Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا کہ ایسی ریاست جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ آسانی سے ممکن ہو

    کسی بھی ریاست کے قیام کے بنیادی ستونوں میں سے نظام عدل ایک اہم ستون ہے ہے کسی بھی معاشرے میں امن وامان کے قیام کی بڑی وجہ اس معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم ہونا ہے مگر افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک نہیں دو قوانین کی بالادستی ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ ۔

    یہاں اگر کوئی غریب چوری جیسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے تو اس کو لوگوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور پھر تھا نے کی ہوا الگ سے کھانا پڑتی ہے۔
    مگر ٹھہریے اگر آپ کا کوئی سیاستدان اس ملک کے خزانے لوٹتا نظر آئے گا یا کوئی با اثر شخص اس جرم کا مرتکب ہوتا نظر آئے گا تو اس کے ساتھ ہرگز برا سلوک نہ ہو گا بلکہ اس کے گلے میں ہار ہوں گے اور اس کے نعرے گونجتے نظر آئیں گے۔

    ایسا کیوں ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ وہ قانون جو کہ عدل ی بالادستی کے لئے تھا وہ امیروں کے گھروں کی باندی بن چکا ہے
    غریب کا بیٹا ہوائی فائرنگ جیسا جرم کرے گا تو جیل جائے گا مگر ایم این اے کا بیٹا یہی کام کرے گا تو قانون اندھا بن جائے گا۔

    قانون تو واقعی مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں پھنسنا غریب کو ہوتا ہے اور امیر کی مثال اس مکری کی ہے جو خود اس قانون کے جالے کو بنتا ہے۔

    یہاں انصاف بکتا ہے ،یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    یہ کیسا قانون ہے کہ کرپٹ کے تحفظ کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور غریب انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

    اگر کوئی بھی کسی بھی اس معاشر ے میں امن چاہتا ہے خوشخالی چاہتا ہے تو اس معاشرے میں نظام عدل کی بالادستی اور سب کے لیے فوری اور سستا انصاف ضروری ہے۔

    جب نظام عدل خستہ حال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ بھی خستہ حال ہو جاتا ہے

  • آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت
    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں 25 جولائی 2021 کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کو زور لگا رہے۔

    آزادکشمیر الیکشن کو کامیاب بنانے کیلئے وفاقی وزراء بھی PTI کے حق میں بھرپور مہم چلارہے ہیں جبکہ دوسری طرف مریم نواز بھی اس وقت آزاد کشمیر میں ہیں اور بلاول بٹھو زرداری بھی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

    ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں وہیں دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے آزادکشمیر میں گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلم کانفرنس، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں برسرِ اقتدار تھیں۔ آزادکشمیر کی عوام ان پرانے سیاستدانوں سے نالاں ہوچکی ہے۔ یہ سیاستدان ہر بار پارٹیاں اور انتخابی نشانات بدل کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں۔

    یہ سیاستدان ہماری بھولی بھالی کشمیری عوام کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے جھوٹے وعدوں کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ہماری سادہ لوح عوام ان سیاستدانوں کے وعدوں اور دعووں پر اعتبار کرلیتی ہے پھر بعد میں پانچ سال پچھتاتی رہتی ہے۔

    آج حالات بدل چکے ہیں۔ عوام کافی حد تک سمجھدار ہوچکی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگ اپنے سیاسی حقوق کو پہچانیں اور انفرادی مفاد کے بجائے علاقائی سطح پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

    آزادکشمیر کے علاقے ابھی تک پسماندہ ہیں۔ اسکول، ہسپتال اور سڑکیں تک موجود نہیں ہیں۔ کشمیری عوام سمجھ لے آپ کے منتخب سیاستدان ہر بار ووٹ لینے کے چکر میں آپ کو تعمیر و ترقی کے لالی پاپ دے جاتے ہیں۔

