Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ
    لوگ کہتے ہیں غربت میں تو اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تم غیروں کی بات کرتے ہو
    ایسی ہی کہانی کچھ میری کسی سے محبت کرنا اور اسکی عادت پڑ جانا اور جب وہی ساتھ چھوڑ جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے
    عرصہ ہونے کو ہے لیکن وہ شخص میرے ذہن میرے خیالوں سے جاتا ہی نہیں،
    مان لیا جائے کہ اسکی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن جس شخص نے مجھے اتنا چینج کیا اسکی ہر بات ماں باپ کی طرح مانی لیکن اسے ایسی کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ چھوڑ گیا یہ سوال ہر وقت میرے ذہن میں ہے

    اسکی باتوں اور اسکے خیالوں سے میں ایک اندازہ لگا چکا کہ میری غریبی میری محبت کی قاتل نکلی
    خدارا کسی سے محبت کرنا ہے تو اسے راستہ میں مت چھوڑو وہ درمیان راستے میں نہ مر سکتا ہے نہ جی سکتا ہے
    آخر میں فراز کا ایک شاعر یاد آیا کہ
    محبت کرنا ہے تو خدا سے کرو
    ان مٹی کھلونوں میں وفا نہیں ملتی

  • ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    دنیا کی اس مختصر سی اور دھوکے والی زندگی کے بعد نا ختم ہونے والی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے اور ہم سب نے جان بوجھ کر اپنے بچوں کی آخرت بھلا کر دنیا میں انکو مصنوعی کامیابی کے پیچھے لگا رکھا ہے جبکہ اصل کامیابی تو موت کے بعد کی ہے جس کے لیئے ہماری کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں … آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھیں یا ہاورڈ سے آپ سے سوال تعلیمی ڈگریوں کا نہیں بلکہ اچھے اور برے اعمال کے حوالے سے ہوگا .. آپ دنیا کی تعلیم ضرور حاصل کریں بلکہ خوب حاصل کریں کوئی ممانعت نہیں مگر یہ سب الله تعالیٰ اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر ہو تو کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے … تب دنیا میں بھی مزے کریں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائیں … مگر یہاں کچھ لوگ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا حوالہ دیکر دین دار طبقوں کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ وہ خود اپنا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور سخت خسارے میں رہتے ہیں …

    مجھے الله تعالیٰ نے صرف نو سال کی کم عمری میں عالمی شہرت کے میڈلز پہنائے ، پڑھائی لکھائی اور ذہانت میں کمال درجہ عطا کیا مگر یہ زندگی چونکہ جلد ختم ہوجائے گی اور اگلی منزل پر مجھے روک کا پوچھا جائے گا کہ ہم نے آپکو زندگی دی تھی وہ کن چیزوں میں اور کس جگہ صرف کی تو سوچیئے کہ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا یہ وہ وقت ہوگا جب انسان حسرت کریگا کہ ایک بار الله دنیا میں دوبارہ بھیج دیں تو وہ اپنی پوری کی پوری زندگی سجدے میں گزار دیں لیکن افسوس کہ یہ موقع انسان کو دوبارہ نہیں ملے گا. میرے بھائیوں اس بڑی ناکامی کے خوف نے مجھ سے میری دنیا کی مختصر سی زندگی کی شہرت بھلا رکھی ہے اور میں اس کوشش میں ہوں کہ کیسے اپنی قوم کے بچوں کو صراط مستقیم پر لاکر بچاؤں … کسے ان بچوں کی خوب صورت تربیت کروں کہ جس سے نا صرف وہ پاکستان اور امت مسلمہ کے لیئے کارآمد ثابت ہوسکیں بلکہ الله اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم بھی خوش ہو جائیں.اس دنیا کی شہرت دولت اور پروٹوکول سب ختم ہونے والا ہے یہ وہ جالا ہے جس میں شیطان انسان کو پھنسا کر ناکام بنانا چاہتا ہے . میری تقریریں اب بھی چل رہی ہیں میری دنیاوی انگریزی تعلیم اب بھی جاری و ساری ہے بس پہلے اور اب میں صرف اتنا فرق آیا ہے کہ اب میں کچھ بھی کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ میرے نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ کیا تھا . میرے الله نے مجھے زندگی گزارنے کے لیئے جو قرآن بھیجا ہے وہ میری زندگی کے حوالے سے کیا کہتا ہے. بس اتنی سی بات سے ہم دین کو سخت جان کر اس سے اس لیئے بھاگ رہے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ بندا مولوی بن گیا ہے . جو تضحیک ہم لوگ آج کل علما کی کر رہے ہیں وہ بھی ہماری ناسمجھی ہی ہے کیونکہ جس معاشرے میں لوگوں کے دلوں میں دین کی اہمیت اور قدر نہیں ہوگی تو وہاں کے علما کے ساتھ پھر یہی رویہ برتا جاتا ہے … میرے بھائیوں یہ دین صرف مولویوں کے لیئے نہیں آیا دین ایک طرز زندگی ہے ایک ترتیب ہے جو ہم سب کے لیئے چودہ سو سال پہلے پیش کیا گیا … آپ کے انگریزی سکول تو ابھی بنے ہیں جبکہ دین کا معاملہ تو صدیوں پرانا ہے …

  • کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    جب سے بھارت نے کشمیر کی آزاد حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے تب سے کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں
    بھارت چاہتا ہے کہ کشمیر کی جگہ دو علاقے بن جاٸیں ایک کو وہ جموں کشمیر کا نام دینا چاہتے ایک کو لداخ کا اسی وجہ سے آرٹیکل 370 ختم کیا گیا ہے اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور مودی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا نظام لیفٹینٹ گورنر چلاٸیں جو کے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے
    جہاں آرٹیکل 370 ختم ہوا وہیں اس کی ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرمملکت تبدیلی و حکم نامے جاری کرنے کے مجاز ہونگے
    کشمیر میں اس وقت بدترین حالات ہیں بھارتی جارحیت اپنے عروج پہ ہے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں
    کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اقوام متحدہ کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی چپ سادھ رکھی ہے
    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس ارٹیکل کے خاتمے کے بعد انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوگا
    بھارت اقوام متحدہ کی بھی کسی قرارداد کو خاطر میں نہیں لا رہا ..

    کشمیریوں کی صبح آہ و بکا کرتے ہوتی ہے اور شام تک کسی نا کسی گھر کا چراخ گل کر دیا جاتا ہے کبھی آزادی پسند کہہ کے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے تو کبھی دہشتگردانہ کارروائياں کر کے نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے ..
    پیلٹ گنز سے نشانہ بنایا جاتا ہے رسیوں سے باندھ کے گاڑیوں کے پیچھے گھسیٹا جاتا ہے کشمیری بہنوں کی اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے مطلب کے انسانی حقوق کی پامالی کا وہ کام نہیں جو قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں پہ نا کیا ہو ..
    آرٹیکل 370 ختم کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے اس سازش کا لب لباب یہ ہے کہ بھارت کشمیر میں غیر کشمیری آبادکاری کرنا چاہتا ہے اور یہی قانون بھارتی راستے کی رکاوٹ تھا اب بھارتی کشمیر میں آباد ہونگے تو بہت جغرافیاٸ تبدیلیاں واقع ہونگی اور کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جاۓ گا ..
    مقبوضہ جموں کشمیر کا جھنڈا الگ ہوتا تھا اس قانون کے خاتمے کے بعد یہ حق بھی کشمیر سے چھین لیا گیا ..
    اتنا بھارتی جارحیت ہونے کے باوجود عالمی دنیا کا مسلہ کشمیر پہ چپ رہنا المیہ ہے .؟
    کیا اقوام متحدہ کشمیر کو فلسطین بننے دیگا .؟

  • امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    وتینام نے امریکہ کے خلاف افغانستان سے زیادہ بڑی "فتح” حاصل کی تھی لیکن تباہ ہو برباد ہوکر۔ آپ کی فوج یا دفاعی نظام کا اؤلین مقصد اپ کو ایسی تباہی سے بچانا ہوتا ہے۔ آپ کی دفاعی مشین ختم ہوجائے یا فوج تباہ ہوجائے تو پھر مزاحمت تو عوام بھی کر لیتی ہے لیکن تباہی کے ساتھ۔
    اس مزاحمت کی مثالیں دے کر اپنی افواج کو لتاڑنا جو آپ کو اس سے بچا رہی ہوتی ہیں حد درجہ بےوقوفی اور جہالت ہے۔
    یہ کہنا کہ "افغانیوں نے محض اللہ پر توکل کیا اور جیت گئے۔” زمینی حقائق اور اسلام کی سکھائی گئی حکمت و بصیرت کے خلاف ہے کیا کشمیری اللہ پر توکل کر کے نہیں لڑ رہے؟

