Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان  اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    مغرب میں اسلاموفوبیا کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی تعصب کی بنا پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی کینیڈا کے علاقے سکاٹون میں دو سفید فام افراد نے حملہ کر کے ایک پاکستانی محمد کاشف کو شدید زخمی کر دیا۔ ان کے بازو پر گہرے زخم آئے اور 14 ٹانکے لگے۔ حملہ آوروں نے محمد کاشف کی داڑھی بھی کاٹ دی۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل بھی کینیڈا کے شہر سینٹ البرٹ میں دو مسلمان خواتین پر حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو بردار شخص نے خواتین کو دھکے دئیے ، ان پر نسلی جملے کسے ، پھر حجاب سے کھینچ کر نیچے گرا دیا۔ حملے میں ا یک خاتون زخمی بھی ہوئی تھی۔ اسی طرح کینیڈا کے دارالحکومت ٹورنٹو میں ایک مرد اور خاتون نے زبردستی مسجد میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ اسلاموفوبیا کی لہر پورے مغرب میں ہے تاہم کینیڈا میں ایسے واقعات کا تسلسل حیران کن ہی نہیں بلکہ مہذب دنیا کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کیونکہ چند ہفتے قبل بھی کینیڈا میں دہشت گرد کی جانب سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے روندے جانے سے جاں بحق ہونے والے افراد میں عمر رسیدہ ماں، فزیو تھراپسٹ بیٹا ، بہو اور کمسن پوتی شامل ہیں جبکہ نو برس کا پوتا شدید زخمی ہو گیا۔ 20 سالہ دہشتگرد مذہبی تعصب میں مبتلا تھا ، جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ اس پر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اونٹاریو واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ، اس نفرت کو ختم کرنا ہو گا۔۔

    اس واقعہ کی کینیڈا سمیت پوری دنیا میں شدید مذمت کی گئی جبکہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس وقت کہا کہ یہاں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اس کے بعد تسلسل سے ایسے واقعات کا ہونا افسوسناک ہے۔ دنیا میں پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ایسے واقعات پر قابو جانا ضروری ہے۔ کینیڈا سمیت دنیا کے جس کونے میں بھی اسلاموفوبیا کی لہر موجود ہے اس کے آگے مکمل بند باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف بیانات سے ممکن نہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے مغربی ممالک کے حکمران اور ادارے جتنا دبائو پاکستان پر ڈالتے ہیں اس کی معمولی سی ذمہ داری انہیں خود بھی لینی چاہیے اور اپنے ممالک میں بڑھتی ہوئی فکری شدت پسندی پر قابو پانا چاہیے۔ دنیا میں تو پہلے ہی تہذیبوں کے تصادم کے خطرات موجود ہیں ۔ ایسے واقعات ان کو ہوا دے سکتے ہیں، لہذا کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا فرض بنتا ہے کہ وہ کینیڈا کا سافٹ امیج دنیا میں برقرار رکھنے کے لیے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرناک نظریات و رحجانات کو بھرپور جذبہ انسانیت کے ساتھ کچل کے رکھ دیں ، ورنہ پانی سر سے گزر گیا تو سب کچھ لاحاصل رہے گا۔کینیڈا میں مقیم خاندان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں مسلمانوں سے نفرت جھلکتی نظر آتی ہے۔ ایسے حملے کافی عرصے سے مغربی ممالک میں ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ مغربی ممالک میں بڑھتے اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی۔

    وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی طرف سے اس حملے پر ردعمل اسلاموفوبیا کے خلاف مثبت سوچ کا اظہار ہے۔ ایسی سوچ مغربی معاشرے کی طرف سے اجتماعی اور متفقہ طور پر سامنے آئے تو بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف پیشرفت ہو گی۔ مسلمانوں پر شدت پسندی کا ملبہ ڈالنے والوں کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ بدلنا ہو گی۔ اس حوالے سے مسلم ممالک کو بھی اسلام کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اور فعال پلیٹ فارم پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کی لہر میں بڑی شدت آئی ہے۔ حتی کہ مہذب کہلانے والے اور اپنے ملک اور معاشروں میں تحمل و برداشت کو فروغ دینے کے دعویدار بھی اسلامو فوبیا میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات گزشتہ کئی ماہ سے پے درپے ہو رہے ہیں۔ اسلاموفوبیا کی بنا پر مساجد میں گھس کر نمازیوں کو شہید کیا گیا۔ شاپنگ مالز میں آنے والوں کو مذہبی منافرت اور تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ سڑک کنارے کھڑی فیملی کو ٹرک تلے روند دیا گیا۔ الغرض جہاں بھی موقع ملا، اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا جس سے پورے عالم اسلام میں سخت تشویش پائی جا رہی تھی جس پر پاکستان نے دیگر اسلامی ملکوں سے مل کر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی اور اسلامو فوبیا کا معاملہ جنرل اسمبلی تک لے گئے جس پر پاکستان کی کوششوں کو کامیابی ملی اور بالآخر جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی حکمت عملی میں مذہبی اور نسلی امتیازات کی بالواسطہ یا بلا واسطہ اقسام کے خاتمے اور اس بنیاد پر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے نفرت اور تشدد پھیلانے کے عمل کو روکنے پر بھی زور دیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ ایسے شدت پسندوں اور اسلام مخالف سرگرم دہشت گرد گروپوں سے لاحق خطرات کے بارے میں رپورٹ جاری کرے۔اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ کئی اسلامی ملک بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام نے نہ صرف ہشت گردی بلکہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے تعصب اور نفرت کی بھی مذمت کی ہے۔ امید ہے کہ جنرل اسمبلی کے ریمارکس پر اقوام متحدہ کے عملدرآمد کرانے کے حوالے سے اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان اپنی موت آپ مر جائے گا اسلامو فوبیا سے پیدہ شدہ دہشت گردی کے خطرات کو گلوبل سٹرٹیجی میں شامل کرنا بڑی کامیابی ہے۔۔ جنرل اسمبلی کے سنہری فیصلے کو اسلامی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے

  • پاکستان بمقابلہ انگلینڈ بی.تحریر : انس حفیظ

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ بی.تحریر : انس حفیظ

    کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم واقعی اس قابل نہیں کہ انگلینڈ کی بی ٹیم کا مقابلہ بھی نہ کر پائے؟؟؟

    پاکستانی ٹیم میں کم از کم پانچ کرکٹرز تو ایسے ہیں جو دنیا کی وائٹ بال کے ٹاپ تھرٹی کرکٹرز میں ضرور آتے ہیں۔۔ بابر، شاہین، حسن ، فخر اور امام۔۔۔ پانچ ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ اگر آپ بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو مسلسل ہرا نہ بھی سکیں تو کم از کم انہیں شدید قسم کا ٹف ٹائم تو دے ہی سکتے ہیں۔۔۔۔

    تو پرابلم کہاں ہے؟؟؟؟

    کیا کوچنگ سٹاف اور کپتان کو بدلنا مسائل کا حل ثابت ہو سکتا ہے؟؟؟

    کچھ حد تک۔۔۔۔ وقار یونس پانچویں دفعہ کوچنگ کر رہا ہے۔ وقار کے کریڈٹ پر کوئی ایک بھی کارنامہ ہے؟؟ محمد اکرم نے باؤلرز کو ڈسپلن باؤلنگ کرنا سکھائی۔ محمد اکرم کے دور میں پاکستانی باؤلرز نے کئی ماہ تک ایک بھی نو بال نہیں کی تھی اور اسی طرح اظہر محمود نے سلو بالز اور کٹرز سکھائے۔۔۔۔ وقار کیا سکھا رہا ہے؟؟

    مصباح الحق کا میں فین رہا ہوں لیکن اب مجھے بھی لگنے لگا ہے کہ مصباح ماڈرن وائٹ بال کرکٹ کے ڈائینامکس نہیں سمجھتا۔۔۔ انوویشن نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔ کیا مصباح نے کبھی وکٹ یا مخالف ٹیم کی سٹرینتھ یا میچ سیچویشن کے مطابق بیٹنگ آرڈر میں کوئی تبدیلی کی؟؟؟ کیا مخالف ٹیموں کے بلے بازوں کے خلاف کبھی کوئی آؤٹ آف باکس پلین بنایا؟؟؟

    بابر اعظم سات نسلوں بعد بھی اچھا کپتان نہیں بن سکتا۔ پاکستانی کرکٹ کے چار پانچ سال ذائع کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ وہ ایک مناسب سا کپتان بن پائے گا۔ انگلینڈ کے خلاف دوسرے میچ میں جب فاسٹ باؤلرز کی پھینٹی لگنا شروع ہوئی تو اگلے آٹھ اوورز تک بابر نے کوئی ریسپانس نہیں دیا۔ حالانکہ ایک دو اوور بعد ہی اسے پارٹ ٹائم باؤلرز کی طرف جانا چاہئے تھا کیونکہ کرکٹ کی بنیادی سی بات ہے کہ جب بلے باز اکثر ایگریسیو موڈ میں ہو تو پارٹ ٹائمر اکثر نہیں کھیل پاتے۔۔۔مگر بابر۔۔۔۔

    ہم فینز کا مسلہ یہ ہے کہ سب کچھ غلط ہوتے دیکھ کر بھی نہ تو کرکٹ دیکھنا بند کر سکتے ہیں نہ ہی پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنا ختم کر سکتے ہیں۔۔۔ کچھ یہ ہی شرم کرلیں۔۔۔ مگر ابھی دلی بہت دور است۔۔۔

  • آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آجکل ہم آئے دن سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کا سنتے ہیں۔اور یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جسمیں والدین غفلت کا شکار ہیں۔جسمیں ان کی اولادیں بلیک میلنگ جیسے گھٹیا کاموں میں ذلیل ہو رہے ہیں خواہ وہ جنسی، جسمانی، مالی اور ذہنی استحصال ہو۔اور کچھ عرصے سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جسمیں حقیقت والدین کے سامنے کھل کر آ گئی ہو گی۔
    سب سے پہلے ہمیں اس غلط فہمی سے باہر آنا ہو گا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے نچوں کی ذہنی، جسمانی، اور جنسی ضرورتوں کے بارے میں خیال رکھنا ہو گا۔والدین کو کھل کر اس کے متعلق اپنے بچوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر لڑکیوں سے۔کسی بھی سنگین غلطی کے بعد بلیک میل ہونے کیلئے تیار ہونا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔
    ہمیں یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کے باہر ایسے خونخوار اور بیہودہ قسم کے بھیڑیے (عثمان مرزا) گھوم رہے ہیں جو کبھی بھی ہماری نسل پر حملہ کر سکتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دوستی کے نام پر ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے انسان کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دل میں ایک جگہ بنتی جاتی ہےجسے وہ فرینڈ شپ سے پورا کرنا چاہتا ہے۔اسی فرینڈ شپ سے وہ ایک معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اور جب تک اسے پتا چلتا ہے کہ یہ کیسا معاشرہ ہے تو وہ اسکی دلدل میں پھنس چکا ہوتا ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔پھر یہ معاشرہ یا تو اسے نشے پہ لگا دیتا ہے یا تو اسے گندگی میں گاڑھ کر رکھ دیتا ہے۔ پھر اسے جرائم پیشہ عناصر میں ملوث کروا دیتا ہے۔

