Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
    اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
    یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

    1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

    1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

    صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
    طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔

  • ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    “جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
    “میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
    “میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
    "بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
    “میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
    "جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
    اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
    آناہے کیا؟
    خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
    انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

    عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
    انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

    انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
    انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

    حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
    اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔

    @humerafs

  • ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏ آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ھے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے ؟
    ‏ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ،،،،،،

    ‏اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے ،بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا ،،،،
    ‏سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا۔ سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی ۔۔۔

    ‏اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا ۔
    ‏اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے۔ عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا ۔
    ‏آنکھیں گویا نین کٹارے،،، سرمہ ،کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک،،،،،،

    ‏دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی،،،؟
    ‏ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے………….. !!!

    ‏اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں،،، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش،،،، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے ، رنگوں سے بھرپور،،،،،
    ‏پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں ۔ نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
    ‏ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب
    ‏ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،،،،،
    ‏حسن اور خوبصورتی کے مقابلے،،،،،،
    ‏ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ،،،،
    ‏سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ،،،،،
    ‏فیشن کا حد سے بڑھتا شوق،،،،
    ‏افسوس صد افسوس،،،،

    ‏میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو،، یہ وہ راستہ ھے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ھے،،،

    ‏ذرا سوچیں تو سہی کیا یہ وہی پردہ ھے قرآن نے جس کا حکم دیا ھے؟؟؟

    ‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
    ‏سورۃ الأحزاب. 59
    ‏اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں. اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے.

    ‏قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ھے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے،،،،
    ‏مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ‏برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے ۔۔۔ کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا ،،،، ؟
    ‏جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے،،،؟
    ‏اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے؟ ہم کس کو خوش کررہے ہیں؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟
    ‏ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو سہی،
    ‏کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟
    ‏کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟
    ‏پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ھے ۔
    ‏اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے ۔ پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!!
    ‏لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟؟؟

    ‏میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ھے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں ،،،،،
    ‏اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، ر
    ‏فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!

  • "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    ہم پاکستانی قوم بھی بڑی عجیب ہیں ہمیشہ وہ چیز کو دیکھتے اور جو ہمارے سامنے چل رہی ہو جیسے کے میاں محمد نواز شریف کا دور حکومت ۔
    نواز شریف وزیراعظم بنا تو صوبہ پنجاب کا ویزاعلی اپنے بھائی کو بنایا شہباز شریف نے پنجاب چونکہ پاکستان کا صوبہ پنجاب 122 تحصیلوں میں تقسیم ہے، جو 36 اضلاع کا حصہ ہیں۔
    ان 36 میں سے جناب نے صرف لاہور شہر پر پیسہ لگایا اور وہ نظر آیا،ان میں بہت سے میگا پراجیکٹس کئے جن میں سرفہرست لاہور رنگ روڈ،پاکستان لیور اینڈ کڈنی ٹرانسپلاٹ، شہباز شریف ہسپتال اورینج لائن ٹرین میٹرو بس سروس، سپیڈو بس سروس وغیرہ اور ایسے اور بہت سے پراجیکٹس ابھی مکمل ہونے ہی تھے کہ ان دونوں بھائیوں کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ۔ الیکشن ہوئے تو جناب دونوں بھائیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تب ان دونوں بھائیوں کو غریب عوام کا درد ستانے لگا ، لیکن بات یہاں پر اس پیسے کی کرتی ہوں جو دونوں بھائیوں نے عوام کا خون نچوڑ کر کمایا ۔

    شہباز شریف صاحب کو ایک کیس میں نیب نے کھنگالا تو معلوم ہوا کہ صاف پانی کے پلانٹس میں صاحب نے بہت کرپشن کی اس پر جب ان سے کسی صحافی نے عدالت کے باہر کہا کہ آپ صاف پانی کے منصوبے جگہ جگہ کیوں نہیں لگاتے جیسے آپ دوسرے منصوبوں پر کام کررہے صاف پانی کا منصوبہ بھی شہریوں کو مہیا کردیں اس پر شہباز شریف صاحب کا تاریخی جواب ” پانی کا منصوبہ زیریں زمین ہوتا لوگوں کو نظر نہیں آتا اور جب تک لوگوں کو کوئی چیز نظر نہیں آئے گی لوگ آپکو منتخب کیسے کریں گے ۔

    عمران خان کی حکومت یوں تو بہت سے بحرانوں کا شکار رہی لیکن سب سے بڑا چیلنج جو اس حکومت کو بھگتنا پڑرہا ہے وہ ہے مہنگائی ، عام عوام کی ضروت کی چیزیں اب انکی پہنچ سے دور ہوتی دیکھائی دے رہی ، عمران خان کو شب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والوں پر شاباشی بنتی ہے جو غریب کا درد عمران خان تک نہیں پہنچا رہے ۔ پھر اگر یہاں ہم شہباز شریف کی مثال دیں تو برا نہ ہوگا کیونکہ کم از کم وہ اگر عوام کو بیوقوف بناتے تھے لیکن عوام ان کے گن بھی تو گاتی تھی اب عدلیہ نے چونکہ نواز شریف کو نااہل قرار دیا تب بھی یہ عوام نواز شریف کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتی صرف اسلئے کیونکہ مہنگائی انہوں نے بھی کی لیکن ایسے ڈائریکٹ بم عوام پر نہیں پھوڑا تھا ۔ایک غریب بندے کو چالیس ہزار کا بجلی کا بل تما دیتے اور پھر کہتے غریب عوام دوست بجٹ جب کہ وہ بیچارہ تو وہیں آدھا مرگیا ہوگا جب اس کو اتنا زیادہ بل بھیجا اور اسکی کل آمدنی ہی دو سے تین ہزار ۔ موجودہ حکومت نے خواہ بہت بڑے بڑے منصوبے پاکستان کیلئے کئے لیکن خدارا ان منصوبوں کی وجہ سے ان غریب عوام کا نچوڑ نا نکالیں جنہیں پتہ بھی نہیں کہ گوادر پورٹ یا پھر سیاحت، بلین ٹری جیسی چیزیں ہیں کیا

