Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏عشق مجازی اور انسانی درندے  .تحریر: محمد صابر مسعود

    ‏عشق مجازی اور انسانی درندے .تحریر: محمد صابر مسعود

    سوشانت اپنی حوس کی وجہ سے پاگل ہوچکا تھا قریب تھا کہ وہ بیہوش ہو جاتا اس نے دن کے تین بجے اپنی گرل فرینڈ (پریتی) کو کال کی، پریتی اکل و شرب سے فراغت کے بعد محو خواب ہو چکی تھی اسی اثناء میں موبائل کی رنگ بجی اور ڈرتے ہوئے موبائل کی جانب قدم رنجاں ہوئی ابھی تو ڈر کی وجہ سے کلیجہ منھ کو آ رہا تھا لیکن موبائل اسکرین پر نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نا رہی (کیونکہ یہ کال پریتی کے لئے کسی عام شخص کی نہیں تھی بلکہ یہ اسکے دل کا ٹکڑا تھا) اور اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے فون اٹھایا، دوسری جانب سے حوس سے بھری آواز آئی (جسے یہ نادان لڑکی محبت کی انتہا سمجھ رہی تھی) جانی! لو یو ناں یار، کیا کر رہی ہو؟ اور ہاں کہاں ہو؟ یار تمھارے بغیر دل نہیں لگ رہا، تم سے ملنے کے لئے دل پرکٹے پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسلئے پلیز گھر آجاؤ یار۔ پریتی فرط محبت میں کچھ یوں گویا ہوئی۔ ٹو یو سو مچ میری جان، یار میں گھر پے ہوں، تھک کر سوگئ تھی لیکن تمھاری کال دیکھ کر نیندیں بالکل غبارے کی طرح اڑ گئ۔ اور ہاں تم سے ملنے کے لئے میں بھی بیقرار تھی لیکن دروازے سے گیٹ کیپر کی موجودگی میں کیسے آؤں؟ کیونکہ معلوم ہونے کی صورت میں والدین گھر سے باہر نکال دینگے۔
    سوشانت! ارے یار میں ہوں ناں، اگر انہوں نے معلوم ہونے کی صورت میں تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کر بھی دیا تو میں تمھیں شہزادیوں کی طرح رکھونگا، ہر چیز کا خیال رکھونگا۔
    پریتی کا یہ سننا تھا کہ وہ چیخ کر بولی” آئی لو یو میری جان (کیونکہ ایک لڑکی کو پیار و محبت اور کئیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے) کہا کہ میں تمھاری بانہوں میں کچھ وقت بتانے کے لئے آ رہی ہوں، ایک بیگ لیکر گیٹ کیپر سے چھپ چھاتے ہوئے سوشانت کی اور نکل پڑی جسمیں موبائل و پیسے موجود تھے۔ ایک آٹو والے کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ بھیا ھدھد پور چلو گے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ جی ہاں، کیوں نہیں
    پریتی اپنی بڑی بڑی آنکھوں، بڑے بڑے بالوں، رخساروں و ہونٹوں پر میک اپ اور عمدہ قد و قامت کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہی تھی تا آنکہ وہ سوشانت کے ایک بڑے سے مکان کے پاس جا پہنچی اور پر کشش آواز میں ندا لگائی۔ جانی! آپ کی جان آ چکی ہے دروازہ کھولو۔۔