    آج الحمدالله ہماری نوجوان نسل باشعور ہوچکی ہے۔ نوجوان سمجھ چکے ہیں ان موسمی سیاستدانوں کا نہ کوئی مستقل نظریہ ہوتا ہے اور نہ کوئی وژن! ان سیاستدانوں کا نظریہ اقتدار کی سیاست اور انکا وژن کرپشن ہے۔ لہذا اس بار ووٹ صرف اسی امیدوار کو دیں جو عملی طور پر آپکے حلقے کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مخلص ہو. اس امیدوار کو ووٹ دیں جسکو عوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہو اور وہ امیدوار اچھے اور برے حالات میں عوام کے درمیان ہو۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تعلیم کیلئے اسکول اور کالجوں کی ضرورت ہے۔ صحت کیلئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں بہترین طبی عملے اور ادویات کی ضرورت ہے۔ آمد ورفت کیلئے پختہ سٹرکوں اور شاہرات کی ضرورت ہے۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تیز ترین 3G اور 4G سروس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 7 سال سے تھری جی اور فور جی سروس چل رہی ہے لیکن بدقسمتی آزادکشمیر میں ابھی تک ناکارہ 2G سروس چل رہی ہے۔

    آزادکشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے۔ میرٹ پر جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو آزادکشمیر ترقی کرے گا۔

    امید ہے اور دعا ہے جو سیاسی جماعت بھی آزادکشمیر برسراقتدار آئے وہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مخلص ہو۔ میری دلی دعا ہے الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو ایمانی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ اللہ پاک وطن عزیز پاکستان اور آزادکشمیر پر اپنا خصوصی کرم نازل فرمائے ۔

    پاکستان زندہ باد
    آزادکشمیر تابندہ باد

  • ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ
    ایک بادشاہ نے دو نایاب عقاب منگوائے.
    دیکھا کہ ان میں سے ایک عقاب شکار کرتا اور اڑتا تھا لیکن دوسرا ایک ٹہنی پر بیٹھا رہتا.
    بیسیوں حربے آزمائے لیکن وہ اُڑ کے نہ دیا,
    بادشاہ نے ایک ماہر شکاری کو بلوایا, اگلے دن سب نے دیکھا کہ وہی عقاب اڑانیں بھرتا پھررہا ہے.
    بادشاہ نے شکاری سے وجہ پوچھی تو شکاری نے جواب دیا کہ عقاب جس ٹہنی پر بیٹھتا تھا ,میں نے وہ ٹہنی کاٹ دی
    اسی طرح سرکس کے ہاتھی کو نازک سی رسی سے بندھا ہوا دیکھا ہوگا آپ نے,اس ہاتھی کو بچپن میں طاقتور رسی سے باندھا جاتا رہا جو وہ توڑ نہیں سکتا تھا, جس سے اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ رسی نہیں ٹوٹے گی.

    دراصل یہ عقاب اور ہاتھی دونوں کا کمفرٹ زون تھا
    لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ
    میں نہیں کرسکتا, مجھ سے نہیں ہوگا
    تو آسان سے آسان کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے .
    ہم نے جگہ جگہ اپنی سوچ اپنے عمل, پر بیریئر لگا رکھے ہیں , اجتہاد سے دور بھاگتے ہیں.
    ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی نازک سی ٹہنی پر بیٹھا ہے
    ہار جانے کا خوف,ناکامی کا ڈر ہمیں چیلنج قبول کرنے نہیں دیتا
    چیلنج نہ لینے سے ہم اپنی سوچ پر ناکا لگادیتے ہیں ,
    ہمارے اندر آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے,
    ہم ایک چھوٹے سے محدود سرکل میں آرام دہ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں,
    سہل پسند ہوجاتے ہیں.
    یہی وہ نقطۂِ عروج ہوتا ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.
    "تغیّر کو ہے ثبات زمانے میں”
    ایک تبدیلی ہی اس دنیا میں مستقل ہے,
    جامد و ساکت, متحرک و متغیّر کے رستے کی دُھول بن کر رہ جاتے ہیں .