  • جدید ٹیکنالوجی  کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    موجودہ دور میں سائنس نے انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں ، گزرتےوقت کے ساتھ ایجادات کی رفتار بھی بڑھ چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ ایجاد کیا جا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ماضی کے وہ بہت سے کام جو پہلے انسان کرتے تھے اب مشینیں سرانجام دے رہی ہیں۔ علم کی رفتار کا شمار اب گوگل کے سرچ رزلٹس کے زریعے ہوتا ہے۔ ایک کلک کے زریعے پوری دنیا کی تفصیل آپ کی سکرین پہ ہوتی ہے۔ اور گھر بیٹھے بٹھائے بڑی آسانی سے آپ وہ معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں یہ کام اگر کرنا ہوتا تو کئی دن کی محنت درکار ہوتی تھی۔ گویا ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ دنوں کا کام ہم سیکنڈز میں سرانجام دے سکیں۔
    جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے علاوہ کچھ ایسی جدید مشکلات بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ خالی ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ چیز کے کچھ فائدے یا نقصانات ہوتے ہیں۔ جیسے آپ چھری سے چاہیں تو سبزی کاٹیں چاہیں تو گلے کاٹیں، یہ استعمال پہ منحصر ہے کہ نتیجہ اچھا ہے یا برا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اچھے اور برے دونوں مقاصد کےلیے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی جس سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے وہ سوشل میڈیا ہے۔ جہاں رابطہ اور انٹرٹینمنٹ کےلیے اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جن سے صرفِ نظر کرنے کی وجہ سے نئی نسل کا خاصہ نقصان ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں فیس بک ٹوئیٹر وٹس ایپ اور ٹک ٹاک وغیرہ جیسی ایپلیکشنز ہیں جنہوں نے نئی نسل کا دماغ بری طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کی نوجوان نسل کے دماغ پہ گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

    دور کے لوگ تو یقینا سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں مگر۔ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے بہت دور چلے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے آنے سے قبل ایک دوسرے کے نزدیک ہوا کرتے تھے۔ مثلا والدین، میاں بیوی، بچے ، بہن بھائی اور دوست۔ ہم کسی بھی ایسی جگہ جائیں جہاں یہ سارے رشتے موجود ہوں تو دیکھ کر حیرت سے جھٹکا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا انسان انسان پہ مشین کو فوقیت دے رہا ہے، خالی انسان ہی نہیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان ماں باپ پہ بھی مشین یعنی کمپیوٹر اور موبائل کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔

    جس رفتار سے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے اس سے جڑے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے زریعے دوستی کا جھانسا دینا اور بعد ازاں گھروں سے بلوا کر زیادتی کا نشانہ بنا دینا یا قتل کر دینا۔ اس طرح کے حادثات آئے روز میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکا دہی، قتل، مالی فراڈ وغیرہ سب سوشل میڈیا کے زریعے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پہ شیئر کی گئی اپنی تصاویر کا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں غلط استعمال بھی ایک بڑا نقصان ہے ۔ ایسی تصاویر کو بعد ازاں ایڈٹ کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے علاوہ دھوکہ دہی کےلیے بنائی گئی آئی ڈیز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے زریعے کی جانے والی آن لائن خریداری کے نام پر بھی لوگوں کے ساتھ کافی دھوکہ دہی کے واقعات ہوئے ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ چیز کوئی اور دکھائی جاتی ہے۔ مگر پوری قیمت وصول کرنے کے بعد چیز ناقص معیار کی چیز بھجوا دی جاتی ہے۔ بعد میں دیے گئے پتہ یا موبائل فون نمبرز پہ رابطہ کریں تو وہ بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔

    فیس بک کے استعمال پہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے متعلق انتہائی گمراہ کم معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ جو ایک جانب معاشرے میں بے چینی کا سبب بنتی ہیں اور دوسری جانب لوگوں میں اشتعمال انگیزی بھی پھیلاتی ہیں۔ اس سے سماج کا امن تباہ ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کاروائی نا کیے جانے کی وجہ سے عوامی طبقوں میں حکومت پہ اعتماد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو فرقہ واریت کےلیے بھی بڑی پیمانے پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مناسب کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے سماج دشمن عناصر پوری آزادی کےساتھ محرم، رمضان اور ربیع الاول کے مہینوں میں ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہے ہوتے ہیں۔ یہ لگی ہوئی آگ پوراسال جلتی رہتی ہے اور اسی آگ کی بدولت کئی دفعہ قتل جیسی سنگین وارداتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ طبقے کی جانب سے اسلام کی غلط اور من چاہی تشریح بھی ایک ایسا نقصان ہے جو اسلام کا چہرہ بگاڑ رہا ہے۔ ایسے نقصانات کا خمیازہ ان سادہ لوح لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی کم علمی کی بنا پر اسلام کی غلط تشریح پہ یقین کر لیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف وہ اپنی دنیا بلکہ آخرت کی تباہی کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔ الحاد کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں پھیلایا جا رہا ۔ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سوشل میڈیا کی وجہ سے الحاد کا شکار ہو رہے ہیں۔ مگر اس کی روک تھام کےلیے بھی کوئی منصوبہ بندی یا عملی قدم دکھائی نہیں دیتا۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش سے ایک گروہ گرفتار کیا گیا جو لڑکیوں کو ٹک ٹاک سٹار بنانے کا جھانسہ دے کر انہیں بھارت سمگل کر دیتا تھا۔ اور بعد ازاں ان سے جسم فروشی کا دھندا کرواتا تھا۔ گروپ نے اعتراف کیا کہ تقریباََ ایک ہزار سے زائد لڑکیاں وہ بھارت سمگل کر چکا ہے۔ پاکستان میں ایسے کتنے گروپ متحرک ہیں اور ان کی ورک تھام کےلیے کیا حکمتِ عملی ہے اس کےلیے بھی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ برا سوشل میڈیا نہیں ہے، چیز کو اچھا یا برا اس کا استعمال بناتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مناسب پالیسیاں بنا کر ان برائیوں کو روک لیا جاتا ہے تو یقیناََ پاکستان میں سوشل میڈیا زیادہ محفوظ ماحول میں چل سکے گا۔

  • ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپناقدم مبارک رکھا، جسکو موٴرخ اسلام علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جسکو ایک شہر (قنوج) کے بادشاہ سربانک کے معجزہ شق القمر کو دیکھ کر مشرف باسلام ہونے کا رتبہ ملا ہے، جس کی طرف حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ایک بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“کے لئے روانہ کیا خلاصہ یہ کہ اس ملک کو ہزاروں سال قدیم ہونے کاشرف حاصل ہے۔