    سوشانت جسکا رنگ سانولا، گھنگریالے بال اور لمبے تڑنگے قد کا مالک تھا، نشے سے دھت، دروازہ کھولا اور پریتی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا، کچھ کھاؤ گی؟ پریتی نے انکار کرتے ہوئے کہا سوشانت بس مجھے تمھارا ساتھ چاہئے یہی میرے لئے سب کچھ ہے، سوشانت نے سگریٹ جلا کر ایک زور دار کش لگائی، دروازے پر کنڈی لگاتے ہوئے حوس بھری نگاہوں سے پریتی کی طرف بڑھا، برہنہ کرکے بانہوں میں لیکر اسے بیڈ پر ڈال دیا اور پریتی سوشانت کی محبت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ایک سرینڈر کرنے والے فوجی کی طرح پیروں کو دراز کرتے ہوئے لیٹ گئی، سوشانت نے پاس پڑے موبائل کا کیمرہ چالو کرکے پریتی کی طرف کردیا، پریتی کیمرہ دیکھ کر ہکی بکی رہ گئ کیونکہ کبھی اس نے کسی سے اپنی تصویر تک کلک نہیں کرائی تھی اور آج اسکی سیکسی ویڈیو بنائی جا رہی تھی اسلئے اس نے بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا جانو پلیز کیمرہ بند کردو نا ۔ سوشانت نے کہا نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا ”
    میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا کیونکہ اکیلے میں مجھے تمھاری بہت یاد آتی ہے۔ نہیں پلیزززز ” ہاتھ ہٹاؤ نا جان ”
    ” نہیں ” سوشانت نے بڑے ہی مان کے انداز میں کہا: اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو
    ” اپنی قسمیں مت دیا کرو مجھے بہت برا لگتا ہے”
    قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا
    "بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو خود کو تمھارے حوالے کردیا ہے ”
    ” تو پھر بنانے دو نا "!
    ” تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو ” !! لو یو ”
    بہت محبت کرتی ہوں تم سے، میرا مان مت توڑنا اور ہاں چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں ”
    "سوشانت نے پھیکے سے لہجے میں کہا ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو ”
    کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔
    ” وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی ”
    مگر جب اسکی آنکھ کُھلی تو وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی ” ..
    پھر کیا ہوا لڑکا سرعام دندناتا پھر رہا ہے …
    اس لڑکی کا کیا بنا … والدین اور شہر والوں کی نظر میں وہ طائفہ بن چکی تھی، یہ درد سہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک اسکی بہت عزت تھی، ٹینشن میں بہت بڑی بیماری کا شکار بن چکی تھی بالآخر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لوٹ گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو کسی کے بھی سامنے لائے بغیر والدین راکھ کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی ۔۔

    نتیجہ ! نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے درخواست کرتا ہوں ایسا ہر گز نا کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں جو آپ کو محبت کے نام پر کھلونا بنا کر استعمال کرتے ہیں، جب آپ سے من بھر جاتا ہے تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک کر راستہ الگ کرلیتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ سب کی نظر میں نہیں تو کم از کم اپنی نظر میں طائفہ بن چکی ہوتی ہو اور وہ بیغرت کھلے سانڈ کی طرح کسی دوسری کی تلاش میں ہوتا ہے یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں، بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اسلئے اپنی، والدین کی اور رشتہ داروں کی عزت کا خود خیال کریں

    تحریر ہر بہن تک پہنچا دیں تاکہ کوئی بھی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔

  • معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ ہم سب مل کر بناتے ہیں یعنی اس میں رہنے والے تمام افراد اور عناصر مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں
    معاشرے کی اچھائی اور برائی کو دیکھنا ہم پہ لاگو ہے معاشرے کا خیال رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے معاشرے میں اچھے برے دونوں لوگ بستے ہیں
    معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے ہم پر لازم ہے کے ہم برائی کی روک تھام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور سب سے اہم ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ان کی روز مرہ زندگی پہ نظر رکھنی چاہیے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق بتانا لازمی ہے اگر ہم اپنے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق نہیں بتائیں گے تم بچوں کو ہم اچھا اور زمہ دار شہری نہیں بنا سکتے.
    ہمارے معاشرے میں اجکل سگریٹ-نوشی جیسی بُری لعنت بہت عام ہو چکی ہے
    کیونکہ ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی کے ہمارے بچے کس ماحول میں کھیلتے ہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے؟

    سگریٹ-نوشی ایک ایسی بری لعنت ہے جس کے ساتھ بچے منشیات بھی لینا شروع کر دیتے ہیں اور گویا یوں ہمارا معاشرہ برائی کی لپیٹ میں اجاتا ہے