    چیلنج لینا سیکھیں,
    ذہن منصوبہ بندی کا عادی ہوجائے گا,
    ذہن متحرک ہوا تو جسم اس سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو کرے گا.
    پھر روح میں جوش,ہمت ولولہ اور قیادت کی صفات جنم لیتی ہیں.
    انسانی تاریخ کھنگال لیں,
    آپ کو ہر کامیابی کے پیچھے کوئی سر پِھرا, کوئی انوکھا, کوئی بہادر مُہم جُو نظر آئے گا
    ہر بڑی ایجاد کے پیچھے کوئی جدت پسند اور رسک لینے والی سوچ نظر آئے گی .
    تاریخ بڑی بے رحم ہے, اس میں کم ہمتی, ذہنی غلامی اور سخت و جامد رویوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.
    ذرا کمفرٹ زون کی ٹہنی سے اُڑ کر تو دیکھیں, کتنے اُفق آپکی پرواز سے تسخیر ہونے کے منتظر ہیں ؟
    ذرا پاؤں کی زنجیر توڑیں تو سہی, کتنی دنیائیں, کتنے رستے آپکا نقشِ پا بننے کے لئے تیار ہیں ؟

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

  • افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    ۔ افغانستان جو پاکستان کاپڑوسی ملک ہے زیادہ تر اس کا وقت جنگ لڑتے ہوئے ہی گزرا ہے اس سے پہلے کافی طاقتیں آئیں پھر روس آیا اس وقت امریکہ ایک بین الاقوامی طاقت بن رہا تھا اسے روس کی اجارہ داری پسند نہ تھی اس نے افغانستان پرحملہ کیا اور روس سویت یونین کو وہاں قابض نہ ہونے دیا بلا آخر روس ١٩٨٩، ١٩٩٠ میں سوویت یونین جسے یو ایس ایس آر کہا جاتا تھا ٹُوٹا اور اس کے ٹُکڑے ہوئے اور روس اپنی طاقت کھو بیٹھا پھر امریکہ دوبارہ کچھ سال کے بعد حملہ آور ہؤا اور نام نہاد دہشت گردی کا واقعے ١١/٠٩/٢٠٠١کی بنا پر افغانستان پر حملہ کیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اب ٢٠ سال بعد ٢٠٢١ میں حالات بدلے اور امریکہ کو بھی یہ احساس ہؤا کہ اب وہ مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر ٢٠٢١ تک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہوجائےگا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور پڑ رہے ہیں مگر وزیراعظم سول اور ملٹری لیڈر شپ کی بہترین حکمت عملی کام دکھا رہی ہے
    اب آتے ہیں پاکستان کی اہمیت کی طرف ماضی میں جو بھی حکومت رہی اس نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھا نا کہ پاکستان کا زیادہ ماضی میں جائے بغیر اب روشنی ڈالتے ہیں حالیہ سیچوایشن پر اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں موجود ہے پچھلے کچھ دنوں امریکہ نے پاکستان پر ماضی کی طرح مرضی کی شرائط لاگو کرنا چاہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہر وہ شرط رد کر دی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی یہاں تک کہ امریکی عہدے داران جو وزیر اعظم کے عہدے سے نچلے عہدے کا آفیشل تھا سے بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ کو مجھ سے بات کرنی ہےتو وہاں کا صدر بات کرے میں وزیر اعظم ہوں پروٹو کول کا خیال رکھا جائےپچھلے دنوں امریکی سیکرٹری بلنکن کا پاکستانی وزیر خارجہ کو فون آیا جس میں دو طرفہ امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی امریکی ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں زیادہ اگر نہیں بھی ہوئیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہو چکا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کسی بھی حالت میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو ریاست پاکستان کے خلاف ہوگا ورنہ اس سے پہلے جب گیارہ ستمبر کو دہشت گردی کا واقعہ ہؤا تو امریکہ نے پاکستان پر ایک فون کر کے یہ پریشر ڈالا کہ

    Are you with us or against us ?