    یہاں قبل مسیح اشوک بادشاہ سے لے کر مغل فرماں رواں بہادر شاہ ظفر (جنہوں نے ہندوستان کی محبت میں اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر درد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اس کے بعد انگریزوں نے شہزادوں کے دھڑوں کو کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا تھا)
    بہر کیف مختلف بادشاہوں نے حکومت کی، کبھی تو یہ ملک ظالم و جابر حکمرانوں کے زیر دست رہا تو کبھی نیک دل اور عادل ومنصف فرماں رواؤوں کے زیر نگیں رہا ۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف راجہ داہر جیسا ظالم، عہد و پیمان توڑنے والا بادشاہ گزرا (جس نے اپنے بھتیجے چچ کو قتل کرایا اور اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کی جو کہ سرہند لوہانہ نامی ایک سردار کی بہن تھی، جس نے سلطنت کی لالچ میں ایک جوتشی کے کہنے پر کہ اس کی بہن چندرا کی شادی جس شخص سے ہو گی وہ اروڑ کی سلطنت کا حکمران بنے گا چندرا سے شادی کر لی) تو وہیں دوسری طرف اس کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے محمد بن قاسم جیسا رحم دل جرنیل آیا ( جنکو عراق کے گورنر حجاج نے ہندوستان کی طرف بارہ ہزار افواج مع اسباب و آلاتِ حرب و ضرب کے رجا داہر کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسلامی لشکر جرار کا راجا داہر کی فوج سے زبردست معرکہ ہوا اور راجا داہر مارا گیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے راجا داہر کے غرور کو توڑ کر ہندوستان کی سرزمین کو ظلم و سرکشی سے پاک کردیا) اسی طرح ایک طرف اکبر نے دسویں صدی ہجری کے اخیر اور گیارہویں صدی ہجری کے آغاز میں شہنشاہیت کی ترنگ اور عقلیّت کے نشہ میں عقل وہوش سے بے نیاز ہوکر ”دینِ اسلام“ کے متوازی ”دین الٰہی“ کے نام سے ایک جدید مذہب کی تحریک چلائی (جسکا مختصر سا تعارف موٴرخ بدایونی نے کچھ اس طرح سے کرایا ہے کہ یہ برخود غلط مجتہد اور امام تھا، وحی الٰہی کو محال قرار دیتا، غیب اور عالم غیب سے متعلق ارشاداتِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی برملا تکذیب کرتا، فرشتوں، جنّات، معجزات، بعث بعد الموت، حساب و کتاب اور ثواب وعذاب کا کھلے لفظوں انکار کرتا تھا۔ اس الحاد و زندقہ میں صرف اکبر ہی گرفتار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ارد گرد رہنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا حال یہی تھا، معجزاتِ نبوی کے ساتھ استہزاء کی کیفیت کو ملابدایونی نے یوں بیان کیا ہے کہ ”بھرے دربار میں ایک پیر پر کھڑے ہوکر معراجِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ میں جب اپنا دوسرا پیر اٹھاکر کھڑا نہیں رہ سکتا تو راتوں رات ایک شخص آسمان سے اوپر کیسے پہونچ گیا، پھر خدا سے باتیں بھی کیں اور جب واپس ہوا تو بستر تک گرم تھا“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ مذاق واستہزاء کا یہی معاملہ شق القمر اور دیگر معجزات کے ساتھ بھی تھا) تو دوسری طرف اس کے نو ایجاد دین کا پردہ چاک کرنے کے لئے مجدد الف ثانی اسکے خلاف علمِ جہاد بلندکرتے ہوئے اٹھا اور خدا کے حکم سے کامیابی و کامرانی نصیب ہوئی ، اس ملک میں عالم گیر جیسا نیک دل بادشاہ بھی پیدا ہوا جس نے حکومت کرکے اسلام کی حقانیت کو عملاً ثابت کیا، اور جسے شاہجہاں نے ایک حسین تاج محل جیسا تحفہ دیا (جس نے ہندوستان کو اپنے نور سے منور کیا ہوا ہے لیکن آج اسلام دشمنی میں اسی تاج محل کو یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ غیر ہندوستانی متصور کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں) ، اور پر شکوہ لال قلعہ دیا (اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے) ۔
    ہمارا یہ ہندوستان کبھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا؛ لیکن آج جھوٹے، لٹیرے و گھوٹالے باز حکمرانوں کی وجہ سے کنگال و بھکمری کا شکار ہے کبھی تو یہ ظالم حکومت یوپی کے ایک ضلع مظفر نگر میں الیکشن جیتنے کے لئے ہندو مسلم فسادات کراتے ہوئے نظر آتی ہے توکبھی اڈانی و امبانی کے چاپلوسی کرنے کے لئے کسانوں پر ظلم کرتے ہوئے دیکھی جاتی ہے،کبھی کورونا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل کر رہی ہے تو کبھی این آر سی کے نام پر مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کو بغیر کسی ثبوت کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے بالآخر اب یہ ملک سونے کی چڑیا نہیں بلکہ خون کے پیاسوں کا مسکن اور اسلام دشمنوں کا اڈہ بن چکا ہے جن کا تحریک آزادی میں دور دور تک نام نظر نہیں آتا اور اسی بات کو بھلانے کے لئے کہ ان اسلام دشمنوں کا تحریک آزادی میں کوئ حصہ نہیں تھا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے یہی مسلمان تھے جنکو آج نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، کبھی تو انکو نیوز چینلز کے ذریعہ ہراساں کیا جا رہا ہے تو کبھی آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعہ مابلنچنگ کی جا رہی ہے، کبھی سی اے اے کے تحت انہیں پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے تو کبھی عورتوں کو انصاف دلانے کے نام پر مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے الغرض یہ کہ مسلمانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ ٹیپو سلطان بھی ایک مسلمان ہی تھا جس کی موت پر انگریزوں نے فخریہ کہا تھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ اسی ہندوستان کی آزادی کے لیے علماءِ حق نے شاملی کا میدان اپنے خون سے گرم کیا، لاہور سے دہلی تک کے درختوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر آباد کیا، دریائے راوی میں بہے، لاہوری جامع مسجد میں لٹکائے گئے… اور ایک دن ان کےخون نے اثر دکھایا اور 1947میں آزاد ہوگیا ۔آزاد کیا ہوا، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسکی چھاتی کو دوحصوں میں چیر کر ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بھائیوں اوربہنوں کو الگ الگ ملک کا باشندہ بناکر ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا۔ برسوں شیروشکر ہوکر ایک ساتھ رہنے والے بھولے بھالے انسان انگریز کے جال میں پھنس گئے، گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے والے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور 1947ء میں تقسیم کے وقت وہ خون خرابہ ہوا کہ شیطان بھی شرمندہ ہوگیا، انسانیت کانپ اٹھی، ہر جگہ مہاجرین کی لاشیں نظر آنے لگیں، پنجاب کا گُروداس پور خون سے سرخ ہوگیا، انسانی لاشیں کتوں کی لاشوں کی طرح سڑکوں پر نظر آرہی تھیں، تعفن زدہ ماحول قائم تھا، لیکن لوگ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انگریز ہندوستان سے چلے گئے، ملک آزاد ہوگیا، ہم آزادہوگئے، لیکن شاید دونوں طرف کے رہنے والے باشندے اس بات سے نا بلد تھے کہ ہم تو رسماً آزاد ہوئے ہیں، جمہوریت کا نام نہاد طوق گلے میں لٹکا دیا گیا ہے جہاں مجبور محض ہوکر زندگی گزارنی پڑے گی، عوام کے پاس طاقت نہیں ہوگی، عوام محض مفلوک الحال ہوں گے، خیر کسی نہ کسی طرح 1947ء کا طوفان گزر گیا، عوام کو خوشی ہوئی کہ وہ آزاد ہوگئے اور خدا کا شکر ہے کہ آزاد ہیں؛ لیکن آزادی کے بعد سے ہی جس قوم نے آزادی کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جہادِ آزادی کا فتوی دیا، اسے نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا، کانگریس نے اسے اپنے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا شروع کیا تو بی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے ا سے ڈرا دھمکا کر رکھا اور ایک دن ایسا آیا کہ آزاد ہونے پر افسوس ہونے لگا، کانگریس کی دوغلی پالیسی اور انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے گروہ نے تاریخی بابری مسجد کو آئینِ ہند بنانے والے بابا صاحب امبیڈکر کی یومِ پیدائش پر شہید کرکے یہ پیغام دے دیا کہ مسلمان جمہوریت پر یقین رکھیں لیکن ہم نہیں رکھیں گے (اور آج تک وہ درندے کتوں کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں جنمیں سر فہرست ہمارے پردھان منتری بھی ہیں) ، اور اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے ہم ان کی مساجد و عبادت گاہوں کو مسمار کرتے رہینگے ، فسادات کے ذریعے ان کے اَملاک تباہ کرتے رہینگے اور 1992ء کے بعد فسادات کا نہ تھمنے والا ایک ایسا سلسلہ جاری ہوا جو ممبئی، بھیونڈی، ملیانہ، اورنگ آباد ، مرادآباد، بھاگلپور، بہار شریف اور گجرات کے خونی ماحول سے ہوتا ہوا مظفر نگر اور دلی تک پہنچا جہاں صرف ایک ہی قوم کو نشانہ بنایا گیا، اس کی معیشت کو تباہ کیا گیا، ان کی ہی ماں و بہنوں کی عصمت لو ٹی گئی اور ستم بالائے ستم تو یہ ہوا کہ ان ہی سے حب الوطنی کا ثبوت بھی مانگا جانے لگا۔۔۔ !