    اور پھر ویتنامی تو غیر مسلم ہیں انہوں نے تو زیادہ بڑی فتح حاصل کی تھی۔ویتنام اور افغانستان کا ایک چھوٹا سا موازنہ پیش کرتا ہوں افغانستان پر حملہ آور افواج کی زیادہ سے زیادہ تعداد 130،000 تھی اور ان کو 180،000 ملی اردو کی مدد حاصل تھی ویتنام پر حملہ آور افواج کی تعداد 6 لاکھ تھی جن میں 547،000 صرف امریکی فوج تھی اور ان کو 850،000 جنوبی ویتنامی فوج کی مدد حاصل تھی۔
    افغانیوں نے 20 سالوں میں 2400 امریکی فوجی مارے جب کہ ویتنامیوں نے 20 سال میں 58000 امریکی فوجی مارے۔

    افغانیوں نے امریکی اتحادی ملی اردو کے 65000 فوجی ہلاک کیے جب کہ ویتنامیوں نے امریکی اتحادی جنوبی ویتنامی فوج کے 3 لاکھ فوجی ہلاک کیے افغانیوں نے نیٹو کے 22000 فوجی زخمی کیے جب کہ ویتنامیوں نے صرف امریکہ کے 303000 فوجی زخمی کیے افغانستان میں امریکہ مزاکرات کر کے جا رہا ہے جب کہ ویتنام سے بھاگ کر گیا تھا اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹکے ہوئے تھے ویتیامیوں کی کل تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ تھی جب کہ افغانیوں کی 3 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ افغانستان کا رقبہ 652،860 مربع کلومیٹر جب کہ شمالی ویتنام کا 157،880 مربع کلو میٹر تھا۔ یعنی افغانیوں کو گوریلا جنگ لڑنے کے لیے زیادہ بڑا اور پیچیدہ میدان جنگ دستیاب تھا اور سب سے بڑھ کر ویتنامی غیر مسلم تھے۔ یعنی ان کو کوئی آسمانی مدد حاصل نہ تھی جیسا کہ ہم افغان "سٹوڈنٹس” کے بارے میں دعوی کرتے ہیں آپ موازنہ کریں تو ویتنامی زیادہ بڑے جنگجو اور زیادہ بڑے ” م ج ہ دین” ثابت ہوتے ہیں لیکن 2 لاکھ سویلین افغانستان میں اور 3 لاکھ ویتنام میں مارے گئے۔ دونوں ملکوں کا خوب کباڑا ہوا۔ افغانی اور ویتنامی عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے یہ ہیں افغانستان اور ویتنام کی عظیم فتوحات۔