    مطلب کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف یہ بڑا عجیب سا سوال تھا بلکل ایسے جیسے دھمکی ہو یا دھونس مگر آج بہت فرق ہے اب امریکہ کے فون آرہے ہیں تو وہ زرا بہتر انداز میں بات کرتا ہے ایک اور جگہ جب وزیر اعظم سے امریکی چینل نے انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کو اپنےاڈے دیں گے تو اس پر وزیر اعظم نے واضح کہا کہ

    Absolutely Not

    یعنی ہرگز نہیں بلکل نہیں پاکستان کی سر زمین سے افغانستان پر کسی قسم کا کوئی بھی حملہ نہیں ہوگا

    اب آپ فرق دیکھ لیں کہ پاکستان نے اپنی اہمیت خود دکھائی ہے اور یہ ممکن تب ہی ہوتا ہےجب آپ کے پاس ایک مضبوط لیڈرشپ ہواور آپ خود اپنی اہمیت دکھائیں افغانستان امن عمل کے پروسیس میں جتنا اہم کردار پاکستان کا ہےکسی اور کا نہیں یہاں تک کہ افغان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کے لئے پاکستان ہی نےکوششیں کیں ہیں بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اسے سیاسی رنگ دے رہی تھیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تمام سیاسی پارٹیوں کو قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ سیشن میں افغانستان امن عمل کے پروسیس پر بریف کیا اور کہا کہ یہ ریاست پاکستان کامسئلہ ہے دنیائے نقشے پر اس وقت پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے امریکہ جیسی سُپرپاور بھی آج پاکستان کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے وزیر اعظم نے یہ بھی صاف کہا کہ

    “We Will Be Your Friend, Not Your Slave’

    یعنی ہم آپ کے دوست بنیں گے لیکن آپ کے غلام نہیں

    یادرکھیں ہمیشہ کے قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک لیڈر شپ مضبوط اسٹینڈ لیتی ہے آپ کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کاحامی و ناصر ہو آمین

  • ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    اس دنیا میں رہنے والے انسان کس نے کسی جدوجہد میں مصروف ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول بہتر سے بہترین ہو اس کو ہر سہولت ملے جس کا وہ خواہش مند ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انسانی جسم مشینوں کی طرح کام میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ تبدیلی ہے وہ مثبت تبدیلی جو کہ انسن کو اس معاشرے میں ہر وہ حقوق مہیا کرے جس کا وہ خواہشمند ہے۔
    مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے مرتبے کی شان بڑھانے میں اس قدر مگن ہے کہ وہ روایات بھلا چکے جو ہمیں اپنے اباؤ اجداد سےملیں۔
    بے شک اس دنیا میں محنت کرنے والا انسان کامیاب ہے محنت سے کسی چیز کے حصول کے لیے وقت درکار ہے مگر ہم تو اس قدر جلد باذ ہیں کہ ہمیں جو چیز پسند آ جائے ہم اس کا فوری طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہے کسی کے حقوق کا گلا گھونٹنا پرے یا کرپشن کرنی پڑے۔
    کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب ہم خود دوسروں کے حقوق کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب اس ملک کی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس سے ہماری اخلاقی اقدار شرمندہ ہیں۔
    اس وطن کے حالات ویسے کے ویسے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں کیا ہم خود کرپٹ نہیں ہیں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے تقدس کو بھلا بیٹھے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس مہینے کے پیش نظر تمام اشیاء خردنوش سستی ہوتی ہیں اور یہاں حاجی صاحب دوگنا منافع کما رہے ہیں ۔
    اور پھر ہم بات کرتے ہیں باہر کے ممالک کی کہ وہاں
    میں سہولیات بہترین ہہں ہمارے وطن میں کیوں نہیں؟؟ تو یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے وہ غیر مسلم ہو کر بھی کرپشن ،چوری دھوکہ دہی کو جرم سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان ہو کر بھی یہ سب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔

    اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ریاست مدینہ ملے تو کہاں سے ملے گی وہ ریاست جب ہم اس ریاست کے ایک بھی اصول کو اپنانے کو تیار نہیں۔