    اب حال یہ ہے کہ جو لوگ آزادی کے لیےکبھی نہیں لڑے ان کی حکومت ہے اور جنہوں نے آزادی کے ذریعے اپنے خون سے سینچا وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں، ان کا ملک میں جینا دوبھر ہے، عدلیہ، مقننہ، حکومت، صحافت سب ان کے خلاف ہے، پھر کاہے کا جمہوری ہندوستان؟، اب ہندوستان جمہوری نہیں رہا، کچھ دن بعد عوام ۲۶؍جنوری کو جشنِ جمہوریت منائیں گے۔ اور یہ عہد کریں گے ’’بھارت میرا ملک ہے۔۔۔۔ہم سبھی بھارتی آپس میں بھائی بہن ہیں۔۔۔میں اپنے ملک سے محبت کرتاہوں۔۔۔۔اس کی باوقار اور مختلف النوع ثقافت پر مجھے ناز ہے۔۔۔۔میں ہمیشہ اس کے شایانِ شان بننے کی کوشش کرتارہوں گا۔۔۔۔میں اپنے والدین، اساتذہ اور سبھی گروؤں کی عزت کروں گااور ہر ایک کے ساتھ نرمی برتوں گا۔۔۔۔میں اپنے وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ نیک نیتی کا حلف لیتا ہوں۔ ان کی بھلائی اور خوش حالی ہی میں میری خوشی ہے‘‘۔۔۔۔!اس عہد میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو سچے دل سے جمہوری ملک تسلیم کرتے ہیں، جمہوری دستور پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں امن و شانتی اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی عہد کریں گے اور جشن جمہوریت منائیں گے جنہوں نے جمہوریت و دستور کا مذاق اڑایا،اتنا ہی نہیں بلکہ وہ لوگ ہر لمحہ اور ہرپل آئین اور دستور کو ختم کرکے سیکولر کی حیثیت کو چھین کر ہندو راشٹر میں بدلناچاہتے ہیں، کاش اے کاش! وہ عادل و منصف حکمراں ہمیں پھر نصیب ہوجائیں، تاکہ ہزاروں سال کی پرانی روایت باقی رہے اور ہم خوشحال رہیں ۔۔۔!

  • اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    سوچا کہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر کچھ لکھوں
    سانپ کی زہر اس کے منہ میں ہوتی ہے جسے وہ اپنے دانتوں کی مدد سے مخالف پر استعمال کرتا ہے کچھ سانپ اپنی زہر مخالف پر فوار کی صورت میں پھینکتے ہیں
    بچھو اپنی زہر اپنی دم میں محفوظ رکھتا ہے جہاں سے یہ اپنی دم کے آخری کنارے پر نوک کے ذریعے مخالف پر وار کرتا ہے
    ایک مثل مشہور ہے کہ
    سانپ سلائے اور بچھو رولائے
    بچھو کے کاٹے کے درد کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے
    دنیا میں ایک بچھو (ڈیتھ سٹاکر) جو قد و قامت میں انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے زیر انتہائی قیمتی ہے۔ اس کی ایک کلو زہر کی قیمت پاکستانی اربوں روپوں میں ہے
    کہا جاتا ہے کہ ہر دو جانوروں کی زہر تریاق کا کام بھی کرتی ہے۔
    جو بنی نوع انسان کو بچانے کے کام بھی آتی ہیں
    زہر بھی ہے تریاق بھی ہے

    لیکن انسانی زہر ہمیشہ اپنا اثر منفی ہی رکھتی ہے اس کا اثر کبھی مثبت نہیں رہا
    یعنی وہ تریاق کبھی بھی نہ بن سکی۔
    بنی نوع انسان نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی روح کو زخمی کیا وہ روح جو دراصل اللّٰہ پاک کا امر(حکم) ہے
    جب یہ بداعمالیاں اس حد تک پہنچ گئیں کہ روح زخمی ہو گئی تو پھر روح کی سوچوں کا محور جسے ضمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ متاثر ہونے لگا۔اور رفتہ رفتہ اپنی زندگی کھونے لگا۔ حتیٰ کہ ضمیر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    اور ضمیر گلنے اڑنے لگتا ہے