    پھر بھی ۔۔۔ آپ یہ سنتے ہونگے اخے افغان "سٹوڈنٹس” کے پاس کیا تھا؟ بس اللہ پر توکل کیا اور امریکہ کو شکست دے دی،
    ہمارے پاس ایٹم بم ہے تو اس کو چاٹیں ویتنام نے امریکہ کو شکست دیدی ہم سے دس گنا چھوٹا تھا، وغیرہ وغیرہ کیا واقعی دشمن آپ کے ملک میں گھس کر اپ کو 20 سال تک رگید کر اور تباہ و برباد کر کے چلا جائے تو یہ آپ کی فتح ہوتی ہے ان لوگون کو ذرا نہیں اندازہ کہ آپ کی فوج یا آپ کے جنگی طاقت کی وجہ سے آپ سے کسی جنگ کا ٹل جانا یا آپ کی فوج کا دشمن کو سرحدوں پر روکے رکھنا کیا معنی رکھتا ہے انڈیا کی بے پناہ بڑی جنگی مشین کو پاک فوج نے سرحدوں پر روک رکھا ہے لہذا ہمیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن افغانستان نے اپنی پراکسی جنگ پاکستان کے اندر داخل کی۔ جب جنگ سرحدوں کے اندر آئی تو آپ کی چیخیں آسمان تک پہنچیں یا نہیں؟ 70 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر کی تباہی کا رونا روتے ہیں یا نہیں ہم نے چار جنگیں لڑنے کے باؤجود اگر مقبوضہ کشمیر نہیں لیا تو کیا انڈیا پانچ گنا بڑی طاقت ہونے کے باؤجود آزاد کشمیر لے سکا ہے؟؟ وہ بھی تو دعوی رکھتے ہیں نا ایل او سی کے اس پار انڈیا کی 10 لاکھ فوج کے مقابلے میں ایل او سی کے اس طرف ہماری فوج 1 لاکھ سے بھی کم ہے۔ یعنی دس گنا بڑے دشمن کو فوج نے روکا ہوا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ محفوظ اور پرسکون ہیں (کیا انڈین بھی اپنی فوج کو ایسے ہی طعنے دیتے ہیں؟) پاک فوج نے آپ کے خون کی پیاسی ایک دنیا کو آپ سے دور رکھا ہوا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پاک فوج اپنا خون نہ دیتی ہو۔ اس کی قدر آپ کو تب آئیگی جب آپ کی فوج بیچ میں سے ہٹ جائے گی۔

    جب پاک فوج ج سائیڈ پر ہوئی تو دشمن ہم پاکستانیوں کا خون بھی پی جائیں گے اس دھرتی ماں پر ہمارے بہت سے سے جو انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اب دو تین دن کے اندر ہی دیکھ لیں ضلع کرم کے علاقے زیوا میں ۔ ایک افسر سمیت دو جوان کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید۔ ہوگئے تھے اور رات یعنی 14 جولائی کو ‏بلوچستان کے ساحلے علاقے پسنی میں سیکیورٹی فورسز کہ گاڑی پہ دھماکہ ہوا اس دھماکے میں ہمارا جوان کیپٹن عفان مسعود شہید، ہو گیا ہمارے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا اپنے بچے کو یتیم کر گیا شہید کیپٹن عفان مسعود کے گھر دو ماہ پہلے ہی بیٹا پیدا ہوا اور آج اپنے بیٹے کو یتیم کر کے ہمیشہ کے لئے چلا گیا ؟ اور اس دھماکے میں ہمارے 5 جوان زخمی بھی ہوئے پاکستانیوں اپنی افواج کی قدر کرو یہی افواج ہے جو دن رات اپنے خون کے نذرانے پیش کر رہی ہے اپنی پاک دھرتی کے لیے یہی پاک افواج ہے جو پہاڑوں پر سینہ تانے کھڑی ہے اور رات کو ہم اپنی سکون کی نیند سوتے ہیں جب ہم اپنی افواج کو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر برا بھلا کہتے ہیں تو ان شہداء کے گھر والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہوگی گھر والے کیا سوچتے ہوں گے ہم اسی دن کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے ان کے طعنے سننے کے لیے میرے بھائیو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر اپنی افواج کو برا بھلا نہ کہو یہی افواج ہے تو ہمارا پاکستان ہے ہم سکون سے جی رہے ہیں اللہ پاک ہمارے جوانوں کی حفاظت فرمائے اور دشمن کو نیست و نابود کردے آمین

  • قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    افواج پاکستان کا شمار بھی ملک کے اُن چند اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ملک کی خدمت میں اہم کردار اداکیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف یہ کہ ملکی سرحدوں کے دفاع کو ہمیشہ مستحکم رکھا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گزشتہ دو دہائیوں سے پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ جس میں ہزاروں جانباز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور وطن عزیز کو جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا، تو ہمیشہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے افواجِ پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔ کٹھن سے کٹھن حالات اور کڑے سے کڑے امتحانوں میں افواج پاکستان نے اپنے فرائض تندہی، جانفشانی، ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیے ہیں۔اور غیر یقینی حالات کا حل بہت خوش اسلوبی سے نکالا ہے۔

    افواجِ پاکستان کے جوانوں نے پاک سر زمین کے دفاع اور سلامتی کے لیے ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت پوری قوم ان پر ناز کرتی ہے۔ پاک فوج کا سب سے بڑا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ پاک فوج نے ناصرف اپنے ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مشکلات میں گِھرے افراد کو زندگی کی نئی راہ دکھائی۔خیبر پختونخوا جو پچھلے کئی سال دہشت گردی کا رہا،لیکن پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوگیا۔