    سوچئے اور غور سے سوچئے سیاستدانوں کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ وہ پل بھر میں سب تبدیل کر دیں گے اصل تبدیلی تو انفرادی طور پر ہر شخص نے لانی ہے اپنے رویے سے اپنے مظاہرے سے۔

    تبدیلی کوئی پھل نہیں جس کو درخت سے توڑا اور کھا لیا تبدیلی کا مطلب اپنے رویوں کو مثبت راستے کی طرف گامزن کرنا ہے تاکہ کسی کی ذات کو نقصان نہ ہو اور یہ معاشرہ پر امن معاشرہ بن سکے

  • اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    آئے روز ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سنتے ہیں ۔ پھول جیسے جسموں کو کیسے مسل کر پھر موت کے گھاٹ دیا جاتا ہے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ آیا ایسا کرنے والے انسان بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہوتے یا وہ دل نہیں رکھتے جو ایسا گھناؤنا کام کرتے ہیں

    لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسا کرنے والے بھی ہم ، آپ میں سے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریبی یا دور کے رشتہ دار جن پر ہم اندھا یقین کر کے اپنے بچوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اور وہ انہی بچوں کے ساتھ تنہائی میں اپنی حوس کی تسکین کرتے ہیں

    عام طور پر بچوں کے ساتھ ایسا کرنے والے قریبی تعلقات والے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ۔

    سو میں سے اسی فیصد ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہونے ہونے والی ظلم و تشدد کی روداد کسی کو نہیں بتاتے کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ انکی بات سنی نہیں جائے گی اگر سنی بھی گئی تو انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا اس لیے وہ خاموشی سے جنسی تشدد برداشت کرتے رہتے ہیں جو کہ ایسا کرنے والوں کو اور دلیر بنا دیتا ہے اور ایسی درندگی کرنے والے بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں

    اور باقی کے بیس فیصد بچے اگر اپنے والدین یا کسی اقارب کو اس بارے میں آگاہ بھی کریں تو یا تو انکی آواز کو بدنامی کے ڈر سے دبا دیا جاتا ہے یا پھر انکی بات پر یقین نہیں کیا جاتا ۔ اور ایسا خصوصاََ بچیوں کے معاملات میں ہوتا ہے

    میں نے خود ایسی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتے دیکھی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے گھر بتایا تو الٹا اسے ہی قصوروار سمجھ کر برابھلا کہا گیا کیونکہ اس نے ایسے شخص کا نام کیا تھا جو کہ خاندان میں بہت معزز اور پانچ ٹائم کا نمازی تھا

    میری آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ انہیں بتائیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کرے جو وہ دوسروں سے چھپا کر کرے یا چھپانے کا کہے تو اسے فوراً گھر والوں کو بتائیں ۔ اگر آپ کے چھوٹے بہن بھائی ہیں تو انہیں خود سمجھائیں ۔ اور ان سے ایسے تعلقات ضرور بنا کے رکھیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجک آپ کو آکر بتا سکیں

    بچوں کو اپنے سگے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اکیلے مت چھوڑیں ۔ حالات اتنے بھیانک ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتوں کا تقدس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی پر بھی اندھا یقین نا کریں

    اور ڈرائیور ، ٹیچر ، چوکیدار کسی کے ساتھ بھی بچوں کو ہرگز اکیلا مت چھوڑیں ۔ جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے کس مائنڈ سیٹ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور پھر انکے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تصور ہی خوفناک ہے

    دعا ہے اللہ سب کے بچوں کو ایسی درندگی سے محفوظ رکھیں اور انکی معصومیت کو برقرار رکھیں آمین

  • پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی باہوش انسان انکار نہیں کر سکتاخصوصاً آج کے جدید تیز رفتار معاشرے میں اس حقیقت کو انکار تو دور کی بات نظر اندازتک نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوال یہ ہے کہ کس حد تک پیسہ زندگی کیلئے ضروری ہے ۔