    اس کے تعفن سے بے زار ہو کر روح اس بدبو کو سوچوں کے زریعے انسانی جسم کے اہم حصے دماغ تک پہنچا دیتی ہے۔
    اور پھر دماغ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف مخارج(زبان، آنکھ،ہاتھ ، پاؤں وغیرہ)کے زریعے اس ضمیر کے تعفن زدہ مواد کو دوسرے انسانوں اور دیگر مخلوقات کی طرف روانہ کر دیتا ہے
    جس سے مختلف روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں
    ان بیماریوں میں سرفہرست نفرت اور منافقت عروج پاتی ہیں
    المختصر یہ زہر پہلے خود اسی انسان کو بد اعمالیوں کی شکل میں نقصان پہنچا کر دوسرں کو متاثر کرتی ہے
    اللّٰہ پاک ہمیں نیک اور صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائیں آمین
    یہ میری زاتی آراء ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا .تحریر۔ علی بلوچ

    اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا .تحریر۔ علی بلوچ

    آج کے دن لیکن آج سے ٹھیک 90 سال پہلے جب کشمیر کے اس نوجوان قدیر نے اپنے مسلمان ھونے کا فرض اس طرح نبھایا کہ میرے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روز محشر اسے ھر صورت اپنی بانہوں میں لیں گے، کہ جس کی استقلال کو جناب صدیق نے بوسہ دیا ھو گا، کہ جس کی جرات پر جناب عمر فاروق کا عدل بھی جلال میں آیا ھو گا کہ جس کی ھمت کو جناب عثمان نے داد شجاعت سے نوازا ھو گا ، کہ جس کے عظم کو جناب علی نے شرف قبولیت بخشا ھو گا

    میں کیوں نہ آج 90 سال بعد بھی اس نام پر رشک کروں اس دن پر جھوم اٹھوں ان ناموں پر قربان جاؤں اور ان فرعونوں کو کیوں نہ بتلاؤں جنھوں نے اپنے ھر پر فتن دور میں میرے اسلام کو ختم کرنا چاھا، لاکھوں وجود ختم کر دییے عزتیں پامال ھوتی رھیں، نوجوان مذبح خانے پہنچتے رھے لیکن وہ جذبہ جس نے آج سے 90 سال پہلے میرے قرآن کی بے حرمتی پر انگڑائی لی تھی آج وہ جذبہ لاوا بن کر ابل رھا ھے اج تم پاس سے گزرو تو بھسم ھو جاؤ گے۔۔۔

    اب باری تمھاری ھے ھم نے تو ایک صدی اس ظلم و جبر کو اپنے سینوں پر سہا ھے لیکن اب باری تمھاری ھے تم جس آگ سے کھیلے ھو اب اس آگ میں جلنے کی ذمہ داری تمھاری ھے۔۔۔

    تمھیں تاریخ نے بتلایا نھیں کہ۔۔۔
    تم نے جب کشمیر میں اپنے ڈوگرا میں میرے قرآن کو جلایا تھا تم نے جب میرے اسلام سے اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا تھا۔ تم نے جب قرآن مجید کو جلا کر خود کو خوب اطمینان بخشا کہ طاقت کے نشے نے تمھیں چور کر دیا لیکن تمھیں وہ نوجوان خوب صورت وجیہ چہرہ تاریخ نے دکھلایا نھیں کہ جو شیر کی سی پھرتی سے تم پر لپکا تھا کہ جس نے آواز لگائی تھی اب ظلم نھیں سہنا اب چپ نھیں رھنا یہ وقت ھے اپنا حق لینے کا اور اب سے ھر گزرتا وقت تم پر بھاری ھو گا۔۔۔

    لیکن تم بزدل نکلے تمھیں میرے رب کونین کے کلام نے اس قدر خوف میں مبتلا کر دیا کہ جب تمھارے ڈوگرا راج کے سامنے اذان کی صدا بلند ھوئی کہ…

    اللہ اکبر اللہ اکبر اور ساتھ ھی دوسری آواز ایک سنسناتی گولی کی تھی اور صدا بلند کرنے والے کو چیرتی گزر گئی…

    پھر اسی مجمعے میں سے دوبارہ آواز آئی اشھدالااللہ الاللہ، اشھدالااللہ الاللہ پھر کہیں سے بندوق سیدھی ھوئی اور صدائے اشھداللہ کو خاموش کرا گئی…

    اسی لمحے کسی کونے سے پھر سے ننھی آواز اٹھی اشھدانامحمدالرسول اللہ اشھدانامحمدالرسول اللہ اور ایک بار پھر ایک گولی گردن میں پیوست ھوئی اور ننھی آواز دب گئی…

    کیا ھی منظر تھا کہ حئیٰ الصلوٰۃ حئیٰ الصلوٰۃ کی گونج اٹھی اور اسی لمحے سینے سے لہو بہا۔۔۔

