر شپ معطل کردیا جاے ۔ جس بھی میڈیا گروپس کے جو بھی صحافی ہیں ان کو صحافت کی تربیت دی جاے ان کو ہر شعبے کے حواے سے ان کلاسسز ورک شاپ میں تربیت دیا جاے۔ سوشل میڈیا کے حوالے کوئی پالیسی وضع کی جائے