    پاک فوج نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف یکے بعد دیگرے آپریشنز کیے۔ اور دہشگردی کے خاتمے کے لئے اپنی جانیں پیش کی۔امن کے قیام کے ساتھ ساتھ پاک فوج جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرتی رہی۔ اور دہشتگری کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں کے عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بناتے رہے۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کی طرف سے نصب کردہ بارودی سرنگوں اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں معذور ہونے والے افراد پرخصوصی توجہ دی۔اس ضمن میں پاک فوج نے مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان معذور افراد کی فلاح کے لئے مختلف کوششیں کیں۔

    پاک فوج نے وانا، جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکوں میں معذور ہونے والے افراد کے لئے ریہاب سنٹر قائم کیا۔ جہاں 194 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی۔ اسی طرح پاک فوج نے فاٹا ڈیسیبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے “چل فاؤنڈیشن” کے ذریعے 96 اور “پاکستان انسٹیوٹ آف پراستیٹک اینڈ آرتھوٹک سائنسز” کے ذریعے 163 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگوائی۔پاک فوج کی مدد سے دہشت گردی سے متاثر کل 435 افراد کو مصنوعی ٹانگیں فرائم کی گئی۔ جن میں 308 کا تعلق جنوبی وزیرستان، 28 ٹانک، 7 لکی مروت،، 72 شمالی وزیرستان، 17 ضلع کرم، 2 خیبر، 6 ضلع مہمند اور 12 افراد کا تعلق باجوڑ سے تھا۔سی ایم ایچ میں بارودی سرنگ دھماکوں میں زخمی افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گی بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے پاک فوج دن رات کام کررہی ہے۔

    پاک فوج نے مختلف علاقوں کے معذور افراد میں 700 وہیل چیئرز، بیوہ خواتین میں 590 سلائی مشینیں اور 115 بیساکھیاں تقسیم کیں۔ ضلع کرم میں 50 ضرورت مند افراد کو وہیل چیئرز، 40 عورتوں کو سلائی مشینیں، اور 15 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں 400 افراد کو وہیل چیئرز، 350 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں، جنوبی وزیرستان میں 250 افراد کو وہیل چیئرز، 200 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔پاک فوج ہمیشہ سے پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کی خیر خواہی اور فلاحی امور میں اپنی قربانیاں پیش کرتی رہی ہیں۔یہ افواج پاکستان کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں امن کا قیام یقینی ہوگیا ہے۔

  • ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    پانچ ماہ پہلے ایک نوجوان کا سیشن تھا، نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ آپ کیسے سب سنتے ہیں اور حل بھی بتاتے ہیں جواب بھی دیتے ہیں سوالوں کا۔..

    میں یہ تصویر اور پوسٹ اُس نوجوان کے نام کر رہا ہوں۔

    میں بھی بہت کُند اور بنجر ذہن کا مالک ہوا کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ کرتا تھا، پیدل چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے خود ہی لوگوں سے ریس لگا لیتا تھا۔

    رشتوں کی اتنی قدر نہیں کرتا تھا، سوشل میڈیا پہ یا فضول کے پیجز بنا کر اُن پہ وقت ضائع کیا کرتا تھا۔

    لوگوں کو باتیں سناتا تھا، بس اپنی بات کرتا تھا، دوسروں کی کم سنتا تھا، خود کو ہی ٹھیک سمجھتا تھا باقی سب کو غلط، خود کو عقلِ کل سمجھتا تھا۔

    ہر فضول کام میں ٹانگ پھنساتا تھا، زندگی کے اُسلوب سے نابلد تھا، رکھ رکھاؤ نہیں جانتا تھا۔

    پھر کچھ ایسا ہوا کہ مجھے کتابوں سے عشق ہو گیا۔
    کتابیں پڑھتا جاتا ہوں زبان پہ خاموشی چھاتی جاتی ہے، لوگوں کو پہروں چپ چاپ سنتا رہتا ہوں، مجھے سب خود سے بہتر لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، لوگوں کو راستہ دینے لگا ہوں، کسی سے ریس نہیں لگاتا اپنی مستی میں چلتا ہوں پیدل ہوں یا گاڑی پہ۔