    ہمارے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر کوئی پروگرام خوبصورت چہروں، بڑے گھر، بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک شاندار لوکیشنز کے بغیرنہ تو بنایا جاتا ہے نہ دکھایا جاتا ہے ۔

    ان چیزوں کا اثر ہمارے معاشرے کے اَپر اور مڈل کلاس طبقہ پر بہت منفی ہوتا ہے اور وہاں پیسہ کماؤ اور پیسہ دکھاؤ کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

    پاکستان میں جائز نا جائز طریقے سے پیسہ کمانے کے ساتھ بیرون ممالک جانے کے لیے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے وہ الگ کہانی اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

    یورپ میں بسنے والے لوگ آجکل جاب لیس کے بعد خود اپنے خرچے اٹھانے سے محروم ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے دس بارہ افراد پر مشتعمل کُنبہ بھی انکی طرف نگاہ لگائے ہوئے ہوتا ہے

    گھرکے افراد کی بے جا خواہشات اور ان خواہشات کے حصول کیلئے
    میں نے یہاں بھی لوگوں کو مشین بنتے دیکھا اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے مگر ان سب کا اک ہی دکھ سب سے بھاری ہوتا ہے کہ جب پیسے کے مقابلے میں انکی ذاتی خوشی اور خواہش کی اپنوں کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوتی

    ہزاروں داستانیں ہیں ــــــــ سب کے پاس ہونگی ـــــــــ

    اک فیملی ہے پہلے امریکہ اب 15 سال سے یہاں مقیم ہے
    اپنی یہاں فیملی کے 5 افراد کا اکلوتا کفیل اور پاکستان میں سارے خاندان کی مشین ہے

    شادی شدہ بہن بھائیوں ، انکی اولادوں کے بھی خرچے اسکے ذمہ ہیں
    کسی بھتیجے کو باہر بھیجنا ہو ـــــــ کسی بھانجے کو کاروبار بنا دینا ہو اسی کے ذمہ ہے اس نے سب کیا

    جائیداد بنائی ــــــــــ گھر بنایا ــــــ سب بھائیوں کے حوالے سب سانجھا
    اک بہن میکے بیٹھی تھی اسکے بچوں کو سالوں پالا جب بچے بڑے ہوئے انکے باپ کو بچوں کی یاد آئی لے واپس لے گیا

    دوسری بہن کے میاں کو یہ طریقہ بڑا مناسب لگا اپنی بیوی بچوں کو نکال دیا جاو بھائی پالیں گے
    باقی بھائی کیا انھی صاحب پر وہ بھی آ پڑے
    وہ بندا سب خوشی غمی سے بہت سکون اور حوصلے سے سب کو پال رہا ہے مگر ـــــــــــ

    دس سال ہوگے پاکستان نہیں گے ـــــــ جب بھی جانے کا نام لیں پاکستان سے فون اجاتے ہیں فلاں مجبوری ہے پیسے چاہیے
    آپ ائیں گے تو کہاں ٹھہریں گے ـــــــ گھر چھوٹا ہے پہلے ساتھ والا احاطہ بھی تعمیرکرتے ہیں پھر شوق سے ملنے آنا پھر اچھے سے بندا مل بیٹھتا ہے

    دل میں رو کر پھر بیٹھ گیا ــــــــــــــــــ بیوی بچے بچارے جانا چاہتے ہیں پچھلے سال انکو چھٹیوں میں امریکہ لے گیا کہ چلو یہاں ہی گھوم پھر لیتے ہیں

    پھر دل پر پتھر رکھا ــــــــ اور سوچنے لگے کہ جائیں گے تو پاکستان اک بار دو ماہ ملکر واپس اجائیں گے

    مارچ بریک میں تیاری ہے ۔۔ کل پوچھنے لگے ـــــــــ کوئی مکان کرائے پر مل سکتا ہے ہمیں دو تین ماہ کے لیے چاہیے
    اس بار جو بھی ہوا میں اپنا الگ سے گھر کیسے بھی ہوا خرید کر آوں گا مگر دو ماہ کے لیے مجھے کوئی ٹھکانہ چاہیے

    ـــــــــــــ

    یہ وہ رشتے جو خون جگر پی جاتے ہیں مگر خون میں ابال تک نہیں آتا
    لعنت ہے ایسے رشتوں پر اور ایسے سفید خون پر جو اپنوں کے خون پر پلتے ہیں اور جیببوں پر نظر رکھتے ہیں ان سے تو بندا تنہا اکیلا ہی ٹھیک ہے کم ازکم یوز ہونے کا غم تو نا ہو !!

  • ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے
    ہر گلی ، ہر نگر
    کھو گیا ہے مرا
    وہ فقیرِ شہر

    جِس کی باتوں میں تھی
    کس قدر سادگی
    اُس نے اُمید کی
    ہم کو دی روشنی

    بے کسوں کے لئے
    آسرا تھا وہی
    بے گھروں کا فقط
    آشیاں تھا وہی

    جس کا جھولا بنا
    زندگی کا سبب
    آدمی تھا عجب
    جانتے ہیں یہ سب

    وہ فرشتہ نُما
    گر نہیں ہے تو کیا
    چھوڑ کر ہے گیا
    ایک جلتا دیا

    آو ہم بھی کوئی
    کام ایسا کریں
    نام ایدھی کا سب
    مل کے روشن کریں

    ڈھونڈنا کیا اُسے
    ہر گلی ہر نگر
    کر چکا ہے مری
    دل کی بستی میں گھر

    وہ فقیرِ شہر
    وہ فقیرِ شہر

    ثروت نجمی

  • ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔ میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کالم لکھو چلو لکھ لکھ کہ تمھاری سوچ وسیع ہو گی لکھنا ائے گا غلطیاں درست ہوتی جائیں گی ۔۔۔ میں نے سوچا مشورہ اچھا ہے لوگوں کا فورا رسپونس بھی ا جائے گا۔۔۔
    خیر پچھلے 4 مہینے سے لکھ رہا ہوں مگر مجھے بے حد حیرت ہوتی ہے جب میں نے وہاں موجود دوسرے رائٹرز کو تھوڑا بہت پڑھنا شروع کیا ۔۔۔ان کہ لائکس دیکھ کہ کمنٹس دیکھ کہ مجھے لگا کچھ تو بات ہے کہ لوگ ادھر جا رہے مجھے دیکھنا چاہیے ۔۔۔
    مگر مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہمارے ادب کا معیار کس کدھر گرنے لگا ہے جس مار پیٹ کو ہم ڈومیسٹک وائلنس کا نام دیتے ہیں وہاں وہ رومانس کہ پانی میں بھگو کہ لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے لوگ بڑی رغبت سے کھا رہے ہیں ۔۔ہیرو شادی کی پہلی رات سے لے کر کوئی آدھے ناول تک ظلم کرتا ہے مار پیٹ ۔۔۔ بے اعتباری ۔۔۔نظر زبردستی سب کچھ پھر جانے اسے کیسے محبت ہو جاتی ہے اور ہیروئین ۔۔۔واہ اللہ ہی حافظ ان کا جو اتنی مار کھا کہ بھی ڈھیٹ بن کہ ہیرو کو چاہتی ہیں ۔۔واہ

    یہی لڑکیاں جب شادی کر کہ جاتی ہیں تو وہی تھپڑ انکو جسم پہ نہی روح پہ لگتے ہیں محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے انکا شوہر ہیرو نہی ولن لگتا ہے ۔۔
    بے شک فلم ڈرامہ یا ناول larger then life کہ معاولے پہ بنتے ہیں مگر کچھ تو ادب کا لحاظ کیجیئے ۔۔۔ چلو ایک آدھ ناول سہی مگر ہر ناول ہر ناول سستے چھیچھورے رومانس کہ سوا کچھ نہی ۔۔۔