    معاشرے کو اچھا بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے ہم سب کو مل کر معاشرے کو اچھا بنانے میں سامنے آہ کر اہم کردار ادا کرنا چاہیے
    اجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں کیا کبھی ہم نے ان کی روک تھام کے لیے کچھ سوچا؟
    نہیں کبھی نہیں ہم اس برائی کی زمہ داری یا تو لوگوں ہر یا معاشرے پہ ڈال دیتے ہیں یا پھر ہم اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے یہ سوچ سراسر غلط ہے کیونکہ کے اگر ہم اج اس کو نظرانداز کریں گے تو کل کو ہمیں ہی اس برائی کا سامنہ کرنا پڑے گا
    تو اس وقت ہم اپنے کل کو پچھتائیں گے لیکن اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا کیونکہ
    ایک مشہور کہاوت ہے کے

    (اب کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئی کھیت)

    وقت گزر چکا ہوگا اس لیے ہمیں اپنے آنے والی نسل کے کل کو سنوارنے کے لیے اس آج کو بہترین بنانا بہت ضروری ہے
    اگر ہم اپنے آج کو بہتر بنانے کیلئے اگے ہونگے تو کل کو ہماری انے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کی ضرورت معاشرے کے ہر فردوواحد کو ہے
    معاشرے کو اچھا بنانا کسی ایک گھر کے افراد یا کسی ایک خاندان کی زمہ داری نہیں ہے بلکہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کی زمہ داری ہے

    اس برائی کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج سوچنا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے ایک بہترین ماحول ملے جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا انتہائی ضروری ہے

  • ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    معاشرے میں ہم کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ نہیں سکتے جبکہ انسانیت کا کام دوسروں کی مدد ہے
    ہم اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنی چاہیے اور دوسروں کی کامیابی میں خوش ہونا چاہیے نا کہ کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد کرنا چاہیے
    دوسروں کی خوشی میں ہونے سے یقیناََ اللہ ہمیں بھی خوشی سے نوازتا ہے۔

    دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کی دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی، مطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا
    تماشائی اس سپورٹس مین سپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ھار کے بھی ھیرو بن چکا تھا

    ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئیے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے”
    صحافی نے پھرپوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا”
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
    صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے”
    فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
    ” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟”
    اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاھئیے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔

    ہم اپنے بچوں کو یہ لازمی سکھائیں کہ کامیاب ضرور بنیں کسی کو گرا کر نہیں بلکہ اپنی قابلیت پر اپنی ہمت پر اگر ہم کسی کو گرا کر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک ظلم کی شکل ہے ہم دنیا میں تو کامیاب ہو سکتے لیکن آخرت میں اپنے اعمال کا اللہ پاک کے سامنے جوابدہ ہیں
    اور یہ کیسے ممکن ہے کسی کا حق تلافی کریں ہم سے اُس کے بارے میں پوچھا نہ جائیے۔

    ہمیں تو حکم دیا گیا ہے راستے میں کانٹا پڑا ہو تو اس کو ہٹا کر لوگوں کو تکلیف سے بچانا چاہیے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
    ہم لوگ صرف محض چند دنیاوی مفاد کے لئے لوگوں کی زندگی تباہ کر دیتے. اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں
    ہم آنے والی نسلوں کو کیا سیکھا رہے ہیں؟
    کیا ہماری سمت درست ہے؟

  • گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

    جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
    اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو

  • ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا مقصد جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا وہی اس کے پیچھےایک نظریہ بھی تھا۔ کہ اگر ہم بات کریں دو قومی نظریہ کی تو اس سے مراد یہی تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو مذہبی ثقافتی لحاظ سے مختلف عقائد رکھتے ہیں اور ان کی رقم رسومات منانے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برصغیر سے پاکستان اور ہندوستان کے علیحدگی کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔
    پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی کی دیوار نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ یہ دو نظریہ کی بنیاد پر ہے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایسی ریاست ہو جہاں اسلامی قوانین کا بآسانی نفاز ممکن ہو جہاں کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا وہی یہاں کے بسنے والے لوگ اپنی تہذیب وثقافت کو بھلا بیٹھے ۔
    اگر بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو ہوا یوں کے یہاں کے لوگ اپنی ثقافت بھلا بیٹھے اور دوسری ثقافت سے متاثر ہے اور جس ثقافت سے متاثر ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    یہاں کے لوگوں سے اگر من پسند ہیرو کا پوچھیں تو سرحد پار کے لوگوں کا نام سامنے آئے گا تو کیا ہم سرحد پار کی تہذیب میں اتنی دلچسپی لینے لگے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بھلا بیٹھے ہیں۔
    بھلا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
    ثریا نے آسماں سے زمین پر ہم کو دے مارا