    لوگوں کو جج کرنا چھوڑ دیا، اُن کے ہر فعل پہ سوچتا ہوں کہ کیا پتہ وہ مجبور ہوں، اپنی مجبوری سب کو نہ بتا سکتے ہوں۔

    انسانوں سے پیار ہو گیا،ہر انسان کتاب جیسا لگتا ہے۔
    ذہن جو صحراؤں جیسا خشک تھا، بنجر تھا اُس میں بارش ہونے لگی اور ذہن کی سر زمیں پہ انسانیت کی ہری بھری فصلیں لہلانے لگیں، ہر انسان سے بے لوث محبت کرنے کا بیج ”میرے بابا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک نے میرے اندر ایسا بویا کہ وہ ننھے پودے سے ایک بہت بڑا گھنی چھاؤں والا تناور درخت بن گیا اور اب دن رات دعائیں مانگتا ہوں کہ اس درخت کو پھل لگ جائیں تو انسانیت کو فائدہ ہو۔

    غمِ جاناں اور غمِ روزگار کے شہر چھوڑ کر غمِ انسانیت کے ملک میں جابسا ہوں۔۔

    باتیں تو شیطان کی انت جیسی ہیں ختم ہی نہیں ہوتیں۔
    یہ سارے کمالات تو والدین کی تربیت، ”میرے بابا محسنِ انسانیت، پیغمبرِ بے مثال صاحبِ شرف و کمال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک اور کتابوں کے ہیں ورنہ یہ بندہ ناچیز تو اس قابل نہیں تھا۔۔

    مجھے نسبتوں اور حوالوں نے ایک پہچان بخشی ہے ورنہ میں بھی ایک گمنام زندگی گزار رہا ہوتا۔۔
    تصویر میں موجود کتابیں میرے پچھلے پانچ ماہ ہیں،ہر روز دو لیکچرز سننا، میڈیکل کی کتابیں، اخبارات کے دو تین کالمز ہر ہفتے پڑھنا ان کتابوں کے علاوہ ہیں۔
    دو بلیک ڈائیرز بھی ہیں جن میں سیشنز لکھے ہوئے ہیں۔

    ”ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“

  • افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    یہ جوحالیہ دہشت گردی ہے۔۔ اِس کے پیچھے بھارتی وردی ہے۔۔ افغانستان میں پچھلے کئی سالوں سے کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری ضائعہونے کے پیش نظر، بھارت حسبِ معمول پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ملک میں جاری پیشرفتیں اِس کے مذموم عزائم خاک میں ملنے کی یقینی نوید ہے۔ ہندوستان سر توڑ کوشش کر ہا ہے کہ کسی طریقہ سے بھی ا فغانستان میں جنگ جاری رہے اور ملک میں امن واپس نہ آئے تاکہ بھارت ا فغانستان کی سر زمین کو پاکستان مخالف ریاستی دہشت گردی کے لیے بلکل ویسے ہی استعمال کر سکے جیسیامریکی افواج کی موجودگی میں کرتا آیا ہے۔افغانستان سے جبری طور پر امریکی جانے سے ہندوستان کے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو روکنے کے خوابوں کو چکنا چور کردیا گیا دوسری جانب جونہی طالبان نے اپنا کنٹرول وسیع کیا تو نئی دہلی کو قندھار اور دیگر مقامات پر اپنے عہدے داروں کو ان کے قونصل خانے سے نکالنا پڑا۔