    ہمارا لکھا ہر لفظ پڑھنے والوں کہ دلوں پہ اثر کرتا ہے اگر آپ رومانس کہ نام پہ ولگیرٹی لکھیں گے تو آپ کو اسکا حساب دینا ہو گا اگلے جہاں میں ۔۔۔ کیونکہ آپ چاہیں تو کرداروں کو کپڑے پہنا سکتے ہیں سب آپ کہ ہاتھ میں ہے ۔۔وہ سب لکھنے بے مقصد ہے جو جذبات کو مشتعل کر دے وہ لکھنے کی ضرورت ہے جو جذبات کو قابو رکھنا سکیکھائے ۔۔۔اگر اپ کا لکھا کوئی پڑھ کہ غلط قدم اٹھائے تو آپ اس کہ ذمے دار ہیں لیکن آپ کا لکھا کوئی پڑھ کر غلطی سے رک جائے تو بھی اپ کو اجر ملے گا ۔۔اپ وہ لکھیں جو اپ باپ بھائی ماں بہن بیٹی کہ سامنے رکھ سکیں کہ پڑھو ۔۔
    ادب لکھنے کی کوشش کریں ۔۔میں بھی کوشش کرتا ہوں اور ایک دن کامیاب ہو جاوں گا ادب لکھنے میں

    محمّد اسحاق بیگ

  • بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے حالات ناقابل یقین مراحل میں ہیں. اس کی بنیادی وجہ ہم سب جانتے ہیں ایک تو ہمارے سیاست دان ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور دوسرا بحیثیت قوم ہماری تربیت نا ہو سکی.
    قومیں کس طرح ترقی کرتی ہیں یہ شعور آنا بہت ضروری ہے.
    ہر کوئی صرف خود کو بنانے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے.
    رشوت خوری، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کر کہ مہنگائی کو پروان چڑھانا سنگین جرائم ہیں بد قسمتی سے حکومتیں ان جرائم پر قابو نا پا سکیں.

    ہمارا ملک ہمارے گھر کی مانند ہے اور ہمارے ملک کی عوام گھر کے افراد کی مانند ہیں. جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ دینے کی کوشش کریں گے تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا.

    جس طرح اپنے گھر کو بنانے کے لیے محنت کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا.
    ملک کی ترقی کا دارومدار ملک کی آمدنی پر ہے.
    سرمایہ دار لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں.
    سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیں نا کہ باہر کے ممالک میں.
    پاکستان میں کاروبار سے لوگوں کو روزگار ملے گا غربت کا خاتمہ ہو گا. ملک کی آمدنی بڑھے گی.

    ہر شعبے کے افراد کو چاہیے کہ پاکستان کی ترقی میں انفرادی طور پر اپنا حصہ ضرور شامل کریں.
    ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے سرکاری ملازمین غریب شہریوں سے رشوت وصول کر رہے ہیں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع لے رہے ہیں، وکلاء کی بہت بڑی تعداد بھی عام آدمی کو انصاف فراہم نہیں کر پا رہی.

    ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
    ہمارا تعلق جس بھی شعبے سے ہو مثلاً ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، دکاندار، فیکٹری مالک اور باقی تمام شعبے،
    پولیس شہریوں کی مدد کرے نا کہ رشوت لے، ڈاکٹرز غریب لوگوں کا علاج کچھ کم پیسوں میں کر دیں، وکلاء عام آدمی کے لئے انصاف کی فراہمی کی کوشش کریں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع نا لیں لوگوں کو مناسب دام میں اشیاء فروخت کریں ، فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں.

    ہر ایک طبقے کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنے ملک کی عوام کو سکون اور راحت پہنچائے تاکہ عام آدمی بھی اپنی زندگی بدلنے کی طرف جا سکے.

    ہمیں غریب عوام کا بہت زیادہ احساس کرنا ہو گا. غریب لوگوں کو عزت والی زندگی میسر آنی چاہیے جو بیچارے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت پریشان، کوئی بیماری آ جائے تو پریشان اور کوئی معمولی سی پریشانی بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے.

    عام آدمی کو اٹھنے کا موقع ملے گا تو ملک ترقی کرے گا اس طرح کے نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب غریب تر.