    یہ کیسی تہذیب ہے جس میں لڑکی کی سر پر دوبٹہ نہ لینے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے کیا یہ ہمارے دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی ۔
    یہ تو ماڈرن زمانے میں نہیں بلکہ جہالت کے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں اسلام نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصرہیں۔
    اگر ہم نے دوسروں کی تہذیبوں سے متاثر ہونا تھا تو کہ الگ وطن حاصل کرنے کا کیا مقصد تھا؟؟ اور اگر بات کریں عورت کے لباس کی تو شرم و حیا نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اگر کوئی اس معاملے پر بات کرے تو اس کی بات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اس معاملے پر بات کی تو سب نے ان کی باتوں کا مذاق بنانا شروع کر دیا ۔
    خدارا سوچیے اس وطن کو الگ ریاست بنانے کا مقصد اور اس نظریے کو جو ہمارا نظریہ ہے

  • "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    یہ واقعہ ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار کا ہے اس میں کچھ شخصیات کے فرضی نام بوجہ لکھوں گا۔ تاکہ کسی کی بھی تحقیر نہ ہو۔
    ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک شخصیت (فرضی نام بابر خان) نے گولڑہ شریف میں وہاں کی مقامی مذہبی شخصیت کے ساتھ بھی بڑا تنازعہ بناۓ رکھا۔ بعد ازاں ایک دلچسپ واقعے کا اہم ملزم بھی تھا۔ اس دور میں راولپنڈی صدر میں ایک تکہ شاپ تھی جہاں امیر ترین شخصیات کھانا کھانے جاتی تھیں۔ ایک دن اس تکہ شاپ کا مالک شاپ کو بند کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو خیابان سر سید کے علاقے میں ویران سڑک پر ایک انتہائی خوبرو لڑکی کو کھڑا پایا۔ جو بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی گاڑی کو دیکھتے ہی اس نے گاڑی سے لفٹ لینے کے لیے اشارہ کیا۔ شاپ کے مالک نے گاڑی روکی تو لڑکی نے بتایا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ اور وہ بہت پریشان ہے۔ سو شاپ کے مالک نے اس لڑکی کو بٹھا لیا۔ راستے میں گپ شپ کے دوران معلوم ہوا کہ موصوفہ شوبز کا حصہ ہیں۔ جب لڑکی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو شاپ مالک کو انتہائی محبت سے کافی پینے کی دعوت دی جسے شاپ مالک نے قبول کر لیا۔گھر کے اندر پہنچنے کے بعد لڑکی نے مخصوص حرکات و سکنات شروع کر دیں۔ بہرحال لڑکی کی دعوت گناہ کو شاپ مالک نے قبول کر لیا لیکن شاپ مالک پر مصیبت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب دونوں کی برہنہ تصاویر لے لی گئیں۔اس کے بعد شاپ مالک کو چلتا کر دیا گیا۔ ازاں بعد ایک فون کال (یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں موبائل دستیاب نہیں تھا) پر شاپ مالک کو دس لاکھ روپے گولڑہ شریف لا کر اپنی تصاویر لینے کا کہا گیا۔ جب موصوف رقم لے کر پہنچے تو بابر خان (فرضی نام) نے رقم بھی لے لی اور شاپ مالک کو زود و کوب کر کے بھیج دیا۔ شاپ مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بالآخر ضیاء الحق مرحوم کے فرزند اعجاز الحق جو ان دنوں دوستوں کے ساتھ اس تکہ شاپ پر بیٹھتے تھے ان کے گوش گزار کیا۔