    جذبہ دوراں نہ رکا اور حئیٰ اللفلاح حئیٰ اللفلاح باآواز بلند سنائی دیا پھر ایک گولی چلی اور سر میں جا گھسی کہ ساتھ ٹھہرے قدرے کمزور وجود مگر موت سے بے خوف بچے نے اپنے چہرے سے لہو صاف کیا اور بول اٹھا اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہَ الاللہ اور اپنا چہرہ پھر نہ صاف کر سکا…

    اور اس طرح ایک اذان کے مکمل ھونے کی قیمت 22 جانوں کا نذرانہ تھا۔۔۔

    ایک ایسا نذرانہ کہ جس کا کوئی مول نھیں کہ جس پر کوئی دھول نھیں کہ جس پر کچھ وصول نھیں ایک ایسا کھرا نذرانہ کہ جس نے دنیائے نا حق کو بتلایا کہ۔۔۔

    یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ھے
    اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا

    نادان نے سمجھا کہ اب تاریخ نہیں بدلے گی اب یہ لمحات دوبارہ نہیں آئیں گے اب کوئی وادی کشمیر میں قرآن ھاتھ میں نہیں تھامے گا کہیں کسی گنبد پہ لگے سپیکر سے صدائے تکبیر بلند نہ ھو گی کہیں سے کوئی آزادی کی بات نہیں کرے گا کسی کا جذبہ ” ھے حق ھمارا آزادی ھم لیکر رہیں گے آزادی کیلئے نھیں لٹے گا کوئی زبان تیرا میرا رشتہ کیا لاالہ الاللہ نہیں بولے گی…

    کیونکہ اب ان میں وہ حوصلہ ھی نھیں اب ان 22 جوانوں کے لاشے دیکھ کر وادی کشمیر کی مائیں بیٹے پیدا کرنا بند کر دیں گی، خود کو بانجھ کر لیں گی، اپنی جوانی ھماری عیاشیوں کے سپرد کر دیں گی لیکن۔۔۔

    لیکن یہ کیا ھوا کہ آج 90 سال بعد بھی مائیں بانجھ نہ ھو سکیں بیٹے جننا بند نہ ھو سکے، عزتوں کے محافظ ببانگ دھل سامنے آ ٹھہرے۔۔۔

    کسی نے موسیٰ کو پیدا کر دیا
    کسی نے ذاکر کو جنم دے دیا
    کسی نے ریاض نیکو کو تیار کر دیا
    تو کسی نے ایک برھان وانی ھم سب پر مسلط کر دیا۔۔۔

    تم نے ایک صدی لگا دی جذبہ حریت کو دبانے میں لیکن وادی کشمیر میں آزادی کی روح فضاء میں معطر ھو گئی۔ وہ ایک اذان جسے تم نے خود پر بھاری سمجھا اور 22 جوان لاشے گردا دئیے آج اسی ایک اذان کا کرشمہ کہ وطن کے گوشے گوشے سے آزادی کی صدائیں بلند ھوتی ھیں۔۔۔

    کوئی شک نھیں کہ آج تم ھار گئے ھو
    تم نے گولیوں سے وجود چھلنی کئے
    تم نے بارود سے کھیل کر ھم کو آزما لیا
    ھمیں نظریات سے ختم کرنے کی کوشش کی لیکن تم ھار گئے۔۔۔
    آج دیکھو ھر دن ھر لمحہ کو بہ کو ہر زبان یا اللہ بسم اللہ اللہ اکبر کی صدا بلند کرتی ھے..۔

  • غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    ہمیں سرائیکی نہیں پنجابی وزیر اعلیٰ پنجاب چاہیے۔
    چلو مان لیتے وہ کام نہیں کرتے تو زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی تھی
    جب سرائیکی وزیر اعلی آ گیا تھا تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ
    اب ہمارا وسیب خوشحال ہو گا
    قانون کی پاسداری ہو گی
    سارے لوگ اسی خوشی میں مگن تھے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان نے سرائیکی دھرتی پر بڑا احسان کیا
    ایک
    ٹرائیبل ایریا سے اٹھا کر پہلی دفعہ خواجہ شیراز محمود کے ونگ میں پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے اپنی زندگی میں صوبائ اسمبلی کا الیکشن جیتنے والا عثمان خان بزدار
    جس کو عمران خان صاحب نے پہاڑ سے اٹھا کر
    پورے پنجاب کا مالک بنا دیا تو سرائیکی وسیب کئ خوشی کی انتہا نہ رہی تھی
    آہستہ آہستہ وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے
    عثمان خان بزدار کو اپنا وسیم اکرم بنا دیا
    لوگوں نے تنقید کئ یہ ہو گیا وہ ہو گیا
    لیکن عمران خان صاحب نے وسیم اکرم پلس بنا دیا بڑی امیدیں تھی
    لیکن.
    تین سال گزرنے کے بعد کیا ہوا