    یہ قونصل خانے مودی حکومت کی پُشت پناہی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ معتبر ذرائع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قندھار سے فرار ہونے والے زیادہ تر ہندوستانی عہدیداروں کا تعلق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) سے ہے۔بھارت افغانستان میں تمام محاذوں پر اپنی شکست کا خود گواہ ہے، اور امریکی افواج کے انخلا نے نئی دہلی کوبوکھلاہٹ اور ششوپنج میں چھوڑ دیا ہے۔اِس بات سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے کے لئے افغان سرزمین پر اپنے اڈوں کا استعمال کر رہا ہے اور بنیادی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان میں انٹیلیجنس بنیادوں کا جال بچھا رہا ہے۔اِس ظمن میں بارہا پاکستان بین الاقوامی برادری کو دستاویزات کے ذریعہ شواہد دے چُکا ہے کہ ہندوستان افغانستان میں بعض دھڑوں کو پریشانی پیدا کرنے اور وہاں خانہ جنگی جاری رکھنے کے لئے ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ایک معتبر ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کاگذشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں بنایا ہوا انٹلیجنس نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، اور مزید کہا گیا ہے کہ جب اب بھارت افغانستان سے فرار ہورہا ہے وہ اب بھی افغانستان میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے افغان طالبان مخالف قوتوں کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کررہا ہے کیونکہ پُر امن افغانستان کی جانب جاری مثبت پیشرفت بھارتی عزائم کے برعکس ہے۔ بھارت پُر زور ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے

    کیونکہ وہ پُرامن افغانستان میں اپنی شکست دیکھ رہا ہے کیونکہ پُرامن افغانستان بھارت کو کبھی بھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بھارتی بڑی سرمایہ کاری ضائع ہونے پر یہ کہاوت یاد آجاتی ہے کہ دھوبی کا کُتکا نہ گھر کا نا گھاٹ کا۔۔ دوسری جانب ہر گزرتے دِن کے ساتھ افغان طالبان افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے دیکھائی دیتے ہیں، حالیہ دنوں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سر زمین کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔افغان -امریکا دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا بہت ہی قلیدی قردار ہے۔افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان امن کا داعی ملک ہے کیونکہ پاکستان دُنیا کا وہ واحد مُلک ہے جس نے خطہ میں قیامِ امن کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افواجِ پاکستان دُنیا کی وہ واحد فوج ہے جس کے آفیسر سے سپاہی تک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں،پاکستان افغانستان کا بہت اہم پڑوسی ہے اور افغانستان کے مسئلہ کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، جامع مذاکرات کے ذریعے ہی سیاست حل تلاش کرنا ہوگا۔امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب یہ ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ معنیٰ خیز سیاسی مذاکرات کرے اور افغانستان کے امن کو یقینی بنائے کیونکہ افغانستان اور پڑوسی ممالکمیں معاشی استحکام لانے کے لیے دیرپا اور پائیدار امن ناگزیر ہے۔

  • واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    حالیہ دنوں میں کشمیر میں انتخابی مہم کا بازار گرم ہے ۔ ہر جماعت انتخابی مہم میں مصروف ہے ۔ اسی انتخابی مہم میں مریم نواز نے کچھ لطیفے چھوڑے ہے جس میں دو درج ذیل ہے۔
    1) نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے۔۔۔۔
    2) نواز شریف کشمیر کے لیے جنگیں لڑے گا۔۔۔۔

    اب ان لطیفوں کے بعد کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے لہذا میں آپ کو نواز شریف کے ماضی میں لے جاتا ہو اوع ثابت کرتا ہو نواز شریف کشمیریوں سے کتنا مخلص ہے۔
    کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو بھارت نے امریکہ کے ذریعے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالا جسے نواز شریف نے فراخ دلی سے قبول کیا اور امریکہ جا کر اعلان واشنگٹن کر آئے حالانکہ خود بھارتی جرنیل اور تجزیہ نگار اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ کارگل کی جنگ میں پاکستان نے کئی کلومیٹر تک بھارتی علاقہ کلئیر کرا لیا تھا اور اگر جنگ نا روکتی تو کشمیر کی صورتحال بھی مختلف ہوتی۔ جنگ بندی کے بعد جب بھارتی وزیراعظم پاکستان آیا تو نواز شریف نے ایک تقریب میں ہندو اور مسلمانوں کے رب (نعوذ باللہ) ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں بھارت کے ساتھ غلط کیا۔

    صرف اتنا نہیں یہ وہی نواز شریف ہے جنہوں نے بھارت میں حریت رہنماؤں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا اور کجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی کو بغیر ویزہ پاکستان اپنی نواسی کی شادی میں بلا لیا اور وہاں چھپیاں اور پپیاؤں کے ساتھ تحائف کے تبادلے بھی ہوئے لیکن کشمیر کے معاملے میں نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ نا نکلا ۔ پاکستان کی ایجنسیوں نے گلبھوشن کو پکڑا تو نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ تک نا نکلا۔