    اعجاز الحق نے اپنے والد کو صورت حال بتاہی اور پولیس نے بابر خان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد بابر خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر کے اس وقت کی آرمی کورٹ کو مقدمہ بھیج دیا گیا۔ایک دن جب تکہ شاپ کا مالک دکان بند کر رہا تھا تو اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی شاپ مالک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ یہ شخص بابر خان تھا جو قانونی طور پر اڈیالہ جیل میں تھا۔ بابر خان نے شاپ مالک کو دھمکی دی اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو مالک کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے پھر اس نے اعجاز الحق کو فون کر کے ساری صورت حال سے مطلع کیا۔ لیکن اعجاز الحق یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ایک شخص جیل سے کیسے آسکتا ہے لیکن مالک شاپ کے یقین دلانے پر اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو جب فون کر کے پوچھا گیا۔ تو سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ملزم تو جیل میں ہے۔ اس بات کا شاپ مالک نے بہت اثر لیا اور تقریباً مقدمے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ پولیس کی ملی بھگت سے ملزم بابر خان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا تھا سو کچھ ماہ بعد ملزم بری ہو کر گھر آ گیا۔ملزم نے پھر شاپ مالک سے چھبیس لاکھ روپے لے کر تصاویر واپس کیں۔
    اس واقعے کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے
    اگر ایک عام ملزم اس طرح کر سکتا ہے تو کرپٹ مافیا تو کسی حد تک بھی جا سکتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جائے گی
    جب تک اس کرپٹ سسٹم اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے انجام تک نہ پہنچایا گیا
    انصاف کا خون ہوتا رہے گا

  • حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    "ایک بیٹی”                         
    بیٹی کا نام جب زباں پر آتا ہے،ایک میٹھا اور خوبصورت سا جذبہ احساس جاگ جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے رحمتوں اور کرم کے دروازے کھول دیے گئے ہوں۔پر کئی بدنصیبوں کے ماتھے پہ پسینہ، شکن اور ٹھنڈی آہیں ہوتی ہیں۔

    "تعلیم و تربیت”                     
    وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے،خوش نصیب معصوم کلی جس کو والدین دنیا کے سرد گرم ہواؤں سے بچاتے، بہترین تربیت کے ساتھ اس کو مضبوط، پروقار شخصیت،بہترین تعلیم کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہوں اپنی تربیت پہ بھروسہ کرتے اب پریکٹیکل لائف میں قدم رکھا رہے ہوتے ہیں اس امید پہ کہ انہوں نے پرورش کرتے ہوئے اچھا بیچ بویا ہے جو کبھی سوکھا درخت نہیں بنے گا۔

    "بابل کی دعائیں لیتی جا”               
    ایک مشکل دور جب اپنی بیٹی کو دل پر پتھر رکھ کر کسی اجنبی کے ساتھ رخصت کرنا،بیٹی کا بیاہ کرنا اور پھر ہر دم خوشیوں کی دعا کرنا،،،پر یہ کیا یہاں بھی کچھ کم طرف، بدترین کی تعداد ہے،،،،وہ جو رشتے کے وقت تو چاند سورج ملا دیتے ہیں،زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں،پر بعد میں طنزیہ جملوں سے بابل سے اپنے گھر تک کے سفر کو پتھریلی راہ یا پل صراط بنا دیتے ہیں۔

    "سوالیہ نشان ”                      
    ستم ظریفی اور بدبختی کی انتہا تو ان آدم کے بیٹوں پر ہے جو اس شرم و حیا کے پیکر کو خاک بنا دیتے ہیں۔
    عورت کو اشتہارات کی زینت،خبر،بے لباس بنا دیا۔
    بطور رحمت اتارے جانے والی بیٹی بےحیا یا ہوس کا نشانہ کیوں ہے؟ جبکہ عورت کا وجود اس کی عزت تو اس ہیرے کے مانند ہونا چاہیے جو کوئلے کی کان میں بھی رہ کر اپنی قیمت اور روشنی نہیں کھوتا۔
    اس دور میں عورت ایک سوالیہ نشان کیوں بن کر رہ گئی ہے،،،،،اے "حوا کی بیٹی” تلاش کر خود کو اپنے اندر تلاش کر۔

  • ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
    امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
    امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

    ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

    امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

    دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
    اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

    ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

    کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔

  • پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
    ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
    کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
    آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
    آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
    پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
    جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
    اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

    اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

    پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
    موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
    حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
    ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
    ‎@THE_Z0R00

  • جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

    کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
    میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

    اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
    سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

    ‎@NiniYmz