    ڈیرہ غازی سے تونسہ ہائی وے روڈ اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ روزانہ حادثات ہوتے ہیں قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں اب تو یہ روڈ قاتل روڈ کے نام پر مشہور ہوچکا ہے،
    اگر بات کریں صحت کی تو مشیر صحت ہمارے اپنے شہر ڈیرہ غازی کا کا ہے حنیف پتافی لیکن ہسپتالوں میں علاج کی کوئی سہولت نہیں غریب کی بیٹی ،ماں،بہن بچے کو فٹ پاتھ پر جنم دے دیتی ہے لیکن ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کیا جاتا ایسے مشیر صحت کا ہم کیا کریں،
    اور اگر بات کریں امن و امان کی صورتحال کی تو یہاں لادی گینگ کا راج ہے ہمارے مقامی سردار ان گینگز کی پشت پناہی کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان نوٹس لیتا ہے لیکن ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی لادی گینگ کے خلاف کوئی کاروائی اعمل میں نہیں لائی گئی ،اخر ہم گلہ کریں تو کس سے کریں وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ہمارے اپنے علاقے کا ہے ،
    دوسری بات ڈیرہ غازی خان کا ورکر بے یارومددگار پڑا ہے
    احسان اللہ خان جو سائیکل پر پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے ہر جلسے میں جاتا تھا

    اس کو کرنٹ لگا
    ٹراما سنٹر گیا
    وزیر اعلی پنجاب نے شوباز والا نوٹس لیا کچھ نہ ہوا
    وزیر اعلی نے امداد کا کہا کیا ہوا کچھ نہیں
    احسان اللہ وفات پا گیا
    وہ تو خوش تھا کہ ہمارا وسیب کا وزیر اعلی ہے
    ہمارے دکھ کا مدوا کرے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا
    کیونکہ
    وسیم اکرم پلس نے ٹونس لیا اس کے بعد دوبارہ تک کسی ضلع صدر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ تک نہیں لی
    اور ہمارے ارکان اسمبلی اتنا مصروف ہو گیے وہ نمبر تک نہیں اٹھاتے
    چلو احسان اللہ کی وفات ہو گئ تو اپنا وزیر اعلی پنجاب عثمان خان تھا
    اگر وہ
    ان کے گھر والوں کی کی امداد کا کوئ چیک دے سکتا تھا

    لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہے
    تین سال میں پی ٹی آئی ورکروں کو ایسا لگا کہ ہم اپوزیشن میں ہے کیا ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کی حکومت ہے
    اس کے ساتھ
    طور خان بزدار
    ان کی حکومت ہے کیونکہ وہ جب چاہتا ہے وزیر اعلی پنجاب سے ٹائم نکال کر مل لیتا ہے
    ادھر تو ورکر کو کسی نے پوچھا تک نہیں
    اس سے بہتر تو یہی تھا کہ
    پنچابی وزیر اعلی ٹھیک تھا
    اب سرائیکی وسیب کا وزیر اعلی نے کیا کیا ہے
    ڈیرہ غازی خان آپ کے سامنے
    ڈیرہ غازی خان سے زمک تک روڈ سامنے ہے
    کس کس سے گلہ کریں
    کیونکہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کو وزیر اعلی پنجاب دیا
    وفاقی وزیر ،زرتاج گل
    مشیر صحت، حنیف پتافی
    لائیو سٹاک وزیر محسن لغاری
    اب عمران خان کیا کر سکتا ہے
    ہماری اپنی قسمت

  • سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !!

    منٹو ادبی تاریخ کا وہ نام تھا جس نے اپنی قلم کے ذریعے ہمیں اور ہمارے معاشرے کو آئینہ دکھایا۔

    ایک کہاوت ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکو میرے خیال میں منٹو صاحب نے صحیح معنوں میں اس کہاوت کو اپنی قلم کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اس معاشرے کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔

    منٹو جیسا نہ کبھی پھر آیا اور نہ کبھی آئے گا۔
    جتنا میں نے سعادت حسن منٹو صاحب کو جانا ہے، تو ایک چیز واضح نظر آئی کہ جب جب اس معاشرے اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کو انہوں نے اصل چہرہ دکھایا تو وہ نظر چراتے، بے ضمیر شرفاء اس معاشرے کے ٹھیکیدار منٹو سے ناراض ہوجاتے اور اپنی اس گستاخی کے لیے ان کو عدالت کے چکر لگانے پڑتے
    اس معاشرے میں کچھ عناصر منٹو صاحب کے خلاف نہیں بلکہ انکی سوچ اور انکے قلم کے خلاف تھے، کیونکے سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔

    جون ایلیاء کا یہ شعر منٹو صاحب کی بھرپور عکاسی کرتا ہے :
    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    سعادت حسن منٹو نے بہت سے ناول لکھے اور ان میں اس معاشرے کے متعلق تلخ حقائق بیان کئے۔ بعد میں جن پہ ڈرامے اور فلم بندی بھی کی گئیں۔

    انکے مشہور ناولز میں : کالی شلوار، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نوکر، بدنام اور ٹھنڈا گوشت وغیرہ شامل ہیں۔

    منٹو صاحب کی کچھ کہی ہوئی باتیں جو سدا بہار ہیں اور آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے چند ایک :

    ” جس نیت سے طواف برقع پہنتی ہے کچھ مرد بلکل اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں ”

    ” جس ملک میں ہم رہتے ہیں، سر ننگا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ بندہ پورا ننگا ہو تو کہتے ہیں کہ بابا پہنچی ہوئی چیز ہے۔ ”

    ” مسجد میں شیعہ، سنی، وہابی سینما میں ایک ذات سالے مادر ذات ”

    آخر میں ایک سوال …..
    کیا آپ میں بھی منٹو ہے ؟

    کالم نگار : حسن ریاض آہیر
    Twitter Handel : @HRA_07