    اکثر والدین کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کی اولاد کا کردار بہت پختہ ہے اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کس سے مل رہے ہیں؟ کس کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں؟ کون سی محفل میں ان یا آؤٹ ہو رہے ہیں؟ گھر کب آ رہے ہیں؟ کیونکہ وہ اس یقین میں رہتے ہیں کہ ان کی اولاد ایسا کر ہی نہیں سکتی۔
    مگر افسوس کے ساتھ جب تک انہیں ان کے پختہ کردار کا علم ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔تب وہ سوائے اپنی آنکھوں سے اشک بہانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ جب تک انہیں معلوم ہوتا ہے تب تک وہ اس گندگی میں اتنے پھنس چکے ہوتے ہیں کہ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
    حالیہ واقع میں عثمان مرزا اور اسکے ساتھی جس جوڑے کی ویڈیو بناتے ہیں وہ ایک سال پہلے کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس جوڑے کو پانچ سے چھ دفعہ بلیک میل کر چکے ہوتے ہیں۔ اور میرے مطابق ایسے واقعات جن وجوہات کی بنا پر رونما ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ اپنے بچوں کیلئے والدین کا ٹائم نہ نکالنا ہے۔ اور بچوں سے ایسا تعلق نہ بنانے کی وجہ ہے جسمیں آپکے بچے آپکو اپنے بارے میں کھل کر بتا سکتے ہوں۔
    آپ خود سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ اپنی بیٹی یا بہن سے ان کے جسمانی تعلق کے متعلق بات کرنے کو تیار ہیں؟ کیا آپ اسکی ذہنی، نفسیاتی تعلق کے متعلق بات کرنے کیلئے تیار ہیں؟ معاشرہ اور لوگ اسکا تماشہ لگائیں اسے ذلیل کریں اس سے بہتر ہے کہ آپ اس سے پہلے ان سے اس کے متعلق بات کریں۔
    ہمیں پاکستان میں ایسا قانون نافذ کروانے کی ضرورت ہے جسمیں ایسے بھیڑیوں کیلئے سنگین سزائیں رکھی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسطرح کے جرائم سے دور رہیں۔
    ماں باپ، معاشرہ، تعلیمی ادارے اور مساجد و مدارس کی سطح پر اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔
    ہمارا معاشرہ اس حد تک گر چکا ہے۔اور ہمیں اس گندگی کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اگر ہم نے یہ نہ کیا تو یہ گندگی آج نہیں تو کل ہم تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اور پھر پچھتانے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    تنِ تنہا سفر کرنے کا میرا یہ پہلا موقع تھا جب دہلی سے میوات کا قصد کیا اس وقت عمر نو، دس سال تھی لیکن دل پر رنج و غم تھا، نا ہی پیشانی پر کسی بھی طرح کا بل جبکہ گھر تقریباً سو کلو میٹر کی مسافت پر تھا کیونکہ یہ سنہ 2008 – 2009 تھا اس وقت ہندوستان میں حقیقتاً ایک حد تک جمہوریت باقی تھی، ” ہندو، مسلم، سکھ، عیسائ سب آپس میں بھائ بھائ” کا نعرہ واقع کے مطابق تھا، تقسیم کرو (ہندو مسلم کو بانٹو) اور حکومت کرو کا نعرہ لگانے والی انگریز کی غلام، دوغلی، بدکار، زہرو نفرت پھیلانے والی اور ہندوستان کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کردینے والی بھارتی جنتا دل جیسی پارٹیوں کا راز نا تھا، مدرسے سے نکل کر، اساتذہ سے چھپ چھپاتے ہوئے اسٹیشن پہنچ کر سبز کلر کی کثیر ڈبوں پر مشتمل ایک پرانی سی ٹرین میں جا بیٹھا جسکی رفتار یک بیک کم و زیادہ ہو جاتی تھی، سامنے تین چار نوجوان لڑکے بیٹھے ہوئے تھے جنکی قد و قامت تقریباً ساڑھے پانچ، چھ فٹ تھی، دیکھنے سے وہ اسکول کے طلباء نظر آ رہے تھے، کمسن دیکھ کر میرا دل رکھنے کے لئے طنز و مزاح کی باتیں کرنے لگے، تعلیم و تعلم اور گھر کے احوال و کوائف کے بارے میں دریافت کرنے لگے، اسی طرح گفت و شنید چلتی رہی اور بڑے ہی آرام و سکون کے ساتھ گویا کہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تکلم کر رہا ہوں پلول پہنچ گیا، انہوں نے مجھ سے معلوم کیا کہ تم گھر کے راستے سے آشنا ہو؟ میں نے معصوم سے لہجے میں مسکراتے ہوئے سر ہلا کر کہا’ جی ہاں’ باجود اس کے کہ مجھے راستے کا علم تھا انہوں نے آٹو والے سے کہا کہ اسے فلاں جگہ چھوڑ دینا مزید یہ کہ وہاں سے کسی دوسرے آٹو میں بٹھا کر اسے گھر کی جانب روانہ کردینا اور ہنستے و مسکراتے ہوئے الوداع کہ کر مجھے روانہ کردیا۔۔۔۔