    جندال کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا تو مری میں آزاد کشمیر کے جھنڈے غائب کر دیے۔

    صرف اتنا نہیں جب مشکل وقت آیا تو یہی نوز شریف نے بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستانی ایجنسیوں کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی کوشش کی۔

    یہ ہے کچھ کرامتیں اور جنگیں جو نواز شریف نے ماضی میں کشمیر اور پاکستان کے لیے لڑی۔
    (چودھری حمزہ)

  • دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ایک دن موت آ کر رہے گی ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹیں گے یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے

    ہمارا دُنیا کا سب کچھ رہن سہن یہ سب صرف ہمارا ضرورت ہونا چاہیے اور ہمارا مقصد آخرت کی زندگی ہونی چاہیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے ہمیں حلال حرام جائز ناجائز کو دیکھنا چاہیئے اس دنیا میں نہ کوئی سدا رہا ہے نہ رہے گا یہ دنیا دھوکے کے گھر کے علاوہ کچھ نہیں سب آخرت کی فکر کریں حقیقی زندگی وہی ہے

    آج وقت ہے موقع ہے اللہ تعالی پر پوری طرح کامل ایمان رکھنا، اپنی قبلہ کو ٹھیک کرنا، برے اعمال اور گندی چیزوں سے بچنا، انسانوں کے ساتھ معاملات ٹھیک کرنا اپنے رب کو راضی کرنا اللہ تعالی کے حضور میں توبہ کرنا

    قرآن مجید کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مرنے سے پہلے آخرت کیلئے تیاری کرنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنا، شرک نہیں کرنا اور کسی کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک نہیں بنانا، مال دولت کے نشے میں اپنے رب اور غریبوں کو نہ بھولنا، زندگی سے پیار کرنا لیکن آخرت اور قبر کو ہمیشہ یاد رکھنا، غرور اور تکبر سے بچنا اور ہمیشہ اپنی زندگی عاجزی کے ساتھ گزارنا

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور جس وقت موت آئے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوں آمین

  • اندھی تقلید،تحریر:بلال لطیف

    اندھی تقلید،تحریر:بلال لطیف

    ‏اندھی تقلید کے بہت بڑے نقصانات ہوتے ہیں۔
    اگر دیکھا جائے تو معاشرے میں سب سے زیادہ نقصان وہی اٹھاتے ہیں جو بغیر کسی تحقیق و سوچ بچار اور معلومات کے کسی ایسے تحریک یا شخص کی پیروی شروع کرتے ہیں جو ظاہری کچھ اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں جبکہ پس پشت کوئی اور منصوبہ رکھتے ہیں۔
    تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی سلطنتوں کو زوال پزیر کرنے کے لئے کفری طاقتوں نے مسلمان غداروں کو استعمال کیا ہے اور اب بھی وہی فارمولا ازما رہے ہیں۔

    شام کے بربادی میں اپنوں کا ہاتھ تھا اور ان لوگوں کو پس پشت امریکہ، اسرائیل اور دیگر کفری طاقتوں نے سپورٹ کیا، یمن، لیبیا، عراق ،افغانستان،فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو تاراج اور محکوم بنانے میں اپنے غداروں کا ہاتھ تھا۔

    اج کل پاکستان میں وہی فارمولا دہرایا جارہا ہے بلوچ اور پشتونوں کو ریاست مخالف بنانے کے لئے چند لوگوں کو استعمال کیا جارہا ہے جن میں پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر ہم جنس پرست تنظیمیں سرفہرست ہے بد قسمتی یہ ہے کہ کچھ قوم پرست تنظیمیں بھی ان صفوں میں کھڑے ہیں

    یہ تحریکیں اور تنظیم پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطحہ پر پروپیگنڈوں میں مصروف ہے جبکہ را، سی ائی اے، موساد اور این ڈی ایس جیسے بدنام زمانہ ایجنسیاں انکے پشت پر کھڑے ہیں۔
    اسلئے ہمیں ان پروپیگنڈوں کو توڑنا ہے اور دجال کی ان کارندوں کو ناکام بنانا ہے تاکہ پاکستان محفوظ رہ سکے۔