    یہ حقیقی جمہوری ہندوستان تھا اس وقت سب لوگ بھائی بھائیوں کی طرح رہا کرتے تھے لیکن آج اسی ہندوستان میں، اسی روٹھ پر جسکا میں نے ذکر کیا (2017/22/جون) کو میوات میں کھنداؤلی گاؤں کے سولہ سالہ حافظ جنید کو عید کی خریداری کے بعد دہلی سے گھر لوٹتے ہوئے متعصب و متنفر، غلیظ و ناپاک اور ذلیل و بدبودار ہندو غنڈوں نے ٹرین میں چاقو مار مار کر شہید کردیا تھا تعجب کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ کوئ اس ظلم کو روکتا جس پر آسمان بھی بلک بلک کر رویا ہوگا، فرشتے بھی ان ظالموں کو صفائے ہستی سے مٹانے کے لئے تڑپے ہونگے حاضرین میں سے بعض درندہ صفت انسانوں نے کہا کہ ان سب کو مار دو۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔

  • ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ٹرسٹ کا مطلب وہ املاک جونیک مقاصد کے لیے وقف کردی جائے ۔عام حالات میں ہم جب بھی کسی ادارہ کے ساتھ لفظ ٹرسٹ لکھا دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ تصور ہوتا ہے کہ ایک رفاہی ،فلاحی ادارہ ہوگا یہی لفظ اگر بالخصوص کسی ہسپتال کے ساتھ لکھا ہواہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہاںپر ایک معمولی سی فیس کے اندر مستحق افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جوکہ عام انسان کو کسی سرکاری ہسپتال میں میسر نہیں آتیں ۔ہمارے ایک دوست بڑی خوب بات کہا کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں بندہ صرف جان سے جاتا ہے جبکہ پرائیوٹ ہسپتال میں جان کے ساتھ ساتھ مال سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے اندر اتنے مسلمان نہیں ہونگے جتنی مذہبی تنظیمیں ہیں اور وہ بھی اس قدر طاقتور کہ چلتے ملک (سسٹم )کو جام کرسکتیں ہیں زندہ کئی مثالیں موجود ہیں مگرافسوس کہ 73سالوں میں ”اسلامی نظام“نافذ نہیں ہوسکا کیونکہ ان کا ایجنڈا ”اسلام“نہیں اسلام آباد اور ”پیٹ“ہے ۔آج کہیںخدمت تو کہیں مذہب تو کہیں جمہوریت کے نام پر معصوم بھولی بھالی عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے”سبھی رانگ نمبر“ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ انکو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ لوگ اس قدر طاقتور ہیں کہ جب کوئی انکی اصلیت کو عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ میری جماعت اسلامی کے بارے سوچ ذرہ مختلف تھی کیونکہ میں سید ابوالامودودی ؒکے افکارات،نظریات اور خدمات کو پڑھ چکا ہوں ۔ثریا عظیم (ٹرسٹ)ہسپتال جوکہ جماعت اسلامی کا ہے اور جہاں پر بلا امتیازرنگ ،نسل ومذہب انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کیا جاتا ہے آئیے ذرہ اس دعویٰ کی حقیقت کو جاننے کی ادنیٰ سی کوشش کرتے ہیں عام چیک اپ پرچی فیس مبلغ سوروپے ہے بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جوکہ یہ فیس ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ،سپشلسٹ ڈاکٹر کی فیس مبلغ پندرہ سو روپے سے لیکر تین ہزار اور بعض کی تو یقینا اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔الٹراساﺅنڈ اور دیگر ٹیسٹ دوسری لیبارٹریوںسے بھی مہنگے ہیں کیونکہ یہ ”ٹرسٹ “ہے ڈرپ لگوانے کے دوسو روپے اور انجکشن لگوانے کے پچاس روپے ۔

    راقم الحروف عرصہ چار سال تک ایک میڈیکل سنٹر پر ملازمت کرتا رہا ہے ۔اچھی طرح علم ہے کہ ایک غیر معیاری میڈیسن کمپنی اپنے میڈیکل ریپ کے ذریعے کس طرح اپنی ادویات کی فروخت کے لیے ڈاکٹر زحضرات کو اچھی خاصی رقوم سے لیکر گاڑیوں سمیت اندورن بیرون ممالک کے دورے بھی شامل ہیں ۔ایک اچھی کمپنی کا انجکشن جو کہ تین سو روپے میں دستیاب ہے وہی انجکشن اسی سالٹ میں غیرمعیاری اور ٹھیکے کی کمپنی کا مبلغ پندرہ سوروپے میں فروخت ہوتا ہے ۔میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا بھر میں ہر دوائی کا الگ فارمولا(سالٹ)ہوتا وہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہر کمپنی مختلف نام سے اس سالٹ کی دوائی تیار کرتے ہیں جس طرح اسپرین سالٹ کو مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے تیار کرتی ہیں سب سے مشہور” ڈسپرین “ہے ۔اکثر یہ تجربہ کرنے کو ملتا ہے کہ جوڈاکٹر کسی پرائیوٹ ہسپتال یا کلینک میں کسی مریض کومیڈیسن تجویز کرتا ہے (اب تو سرکاری ہسپتالوں کا یہی حال ہے ) وہ ادویات یا تو اسی ہسپتال کی فارمیسی سے ملتی ہیں یا پھر اس سے ملحقہ ایک مخصوص فارمیسی سے ملتی ہیں ڈاکٹر باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ جو میڈیسن لکھی ہیں وہی لی جائیں اور فلاں میڈیکل سٹور پر دستیاب ہونگیں۔ثریا عظیم ہسپتال میں ایک عام بچوں کے ڈاکٹر وسیم جوکہ تقریباً ہر بچے کو معمولی سی تکلیف پر تیرہ ،چودہ سو روپے کی ڈرپ لگوانے کی فوری ہدایت کرتا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کرتا ہے کہ میڈیسن ہسپتال کی فارمیسی سے خریدی جائیں ،یقین کریں وہی ادویات اچھی کمپنی کی معیاری فارمیسی سے چھ سے سات سوروپے کی ہوتی ہیں جوکہ ہسپتال کی فارمیسی سے غیر معیاری ادویات تیرہ سے چودہ سو روپے کی ہوتی ہیں ۔کئی بار یہ تجربہ ہوچکا ہے اگر ڈاکٹر صاحب کو اس کی پرچی کے مطابق ادویات باہر کی فارمیسی سے اچھی کمپنی کی لاکر دیں ہیں تو انہوں نے رعونت بھرے لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر میں ہوں یا کہ تم ؟۔ہر ڈرپ کے ساتھ ڈرپ ٹیپ منگوائی جاتی ہے ایک ٹیپ تقریباً دو سے تین لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے مگر وہ بقیہ ٹیپ واپس نہیں کی جاتی اور وہی بقیہ ٹیپ مہارت سے اگے مریض کو لگائی جاتی ہے اور نئی ٹیپ رکھ لی جاتی ہے جوکہ یقینا رات کو اکھٹی کرکے واپس کردی جاتی ہونگیں۔مجھ جیسے بے بس لوگ ہسپتال کی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہسپتال کے اندر غریب اور مستحق افراد کے تقریباً فری علاج کے لیے مخیر حضرات کی طرف سے دی گئی زکوة،صدقات،عطیات اور دیگرز فنڈ ز سے ایک باقاعدہ شعبہ موجود ہے ۔

    امیر جمات اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد سے اچھا تعلق ہے اور وہ واقعی ایک نفیس ،بااخلاق،باکرداراور درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔وہ اکثر ثریا عظیم ٹرسٹ ہسپتال میں غرباءکے فری علاج اور جماعت کی دیگر خدمات کے متعلق آگاہ کرتے رہتے ہیں پراثر اور پر تاثیر گفتگو کے ساتھ ساتھ سحر انگیز لہجہ بھی رکھتے ہیں۔اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے اخبارات،ٹی وی چینلز کی رونق بنے رہتے ہیں۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص کا ہمسایہ بھوک سے مرجائے ،سخی اسکو کہلوانے کا کوئی حق نہیں ۔آپ نے سندھ میں میڈیکل کیمپس لگاکر ہزاروں لوگوں کو فری ادویات دیں،آپ نے شیخوپورہ میں دوسو افراد کی آنکھوں کے آپریشن کیے ،مگر آپ کے ہمسائے کے پاس اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے لیے ڈاکٹر کی فیس نہیں ہے بتائیے ایسی سخاوت کا کیا حاصل ؟۔مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے ۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا ۔راقم الحروف لٹن روڈ جماعت کے دفتر کا پڑوسی ہے ۔بیٹی کی طبیعت ناساز تھی اورہسپتال میں مستحق افراد کے شعبہ کے انچارج سے رابطہ کیا اور عرض کی کہ ہسپتال میں بچوں کے ایک انتہائی قابل سپشلسٹ فرشتہ صفت ڈاکٹر اقبال احمد اظہر سے چیک اپ کروانا ہے پرچی فیس مبلغ پندرہ سوروپے معاف کردی جائے۔کیونکہ موجودہ حکومت نے برابری کی وہ زندہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی کل تک لوگوں کو زکوة،صدقہ،خیرات دینے والے آج لینے والوں میں ہوئے بیٹھے ہیں ۔ادھر ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ”کرونا“اور مسلسل لاک ڈاﺅن نے مجھ جیسے لاکھوں افراد کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا ہواہے ،خدا نے حرام موت مرنا حرام کیا ہے اور حاکم وقت نے جینا۔

    معلوم ہوا کہ پرچی فیس معاف نہیں ہوسکتی یہ امیر لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد کا فرمان ہے ۔ خود امیر محترم کو کال کی جسارت کی تو حسب روایت انہوں نے نمبر مصروف کردیا پہلے تو کبھی کال سن لیا کرتے تھے مگر مسلسل”امارت“اور خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے والی بات ۔ہم بھی بہت سے بڑے لوگوں کے ساتھ بہت سا وقت گزار چکے ہیں اور اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی سے بات نہ کرنی ہو تو کس طرح فون کاٹ کر مصروفیت کا میسج بھیجا جاتا ہے ۔عرصہ بائیس سال سے”قلم“سے جڑے ہوئے ہیں دو سیرت النبی پر اور کشمیر پر کتاب بھی لکھ چکا ہوں مگر میری ان خدمات سے انکو کیا فائدہ ؟یہ دور سلجوق تھوڑا ہے کہ جس میں خواجہ حسن طوسی (ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق)کوشاہ سلجوق اسکی علمی خدمات کے اعتراف میں ”نظام الملک“کا خطاب دینے کے ساتھ سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعلیٰ اور معتمد خاص مقرر کرے ۔ایک وقت تھا کہ جب اہل قلم افراد کی تخلیقات اور تصانیف پر انکی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی مگر پیشہ ور قصیدہ گو افراد نے اہل قلم افراد سے یہ حق چھین لیا ہوا ہے۔آخر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سراج الحق اور امیر جمات لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدسے ہاتھ جوڑ اپیل ہے کہ کہ وہ ثریا عظیم ہسپتال کے ساتھ سے لفظ (ٹرسٹ)ختم کردیں اس طرح غریبوں کا استحصال نہ کریں ۔درحقیقت یہ ایک پرائیوٹ ہسپتال ہے جہاں پر پیسے سے زندگی تو نہیں ملتی مگرعزت ضرور ملتی ہے۔۔۔

  • بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    فیس بک پر ایک خبر پڑھی کہ ایک نوجوان نمبر کم آنے پر ماں ، باپ کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر بیٹے نے زہر کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا _ انھیں ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ ماں ،باپ کے خواب ، خواہشات ، امید ، آس ، روشن مستقبل کا خاتمہ بھی ساتھ ہو گیا _یہ صرف اک زندگی نہیں ختم ہوئی بلکہ کئ زندہ لاشیں چھوڑ گیا اپنے پیچھے _ ہر سال رزلٹ آنے پر ایسے واقعات منظر عام پر ضرور آتے ہیں _ مگر مجھے کبھی بھی ان مرنے والے بچوں کے ساتھ ہمدردی نہیں ہوئی _ انھوں نے تو خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بھلا ظالموں کے ساتھ کیسی ہمدردی ؟؟

    مجھے تو اس ماں کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جو اک ہی دن میں بوڑھی ہو گئ ہو گی _ مجھے تو اس باپ کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جسکی کمر اتنے بھاری دکھ سے جھک گئ ہو گی __
    حیرانی کی انتہا تو میری تب ہوئی جب میں نے اس پوسٹ پر کۓ جانے والے کمنٹس پڑھے وہ کچھ اسطرح تھے ” ماں ، باپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا ڈانٹتے ہوۓ جوان بیٹا تھا ” _ "ماں باپ کو نمبروں کی دوڑ سے باہر آ جانا چاہے ” __ ” بچوں کو اپنی زندگی جینے دیں ” __ ” بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں ” _

    یہ سب کمنٹس پڑھ کر مجھے تعجب ہوا _ ہم کس راہ پر چل نکلے __ بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں __ اک منٹ بچے کرنا کیا چاہتے ہیں آپ چند دن انھیں آزاد چھوڑ کر دیکھ لیں لور لور سڑکوں پر پھرنا چاہیں گے سارا دن موبائل میں گم رہنا چاہتے ہیں ، ساری ساری رات جاگ کر فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، آدھی آدھی رات تک دوستوں کی رنگین محفلوں کا حصہ بنا رہنا چاہتے ہیں یہ سب ہی تو چاہتے ہیں بچے آزادی کے نام پر۔۔

    اگر آپ دل لگا کر پڑھتے ہیں ساتھ ساتھ آپکو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کچھ ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں ، اماں ، ابا نے کسی اچھے سکول کالج میں بھی داخل نہیں کروایا سہولیات بھی میسر نہیں آپکو اور پھر آپکے نمبر کم آتے ہیں آپکے والدین آپکو ڈانٹتے ہیں تو بیٹا اپکو حق ہے آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گھر چھوڑ جائیں یا گولیاں کھا لیں میں آپکے ساتھ ہوں آپکے حق میں ہوں _ اگر آپکو پڑھنے کے علاوہ کوئ کام نہیں کرنا پڑتا ، آپکے ہاتھ میں موبائل بھی ہے ، آپکے کھانے پینے کا خیال بھی کیا جاتا ہے ، آپکو اچھے سکول ، کالج میں داخل کروایا گیا اور پھر آپکے نمبر کم آئیں اور والدین پوچھیں بھی نہ تو آپ غلط ہیں ، یعنی پھر آپ چاہتے ہیں والدین سے والدین ہونے کا حق چھین لیا جاۓ؟ آپکا ساتھ دینے والے بھی غلط ہیں میری ماں نے ایک دفعہ کہا تھاجن کے پلے کوئی کرتوت نہیں ہوتی وہی زیادہ اچھلتے ہیں اور یہ سچ ہے خالی برتن زیادہ شور کرتے ہیں جن بچوں میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ، جو ناکام اور نکارہ زندگی چاہتے ہیں وہی والدین کے آگے تن کر کھڑے ہوتے ہیں وہی زیادہ شور ڈال کر چیخ کر چلا کر ، دھمکیاں دے کر یو پھر کبھی کبھی ان دھملکیوں پر عمل کر کے اپنے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں
    صاف سی بات ہے جن والدین نے آپ پر اپنی محنت کی کمائی لگانی ہے اپنا وقت ، محبت ، توجہ نچھاور کرنی ہے انھوں نے پھر نمبروں کی دوڑ میں بھی دوڑانا ہے آپکو اتنا تو پھر حق ہے نا انکا اور پھر بدلے میں آپ انھیں اچھا رزلٹ بھی نہ دے سکو تو آپ کا قصور ہے برائے مہربانی اپنا قصور چھپانے کے لیے حرام موت کو گلے لگا کر والدین کے حصے میں قصور ڈالنا بند کریں خود چلے جاتے ہیں اور دنیا کی نظروں میں ماں ، باپ کو مشکوک کر کے ساری عمر پچھتاوؤں کے سپرد کر جاتے ہیں ۔۔۔

  • دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    "یہ کون ہنس رہا ہے پھولوں میں چھپا ہوا
    بہار کس کی دھن پر بے چین ہے۔

    یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی، ایک خوش شکل خوبصورت  چہرہ  ذہن میں آتا ہے وہ دلیپ کمار صاحب کا چہرہ ہے۔  دلیپ صاحب ہندی سنیما میں ‘ٹریجڈی کنگ’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی سنیما کو اپنی اداکاری سے اس طرح نوازا کہ ان کی فلمیں آج تک تقریبا  تمام عمر کے لوگوں کو خوش کرتی ہیں۔  دلیپ کمار صاحب جن کے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی ، 11 دسمبر 1922 کو اِس وقت  کے پاکستانی شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔  ان کا اصل نام محمد یوسف خان تھا اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1944 میں فلم جوار بھاٹا سے کیا تھا۔  انہیں اس فلم سے زیادہ شناخت نہیں ملی ، لیکن ایسا ہوا کہ بطور اداکار ان کا سفر شروع ہوا۔  تاہم ، "جواربھاٹا” کے تقریبا  تین سال بعد ، فلم ‘جگنو’ ایک کامیاب فلم تھی ، جس میں وہ اور نور جہاں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔  اس کے بعد ، ‘شہید’ ، ‘میلہ’ ، اور ‘اداز’ جیسی فلموں کے بعد ، وہ ایک کامیاب اداکار کے طور پر مشہور ہوئے۔  بہت سارے فلمی نقادوں کا خیال ہے کہ دلیپ صاحب  کی اداکاری حقیقت پر مبنی اداکاری تھی، جس کے ذریعے انہوں نے ہندوستانی سنیما کی اداکاری میں ‘حقیقت پسندی’ قائم کی۔

    ایک انٹرویو میں دلیپ کمار کہتے ہیں کہ ان کے والد فلموں کے سخت خلاف تھے۔ ان کے دوست ‘لالہ بیسشور ناتھ جن کو دنیا  ‘پرتھویراج کپور’ کے نام سے جانتی ہے سے دلیپ صاحب کے والد اکثر  شکایت کرتے تھے کہ ان کے صاحب زادے کیا کام کررہے ہیں؟  یعنی یہ کوئی کام کیوں نہیں کرتا فارغ رہتا ہے ۔
    کام نا کرنے کا لیکچر سن سن کر دلیپ صاحب  نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا ، لہذا اس دوران انہوں نے اپنے والد کے غصے سے بچنے کے لئے اپنے نام "یوسف خان” کو اسکرین پر استعمال نہ کرنے کی بات کی تھی۔  تقریبا تین مہینوں کے بعد انھے ایک  کمرشل سے معلوم ہوا کہ ان کا نام اسکرین پر دلیپ کمار کے نام سے ڈالا گیا ہے۔
    دلیپ صاحب  کو اردو سے بہت گہرا پیار تھا۔ انہے  شعر و شاعری میں بہت دلچسپی تھی۔
    ٹام الٹر کہتا ہیں کہ جب وہ دلیپ صاحب سے  سے اپنی اداکاری کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملا تو انہوں نے دلیپ صاحب سے پوچھا ، "دلیپ صاحب اچھی اداکاری کا راز کیا ہے؟”  دلیپ صاحب نے انہیں بہت آسان جواب دیا ، شعر و شاعری”۔  ٹام الٹر کے بقول ، اس نے اس جواب کے پس پردہ راز کی تلاش کی ، ایک لمبے عرصے تک کھوج لگائ جس سے ایک بات سمجھ میں آگئی کہ ہر مذاق والا اپنے مذاق کے ذریعہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔  وہ جو کہنا چاہتا ہے وہ ایک چیز ہے اور وہ کس طرح کہنا چاہتا ہے وہ ایک بات ہے۔  شعر و شاعری ہمارے دماغ کو مستحکم کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ہے۔  ایک شاعر چار مختلف حالتوں میں چار مختلف طریقوں سے ایک ہی بات کہہ سکتا ہے۔  تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک اداکار بھی چار مختلف ‘اظہار’ کے ساتھ اپنے آپ کو بیان کر سکے؟  ادیب اور شاعری ہماری سوچنے کے انداز میں ایک مختلف قسم کی گہرائی کا اضافہ کرتے ہیں ۔
    دلیپ صاحب کے گھرانےمیں اداکاری سیکھنے کی بات بھی نہیں ہوسکتی تھی  ایسی صورتحال میں ، انہوں نے ادب اور شاعری سے اپنا رشتہ قائم کیا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔  فلموں میں کامیاب اداکار بننے کے بعد بھی وہ مشاعرے میں حصہ لیا کرتے تھے۔  جب انہیں مشاعرہ میں اسٹیج پر بلایا جاتا تھا ، اور وہ شعر بولنا شروع کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے اس کی زبان سے پھول گر رہے ہوں۔  ایک مشاعرہ میں دلیپ صاحب  نے علامہ اقبال کی نظم "طلوع اسلام” کا ایک شعر پڑھا ،

    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
    ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

    اور کہا ، "وہ کیفیت جو اہل ایمان کی ہے وہ بھی اسی (اردو) زبان کی ہے۔”  ایسی بہت ساری کہانیاں ہوں گی جو اردو کے لئے دلیپ صاحب  کی محبت کو بیان کرتی ہیں۔
    وہ ہم میں نہیں لیکن اپنی اداکاری اور خوبصورت زبان کی وجہ سے وہ تاریخ کے لیجنڈ تھے اور لیجنڈ رہے گے

  • ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    یوں تو اللہ رب العزت نے پاکستان کو پانی جیسی بیش قیمت نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے، یہاں نہ صرف زیر زمین پانی کے ذخائر موجود ہیں بلکہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے سبب دریائوں میں بھی پانی وافر مقدار میں موجود رہتا ہے مگر سالہا سال گزر جانے کے باوجود منتخب حکومتوں اور متعلقہ اداروں نے کبھی سنجیدگی سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی اور یوں ہر سال لاکھوں کیوسک پانی سیلابوں کی شکل میں دریائوں کے راستے سمندر کی نظر ہو جاتا ہے۔زراعت پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور غریب آبادی کے بڑے حصے کو روزگار اور خوراک کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے مگر ہمارے ہاں نہری نظام موثر نہ ہونے اور حکومت کی طرف سے وقت گزرنے کے ساتھ نہری نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار نہ کرنے کی وجہ سے پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو کر ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کے بنجر ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ کچے اور بوسیدہ نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہونے والے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے طاقتور وڈیرے اور زمیندار اپنی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے نہروں میں بند بناندھ کر پانی کی فراہمی روک دیتے ہیں یوں طاقتور زمیندار تو اپنی فصلوں کو سیراب کرلیتا ہے مگر غریب اور کمزور کسان کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہرسال خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لئےیکساں بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ تاکہ ہمارا غریب کسان خوشحال ہو اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔

    سندھ کی بات کی جائے تو یہاں چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کو پیش آنے والا سب بڑا مسئلہ پانی چوری کا ہے، بڑے زمیندار نہروں میں بند باندھ کر پانی چوری کر لیتے ہیں مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ بھر کی نہروں کو پختہ کر دیا جاۓ اور سندھ میں سائنسی بنیادوں پر ایسا واٹر سسٹم لایا جاۓ جس سے پانی چوری کرنا نا ممکن ہو تو چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    پنجاب زراعت کے شعبے میں خاصی ترقی کر چکا ہے اور اس ترقی اور خوشحالی کی ایک وجہ پنجاب میں زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر اور پانی کی تقسیم کے نظام کا باقی صوبوں سے بہتر نظام کا رائج ہونا ہے تاہم جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اب بھی بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر ترقی کی دوڑ میں باقی صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ بلوچستان میں زیرزمین پانی کے ذخائر کی کمی ہے لحاظ سے کافی پیچھے ہے اگر ملک میں ڈیمز بنانے کی طرف دی جاتی اور لاکھوں کیوسک پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ذخیرہ کرلیا جاتا تو بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا تھا۔

    اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں کسی بھی دور حکومت میں ڈیمز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں میں نئے ڈیمز بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف ہمیں پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے بلکہ ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کرکے ہم اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرکے جہاں ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ چھوٹے زمینداروں اور غریب طبقے کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔

  • ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس سرزمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ ہم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ پھر ان انبیاء کو بہت بڑے بڑے امتحانات سے آزمایا۔ جن کو اللہ پاک نے چنا وہ سب اپنے امتحانات میں سرخرو ہوئے اور ہمارے لیے مثالیں چھوڑ گئے۔ ایسا ہی ایک امتحان جو بہت صبر آزما تھا اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالی نے تقریبا 100 سال کی عمر میں اسے پورا کیا اور آپکو ایک بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا۔ روز خواب میں قربانی کا حکم ہوتا کہ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ لاتعداد اونٹ اور بکریاں روز اللہ کی راہ میں قربان کیں لیکن پھر خواب دوبارہ آتا رہا حتی کہ بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت مائی ہاجرہ کو سارا قصہ سنایا اور وہ بھی آخر نبی کی بیوی تھی اللہ پاک کے حکم پر آمین کہہ دیا اور اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے تیار کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر اللہ کی راہ میں قربان کرنے نکل پڑے راستے میں شیطان آیا اور اللہ کے نبی کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور اللہ کے نبی نے اسے تین مقام پر پتھر مارے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی اس ادا کو ہمارے لیے حج کے واجبات میں شامل کردیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کر زمین پر لٹایا تو بیٹے نے عرض کی کہ بابا میری اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں فرط محبت میں اللہ تعالی کی حکم عزولی نہ ہوجائے۔ دونوں باپ بیٹے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا دیا۔ پوری کائنات حیرت میں چلی گئئ فرشتے، جنات کہ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے اور یہ کیسے تیرے بندے ہیں جو تیرے حکم کو بجا لانے کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بسم اللہ پڑھ کر چھری چلائی لیکن اللہ تعالی کے حکم سے چھری نہیں چلی تو آپ مسلسل چھری چلاتے رہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا ابراہیم تب تک چھری چلائے گا جب تک اسکے ہاتھ کو گرم خون نہ لگا۔ جنت سے ایک دنبہ لے جاو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال کر دنبہ لٹادو ۔ پھر چھری چلی تو گرم خون ہاتھوں کو لگا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
    جب پٹی کھولی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپکی قربانی قبول کر لی اور آپ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالی کو اپنے رسول کلیم اللہ کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک جو شخص حج کے لیے جائے گا وہ اس سنت کو ادا کرے گا۔

    ‏@warrior1pak

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